بھکر: سرکاری ملازمین کو تھریٹ الرٹ جاری ذرائع بھکر:فتنہ الخوارج گروپ سرکاری ملازمین کو اغواء کر سکتے ہیں ڈپٹی کمشنر بھکر:ڈپٹی کمشنر کی جانب سے نوٹیفیکیشن جاری بھکر:نوٹیفکیشن کے مطابق ملازمین ڈیرہ اسماعیل خان یا باڈر ایریاز میں غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں ڈپٹی کمشنر
صحافت کا گورکھ دھندہ بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض نے دھماکہ کر دیا ملک ریاض سے جو جو صحافی پیسے لیتے رہے اس نے ان کی خفیہ ویڈیو بنا رکھی تھی اور آج جب دوبارہ بلیک میل کرنے لگے تو اس نے ویڈیو جاری کر دی جس میں مختلف وقت پر مختلف لوگ اس سے پیسوں کے بھرے بیگ لے رہے ہیں اور اسے یقین دھانی کروا رہے ہیں کہ ہم آپ کے کیس ختم کروا دیں گےملک ریاض کے حمام میں نہانے والے خوش نصیب صحافینجم سیٹھی نے ملک ریاض سے ایک کروڑ 94لاکھ روپے وصول کئے اور موصوف نے تین امریکہ کے دورے اور ہوٹل کرایہ کی سہولت بھی حاصل کی انکو یہ رقم ڈی ایچ اے لاہور پاکستان بحریہ ٹائون اکائونٹ نمبر 14/7swift code mucbpkkaa کے ذریعے کی گئی۔ اینکر منیب فاروق نے بھی پانچ لاکھ روپے دوبئی کا ٹرپ ایک ہفتہ فائیو سٹار ہوٹل میں سٹے حاصل کیا گیا انہیوں جو رقم ٹرانسفر کی گئی وہ عسکری بنک کے اکائونٹ نمبر010001011011180 کے ذریعے کی گئی۔ معروف کالم نگار اور اینکر پرسن جاوید چوہدری ملک ریاض کے نام سے ایک کالم لکھنے کے لاکھ وصول کرتے تھے۔ جو ملک ریاض کے اخبار روزنامہ جناح میں شائع ہوتا تھا۔ ملک ریاض کی طرف سے لکھی گئی کتاب کی قیمت بحریہ ٹاؤن میں ایک 10 مرلہ کا گھر اور ایک کروڑ روپے نقد وصول کیے جو یو بی ایل اکاؤنٹ نمبر37100154کے ذریعے ملے۔ نصرت جاوید جن کے سید اور بٹ ہونے کا معاملہ ابھی حل طلب ہے وہ بھی 78لاکھ روپے اور ٹیوٹا کرولا کار ملک ریاض سے چپکے سے لے اڑے انہیں جو رقم ٹرانسفر کی گئی وہ مسلم کمرشل بنک Main boulevard DHA لاہور اکائونٹ نمبر بحریہ ٹائون پرائیویٹ لمیٹڈ 14-7swift code MUCBPKKAA کے ذریعے کی گئی مشتاق منہاس نے بھی 55لاکھ روپے دو اقساط میں وصول کرنا ضروری سمجھا انکو یہ رقم بحریہ اکائونٹ پرائیویٹ لمیٹڈ کے اکائونٹ نمبر51077-6اور حبیب بنک لمیٹڈ ایل ڈی اے پلازہ برانچ لاہور کوڈ1315swift HABBPKKAX315 سے کی گئیمبشر لقمان جب دنیا ٹی وی سے وابستہ تھے تو انہوں نے ملک ریاض سے2کروڑ پچاسی لاکھ روپے تین اقساط میں وصول کئے اور یہ رقم نیشنل بنک اکاؤنٹ کے ذریعے مبشر لقمان کو ٹرانسفر کی گئی جبکہ ایک مرسیڈیز بینز کار بھی تحفہ کے طور پر دی گئی۔ ڈاکٹر شاہد مسعود نے ایک کروڑ سات لاکھ روپے کی پہلی قسط نیشنل بنک کے ذریعے وصول کی جبکہ موصوف نے سات ٹرپ دوبئی کے لگائے جس میں ہوٹل سٹے اور کرائے پر کار کی سہولت بھی فراہم کی گئی۔ کامرن خان نے 62لاکھ روپے وصول کئے دو کروڑ روپے اور بحریہ میں گھر کی آفر خود قبول کرنے کی بجائے کسی تھرڈ پارٹی کے ذریعے وصولی۔ یہ رقم جو کامران خان کو ٹرانسفر کی گئی وہ این آئی بی سی بنک لمیٹیڈ بحریہ ٹائون برانچ اکائونٹ نمبر8283982کے ذریعے کی گئی۔ معروف کالم نگار اور ہر وقت الفاظ کے تیر برساتے اور خود کو قوم کو مسیحا ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرنے والا اور دوسروں کو گریبان دیکھانے والا حسن نثار بھی کسی سے پیچھے نہ رہا جنہوں نے ایک کروڑ اور دس لاکھ روپے وصول کئے اور دس مرلے کا بحریہ ٹائون میں پلاٹ بھی حاصل کیا انکو جو رقم ٹرانسفر کی گئی اسکا بھی اکاؤنٹ ٹائٹل بحریہ ٹائون پرائیویٹ لمیٹڈ اکاؤنٹ نمبر42279اور حبیب بنک لمیٹڈ ایل ڈی اے پلازہ برانچ Swift Habbpkkax315 ہے۔ پاکستان کے بڑے اینکر جو جیو ٹیلی ویژن پر بیٹھ کر میڈیا اور قوم کو سچ کا بھاشن دیتے اخلاقیات کی بات کرتے اور اپنے آپ کو دیانتداری کا پیکر سمجھتے ہیں جی ہاں حامد میر جنہوں نے دو کروڑ پچاس لاکھ روپے ملک ریاض سے وصول کئے پانچ کینال کا پلاٹ اسلام آباد میں حاصل کیا انکو جو رقم ٹرانسفر کی گئی وہ این آئی بی سی بنک لمیٹڈ/بحریہ ٹائون اکائونٹ نمبر82840597کے ذریعے ٹرانسفر کی گئی۔ پی ایف یو جے کے سابق سیکرٹری صحافیوں کو ضابطہ اخلاق اور دیانتدار ی سکھانے والے سینئر صحافی مظہر عباس بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے موصوف نے90لاکھ اور دس مرلے کا پلاٹ لاہور میں حاصل کیا۔ انہیں جو رقم ٹرانسفر کی گئی وہ ایم سی بی بنک اکائونٹ نمبر0075232201000124کے ذریعے کی گئی۔ مہر بخاری نے شادی ہونے سے قبل ہی اسلام آباد میں ایک کینال کا پلاٹ اور پچاس لاکھ روپے کی سلامی حاصل کرنے میں دیر نہیں لگائی۔ آفتاب اقبال نے 2 کروڑ روپے اور ایک ٹیوٹا جیپ وصول کی۔ اور ملک ریاض نے بیدیاں روڈ لاہور پر انہیں زمین بھی فارم ہائوس کیلئے خرید کر دی انہیں جو رقم ٹرانسفر کی گئی وہ بحریہ ٹائون برانچ اکاؤنٹ نمبر 3620 سے کی گئی۔ ایک دن جیو کے ساتھ پروگرام کے اینکر سہیل وڑائچ نے بھی ملک ریاض کے ساتھ جو پروگرام کیا اسکے 15 لاکھ روپے اور ہنڈا سوک گاڑی حاصل کرنے میں دیر نہیں لگائی انکو جو رقم ٹرانسفر کی گئی وہ بحریہ ٹائون کے اکاؤنٹ نمبر42279-2سے کی گئی اور اسی طرح حبیب بنک ایل ڈی اے پلازہ برانچ لاہور کوڈ1315 swift HABBPKKAX315 سے کی گئی
فتنہ الخوارج نے ڈپٹی کمشنر اپر جنوبی وزیرستان کے قافلے پر حملہ کیا، یہ حملہ خوارج کی جانب سے ضلعی ہیڈ کوارٹر کو لدھا سے ٹانک واپس بھجوانے کی کوشش ہے تاکہ مقامی افراد کی زندگی میں مشکلات بڑھائی جا سکیں، مزید برآں خوارج کی یہ بزدلانہ کارروائی نہ صرف ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی مذموم کوشش ہے بلکہ لدھا جیسے پسماندہ علاقے میں جاری ترقیاتی عمل کو سبوتاژ کرنے کی ایک منظم سازش بھی ہے۔ 6 اگست 2025 کو خوارج نے بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنراپر جنوبی وزیرستان عصمت اللہ وزیر کے قافلے کو حملے کا نشانہ بنایا۔ اطلاعات کے مطابق قافلہ ٹانک سے لدھا کی جانب روانہ تھا جب حبیب کوٹ اڈانہ کے قریب خوارج نے اچانک فائرنگ شروع کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں ڈپٹی کمشنر کی گاڑی کو گولیاں لگیں، جس سے محرر اعجاز محسود اور کانسٹیبل گل نواز معمولی زخمی ہوئے۔ خوش قسمتی سے ڈپٹی کمشنر اور دیگر اعلیٰ افسران حملے میں محفوظ رہے۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ ڈپٹی کمشنر کی موجودگی اہلِ علاقہ کے لیے سہولت، ترقی اور ریاستی اداروں پر اعتماد کی بحالی کی علامت ہے۔ ایسے حملے دراصل علاقے میں امن، ترقی اور حکومتی عملداری کے خلاف فتنے کی ایک اور واضح مثال ہیں۔ ریاست ان سازشی عناصر کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دے گی، اور قانون نافذ کرنے والے ادارے جنوبی وزیرستان میں دیرپا امن کے قیام کے لیے اپنی جدوجہد بھرپور انداز میں جاری رکھیں
2025. *وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا اسٹاک ایکسچینج میں 100 انڈیکس 1 لاکھ 45 ہزار پوائنٹس کی حد کو عبور کرنے پر اظہار اطمینان*اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار میں تیزی سرمایہ کاروں کے حکومتی پالیسیوں پر اعتماد کی عکاسی ہے. وزیرِ اعظمکاروبار اور سرمایہ کاری کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے. وزیرِ اعظمایف بی آر میں اصلاحات سے ٹیکس نظام میں بہتری اور کاروباری برادری کو سہولت ملی. وزیرِ اعظمالحمدللہ پاکستان کی معاشی سمت بہتر اور معیشت ترقی کی جانب گامزن ہے. وزیرِ اعظم
علی امین گنڈاپور کی خیبرپختونخوا میں امن و امان قائم کرنے کے لیے جرگے میں بیرسٹر محمد علی سیف، سینیٹر نورالحق القادری، قبائلی مشران، سیاسی جماعتوں کے نمائندوں، صوبائی و قومی اسمبلی ممبران، چیف سیکرٹری، آئی جی پی، کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز
سعودی عرب اپنے 2034 کے ورلڈ کپ کے کھیلوں کی میزبانی کے لیے جو ارب ڈالر مالیت کا سٹیڈیم بنا رہ ہے وہ ایک سائنس فکشن سے کم نہیں ہےیہ شمسی توانائی اور ہوا سے چلنے والا، یہ ایک مقام سے زیادہ ہے جو کشش ثقل کے خلاف کھیلوں کی تفریح کے ایک نئے دور کی نشاندہی کرے گا جسے مکمل طور پہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کنٹرول کرے گی
*بھارتی مشرق میں گہرائی تک حملہ ، ڈی جی آئی ایس پی آر کا ممکنہ بھارتی جارحیت پر دو ٹوک مؤقف*🔰ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے معروف جریدے “دی اکانومسٹ” کو دیئے گئے انٹرویو کے بعد بھارت کی جانب سے منفی پروپیگنڈے کے ذریعے بھارتی میڈیا اور حکومتی حلقے اسے بنگلہ دیش کو استعمال کرنے سے جوڑنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں، حالانکہ حقیقت میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارت کے مشرقی حصے میں موجود اقتصادی مراکز کو گہرائی میں نشانہ بنانے کی بات کی ہے🔰بھارتی حکومت، جو آپریشن سندور میں ناکامی اور عوام و اپوزیشن کی تنقید سے شدید دباؤ میں ہے، نے اب ایک بار پھر آپریشن سندور 2 کے نام پر پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی شروع کر دی ہے۔ اس مہم میں فرضی دہشتگردوں اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے پاکستان کو بدنام کرنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے۔🔰”دی اکانومسٹ” کے سوال پر کہ بھارت کی ممکنہ فوجی کارروائی کی صورت میں پاکستان کا ردعمل کیا ہوگا، ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح الفاظ میں کہا: “ہم اس بار بھارت میں مشرق سے آغاز کریں گے۔” انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کو یہ جان لینا چاہیے کہ وہ بھی ہر جگہ مارے جا سکتے ہیں۔ یہ بیان ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان کسی بھی جارحیت کا بھرپور اور مؤثر جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے
۔🔰بھارت کے مشرقی علاقے جیسے کولکتہ، جمشید پور، رانچی، بوکارو، راؤرکیلا، بھوبنیشور اور پٹنہ اس کی معیشت کے اہم ترین مراکز ہیں۔ یہ علاقے صنعتی، تجارتی، توانائی، بندرگاہی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مرکز ہیں اور بھارت کی اقتصادی قوت میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔بھارت کے ان مشرقی علاقوں میں مودی کے پسندیدہ کھرب پتی گوتم ادانی اور مکیش امبانی کی مختلف بزنس کی مہنگی فیکٹریاں ہیں اور ٹیکنالوجی کے ڈیٹا سینٹرز ہیں جنکو اگر نقصان پہنچتا ہے تو ہندوستان کو دنوں میں اربوں ڈالرز کا نقصان ہوگا 🔰اگر پاکستان کسی ممکنہ جنگ میں ان اقتصادی مراکز کو نشانہ بناتا ہے تو یہ محض سرحدی جھڑپ نہیں بلکہ بھارت کے اندر گہرائی تک حملہ تصور ہوگا۔ ایسا حملہ نہ صرف فوجی بلکہ معاشی و تزویراتی محاذ پر بھی بھارت کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے، جو دشمن کے حربی ارادوں کو مفلوج کر سکتا ہے۔🔰پاکستان کا موقف ہمیشہ دوٹوک اور اصولی رہا ہے کہ وہ ایک امن پسند ملک ہے، جو خطے نیٹ ریجنل سٹیبلائزر کے طور پر ابھر ا ہے لیکن پاکستان کی امن کی خواہش کو اس کی کمزوری نہ سمجھا جائے۔ دشمن کی کسی بھی جارحیت کا جواب معرکۂ حق کے نتائج سے زیادہ سخت اور تکلیف دہ ہوگا۔
عالمی جنگ و جدل کے تیزی سے بدلتے وار بیسویں صدی کے آغاز میں ،ورلڈ وار ون کی ھولناک تباھی دیکھ کر تمام عالمی لیڈر ایک دوسرے کا سر پکڑ کر بیٹھ گئے کہ اب کیا کریں- پہلے تو یہ فیصلہ ہوا کہ اپنا اپنا سر پکڑکر سوچیں ورنہ دنیا کیا سوچے گی- اپنے اپنے سر پکڑ کر سوچنے کے بعد، پھر فیصلہ ھوا ھے کہ اب ورلڈ وار 2 ناگزیر ہو چکی ھے- اس فیصلے کے فوری بعد جنگ کی تیاری شروع ہو گئی-پھر جنگ عظیم دوئم لڑی گئی، ایٹم بم چلا ، چھ کروڑ بندہ مارا گیا- جب دنیا ملیا میٹ ھو گئی تو ایک بار پھر عظیم تخلیقی اور سیاسی ذھن سر جوڑ کر بیٹھے ” کہ ھون فیر کی کری اے”- کیونکہ تباھی کے لئے کچھ بچا ہی نہیں، تو یہی فیصلہ ھوا کہ جب تک دنیا نئے سرے سے بن نہیں جاتی تب تک کولڈ وار پر گزارہ کرنا پڑے گا- تقریبا چالیس سال تک کولڈ وار کھیلی گئی – کولڈ وار کا فائنل امریکہ نے جیت لیا اور سویت یونین کے ٹکرے ٹکرے کر کے دنیا کا حکمران بن گیا- دنیا ایک بار پھر نئی سرے سے اپنی مرمت پر لگ گئی تو یک دم دھشت گردوں کو خیال آیا کہ ہم نے تو کچھ کیا ہی نہیں- اب کے عالمی لیڈروں نے سوچا کہ دھشت گردی کی جنگ کا تو سر پیر ہی نہیں تو کیوں نا اس جنگ کو دوسری جنگوں کے لڑنے کے لئے ایک وجہ کے طور استعمال کیا جائے- ھے تیرے کی، یہ ہوتا ھے ” یکّے پر یکہّ”- یہ منصوبہ بھارت کو بہت پسند آیا- عالمی طاقتوں نے بھارت کی آنکھوں میں چمک دیکھ کر مشرق وسطی اور جنوبی ایشیا کو میدان جنگ چنا- مشرق وسطی میں جنگ لڑنے کا خاطر خواہ نتیجہ نکلا: امریکہ کے انرجی کے مسائل ختم ھو گئے اور باقی دنیا کے بڑھ گئے- اسی دوران ” کرونا وائرس” کو کہیں موقع مل گیا اور وہ لیبارٹری سے بھاگ نکلا- دنیا وائرس کی گمشدگی کے اشتہارات ابھی بنا ہی رھی تھی کہ ایک اکیلے وائرس نے آٹھ ارب آبادی والی دنیا کو تگنی کا ناچ نچا دیا- سوائے آکسیجن اور سورج کی روشنی کے ہر چیز بند کمروں میں چھپ گئی-کرونا نے دنیا کو مکمل طور پر سیل کر دیا- دو سال کی تگ و دو کے بعد کرونا کچھ ٹھنڈا ہوا تو عالمی لیڈروں نے پھر ایک بار سوچا کہ ون آن ون جنگ کو دوبارہ ٹرائی کرنا چاھیے- کیونکہ دومتحارب ملکوں کا آپس میں دو بدو لڑائی کا رواج ختم ھوتا جا رھا ہے – کہیں یہ نہ ہو بلیو کارنر اور ریڈ کارنر والی لڑائی کا ماڈل ہی مارکیٹ سے غائب ہو جائے- اگر ایسا ہو گیا تو پھر ہم اسلحہ کس کوبیچیں گے- لہذا روس کو یوکرائن، اسرائیل کو فلسطین، اسرائیل کو ایران سے لڑانے کے بعد- اب تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کی جنگ جاری ھے- درمیان میں بھارت نے پاکستان کے ساتھ تین روزہ جنگ کر کےاپنے چھ رافیل طیّارے بھی مار گروائے جس کا تذکرہ امریکی صدر درجنوں بار اپنی تقریروں میں کر چکے ہیں- یہ اب تک کی جنگوں کی تازہ صورتحال ہے- نئے اپ ڈیٹ کے ساتھ دوبارہ حاظر ھونگے تب تک سوشل میڈیا کے ذریعے آپس میں جڑے رھیے گا اور ہمیں دیں اجازت- ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ ملک کی آدھی سے زیادہ بیوروکریسی پرتگال میں پراپرٹی خرید چکی ہے اور شہریت لینے کی تیاری کر رہی ہے۔ سیاستدان تو ان کا بچا کھچا کھاتے اور چولیں مارتے ہیںایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں خواجہ محمد آصف نے لکھا ہے کہ ‘وطن عزیز کی آدھی سے زیادہ بیوروکریسی پرتگال میں پراپرٹی لے چکی ھے اور شہریت لینے کی تیاری کر رہی ھے۔ اور یہ نامی گرامی بیوروکریٹس ھیں۔ مگر مچھ اربوں روپے کھا کے آرام سے ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہیں۔ بزدار کا ایک قریب ترین بیوروکریٹ چار ارب بیٹیوں کی شادی پر صرف سلامی وصول کر چکا ھےاور آرام سے ریٹائرمنٹ کی زندگی گذار رہا ھے۔ سیاستدان تو انکا بچا کھچا کھاتے اور چولیں مارتے ھیں نہ پلاٹ نہ غیر ملکی شہریت کیونکہ الیکشن لڑنا ھوتا ھے۔ پاک سر زمین کو یہ بیوروکریسی پلیت کر رہی ھیں’۔
*بھارتی مشرق میں گہرائی تک حملہ ، ڈی جی آئی ایس پی آر کا ممکنہ بھارتی جارحیت پر دو ٹوک مؤقف*🔰ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے معروف جریدے “دی اکانومسٹ” کو دیئے گئے انٹرویو کے بعد بھارت کی جانب سے منفی پروپیگنڈے کے ذریعے بھارتی میڈیا اور حکومتی حلقے اسے بنگلہ دیش کو استعمال کرنے سے جوڑنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں، حالانکہ حقیقت میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارت کے مشرقی حصے میں موجود اقتصادی مراکز کو گہرائی میں نشانہ بنانے کی بات کی ہے🔰بھارتی حکومت، جو آپریشن سندور میں ناکامی اور عوام و اپوزیشن کی تنقید سے شدید دباؤ میں ہے، نے اب ایک بار پھر آپریشن سندور 2 کے نام پر پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی شروع کر دی ہے۔ اس مہم میں فرضی دہشتگردوں اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے پاکستان کو بدنام کرنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے۔🔰”دی اکانومسٹ” کے سوال پر کہ بھارت کی ممکنہ فوجی کارروائی کی صورت میں پاکستان کا ردعمل کیا ہوگا، ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح الفاظ میں کہا: “ہم اس بار بھارت میں مشرق سے آغاز کریں گے۔” انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کو یہ جان لینا چاہیے کہ وہ بھی ہر جگہ مارے جا سکتے ہیں۔ یہ بیان ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان کسی بھی جارحیت کا بھرپور اور مؤثر جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔🔰بھارت کے مشرقی علاقے جیسے کولکتہ، جمشید پور، رانچی، بوکارو، راؤرکیلا، بھوبنیشور اور پٹنہ اس کی معیشت کے اہم ترین مراکز ہیں۔ یہ علاقے صنعتی، تجارتی، توانائی، بندرگاہی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مرکز ہیں اور بھارت کی اقتصادی قوت میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔بھارت کے ان مشرقی علاقوں میں مودی کے پسندیدہ کھرب پتی گوتم ادانی اور مکیش امبانی کی مختلف بزنس کی مہنگی فیکٹریاں ہیں اور ٹیکنالوجی کے ڈیٹا سینٹرز ہیں جنکو اگر نقصان پہنچتا ہے تو ہندوستان کو دنوں میں اربوں ڈالرز کا نقصان ہوگا 🔰اگر پاکستان کسی ممکنہ جنگ میں ان اقتصادی مراکز کو نشانہ بناتا ہے تو یہ محض سرحدی جھڑپ نہیں بلکہ بھارت کے اندر گہرائی تک حملہ تصور ہوگا۔ ایسا حملہ نہ صرف فوجی بلکہ معاشی و تزویراتی محاذ پر بھی بھارت کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے، جو دشمن کے حربی ارادوں کو مفلوج کر سکتا ہے۔🔰پاکستان کا موقف ہمیشہ دوٹوک اور اصولی رہا ہے کہ وہ ایک امن پسند ملک ہے، جو خطے نیٹ ریجنل سٹیبلائزر کے طور پر ابھر ا ہے لیکن پاکستان کی امن کی خواہش کو اس کی کمزوری نہ سمجھا جائے۔ دشمن کی کسی بھی جارحیت کا جواب معرکۂ حق کے نتائج سے زیادہ سخت اور تکلیف دہ ہوگا۔