شمالی وزیرستان: دتہ خیل میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران تین دہشت گرد ہلاک جبکہ دو زخمی دہشت گرد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ دتہ خیل آپریشن سیکورٹی فورسز کی کارروائی 3 دھشت گرد ھلاک ۔۔۔ حکومت کی ایف بی آر میں بڑے پیمانے پر گریڈ اکھاڑ بچھاڑ.۔ ر گریڈ 19, 20, 21 اور 22 تبادلے کر دئیے، قاسم اور سلیمان نے پاکستان کے ویزوں کے لیے درخواست دے دی ہے ،علیمہ خان بلوچستان عوام کے درپیش مسائل 8 نکاتی مطالبات۔ لاکھ ریال جرمانہ نوجوان کی سعودی عرب میں خودکشی۔ ال پارٹیز کانفرنس کا مشترکہ اعلامیہ۔ ملک بھر میں مھنگای کا طوفان 30 فیصد سے بھی زائد 50 فیصد پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے۔ ۔کینگرو کورٹس کے تمام فیصلے مسترد SIFC xx کو ختم کرنے کا مطالبہ۔ وفاقی کابینہ کے 100 وزراء غائب 200 ارب کی مراعات جاری۔بھارت پر امریکی پابندیاں لگاے جائے کے بعد مودی سرکار خطرے میں۔ایرانی صدر کا دورہ پاکستان سیکورٹی ھای الرٹ تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

شمالی وزیرستان: دتہ خیل میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران تین دہشت گرد ہلاک جبکہ دو زخمی دہشت گرد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فرار ہونے والے دہشت گردوں کی تلاش کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے

*چیف منسٹر پنجاب کاستھرا پنجاب نعرہ ,سینٹری عملہ کی جانب سے نالہ برد..*….( )…….. راولپنڈی ; چیف منسٹر پنجاب کا صاف ستھرا پنجاب کا نعرہ ,سینٹری عملہ کی جانب سے نالہ برد کردیا گیا ہے۔ مون سون کے موسم میں مقامی سینٹری عملہ کی جانب سے کچرا نالہ نواب کالونی ڈھوک حسو راولپنڈی میں ڈالنے سے 500 میٹر طویل ڈرین نالہ بند ہو گیا ہے۔جس سے بارش میں سارا گندہ پانی قریبی لوگوں کے گھروں میں داخل ہو جاتا ہے۔ نالے پربسم اللہ ہوٹل چوک سے چھوٹا چوک ڈھوک حسو یونین کونسل نمبر 6 ناجائز تجاوزات کی وجہ سے سارا گندہ پانی سڑک پر کھڑا ہوجاتا ہے۔ جس سے وبائی بیماریاں پھیل سکتی ہیں۔گزشتہ ماہ تجاوزات مہم کے بعد ناجائز تجاوزات دوبارہ قائم کر دی گئی ہیں یہاں تک کہ اس نالے پر ناجائز تجاوزات قائم ہیں کیونکہ کچھ سیاسی افراد سابقہ پاکستان تحریک انصاف پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں جو کہ قبضے کی بڑی وجہ ہیں۔ اس سلسلے میں کئی بار سینٹری انچارج علاقہ سے درخواست کی لیکن تمام کوششیں رائیگاں گئیں۔اہل علاقہ نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا دورہ پاکستان ; دوطرفہ تجارت کی امیدیں …..( اصغر علی مبارک )…………… ایرانی صدر مسعود پزشکیان آ ج 2 اگست کوہفتے کووزیر اعظم شہباز شریف کی دعوت پر پاکستان کا 2 روزہ سرکاری دورہ کررہےیں اسلامی جمہوریہ ایران کے اسلام آباد کےسفارتخانے کی ایکس پر ایک پوسٹ کے مطابق پاکستان ,ایران کے درمیان تعلقات کو مضبوط اور وسعت دینے کے جذبے کے ساتھ صدر 2 اور 3 اگست کو پاکستان کا سرکاری دورہ کریں گے۔

دورے سے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت ,برادارنہ تعلقات مزید مضبوط ہو نے کی امیدیں اورتوقعات ہیں, ایکس پر ایک پوسٹ میں ایرانی صدر کے سیاسی مشیر مہدی سنائی نے کہا کہ’ ڈاکٹر مسعود پزشکیان ہفتے کی شام 2اگست کو وزیر اعظم شہباز شریف کی دعوت پر پاکستان کا دورہ کریں گے

دورے کے دوران سرکاری ملاقاتیں اور ’ ثقافتی و تجارتی شخصیات سے گفتگو’ ایجنڈے کا حصہ ہوں گی۔ پاکستان اور ایران کے تعلقات سیاسی، اقتصادی، مذہبی اور ثقافتی پہلوؤں پر محیط ہیں اور اس دورے کے مقاصد میں صوبائی و سرحدی تعاون کو فروغ دینا اور دوطرفہ تجارت کو موجودہ 3 ارب ڈالر سے بڑھانا شامل ہے۔قبل ازیں ترجمان دفتر خارجہ ایک بیان میں کہا تھا کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان ہفتے کو پاکستان کا 2 روزہ سرکاری دورہ کریں گے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان وزیر اعظم شہباز شریف کی دعوت پر پاکستان کا دورہ کررہے ہیں دورے سے دونوں ممالک کے درمیان برادارنہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔مسعود پزشکیان گزشتہ دو برسوں میں پاکستان کا دورہ کرنے والے دوسرے ایرانی صدر ہوں گے، یہ دورہ دراصل جولائی کے آخری ہفتے کے لیے طے تھا۔ اپریل 2024 میں سابق ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے پاکستان کا تین روزہ سرکاری دورہ کیا تھا، یہ دورہ ابراہم رئیسی کی ہیلی کاپٹر حادثے میں وفات سے ایک ماہ قبل ہوا تھا، اس دورے کے دوران انہوں نے لاہور اور کراچی کا بھی دورہ کیا تھا۔ ایرانی صدر کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطح کا وفد بھی پاکستان تشریف لارہا ہے۔ پزشکیان کی صدارت کے ایک سال بعد مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے، لوڈشیڈنگ جاری ہے اور سیاسی آزادیوں پر اب بھی پابندیاں ہیں۔ سفارتی، اقتصادی اور سماجی اعتبار سے خلیج گہری ہو چکی ہے اگر ایران کی قیادت اپنا سفارتی راستہ نہیں بدلتی تو آئندہ بحران جنم لے گا۔یاد رکھیں کہ ایران، اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ ہوئی جب 13 جون 2025 کو اسرائیل نے پہلی بار براہِ راست ایرانی سرزمین پر بڑے پیمانے پر حملہ کیا جو کہ تاریخ کا ایک غیر معمولی واقعہ تھا۔ ایران کے کئی شہروں پر شدید فضائی حملے کیے گئے جن میں بڑی تعداد میں عام شہری جان سے گئے۔ ایسے نازک وقت میں جب قوم کو قیادت اور حوصلے کی ضرورت تھی، پزشکیان ایک بااعتماد رہنما کے طور پر سامنے آئے۔ماضی میں متعدد مواقع پر پاکستان پر ایران سے متعلق امریکہ کا بہت دباؤ رہتا تھا مگر اس کے باوجود اسلام آباد نے تہران سے تعلق کبھی ختم نہیں کیا۔ اسحٰق ڈار نے اس سے قبل ایرانی خبر رساں ادارے کو بتایا تھا کہ صدر پزشکیان کا دورہ پاکستان طے شدہ ہے پاکستان خطے میں سفارت کاری اور دانشمندانہ رویہ اختیار کرنے کا حامی ہے اور ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے اور بات چیت کی ہر کوشش کا خیرمقدم کرتا ہے۔ پاکستان ایران کے حالیہ واقعات، خصوصاً ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے پر خاموش نہیں رہ سکتا۔ پاکستان نے اسرائیلی حکومت کی ایران کے خلاف جارحیت اور امریکا کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کی مذمت کی تھی۔ پاکستان نے کہا تھا کہ’ موجودہ صورت حال سے نکلنے کا واحد راستہ سفارت کاری اور مکالمہ ہے، اور پاکستان دونوں فریقین کی حمایت جاری رکھے گا۔ واضح رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے 27 مئی کو ایران کا دورہ کیا تھا، جو بھارت کے ساتھ حالیہ تنازع کے دوران دوست ممالک کے شکریہ کے طور پر کیے جانے والے علاقائی دورے کا حصہ تھا۔ اس موقع پر انہوں نے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سمیت دیگر اعلیٰ قیادت سے ملاقات کی تھی تاکہ دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط اور علاقائی تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔ اس سے قبل، وہ مئی 2024 میں بھی ایران گئے تھے جہاں انہوں نے سابق صدر ابراہیم رئیسی کی یادگاری تقریب میں شرکت اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے ملاقات کی تھی۔ مسعود پزشکیان ایک ایرانی ہارٹ سرجن اور اصلاح پسند سیاست دان ہے جو اس وقت ایران کے منتخب صدر ہیں۔

اس سے پہلے، پزشکیان ایران کی پارلیمنٹ میں تبریز، اوسکو اور ازرشہر انتخابی ضلع کی نمائندگی کر رہے تھے اور 2016ء سے 2020ء تک اس کے پہلے ڈپٹی اسپیکر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ وہ محمد خاتمی کی حکومت میں 2001ء اور 2005ء کے درمیان صحت اور طبی تعلیم کے وزیر رہے انھوں نے 2013ء کے صدارتی انتخابات میں حصہ لیا، لیکن دستبردار ہو گئے اور 2021ء کے انتخابات میں دوبارہ حصہ لیا، لیکن انھیں مسترد کر دیا گیا۔

پزشکیان نے 2024ء میں کوالیفائی کیا اور 5 جولائی 2024ء کو صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ ایران دنیا میں پہلا ملک تھا جس نے تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان کو تسلیم کیا تھا جبکہ پاکستان پہلا ملک تھا جس نے 1979 کے انقلابِ ایران کے بعد وہاں کی حکومت کو تسلیم کیا تھا۔ پاکستان اور ایران نے 1950 میں ’فرینڈشپ ٹریٹی‘ پر دستخط کیے تھے اور پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان نے 1949 میں تہران جبکہ 1950 میں پاکستان بننے کے بعد شاہ آف ایران نے پاکستان کا پہلا سرکاری دورہ کیا تھا۔اگر تاریخی طور پر دیکھا جائے تو ایران ہر فورم پر کشمیر سمیت ان اہم معاملات پر پاکستان کے مؤقف کا اعادہ کرتا آیا ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی میں اہمیت کے حامل ہیں۔1965 ,1971 اور 2025میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگوں میں بھی ایران نے پاکستان کا کُھل کر ساتھ دیا اور اسلام آباد کو تہران کی سفارتی حمایت حاصل رہی۔چند مواقع اور معاملات پر تناؤ اور مشکلات کے باوجود پاکستان اور ایران کے تعلقات عمومی طور پر دوستانہ ہی رہے ہیں ایران کی خارجہ اور اندروںی پالیسیوں میں آنے والے بڑی تبدیلیوں کے باوجود بھی اس کے پاکستان سے تعلقات بہتر ہی رہے۔ پاکستان، ایران گیس پائپ لائن پراجیکٹ کا افتتاح مارچ 2013 میں پاکستان اور ایران کے صدور نے کیا تھا۔ اقوام متحدہ کی پابندیوں کے خدشے کے باعث کوئی بین الاقوامی مالیاتی ادارہ اس منصوبے میں رقم لگانے کے لیے تیار نہیں ایران پاکستان کا اس وقت بہت شکرگزار ہوا تھا جب پاکستان نے ایران میں شدت پسندی کی کارروائیوں میں ملوث تنظیم جند اللہ کے سربراہ عبدالمالک ریگی کو گرفتار کروانے میں اہم معلومات ایران کو فراہم کیں۔ یاد رکھیں کہ جولائی 2024 میں مسعود پزشکیان نے جب ایران کے صدر کے طور پر حلف اٹھانے کے اگلے ہی روز صدارتی محل میں قدم رکھا تو وہ صرف چند گھنٹوں بعد ہی حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ، جو ایرانی صدر کی حلف برداری کی تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی شریک تھے، ایک اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔ اسماعیل ہنیہ پر یہ حملہ تہران کے قلب میں ہوا تھا۔ اس غیر معمولی واقعے نے پورے خطے کو ہلا کر رکھ دیا اور یہ واقعہ اسلامی جمہوریہ ایران کی تاریخ کے سب سے غیر یقینی دور کی شروعات ثابت ہوامسعود پزشکیان ایک قومی سانحے کے بعد اقتدار میں آئے تھے۔

اُن کے پیش رو صدر ابراہیم رئیسی، ایران کے وزیر خارجہ کے ہمراہ ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہوئے تھے ان کے معتدل لہجے، حجاب کے نفاذ اور سماجی پابندیوں پر نرم رویے اور مغرب کے ساتھ تصادم کی بجائے بات چیت کا وعدہ ایک ایسے ملک کے لیے امید کی کرن بنے جو عالمی پابندیوں کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا۔ لیکن صدارت کے چند ہی مہینوں میں اسرائیل نے ایران پر تباہ کن حملوں کی ایک لہر کا آغاز کیا جس کا اختتام امریکہ کی جانب سے ایران کے جوہری مراکز پر حملے پر ہوا۔ ان معاملات کے باعث ایران کی پہلے سے نازک معیشت مزید کمزور ہو گئی۔ ملک بھر میں توانائی اور پانی کی شدید قلت پیدا ہو گئی۔ ایران میں صدر حکومت چلاتا ہے لیکن وہ حکمرانی نہیں کرتا۔ دوسرے بہت سے ممالک کے برعکس ایران کا صدر ملک کا سب سے طاقتور شخص نہیں ہوتا۔ اسلامی جمہوریہ کے آئین کے تحت اصل اختیار رہبرِ اعلیٰ کے پاس ہے۔

سنہ 1989 سے یہ منصب آیت اللہ علی خامنہ ای کے پاس ہے جو فوج، عدلیہ، خفیہ اداروں اور خاص طور پر خارجہ پالیسی پر حتمی اختیار رکھتے ہیں۔ پزشکیان صدر تو ہیں لیکن اُن کی طاقت ہمیشہ نظام کے غیر منتخب طاقتور مراکز جیسے پاسدارانِ انقلاب، رہبری شوریٰ اور رہبرِ اعلیٰ کے دفتر کے دائرے میں محدود ہیں۔ اور جب بات سفارتکاری کی ہو، چاہے جوہری پروگرام ہو یا خطے میں کشیدگی کا جواب، پزشکیان اکثر فیصلہ ساز کی بجائے ترجمان کا کردار ادا کرتے ہیں اور ایسے فیصلے پیش کرتے ہیں جو کہیں اور لیے گئے ہوں۔پہلے دورِ صدارت میں ہی ٹرمپ نے ایران اور امریکہ کے تعلقات کو شدید تناؤ کی نہج پر لا کھڑا کیا انھوں نے یکطرفہ طور پر برسوں کی محنت سے طے پانے والے جوہری معاہدے سے دستبرداری اختیار کی، سخت اقتصادی پابندیاں عائد کیں اور ایران کے بااثر ترین فوجی کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کا حکم دیا۔جلد ہی اسرائیل نے خطے میں ایران کے اتحادی گروپوں کے خلاف فوجی کارروائیوں میں شدت پیدا کر دی: غزہ میں حماس، لبنان میں حزب اللہ اور یمن میں حوثی گروہ نشانے پر آ گئے۔اس کے بعد پورے سال کشیدگی اور محاذ آرائی کا سلسلہ جاری رہا۔ایسے وقت میں پزشکیان نے بطور صدر عہدہ سنبھالا۔ ایک معتدل رہنما جو ایک بڑے تنازع کے درمیان صدر بن کر آ گیا تھا مگر اس کے پاس حالات کا رُخ موڑنے کا کوئی اختیار ہی نہیں تھا۔ایران نے امریکا کی جانب سے عائد کی گئی نئی پابندیوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے غیرقانونی، ظالمانہ اور ایرانی قوم کے خلاف کھلی دشمنی پر مبنی اقدام قرار دیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ امریکی پابندیوں کا مقصد ایران کو کمزور کرنا، ایرانی عوام کے بنیادی حقوق کو پامال کرنا ہے۔ یا د رہےکہ امریکہ نے پاکستان میں ایران کے موجودہ سفیر رضا امیری مقدم پر اپنے خصوصی ایجنٹ کے اغوا کا الزام لگاتے ہوئے انہیں انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن نے رضا امیری مقدم اور دیگر دو ایرانی اہلکاروں پر 2007 میں ایران کے جزیرہ کیش سے ایک امریکی ریٹائرڈ خصوصی ایجنٹ کے اغوا میں ملوث ہونے کا الزام لگایا ہے

معاہدے کے تحت بلوچستان کے عوام کو درپیش مسائل کے حل کیلئے کمیٹی بنانے کا اعلاناس موقع پر حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمٰن نے کہا کہ 8 نکاتی مطالبات کے ساتھ گوادر سے روانہ ہوئے، ہم امن چاہتے ہیں، فساد نہیں، اپنی بات، دکھ اور درد کو یہاں پہنچانے آئے ہیں، بلوچستان کے عوام کو درپیش مسائل، حکومت کے سامنے پیش کرنا چاہ رہے تھے۔وزیراعظم کے مشیر نے بتایا کہ کمیٹی بلوچستان کے عوام کے اُن تمام مسائل اور مشکلات کی نہ صرف نشاہدہی بلکہ اُس پر قابل عمل تجاویز بھی مرتب کرے گی، جس پر عمل کر کے صوبے کے مسائل کا حل ممکن ہو سکے

“اس نوجوان پر سعودی عرب میں مواصلات کا ایک لاکھ ریال جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔ بیچارہ یہ بوجھ برداشت نہ کر سکا اور اس نے خودکشی کر لی۔ ایک لاکھ ریال، پاکستانی کرنسی میں تقریباً 70 لاکھ روپے بنتے ہیں۔””مواصلات” (Arabic: المواصلات) ایک عربی لفظ ہے، جس کا مطلب نقل و حمل، ٹرانسپورٹیشن، یا آمد و رفت ہوتا ہے۔📌 مواصلات کی مکمل تفصیل اردو میں:مواصلات کا مطلب ہوتا ہے لوگوں، سامان یا معلومات کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا۔ عرب ممالک (خاص طور پر سعودی عرب) میں “مواصلات” کا مطلب عموماً ٹریفک، گاڑیوں، سڑکوں کے قوانین، اور پبلک ٹرانسپورٹ سے ہوتا ہے۔💡 مواصلات کے مختلف پہلو:1. سڑک پر گاڑی چلانے کے اصولسگنل کی خلاف ورزیاوور اسپیڈنگغلط پارکنگبغیر لائسنس ڈرائیونگ2. پبلک ٹرانسپورٹ کا نظامبس، میٹرو، ٹیکسی، اور ٹرینیں3. ٹریفک جرمانے (مواصلاتی خلاف ورزیاں)سعودی عرب میں “مخالفات مرورية” یا “مخالفات مواصلات” کہلاتی ہیںیہ خلاف ورزیاں خودکار کیمروں، پولیس چیکنگ یا ٹریفک سسٹم کے ذریعے ریکارڈ ہوتی ہیں4. سعودی نظام میں جرمانےاگر کوئی فرد مواصلاتی قوانین توڑتا ہے تو اس پر بہت بھاری جرمانہ عائد ہو سکتا ہے،

جو بعض اوقات ہزاروں ریال تک پہنچ جاتا ہے🎯 مثال:اگر کوئی شخص بغیر اجازت نامے کے Uber یا Careem جیسی سروسز میں گاڑی چلاتا ہے یا کسی غیرقانونی طریقے سے مسافروں کو لے جاتا ہے، تو اسے “مواصلاتی خلاف ورزی” میں لاکھوں ریال تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔—اگر آپ کو کسی خاص مواصلاتی جرم یا سعودی قانون کی وضاحت درکار ہے، تو آپ مخصوص تفصیل پوچھ سکتے ہیں، مثلاً:”ٹیکسی بغیر پرمٹ چلانے پر کتنا جرمانہ ہوتا ہے؟””اوور اسپیڈنگ پر سعودی عرب میں سزا کیا ہے؟”

تیس سال بعد اسکا پوتا بھی ایم این اے بنے گا سید یوسف رضا گیلانی چئیرمین سینیٹ ہیں، ان کے چار بیٹے ہیں، چاروں کو ایم این اے بنایا گیا ہے. عبدالقادر گیلانی کو شجاع آباد سے، علی موسٰی گیلانی، علی حیدر گیلانی اور چوتھے صاحبزادے علی قاسم گیلانی ملتان سے الیکشن جیتے ہیں

تیس سال بعد اسکا پوتا بھی ایم این اے بنے گا 👏👏👏👏سید یوسف رضا گیلانی چئیرمین سینیٹ ہیں، ان کے چار بیٹے ہیں، چاروں کو ایم این اے بنایا گیا ہے. عبدالقادر گیلانی کو شجاع آباد سے، علی موسٰی گیلانی، علی حیدر گیلانی اور چوتھے صاحبزادے علی قاسم گیلانی ملتان سے الیکشن جیتے ہیں. یعنی کہ پوری فیملی صوبائی اور وفاقی کابینہ کا حصہ ہے.سپریم کورٹ نے زور لگا دیا کہ یوسف رضا گیلانی سوئس حکام کو خط لکھ دیں، انہوں نے نہیں لکھا. ہتھکڑیاں پہن کر وزیر اعظم کی کرسی سے اتر گئے لیکن پاکستان کا بھلا نہیں ہونے دیا. یہ وزارتیں اسی خدمت کی بنا پر دی گئی ہیں. آگے چلتے ہیں، یوسف رضا گیلانی کا نواسا لندن یونیورسٹی میں پڑھتا ہے، اپنے نواسے کی لندن میں گریجویشن کی تقریب میں شرکت کے لئے جانا تھا. انہوں نے بطور چیئرمین سینیٹ سرکاری دورے کی جگاڑ بنائی. اپنے وفد میں اپنے دونوں بیٹوں اور ان کی فیملیز کو نامزد کر دیا.. حکومت پنجاب کے خرچے پر اپنے سارے ٹبر کو مفت میں انگلینڈ میں عیاشی کروائی. فائیو سٹار ہوٹل میں قیام طعام گھومنا پھرنا سب کچھ سرکاری خرچ پر ہو گیا اور نواسے کی گریجویشن تقریب بھی نمٹا لی. اگست کے مہینے میں جب پنجاب کے عوام بجلی بلوں کی وجہ سے خودکشی پر مجبور تھے، مزدور کسان مر رہے تھے یہ موصوف سرکاری اخراجات پر فیملی سمیت انگلینڈ میں انجوائے کر رہے تھے. کل یوسف رضا گیلانی کا پوتا پیدا ہوا ہے، تیس سال بعد یہ بھی ایم این اے بنے گا اور ملتان کے عوام یونہی ذلیل و خوار رہیں گے.

‏باجوڑ جاری آپریشن میں ایک میجر اور تین سپاہی شھید۔۔ماں دھرتی پر قربانیاں جاری۔امریکی صدرنےبھارت میں قائم 7 کمپنیوں پرپابندیاں لگادیں، پابندیوں کا شکارساتوں کمپنیاں ایران سےتیل کی تجارت کرتی ہیں،امریکی میڈیا۔ بھارت کی چار کمپنیوں پر امریکی پابندی۔ ۔وزراء کے لئے مشکلات مے اضافہ 4 اھم فارغ۔سنسنی خیز مقابلے کے بعد ساؤتھ افریقن چیمپئنزنے سیمی فائنل میں آسٹریلیا کو 1رنز سے شکست دیدی۔فائینل میں پاکستان اور ساوتھ افریقہ امنے سامنے ھونگے۔ حکومت نے پورے ملک کے تمام یوٹیلٹی سٹورز بند کرنے کانوٹیفکیشن جاری کر دیا۔شنگھائی تعاون تنظیم کا تھیان جن سمٹ 31 اگست سے یکم ستمبر تک منعقد ہوگا۔۔اھم ترین ملاقات 3 بڑوں کو ریلیف۔ملک بھر میں غیر یقینی صورتحال برقرار ‏بنوں میں دہشت گردوں کے خلاف ایس ایس جی کمانڈوز کی کاروائی، چھ افغان خارجی دہشتگرد برقعوں میں فرار ہوتے گرفتار، سڑکوں پر ناکے لگا کر بھتہ وصول کرتے تھے۔ شہریوں سے وصول کردہ اکیس لاکھ روپیہ کا بھتہ برامد۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

*پاکستان چینی بحران پر حکومت کا ایکشن: تمام ذخیرہ کنٹرول میں لےلیا،18ملز مالکان کے نام ای سی ایل میں شامل*ملک میں جاری چینی بحران پر وفاقی حکومت نے شوگر ملز کے خلاف ایکشن لے لیا۔

وزارت فوڈ حکام کے مطابق وفاقی حکومت نے ملک بھر میں موجود چینی کا تمام ذخیرہ اپنے کنٹرول میں لے لیا۔حکام کے مطابق وفاقی حکومت کے ایکشن کے بعد 19 لاکھ میٹرک ٹن چینی شوگر ملز کے بجائے حکومتی کنٹرول میں چلی گئی۔حکام نے بتایاکہ 18 شوگر ملز کے مالکان کے نام بھی ای سی ایل میں ڈال دیے گئے اور ای سی ایل میں ڈالےگئے نام چند دنوں میں جاری کردیے جائیں گے۔حکام کا کہنا ہےکہ یہ فیصلہ چینی کی مصنوعی قلت اور قیمتیں مزید بڑھنے کے خدشے کے پیش نظرکیا گیا۔وزارت فوڈ حکام نے بتایا کہ تمام شوگر ملز میں چینی اسٹاک پر ایف بی آر کے ایجنٹس تعینات ہیں اور شوگرملوں کے چینی اسٹاک پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم بھی لگادیا گیا۔دوسری جانب وفاقی وزیر غذائی تحفظ رانا تنویر نے دعویٰ کیا کہ ملک میں چینی کا کوئی بحران نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ چینی کی امپورٹ اور ایکسپورٹ کوئی نئی بات نہیں، چینی کی برآمد اور درآمد پر غلط تاثر پیدا کیا جاتاہے۔انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹ کے وقت فیصلہ ہوا تھا کہ ایک کلو چینی 140 روپے سے اوپر نہیں جائے گی،چینی کی ایکسپورٹ اکتوبر 2024 میں شروع ہوئی، ایکسپورٹ شروع ہونےکے 20 دن کے بعد کرشنگ سیزن شروع ہو چکا تھا۔یاد رہے ملک بھر میں حکومت کی جانب سے مقرر کردہ چینی کی ایکس مل قیمت 165 روپے اور ریٹیل قیمت 173 روپے پر عوام کو چینی فراہم نہیں کی جارہی۔جیو نیوز کے مطابق کراچی کے ریٹیل بازار میں چینی 180 سے 190 روپے کلو مل رہی ہے، شہر میں چینی کی گراں فروشی کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا اور اس دوران 7 دکانیں سیل کی گئیں

، 2 گراں فروش گرفتار ہوئے جبکہ 10 لاکھ 77 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ ادھر کوئٹہ اور پشاور میں بھی چینی 180 روپے سے کم میں دستیاب نہیں۔لاہور میں ڈیلرز اور شوگر ملز مالکان کا تنازع برقرار ہے جس کے باعث بیشتر دکانوں پر چینی دستیاب نہیں۔ڈیلرز کا کہنا ہے کہ شوگر ملز مالکان 165 روپے پر چینی فراہم نہیں کررہے ہیں۔

بلاسفیمی گینگ اور کمیشن ۔اظہر سید عبداللہ قتل کیس میں کومل اسماعیل یا ایمان ، راؤ عبدالرحیم کا اسپین والا نمبر استعمال کر رہی تھی ۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں راؤ عبدالرحیم نے تسلیم کیا وہ قتل سے پہلے مقتول کے ساتھ رابطے میں تھا ۔عدالت نے ایف آئی اے کو ایمان عرف کومل اسماعیل کو تلاش کرنے کا حکم دیا لیکن مسلسل چھاپوں کے باوجود ایمان تلاش نہ کی جا سکی ۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈی جی ایف آئی اے اور آئی جی اسلام آباد پولیس کو عبداللہ قتل کیس کے متعلق ایک ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کے احکامات جاری کئے ۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے سنگل بینچ کا بلاسفیمی گینگ کے متعلق عبوری حکمنامہ میرٹ کی بجائے ٹیکنیکل گراؤنڈ پر معطل کر دیا کہ بلاسفیمی کے کیس پورے ملک میں ہیں اور اسلام آباد ہائی کورٹ کا دائرہ کار محدود ہے ۔جس دو رکنی بینچ نے عبوری حکمنامہ معطل کیا

اس کا ایک رکن بلاسفیمی کے متعدد کیسز میں سزائے موت کا حکم سنا چکا ہے ۔وہ پراسرار کردار ایمان فاطمہ جو ریاست کے پرائم ادارے کے متعدد چھاپوں میں بھی پکڑی نہ جا سکی خاموشی سے دو رکنی بینچ کے سامنے پیش ہو گئی جبکہ اسکا شناختی کارڈ معطل تھا نامعلوم طاقتور ہاتھوں نے بائیو میٹرک پتہ نہیں کیسے کروایا یا بغیر بائیو میٹرک کے وہ عدالت میں داخل ہو گئی دادرسی کی درخواست پیش کر دی ۔بینچ نے ایمان فاطمہ یعنی کومل اسماعیل کی عدالت میں موجودگی کے باوجود اس سے کوئی استفسار نہیں کیا وہ چپکےسے عدالت سے نکل گئی تو منصف نے پوچھا “خاتون کہاں ہے”۔اسلام آباد پولیس نے عبداللہ شاہ قتل کیس میں اسے تفتیش کی غرض سے پکڑنے کی کوشش کی نہ ایف آئی اے حکام نے اس پراسرار کردار پر گرفت کی ۔چار سو بلاسفیمی کی ایف آئی آر ہیں۔ سات سو سے زیادہ نوجوان ملزم ہیں۔چار ملزم جیل میں مارے جا چکے ہیں ۔ایک ملزم قتل کیا جا چکا ہے ۔ایک ہی 35 رکنی گینگ ہے جیسے دو ارب مسلمانوں میں سے بلاسفیمی مواد ملتا ہے اور وہ مقدمے درج کراتا ہے ۔ریاست تفتیش ہی نہیں کرتی صرف ان 35 لوگوں کو بلاسفیمی کا کیسے پتہ چلتا ہے ۔متعدد ایف آئی آر ایک ہی طرز پر ہیں۔بلاسفیمی گینگ کے ہر رکن نے متعدد ایف آئی آر کروائی ہیں۔ ایک ہی پیٹرن ہے ۔اج تک بلاسفیمی مواد بنانے والے ایڈمن کا پتہ چلا اور نہ 35رکنی گینگ کے فون کے فرانزک کروائے گئے۔جب حقائق جاننے کیلئے ایک عدالت نے کمیشن بنانے کے احکامات جاری کئے دو رکنی بینچ نے حکم امتناعی جاری کر دیا ۔ہمیں تو کچھ سمجھ نہیں آرہا یہ ہو کیا رہا ہے کسی کو کچھ سمجھ آتا ہے تو اس پر ضرور لکھے

جولائی 2025*وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر

صدارت انسداد دہشت گردی و ریاستی رٹ کے قیام (Harden the State) کے حوالے سے قائم اسٹیرنگ کمیٹی کا جائزہ اجلاس* ریاست پاکستان، دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور دنیا دہشت گردوں کے خلاف ہماری کامیاب کاروائیوں کی معترف ہے۔ وزیراعظمریاست پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کثیر الجہتی حکمت عملی اپنائی ہے۔ وزیراعظمپاکستان کی طرف سے زمینی آپریشن، متعلقہ قانون سازی، بامعنی عوامی رابطے اور انتہا پسند سوچ کی حوصلہ شکنی جیسے اہم عناصر کا بھرپور اور موثر استعمال کیا گیا۔ وزیراعظمکمیٹی کی دھشتگردی کے خلاف وفاقی و صوبائی حکومتوں کے مابین ہم آہنگی کو مؤثر بنانے اور اس ضمن میں کمیٹی کی سفارشات پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت. بہادر افواج کے سپوتوں کا دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں کردار قابل تعریف و قابل تحسین ہے۔ وزیراعظارض وطن کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے اہلکار و افسران اور قربانی کے جذبے سے سرشار ان کے اہل خانہ پر مجھ سمیت پوری قوم کو فخر ہے. وزیرِاعظم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری پاکستانی قوم، بہادر افواج، قانون نافذ کرنے والے ادارے، انٹیلیجنس ادارے متحد اور یکسو ہیں.

وزیراعظم پاکستان کی بہادر افواج نے آپریشن رد الفساد اور ضرب عضب میں دہشت گردوں کا بھرپور مقابلہ کیا اور حالیہ تاریخ ساز معرکہ حق میں دنیا نے پاکستان کی فتح کو تسلیم کیا۔ وزیراعظم صوبائی حکومتوں ، انٹیلیجنس بیورو، وزارت داخلہ،کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ بالخصوص پنجاب انسداد دہشتگردی ڈیپارٹمنٹ نے دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں نہایت موثر اقدامات اٹھائے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان کو فتنتہ ہندوستان اور فتنتہ الخوارج اور اس طرح کی دوسرے سماج دشمن عناصر کے مکمل خاتمے کے لیے جامع، موثر اور قابل عمل حکمت عملی پر کام کررہی ہے۔ وزیراعظمتمام متعلقہ اداروں کی مشترکہ کاروائیوں و تعاون سے اسمگلنگ کے خلاف مؤثر کاروائیاں عمل میں لائی گئیں، جس سے اسمگلنگ کی روک تھام ممکن ہوئی. وزیرِ اعظماسمگلنگ کی روک تھام سے معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوئے. وزیرِ اعظم دہشت گردی سے پاک اور پرامن مضبوط ریاستی ڈھانچہ ہی بین الاقوامی سطح پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرتا ہے۔ وزیراعظم بین الاقوامی سطح پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کے لیے حکومت نے تمام نظام کی ڈیجیٹائزیشن اور ٹیکس سسٹم میں بہتری جیسے انقلابی تبدیلیاں لائی ہیں۔وزیراعظمپاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ریکارڈ اضافہ اور گلوبل ریٹنگز میں بہتری پاکستان کی معیشت میں استحکام کی نشاندہی کرتا ہے اور اس سے بیرونی سرمایہ کار کا اعتماد بحال ہوگا: وزیراعظم غیر قانونی طور پر پاکستان میں مقیم افغان باشندوں کی بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق وطن واپسی کے پروگرام پر عملدرآمد مؤثر طور سے جاری ہے. وزیرِ اعظم اجلاس میں نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل چیف آف آرمی سٹاف سید عاصم منیر، نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیرتارڑ، وفاقی وزیر اکنامک افیئرز ڈویژن احد خان چیمہ، وزیراعظم کے مشیر براۓ بین الصوبائی تعاون رانا ثنا اللہ، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز، انسپیکٹر جنرلز اور متعلقہ سرکاری حکام نے شرکت کی.