موجودگی حکومت داماد کلہاڑا اور لمبی شرررررر ۔کھلاڑی ایک دوسرےسے ہاتھ نہیں ملائے یہ کرکٹ کی تاریخ کا ایک سیاہ باب تھا۔۔مجھے نہیں لگتا کہ کسی اوپنر کو اتنے مواقع دیے گئے ہوں جتنے صائم کو ملے۔ھای کورت اسلام آباد کے جج جسٹس جہانگیری کو کام سے روک دیا گیا۔ھای کورت اسلام آباد نے چئیرمین پی ٹی اے کو برطرف کر دیا۔میجرجنرل کی برطرفی۔ھای کورت اسلام آباد نے چئیرمین نادرا لیفٹیننٹ جنرل منیر افسر کی تعیناتی کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔جسٹس ستار نے جنرل کو چارج شیٹ کر دیا کیا چئیرمین پی ٹی اے عھدے کا چارج چھوڑے گئے اسلام آباد ھای کورت ان ایکشن۔خفیہ اداروں کی رپورٹ میں بڑے انکشاف 8 بڑے یو ٹیوبر بھارت کے 22 چینل بھی شامل۔بنوں ھسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ لکی مروت آپریشن میں تیزی۔پاکستان ایشیا کپ میں باقی میچز کھیلے گا پاکستان کو عبرت ناک شکست دلوانے والوں کو کٹہرے میں لایا جائے۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

محمد عامر🗣️صائم ایوب کو اب پرفارم کرنا ہوگا، وہ اب نئے کھلاڑی نہیں رہے بلکہ ٹیم کے سینیئر رکن ہیں۔ میرے کھیلنے کے دور میں مجھے نہیں لگتا کہ کسی اوپنر کو اتنے مواقع دیے گئے ہوں جتنے صائم کو ملے ہیں

. . . . . . . . . . . . . . . . انشائیہشہرت گزیدہ شہرت کا شوق کسے نہیں چراتا؟کون ہے جو شہرت کے مرض کا مریض نہیں اور مرض بھی ایسا کہ جس کا شکار بیماری کو خود اپنے دامن و دل میں پناہ دیتا ہے۔ خود خریدتا ہے، منہ مانگے دام خرچ کرتا ہے ۔پھر بھی حسرت اس کے دل میں باقی رہتی ہے کہ کچھ زیادہ خرچ کرتا ۔شہرت کے خریداروں میں ہر عمر ، عقیدے اور رنگ و نسل کا آدمی آپ کو نظر ائے گا۔کون ہے جو شہرت کے لیے سنجیدہ یا رنجیدہ نہیں ۔ اور آپ تو جانتے ہیں کہ ہم جتنا جلدی سنجیدہ یا رنجیدہ ہوتے ہیں ؛اس سے زیادہ تیزی سے غیر سنجیدہ ہونے میں بھی دیر نہیں کرتے۔ابھی ہنس رہےتھے ابھی رو رہے ہیں ۔ابھی ناراض تھے ،ابھی راضی ہو گئے۔ابھی دوست تھے، ابھی دشمن بن بیٹھے ۔ دیکھتے ہی دیکھتے محبوب سے محبوب چیز کو معتوب اشیاءکے کھاتے میں ڈال دیا ۔ شہرت کی طرح ارادہ اور راستہ بدلنے سے تھکتے ہیں، نہ ڈرتے ہیں ۔یہی سبب ہے کہ گزشتہ کل کی طرح آج بھی ہر فرد شہرت کے لیے سرگرداں اور شعلہ بجاں ہے۔ البتہ حصول شہرت کے ذرائع اور دستیاب وسائل ،خرابیاں اور بے تابیاں سب کی جدا جدا ہوتی ہیں ۔کوئی دین اور دیوانگی کے نام پر شہرت حاصل کرنے میں مصروف ہے ۔تو کوئی دولت کو ہی شہرت کا قبلہ نما اور خدا مانتا ہے ۔کوئی تاریخ کا سہارا لیتا ہے ،توکوئی تلبیس کا۔

کوئی تحقیق کا سہارا لیتا ہے تو کوئی تنقیص کا۔آپس کی بات ہے،انسان جب سے زمین پر آیا ہے ، سہاروں کا اس قدر عادی ہو چکا ہے کہ جینا تو دور کی بات ہے مرنے کے لیے بھی سہارے تلاش کرتا پھرتا ہے۔کون سمجھائے کہ زمینی سہارے بھی تو شہرت کی مانند وقتی ،ناپائیدار اور عارضی ہوتے ہیں۔ یہ تو سب جانتے ہیں کہ شہرت کے شہتیر کے آخری سرے پر بوزنہ بنا بندہ نہ زمین پر اُتر سکتا ہے نہ آسمان کی طرف جا سکتا ہے۔کیونکہ اسے ڈر ہوتا ہے کہ اگر وہ شہتیر سے اترا تو کوئی اور اس پر چڑھ بیٹھے گا۔کیونکہ مبتلائے شہرت کا مقصد نہ بلندی کا حصول ہوتا ہے؛ نہ زمین سے وابستگی ہی اس کا اُصول ہوتا ہے

۔شہرت تو بے سمت سفر ہے؛ جس کی کوئی منزل نہیں ہوتی۔ بے حد و حساب مسافت طے کرنے کے بعد بھی مبتلائے شہرت سے منزل اتنی ہی دور ہوتی ہے ،جتنی آغاز سفر پر تھی۔شاید نسل انسانی کے کوتاہ بینوں کو ہمہ وقت ایسا ہی سفر درپیش رہتا ہے ۔اس سفر کی خرابی یہ ہے کہ شہرت کے پروں پر سوار آدمی پرواز کرتے ہوۓ آخر کار اس مقام پر جا پہنچتا ہے۔جہاں جبری تنہائی اس کا مقدر بنتی ہے ۔خلوت اگر خود اختیاری ہو تو نعمت ہوتی ہے ،جبری ہو تو خواری ہی خواری ہوتی ہے۔ تنہائی کے تاریک جہاں میں جہاں، یہاں وہاں کی تمیز مٹ جاتی ہے،وہاں ،کہاں کی تمیز کہاں رہتی ہے۔شہرت کے دھتکارے ہوۓ کو سارا زمانہ اپنا دشمن ،مدمقابل اور مخالف دکھائی دیتا ہے

۔شہرت اس پرائے مال کی مانند ہوتی ہے، جسے ہم چرا تو لیتے ہیں ، مگر چھپا نہیں پاتے۔پھر انسان بقیہ زندگی اسی لوٹ کے مال کو مسلسل سر اور کندھوں پر اٹھائے اٹھائے پھرتا ہے۔کیونکہ اسے ڈر رہتا ہے کہ کہیں کوئی اس سے یہ مال مسروقہ چھین ہی نہ لے۔اس لیے دانا شہرت سے دور اور بے شعور اس کا قرب چاہتے ہیں ۔اور ہماری ہمیشہ سے یہ مشکل رہی ہے کہ داناؤں کی بات ہمارے پلے نہیں پڑتی۔ ورنہ مرزا غالب نے تو بہت پہلے کہہ دیا تھا ؛ ہوں ظہوری کے مقابل میں خفائی غالب میرے دعوے پہ یہ حجت ہے کہ مشہور نہیں بات تو انہوں نے سچ کہی تھی کہ شہرت ،دلیلِ شرف نہیں ہوتی۔اگرچہ شہرت کا رستہ مختصر اور جلدی طے ہوتا ہے مگر اس کا قیام مستقل نہیں ہوتا۔اس کے برعکس عظمت اپنی قیام گاہ اور افراد نہیں بدلتی ۔ شہرت اس پرندے کی مانند ہوتی ہے جو اپنے شکار کو دلدل میں دھنسا کر نگاہوں سے او جھل ہو جاتا ہے

۔اب ستم کا مارا نہ آگے بڑھ سکتا ہے نہ پیچھے ہٹ سکتا ہے۔ بلکہ شہرت کے طلبگار کے قریب جانے والا بھی اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ شہرت کی کشتی کتنی ہی برق رفتار کیوں نہ ہو، ہمیشہ اپنے مسافروں کو بیچ منجدھار میں ڈبوتی ہے۔ کسی شے ،شخص یا واقعے کی شہرت، چاہے پورے عہد کو ہی اپنی لپیٹ میں کیوں نہ لے لے؛ انجام گمنامی یا بدنامی ہی ہوتا ہے ۔شہرت معیار کی ضامن ہوتی ہے؛ نہ اعتبار کی دلیل ہوتی ہے۔شہرت کا محور نہ کردار ہوتا ہے نہ اس کا مسکن وقار ہوتا ہے۔ بلکہ شہرت کی بنیاد عموما” کج ادائی اور رسوائی پر ہوتی ہے ۔نیک نام کبھی شہرت کے حصول کی کوشش نہیں کرتا اور بدنام کبھی شہرت کو چھپانے کی ۔ جس شہرت کے لیے دن کو رات کیا جاتا ہے یا رات کہا جاتا ہے۔ عزت و شرف کبھی اسے منہ نہیں لگاتے ۔شہرت کیونکہ سانحہ کی پیداوار ہوتی ہے اس لیے جلد بے وقار ہوتی ہے۔شہرِ شرف میں شہرت کے پر جلتے ہیں؛ اور عظمت کو وہاں گھر پہ گھر ملتے ہیں۔عظمت کے سوتے انسان کے باطن اور بلند کرداری سے پھوٹتے ہیں۔ عظمت کا پودا ذہن وضمیر و ذات سے غذا لیتا ہے؛ تبھی ہمیشہ تروتازہ رہتا ہے۔ اسے خزاں نہیں چھو سکتی۔شہرت ایک مرض لادوا اور وبا ہے؛جس کی شدت میں کبھی کمی نہیں آتی ؛جو پورے سماج کو اور ارد گرد کو بے بیمار تو کر سکتی ہے مگر بیدار نہیں کر سکتی۔اس کا مریض ہل من مزید کی صدائیں دیتا نہیں تھکتا۔تا آنکہ شہرت کا وقت نزع آن پہنچتا ہے۔ شہرت کی بھوک مٹائے نہیں مٹتی۔ کیا خوب کہا گیا ہے کہ شہرت کی بھوک مٹتی نہیں، عظمت کو بھوک لگتی نہیں ۔شہرت کاطلبگار سب کچھ حاصل ہونے پر بھی بھوکا اور پیاسا رہتا ہے۔

شہرت صرف ابن آدم کی میراث ہوتی تو کوئی بات بھی تھی۔شہرت تو وہ بیسوا ہے جو شرفِ آدم پر فریفتہ ہونے کی بجائے کسی لکڑی، پتھر ،پہاڑ، پسٹل یا پتلون پر فریفتہ ہونے لگتی ہے۔مگر جیسے ہی حالات بدلتے ہیں، واقعات کا اثر زائل ہوتا ہے ۔اس کے ساتھ ہی شہرت پر بھی گمنامی کے پردے پڑنے لگتے ہیں اور جس شے یا شخص پر پردے پڑنے لگے یا جس شے پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہو رہی ہو ؛وہ کبھی لائق تحسین اور قابل تقلید نہیں ہوا کرتی۔دور کیوں جائیں، شعراء کے مشہور کلام کو ہی دیکھ لیجئے،وہی مشہور کلام جو کسی وقت شاعر کی شہرت کا باعث تھا ، آخر میں شاعر کے لیے بدنامی کے دروازے کھول دیتا ہے ۔پہلے شاعر کے ساتھ الہامی کا لاحقہ جڑا ہوا ہوتا تھا اور اب جب تک شاعر بد کلامی نہ کرے، شہرت نہیں ملتی ۔شہرت بھی عجیب شے ہے جس کے کندھوں پر سوار ہو جائے اسے اپنا قد بڑا اور کمیت بھاری بھر کم معلوم ہونے لگتی ہے ۔شہرت بات کو فسانہ اور طاقت کو بہانہ بناتی ہے، شہرت کا در جتنی تیزی سے کھلتا ہے اسی تیزی سے بند ہو جاتا ہے۔ شہرت بے وفا اور بے ردا ہوتی ہے؛ عظمت باوفا اور باحیا ہوتی ہے؛ شہرت بے وقار اور بد حواس ہوتی ہے ،عظمت با وفا اور باحواس ہوتی ہے۔عظمت ،دین و دیانت کا گھر ہوتی ہے؛ شہرت عموما” بے ثمر ہوتی ہے۔ عظمت کے سچے موتی سے روشنی کے فوارے پھوٹتے ہیں۔ شہرت کے جھوٹے نگینے وقت کی ذرا سی تپش سے ہی ٹوٹتے ہیں۔ شہرت شباب کی مانند ہوتی ہے؛ تبھی جلد برباد ہوتی ہے ۔شہرت کا گھاؤ ارد گرد کو ضرور زخمی کرتا ہے۔ عظمت ارد گرد کے لیے ہی نہیں، ہر عہد اور فرد کے لیے مرہم اور معیار ہے۔ شہرت گھٹتی بڑھتی چھاؤں ہے؛ شہرت کا ہما کسی کے سر پر بھی بیٹھ سکتا ہے۔ اس کے لیے زمین و زمن، مقام و مسکن اور شرف و شگن کی کوئی قید نہیں۔ اس کے برعکس عظمت دل اور داخلیت کا شجرۀ طیب ہے؛ عظمت انبیاء کی عادت ،عزت اور عترت کا نام ہے۔ عظمت کا لہجہ متین اور مہین ہوتا ہے۔ شہرت کا لہجہ ثقیل اور سنگین ہوتا ہے ۔عظمت صرف عظیم انسانوں کے حصے میں آتی ہے اس کے برعکس شہرت کے لیے انسانوں کی تخصیص ضروری نہیں؛ شہرت، اینٹ، پتھر، مکان، درخت، دریا ،تیر و تبر تک کے حصے میں آتی رہی ہے۔ بھانڈ، بھڑ ،بھڑوے اور بیٹسمین تک سب یکساں طور پر شہرت پا سکتے ہیں۔ معلوم نہیں کب شہرت ان کے قدم چوم لے ۔بھانڈ کی تو ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنی پگڑی اور دوسرے کی عزت اچھال دے۔ بھڑ اور بھڑوے کی شہرت کا سبب ہی یہ ہے کہ سب سے پیار جتاتے ہیں مگر جو انہیں منہ لگا لے وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتا ۔کتنے ہی بھڑوے بادشاہوں کے درباروں میں شہرت حاصل کر گئے اس سے کہیں زیادہ بھڑوے اج کل بھی درباروں، سرکاروں میں کرسی نشینوں میں شمار ہوتے ہیں ۔مگر نہ کل بھڑووں کو کسی نے عزت کی نگاہ سے دیکھا تھا نہ آج کے بھڑووں کو لائق تعظیم سمجھتا ہے۔ بھینس اور بیٹسمین کی شہرت سے کون واقف نہیں چاہیں تو لٹیا ڈبو دیں ،چاہے تو دودھ کی نہر بہا دیں ۔اس لیے داناؤں کا کہنا ہے کہ شہرت اور عورت کہ قرب سے عقل موٹی ہو جاتی ہے اور موٹاپا تو بیماریوں کی جڑ ہے۔ عقل موٹی ہو تو عظیم الجثہ چیزیں بھی بے وقعت نظر آنے لگتی ہیں۔ ایسے میں حق اور حقیقت کا در کس طرح کھل سکتا ہے۔ سچ اور صداقت کو کیوں کر تلاش کیا جا سکتا ہے جھوٹ اور جہالت سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔ ایسی عقل دوسروں کی طاقت اور طبیعت کا اندازہ کر ہی نہیں سکتی نتیجتا شہرت گلے کا طوق اور ملامت کا باعث بن جاتی ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کا انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کے زیر اہتمام تقریب سے خطاب انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز جیسے اداروں کا خارجہ پالیسی کی تشکیل میں اہم کردار ہے، وفاقی وزیر اطلاعاتپاکستان نے بھارت کے گمراہ کن پروپیگنڈے کو بے نقاب کیا، وفاقی وزیر اطلاعاتپاکستان نے بھارت کی بلاجواز جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا، وفاقی وزیر اطلاعاتپاکستان کے بھرپور جواب پر بھارت نے جنگ بندی کی درخواست کی، وفاقی وزیر اطلاعاتچار روزہ جنگ میں پاکستان نے فتوحات کی ایک نئی داستان رقم کی، عطاء اللہ تارڑمودی حکومت اور ہندوتوا نظریئے کو عبرتناک شکست ہوئی، وزیر اطلاعاتبھارت ایک غاصب اور جارح ملک ہے جو مظلوم بننے کی کوشش کر رہا ہے، عطاء اللہ تارڑپہلگام جیسے واقعات کی حقیقت دنیا کے سامنے آشکار ہو چکی ہے، عطاء اللہ تارڑپہلگام واقعہ کے حوالے سے پاکستان نے آزادانہ تحقیقات کی پیشکش کی تھی، عطاء اللہ تارڑپاکستان نے خطے میں پائیدار امن کے لئے ہمیشہ اپنا موثر کردار ادا کیا، عطاء اللہ تارڑہماری دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف اپنے لئے نہیں، دنیا کو محفوظ بنانے کے لئے ہے، عطاء اللہ تارڑبین الاقوامی اصولوں سے روگردانی کرنے والا بھارت مظلومیت کا ڈھونگ نہیں رچا سکتا، عطاء اللہ تارڑبھارت کا غیر ذمہ دارانہ رویہ اب کھیلوں کے میدان تک پہنچ چکا ہے، عطاء اللہ تارڑعسکری میدان میں شکست کے بعد بھارت اب کھیل کے میدان میں اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے، عطاء اللہ تارڑپاکستان پرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے، عطاء اللہ تارڑپاکستان نے خطے میں امن و استحکام کے لئے کلیدی کردار ادا کیا، عطاء اللہ تارڑپاکستان کے لوگ اس تہذیب کا حصہ ہیں جہاں روایات کو اہمیت دی جاتی ہے، عطاء اللہ تارڑمقبوضہ کشمیر کے عوام کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھیں گے، عطاء اللہ تارڑمسئلہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل چاہتے ہیں، عطاء اللہ تارڑپاکستان خطے میں امن کے لئے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا، عطاء اللہ تارڑ

دوحہ سمٹ: یمن پر تباہ کن حملےیمن کے ساحلی شہر الحدیدہ کا بندرگاہ اسرائیلی فضائی حملوں کا نشانہ بنی، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ اسرائیلی اور یمنی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے 12 فضائی حملے کیے جو بندرگاہ کے تین ارصفت پر مرکوز تھے۔ اس سے چند گھنٹے قبل اسرائیلی فوج نے ’’انذارِ عاجل‘‘ جاری کرتے ہوئے بندرگاہ خالی کرنے کی وارننگ دی تھی۔ اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاتس نے کہا کہ ان حملوں کا مقصد حوثیوں پر دباؤ ڈالنا اور ان کے خلاف فضائی و بحری محاصرہ جاری رکھنا ہے۔ اسرائیلی فوجی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ بندرگاہ ہتھیاروں کی ترسیل اور حوثیوں کے عسکری استعمال میں لائی جا رہی تھی اور اس پر حملہ کر کے اسے کئی ہفتوں کے لیے غیر فعال بنا دیا گیا ہے۔حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ یمنی فضائی دفاع نے اسرائیلی طیاروں کو ’’مضطرب‘‘ کر دیا اور کچھ دستے پسپا ہو گئے۔ اس سے ایک روز قبل حوثیوں نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے اسرائیل پر چار ڈرون حملے کیے، جن میں تین نے جنوبی اسرائیل کے ایلات کے رامون ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا۔ اسرائیل نے اس کے جواب میں نہ صرف الحدیدہ بلکہ صنعا اور دیگر شہروں پر بھی بمباری کی، جن میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے واضح کیا کہ یہ حملے حوثیوں کے بڑھتے ہوئے ڈرون اور میزائل حملوں کے ردعمل میں کیے گئے ہیں۔ ادھر حوثیوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے اور اُن کے ہدف میں اسرائیل سے وابستہ تمام جہاز شامل ہوں گے، چاہے ان کا تعلق کسی بھی ملک سے ہو۔یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب غزہ میں اسرائیلی جنگِ ابادہ میں شہداء کی تعداد 65 ہزار کے قریب اور زخمیوں کی تعداد ایک لاکھ 65 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، جن میں اکثریت عورتوں اور بچوں کی ہے۔ اس کے علاوہ اسرائیلی محاصرہ اور بمباری سے غذائی قلت کے نتیجے میں سینکڑوں فلسطینی، بالخصوص بچے، موت کا شکار ہو چکے ہیں۔یوں اسرائیل اور حوثیوں کے درمیان یہ براہِ راست تصادم نہ صرف یمن بلکہ پورے خطے میں ایک نئے محاذ کے کھلنے کی علامت ہے، جس کے نتیجے میں بحیرۂ احمر کی سلامتی اور عالمی تجارتی جہازرانی بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔

🚨 *سپین کا بڑا فیصلہ: اسرائیل کے ساتھ 825 ملین ڈالر کا اسلحہ معاہدہ منسوخ*“`حکومت اسرائیل کے ساتھ اسلحے کی خرید و فروخت پر مکمل قانونی پابندی عائد کرے گی،سپینش وزیراعظم““معاہدہ 12 SILAM راکٹ لانچر سسٹمز کی خریداری پر مشتمل تھا 🚨 پنجاب میں سیلاب سے اموات 112 تک جا پہنچی، متاثرین 47 لاکھ تک پہنچ گئے، پی ڈی ایم اےپنجاب کے تمام دریا اپنے ہیڈورکس پر معمول کے مطابق بہہ رہے ہیں، پی ڈی ایم اے

🚨‏وزیراعظم شہباز شریف نے ترک صدر کی طرف سے تحفے میں ملنے والی الیکٹرک کار توشہ خانہ میں جمع کرا دی۔۔!!🚨 ‏صدر زرداری نے بنگلہ دیشی ہائی کمشنر کی جانب سے تحفے میں ملنے والا لیڈیز سوٹ اور بیڈ شیٹ توشہ خانہ میں جمع کرا دی۔۔!!🚨 ‏مریم نواز نے مدینہ کے گورنر کی جانب سے تحفے میں ملنے والی جائے نماز توشہ خانہ میں جمع کرا دی۔۔!!🚨 ‏فیلڈ مارشل سید عاصم مُنیر نے ترک صدر کی جانب سے ملنے والا ٹی سیٹ توشہ خانہ میں جمع کرا دیا۔۔!!

پرانے وقتوں کی بات ہے ایک نوجوان کی شادی ایک دور افتادہ گاؤں میں ہو گئی۔ بیچارے کو کسی ہنر یا کام کی خبر نہیں تھی، ہاں البتہ اس کے گھر کے سامنے ایک لوہار کی دکان ضرور تھی جہاں وہ اکثر جا کر بیٹھ جاتا۔ کئی بار دل میں سوچتا، “یہ بھلا کون سا مشکل کام ہے؟ تھوڑی سی محنت سے میں بھی یہ سب کر سکتا ہوں۔”شادی کے بعد جب وہ سسرال گیا تو وہاں کے لوگ ایک کلہاڑا بنوانے کا ارادہ کر رہے تھے۔ داماد کو جیسے ہی خبر ملی، فوراً سینہ تان کر اعلان کر دیا:”کلہاڑا تو میں خود بنا لوں گا! اس کام کی مجھے اچھی خاصی سمجھ ہے۔”سسرالی خوشی سے پھولے نہ سمائے کہ چلو داماد ہنر مند نکلا۔ اس کی خواہش پر خام لوہا منگوایا گیا اور آگ بھڑکا دی گئی۔داماد نے بڑے جوش و خروش سے لوہا گرم کیا اور بار بار ہتھوڑا چلا کر کلہاڑا بنانے کی کوشش کی۔ مگر نتیجہ کچھ نہ نکلا۔ الٹا آدھا لوہا برباد ہو گیا۔ غصے اور شرمندگی کے مارے پسینے پسینے ہو گیا اور بولا:”اصل میں ایک خاص تکنیکی خرابی آ گئی ہے، اس لیے فی الحال کلہاڑا تو نہیں بن سکتا، البتہ میں آپ کو ایک بڑا ٹوکہ بنا دیتا ہوں۔”یوں کلہاڑا ٹوکے تک، ٹوکہ چھری تک اور چھری چاقو تک آ پہنچی۔ آخر کار جب کچھ نہ بن پایا تو داماد صاحب نے ہتھیار ڈال دیے۔ پسینہ پونچھتے ہوئے گہری سانس لی اور کہا:”بھائیو! آپ کے لوہے سے صرف شُررررر ہی بن سکتی ہے۔”سسرالی حیران ہو کر بولے:”یہ شُررررر کیا بلا ہے؟”داماد مسکرایا اور بولا:”ابھی سمجھاتا ہوں بلکہ دکھاتا ہوں۔”اس نے دوبارہ لوہا آگ پر رکھا اور اچھی طرح تپنے کے بعد اس پر پانی انڈیل دیا۔ فوراً ایک لمبی سی آواز گونجی:”شُرررررررر!”سسرالی ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہ گئے اور داماد فاتحانہ انداز میں ہنس کر بولا:”لو جی، اپنا کام مکمل ہوا۔ اب اجازت دیں، گاؤں میں بھی کئی کام میرا انتظار کر رہے ہیں۔”

ھای کورٹ اسلام آباد کے جج جسٹس جہانگیری کو کام سے روک دیا گیا۔۔چیف جسٹس ان ایکشن۔۔ھای کورٹ اسلام آباد نے چئیرمین پی ٹی اے کو برطرف کر دیا۔میجرجنرل کی برطرفی۔۔ھای کورت اسلام آباد نے چئیرمین نادرا لیفٹیننٹ جنرل منیر افسر کی تعیناتی کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔۔جسٹس ستار نے جنرل کو چارج شیٹ کر دیا کیا چئیرمین پی ٹی اے عھدے کا چارج چھوڑے گئے اسلام آباد ھای کورٹ ان ایکشن۔۔اسلام آباد بادبان ای پی ای نیوز ایجنسی رپورٹ سھیل رانا لائیو

اسٹیٹ بینک شرح سود 11 فیصد پر برقرار۔۔غیر قانونی طور پر سمندر کے ذریعے جانے والے 31 جوان گرفتار۔۔عرب امارات نے عمان کو 42 رنز سے شکست دے دی۔مون سون بارشوں اور سیلاب سے 9921 افراد جاں۔۔پی سی بی کا میچ ریفری کو ایشیا کپ سے ہٹانے کا مطالبہ، اے سی سی کی جانب سے بھی بھارتی ٹیم پر جرمانے عائد کیے جانے کا امکان۔۔دوحہ کانفرنس کا جنازہ زرا دھوم سے۔۔افواج پاکستان میں دھشت گردی کے خلاف شھادتوں کا سلسلہ جاری افواج پاکستان ماں دھرتی پر قربانیاں جاری رکھے ہوئے۔۔بلوچستان میں کیپٹن وقار نائیک جنید نائیک عظمت لانس نائیک خان محمد اور سپاہی ظھو ماں دھرتی پر قربان۔۔مری ھوی عوام پر ڈیزل بم گرا دیا گیا۔۔مقبول گوندل نے اڈیٹر جنرل کے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

پیر سوہاوہ اسلام آباد Kpkبارڈر پر 50 کروڑ روپے کی لاگت سے نیا “چیف منسٹر ہاؤس” تعمیر کرنا عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے. یہ کل تک گورنر ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے اور سادگی کے دعوے کرتے تھے، لیکن آج وہ یونیورسٹیوں کو بند کرکے اپنی عیاشیوںکیلیے اڈے تعمیر کر رہے ہیں۔کے پی کے میں سینکڑوں لوگوں کے گھر سلاد میں بہہ گئے انہیں چھت مہیا کرنے کی بجائے اپنے لیے یہ عیاشی کا محل بنانے کے دو ہی مقاصد ہیںشہر سے دور اپنی خفیہ رنگین محفلوں کے لیے پرتعیش اڈا قائم کرنا۔اسلام آباد پر”چڑھائی”کے لیے ایک محفوظ جمپ آف پوائنٹ بنانا

دوحہ سمٹ کا اعلامیہ روزنامہ پوسٹ انٹرنیشنل بادبان میگزین رپورٹ سھیل رانا چیف ایگزیکٹو بادبان ٹی وی دوحہ میں پیر 15 ستمبر کو منعقدہ ہنگامی عرب اسلامی سربراہی اجلاس نے اپنے مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل کے حالیہ حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے قطر کی خودمختاری پر کھلا حملہ اور عالمی قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ قطر پر یہ جارحیت دراصل غزہ میں جنگ بندی کے لیے جاری ثالثی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔

اجلاس نے دوحہ کے ساتھ مکمل یکجہتی اور اس کے ہر ممکنہ جوابِی اقدام کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا۔سمٹ نے زور دیا کہ ایک غیر جانب دار ثالثی مرکز کو نشانہ بنانا امن کی ہر کوشش کو ناکام بنانے کے مترادف ہے۔ اجلاس نے قطر کے بردبار اور دانشمندانہ کردار کی تعریف کرتے ہوئے اس کے ساتھ مصر اور امریکا کی جاری ثالثی مساعی کو اہم قرار دیا۔ اعلامیے میں اسرائیل کی رکنیت معطل کرنے کے لیے اقوام متحدہ میں مشترکہ لائحہ عمل اپنانے اور بین الاقوامی فوجداری عدالت کے جاری کردہ وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد کی اپیل کی گئی

۔اعلامیے میں اسرائیلی دعووں اور توجیہات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ محاصرے اور بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنا جنگی جرم ہے۔ کسی بھی ممکنہ اسرائیلی فیصلے کے تحت فلسطینی علاقوں کے انضمام یا جبری ہجرت کی سخت مذمت کی گئی اور عالمی برادری سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا گیا تاکہ قطر، غزہ، مغربی کنارے اور خطے کے دیگر ممالک پر مسلسل جارحیت کا سلسلہ روکا جا سکے۔سربراہ اجلاس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں حالیہ “اعلانِ نیویارک” اور دو ریاستی حل کی توثیق کا خیر مقدم کیا اور اس بات پر زور دیا کہ مشرقِ وسطیٰ کو ایٹمی اور تباہ کن ہتھیاروں سے پاک علاقہ بنایا جائے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل اسرائیلی فضائی حملے میں دوحہ میں موجود ح۔م۔ اس کے رہنما خلیل الحیہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی جس میں وہ تو بچ گئے، تاہم ان کے دفتر کے سربراہ جہا۔د لبد، ان کے بیٹے ہمام الحیہ اور تین ساتھی جاں بحق ہو گئے۔ اس حملے نے عرب و اسلامی دنیا کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بھی شدید ردعمل کو جنم دیا، جبکہ قطر نے اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے جواب دینے کا حق محفوظ رکھا ہے۔

ریٹائرمنٹ—-جب ہمارے ہم عصر یونیورسٹی کے لانوں اور کیفے میں عہدو پیماں کر رھے تھے ، ہم پی ایم اے میں، ایبٹ آباد کی پہاڑیوں کو ماپ رھے تھے – جب دنیا دیکھنے کی عمر تھی ہم ریگستانوں میں دشمن کے متوقع راستوں کا جائزہ لے رھے تھے- ملک کا چپّہ چپہ ناپا، کہیں ٹینٹ ملا، کہیں بنکر ، کہیں MOQ کہیں BOQ- الحمدللہ، چالیس سے تھوڑا ہی اوپر گئے ہونگے جب گھر جانے کا وقت آ گیا-فوج نے پنشن بک پکڑائی اور ساتھ ایک یادگاری شیلڈبھی اور ہمیں خدا حافظ کہ دیا –

ہم قیمتی یادیں لئے گھر پہنچے تو بچے لان میں ٹی وی پر چلنے والے پرانے زمانے کے مشہور اشتہاری فلوں کے گانے گا رکھے تھے ، ” صبح بناکا، شام بناکا، صحت کا پیغام بناکا”- بچے ہمیں دیکھ کر خوش ہوئے اور بھاگتے ہوئے گلے سے لگ گئے- ہم نے بیگ اور بستر بند ایک طرف رکھا اور بچوں کے ساتھ مل کر ایک اور اشتہاری گانا گانے لگے ” ابّو آ گئے” – بیگم نے شور سن کر کچن سے منہ نکالا کہ دیکھوں یہ شور کاھے کا ھے، باھر لان میں-ہمیں دیکھا تو حیران رہ گئی – کھڑکی میں سے ہی سوال داغ دیا، ” آپ کب آئے”؟ ہم نے بھی ریٹائرمنٹ والے موڈ میں جواب دیا ” پہنچے تو ابھی ہیں لیکن واپس نہ جانے کے لئے”-

محترمہ ہکاّ بکاّ رہ گئیں اور اگلا سوال داغا “ہائے اللہ، کیا ھوا، فوج نے نکال دیا کیا؟”- ہم زیر لب مسکرائے اور ریٹائرمنٹ کے بعد بیگم کو اپنا پہلا انٹرویو دیتے ہوئے فرمایا کہ “نکالا نہیں ، ہم ریٹائر ہو کر عزّت سے گھر واپس آئے ہیں- اب ہم جو دل کرتا ھے کریں گے- بیگم ہمارے ” جو دل کرتا ہے کریں گے” پر زیر لب سا مسکرائیں ، جیسے کہ رہی ھوں ” دیکھتے ہیں “- ہم نے بھی دھماکا کیا، خوشخبری سنائی “لیکن ہمیں یہ گھر اگلے چند مہینوں بعد خالی کرنا ھو گا؟”- بیگم کا اگلا سوال بالکل مناسب تھا، ” پھر ہم جائیں گے کہاں ؟”- بیگم کو پہلی دفع حالات کی سنگینی کا اندازہ ہوا اور چہرے سے ہوائیاں اڑتی نظر آئیں –

” اور پھر گھر کیسے چلے گا، آپ کو تو آتا بھی کچھ نہیں، سوائے حکم چلانے کے؟”- یہ سوال سے زیادہ ہمارے اوپر تبصرہ تھا – ان کے خدشات اور غصّہ اب آپس میں گڈ مڈ ہو چکے تھے اور ابھی ہم ریٹائر منٹ کے بعد گھر داخل نہیں ہوئے تھے- تجزیے اور appreciation کرتے عمر گزری تھی ،ہم اندازہ لگا چکے تھے کہ ہماری زندگی تبدیل ہونے جا رہی ہے- ذرا غور کیا تو بیگم نے جو طنز کیا تھا اس میں سچائی تو ھے ” ہمیں آتا تو کچھ ہے نہیں”- اب فوجی یادوں کے سہارے کچن تو چلنا نہیں اور بچوں نے تو ابھی یونیورسٹیوں میں بھی جانا ہے، وغیرہ وغیرہ- پنشن صرف اتنی تھی کہ بیگم زیادہ سے زیادہ مہینے کا پہلا ھفتہ چپ رہ سکتی تھیں -خیر بستر بند اٹھا کر گھر میں داخل ہوئے اور خوشی خوشی کمرے میں جا کر بستر پر دھڑام سے گر سے گئے اور سرگوشی کی ” میں آ گیا ھوں ، واپس نہ جانے کے لئے”- ایسے لگا، بستر نے کہا ہے ” جی آیاں نو”- خیر ریٹائرمنٹ شروع ہو گئی- ہم نے ریٹائرمنٹ کے پہلے دن ، پودوں کو پانی دیا، اخبار پڑی، شام کو واک کی ، ٹی وی پر سیاسی بحث سنی-

ہمیں سب کچھ نارمل سے بھی نارمل لگا- لیکن جب جب پہلی پنشن لے کر گھر پہنچے تو سمجھ آئی کہ سب کچھ نارمل نہیں ہے- پنشن بیگم کے ہاتھ پر رکھی تو ، نہ انہیں حقیر سی پنشن کی رقم اچھی لگی اور نہ ہی ہماری شکل – ہماری یونیفارم کے جانے کا بیگم کو اتنا دکھ نہیں تھا جتنا” بیٹ میں” کے چلے جانے کا- کچن کا سارا بوجھ اب بیگم کے کندھوں پر آن پڑا تھا-بیٹ مین فوجی افسر کی زندگی میں ریڑھ کی ھڈی کی حیثیت رکھتا ھے- بس ادھر سے ہی ہمارا paradox شروع ہوا- ریٹائرڈ کرنل صاحب حقیقت میں اب صرف ” اخبار کے قاری” بن چکے تھے – وقت گزارنے کے لئے ہمیں اب ہر قسم کے بیکار کالم بھی پڑھنے پڑتے تھے- فوج کے حساب سے ہم ویٹڑن ہو چکے تھے، زمانے کے حساب سے ہم غیر ھنر مند ہونے کے ساتھ ساتھ اوور ایج بھی تھے- ذاتی رائے میں ہمارے اندر ابھی بہت صلاحیت تھی، جس سے ملک کو فائدہ اٹھانا چاہیے تھا – ایک پرائیویٹ فرم میں نوکری کے لئے انٹرویو دینے گئے تو وہاں ہم نے یہ فقرہ بول دیا کہ ” ہمارے اندر بہت صلاحیت ھے”- انٹرویو لینے والوں میں سے ایک افسر نے پوچھا، جی جی ، ضرور بتائیں کس شعبے میں ھے آپ کی مہارت- اور تو کچھ سمجھ نہ آئی تو کہہ دیا کہ ہماری دو سالانہ کارکردگی رپورٹوں جنہیں ہم اے سی آر کہتے ہیں اس میں برگیڈ کمانڈر نے لکھا تھا ” Officer has lot of potential “ – ہم نے انٹرویو لینے والوں کو آدھا فقرہ بتایا- اگلا حصہ نہیں بتایا جس میں کمانڈر نے لکھا” Provided he uses it also “-پہلے انٹرویو کے بعد یکے بعد دیگرے متعدد انٹرویو دیئے لیکن وہ سب ہمارے potential کو پک نہ کر پائے-‎وہی پھر زیر اور پیش والا معاملہ ہمارے ساتھ پیش آیا، نہ اِدھر کے رہے، نہ اُدھر کےنوکری کا نہ ھونا، بیٹ مین کا جانا، معصوم سی پنشن ؛ ہمیں پہلی دفع اندازہ ہوا کہ وہ جو اخبار میں اکثر لکھا ھوتا ھے کہ ” ملک نازک صورتحال سے گزر رھا ھے” اس کا مطلب کیا ھے-

دوحہ کانفرنس بے نتیجہ ختم ایک اور اسرائیلی حملے کے بعد جواب دیا جاے گا۔وزیر اعطم کی محمد بن سلمان مصری صدر اور اردن کے شاہ سے ملاقات۔۔فوٹو سیشن کا کامیاب آپریشن۔۔دوحہ کانفرنس ختم تمام نظریں فیلڈ مارشل عاصم منیر پر۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

دوحہ سمٹ کا اعلامیہ دوحہ میں آج پیر 15 ستمبر کو منعقدہ ہنگامی عرب اسلامی سربراہی اجلاس نے اپنے مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل کے حالیہ حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے قطر کی خودمختاری پر کھلا حملہ اور عالمی قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ قطر پر یہ جارحیت دراصل غزہ میں جنگ بندی کے لیے جاری ثالثی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔ اجلاس نے دوحہ کے ساتھ مکمل یکجہتی اور اس کے ہر ممکنہ جوابِی اقدام کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا۔سمٹ نے زور دیا کہ ایک غیر جانب دار ثالثی مرکز کو نشانہ بنانا امن کی ہر کوشش کو ناکام بنانے کے مترادف ہے۔ اجلاس نے قطر کے بردبار اور دانشمندانہ کردار کی تعریف کرتے ہوئے اس کے ساتھ مصر اور امریکا کی جاری ثالثی مساعی کو اہم قرار دیا۔

اعلامیے میں اسرائیل کی رکنیت معطل کرنے کے لیے اقوام متحدہ میں مشترکہ لائحہ عمل اپنانے اور بین الاقوامی فوجداری عدالت کے جاری کردہ وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد کی اپیل کی گئی۔اعلامیے میں اسرائیلی دعووں اور توجیہات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ محاصرے اور بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنا جنگی جرم ہے۔ کسی بھی ممکنہ اسرائیلی فیصلے کے تحت فلسطینی علاقوں کے انضمام یا جبری ہجرت کی سخت مذمت کی گئی اور عالمی برادری سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا گیا

تاکہ قطر، غزہ، مغربی کنارے اور خطے کے دیگر ممالک پر مسلسل جارحیت کا سلسلہ روکا جا سکے۔سربراہ اجلاس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں حالیہ “اعلانِ نیویارک” اور دو ریاستی حل کی توثیق کا خیر مقدم کیا اور اس بات پر زور دیا کہ مشرقِ وسطیٰ کو ایٹمی اور تباہ کن ہتھیاروں سے پاک علاقہ بنایا جائے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل اسرائیلی فضائی حملے میں دوحہ میں موجود ح۔م۔ اس کے رہنما خلیل الحیہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی جس میں وہ تو بچ گئے، تاہم ان کے دفتر کے سربراہ جہا۔د لبد، ان کے بیٹے ہمام الحیہ اور تین ساتھی جاں بحق ہو گئے۔ اس حملے نے عرب و اسلامی دنیا کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بھی شدید ردعمل کو جنم دیا، جبکہ قطر نے اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے جواب دینے کا حق محفوظ رکھا ہے۔

قطر میں اسلامی وزرائے خارجہ کا اجلاس مکمل طور پر ناکام ٹاسک فورس بنای جاے پاکستان آپریشن روم بنایا جائے ایران کٹھرے میں لایا جائے سعودی عرب۔۔کسی اسلامی ملک نے نھی کھا کہ 6 اسلامی ممالک پر حملے کرنے والے اسرائیل کو نیست نابود کر دیا جائے۔۔اسلامی ممالک اسی تنخواہ پر کام کرتے رھے گئے اور اپنی باری کا انتظار کرینگے پوسٹ انٹرنیشنل رپورٹ سھیل رانا دوحہ۔۔شکست کا ذمہ دار کون کھلاڑی سلیکٹر یا چئیرمین پی سی بی۔۔پاکستانی فورسز کا ٹی ٹی پی کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن شروع۔۔کے پی میں بڑا آپریشن۔۔۔؟ دہش تگردوں کے خلاف کتہ مھم۔۔قطر نے بدلہ نہ لیا تو قطر کی تاریخ لکھی جاے گی۔ ۔راحیل شریف کی فورس کھا ھے۔۔۔ اسرائیلی حکومت نے 30 صحافی یوٹیوبر 100 بیورو کریسی کے افسران 21 سیاست دان اور عسکری ریٹائرڈ افسران خرید لئے۔۔ تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

اسلامی ممالک اسی تنخواہ پر کام کرتے رھے گئے اور اپنی باری کا انتظار کرینگے پوسٹ انٹرنیشنل رپورٹ سھیل رانا دوحہ۔۔کسی اسلامی ملک نے نھی کھا کہ 6 اسلامی ممالک پر حملے کرنے والے اسرائیل کو نیست نابود کر دیا جائے۔۔ٹاسک فورس بنای جاے پاکستان آپریشن روم بنایا جائے ایران کٹھرے میں لایا جائے سعودی عرب۔۔قطر میں اسلامی وزرائے خارجہ کا اجلاس مکمل طور پر ناکام۔۔راولپنڈی: کار اور ٹرک میں خوفناک تصادم، میاں بیوی سمیت خاندان کے 3 افراد جاں بحق۔وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان 3 روزہ دورے پر ایر_ان پہنچ گئے (35) فتنہ الخوارج میں پے در پے ناکامیوں کے بعد اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گی۔موجودہ حکومت کے 16 ماہ کے دوران قرضوں میں 13 ہزار 78 ارب روپےکا اضافہ۔94 ہزار 197 ارب قرضے کے ساتھ ملک ترقی کر رہا ھے۔اسٹیٹ بینک کی رپورٹ اپریل 2022 میں مجموعی قرض 44 ہزار ارب تھا تو ملک دیوالیہ ھو رہا تھا اور اب 94 ہزار 197 ارب ھے تو ملک ترقی کر رہا ھے۔اسلام آباد ایجنسی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مھنگای دھشت گردی اور کرپشن کا بول بالا ہے۔پاکستان تاریخ کے بدترین بحران کا شکار ھر طرف کھربوں روپے کی کرپشن جاری۔۔اسٹیٹ بینک کی رپورٹ اپریل 2022 میں مجموعی قرض 44 ہزار ارب تھا تو ملک دیوالیہ ھو رہا تھا۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

انٹر یونیورسٹی کلبز ٹین پن باؤلنگ چیمپئن شپ 27 ستمبر کو کھیلی جائے گی۔اسلام آباد اسلام آباد ٹین پن باؤلنگ ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام اور پاکستان ٹین پن باؤلنگ فیڈریشن کے تعاون سے آئی ٹی بی اے انٹر یونیورسٹی کلبز ٹین پن باؤلنگ چیمپئن شپ 27 ستمبر کو لیزر سٹی باولنگ کلب، صفا گولڈ مال، ایف سیون مرکز، اسلام آباد میں کھیلی جائے گی۔ گزشتہ روز پاکستان ٹین پن باؤلنگ فیڈریشن کے صدر اعجاز الرحمن بتایا کہ چیمپئن شپ کی تیاریاں ابھی سے شروع کر دی گئی ہیں۔ چیمپئن شپ کا مقصد گراس روٹ سطح پر ٹیلنٹ کو ابھارنا ہے اور چیمپئن شپ کو شان و شایان طریقے سے منعقد کروانے کے لئے آرگنائزنگ کمیٹی بھی تشکیل دی جائے گی

جس کا اعلان آئندہ چند روز بعد کیا جائے گا۔چیمپئن شپ میں چھ کلب حصہ لیں گے جن کو دو گروپوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ چیمپئن شپ کے ڈراز کا اعلان منیجرز میٹنگ کے بعد 27 ستمبر کو کیا جائے گا۔ اور چیمپئن شپ کے اختتام پر کامیابی حاصل کرنے والے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کئے جائیں گے۔ اعجاز الرحمن نے کہا کہ چیمپئن شپ میں اچھی کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کو جدید اور اعلیٰ تربیت دے کر قومی جونیئر ٹیم میں شامل کیا جائے گا۔ جو بین الاقوامی سطح پر مختلف ٹورنامنٹس میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔

افغانڈو پاکستانی پختونوں سے شدید نفرت کرتے ہیں،بھارتی فنڈنگ سے سوشل میڈیا کے جعلی اکاؤنٹس سے افغان بر” کا زہریلا پراپیگنڈہ کرتے ہیں۔عورتوں کو اسلام کے نام پر غلام بنانے والے افغان ملڑوں کی پوجا کرتے ہیں۔پختونوں کو ہاتھ پاؤں باندھ کر زبیح کرتے ہیں

*پابندی: 15 ستمبر 2025 سے پہلے نشر/شائع یا پوسٹ نہ کیا جائے**وزیراعظم محمد شہباز شریف کا جمہوریت کے عالمی دن پر پیغام* جمہوریت کا عالمی دن ہر سال 15 ستمبر کو دنیا بھر میں اقوام متحدہ کے تحت منایا جاتا ہے۔ یہ دن عالمی سطح پر جمہوریت کی نظام حکومت کے طور پر تنوع اور افادیت پر غور و فکر کا موقع فراہم کرتا ہے۔ جمہوریت بنیادی طور پر لوگوں کی آواز اور لوگوں کی نظام حکومت میں شمولیت کا نام ہے۔ پاکستان میں جمہوری نظام حکومت کے نشوونما میں 1973 کے آئین کی کلیدی اور نمایاں حیثیت ہے۔

جمہوری اداروں میں پارلیمان کو بنیادی حیثیت حاصل ہے کیونکہ یہ ادارہ عوامی و ملکی مفاد کے تحفظ کے لیے ہر طرح کی قانون سازی کرنے کا مجاز ہے.

آئین پاکستان کے تحت پارلیمنٹ اجتماعی دانش کے مطابق عوامی افادیت کے قوانین پاس کرتی ہے جس پر حکومت عمل درآمد کرتی ہے۔ 1973 کا آئین آرٹیکل 25 کے تحت پاکستان کے ہر شہری کے بنیادی حقوق کو تحفظ فراہم کرتا ہے اور انکی قانون کے سامنے برابری کو یقینی بناتا ہے۔ شہریوں کی انفرادی سطح کے علاوہ آئین پاکستان، تمام صوبوں کو برابری کی حیثیت دیتے ہوئے وفاق میں مؤثر کردار ادا کرنے کی بنیاد رکھتا ہے۔آئین پاکستان بنیادی حقوق کو نہ صرف بیان کرتا ہے بلکہ انہیں تحفظ فراہم کرتا ہے۔

آئین پاکستان تمام شعبہ ہائے زندگی بالخصوص پارلیمنٹ میں عورتوں کی شمولیت کو بھی یقینی بناتا ہے اور اقلیتوں کی نمائندگی اور انکے حقوق کے تحفظ کے لیے بھی خصوصی اقدامات ہمارے آئین میں درج ہیں، جن میں اقلیتوں کی پارلیمنٹ میں شمولیت سے لے کر انکی مذہبی آزادی کا تحفظ شامل ہے. آئین کے تحت بنیادی حقوق کا تحفظ، آزادی، سماجی برابری و برداشت، قانون کی حکمرانی اور قومی اتحاد سے کوئی بھی ملک اپنے مسائل حل کر سکتا ہے.

دنیا کا کوئی بھی ملک عصر حاضر کے چیلنجز اور مشکلات سے مؤثر طور پر نبرد آزما صرف اسی طور پر ہو سکتا ہے جب بنیادی جمہوری اصولوں کی پیروی کی جائے۔ عالمی سطح پر پاکستان اقوام متحدہ کے تحت اصولوں اور تمام عالمی معاہدوں میں جمہوری اقدار کی پاسداری اور فروغ کے لیے ہمیشہ کام کرتا رہا ہے۔

پاکستان کی جمہوری اصولوں کے فروغ کے لیے حمایت عالمی سطح پر اقوام متحدہ کے سسٹینیبل ڈیولپمنٹ گولز (SDGs) کے عین مطابق ہے جن میں امن، عدل اور مضبوط اداروں کا تحفظ شامل ہے۔ آج کے اہم دن، پاکستان اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ جمہوری اصولوں اور بنیادی حقوق کے تحفظ اور ترقی یافتہ مستقبل کی تعمیر کے لیے عوام ، ادارے اور حکومت مل کر کام کریں گے.

گڈو بیراج پر 5 لاکھ 82 ہزار کیوسک ، اونچے درجے کا سیلاب سکھر بیراج ، 4 لاکھ 38 ہزار کیوسک ، درمیانے درجے کا سیلاب۔۔جب اپنی خود مختاری کا سودا کیا جائے تو یہی حشر ہوتا ہے۔۔ سب کچھ جانتے کے لئے سھیل رانا لاءیو۔پاکستانی سیلاب کے حوالے اور اسٹاک ایکسچینج آسمان پر۔۔۔۔ کھلا تضاد۔۔وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ 96 گھنٹے سے لگاتار سیلاب زدگان میں موجود حلقہ کی عوام کا ردعمل۔ مودی کا جنگی جنون بے قابو، بھارت مزید جنگی ہتھیاروں کی خریداری میں مصروف ۔بڑے آپریشن کی تیاریاں مکمل تفصیلات کے لئے بادبان نیوز

اشرافیہ کی لامتناہی خواہشات و مراعاتاطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج صاحبان کو بھاری پنشن و دیگر مراعات کے علاوہ تین پولیس گن مین ( 8 گھنٹے ڈیوٹی فی کس ) جبکہ ہائیکورٹ کے ریٹائرڈ جج صاحبان کو باقی مراعات کے علاوہ ایک فُل ٹائم گن مین کی سیکیورٹی پہلے ہی حاصل ہے

-اگر درج ذیل نوٹیفکیشن درست ہے تو اس کے نتیجے میں ہماری سمجھ کے مطابق سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج صاحبان کو بیک وقت تین گن مین مہیا کرنے کیلئے( 8 گھنٹے فی کس ڈیوٹی کے حوالہ سے ) 9 پولیس گن مین مہیا کرنا ہونگے ۔

۔مزید یہ کہ جج صاحب کی وفات کی صورت میں انکی بیوہ کو بھی بھاری پنشن کے ساتھ اسی سطح کی سیکیورٹی تاحیات حاصل رہے گی۔۔۔

بصد معذرت ! سپریم کورٹ کا یہ حُکم انصاف ، مساوات اور عام آدمی کے تحفظ کے تقاضوں کے منافی ہے۔۔

سب کو اچھی طرح معلوم ہو جانا چاہئے کہ سیاستدانوں ، جرنیلوں اور ججوں کی لامتناہی خواہشات و مراعات کی تکمیل کا بار گراں اٹھاتے اٹھاتے پاکستانیوں کی کمر جھک چُکی ہے

یہ غریب ریاست اس ملک کی اشرافیہ کےمزید ناز و ادا اٹھانےکے قابل نہیں رہی ۔یہ سلسلسہ اب کہیں رُکنا چاہئے ۔خواجہ سعد رفیق

*مودی کا جنگی جنون بے قابو، بھارت مزید جنگی ہتھیاروں کی خریداری میں مصروف*آپریشن سندور کی ناکامی کے بعد سیاسی بحران میں ڈوبی مودی سرکار کے نت نئے حربے ناکام معرکہ حق میں پاکستان کے ہاتھوں 6 رافیل طیاروں کی تباہی کے بعد نئے طیارے بھارت کی مجبوری*بھارتی اخبار دی ٹریبیون کے مطابق؛

*انڈین ائیر فورس نے دفاعی معاہدے میں مزید 114رافیل لڑاکا طیاروں کی خریداری پر زور دیا ہے بھارتی فضائیہ نے مزید 114 رافیل طیاروں کی خریداری کی تجویز وزارت دفاع کو پیش کی،

*دی ٹریبیون* بھارتی فضائیہ ایسے طیارے چاہتی ہے جو ملٹی رول آپریشنز کے قابل ہوں،

*دی ٹریبیون*بھارتی وزارت دفاع ٹینڈر کی بجائے براہ راست فرانسیسی رافیل کا انتخاب کرے گی ، *دی ٹریبیون* جیٹ طیارے “میڈ ان انڈیا” اسکیم کے تحت ہندوستان میں بنائے جائیں گے،

*دی ٹریبیون*رافیل بنانے والی کمپنی ڈیسالٹ ایوی ایشن ایک ہندوستانی فرم کی شراکت میں ہے، *دی ٹریبیون* جس پر تقریباً 2 کھرب روپے سے زیادہ کی لاگت متوقع ہے جو بھارت کے بڑے دفاعی سودوں میں سے ایک ہو گا

،*دی ٹریبیون*طیاروں میں مختلف ہتھیار اور 60 فیصد تک دیسی مواد ہو سکتا ہے، *دی ٹریبیون* M-88 انجن بنانے والی سافران کمپنی نے حیدرآباد میں انجن مرکز کا اعلان کیا ہے،

*دی ٹریبیون* بھارتی فضائیہ کو فوری طور پر نئے جیٹ طیاروں کی ضرورت ہے، *دی ٹریبیون* نئے طیاروں کی خریداری ، پاکستان کے ہاتھوں رافیل طیاروں کی تباہی کا اعتراف ہے

مودی سرکار جنگی ہتھیاروں کی خریداری کے ذریعے عوام کا پیسہ اپنی ناکامیاں چھپانے میں لگا رہی ہے

*وزیرِ اعظم کی زیرِ صدارت متاثرہ علاقوں میں بجلی کے بِلّوں کے حوالے سے اہم اجلاس* عوام کو نئی ٹوپی۔گھر سب کچھ تمام بلز پر نئی فلم جاری تفصیلات کے لئے بادبان نیوز

*وزیرِ اعظم کی زیرِ صدارت متاثرہ علاقوں میں بجلی کے بِلّوں کے حوالے سے اہم اجلاس* عوام کو نئی ٹوپی

وزیرِ اعظم نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو سیلاب زدہ علاقوں میں صارفین سے اگست 2025 کے بجلی کے بلوں کی وصولی سے فوری طور پر روک دیا.آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات طے پانے کے بعد متاثرہ علاقوں کیلئے بجلی کے بلوں کے حوالے سے تفصیلی پیکیج کا حتمی اعلان کیا جائے گا. وزیرِ اعظمجن سیلاب متاثرہ صارفین سے اگست 2025 کا بجلی کا بل وصول کیا جا چکا ہے وہ آئندہ ماہ ایڈجسٹ کردیا جائے گا. وزیرِ اعظم کی ہدایت.سیلاب نے پورے پاکستان میں لاکھوں لوگوں کو متاثر کیا ہے. وزیرِ اعظممشکل کے اس وقت میں عوام کے دکھوں پر مرحم رکھنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں. وزیرِ اعظممتاثرین کے ریسکیو و بحالی کیلئے وفاقی و صوبائی ادارے اپنی تمام تر کوششیں کر رہے ہیں اور جب تک سیلاب متاثرین اپنے گھروں میں واپس نہیں چلے جاتے ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے. وزیرِ اعظم