**وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیف آف آرمی اسٹاف کا دورہ بنوں وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل نے دہشت گردی سے متعلق اہم اور اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کی، سیکیورٹی ذرائع وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل نے جنوبی وزیرستان آپریشن میں 12 بہادر شہداء کی نماز جنازہ میں بھی شرکت کی، سیکیورٹی ذرائع دہشت گردی کا بھرپور جواب جاری رہے گا اور اس میں کسی قسم کا کوئی ابہام برداشت نہیں کیا جائے گا،
وزیر اعظم پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے دہشت گردوں کے سرغنہ اور سہولت کار افغانستان میں ہیں اور ان کی پُشت پنائی ہندوستان کر رہا ہے، سیکیورٹی ذرائع افغانستان کو واضح کر دیا گیا ہے کے خارجیوں اور پاکستان میں سے ایک کا انتخاب کر لیں، وزیر اعظمدہشت گردی کے واقعات میں افغان باشندے شامل ہیں جو افغانستان سے پار آ کر پاکستان میں دہشت گردی کر رہے ہیں۔
غیر قانونی طور پر پاکستان میں مقیم افغان باشندوں کا جلد انخلا انتہائی اہم ہے پاکستانی قوم دہشت گردی کے معاملے پر سیاست اور گمراہ کن بیانیے کو مکمل طور پر رد کرتی ہے،
وزیر اعظم جو بھی خارجیوں اور ہندوستان کی دہشت گرد پراکسیوں کی سہولت کاری اور معاملہ فہمی کی بات کرتا ہے وہ انہی کا اعلیٰ کار ہے اور اُسے بھی اسی زبان میں جواب دیا جائے گا
جس کا وہ حق دار ہے، وزیر اعظم پاکستان اور بالخصوص خیبر پختونخوا کے غیور عوام، ریاست اور افواج پاکستان کے ساتھ ملکر ہندوستان کی ان پراکسیوں کے خلاف بنیان مرصوص کی طرح متحد ہیں، وزیر اعظمدہشت گردی کے خلاف مزید مؤثر جواب دینے کے لئے جو ضروری انتظامی اور قانونی اقدامات کرنے پڑے وہ فوراً کریں گے –
وزیر اعظموزیر اعظم اور فیلڈ مارشل نے بنوں CMH میں زخمیوں کی عیادت بھی کی پشاور کے کور کمامڈر نے علاقے کی سیکورٹی صورتحال پر تفصیلاً بریف کیا وزیر اعظم کا چیف آف آرمی اسٹاف نے بنوں کنٹونمنٹ میں استقبال کیا
شہباز رانا پر مقدمہ ۔اظہر سیدرپورٹر بھی ختم اور صحافت بھی گئی تیل لینے ۔یہ دور جھوٹ بولنے والے یو ٹیوبرز کا ہے۔قحط الرجال کے اس دور میں نجی چینلز پر بیٹھ کر اپنی اپنی پارٹیوں سے پیسے پکڑ اکر لوگوں کو گمراہ کرنے کا وقت ہے۔جھوٹ کے اس بازار میں چند ہی باقی ہیں جو صرف صحافت کرتے ہیں۔ان میں ایک معاشی معاملات کی رپورٹنگ کرنے والے شہباز رانا بھی ہیں۔یہ نوجوان پندرہ اٹھارہ برس پہلے ہمارے سامنے بطور رپورٹر ایک انگریزی اخبار میں آیا ۔مختصر عرصہ میں اس نے اپنی پہچان بنا لی۔ہمیں شہباز رانا پر فرد جرم عائد ہونے سے زیادہ افسوس نائب وزیراعظم اسحاق ڈار پر ہے۔وہ اس نوجوان کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔اس بات سے بھی واقف ہیں یہ صرف صحافی ہے ۔مالکوں سے مال پانی کمانے والے ہنر مندوں ایسا نہیں۔یہ سیاسی جماعتوں کا ایجنڈہ بڑھانے والوں میں سے بھی نہیں ۔
اسکی کوئی سیاسی وابستگی ہو گی ۔ہر شہری کی ہوتی ہے لیکن شہباز رانا کی رپورٹنگ پر کسی پسند ناپسند کی کوئی جھلک نظر نہیں آتی ۔ویسے بھی کامرس رپورٹر کے پاس صرف اعداد و شمار ہوتے ہیں اور کچھ نہیں۔جن پر جھوٹ پھیلانے کے مقدمات ہونا چاہیں وہ تو دن دگنی ترقی کر رہے ہیں ۔جو صرف صحافت کر رہے ہیں ۔صحافتی اخلاقیات کا پالن کر رہے ہیں ان پر مقدمے قائم کر دئے گئے ہیں۔اسحاق ڈار متعدد مرتبہ وزیر خزانہ رہ چکے ہیں ۔وہ دارالحکومت میں معاشی بیٹ کرنے والے تمام رپورٹر ندیم ملک ،ابصار عالم،خلیق کیانی ،شہباز رانا سب کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔نائب وزیراعظم شہباز رانا کے معاملہ پر وزیراعظم سے بات کریں اور اس معاملہ کو نپٹائیں۔
ایک بہت ہی بڑے منہ کی چھوٹی باتیں ================شاہد اقبال کامران ===============پاکستان میں ضیاء الحق کے تاریک ترین مارشل لاء میں منتخب وزیراعظم کو نظر بند اور پھر ایک تراشیدہ مقدمہ قتل میں ملوث کرنے کے جرم قبیح کی نفسیات پر غالب آنے کے لیے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف بد ترین کردار کشی کی مہم چلائی گئی۔کردار کشی کی یہ مہم پاکستان کی تاریخ کی سب سے بری اور سب سے بڑی مہم تھی۔ویسے تو پاکستان میں جب بھی سیاستدانوں کے خلاف کردار کشی کی مہم لانچ کی جاتی ہے تو بقول احمد فراز ؛ تمام صوفی و سالک، سبھی شیوخ و امامامید لطف پہ ایوانِ کج کلاہ میں ہیںبس اک مصاحب دربار کے اشارے پرگداگران سخن کے ہجوم سامنے ہیںاور پھر گداگرن سخن کے یہ ہجوم اپنے ممدوح کو خوش کرنے کے لیے اس حد تک چلے جاتے ہیں ،جسے بہرحال سرحد قرار نہیں دیا گیا ہوتا۔
پاکستان میں مارشل لاء کے بانی جنرل ایوب خان کے حضور بھی تمام صوفی و سالک اور گداگران سخن ہاتھ باندھے حالت رکوع میں رہتے تھے۔اردو ادب اور اردو صحافت کے متعدد بڑے نام اسی دور میں بڑے ہوئے تھے۔ڈکٹیٹر ضیاء الحق کو بھی اسیران حرص و ہوس ،مدیران بے ضمیر اور سخن وران بے توقیر کے ہجوم میسر تھے۔یہ گداگران سخن بھی رمز شناس لوگ ہوتے ہیں۔صاحب کے دل میں چھپی ہلکی سی آرزو کو طلب کا اژدہا بنانا ان پر ختم ہے ۔نفرت کی چنگاری کو بھڑکتے شعلوں میں بدلنا ان کا ہنر ہے، فضا میں خوف کا ہیولہ بنا کر اسے ایک عفریت کی صورت سامنے کھڑا کر دکھانا ان کا فن ہے۔ چند روز پیشتر ایک نمایاں اردو اخبار کے ایک عمر رسیدہ، نرم نرم چشیدہ اور گرگ باران دیدہ قسم کے کالم نگار نے شہید وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو بہ عنوان دیگر موضوع بنایا ہے ۔ گویا ” اب تو بھٹو کی جاں بخشی کردیں! ” کے زیر عنوان لکھے کالم میں شہید وزیراعظم کے خلاف طویل ہرزہ سرائی کرنے والی ٹیم کا گرم جوش رکن اور جواب میں انعام واکرام سے فیض یاب ہونے والے گروہ کا سب سے نمایاں اور نمائندہ کردار اب عمر کے سنجیدہ اور رنجیدہ حصے میں کچھ معافی تلافی کا منظر تشکیل دینے کی کوشش کر رہاہے۔ اسے تو زود پشیمانی کی ذیل میں قیاس بھی نہیں کیا جا سکتا ،کہ موصوف نے اپنے اس کالم میں اپنی عظمت بیان کرنے کے لیے اس زمانے کی ایک فورس ایف ایس ایف کے سربراہ مسعود محمود سے اپنے نام ایک دھمکی کی ترسیل بذریعہ وقار انبالوی بیان کی ہے ۔
حضرت نے دھمکی کے جواب میں مزید تند و تیز کالم لکھنے کا دعوی بھی کیا ہے۔اب اس بات کا جواب تو مسعود محمود ہی دے سکتے ہیں کہ انہوں نے نوائے وقت کی روزن دیوار سے دین و دنیا کو دیکھنے والے ایک کشادہ دہن کالم نگار کو کس بات پر بزرگ وقار انبالوی کے ذریعے دھمکی دی تھی۔قیاس چاہتا ہے کہ یہ بات صرف کمپنی کی مشہوری کے لیے بیان کی گئی ہے ۔ امر واقعہ یہ ہے کہ دھمکی دینے والا شہید بھٹو کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن کر ان کے عدالتی قتل کا حصہ بنا، اور دھمکی وصول کرنے والا گزشتہ چالیس سال سے بھٹو مخالفت کا پھل کھاتا چلا آ رہا ہے ۔موصوف نواز شریف کی دوستی کے نام پر کالج میں برق رفتار ترقی پا کر سفیر پاکستان ہوئے، ادبی افق پر جگمگانے کے لیے شاعر بھی بنے، پی ٹی وی کے چئیرمین بھی رہے، جسے سپریم کورٹ نے خلاف قانون قرار دیتے ہوئے اس عہدے پر وصول کی گئی تنخواہیں مع مراعات واپس کرنے کافیصلہ بھی کیا۔اب اس پس منظر کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے بھٹو کی لغزشیں معاف کرنے کی دعا کرنے والے کی نیت کو کون کس ترازو پر تول سکتا ہے؟ معزز سینئر ترین کالم نگار نے نوائے وقت کے افق پر ظہور کیا تھا ، اور موقع مناسب دیکھتے ہی انہیں مجید نظامی مرحوم کے تصرف سے نکال کر حوالہ جنگ کر دیا گیا ، جنگ میں پیسہ بھی زیادہ ملنے لگا اور حلقہ قارئین میں بھی وسعت آئی۔مروج لطایف و ظرایف کو اپنے کالم کا حصہ بنا کر مزاح پیدا کرنا ان کا خاص ہنر ہے اور یہی ان کی مقبولیت کا سبب بھی ہے ۔لیکن اپنی مقبولیت کو اپنےمعاشی مفادات کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ان کا خاص فن ہے۔ضیاءالحق دور کے یہ واحد فنکار نہیں ہیں جنہوں نے اس کی پراپیگنڈہ مشین کا پرزہ بن کر فواید سمیٹے۔ملک میں راضی بہ رضا رہنے پر آمادہ کرنے والا تصوف ہو یا بے معنی و بے سمت محبت کے پھیلاؤ کے گیت ہوں ، طویل مکالمے بولنے والے بابوں کے ٹی وی ڈرامے ہوں یا پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کے قائد ذوالفقار علی بھٹو اور ان کے اہل خانہ پر طنز کی نیزہ بازی کرنے والے کالم نگار ہوں، سب کچھ اس تاریک دور کے مقبول و محبوب مطلوب سلسلے تھے۔ان ضیائی سلسلوں سے متعلق تمام لوگوں نے جنرل ضیاء الحق کے معنوی فرزند نواز شریف کے تینوں ادوار میں دل ، دماغ اور جسم کھول کر خوب عیش کئیے۔
نہ صرف یہ بلکہ یہی جانباز شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی کردار کشی کرنے ، ان کے بارے میں لطائف گھڑنے اور پھیلانے ، ان کی تصاویر کو اجنبی تصاویر کے ساتھ آمیز کر کے تقسیم کرنے والے جتھوں کا ہراول دستے بھی تھے۔پاکستانی تاریخ میں سب سے زیادہ عرصہ سرکاری اداروں میں چھائے رہنے والے یہی لوگ ہیں ان کے اختیار و اقتدار کا دور آج بھی تمام نہیں ہوا ۔آج بھی یہ خود ، ان کے اہل خانہ اور ان کے مرغان دست آموز سرکاری اداروں میں اہم عہدوں پر آنکھیں کھول اور منہ زور سے بند کر کے سسٹم کے اندھا، بہرا اور گونگا ہونے کو انجوائے کر رہے ہیں ۔چونکہ پاکستان پر حکومت کرنے والی حکومتیں چکما باز بیوروکریسی کے سامنے بے بس اور بے اختیار ہوتی ہیں، اس لیے وہ نہیں سمجھ سکتیں کہ ان کے دور حکومت میں، ان کی جگہ پر حکومت کر کون رہا ہے۔معزز سینئر کالم نگار کا کہنا ہے کہ ضیاء الحق کا دور شروع ہوا تو مجھے برے بھلے میں کچھ تمیز کرنا آ گئی تھی۔یہ بات بالکل درست معلوم ہوتی ہے ۔کیونکہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت کے خاتمے اور ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کے بعد ہی وہ عہد شروع ہوتا ہے جس کے عیش آج تک جاری وساری ہیں۔یہ معزز سینئر کالم نگار کی برے بھلے کی تمیز ہی تھی جس کے بل پر انہوں نے اپنی خواہشات کے سارے کس بل اچھی طرح سے نکال لیے۔ہاں مگر اب نظیر اکبر آبادی کی معروف نظم بنجارہ نامہ کے ابیات فضا میں گونجتے سنائی دینے لگے ہیں ،تو ایسے میں اگر اپنے ماضی کے کسی عمل یا موقف پر معذرت کرنی ہے تو یہ ایک بہادرانہ قدم ہے جو بہادری کے ساتھ اور زبان و ادب کے استاد ڈاکٹر سعادت سعید کے پیچھے چھپے بغیر بھی کیا جا سکتا ہے۔شہید ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف ہرزہ سرائی کا سلسلہ شہید بی بی بینظیر بھٹو اور ان کے وفا شعار میاں آصف علی زرداری تک دراز ہوا، اب یہی مخلوق بلاول بھٹو کو اپنے خبث باطن کا نشانہ بناتے شرماتی نہیں ۔یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی سیاست اور قربانی ہی ہے جو بھٹو کے زندہ ہونے کو طنز کا عنوان بنانے والوں کو اندر اندر سے مار رہی ہے۔ لوگ نہیں سمجھتے کہ تاریخ میں زندہ رہنے کے اصل معنی کیا ہیں۔اور تاریخ کی گرد میں گم ہو جانا کسے کہتے ہیں ۔ بھٹو کو مارنے والے تاریخ کی گرد میں ملیامیٹ ہو چکے، جبکہ بھٹو اپنی دلاوری ، جرات اور فتوت کے ساتھ آج بھی زندہ ہے۔اس کا تمسخر اڑانے والے آج خود مذاق کا عنوان بنے بیٹھے ہیں۔ ،زندہ صرف اصول، قربانی اور سچائی رہتی ہے ۔ذوالفقار علی بھٹو پاکستانی سیاست کی زندہ رہنے والی سچائی ہے، اور سچائی کو زوال نہیں ہوتا ۔اس سچائی کو رات کی تاریکی میں امریکہ کے حکم پر اور حدود کعبہ کے اندر بیٹھ کر کئیے وعدوں کے خلاف تختہ دار پر جھلانے والے مر کھپ چکے، ان کا ذکر کرنا یا نام لینا بھی لوگ اپنی توہین خیال کرتے ہیں۔ جب کہ مسکراتا ذوالفقار علی بھٹو آج بھی زندہ ہے۔ یاد رکھنا چاہئیے ،جس بھٹو نے اپنی جان بخشی کی درخواست کرنا اپنی اور اپنے نظرے کی توہین سمجھا، اس بھٹو کی ” جان بخشی ” کی اپیل کرنے والوں کو بھٹو کے زندہ ہونے کے خوف پر قابو پانا سیکھنا پڑے گا۔
۔۔۔ سنگ بنیاد، خطابٹی چوک فلائی اوورمنصوبہ اسلام آباد، راولپنڈی اور گردونواح کے شہریوں کیلئے سنگ میل ثابت ہو گا، وزیراعظم شہباز شریف کا منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاباسلام آباد۔12ستمبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ٹی چوک فلائی اوور کا منصوبہ اسلام آباد، راولپنڈی اور گردونواح کے شہریوں کیلئے سنگ میل ثابت ہو گا، ریل کار کے مجوزہ منصوبے سے جڑواں شہروں کے مکینوں کو مزید آسانیاں میسر آئیں گی، ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو جی ٹی روڈ،اسلام آباد ایکسپریس ہائی وے کے جنکشن (ٹی چوک )روات پر فلائی اوور کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطا ب کرتے ہوئے کیا۔تقریب میں وفاقی وزرا ، ارکان اسمبلی اور وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ اور سی ڈی اے سمیت متعلقہ محکموں کے افسران بھی موجود تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے ٹی چوک فلائی اوور منصوبے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ اسلام آباد، راولپنڈی اور گردونواح کے شہریوں کیلئے سنگ میل ثابت ہو گا، ایک کلومیٹر کے فلائی اوور سے ایکسپریس وے اور دوسرے علاقوں کو جانے میں سہولت ہو گی۔ انہوں نے ٹی چوک منصوبہ کیلئے وزیر داخلہ اور سی ڈی اے حکام کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان 2027ء میں ایس سی او سمٹ کی میزبانی کرے گا، ایس سی او سمٹ کیلئے تیاریاں ابھی سے کرنا ہوں گی۔ انہوں نے اسلام آباد کو مزید خوبصورت بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے بتایا کہ تاجکستان نے تحفے میں مختلف اقسام کے پودے دیئے ہیں جن سے شہر کی خوبصورتی میں اضافہ ہو گا، شاہراہ دستور کو مزید خوبصورت بنانے کیلئے کام جاری ہے، چند ہفتوں میں شاہراہ دستور کے اطراف خوبصورت پھول دیکھنے کو ملیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر ریلوے حنیف عباسی پنڈی، اسلام آباد میں سفری سہولت کے نئے منصوبے پر کام کر رہے ہیں، ریل کار کے مجوزہ منصوبے سے جڑواں شہروں کے مکینوں کو مزید آسانیاں میسر ہوں گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ میٹرو بس سروس کے علاوہ ماحولیاتی تحفظ کیلئے ای وی ٹرانسپورٹ بھی متعارف کرائی گئی ہے۔ انہوں نے سی ڈی اے اور ضلعی انتظامیہ کے حکام کو بھرپور محنت کے ساتھ جڑواں شہروں کو ملانے اور شہر کی خوبصورتی میں اضافہ اور شہریوں کو سہولیات کی فراہمی کیلئے اقدامات کی ہدایت کی۔ قبل ازیں وزیراعظم نےتختی کی نقاب کشائی کرکے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایکسپریس وے چند ماہ پہلے مکمل ہو چکی تھی، ٹی چوک فلائی اوور منصوبے کا 150 دنوں میں افتتاح ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جو اہداف دیئے گئے انہیں اعلیٰ معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے مکمل کیا جائے گا۔ وزیراعظم کو منصوبے کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ٹی چوک فلائی اوور منصوبے پر ایک ارب 49کروڑ 50 لاکھ روپے لاگت آئے گی اوریہ 150 دن کی قلیل مدت میں مکمل ہو گا۔ اسلام آباد ایکسپریس وے وفاقی دارالحکومت کی اہم شاہراہ ہے جوراولپنڈی ، پنجاب ، آزاد کشمیر او ر جی ٹی روڈ کوآپس میں ملاتی ہے ۔ سی ڈی اے نے پہلے ہی زیروپوائنٹ سے ٹی چو ک تک اسلام آباد ایکسپریس وے کو سگنل فری بنا دیا ہے۔جی ٹی روڈ ٹی چوک روات اسلام آباد ایکسپریس وے جنکشن، وفاقی دارالحکومت کا اہم داخلی راستہ ہے، اس وقت اس جنکشن پرٹریفک کا بہت زیادہ دبائو ہوتا ہے اور یہ خستہ حالی کا شکار ہے، ہلکی ٹریفک کے ساتھ ساتھ بھاری ٹریفک کا بھی اس پرشدید دبائو ہے۔ اس صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے سی ڈی اے نے منصوبے پر کام کا آغاز کیا ہے اور سی ڈی اے اور این ایچ اے کے درمیان رائٹ آف وے کے معاملے کو حل کیا گیا اور 5 جون 2025کواین ایچ اے نے سی ڈی اے کو این او سی جاری کیا۔اس جنکشن سے روزانہ تقریباً ایک لاکھ گاڑیوں کا گزر ہوتا ہے، فلائی اوور کی تعمیرسے یومیہ تقریباً 41ہزار572گاڑیوں کو آمدورفت میں آسانی ہوگی۔ لاہور اور پنجاب کے دیگر علاقوں سے اسلام آباد براستہ جی ٹی روڈ آنے والے مسافروں کی سہولت کےلئے فلائی اوور کا ڈیزائن میسرز نیسپاک نے تیار کیا ہے۔ فلائی اوور کی لمبائی ایک کلومیٹر سے زائد اور اس کی چوڑائی 11.30میٹر ہوگی او ر اس کے ساتھ ساتھ سٹریٹ لائٹس اور ہارٹیکلچر کا بھی انتظام کیا جائے گا۔
*پاکستان ایم ایم اے کا تاریخی اعزاز*پاکستان مکسڈ مارشل آرٹس فیڈریشن (PMMAF) فخر کے ساتھ اعلان کرتی ہے کہ مسٹر ابو حریرہ اور مسٹر دلاور خان سننان کو ایشین مکسڈ مارشل آرٹس ایسوسی ایشن (AMMA) کی جانب سے باضابطہ طور پر جج سی لائسنس سے نوازا گیا ہے۔یہ تاریخی کامیابی اُن کی محنت، پیشہ ورانہ صلاحیت اور کھیل کے ساتھ غیر متزلزل لگن کو اجاگر کرتی ہے۔ ان کی یہ کامیابی نہ صرف ان کے انفرادی کیریئر کو نئی بلندیوں تک لے گئی ہے بلکہ پوری قوم کے لیے فخر کا باعث بھی ہے، جو عالمی ایم ایم اے کمیونٹی میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔اس موقع پر صدر پاکستان مکسڈ مارشل آرٹس فیڈریشن، ذولفقار علی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:پاکستان مکسڈ مارشل آرٹس فیڈریشن صرف اعلیٰ معیار کے ایتھلیٹس ہی پیدا نہیں کر رہی بلکہ عالمی معیار کے ریفریز اور آفیشلز بھی سامنے لا رہا ہے، جن کی مہارت اور کوالٹی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ ہمارے آفیشلز کو یہ لائسنس ملنا پاکستان کے عزم اور معیارِ اعلیٰ کا مظہر ہے اور یہ عالمی میدان میں ہماری مضبوط اور باوقار موجودگی کو یقینی بناتا ہے۔ اپنی جانب سے اور بورڈ کے تمام ممبران کی جانب سے میں ابو حریرہ اور دلاور سنان کو اس عظیم کامیابی پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔”یہ کامیابی پاکستان ایم ایم اے کے لیے ایک نیا معیار قائم کرتی ہے جو نہ صرف مسابقتی ایتھلیٹس کی تربیت میں ترقی کی علامت ہے بلکہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ ریفریز اور آفیشلز پیدا کرنے میں بھی پاکستان کی پیش رفت کو اجاگر کرتی ہے۔
*علی پور: باپ نے بیٹے کو سیلابی ریلے سے بچاتے ہوئے جان دے دی*مظفر گڑھ کی تحصیل علی پور میں سیلابی ریلے سے بیٹے کو بچاتے ہوئے ایک شخص ڈوب کر جاں بحق ہوگیا۔مظفر گڑھ کی تحصیل علی پور میں ہیڈ پنجند کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب آیا، جس کے نتیجے میں مزید کئی بستیاں زیر آب آگئیں، سیلاب میں ریلے سے بیٹے کو بچاتے ہوئے باپ خود ڈوب کر جاں بحق ہوگیا
*سرگودھا۔۔۔مائنس ون فارمولا نہیں چل سکتا، بانی پی ٹی آئی ہی پارٹی کو چلا رہے ہیں، بیرسٹر گوہر*پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ مائنس ون فارمولا نہیں چل سکتا، بانی پی ٹی آئی ہی پارٹی کو چلا رہے ہیں، میں اُن کا نمائندہ ہوں۔سرگودھا میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہر معاملہ بانی پی ٹی آئی کی مشاورت سے کیا ہے اور کرتے رہیں گے، بانی پی ٹی آئی پاکستان میں جمہوریت کیلئے کوشاں ہیں۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اگر سختیاں ہوں گی تو اس سے ملک کو مزید نقصان ہوگا، پنجاب بڑا صوبہ ہے لیکن یہاں کے لوگ مشکل کا شکار ہیں، سیلاب میں پنجاب حکومت فوٹو سیشن کی حد تک محدود ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سیاست سے بالا تر ہو کر ہمیں سیلاب متاثرین کی مدد کرنی چاہیے۔
صدرِ پاکستان آصف علی زرداری چین کے دورے پر روانہ، چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے قائم مقام صدر کی ذمہ داریاں سنبھال لیں صدرِ مملکت آصف علی زرداری آج ایک اہم سرکاری دورے پر چین روانہ ہو گئے ہیں۔ اس موقع پر آئینِ پاکستان کے تحت چیئرمین سینیٹ، سید یوسف رضا گیلانی نے قائم مقام صدرِ پاکستان کی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔صدرِ پاکستان کے دورہ چین کے دوران سید یوسف رضا گیلانی، بطور قائم مقام صدر، ایوانِ صدر کے تمام آئینی و منصبی فرائض ادا کریں گے۔ صدر زرداری کی وطن واپسی تک ملکی امور کی انجام دہی اور آئینی ذمہ داریاں ان کی نگرانی میں جاری رہیں گی۔
*کالا جادو کرنے والوں کے خلاف قانون پاس*جادو کرنیوالے کو 7 سال تک قید اور 10 لاکھ جرمانہ ہوگا ، سینیٹ میں ترمیمی بل پیشسینیٹ میں جادو ٹونے کی روک تھام سے متعلق فوجداری قوانین میں ترمیم کا بل پیش کیا گیا۔سینیٹر ثمینہ ممتاز کی جانب سے فوجداری قوانین میں ترمیم کا بل سینیٹ میں پیش کیا گیا۔ بل جادو ٹونے کی روک تھام سے متعلق ہے۔بل میں کہا گیا ہے کہ جو شخص جادو کرے یا اس کی تشہیر کرے اسے 6 ماہ سے7 سال تک قید ہوگی۔ جرم کے مرتکب کو 10 لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا اور جرم ناقابل ضمانت ہوگا۔
سیلاب 2025ء کی تباہ کاریاں، حکومت پنجاب نے صوبے میں سروے کرانے کا پلان جاری کر دیا چنیوٹ، لاہور، سیالکوٹ، حافظ آباد سمیت 10 اضلاع میں سروے 12 ستمبر سے شروع ہوگاجھنگ، ملتان، اوکاڑہ اور مظفرگڑھ سمیت 13 اضلاع میں سروے 18 ستمبر کو شروع ہو گاقصور، راجن پُور اور رحیم یار خان میں سروے 20 ستمبر سے شروع ہو گا
*💥حکومت کا ایک اور ٹیکس لگانے کا منصوبہ، آئی ایم ایف سے اجازت مانگ لی*اسلام آباد: وفاقی حکومت نے این 25 شاہراہ کے بعد ایک اور منصوبے کیلئے نیا ٹیکس لگانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت اسلام آباد میں میڈیکل کمپلیکس تعمیر کرناچاہتی ہے اور اس کے لیے میونسپل ٹیکس لگانے پر غور کررہی ہے۔ذرائع کا کہنا ہےکہ وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف سے اسلام آباد میں ایک نیا ٹیکس لگانے کی اجازت مانگ لی ہے اور آئی ایم ایف نے حکومت کی نئے ٹیکس کی درخواست پر مزید تفصیلات طلب کی ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ اسلام آباد میں تعمیر ہونے والے میڈیکل کمپلیکس پر 213 ارب روپے کی لاگت آئے گی اور میونسپل ٹیکس لگا کر میڈیکل کمپلیکس کی تعمیر مکمل کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق حکومت کو 3 سال میں منصوبہ مکمل کرنے میں مالی وسائل میں مشکلات ہیں اور حکومت منصوبے کے لیے ہنگامی فنڈ سے 30 ارب روپے فوری جاری کرنے پر بھی غور کررہی ہے، وزارت خزانہ میڈیکل کمپلیکس منصوبے کو پی ایس ڈی پی کا حصہ بنانا چاہتی ہے جب کہ حکومت 76 ملین ڈالر کے پانڈا بانڈز کے ممکنہ منافع کو بھی منصوبے پر لگانے پر غور کررہی ہے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ حکومت نے ابتدائی طور پر منصوبے کےلیے 3.5 ارب روپے فراہم کر رکھے ہیں، یہ رقم جناح میڈیکل کمپلیکس کمپنی کے قیام اور عملے کی بھرتی پر خرچ ہوگی۔وفاقی وزیراحسن اقبال نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ منصوبے کی پی ایس ڈی پی سے باہر سے فنڈنگ کی تجویز دیں گے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے نتیجے میں بچنے والی رقم کو کوئٹہ کو کراچی سے ملانے والی قومی شاہراہ این 25 کی تعمیر اور بہتری پر خرچ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
اسلام آباد : نئے گیس کنکشن کے لئے درخواست دینے کا طریقہ کار سامنے آگیا اور گھریلو گیس کنکشن کے لیے فیس *فیس کیا ہوگی؟*نئے گھریلو گیس کنکشن کے لیے سیکیورٹی ڈپازٹ: 20,000 روپے10 مرلے تک گھر کے لیے کنکشن فیس: 21,000 روپے10 مرلے سے بڑے گھروں کے لیے کنکشن فیس: 23,000 روپے*درخواست دینے کا طریقہ کار*گھریلو صارفین نئے کنکشن کے لیے درخواست فارم اپنے قریبی سوئی نادرن گیس پائپ لائنز کے ریجنل آفس سے یا کمپنی کی آفیشل ویب سائٹ سے ڈاؤن لوڈ کر کے حاصل کر سکتے ہیں۔فارم بڑے حروف (Capital Letters) میں پُر کیا جائے گا اور اسے نیٹ ورک کی دستیابی کی بنیاد پر منتخب کیا جائے گا۔ضروری دستاویزاتقومی شناختی کارڈ کی کاپیجائیداد کی ملکیت کا ثبوتہمسایہ جائیداد کا گیس بلفارم اور تمام مطلوبہ کاغذات جمع کرانے کے بعد ایس این جی پی ایل ٹیم سائٹ کا معائنہ کرے گی تاکہ تکنیکی امکانات کو جانچا جا سکے، منظوری کی صورت میں درخواست دہندہ کو ’پروپوزل لیٹر‘ یا ’ڈیمانڈ نوٹس‘ جاری کیا جائے گا جس میں انسٹالیشن کے رہنما اصول اور منظور شدہ کنٹریکٹرز کی فہرست شامل ہوگی۔حکام کے مطابق یہ نیا اور آسان طریقہ کار صارفین کو کم قیمت پر قدرتی گیس کی سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ایس این جی پی ایل کی سروسز کو مزید بہتر بنانے کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔
ایجنسیوں کے انقلاب ۔اظہر سید ۔ عوامی انقلاب فرانس اور روس کے تھے ۔اب انقلاب نہیں آتے تبدیلی آتی ہے ،اور یہ تبدیلی عوام کو استعمال کر کے عالمی ماسٹر اور مقامی ایجنسیاں لاتی ہیں ۔حقیقی اور اصلی والے انقلاب کا دور صدیاں گزریں ختم ہو گیا ہے۔ اب انقلاب نہیں بلکہ طاقتور ملک اپنے اثرورسوخ اور دولت کے زور پر عوام کو استعمال کرتے ہیں۔ان کے پیچھے انقلاب کی تیل والی بتی لگاتے ہیں۔اسے لائٹر دکھاتے ہیں۔انقلاب کامیاب ہو جاتا ہے ۔وزیر اعظم ،صدر،وزار نشانہ بنتے ہیں۔
بیشتر فرار ہو جاتے ہیں ۔چندمارے بھی جاتے ہیں۔انقلاب کامیاب ہو جاتا ہے ۔کہیں جنرل سسی عوامی انقلاب میں اخوان المسلمون سے جان چھڑا کر اقتدار سنبھال لیتا ہے ۔کہیں نو ستاروں کے انقلاب کی کامیابی پر جنرل ضیا ا جاتا ہے۔کہیں طالبعلموں کو حکومت مل جاتی ہے ۔کہیں سری لنکن انقلاب کے بعد چپ چاپ گھروں میں لوٹ جاتے ہیں ۔سابقہ حکومت جو کسی عالمی طاقت کی زلفوں کی اسیر ہوتی ہے اسکی جگہ کسی نئی عالمی طاقت کی زلفوں کی اسیر حکومت بن جاتی ہے ۔کہیں حسینہ واجد کی جگہ ڈرامہ کے ہدایتکار محمد یونس کو کامیاب انقلاب کی روشن تعبیر بنا کر ریاست سونپ دیتے ہیں جو نئی عالمی طاقت کی زلفوں کے اسیر ہوتے ہیں۔کبھی عالمی ہدایتکار سی پیک روکنے کیلئے مقامی ماسٹروں کے زریعے پاناما برپا کرتے ہیں ایک نوسر باز مسلط کرا دیتے ہیں۔
کہیں دوسرے مقامی ماسٹروں کے زریعے ہی نوسر باز سے نجات حاصل کر لیتے ہیں۔آج بالغے نیپال میں عوامی انقلاب پر رقص کر رہے ہیں لیکن ان بالغوں کو پتہ ہی نہیں ریاست کی لگامیں عوام کے ہاتھوں سے پھسل کر جنرل سسی اور جنرل ضیا کے ہاتھوں میں چلے گئی ہیں وہ بھلے کسی محمد یونس کو نیپال کا وزیراعظم بنائیں یا کسی خاتون کو۔دوسری جنگ عظیم کے بعد طاقت کے پہاڑوں پر کھڑے ہو کر امریکی حکومتیں تبدیل کراتے تھے ۔عالمی معیشت میں چین کی زوردار انٹری کے بعد اب اس کار خیر میں چینی بھی شامل ہو گئے ہیں۔یہ طاقت کے حصول اور وسائل پر کنٹرول کی لڑائی ہے جو صدیوں سے قوموں کے درمیان لڑی جا رہی ہے ۔پہلے مغرب تگڑا تھا اب مشرق تگڑا ہو رہا ہے ۔نیپال میں حکومت تبدیلی پر چھلانگیں مت لگائیں ۔حکومت عوام نے تبدیل نہیں کی انہوں نے کی ہے جو کبھی امریکہ ہوتے ہیں اور کبھی چین ۔عوام تو ایندھن ہیں جنہیں سالن روٹی بنانے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے ۔
*💥اسـرائیـلی جارحیت کو فوری روکا جائے، امت مسلمہ کو اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا، وزیراعظم**💥شہباز شریف کی امیر قطر سے ملاقات، اسـرائیـلی جارحیت کی مذمت، امن کیلئے اتحاد کا عزم*دوحہ: (قومی نیوز) قطر پر اسـرائیـلی حملے کے تناظر میں اظہار یکجہتی کیلئے وزیراعظم شہباز شریف نے قطر کا ایک روزہ دورہ کیا۔وزیراعظم شہباز شریف کی قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے ملاقات ہوئی، وزیراعظم شہباز شریف نے 9 ستمبر کو دوحہ پر اسـرائیـلی حملے کی شدید مذمت کی۔شہباز شریف نے پاکستان اور قطر کے درمیان تاریخی اور برادرانہ رشتوں کا اعادہ کیا۔
پاکستان نے قطر پر اسـرائیـلی حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے قطر کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے، وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اسـرائیـلی جارحیت کو فوری طور پر روکا جائے اور امت مسلمہ کو اس کے مقابلے میں اتحاد کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اس مشکل وقت میں قطر کے ساتھ کھڑا ہے اور دونوں ممالک کے تاریخی برادرانہ تعلقات ہمیشہ مضبوط رہیں گے۔ وزیراعظم نے اسـرائیـلی حملے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہری افسوس کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔
سمیع اللہ خان: فلائنگ ہارس – پاکستان کے لیجنڈری ہاکی کھلاڑیسمیع اللہ خان، جو اپنی بے مثال تیز رفتاری اور شاندار کھیل کی وجہ سے “فلائنگ ہارس” کے لقب سے مشہور ہیں، 6 ستمبر 1951 کو بہاولپور میں پیدا ہوئے۔ وہ ہاکی کے کھیل میں لیفٹ ونگر کے طور پر جانے جاتے ہیں اور اپنی رفتار، مہارت، اور شاندار کراسز کے لیے مشہور ہیں، جو اکثر گول میں تبدیل ہوتے تھے۔
سمیع اللہ کی تیز رفتاری اور بال کنٹرول نے انہیں حریفوں کے لیے ایک خطرناک کھلاڑی بنا دیا تھا۔ وہ میدان میں برق رفتاری سے دوڑتے، حریف کے دفاع کو چیرتے ہوئے گول کے مواقع پیدا کرتے تھے۔ ان کی رفتار اور مہارت نے انہیں ہاکی کے کھیل میں ایک لیجنڈری حیثیت دی۔سمیع اللہ ہاکی کے میدان میں مطیع اللہ کے بھتیجے ہیں، جو 1960 کے روم اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتنے والی پاکستانی ہاکی ٹیم کے رکن تھے۔ ان کے بھائی کلیم اللہ بھی قومی ہاکی ٹیم کے رائٹ ونگر تھے، جس نے سمیع اللہ کی کھیل کی مہارت میں مزید نکھار پیدا کیا۔سمیع اللہ 1976 میں مونٹریال اولمپکس میں کانسی کا تمغہ جیتنے والی ٹیم کا حصہ تھے۔
وہ 1978 اور 1982 میں ورلڈ کپ جیتنے والی پاکستانی ہاکی ٹیم کا بھی حصہ تھے، جبکہ 1975 کے ورلڈ کپ میں وہ رنر اپ ٹیم کا بھی حصہ تھے۔ انہوں نے تہران میں 1974 کے ایشین گیمز، بنکاک میں 1978 کے ایشین گیمز، اور دہلی میں 1982 کے ایشین گیمز میں گولڈ میڈل جیتے والی پاکستانی ہاکی ٹیم کی بھی نمائندگی کی۔سمیع اللہ کا تیز رفتار کھیل، بہترین بال کنٹرول، اور شاندار باڈی ڈاجز انہیں ایک ناقابل شکست کھلاڑی بناتے تھے۔ ان کی سنسنی خیز رنز اور حیرت انگیز مہارتوں نے انہیں دنیا بھر کے ہاکی شائقین کے دلوں میں جگہ دی۔سمیع اللہ کے بھائی ہدایت اللہ بھی قومی ہاکی ٹیم کی طرف سے کھیلتے رہے، اگرچہ ان کا کیریئر مختصر تھا، لیکن انہوں نے پی آئی اے کی طرف سے طویل عرصے تک قومی سطح پر ہاکی کھیلی اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔سمیع اللہ خان کی ہاکی کے میدان میں خدمات اور کارنامے آج بھی یادگار ہیں، اور ان کا نام ہمیشہ ہاکی کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں شامل رہے گا۔
اب اعلی عدلیہ کے جج وہ بھی چیف جسٹس وکلا کو عدالت میں دھمکیاں دیں گے یہ ہے عدلیہ کی معراج۔ پڑھیں ایمان مزاری اور چیف جسٹس اسلام آباد کے درمیان مکالمہ۔ ۔ آپ کو اپنا منہ بند رکھنا چاہیے، ہادی صاحب “اسے” سمجھائیں “کسی دن میں نے پکڑ لیا نا” کوئی مہذب ذہن یہ تسلیم کرے گا کہ یہ الفاظ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے ہیں؟ ان کا معیار اور لفظوں کا چناو واضح اپروچ واضح کرتا ہے!
خبر بلکہ نظام کی گراوٹ کی داستان یہ ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ماہرنگ بلوچ کے ای سی ایل سے نام نکلوانے کے کیس میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے وکیل ایمان مزاری پر ذاتی حملے کرنے شروع کر دیے! چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا اب اس کیس میں کوئی آرڈر پاس کروں گا تو مس مزاری نیچے جا کر پروگرام کر دیں گی ڈکٹیٹر بیٹھا ہے، ایمان مزاری نے کہا میں نے ایسی کوئی بات نہیں کی جو قانون کے دائرے سے باہر ہو جس پر جسٹس سرفراز ڈوگر نے ہر لحاظ بالائے طاق رکھتے ہوئے کہا آپ کو بھی اپنا منہ بند رکھنا چاہیے آپ کو بھی ادب کے دائرے میں رہنا چاہیے۔ ایمان مزاری نے کہا میں نے جو بات کی ہے وہ ذاتی حیثیت میں ہے اس کا اثر کلائنٹ کے کیس پر نہیں ہونا چاہیے،اگر آپ کو میرے ساتھ کوئی تعصب ہے تو کلائنٹ کے کیس کو متاثر نا کریں،میں یہاں ایک بریف لیکر آئی ہوں ذاتی حیثیت میں نہیں آئی۔
چیف جسٹس پھر فرماتے ہیں کہ آپ نے کمنٹ کر دیا کہ میں جج نہیں ڈکٹیٹر بیٹھا ہوا ہوں،کیوں نا آپ کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی شروع کی جائے؟ ایمان مزاری نے کہا میں نے کوئی بات قانون اور آئین سے باہر نہیں کی اگر آپ توہین عدالت کی کاروائی کرنا چاہتے ہیں ضرور کریں،مجھے آئین نے آزادی اظہار رائے دی ہے میں نے وہی استعمال کیا ہے۔ چیف جسٹس ڈوگر نے ایمان مزاری کے خاوند ایڈووکیٹ ہادی علی چٹھہ کو مخاطب کر کے کہا ہادی صاحب سمجھائیں اسے کسی دن میں نے پکڑ لیا نا۔
ایمان مزاری نے کہا اگر یہ اسٹیج آ گئی ہے کہ عدالتیں وکلا کو دھمکی دے گئیں تو کر لیں توہین عدالت!
لاھور کے قریب واھگہ بارڈ سے لیکر ضلع نارووال کے علاقے شکر گڑھ تک کی 100 کلومیٹر کی لمبائی میں دریائے راوی 19 بار بھارت سے پاکستان میں اور پاکستان سے بھارت میں داخل ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔
دوسری جانب قصور کے علاقے گنڈا سنگھ والا سے لیکر ھیڈ سلیمانکی تک تقریبن 110 کلومیٹر کی لمبائی میں دریائے ستلج 8 بار بھارت سے پاکستان اور پاکستان سے بھارت میں داخل ہوتا ہے ۔ فاروق بجارانی
ماہرین کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کا جزباتی اور سماجی ذھانت کا کوٹینٹ زیادہ ہوتا ہے، وہ زندگی میں زیادہکامیاب ہوتے ہیں، چاہے ان کا آئی کیو کم ہی کیوں نہ ھو-
کیونکہ جزبات اور سماجی روّیے معاشرے میں حاوی ہوتے ہیں اسی لئے سیاست کو اولین درجہ حاصل ہے کہ وہ حکومت کرے-
لیکن سیاسی قیادت کے لئے مشکل حالات سے نمٹنے کی صلاحیت کا ہونا بہت ضروری ھے-
یہ صلاحیت سیکھی جا سکتی ھے اور اس پر مہارت بھی حاصل کی جا سکتی ھے- معاشرے کی ترقی کے لئے بہتر آئی کیو والے افراد چاہیں اور سیاست کو ان کی مدد لینی چاھیے- ماہرین کی مدد کے بغیر جزباتی اور سماجی ذھانت بے کار ہے- کاروبار میں کامیابی کے لئے ان چاروں صلاحیتوں کی ضرورت پڑتی ہے –
*مضبوط فوج ملک کی دفاع کی ضامن ہوتی ہے.**اگر فوج اور دفاع مضبوط نہ ہو تو پھر دولت اور مضبوط معیشت کسی کام نہیں آتی۔**قطر کے پاس دولت اور مضبوط معیشت ہے لیکن مضبوط فوج نہیں ہے.**اسی طرح جب صدام حسین کے دور حکومت میں عراق اور کویت کی جنگ ہوئی تھی تب کویت کے پاس دولت اور مضبوط معیشت تھی لیکن مضبوط فوج نہیں تھی۔ اور مضبوط فوج نہ ہونے کی وجہ سے کویت کی دولت اور مضبوط معیشت اس کے کسی کام نہیں آئی تھی اور کچھ گھنٹوں میں عراق نے کویت پہ قبضہ کر لیا تھا۔**لہذٰا اپنی پاک فوج اور ISI کی قدر کریں۔ اور اپنی پاک فوج اور ISI پر فخر کریں۔ پاک فوج اور ISI کے ہوتے ہوئے کوئی دشمن پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا ہے.*