قطر: 19 ارب ڈالر کا سسٹم ایک بٹن سے ناکارہمغربی ممالک سے اربوں ڈالر کے ہتھیار خریدنا کسی قوم کے دفاع کی مضبوطی کی ضمانت نہیں، بلکہ اکثر محض پیسے کا ضیاع ثابت ہوتا ہے۔ قطری حکومت نے اپنے فضائی دفاع کے لیے دنیا کے جدید ترین چار سسٹم خریدے: امریکی پیٹریاٹ PAC-3، ناروے کا NASAMS-2، برطانیہ کا Rapier اور فرانس-جرمنی کا Roland۔ ان کی خریداری، دیکھ بھال اور عملے کی تربیت پر کُل لاگت 19 ارب ڈالر سے زیادہ آئی۔ لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ تمام سسٹمز اس وقت بے کار نکلے جب ان کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔ کہا جاتا ہے کہ محض ایک بٹن دبانے سے یہ سب سسٹمز غیر فعال ہوگئے۔یہ صورتحال ایک تلخ حقیقت کی غمازی کرتی ہے: مغرب ہمارے لیے جو ہتھیار بناتا اور بیچتا ہے، وہ اصل میں ہمارے دفاع کے لیے نہیں بلکہ ہماری کمزوری بڑھانے اور ہمیں ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ یہ ہتھیار تب کام کرتے ہیں جب وہ مسلمانوں پر آزمائے جائیں، لیکن جب دشمن اسرائیل یا امریکہ کے مقابل کھڑے ہوں تو اچانک ان کا پورا نظام مفلوج ہوجاتا ہے۔مزید افسوسناک امر یہ ہے کہ دوحہ پر حالیہ حملے کی اجازت خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دی۔ وہی ٹرمپ جس نے چند ماہ قبل ہی قطری حکمرانوں سے 1.2 ٹریلین ڈالر وصول کیے تھے اور بظاہر دوستی کے وعدے کیے تھے۔ لیکن جب عملی وقت آیا تو نہ اربوں ڈالر کا دیا گیا اسلحہ قطر کے کام آیا، نہ اربوں کا سرمایہ امریکی حمایت خرید سکا۔ایک تجزیہ کار نے بالکل درست لکھا ہے:اگر قطر جیسی دولت مند ریاست، جو امریکہ کو مہنگے ترین تحائف اور کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری دے چکی ہے، پھر بھی اس کا اعتماد حاصل نہیں کرسکی تو اس کی وجہ محض مفاد نہیں۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات کسی وقتی مصلحت یا لین دین پر قائم نہیں، بلکہ ایک گہرے عقیدے اور نظریے کے رشتے پر استوار ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم مسلمان ابھی تک یہ بنیادی حقیقت سمجھنے میں ناکام ہیں۔
ناسا کے ایک ماہر ماحولیات نے حال ہی میں ایک لرزہ خیز رپورٹ شائع کی ہے، جس نے عالمی سائنسی برادری کو چونکا دیا ہے۔ اس رپورٹ میں ایک ایسا خوفناک انکشاف سامنے آیا ہے جو انسانیت کے مستقبل پر ایک گہرا سیاہ دھبہ چھوڑ رہا ہے۔کہا جا رہا ہے کہ زمین کی گہرائیوں میں، تقریباً 200 کلومیٹر نیچے، ایک پراسرار اور ناقابلِ فہم تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔ دس سال قبل زمین کے اندر موجود لاوے کا اوسط گہرائی کا حجم صرف 130 کلومیٹر تک محدود تھا۔ لیکن آج، صرف ایک دہائی کے اندر، یہ لاوا خطرناک حد تک اوپر کی طرف بڑھ چکا ہے اور اب 160 کلومیٹر کی گہرائی تک پہنچ گیا ہے۔ یہ صرف ایک تعداد نہیں، بلکہ زمین کے اندرونی نظام میں کوئی بڑی تبدیلی کی خطرناک نشانی ہے۔اس کی وجہ سے زمین کی پرتیں (plate tectonics) غیر متوقع طور پر حرکت کر رہی ہیں، جس کے نتائج زلزلوں اور سمندری طوفانوں کی شکل میں ہمارے سامنے آ رہے ہیں، اور یہ صرف شروعات ہے۔لیکن اصل دہشت آگے ہے۔رپورٹ کے مطابق، زمین کے مرکز میں موجود لاوا اب اپنی گردش کی سمت بدل رہا ہے۔ یہ وہ تبدیلی ہے جس نے سائنس دانوں کو بھی حیرت میں ڈال دیا ہے، کیونکہ اس کے اثرات زمین کے شمال اور جنوب قطبوں کو آہستہ آہستہ الٹ رہے ہیں۔ قطبین کی یہ تبدیلی معمولی بات نہیں، بلکہ یہ زمین کے مقناطیسی نظام کے مکمل طور پر پلٹ جانے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔اور اگر یہ سب کچھ اسی رفتار سے جاری رہا… تو 2030 تک وہ وقت آ سکتا ہے جب لاوا زمین کی سطح سے صرف 10 کلومیٹر نیچے رہ جائے گا، یعنی 190 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر لے گا۔ اس کے بعد زمین کی درجہ حرارت 70 ڈگری سیلسیس تک جا سکتی ہے۔ سوچیں… انسان، جانور، پودے، سب کچھ آگ کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔سائنس خاموش ہے، ماہرین بے بس ہیں، اور انسانیت ایک ایسے خطرناک دہانے پر کھڑی ہے جہاں نہ کوئی حل نظر آتا ہے اور نہ ہی کوئی یقین۔کیا ہم نے زمین کے ساتھ کوئی ایسا عمل کیا ہے جو اب ہمارے انجام کو طے کرنے والا بن گیا ہے؟یہ وقت ہی بتائے گا… یا شاید، اب وقت بہت کم رہ گیا ہے۔اور میرے خیال میں ان حالات میں توبہ تائب ہونے سے اچھا اقدام کوئی نہیں ہر انسان اپنے گناہوں کی معافی مانگے اور آئندہ گناہوں سے بچنے کا اعادہ کرے تو ہو سکتا ہے اللہ رب العالمین اس زمین کو ٹھنڈا کر دے کیونکہ صرف وہی قادر ہے۔ نماز چھوڑنے سے بچ جائیں۔ بس اللہ اللہ کریں۔
کیا واقعی اداریہ کی موت ہوگئی ہے؟دو روز قبل پاکستان کے ایک بڑے اور معتبر سمجھے جانے والے میڈیا گروپ کے تحت شائع ہونے والے قومی روزنامے میں “اداریہ” شائع نہیں ہوا۔ اور آج، جب یہ سطور قلمبند کی جا رہی ہیں، تیسرا دن ہے کہ ادارتی صفحے پر اداریہ کی جگہ ایک معمولی سا کالم سجا دیا گیا ہے — بےروح، بےسمت، بےموقف۔یہ محض ایک اشاعتی حادثہ نہیں، یہ اردو صحافت کی تاریخ میں ایک خنجر ہے — وہ بھی اس صفحے پر جو کسی دور میں سچ کی آخری پناہ گاہ سمجھا جاتا تھا۔ آج اخبار کی وہ آواز خاموش ہے، جو کبھی بےخوفی سے اقتدار کے ایوانوں سے سوال کرتی تھی۔ وہ صفحہ آج خالی ہے، جیسے کسی بستی میں جنازہ اٹھنے کے بعد در و دیوار بھی خاموش ہو جاتے ہیں۔کاش یہ محض ایک دن کی لغزش ہوتی، کاش کوئی وضاحت آتی، کوئی نرمی بھرا بیان جاری ہوتا جس میں کہا جاتا کہ “اداریہ کل واپس ہوگا” یا “یہ عارضی رکاوٹ ہے”۔ مگر نہیں۔ کوئی معذرت، کوئی وضاحت، کوئی پریشانی تک نہیں۔ اور یہی خاموشی سب سے خوفناک ہے۔خاموشی کی یہ سیاہیاداریہ محض چند سطریں نہیں ہوتا — یہ اخبار کا ضمیر ہوتا ہے، ادارتی صفحے کا دل ہوتا ہے، قارئین سے ایک سنجیدہ مکالمہ ہوتا ہے۔ یہ ایک ادارے کی بصیرت، اس کی اجتماعی دانش، اس کی سمت اور اس کے نظریے کی نمائندگی کرتا ہے۔ اور جب یہ صفحہ ہی خاموش ہو جائے، تو سمجھ لیجیے کہ اخبار صرف خبروں کا مجموعہ رہ گیا ہے — سوچ کا مظہر نہیں۔آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں، وہاں سوال کرنا سب سے بڑا جرم بن چکا ہے۔ اور اداریہ سوال کرتا تھا۔ وہ نہ صرف حکومت وقت کی سمت پر تنقید کرتا بلکہ سماجی، تہذیبی، تعلیمی، اور عوامی مسائل پر ایک نظریاتی روشنی ڈالتا تھا۔ آج وہ روشنی گل ہو گئی ہے۔بارتھ کی موت اور ہماری صحافت کی جنازہ گاہرولاں بارتھ نے مغرب میں جدیدیت اور ساختیت کے ابھار کے بعد “مصنف کی موت” کا اعلان کیا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ اب متن کی ملکیت قاری کے پاس ہے، نہ کہ مصنف کے۔ آج ہم بھی اسی طرح کے ایک اعلان کے دہانے پر کھڑے ہیں:کیا پاکستان میں “اداریے” کی موت ہو چکی ہے؟مگر نہیں — یہ فطری موت نہیں ہے، یہ تو ایک منظم، پُرمنصوبہ قتل ہے۔قتل اس سوچ کا، جو ادارتی صفحے پر آزادی سے سانس لیتی تھی۔قتل اس جرات کا، جو بین السطور عوام کی بےآواز چیخ کو تحریر کرتی تھی۔قتل اس یقین کا، کہ صحافت فقط کاروبار نہیں، ایک ذمےداری بھی ہے۔بزنس مین ایڈیٹرز اور خاموش کاتبجب سے میڈیا کے بڑے اداروں میں بزنس کلچر حاوی ہوا — جہاں مالک خود چیف ایڈیٹر بنا، اور اس کا بیٹا نیوز روم کا شہزادہ — وہی دن، دراصل صحافت کے زوال کا نقطہ آغاز تھا۔اداریہ کبھی ایک خودمختار ادارتی ٹیم یا کہنہ مشق ایڈٹر خود لکھا کرتے تھے، جو عوامی نبض پر ہاتھ رکھ کر ملک کی سمت پر بات کیا کرتے۔ مگر اب؟ اب وہی ادارتی صفحہ اشتہارات سے لبریز، ادارہ جاتی مفادات سے مصلحت اندیش، اور ’’نقصان دہ رائے” سے خالی کر دیا گیا ہے۔کیا ہم اسے “جدت” کا نام دے دیں؟کیا ہم مان لیں کہ آج کے دور میں ادارتی صفحہ غیر ضروری ہو چکا ہے؟نہیں۔ ہزار بار نہیں۔اداریہ کیوں لازم ہے؟اداریہ اس لئے ضروری ہے کیونکہ:یہ اخبار کی شناخت ہے؛یہ قاری کے ساتھ ادارے کا غیرعلانیہ معاہدہ ہے؛یہ کسی بھی جمہوری معاشرے میں فکری رہنمائی کا ذریعہ ہے؛یہ رائے سازی کا سب سے معتبر پلیٹ فارم ہے؛اور سب سے بڑھ کر، یہ وہ آئینہ ہے جس میں قوم اپنے چہرے کا سچ دیکھتی ہے۔جب اداریہ بند ہو جائے، تو گویا اخبار نے خود کو فقط “کاروباری دستاویز” بنا لیا۔ پھر خبر میں خبر نہیں، تجزیے میں بصیرت نہیں، اور رائے میں آزادی نہیں ہوتی۔مگر کیوں؟ خوف یا مفاد؟سوال یہ ہے کہ کیا یہ خاموشی صرف جبر کا نتیجہ ہے؟ یا کمرشل مفادات کی قربانی؟ہم سمجھتے ہیں کہ دونوں عوامل یکجا ہو چکے ہیں۔ایک طرف وہ صحافی جو ماضی میں بین السطور سچ بیان کرتے تھے، اب یا تو ملک بدر ہیں، یا خاموشی کو اپنا رزق بنا چکے ہیں۔دوسری طرف وہ میڈیا مالکان جو حکومتی اشتہارات کی طمع میں حق گوئی کو جرم سمجھنے لگے ہیں۔اداریہ لکھنے کے لئے نہ صرف دانش بلکہ جرات کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اور یہ دونوں چیزیں جب بازار کی بولی پر نیلام ہونے لگیں، تو پھر خاموش صفحہ ہی بچتا ہے۔ایک منظر جو چیخ رہا ہےسوچیے، ایک قاری صبح اخبار کھولتا ہے — سب خبریں موجود، رنگ برنگی تصاویر، سیاسی بیانات، کرائم رپورٹس، حتیٰ کہ “سیلیبریٹی گپ شپ” بھی۔مگر جب وہ ادارتی صفحہ کھولتا ہے، تو ادارے کی رائے کی جگہ دوسروں کے کالموں پر مشتمل رائے سامنے منہ چڑا رہی ہوتی ہے — کالم بھی ایسا جس میں نہ کوئی موقف ہے، نہ وژن، نہ جرات، نہ درد۔قاری شاید کڑھتا ہے، مگر پھر کندھے اچکا کر اخبار بند کر دیتا ہے۔مگر ہم، جو صحافت کے اس منظرنامے کو دیکھ رہے ہیں، جانتے ہیں کہ یہ محض ایک صفحے کی کمی نہیں،
یہ ایک پورے صدی کا اختتام ہے۔اردو صحافت: ایک تاریخی ورثہاردو صحافت کی تاریخ پر نگاہ دوڑائیے تو ہمیں مولانا ظفر علی خان، چراغ حسن حسرت، حبیب جالب، اور کئی دیگر نام یاد آتے ہیں، جنہوں نے ادارتی صفحوں کو فکری معرکے کا میدان بنایا۔ وہ اپنے قلم سے معاشرے کے نبض شناس بنے۔یہ اداریے ہی تھے جو کبھی جنگوں کے خلاف بولے، کبھی آمریت کے سامنے ڈٹے، اور جمہوری اقدار کی حمایت میں سینہ تان کر کھڑے ہوئے۔ آج اگر یہی اداریہ خاموش ہو جائے، تو یہ ایک نسل سے اس کی فکری میراث چھین لینے کے مترادف ہے۔امید کی آخری کرنلیکن اندھیرے کے ہر دور میں، ایک شمع ضرور روشن ہوتی ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ نہ تو اداریہ کی موت واقع ہوئی ہے، اور نہ ہی اس کی ضرورت ختم ہوئی ہے۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ اداریہ لکھنے والے یا تو مجبور ہیں، یا دباو اور مصلحت کے مارے ہوئے ہیں۔اور اگر ایسا ہی ہے، تو پھر ہمیں ایسی نسل تیار کرنی ہو گی جوبین السطور لکھنے کا ہنر جانتی ہو،جبر کے موسم میں سچ بولنے کی ہمت رکھتی ہو،اور “کمرشل اخلاقیات” کے سامنے اپنے قلم کو سرنگوں نہ کرے۔اداریہ ابھی زندہ ہے — مگر شاید زخمی، شاید بے آواز، ہاں مگر مردہ نہیں۔اس کی نبض ابھی چل رہی ہے — ہمیں فقط اس کی صدا دوبارہ سننے کی کوشش کرنی ہے۔آخر میں…صحافت کبھی صرف خبر نہیں تھی، وہ ایک عہد تھا —جس میں اخبار کا ادارتی صفحہ قاری کے لیے ایک چراغ تھا، ایک لائیٹ پول تھا۔آج وہ چراغ بجھایا گیا ہے،مگر ہوا کی ایک ہلکی سی لہر بھی اگر سچی ہو —تو وہ شعلہ پھر سے بھڑک سکتا ہے۔ہماری صحافت مر نہیں گئی،وہ فقط کچھ دیر کے لیے خاموش ہوئی ہے — ایک وقفہ ہے _شاید ہمیں آزمانے کے لیے،کہ ہم اسے کتنا یاد کرتے ہیں، اس کی کتنی کمی محسوس کرتے ہیں اور اس کی واپسی کے لیے کتنا تڑپتے ہیں۔
نیپال میں وزیراعظم کی رہائش گاہ کا منظر ۔۔۔وزیراعظم نے بھی استعفیٰ دیدیا ۔۔۔۔نیپال میں سوموار سے نوجوانوں نے احتجاج کی کال دے رکھی تھی جس میں طلبہ بھی شامل تھے اب تک احتجاج میں 19 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں ۔ وزراء اور وزیراعظم نے استعفیٰ دے دیا ہے ۔۔۔نوجوانوں کے احتجاج کی وجہ کرپشن ، آزادی اظھار راۓ ، انتظامی معاملات اور الیکشن میں کئے گئے وعدے پورے نہ کرنا ہے.
🚨نیتن یاہو کے دفتر کا بیان: حماس کے اعلیٰ رہنماؤں کے خلاف کارروائی مکمل طور پر آزادانہ تھی، اس کی ابتداء اسرائیل نے کی، اسی نے اسے انجام دیا اور اس کی پوری ذمہ داری بھی خود ہی اٹھاتی ہے🚨In the past 24 hours alone, Israel has bombed:• Palestine 🇵🇸• Lebanon 🇱🇧• Syria 🇸🇾• Tunisia 🇹🇳• Qatar 🇶🇦And just days ago, Yemen 🇾🇪.🚨قطر میں اسرائیلی فضائی حملہ سے شہید ہونے والے حماس کے رہنماؤں کی تفصیل:Khaled Mashal Khalil al-Hayya Zaher Jabarin Mousa Abu Marzook Husam BadranSource: Arabic Media
کئی نام نہاد سیاست دانوں سے بہتر عورت حدیقہ کیانی خاموشی سے آتی ہے، اپنا کام کرتی ہے اور چلی جاتی ہے کوئی شور نہیں، کوئی میڈیا انٹرویوز کے ذریعے واہ واہ نہیں خالص انسانیت کی خدمت کا جذبہ۔ اللہ اسے بہترین جزا دے۔ جب تک ایسے لوگ موجود ہیں، پاکستان لاوارث نہیں۔
*موضوع: میران شاہ کیمپ، شمالی وزیرستان بجے میران شاہ کیمپ (تحصیل میران شاہ، شمالی وزیرستان) میں 8 انجینئر میگزین 7 ڈویژن پر حادثاتی طور پر گرینیڈ د-ھما!کہ ہوا۔اس واقعے میں ×01 این سی او حوالدار شیر محمد نے جامِ شہا!دت نوش کیا اور ×01 سپاہی عمران اسلم زخمی ہوئے۔
(زخمی کی حالت خطر-ے سے باہر ہے)شہید کا جسدِ خاکی اور زخمی کو ایف ٹی سی میران شاہ منتقل کر دیا گیا
* *بے نظیر انکم سپورٹ کی ساہ ماہی قسط جولائی تا ستمبر ملکی حالات کی وجہ سے روک دی گئی ہے۔جو ستمبر کے پہلے ہفتے ٹرانچ سٹارٹ ہونی تھی وہ اب ملکی سیلاب کیوجہ سے ستمبر کے آخری ہفتے سٹارٹ ہو گی۔تمام بینیفشری کو مطلع کیا جاتا ہے کہ کوئی بھی بینیفشری شاپ اور کیمپ سائٹ کی طرف رخ نہ کریں
بلکہ ملکِ پاکستان کےلیے دعائیں کرے کہ اس عزاب سے اللّٰہ پاک ہمیں محفوظ رکھے اللّٰہ پاک آپکا حامی و ناصر ہو روبینہ خالد*
میں راولپنڈی سے ہوں اور حال ہی میں موت کے کنویں سے باہر نکلا ہوں- آج آپ کے ساتھ اپنی کہانی شیئر کر رہا ہوں تا کہ دوسرے لوگ اس کنویں میں گرنے سے محفوظ رہیں اور میری طرح نقصان نا اٹھائیں۔ چند سال قبل کاروبار میں خسارے کی وجہ سے تقریباً 40 لاکھ کا مقروض ہو چکا تھا- اس دلدل سے نکلنے کےلیے بہت ہاتھ پاؤں مارے مگر کوئی کنارا ہاتھ نہ آ سکا-
آخر تنگ آ کر باہر جانے کا فیصلہ کیا-ایک کاروباری دوست نے بتایا کہ فلاں شخص کے پاس ویزے آئے ہوئے ہیں اس سے ملاقات کی تو معلوم ہوا کہ کمبوڈیا کے ویزے ہیں ٹیلی کام کمپنی کی جاب ہو گی اور تنخواہ لاکھوں میں ہے-اس شخص نے ہر طرح سے تسلی دی- میں نے پیمنٹ دے دی اور ایک ہفتے کے اندر اندر ویزا اور ٹکٹ آ گئی۔ لاہور ائیرپورٹ پر پہنچا تو ایجنٹ کی کال آ گئی کہ آپ انتظار کریں آپ کو ہمارا نمائندہ ہے وہ کلیئر کروائے گا میں نے کہا جب ڈاکومنٹس پورے ہیں تو پھر ایسا کیا مسئلہ ہے تو اس نے کہا کہ نہیں آپ پہلی دفعہ جا رہے ہیں- ہم نہیں چاہتے کہ کوئی مسئلہ بنے-خیر ہمارا گروپ چیک ان کیلئے گیا تو امیگریشن کے دوران ایک بندے نے روک لیا کہ آپ لوگ سارے سائیڈ پر ہو جائیں- ابھی وہ ہمارے پاسپورٹ چیک کر ہی رہا تھا کہ ایک دوسرا اہلکار آگیا اور اسے کہا کہ ان کو میں دیکھتا ہوں آپ جائیں- اس شخص نے ہمیں لاؤنج میں بھیج دیا اور کہا کہ آپ کلیئر ہیں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
جب ہم کمبوڈیا پہنچے تو ائیرپورٹ سے نکلتے ہی وہاں موجود ایجنٹ آیا ہوا تھا جس نے ہم سے پاسپورٹ لے لیا اور ہمیں اپنی رہائش پر لے گیا-یہ ایک کمپاؤنڈ نما عمارت تھی جس میں کئی کمرے تھے- ہر کمرے میں پچیس پچیس لڑکے ٹھونسے ہوئے تھے جو کئی ماہ سے وہاں قید تھے-یہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ ہمارے ساتھ فراڈ ہو گیا ہے-یہ فراڈی ایجنٹ پورے پاکستان میں پھیلے ہوئے ہیں- کمبوڈیا میں ان کے ایجنٹس موجود ہیں-
ان کا طریقہ کار یہ ہے کہ پاکستان سے بندے منگوا کر ان کو آگے Scam کمپنیوں میں بیچ دیتے ہیں-چونکہ میں مقروض تھا اور ادھار لے کر یہاں تک پہنچا تھا تو واپسی میرے لیے موت کے برابر تھی- چنانچہ فیصلہ کیا کہ واپس جانے کی بجائے حالات کی سختی برداشت کروں گا اور جو بلا سر پہ آئی برداشت کروں گا-رات چڑھتی تو مختلف کمپنیوں کی گاڑیاں آتیں- انسانی منڈی سج جاتی اور بولی لگا کر لڑکوں کو بیچا جاتا-مجھے 2000 ڈالر میں ایک کمپنی کو بیچا گیا- یہ کمپنی 18 گھنٹے مجھ سے کام لیتی- ڈانٹ ڈپٹ ، گالم گلوچ دماغی ٹارچر جسمانی تشدّد ، الیکٹرک شاک، اس کے علاوہ تھا-تین ماہ میں ہمّت جواب دے گئی-
آخر یہ کمپنی چھوڑنے اور واپس پاکستان آنے کا فیصلہ کیا لیکن جب پاکستان میں اپنے ایجنٹ سے بات کی تو اس نے بلاک کر دیا- کمبوڈین ایجنٹ سے بات کی تو اس نے 3500 ڈالر کے تاوان کا مطالبہ رکھ دیا- بالاخر پاکستان میں اپنے کزنز اور دوستوں کو حالات بتائے اور منت ترلہ کیا- خدا ان کا بھلا کرے کہ انہوں نے مل جل کر تاوان کی رقم جمع کی تب جا کر اس اذیّت سے رہائی ملی- مجھے پاسپورٹ واپس ملا اور میں ٹکٹ کروا کے واپس پاکستان آ گیا- میرے ہوتے ہوئے کمپنی میں دو لڑکوں نے خودکشی کی-
حالات ہی ایسے تھے کہ زندگی جہنم اور موت جنت معلوم ہوتی تھی-قرض اتار کر اپنی فیملی کو سپورٹ کرنے والا خواب تو بکھر ہی گیا، لیکن جو ذہنی طور پہ بکھرا ہوں شاید ہی کبھی سنبھل پاؤں-آپ کے ساتھ یہ کہانی شیئر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آج بھی پاکستان میں کمبوڈین ویزے دھڑا دھڑ بک رہے ہیں شاید کوئی شخص میری کہانی پڑھ کر موت کے اس اندھے کنویں میں گرنے سے بچ جائے-اس وقت 10 ہزار سے زائد پاکستانی کمبوڈیا میں پھنسے ہوئے ہیں- یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ایجنٹوں نے دھوکہ دے کر فیک کمپنیوں کے ہاتھ بیچا اور آج بھی دھڑلے سے بیچ رہے ہیں-#کاپی ایک لڑکے کی وال سے