تازہ تر ین

جنگ اخبار کی بغیر اداریہ کے اشاعت پر غم نہ کریں بلکہ پرنت میڈیا کی فاتحہ خوانی کی تیاری کریں ۔جب ہاکر ہی ختم ہو گئے تو اداریہ کا کوئی فائدہ ؟۔۔کھربوں روپے کے اشتھار ھزاروں ارب روپے کی مراعات لینے والہ جنگ آخری سسکیاں لینے لگا پاکستان میں پرنٹ میڈیا میں 3 سال میں کھربوں روپے کے اشتھار لوٹنے والے اخبار کا والد جنگ۔۔عربوں کے مستقبل کا فیصلہ پاکستان کرے گا۔۔سیلاب کی تباہ کاریوں کا سلسلہ جاری 77 دیہات مزید ڈوب گئے حکمران ختم شد۔۔4 ھزار چھوٹے بڑے گاؤں تباہ 2100 صفحہ ھستی سے مٹ گئے۔۔پاکستان میں تاریخ کی بدترین مھنگای کے ساتھ کھربوں روپے کی کرپشن۔۔دوسری طرف بدترین سیلاب۔۔شھادتوں کا سلسلہ جاری افواج پاکستان دنیا میں قربانی دینے والی نمبر ون فوج۔۔میجر شھید کا جنازہ ھر انکھ اشکبار۔۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

ناسا کے ایک ماہر ماحولیات نے حال ہی میں ایک لرزہ خیز رپورٹ شائع کی ہے، جس نے عالمی سائنسی برادری کو چونکا دیا ہے۔ اس رپورٹ میں ایک ایسا خوفناک انکشاف سامنے آیا ہے جو انسانیت کے مستقبل پر ایک گہرا سیاہ دھبہ چھوڑ رہا ہے۔کہا جا رہا ہے کہ زمین کی گہرائیوں میں، تقریباً 200 کلومیٹر نیچے، ایک پراسرار اور ناقابلِ فہم تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔ دس سال قبل زمین کے اندر موجود لاوے کا اوسط گہرائی کا حجم صرف 130 کلومیٹر تک محدود تھا۔ لیکن آج، صرف ایک دہائی کے اندر، یہ لاوا خطرناک حد تک اوپر کی طرف بڑھ چکا ہے اور اب 160 کلومیٹر کی گہرائی تک پہنچ گیا ہے۔ یہ صرف ایک تعداد نہیں، بلکہ زمین کے اندرونی نظام میں کوئی بڑی تبدیلی کی خطرناک نشانی ہے۔اس کی وجہ سے زمین کی پرتیں (plate tectonics) غیر متوقع طور پر حرکت کر رہی ہیں، جس کے نتائج زلزلوں اور سمندری طوفانوں کی شکل میں ہمارے سامنے آ رہے ہیں، اور یہ صرف شروعات ہے۔لیکن اصل دہشت آگے ہے۔رپورٹ کے مطابق، زمین کے مرکز میں موجود لاوا اب اپنی گردش کی سمت بدل رہا ہے۔ یہ وہ تبدیلی ہے جس نے سائنس دانوں کو بھی حیرت میں ڈال دیا ہے، کیونکہ اس کے اثرات زمین کے شمال اور جنوب قطبوں کو آہستہ آہستہ الٹ رہے ہیں۔ قطبین کی یہ تبدیلی معمولی بات نہیں، بلکہ یہ زمین کے مقناطیسی نظام کے مکمل طور پر پلٹ جانے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔اور اگر یہ سب کچھ اسی رفتار سے جاری رہا… تو 2030 تک وہ وقت آ سکتا ہے جب لاوا زمین کی سطح سے صرف 10 کلومیٹر نیچے رہ جائے گا، یعنی 190 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر لے گا۔ اس کے بعد زمین کی درجہ حرارت 70 ڈگری سیلسیس تک جا سکتی ہے۔ سوچیں… انسان، جانور، پودے، سب کچھ آگ کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔سائنس خاموش ہے، ماہرین بے بس ہیں، اور انسانیت ایک ایسے خطرناک دہانے پر کھڑی ہے جہاں نہ کوئی حل نظر آتا ہے اور نہ ہی کوئی یقین۔کیا ہم نے زمین کے ساتھ کوئی ایسا عمل کیا ہے جو اب ہمارے انجام کو طے کرنے والا بن گیا ہے؟یہ وقت ہی بتائے گا… یا شاید، اب وقت بہت کم رہ گیا ہے۔اور میرے خیال میں ان حالات میں توبہ تائب ہونے سے اچھا اقدام کوئی نہیں ہر انسان اپنے گناہوں کی معافی مانگے اور آئندہ گناہوں سے بچنے کا اعادہ کرے تو ہو سکتا ہے اللہ رب العالمین اس زمین کو ٹھنڈا کر دے کیونکہ صرف وہی قادر ہے۔ نماز چھوڑنے سے بچ جائیں۔ بس اللہ اللہ کریں۔

کیا واقعی اداریہ کی موت ہوگئی ہے؟دو روز قبل پاکستان کے ایک بڑے اور معتبر سمجھے جانے والے میڈیا گروپ کے تحت شائع ہونے والے قومی روزنامے میں “اداریہ” شائع نہیں ہوا۔ اور آج، جب یہ سطور قلمبند کی جا رہی ہیں، تیسرا دن ہے کہ ادارتی صفحے پر اداریہ کی جگہ ایک معمولی سا کالم سجا دیا گیا ہے — بےروح، بےسمت، بےموقف۔یہ محض ایک اشاعتی حادثہ نہیں، یہ اردو صحافت کی تاریخ میں ایک خنجر ہے — وہ بھی اس صفحے پر جو کسی دور میں سچ کی آخری پناہ گاہ سمجھا جاتا تھا۔ آج اخبار کی وہ آواز خاموش ہے، جو کبھی بےخوفی سے اقتدار کے ایوانوں سے سوال کرتی تھی۔ وہ صفحہ آج خالی ہے، جیسے کسی بستی میں جنازہ اٹھنے کے بعد در و دیوار بھی خاموش ہو جاتے ہیں۔کاش یہ محض ایک دن کی لغزش ہوتی، کاش کوئی وضاحت آتی، کوئی نرمی بھرا بیان جاری ہوتا جس میں کہا جاتا کہ “اداریہ کل واپس ہوگا” یا “یہ عارضی رکاوٹ ہے”۔ مگر نہیں۔ کوئی معذرت، کوئی وضاحت، کوئی پریشانی تک نہیں۔ اور یہی خاموشی سب سے خوفناک ہے۔خاموشی کی یہ سیاہیاداریہ محض چند سطریں نہیں ہوتا — یہ اخبار کا ضمیر ہوتا ہے، ادارتی صفحے کا دل ہوتا ہے، قارئین سے ایک سنجیدہ مکالمہ ہوتا ہے۔ یہ ایک ادارے کی بصیرت، اس کی اجتماعی دانش، اس کی سمت اور اس کے نظریے کی نمائندگی کرتا ہے۔ اور جب یہ صفحہ ہی خاموش ہو جائے، تو سمجھ لیجیے کہ اخبار صرف خبروں کا مجموعہ رہ گیا ہے — سوچ کا مظہر نہیں۔آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں، وہاں سوال کرنا سب سے بڑا جرم بن چکا ہے۔ اور اداریہ سوال کرتا تھا۔ وہ نہ صرف حکومت وقت کی سمت پر تنقید کرتا بلکہ سماجی، تہذیبی، تعلیمی، اور عوامی مسائل پر ایک نظریاتی روشنی ڈالتا تھا۔ آج وہ روشنی گل ہو گئی ہے۔بارتھ کی موت اور ہماری صحافت کی جنازہ گاہرولاں بارتھ نے مغرب میں جدیدیت اور ساختیت کے ابھار کے بعد “مصنف کی موت” کا اعلان کیا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ اب متن کی ملکیت قاری کے پاس ہے، نہ کہ مصنف کے۔ آج ہم بھی اسی طرح کے ایک اعلان کے دہانے پر کھڑے ہیں:کیا پاکستان میں “اداریے” کی موت ہو چکی ہے؟مگر نہیں — یہ فطری موت نہیں ہے، یہ تو ایک منظم، پُرمنصوبہ قتل ہے۔قتل اس سوچ کا، جو ادارتی صفحے پر آزادی سے سانس لیتی تھی۔قتل اس جرات کا، جو بین السطور عوام کی بےآواز چیخ کو تحریر کرتی تھی۔قتل اس یقین کا، کہ صحافت فقط کاروبار نہیں، ایک ذمےداری بھی ہے۔بزنس مین ایڈیٹرز اور خاموش کاتبجب سے میڈیا کے بڑے اداروں میں بزنس کلچر حاوی ہوا — جہاں مالک خود چیف ایڈیٹر بنا، اور اس کا بیٹا نیوز روم کا شہزادہ — وہی دن، دراصل صحافت کے زوال کا نقطہ آغاز تھا۔اداریہ کبھی ایک خودمختار ادارتی ٹیم یا کہنہ مشق ایڈٹر خود لکھا کرتے تھے، جو عوامی نبض پر ہاتھ رکھ کر ملک کی سمت پر بات کیا کرتے۔ مگر اب؟ اب وہی ادارتی صفحہ اشتہارات سے لبریز، ادارہ جاتی مفادات سے مصلحت اندیش، اور ’’نقصان دہ رائے” سے خالی کر دیا گیا ہے۔کیا ہم اسے “جدت” کا نام دے دیں؟کیا ہم مان لیں کہ آج کے دور میں ادارتی صفحہ غیر ضروری ہو چکا ہے؟نہیں۔ ہزار بار نہیں۔اداریہ کیوں لازم ہے؟اداریہ اس لئے ضروری ہے کیونکہ:یہ اخبار کی شناخت ہے؛یہ قاری کے ساتھ ادارے کا غیرعلانیہ معاہدہ ہے؛یہ کسی بھی جمہوری معاشرے میں فکری رہنمائی کا ذریعہ ہے؛یہ رائے سازی کا سب سے معتبر پلیٹ فارم ہے؛اور سب سے بڑھ کر، یہ وہ آئینہ ہے جس میں قوم اپنے چہرے کا سچ دیکھتی ہے۔جب اداریہ بند ہو جائے، تو گویا اخبار نے خود کو فقط “کاروباری دستاویز” بنا لیا۔ پھر خبر میں خبر نہیں، تجزیے میں بصیرت نہیں، اور رائے میں آزادی نہیں ہوتی۔مگر کیوں؟ خوف یا مفاد؟سوال یہ ہے کہ کیا یہ خاموشی صرف جبر کا نتیجہ ہے؟ یا کمرشل مفادات کی قربانی؟ہم سمجھتے ہیں کہ دونوں عوامل یکجا ہو چکے ہیں۔ایک طرف وہ صحافی جو ماضی میں بین السطور سچ بیان کرتے تھے، اب یا تو ملک بدر ہیں، یا خاموشی کو اپنا رزق بنا چکے ہیں۔دوسری طرف وہ میڈیا مالکان جو حکومتی اشتہارات کی طمع میں حق گوئی کو جرم سمجھنے لگے ہیں۔اداریہ لکھنے کے لئے نہ صرف دانش بلکہ جرات کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اور یہ دونوں چیزیں جب بازار کی بولی پر نیلام ہونے لگیں، تو پھر خاموش صفحہ ہی بچتا ہے۔ایک منظر جو چیخ رہا ہےسوچیے، ایک قاری صبح اخبار کھولتا ہے — سب خبریں موجود، رنگ برنگی تصاویر، سیاسی بیانات، کرائم رپورٹس، حتیٰ کہ “سیلیبریٹی گپ شپ” بھی۔مگر جب وہ ادارتی صفحہ کھولتا ہے، تو ادارے کی رائے کی جگہ دوسروں کے کالموں پر مشتمل رائے سامنے منہ چڑا رہی ہوتی ہے — کالم بھی ایسا جس میں نہ کوئی موقف ہے، نہ وژن، نہ جرات، نہ درد۔قاری شاید کڑھتا ہے، مگر پھر کندھے اچکا کر اخبار بند کر دیتا ہے۔مگر ہم، جو صحافت کے اس منظرنامے کو دیکھ رہے ہیں، جانتے ہیں کہ یہ محض ایک صفحے کی کمی نہیں،

یہ ایک پورے صدی کا اختتام ہے۔اردو صحافت: ایک تاریخی ورثہاردو صحافت کی تاریخ پر نگاہ دوڑائیے تو ہمیں مولانا ظفر علی خان، چراغ حسن حسرت، حبیب جالب، اور کئی دیگر نام یاد آتے ہیں، جنہوں نے ادارتی صفحوں کو فکری معرکے کا میدان بنایا۔ وہ اپنے قلم سے معاشرے کے نبض شناس بنے۔یہ اداریے ہی تھے جو کبھی جنگوں کے خلاف بولے، کبھی آمریت کے سامنے ڈٹے، اور جمہوری اقدار کی حمایت میں سینہ تان کر کھڑے ہوئے۔ آج اگر یہی اداریہ خاموش ہو جائے، تو یہ ایک نسل سے اس کی فکری میراث چھین لینے کے مترادف ہے۔امید کی آخری کرنلیکن اندھیرے کے ہر دور میں، ایک شمع ضرور روشن ہوتی ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ نہ تو اداریہ کی موت واقع ہوئی ہے، اور نہ ہی اس کی ضرورت ختم ہوئی ہے۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ اداریہ لکھنے والے یا تو مجبور ہیں، یا دباو اور مصلحت کے مارے ہوئے ہیں۔اور اگر ایسا ہی ہے، تو پھر ہمیں ایسی نسل تیار کرنی ہو گی جوبین السطور لکھنے کا ہنر جانتی ہو،جبر کے موسم میں سچ بولنے کی ہمت رکھتی ہو،اور “کمرشل اخلاقیات” کے سامنے اپنے قلم کو سرنگوں نہ کرے۔اداریہ ابھی زندہ ہے — مگر شاید زخمی، شاید بے آواز، ہاں مگر مردہ نہیں۔اس کی نبض ابھی چل رہی ہے — ہمیں فقط اس کی صدا دوبارہ سننے کی کوشش کرنی ہے۔آخر میں…صحافت کبھی صرف خبر نہیں تھی، وہ ایک عہد تھا —جس میں اخبار کا ادارتی صفحہ قاری کے لیے ایک چراغ تھا، ایک لائیٹ پول تھا۔آج وہ چراغ بجھایا گیا ہے،مگر ہوا کی ایک ہلکی سی لہر بھی اگر سچی ہو —تو وہ شعلہ پھر سے بھڑک سکتا ہے۔ہماری صحافت مر نہیں گئی،وہ فقط کچھ دیر کے لیے خاموش ہوئی ہے — ایک وقفہ ہے _شاید ہمیں آزمانے کے لیے،کہ ہم اسے کتنا یاد کرتے ہیں، اس کی کتنی کمی محسوس کرتے ہیں اور اس کی واپسی کے لیے کتنا تڑپتے ہیں۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved