تازہ تر ین

امریکہ کی صحافت طوائف گھری ھوی ھے تماش بینوں میں۔۔اسلام آباد میں کرفیو زندگی سسکیاں لینے پر مجبور جنازے بھی نہیں پڑھے جا سکے۔۔جمعہ کے روز اسلام آباد کو کلب سے آنے والے سمیت تمام انٹری ایگزٹ کے راستے سیل کر دئیے گئے۔۔سیونتھ اور ایٹتھ نیتھ ایونیو مکمل طور پر سیل فون بند۔۔بلیو ایریا مکمل طور پر لاک ڈاون سمیت عوام جمعہ کے نماز سے محروم۔۔پریس کلب الیکشن بڑے اپ سیٹ خالد اور نئیر کو شکست۔دھشت گردی کا خطرہ الرٹ جاری۔۔اسلام آباد میں دو عدد ڈرون بھیجنے والا دہشتگرد ہری پور سے گرفتار۔افگانڈو افغان وزارت دفاع کا اہلکار ہے ۔ہری پور سے ڈرون اڑائے تھے ۔عرب ممالک نے امریکہ کو اڈے ،میزائل ریڈار جس دن دیے اسی دب ہی خودمختاری اور سالمیت ختم ہوگئی تھی ۔لیفٹیننٹ جنرل(ر) معین الدین حیدر۔۔اڈے ،میزائل ریڈار جس دن دیے اسی دب ہی خودمختاری اور سالمیت ختم ہوگئی تھی۔اب اگر حملے ھور ھے تو ذمہ دار ایران نھی عرب ممالک خود ھے۔۔اب دوبئ کی ٹریڈنگ بذریعہ پاکستان ہو رہی ہے کنٹینرز جہازوں میں گراچی آ رہے ہیں۔۔اسرائیلیوں کی رات کی نیندیں حرام ہو چکی ہیں ،مزید تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

دنیا بدل گئی ہے ۔ اظہر سید امریکہ کو کسی نے نہیں ڈبویا یہ کیپٹلزم کے گھاٹ اترا ہے ۔سپر پاور کی کہانی اسی طرح ختم ہو رہی ہے جس طرح ماضی کی عظیم سلطنتیں فنا کے گھاٹ اتریں۔ایران پر حملہ اونٹ کی کمر پر تنکہ ہے جس کا بوجھ اٹھایا جانا ممکن نہیں رہا ۔سب کو حقیقت کا پتہ چل گیا ہے ۔ایرانی جنگ بندی کا معاوضہ مانگنے لگے ہیں ۔سعودی عرب نے ایران پر حملہ نہیں کیا امریکی شکوہ کرنے لگے ہیں۔کیپٹلزم خود غرض ہے ۔ یہ کیپٹلزم بیس سال تک امریکہ کو افغانستان میں بٹھا کر اس کا دودھ نکالتا رہا ۔ایک امریکی فوجی کی عینک ،کپڑے اور جسم پر سجے دوسرے سازو سامان سے دو سو سے زیادہ جونکیں خون چوستی رہیں ۔کھربوں ڈالر کے اخراجات کے بعد جب ہاتھی نڈھال ہو گیا تو ان جونکوں یعنی جنگی صنعتوں نے امریکہ کو افغانستان سے نکلنے کی اجازت دے دی۔جنگی صنعت کے منہ کو جو خون لگ چکا ہے اس نے پہلے وینزویلا پر حملہ کروایا پھر ایران پر چڑھ دوڑا ۔مارکیٹ میں دوسرے کھلاڑی بھی موجود ہیں۔جب جونکیں امریکی معیشت کو چوس رہی تھیں چینی خاموشی سے ترقی کرتے جا رہے تھے ۔آپریشن سیندور کے بعد بھارت کی دھوتی اتری ایران پر حملہ امریکی دھوتی اتار دے گا ۔سعودی عرب اس لئے ایران پر حملہ نہیں کر رہا باقیوں کی طرح سعودیوں کو بھی پتہ چل چکا ہے ہاتھی دم توڑ رہا ہے ۔اردن،قطر،عراق ،بحرین شام کسی نے ایران پر حملہ نہیں کیا باوجود اس کے ایرانی میزائل انہیں نشانہ بناتے رہے ۔ظلم تو یہ کرد بھی امریکیوں کے قابو میں نہیں آئے ۔کوئی دن جاتا ہے ایران جنگ ختم ہو جائے گی ۔امریکی دھوتی اتر جائے گی ۔خلیج کی ساری ریاستیں امریکیوں کے اثر سے آزاد ہو جائیں گے ۔دنیا کو چلانے کے نئے اصول وضع ہونگے ۔

گورباچوف نے پسپائی کا فیصلہ کر کے دنیا کو ایٹمی جنگ سے بچا لیا تھا ۔سوویت یونین کو تحلیل کر دیا تھا ۔سوویت یونین چاہتا تو دنیا کو تین مرتبہ تباہ کر سکتا ہے ۔خود بھی مرتا ساری دنیا کو بھی مار دیتا لیکن روسی انسانیت کے محسن ثابت ہوئے ۔امریکی معیشت بھی سوویت معیشت کی طرح برباد ہو چکی ہے ۔ملٹی نیشنل کمپنیوں نے سپر پاور کو کھا لیا ہے ۔امریکی اسی جگہ پر کھڑے ہیں جہاں کبھی سوویت یونین کھڑا تھا۔وہی آپشن امریکہ کے پاس ہے جو کبھی سوویت یونین کے پاس تھا ۔ایٹمی ہتھیار استعمال کریں اور ایران کو شکست دے دیں یا پسپا ہو جائیں ۔امریکی ریاستوں کو آزاد ہونے کی اجازت دے دیں ۔سوویت یونین نے ایٹمی ہتھیار استعمال نہیں کئے تھے ۔دیکھنا یہ ہے امریکی کیا فیصلہ کرتے ہیں ۔ایران میں ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار استمال کئے یا روایتی ایٹم بم استعمال کیا پورے خلیج کا نقشہ تبدیل ہو گا اور ساتھ میں دنیا کا نقشہ بھی بدلے گا

۔دوسری جنگ عظیم میں صرف امریکیوں کے پاس جوہری ہتھیار تھے آج پانچ نہیں سات ایٹمی طاقتیں ہیں ۔کر لیں ایران میں ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال اور لے آئیں دنیا کو اس سطح پر جہاں اگلی عالمی جنگ پتھروں سے لڑی جائے ۔

ہم ایسے محب وطن ہیں صحافت کی آڑ میں اس مٹی کے خلاف اپنا خبیث باطن ظاہر کرتے ہیں ۔کھاتے یہاں سے ہیں پلیٹ میں کھایا ہوا ہگتے ہیں ۔اقوام متحدہ میں ایک قرار داد سعودی عرب اور عرب امارات پر حملہ کی تھی ۔بیس ارب ڈالر سے زیادہ زرمبادلہ یہاں سے آتا ہے ۔ہم ایسے غلیظ ہیں خبر بناتے ہیں گویا اپنے اندر کا گند باہر نکالتے ہیں “پاکستان نے ایران کے خلاف قرارداد کے حق میں ووٹ دیا”اتنے گندے ہیں پاکستان نے ایران پر امریکہ اسرائیل حملہ کی مذمت کی اور دوسری قرارداد کے حق میں ووٹ دیا ۔ایران نے پاکستان کا شکریہ ادا کیا چونکہ کتے کے بچے ہیں اس کا زکر ہی گول کر دیا ۔ مٹی سے وفا ہر جنٹلمین کے خمیر میں ہوتی ہے چونکہ ہم خنجر ہیں اس لئے اس مٹی سے وفا ممکن ہی نہیں ہاں نوکری یہاں کرنا ہے ۔پیسے یہاں سے کمانے ہیں لیکن خنجر ہیں اس لئے گندگی بھی یہاں ہی کرنا ہے ۔پختون،پنجابی،بلوچ،سندھی ہم سب ایک ہیں ۔یہ ملک ہم سب کے بچوں کی چھت ہے ۔

جو اس مٹی میں گھس بیٹھئے ہیں وہ چن چن کر ایسی چیزیں لاتے ہیں ایک دوسرے سے نفرت پھیلے ۔وفاق کمزور ہو ۔جو معاشرہ تباہی کے گھاٹ اترے پیچھے ایسے ہی دلال ہوتے ہیں جنہوں نے معاشرے میں بھائی چارہ کی بجائے نفرت پھیلائی ہوتی ہے ۔ انتشار پیدا کیا ہوتا ہے۔ہم ایسی ذہنیت کو جانتے ہیں ۔پہچانتے ہیں۔سدباب کرنا بھی آتا ہے لیکن رحم کرتے ہیں ۔شائد سنبھل جائیں۔

ایران جنگ ۔اظہر سید امریکہ اور اسرائیل نے جن مفروضوں پر ایران کو نشانہ بنایا جنگ کے نو روز گزرنے پر جو حقائق دنیا کے سامنے ہیں ایران،چین اور روس کی تیاریاں زیادہ مکمل تھیں ۔ابتدائی حملہ سے آج تک ایرانی شہروں پر تباہی مسلط کی گئی ۔بیشتر سیاسی اور فوجی قیادت ختم کر دی گئی لیکن ردعمل حیرت انگیز ہے ۔خلیج میں ٹھاڈ میزائل دفاعی سسٹم کے چار ریڈار موجود تھے امریکہ اسرائیل کے ابتدائی حملوں کے بعد ایرانی ردعمل میں کویت،اردن،قطر میں سارے ریڈار تباہ ہو چکے ہیں ۔اب صرف پٹریاٹ،ایرن ڈوم اور ایرو دفاعی شیلڈ موجود ہیں لیکن وہ ایرانی میزائل روکنے میں ناکام ہیں۔تباہی ایران میں مچی ہے ناکامی اسرائیل اور امریکہ کی زیادہ خوفناک ہے ۔اس مرتبہ ایرانی میزائلوں کو جو گائیڈنس میسر ہے وہ سات ماہ پہلے حاصل نہیں تھی

۔اس دفعہ ابرہم لنکن حملہ کے دوسرے روز ہی ایرانی میزائلوں کا نشانہ بن گیا باوجود اس کے طیارہ بردار جہاز مکمل حفاظتی شیلڈ میں تھا لیکن شائد چینی اور روسی ٹیکنالوجی سے بچ نہیں پایا ۔لڑائی کے دوران چینی اور روسی مدد کے کوئی شواہد موجود نہیں لیکن امریکی میڈیا روسی معاونت کی خبریں دے رہا ہے لیکن بغیر شواہد کے ۔دو چیزیں ممکن ہیں چینی معاونت پہلے سے شروع تھی اور متوقع حملہ کے تناظر میں تھی ۔شائد چینی ہنر مند اب بھی زیر زمین میزائل ٹھکانوں پر موجود ہوں جو چینی سٹلائٹ کی معاونت سے سو فیصد درست نشانہ بازی کروا رہے ہیں ۔سو فیصد درستگی کا یہ عالم ہے امریکی فوجی کویت کے ہوٹل کے جس کمرے میں موجود تھے اسے نشانہ بنایا گیا ۔سات امریکی فائٹر جیٹ کویت میں “فرینڈلی” فائرنگ کا نشانہ بن گئے بقول امریکی کویتی موقف کے لیکن ایوی ایشن کے عالمی ماہرین امریکہ کویت موقف کو تسلیم نہیں کرتے اور کہتے ہیں امریکی طیارے برتر ٹیکنالوجی کا نشانہ بنے ہیں ۔ابرہم لنکن میدان جنگ سے بھاگ گیا ہے ۔خلیج میں موجود لڑاکا جیٹ قبرص منتقل ہو گئے ہیں ۔قطر،بحرین اور اردن میں فوجی اہلکار وہاں سے نکال لئے گئے ہیں۔خلیج میں بچے کچھے ریڈار وہاں سے اسرائیل منتقل کر دئے گئے ہیں ۔لگتا ہے ایران ،روس اور چین کا ہوم ورک زیادہ مکمل تھا اور اس میں ایرانی فوجی اور سیاسی قیادت کے قتل ہونے کا باب بھی شامل تھا ۔آسان لفظوں میں ایران کا انتظامی ڈھانچہ تباہ کرنے،سیاسی اور فوجی قیادت کو راہ سے ہٹانے کے باوجود امریکہ اور اسرائیل یہ جنگ ہار گئے ہیں۔جوابی حملوں کی ایرانی صلاحیت برقرار ہے۔ ایسا لگتا ہے زمینی قبضے کے بغیر یہ صلاحیت ختم کرنا ممکن نہیں ۔صرف دو آپشن باقی ہیں ۔ایران میں زمینی افواج اتریں اور کامیابی حاصل کریں ۔امریکہ ایٹمی حملہ کرے ۔جیٹ طیاروں سے بمباری میں تباہی مچانا ممکن ہے زیر زمین میزائل کے سارے ٹھکانے ختم کرنا ممکن نہیں کہ اب ایرانی میزائل سو فیصد درستگی کے ساتھ ریڈار بیٹریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔آبنائے ہرمز بند ہوئے آج چھٹا دن ہے صدر ٹرمپ کے تمام تر بانگ دعووں کے باوجود آبنائے ہرمز کو کھولا نہیں جا سکا ۔دنیا بحران کا شکار ہو چکی ہے ۔امیر ترین خلیجی ریاستوں سے سرمایہ کار بھاگ رہے ہیں اور مسلسل بھاگ رہے ہیں۔ہر گزرتے دن ٹرمپ اور نیتن یاہو کے کپڑے اترتے جا رہے ہیں کچھ دن اور گزر گئے دونوں دہشت گرد دنیا کے سامنے ننگے کھڑے ہونگے ۔پاکستان کی باری تو جب آئے گی تب آئے گی ابھی ایران پر حملہ کے نتایج تو بھگت لیں ۔ایٹمی حملہ کی آپشن استمال کریں گے اسکی قیمت تیسری عالمی جنگ کا خدشہ ہے ۔زمینی افواج اتریں گے تو پتہ نہیں روس اور چین نے اسکی ایران کو کیسی تیاری کرا رکھی ہے ۔سیاسی اور فوجی قیادت کے ختم ہونے کے باوجود جو مزاحمت ہو رہی ہے اس کا دوسرا مطلب یہ ہے ہوم ورک مکمل تھا ۔ایران پر حملہ کے نتایج آئیں گے اور ضرور آئیں گے جو مغربی دنیا کیلئے ناقابل برداشت ہونگے ۔

شجاعت ہاشمی نماز جمعہ کے دوران روزے کی حالت میں خالق حقیقی سے جا ملا !! انا للہ و انا الیہ راجعون ہ۔۔۔۔۔۔تیریاں تو ای جانڑیں ربا ۔۔۔۔۔۔جنازے کی نماز آج 13 مارچ 2026 ء بعد از نماز تراویح 9 بجے رات جامعہ نعیمیہ گڑھی شاہو لاہور میں ہو گی شجاعت ہاشمی ۔۔۔۔۔اداکار نہیں فنکار تھا ، راولپنڈی کی ہر علمی ادبی تقریبات میں تسلسل سے شریک ہوتا ، مگر لکھا کبھی نہیں ، گورڈن کالج راولپنڈی سے انگریزی ادب میں ماسٹر 1994 ء میں صدارتی ایوارڈ تمغۂ حسن کارکردگی ملا راولپنڈی میں 1948 ء میں ولادت ہوئی ، نوجوانی میں اکثر شجاعت ہاشمی راولپنڈی کے محلہ بنی یا ملحقہ سرکلر روڈ پر کبھی کبھار ہماری نظر میں آجایا کرتا ، قبیلہ قریش سے تھا ، اس لئے ،ملکوں ، سے محبت کرتا تھا گورڈن کالج کے پروفیسر نصراللہ ملک سے متاثر تھا راولپنڈی میں پیدا ہونے والا شجاعت ، آج لاہور میں سپرد خاک ہو گا ، بقول سید ضمیر جعفری خلد سے نکلے تو درماندہ کلاں پیدا ہوئے ہم کہاں بوئے گئے اور کہاں پیدا ہوئے۔۔۔۔۔۔جبار مرزا 13 مارچ 2026 ء ۔۔۔۔۔۔

نانی کمیٹیاں والی ==================شاہد اقبال کامران ============== میں ایسے شرپسند لوگوں کے خلاف قانون سازی کرنا چاہتا ہوں ،جو دوسروں کو ہر لحظہ ان کی عمر کا احساس دلاتے رہتے ہیں۔شرلی بے بنیاد بھی ایسے ہی لوگوں میں شامل ہے ۔ہزار بار سمجھا چکا ہوں ،تربیت کرنے کی کوشش کر چکا ہوں ، دم بھی کروا کر دیکھ لیا ہے ،لیکن اس کے نظام غور و فکراور طرز گفتار میں دوسروں کی بڑھتی عمر کا شمار اور برملا اظہار شامل رہتا ہے۔وہ بظاہر اپنائیت سے ،مگر درحقیقت شرپسندی سے لوگوں کے نام رکھتا ہے ، چاچو، ماموں، تایا، کھالہ(خالہ کو کہتا ہے) پھپھو یا پھپھی، اور نانی وغیرہ ۔اسے لاکھ بار سمجھایا ہے کہ لوگوں کو ان کے اعمال و کردار اور ان کی گفتار سے جانچا کرو ۔کسی کو ماما یا نانی کہہ دینے سے کچھ بھی نہیں ہوتا۔اس کا موقف بڑا عجیب و غریب سا ہے۔کہتا ہے کچھ غلطیاں انسان کم علمی ، نادانی اور انجانے میں کر گزرتا ہے۔وہ درگزر کے قابل ہوتی ہیں ۔لیکن غلطیوں اور مکاریوں کی بعض قسموں کا تعلق خالصتاً بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ ہوتا ہے ۔وہ کہتا ہے کہ نانی کتنا محترم اور پیار بھرا رشتہ ہے ۔لیکن جن بزرگ مسمات میں نہ شفقت اور پیار ہو ،نہ دوسروں کا احساس ،لیکن بظاہر وہ ایسے ڈرامے کرتی پھریں جیسے وہ تو بہت ہی ہمدرد ،غم خوار دوسروں سے محبت اور شفقت کرنے والی ہستی ہیں۔ایسیوں کو وہ شیطان کی نانی قرار دیتا ہے۔خیر میں اس سے کیا بحث کروں ۔اس کا ایک ذاتی دکھ بھی سمجھتا ہوں ۔اس نے موٹر سائیکل خریدنے کے لیے محلے کی ایک عمر رسیدہ مگر ماہر امور کمیٹی خاتون کے ساتھ ایک کمیٹی میں شرکت کی تھی۔ یہ کمیٹیوں والی خاتون پیشے کے اعتبار سے دایہ تھی ۔اس پیشے اور مہارت کی وجہ سے وہ محلے کی تمام عورتوں کی رازدار ، خدمت گزار اور واقف حال تھی ۔شرلی باقاعدگی سے اپنے حصے کی کمیٹی اسے ادا کرتا تھا ۔اس نے اپنے اخراجات بہت ہی محدود کر دیئے تھے۔اس نے پلے سے چائے پینی چھوڑ دی تھی ،گھر میں ہوتا تو کھانا نہیں کھاتا تھا ، کوئی کھلا دے تو انکار نہیں کرتا تھا۔یہاں تک کہ ایک دن چھوڑ کر صابن سے منہ دھویا کرتا ۔اس نے پرانا پرفیوم ختم ہونے کے بعد نیا پرفیوم نہیں خریدا ،کہتا تھا کہ اب احساس ہوا ہے کہ انسان کے خیالات اچھے ہوں ، تو اس کے جسم انسانی کی اپنی مہک بھی بڑی دلفریب ہوتی ہے۔ستم ظریف کئی بار کہہ چکا تھا کہ شرلی بھائی میں گواہ ہوں کہ تم نے سب سے زیادہ فریب خود اپنے ہی دل کو دیئے ہیں۔لیکن اس دن قیامت ہی آگئی جب شرلی کو علم ہوا کہ جس مہینے کی سات تاریخ کو اس کی کمیٹی نکلنے والی تھی ،اس مہینے کی چھ تاریخ کو نانی کمیٹیاں والی ساری رقم لے کر غائب ہو گئی ۔نانی کمیٹیاں والی بلوچ ہوتی تو اس کے گم شدہ ہوجانے کو طرح طرح کے امکانات میں شمار کیا جا سکتا تھا،ممکن ہے شرلی اس کی تصویر والا پوسٹر لئے لاپتا افراد کے کسی احتجاج میں بھی شامل ہوا کرتا۔لیکن نانی کمیٹیاں والی تو شرلی کے شہر کے وسط میں رہنے والی سرد گرم چشیدہ اور بعد ازاں جہاں دیدہ خاتون تھی۔اس نقد نقصان نے شرلی کا دل توڑ کر رکھ دیا۔وہ خاموش آواز میں نانی کمیٹیاں والی کو بددعائیں دیا کرتا ۔ایک دن کھلکھلا کر ہنس پڑا ۔اس کے اس طرح سے بغیر کسی وجہ کے کھلکھلا کر ہنسنے سے میں اور ستم ظریف بڑے حیران ہوئے ۔پوچھا کیا ہوا شرلی؟

کہنے لگا یار میں ایک عرصے سے نانی کمیٹی خور کو بددعائیں دے رہا ہوں، ابھی ابھی اچانک ایک خیال میرے دل آیا کہ او نادان جس خدا نے آج تک تمہاری کوئی دعا قبول نہیں کی ، وہ تمہاری بددعا کیونکر سنے گا ۔چل چپ کر اور اپنے دھیان کو کسی دوسرے گیان میں لگا۔میری ہنسی چھوٹ گئی۔میں نے شرلی کو احتیاط سے تھپکی دی اور کہا کہ شرلی یار تم اچھے آدمی ہو ،دفع کرو نانی کے فراڈ کو ،وہ اللہ کی پکڑ میں ضرور آئے گی۔چند روز بعد شرلی دھڑام سے کمرے میں داخل ہوا ،اس سے پہلے کہ اس کے اس طرح آنے کی وجہ پوچھتے ،اکھڑے سانسوں کے ساتھ کہنے لگا وہ نانی کمیٹیاں والی واپس آ گئی ،واپس آ گئی ،قسمے بالکل پہچانی نہیں جارہی ۔فل ڈرامہ بن کر آئی ہے۔لوگوں نے اسے گھیر رکھا تھا ، وہ بڑے اطمینان کے ساتھ کہانی سنا رہی تھی کہ اس کے گھر چور گھس آئے تھے اور اس سے سارےپیسے چھین کر فرار ہو گئے ۔وہ فوری طور پر تھانے گئی تھی ،تھانیدار نے اسے مشورہ دیا کہ وہ کچھ دنوں کے لیے کسی عزیز رشتے دار کے ہاں چلی جائے ۔جب چور پکڑے گئے تو تمہیں اطلاع کر دیں گے۔بس اتنی سی بات ہے۔محلے میں کوئی بھی اس کی باتوں پر یقین کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔لیکن پتہ نہیں کس طرح ،اس نے تھانیدار کو ساتھ ملایا ہوا ہے ۔تھانیدار نے ایک رضاکار سپاہی اس کے گھر کے باہر بٹھا دیا ہے تاکہ کوئی غصیلا محلے دار نانی فراڈن کا سر ہی نہ پھاڑ دے۔وہ تو بھلا ہو محلے کی اس دلیر خاتون کا ،جو دو وکیلوں کی بیوہ اور تیسرے وکیل کی بیوی ہے، اس نے اپنے حاضر سروس شوہر کی مدد سے نہ صرف نانی کمیٹیاں والی کے خلاف مقدمہ دائر کروایا ،بلکہ مسلسل پیروی اور اثر و رسوخ کے متناسب اور مناسب استعمال سے نانی کو مالی خرد برد کا الزام ثابت ہو جانے پر سزائے قید بھی دلوا دی۔اب نانی کمیٹیاں والی کو جیل کیا ہوئی ، شرلی مزید اداس اور مایوس ہو گیا۔پوچھا کہ یار تمہیں تو خوش ہونا چاہیئے تھا نانی کے جیل جانے سے۔کہنے لگا اس کے جیل جانے سے خوشی تو ملے نہ ملے ،لیکن اب ہماری رقم ملنے کا کوئی امکان باقی نہیں رہا۔ایک روز شرلی نے خبر دی کہ نانی ضمانت پر رہا ہو گئی ہے۔محلے میں یہ بات پھیلی ہوئی ہے کہ اس کی پشت پر تھانیدار کی حمایت اور سفارش موجود ہے۔جیل سے آنے کے بعد نانی کے طور طریقے ، انداز نششت و برخاست ، یہاں تک کے چلنے پھرنے کا انداز بھی تبدیل ہوگیا۔اس نے یہ بات پھیلانا شروع کردی کہ وہ جیل کسی مالی خرد برد کی وجہ سے نہیں ، سیاسی مخالفین کی سازش کی وجہ سے گئی تھی۔وہ بڑے اعتماد سے کہتی کہ جیل نے مجھے گہرے غوروفکر کا موقع دیا ہے ۔وہاں میں نےجیل لائبریری کی ساری اردو کتابیں پڑھ ڈالیں ہیں ۔شاعری اور ناول تو منہ زبانی یاد ہیں ۔بس میڈیکل ایجوکیشن پوری نہیں ہو سکی ،اس لیے چھوڑنی پڑی ،اس کے علاؤہ میں نے کچھ بھی نہیں چھوڑا۔شرلی اس بدلی ہوئی نانی کی باتیں سنتا اور توبہ توبہ کرتا ہے ،کہتا تھا کہ پہلے یہ دایہ گیری کیا کرتی تھی ،اب دادا گیری پر اتر آئی ہے۔وہ حیران تھا کہ اسے یہ چالاکیاں کون سکھا رہا ہے۔ پھر ایک روز بتانے لگا کہ ایک آن لائن اخبار روزنامہ تمانچہ انٹرنیشنل کا مدیر ہوشیار موٹا اس کا مشیر بن گیا ہے۔یہ ہوشیار موٹا بنیادی طور پر پولیس کا مخبر شمار ہوتا تھا ،پھر اس نے اپنی موٹر سائیکل کی نمبر پلیٹ پر پریس لکھوانے کے لیے ایک آن لائن اخبار جاری کر دیا اور اب وہ نانی کا مشیر اعلی بنا پھرتا ہے۔اب نانی نے اعلان کر دیا ہے کہ وہ یونین کونسل کا الیکشن لڑے گی۔لوگ کہتے ہیں کہ ہوشیار موٹا اس کی سیاسی تربیت کر رہا ہے۔ہوشیار موٹے نے نانی کو سکھایا اور سمجھایا ہے کہ وہ جاہلوں کی طرح چیخ چیخ کر نہ بولا کرے۔اسے رک رک کر ،ٹھہر ٹھہر کر آہستہ آواز میں بولنا چاہییے۔ہوشیار موٹے نے نانی کو سمجھایا کہ وہ جیل کو شرمندگی کی بجائے اپنے لیے ایک فخر بنا کر پیش کیا کرے ۔وہ بار بار کہا کرے کہ وہ سیاسی قیدی تھی۔ ہوشیار موٹے نے اسے بہت ساری کتابوں اور ان کے مصنفین کے نام بھی یاد کرائے ،اور اسے سکھایا کہ وہ بس یہی باتیں کیا کرے ۔ہوشیار موٹے نے ایک سوشل میڈیا چینل پر ایک انٹرویو بھی اپنے موبائل فون سے ریکارڈ کر کے اپ لوڈ کروا دیا۔شرلی نے جس روز اپنے موبائل فون پر ہمیں نانی کمیٹی خور کا ہوشیار موٹے کو دیا گیا انٹرویو سنایا ،اس روز یقین آ گیا کہ اگر اب قیامت نہیں آئی ،تو پھر کبھی نہیں آئے گی ۔یعنی نانی بڑے تحمل اور آرام سے کہہ رہی تھی کہ”میرے ہسٹیریا میں مبتلا رہنے کی وجہ ہسٹری ہے ، جو میں نے فکشن پڑھتے ہوئے پائی کولو کے ہاں دیکھی ۔” مزید کہنے لگی کہ” جیل میں بہشتی زیور کی ایک سے زیادہ جلدیں دیکھ کر حیرت ہوئی،پوچھنے پر جیلر نے بتایا کہ جیل میں سنیارے بھی کافی زیادہ آتے ہیں۔” اس انٹرویو میں ایک سوال کے رٹے رٹائے جواب میں دایہ نانی کمیٹیاں والی کمال درجے کے اعتماد سے کہہ رہی تھی کہ” ایف ایس سی میں میرے کارل مارکس کم آئے تھے لیکن ابو نے چونکہ سرمایہ پڑھنے میں وقت ضائع کرنے کی بجائے سرمایہ جمع کرنے پر توجہ دے رکھی تھی

،اسلیے انہوں نے مجھے میڈیکل کالج میں داخلہ دلوا دیا۔وہ تو میں نے خود ہی واپس کر دیا تھا ورنہ آج میں بھی ڈاکٹر ہوتی۔” ایک سوال کے جواب میں اس نے بتایاکہ نطشے تھا تو گوالمنڈی ہی کا ،پر اردو ذرا مشکل سی لکھتا تھا۔پھر میں نے جیب خرچ سے رقم بچا کر لعنت کی ایک کتاب خریدی ،اس میں مشکل الفاظ کے معنی دیکھ لیتی تھی۔ یہ اچھا آدمی تھا ،اگر نشہ چھوڑ دیتا تو اور زیادہ اچھی کتابیں لکھ سکتا تھا۔ستم ظریف یہ انٹرویو سن کر کہنے لگا کہ یہ ساری “جاتی عمریا” کی کارستانیاں ہیں۔نانی کمیٹیاں والی نے سستے اسکرپٹ اور سست اینکر کا انتخاب کیا۔اور ایسے ایسے دعوے کر ڈالے ،جن کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔اتنا “شدید” مطالعہ کرنے کی بجائے اگر یہ خاتون صرف خود سے میٹرک ہی کر لیتی، تو اس کی آنکھیں وغیرہ کھل چکی ہوتیں۔ شرلی پوچھنے لگا کہ یہ شدید مطالعے سے کیا مراد ہے ؟ ستم ظریف نے جواب دیا کہ یہ مطالعے کی وہ قسم ہے جو ذوق و شوق کی بجائے اندھا دھند طریقے سے کیا جاتا ہے۔اس میں کتاب کو ہاتھ نہیں لگایا جاتا ،بلکہ جس طرح ختم پڑھنے کے لیے مدرسے کے بچے بلائے جاتے ہیں ،اسی طرح معمولی معاوضے پر لوگوں کو ترغیب دی جاتی ہے کہ ہسٹری میں سے فکشن نکال کر پڑھیں اور کاغذ پر لکھ کر چٹ پکڑا دیں۔ایسی بہت ساری چٹیں جب جمع ہو جائیں تو شرطیہ رنگ چٹا ہو جاتا ہے ۔کچھ یہی وجہ ہے کہ اب جاتی عمریا کی نانی کمیٹیاں والی اپنے گورے رنگ کے ساتھ ایک متحمل مزاج لیڈر بننے کی مشق کر رہی ہے۔

اب دوبئ کی ٹریڈنگ بذریعہ پاکستان ہو رہی ہے کنٹینرز جہازوں میں گراچی آ رہے ہیں اور لانچیں انہیں دوبئ لے کر جا رہی ہیں کراچی پورٹ اور قاسم پورٹ کو ٹرانزٹ شنپمنٹ کے لیئے تیزی کے ساتھ تیار کیا جا رہا ہے اگر اس سچوئیشن کو صحیح مینج کیا جاۓ تو کراچی واپس کراچی بنُ سکتا ہے

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved