تازہ تر ین

صدر زرداری کا دورہ چین محض کیانی نھی۔۔صدارتی کرسی خطرے میں۔۔صدر مملکت آصف علی زرداری کیا ڈھای سال گزارنے کے بعد جانے والے ھے۔۔صدر مملکت آصف علی زرداری کی جماعت اب وزیراعظم کے انتخاب کی طرف گامزن ھے سوالات کے جوابات 72 روز مے۔۔کیا یہ بلڈنگ ایک ملک کو تنگ کر رھی ھے۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

‏آبدوز سے بورڈ روم تک، صدر آصف علی زرداری کا دورۂ چین محض ایک کہانی نہیں تھا۔جب صدر زرداری چین پہنچے تو ایک طرف ان کے خلاف پروپیگنڈا تھا، سوشل میڈیا پر تنقید اور بدتمیزی کا طوفان تھا، لیکن باخبر حلقے جانتے تھے کہ اصل کہانی کچھ اور ہے۔ بظاہر ساری توجہ ہنگور آبدوز کی کمیشننگ پر رہی، جو ایک نمایاں اور پروقار دفاعی تقریب تھی، اور یہی وہ منظر تھا جو سب نے دیکھا۔مگر اس تقریب کے پیچھے ایک اور اہم عمل خاموشی سے جاری تھا۔ کیمروں سے دور، دستاویزات پر دستخط ہو رہے تھے اور مستقبل کے فیصلے طے پا رہے تھے۔پاکستان اور چین کے درمیان ہونے والے مفاہمتی یادداشتوں نے وہ کام کر دکھایا جو برسوں کی معاشی بحثیں نہ کر سکیں۔ ایک واضح اور عملی روڈ میپ سامنے آگیا۔ان معاہدوں کا دائرہ کار آئی سی ٹی انفراسٹرکچر، چائے کی صنعت کی بہتری، اور معدنی وسائل کی پراسیسنگ تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ بظاہر مختلف شعبے ہیں، مگر درحقیقت یہ پاکستان کے بنیادی مسائل سے جڑے ہیں، جن میں نوجوانوں کی بے روزگاری، زرعی پسماندگی، اور خام وسائل برآمد کرکے مہنگی تیار اشیاء درآمد کرنے کی پرانی روش شامل ہے۔پاکستان وسائل سے مالا مال ملک ہے، خاص طور پر معدنیات کے معاملے میں۔ مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ ان کے درست استعمال کا رہا ہے۔ دہائیوں سے یہ وسائل خام شکل میں بیرون ملک جاتے رہے اور اصل فائدہ دوسروں کو ہوتا رہا۔اب ایک نئی سوچ ابھرتی دکھائی دے رہی ہے۔ وسائل کو ملک کے اندر پراسیس کرنا، یہیں ویلیو ایڈ کرنا، اور تیار مصنوعات کی صورت میں برآمد کرنا۔

آئی سی ٹی کا شعبہ طویل المدتی طور پر سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان کے پاس باصلاحیت اور بڑی تعداد میں نوجوان موجود ہیں، مگر انہیں عالمی منڈی سے جوڑنے کے لیے انفراسٹرکچر اور مواقع کی کمی رہی ہے۔ یہ خلا اب پُر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔چائے کا شعبہ بظاہر چھوٹا لگ سکتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ بھی ایک بڑی معاشی حقیقت ہے۔ پاکستان ہر سال اربوں ڈالر کی چائے درآمد کرتا ہے۔ اس شعبے میں بہتری صرف ایک فصل کی بہتری نہیں بلکہ ایک مکمل صنعت کو خود کفیل بنانے کا عمل ہے۔یہاں ایک اور اہم پیش رفت بھی سامنے آئی۔ سی پیک کے تصور کو عملی شکل دینے میں صدر آصف علی زرداری کا کردار بنیادی رہا، اور اب اسی دورۂ چین کے دوران سی پیک 2 کا عملی آغاز بھی واضح طور پر نظر آ رہا ہے۔ یہ دوسرا مرحلہ صرف منصوبوں کا تسلسل نہیں بلکہ پاکستان کی صنعتی، ٹیکنالوجیکل اور برآمدی معیشت کی نئی بنیاد بن سکتا ہے۔صدر آصف علی زرداری نے ان معاہدوں کو معاشی خودمختاری اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا روڈ میپ قرار دیا۔ یہ الفاظ اہم ضرور ہیں، مگر اصل فرق اس بات نے ڈالا کہ یہ کہاں اور کس ماحول میں کہے گئے۔نہ کوئی سیاسی جلسہ تھا، نہ پریس کانفرنس، یہ سب اس کمرے میں ہوا جہاں معاہدوں پر دستخط ہو رہے تھے، چین میں، گواہوں کی موجودگی میں، اور باقاعدہ ریکارڈ کا حصہ بن کر۔دن کے آغاز میں کمیشن ہونے والی آبدوز ماضی کی ایک علامت تھی، ایک ایسی وراثت جس نے دفاع کو مضبوط کیا۔اور دن کے اختتام پر ہونے والے معاہدے مستقبل کی سمت متعین کر رہے تھے۔ایک قدم پاکستان کے دفاع کے لیے تھا۔ اور دوسرا اس پاکستان کی تعمیر کے لیے جس کا یہ ملک حق دار ہے، جہاں سی پیک 2 ترقی کے ایک نئے باب کو

کنگ چارلس کی ماسٹر کلاس! زندگی میں بہت سے گلوبل لیڈرز کو براہ راست بولتے سنا، ٹی وی پر دیکھا، مگر کنگ چارلس کا امریکی کانگریس سے خطاب ایک ماسٹر کلاس تھی. اگر دیکھ سکیں تو ضرور دیکھیں، نیکسٹ لیول!! 28 اپریل کی شام لندن میں میں اپنے کمرے میں بیٹھا تھا۔ موسم بدلا ہوا، باہر ہلکی پھوار، چائے کا کپ ٹھنڈا ہو رہا تھا، اور ٹیلی ویژن پر سی این این کا براہِ راست نشریہ چل رہا تھا۔ سکرین پر واشنگٹن کا کیپٹل ہل تھا، اور کانگریس کے مشترکہ ایوان میں شاہ چارلس سوم اسٹیج پر داخل ہو رہے تھے۔ پیچھے ڈاؤننگ سٹریٹ کا وزیراعظم نہیں، ساتھ کوئی کابینہ کا وفد نہیں، صرف ملکہ کیملا، اور بکنگھم پیلس کا روایتی پروٹوکول۔امریکی نائب صدر اور سپیکر آف دی ہاؤس مائیک جانسن دائیں جانب۔ کانگریس مین، سینیٹرز، فوجی جنرل، سپریم کورٹ کے ججز، سب اُٹھ کر تالیاں بجا رہے تھے۔ امریکی تاریخ میں یہ نواں موقع تھا جب ایک برطانوی بادشاہ نے کانگریس سے براہِ راست خطاب کیا، اور پہلا موقع شاہ چارلس کا تھا۔شاہ نے پوڈیم تک پہنچ کر ایک لمحے کا توقف کیا۔ ہلکا سر ہلایا اور بات شروع ہو گئی۔ مدھم آواز، ٹھہراؤ، اور ایک ایسا انگریزی لہجہ جو پانچ صدیوں کی تربیت سے نکلتا ہے، جسے سیکھا نہیں جا سکتا، وراثت میں ملتا ہے۔تقریر اکتالیس منٹ کی تھی۔ اُس میں چودہ مرتبہ ہال اِجتماعی کھڑے ہو کر تالی بجانے پر مجبور ہوا (اسٹینڈنگ اوویشن) ۔ یہ کانگریس کی روایت میں کسی بھی غیر امریکی مقرر کے لیے ایک معیار سے بلند ترین تعداد ہے۔ اور ہر ’سٹینڈنگ اوویشن‘ ایک خاص فقرے پر آئی تھی، اور ہر فقرہ ایک بادشاہی پیغام تھا، چائے کے بھاپ سے بھرا ہوا تیر۔پہلا تیر دوسرے ہی منٹ میں چلا۔ شاہ نے کہا، “تین صدیاں پہلے میرے بزرگوں نے، آپ کے بزرگوں سے، ایک ضروری مشورہ کیا تھا۔ وہ مشورہ یہ تھا کہ بادشاہت سے فاصلہ رکھنا چاہیے۔ آج کے دن، میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں اُس مشورے سے پوری طرح متفق ہوں”۔ ہال میں ایک سیکنڈ کا سکوت آیا۔ پھر ہنسی۔

پھر تالیاں۔ پہلی سٹینڈنگ اوویشن۔ یہ برطانوی مزاح کا کلاسیک ’سیلف ڈی پری کیشن‘ تھا، یعنی اپنا مذاق خود اڑانا۔ اور پنہاں پیغام؟ “ہم نے سیکھ لیا، آپ کو بھی سیکھنا چاہیے”۔پھر کسی موڑ پر وہ مرکزی جملہ آیا۔ ” ایک بندے کی مرضی سے، بلکہ بہت سوں کی مشاورت سے”۔ “نوٹ بائی دی وِل آف ون، بٹ بائی دی ڈی لیبریشن آف مینی”۔ ہال میں دو سیکنڈ کا سکوت۔ پھر تالیاں۔ مگر یہ تالیاں پہلے کی تالیوں جیسی نہیں تھیں۔ یہ تالیاں ایسی تھیں جیسے ہال نے فقرہ پہلے سُنا، پھر سمجھا، پھر یاد آیا کہ یہ فقرہ کس کے بارے میں تھا، اور پھر تالی بجائی۔ پانچویں سٹینڈنگ اوویشن پر شاہ نے میگنا کارٹا کا ذکر کیا۔ “1215 میں ایک کمزور بادشاہ کو، ایک طاقتور بیرنوں کے گروہ نے، ایک کاغذ کے ٹکڑے پر دستخط کرنے پر مجبور کیا۔ بادشاہ کا نام جان تھا، اور وہ بادشاہ بہت ناراض تھا”۔ یہاں شاہ نے ایک سیکنڈ کا توقف کیا، تھوڑی سی شرارتی مسکراہٹ آنکھوں میں آئی، اور بولے، “میں اپنے ایک پرکھ کا دفاع کرنے نہیں آیا۔ مگر اُس کاغذ نے، آپ کا آئین، اور آپ کے بانیوں کا سارا فلسفہ، صدیوں بعد ممکن بنایا”۔ ہال قہقہے سے گونج اُٹھا۔ ٹرمپ نے بھی ہنسی، مگر ہنسی اُس وقت تک پہنچ چکی تھی جب اُسے سمجھ آ چکا تھا کہ “ناراض بادشاہ” کا تذکرہ تاریخی نہیں، حالی تھا۔پھر آٹھویں سٹینڈنگ اوویشن پر بادشاہ نے ایک ایسا برطانوی مذاق کیا جس پر سب ہنسے بغیر نہ رہ سکے۔ “ہم نے 1773 میں آپ کو اپنی بہترین چائے بھیجی تھی”، شاہ نے کہا، “اور آپ نے اُسے بوسٹن کی بندرگاہ میں ڈبو دیا”۔ توقف۔ “اب جب کبھی میں چائے کی پیالی اٹھاتا ہوں، تو سوچتا ہوں، شاید ہم نے آپ کو اپنی بہترین نہیں، بلکہ گھٹیا چائے بھیجی تھی۔ آپ کے ردِعمل سے یہی لگتا ہے”۔ ہال میں قہقہے۔ یہ برطانوی ’ڈرائی ہیومر‘ تھا۔ تین سو سال کی ایک شکست کا ذکر، خود کو رعایتی ڈانٹ، اور پنہاں طور پر یہ یاد دہانی کہ “آپ بھی تو کبھی ہماری چائے سے ناراض ہو کر باغی ہو گئے تھے، تو آج جب آپ کے اپنے ادارے ناراض ہو رہے ہیں، تو ذرا غور کیجیے”۔دسویں سٹینڈنگ اوویشن چرچل کے ایک پُرانے فقرے پر آئی، جسے شاہ نے نئے رنگ میں ادا کیا۔ چرچل نے یہ کہا تھا کہ “آپ امریکیوں پر اعتماد کیا جا سکتا ہے، آپ ہمیشہ صحیح کام کرتے ہیں، اور باقی سب کچھ آزمانے کے بعد”۔ شاہ نے یہ فقرہ دہرایا، اور پھر آخر میں ہلکی سی شرارت کے ساتھ کہا، “میں آپ کو دعا دیتا ہوں کہ آپ ’باقی سب کچھ‘ کا تجربہ بہت طویل نہ کریں”۔ تیرہویں سٹینڈنگ اوویشن نسلِ انسانی کی مشترک میراث پر تھی۔ “ہم برطانیہ میں چھ سو سال میں سیکھ پائے کہ بادشاہت ایک علامتی ادارہ بن سکتی ہے، اور پارلیمنٹ ہی اصل اقتدار کی جگہ ہے”، شاہ نے کہا۔ “آپ نے دو سو پچاس سال پہلے یہی بات سیکھی تھی، اور اپنے بانیوں نے اِسے اپنے آئین میں لکھ دیا تھا۔ ہم تاخیر سے سیکھنے والے رہے، آپ تیز سیکھنے والے۔ مگر سیکھا تو دونوں نے ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم میں سے کوئی، یہ سبق بھول تو نہیں رہا”۔یہ آخری فقرہ، “ہم میں سے کوئی، یہ سبق بھول تو نہیں رہا”، اِس سارے دورے کا نچوڑ تھا۔ کسی کا نام نہیں، کسی پر تنقید نہیں، صرف ایک سوال، ہوا میں چھوڑ دیا گیا۔ ہر کانگریس مین نے اپنے لیے سُنا۔ ہر سینیٹر نے اپنی پارٹی کے لیے سُنا۔ اب ذرا تین تہوں میں اِس صورتحال کو دیکھتے ہیں۔پہلی تہہ یہ ہے کہ شاہ چارلس کسی تنہا سفر پر نہیں آئے تھے۔ یہ اپریل دو ہزار چھبیس کا وہ نازک دور ہے جب ٹرمپ کی مایگا بنیاد بکھر رہی ہے۔ ٹکر کارلسن، سٹیو بینن، اور رپبلکن پارٹی کے ایک حصے نے علانیہ ٹرمپ پر تنقید شروع کی ہوئی ہے۔ یورپی اتحادی، خاص طور پر اٹلی کی جورجیا میلونی اور ہنگری کے وکٹر اوربان، جو ابھی تک ٹرمپ کے ساتھی تھے، اب فاصلہ رکھ رہے ہیں۔ کانگریس میں ایران جنگ کے خلاف خط بھیجا جا چکا ہے۔ ڈاؤ جونز اڑتالیس گھنٹوں میں دو ہزار پوائنٹس گر چکا ہے۔ ٹرمپ کا ’کنگ ڈم‘ زیرِ دباؤ ہے۔ایسے میں برطانوی شاہ کا واشنگٹن پہنچنا اتفاق نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا اشارہ ہے جس کی منصوبہ بندی ڈاؤننگ سٹریٹ نے، فارن آفس نے، اور خود بکنگھم پیلس نے، مہینوں پہلے کی تھی۔ پیغام واضح تھا، “ہم آپ کے اتحادی ہیں، مگر ہم آئین کی روایت کے بھی پاسبان ہیں۔ آپ سے دوستی نبھائیں گے، آپ کی اخلاقی پھسلن میں ساتھ نہیں دیں گے”۔دوسری تہہ زیادہ دلچسپ ہے۔ شاہ چارلس خود کوئی فرشتہ نہیں ہیں۔ شہزادی ڈیانا کا سایہ آج بھی ان کے کندھوں پر بیٹھا ہوا ہے۔ میگن مارکل کے ساتھ خاندان کے رویے پر دنیا بھر میں سوال اٹھے ہیں۔ کیملا کا کوئین کنسارٹ بننا ایک ایسی کہانی ہے جس کے بارے میں برطانوی عوام کا ایک بڑا حصہ آج تک نالاں ہے۔ اور سب سے بڑھ کر، برطانوی نوآبادیات کا تاریخی بوجھ، چاہے وہ بنگال کا قحط ہو، کینیا کا مَؤ مَؤ ہو، یا برصغیر کی تقسیم، شاہی خاندان کی بنیادوں سے کبھی پوری طرح اُترا نہیں۔یہ سب درست ہے۔ مگر یہاں بھی ایک سبق ہے۔ آدمی اپنی شخصیت کی کمزوریوں کے باوجود، اپنے ادارے کی روایت کا پاسدار بن سکتا ہے۔ شاہ چارلس آئین کی پاسداری کا وہ سبق دے رہے تھے جو شاہی خاندان نے سترہویں صدی سے سیکھا ہے۔ کنگ چارلس اوّل نے بات نہیں سنی، تو اُس کا سر کاٹ دیا گیا۔ بادشاہ سیکھ گئے۔ آج برطانوی بادشاہ علامتی ہے، اصل اقتدار پارلیمنٹ کے پاس ہے، اور بادشاہ اِس بات پر ناخوش نہیں، مطمئن ہے۔ ادارے کی موت کا خوف، اقتدار کی کمی کے غم سے بڑا ہوتا ہے۔ٹرمپ کے امریکا میں اس وقت اُلٹا سفر چل رہا ہے۔ وہاں صدر، کانگریس، عدلیہ، ایجنسی، سب کا تنازع آہستہ آہستہ ایک شخص کی مرضی کی طرف کھِسک رہا ہے۔ ایگزیکٹو آرڈرز کی تعداد ایک سال میں سب سے زیادہ، عدالتی فیصلے غیر مؤثر، کانگریس مفلوج، اور صدارتی محل نما رہائش گاہیں نئے سرے سے سجائی جا رہی ہیں۔ ’ٹرمپ ہاؤس‘، ’ٹرمپ ٹاور‘، ’ٹرمپ آرگنائزیشن‘۔ تین سو سال پہلے یورپ کے بادشاہوں کا یہی شغل تھا، اور یہی شغل اُن کی تاج پوشیوں اور تاج کشیوں کی وجہ بنا تھا۔اور یہاں شاہ چارلس کا فقرہ ایک تاریخی آئینہ تھا۔ “نہ ایک کی مرضی سے، بلکہ بہت سوں کی مشاورت سے”۔ یعنی، جناب صدر، آپ کا ملک اِس فقرے پر بنا تھا۔ آپ بادشاہت سے بھاگ کر اِس فقرے پر پہنچے تھے۔ اور آپ آج اُسی بادشاہت کی طرف لوٹ رہے ہیں جس سے آپ کے بزرگ بھاگے تھے۔ ذرا رُک کر سوچیں۔تیسری تہہ، شاید سب سے دلچسپ، یہ ہے کہ شاہ چارلس نے ٹرمپ پر تنقید نہیں کی۔ تنقید بادشاہی شان نہیں ہے۔ بادشاہی شان آئینہ پکڑنا ہے، اور یہ کام انہوں نے نفاست سے کیا۔ بھائی، یہ وہ ہنر ہے جو شاید ہمارے سفارت کار کبھی نہیں سیکھ سکیں گے۔ ہمارے ہاں اگر کوئی پیغام دینا ہو تو ہم تین گھنٹے کی پریس کانفرنس بلاتے ہیں، نام لے کر گالی دیتے ہیں، پھر معافی مانگتے ہیں، پھر معافی واپس لیتے ہیں۔ شاہ نے اکتالیس منٹ میں، چودہ تالیوں کے ساتھ، بغیر کسی نام کے، ایسے فقرے ادا کر دیے جو دنیا بھر کے اخباروں میں اگلے دن کی شہ سرخی بنے۔اور یہاں برطانوی مزاح کا کمال دیکھیں۔ مزاح بادشاہی ہتھیار ہے، اور اِس ہتھیار کی دھار اتنی نفیس ہے کہ کاٹ تو جاتی ہے، خون کا قطرہ نظر نہیں آتا۔ امریکی صدور تنقید کا جواب گالی سے دیتے ہیں۔ روسی صدر زہر سے۔ چینی قیادت خاموشی سے۔ مگر برطانوی شاہ مذاق سے دیتے ہیں۔ “ناراض بادشاہ”، “اوسط چائے”، “باقی سب کچھ کا تجربہ بہت طویل نہ کریں”۔ تینوں فقرے بظاہر ہنسی کے، اندر سے تیر۔ اور ہنسنے والا بھی ہنسے بغیر نہیں رہ سکتا، کیونکہ نہ ہنسے، تو سب کو پتا چل جائے کہ تیر اُسی کی طرف تھا۔یہی فرق ہے جو ادارے بناتا ہے، اور یہی فرق ہے جو ادارے گراتا ہے۔ شاہ چارلس کی کوئی شخصی فضیلت نہیں ہے۔ ان کے ساتھ پانچ صدیوں کی ادا، تربیت، روایت، اور اِسٹیج کرافٹ ہے۔ یہ روایت چھ سو برس میں بنی ہے، اور چھ سو برس میں ہی اِسے بنایا جا سکتا ہے۔ تیار شدہ نہیں ملتی۔ٹرمپ کے پاس یہ روایت نہیں ہے، اور وہ اِسے دو ہزار چوبیس کی ٹویٹ سے تخلیق کرنا چاہتے ہیں۔ مگر ٹویٹ سے ادارہ نہیں بنتا۔ ادارہ بنانے کے لیے صدیوں کی پابندی، ضابطے کی محبت، اور خود سے کم ظاہر کرنے کی استعداد چاہیے۔ ٹرمپ یہ تینوں چیزیں نہیں رکھتے۔ اِسی لیے، شاہ چارلس کے ساتھ کھڑے ہوئے، وہ بڑا کم لگا۔ بھاری وزن کے باوجود، چھوٹا لگا۔ زیادہ تالیوں کے باوجود، تنہا لگا۔اور یہ منظر امریکا کے کانگریس مین بھی محسوس کر رہے تھے۔ سی این این کے کیمرے نے سینیٹر مٹ رومنی کا چہرہ پکڑا، جو اب ریٹائر ہو چکے ہیں مگر مہمانوں کی گیلری میں موجود تھے۔ رومنی نے ہلکا سا سر ہلایا، جیسے کہہ رہے ہوں، “ہاں، یہ ہم سب کو سُننے کی ضرورت تھی”۔ ڈیموکریٹک سینیٹر چک شومر کی آنکھیں نم تھیں۔ سپیکر مائیک جانسن، جو ٹرمپ کے قریبی اتحادی ہیں، چہرے پر ایک خاص بے چینی لیے تالی بجا رہے تھے۔ ہال نے پیغام سُنا، اور ہر ایک نے اپنی اپنی فہم کے مطابق سُنا۔تقریر کے بعد بکنگھم پیلس کی روایتی عشائیہ تقریب تھی۔ ٹرمپ آئے، تصویریں بنیں، ہنسی مذاق ہوا۔ مگر اخباروں کی شہ سرخی صبح کو ایک ہی تھی۔ ’دی ٹائمز‘، ’دی ٹیلی گراف‘، ’دی گارجین‘، اور ’فنانشل ٹائمز‘، چاروں نے وہی فقرہ سرخی میں رکھا۔ “نہ ایک کی مرضی سے، بلکہ بہت سوں کی مشاورت سے”۔نیویارک ٹائمز نے ایک ادارتی مضمون میں لکھا، “ایک بادشاہ نے امریکا کو وہ سبق یاد دلایا جو امریکا اپنے بانیوں سے بھول گیا تھا”۔ واشنگٹن پوسٹ نے لکھا، “اگر یہ کسی برطانوی وزیراعظم نے کہا ہوتا، تو ایک بحران ہوتا۔ بادشاہ نے کہا، تو یہ ایک ’سفارتی توضیح‘ تھی”۔اور بی بی سی کی صحافی لورا کؤنز برگ نے ایک سادہ بات لکھی، “بادشاہت کی واپسی نہیں ہوئی، بادشاہت کی روایت کی واپسی ہوئی”۔ یعنی، ہم چارلس کے کنگ ہونے سے کم دلچسپی رکھتے ہیں، اور اُس روایت سے زیادہ جس کے وہ آج کے امین ہیں۔اب کانگریس کی اُس عمارت میں رات ہو چکی ہے۔ مہمان جا چکے ہیں۔ کیپٹل ہل کے ستون چپ ہیں۔ مگر آئینہ ابھی وہیں رکھا ہوا ہے، جہاں شاہ نے رکھ دیا تھا۔ آنے والے دنوں میں جب کوئی ایگزیکٹو آرڈر دستخط ہوگا، جب کوئی فیصلہ ایک شخص کی مرضی سے کیا جائے گا، تب وہ آئینہ خاموشی سے کہے گا، “ایک شخص کی مرضی سے نہیں، بلکہ بہت سوں کی مشاورت سے”۔شاید سُنا جائے گا، شاید نہیں۔ مگر آئینہ پکڑنے والے کا کام آئینہ پکڑنا ہے۔ اُس میں چہرہ دکھنا یا نہ دکھنا، یہ سامنے کھڑے شخص کا اپنا مسئلہ ہے۔

یونیورسٹی روڈ منصوبہ ، چار مرکزی مجرم بقلم خود سید منور عالم کراچی کی یونیورسٹی روڈ اس وقت شہر کے سب سے زیادہ زیرِ بحث منصوبوں میں شامل ہے۔ یہ سڑک نہ صرف تعلیمی اداروں، اسپتالوں اور کاروباری مراکز کو جوڑتی ہے بلکہ روزانہ لاکھوں افراد اس سے گزرتے ہیں۔ اسی سڑک پر جاری ریڈ لائن بس منصوبہ اب ترقی سے زیادہ مسائل کی علامت بنتا جا رہا ہے۔ تاخیر، ناقص منصوبہ بندی اور ٹھیکہ داری نظام پر اٹھتے سوالات نے اسے ایک سنجیدہ عوامی مسئلہ بنا دیا ہے۔سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ منصوبہ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کا نہیں بلکہ سندھ حکومت کا ہے۔ مرتضیٰ وہاب تو صرف تصویریں کھنچوانے کی بیماری کی وجہ سے اس منصوبہ میں رگڑے گئے۔ کچھ جاہل یوٹیوبرز نے رگڑ دیا اس منصوبے کو چلانے کے لیے سندھ حکومت نے ایک الگ ادارہ قائم کیا جس کا نام ٹرانس کراچی کمپنی ہے جبکہ فنڈنگ میں Asian Development Bank سمیت عالمی ادارے شامل ہیں۔یہ منصوبہ تقریباً 27 کلومیٹر طویل ہے، جو ملیر ہالٹ سے نمائش تک جانا تھا۔ ابتدا میں اس کی لاگت تقریباً 79 ارب روپے بتائی گئی، مگر تاخیر، بدانتظامی اور لاگت بڑھنے کے بعد یہ تخمینہ 103 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ کام 2022 میں شروع ہوا، پہلے 2023، پھر 2024 اور اب 2026 تک completion کی بات کی جا رہی ہے۔ پہلا حصہ ائیرپورٹ سگنل سے موسمیات اور دوسرا حصہ موسمیات سے نمائیش چورنگی تک ہے اس منصوبے کو مختلف حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا تاکہ کام تیزی سے مکمل ہو سکے۔ لیکن یہی تقسیم بعد میں مسائل کا سبب بن گئی۔ خاص طور پر یونیورسٹی روڈ والا حصہ، جو سب سے زیادہ مصروف اور اہم ہے، شدید تاخیر کا شکار ہو گیا۔ اس حصے کا ٹھیکہ ایک مشترکہ کمپنی کو دیا گیا تھا، جس کا نام جوائنٹ وینچر JV ہے جس میں مقامی اور غیر ملکی ادارے شامل تھے۔حکومت کا مؤقف یہ ہے کہ ٹھیکیدار اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر سکا۔ کام کی رفتار بہت سست رہی، معیار بھی تسلی بخش نہیں تھا، اور کئی بار تنبیہ کے باوجود صورتحال بہتر نہیں ہوئی۔ اسی بنیاد پر حکومت نے اس ٹھیکے کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت فیصلہ نہ کیا جاتا تو منصوبہ مزید کئی سال تاخیر کا شکار رہتا۔دوسری طرف ٹھیکیدار کا مؤقف اس سے مختلف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں منصوبے کی مکمل معلومات وقت پر فراہم نہیں کی گئیں۔ نقشے اور تفصیلات تاخیر سے دی گئیں، کام کی جگہ بھی وقت پر خالی نہیں کرائی گئی، اور ادائیگیوں میں بھی رکاوٹیں آئیں۔ ان کے مطابق اگر حکومت اپنی ذمہ داریاں بروقت ادا کرتی تو منصوبہ اتنی تاخیر کا شکار نہ ہوتا۔ اس معاملے پر قانونی کارروائی بھی جاری رہی جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ یک طرفہ نہیں بلکہ دونوں جانب سے کوتاہی ہوئی۔اس تاخیر کے دو مرکزی ملزمان ہیں ایک وزیر اعلی سندھ دوسرا وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل میمن ۔ جب صورتحال قابو سے باہر ہونے لگی تو حکومت نے ایک نیا راستہ اختیار کیا۔ کچھ حصوں کا کام ایک سرکاری تعمیراتی ادارے کو دے دیا گیا تاکہ کم از کم اہم جگہوں پر پیش رفت ہو سکے۔ اس ادارے نے آ کر فوری طور پر کچھ کام شروع بھی کیا، جس سے وقتی طور پر امید پیدا ہوئی کہ شاید اب رفتار تیز ہو جائے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ ابھی بھی پورا منصوبہ ایک ہی ادارے کے حوالے نہیں کیا گیا بلکہ مختلف حصوں میں کام جاری ہے۔اس تمام صورتحال میں مئیر کراچی دراصل ایک خاموش تماشائی تھے مگر سندھ حکومت کے منصوبہ پر تصویریں کھنچوانے کا کیڑہ کاٹ گیا اور مرتضیٰ وہاب منصوبہ کے آغاز میں اس قدر تصویریں کھنچوائیں کہ لوگ اس منصوبہ کو میئر کراچی کا شاہکار سمجھنے لگے یہ بھی ایک اہم سوال ہے کہ ٹھیکیدار واقعی نااہل تھا تو اسے ابتدا میں ٹھیکہ کیوں دیا گیا؟ کیا اس کے تجربے اور صلاحیت کا درست جائزہ لیا گیا تھا؟ اگر نہیں، تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ اسی طرح اگر منصوبے کے نقشے، جگہ کی فراہمی اور دیگر انتظامی امور میں تاخیر ہوئی تو اس کی جوابدہی بھی ضروری ہے۔چوتھا مجرم وہ ہے جس نے یہ تین افراد عوام پر مسلط کئے ہیں سمجھ جائیں ٹھیکہ دینے کی بے ضابطگیوں اور کمیشن پر تنازعہ کی کہانی دوسری قسط میں دونگا تاہم کراچی کے صحافیوں کو ٹھیکیدار کمپنی اور اس کے وکیل کا بھی تفصیلی انٹرویو کرنا چاہیئے مگر کیونکہ صحافت ابھی قید ہے شاید یہ ہمت کوئی نہ کرے

گرینڈ حیات بلڈنگ یہ ایک عمارت پورے پاکستان کے ائین اور قانون سے بالاتر ہے- اج تک اس بلڈنگ کو کوئی بھی ہاتھ نہیں ڈال سکا-اسلام آباد پولیس اور انتظامیہ نے شاہراہِ دستور پر واقع ‘ون کانسٹیٹیوشن ایونیو’ نامی بلند و بالا عمارت(جسے گرینڈ حیات بلڈنگ بھی کہا جاتا

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved