
“ وزیراعلیٰ کے پی بڑا اعتراض کرتے ہیں کہ میں نے عدالت میں سلام کیا تو چیف جسٹس نے جواب نہیں دیا، میں وزیراعلیٰ کے پی کو کہتا ہوں کہ وعلیکم اسلام” چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے الفاظ پر عدالت میں قہقہے
*حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کر دیا**ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 19 روپے 39 پیسے لیٹر اضافہ* *پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 51 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا گیا**پیٹرول کی نئی قیمت 399.86 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی نئی قیمت 399.58 روپے فی لیٹر ہوگئی**نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا۔*

بابر سرفراز الپا کو دوبارہ آر پی او راولپنڈی تعینات کردیا گیا راولپنڈی ( )بابر سرفراز الپا کو دوبارہ آر پی او راولپنڈی تعینات کردیا گیا،وہ اس سے قبل 2سال 9ماہ ریجنل پولیس آفیسر راو لپنڈی تعینات رہے اور رواں سال 124ویں نیشنل منیجمنٹ کورس کے لئے انہوں نے جنوری میں چارج چھوڑ دیاتھا،حکومت پنجاب کی جانب سے ایک بار پھر انہیں آرپی او راولپنڈی مقرر کیاگیا ہے ،چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان کے دستخطوں سے منگل کو ان کی بطور ریجنل پولیس آفیسر راولپنڈی تعیناتی کانوٹیفیکیشن جاری کیاگیا

اسلام آباد ہائیکورٹ کے تین ججز کا تبادلہ متنازع کیسے بنا؟پاکستان میں اعلیٰ عدلیہ میں تعیناتی کرنے والے فورم جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے منگل کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے ان تین ججوں کی ملک کی دیگر ہائی کورٹس میں تبادلوں کی منظوری دی تو اس فیصلے پر مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید کی گئی۔اس اجلاس کے دو شرکا اور کمیشن کے رکن بیرسٹر گوہر اور علی ظفر نے بعد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تینوں ججز کی ’مرضی کے بغیر‘ انتظامیہ نے انھیں ’بدنیتی‘ سے دوسری عدالتوں میں ’بطور سزا‘ ٹرانسفر کر دیا ہے۔بیرسٹر گوہر علی خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جسٹس ارباب طاہر اور خادم حسین سومرو کے تبادلے کا معاملہ ڈراپ کر دیا گیا جبکہ جسٹس بابر ستار کو پشاور، جسٹس محسن کیانی کو لاہور اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز کو سندھ ٹرانسفر کر دیا گیا۔انھوں نے بتایا کہ ججز کا یہ تبادلہ نو اور تین کی اکثریت سے ہوا۔

انھوں نے کہا کہ ’تمام ہائیکورٹس میں ججز کی تعداد مکمل ہے۔ ججز کا تبادلہ عدلیہ کو تقسیم کرنے کے مترادف ہے۔‘تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ ججز کے ٹرانسفر کو سزا قرار دینا غلط ہے۔وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے مقامی چینل جیو نیوز کو بتایا کہ ’یہ عدلیہ پر نہ کسی قسم کی قدغن ہے اور نہ ہی کوئی وار ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ جوڈیشل کمیشن نے ججز کے ٹرانسفر کا فیصلہ آئین و قانون کے مطابق کیا ہے۔ہائیکورٹ کے ججز کا کس قانون کے تحت تبادلہ ہوا؟جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے سپریم کورٹ میں جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کی صدارت کی تھی۔سرکاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ اجلاس جوڈیشل کمیشن کے سیکریٹری نے آئین کے آرٹیکل 175 اے کی شق (22) کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے طلب کیا کیونکہ کمیشن کے چیئرمین (چیف جسٹس یحییٰ آفریدی) نے وجوہات بتاتے ہوئے کُل ارکان کے ایک تہائی کی جانب سے دی گئی ریکوزیشن پر اجلاس بلانے سے انکار کر دیا تھا۔ اس سے عندیہ ملتا ہے کہ چیف جسٹس نے خود بھی اس ٹرانسفر کی مخالفت کی۔بیان کے مطابق کمیشن نے جسٹس محسن اختر کیانی کے لاہور ہائی کورٹ، جسٹس بابر ستار کے پشاور ہائی کورٹ اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز کے سندھ ہائی کورٹ تبادلے کی منظوری دی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ ان تبادلوں کی منظوری اکثریتی رائے سے دی گئی۔جوڈیشل کمیشن نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ کسی ہائی کورٹ سے جج کے تبادلے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کسی بھی خالی اسامی کو صرف تبادلے کے ذریعے ہی پُر کیا جائے گا، اور ایسی اسامی کو کسی صورت ابتدائی تقرری کی خالی نشست تصور نہیں کیا جائے گا

۔بیان میں مزید کہا گیا کہ جس رُکن نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر کو بلوچستان ہائی کورٹ اور جسٹس خادم حسین سومرو کو سندھ ہائی کورٹ منتقل کرنے کے لیے اجلاس بلانے کی درخواست دی تھی، اس نے دونوں تجاویز واپس لے لیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ سے یہ تبادلے آئین کے آرٹیکل 200 میں ترمیم کے بعد کیے گئے ہیں، جس کے تحت جوڈیشل کمیشن کو ججوں کی رضامندی کے بغیر تبادلے کی سفارش کا اختیار دیا گیا ہے۔یہ ترمیم 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے متعارف کرائی گئی، جس سے قبل کسی بھی جج کے ایک ہائی کورٹ سے دوسری ہائی کورٹ تبادلے کے لیے اس کی رضامندی لازمی تھی۔ نئی شق کے تحت یہ اختیار اب جوڈیشل کمیشن کو حاصل ہو گیا ہے۔ترمیم کے مطابق، اگر کوئی جج تبادلہ قبول کرنے سے انکار کرے تو اس کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی کی جا سکتی ہے۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ سے ججوں کے تبادلوں کے امکان پر سنجیدہ آئینی تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر کی غیر رسمی درخواستوں کے جواب میں انھوں نے خبردار کیا تھا کہ اس نوعیت کے تبادلے وفاقیت اور مساوی نمائندگی کے اصولوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور عدالتی تقرریوں کو عارضی اور قابلِ واپسی انتظامی فیصلوں میں بدل سکتے ہیں۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اس سے قبل خبردار کیا تھا کہ نو رکنی اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججوں کو فوری متبادل تقرریوں کے بغیر منتقل کرنا عدالتی ادارے میں سنگین خالی اسامیاں اور انتظامی عدم استحکام پیدا کر دے گا۔ان کا کہنا تھا کہ وجوہات کے بغیر ایسے تبادلے تادیبی کارروائی کا تاثر دے سکتے ہیں، جو مناسب آئینی طریقۂ کار کے بغیر عملی طور پر برطرفی کے مترادف ہوں گے۔انھوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت ججوں کے خلاف الزامات کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل کا فورم موجود ہے۔

چیف جسٹس کے مطابق ایسے تبادلوں کی اجازت دینا جو عملی طور پر برطرفی کی شکل اختیار کر لیں، آئینی تحفظات کو کمزور کرے گا، ایک خطرناک مثال قائم کرے گا اور عدلیہ کی آزادی اور عوامی اعتماد کو نقصان پہنچائے گا۔بابر ستار، محسن اختر کیانی اور ثمن امتیاز: ٹرانسفر ہونے والے تین ججزجن ججز کا تبادلہ ہوا ہے، وہ ان چھ ججوں میں شامل تھے جنھوں نے مارچ 2024 میں سپریم جوڈیشل کونسل کے ارکان کو ایک غیر معمولی خط لکھا تھا، جس میں ملکی خفیہ اداروں پر عدالتی امور میں مداخلت، ججوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے ان کے رشتہ داروں کے اغوا اور تشدد، اور ان کے گھروں میں خفیہ نگرانی کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔یہی جج فروری 2025 میں اُن پانچ ججوں میں بھی شامل تھے جنھوں نے اُس وقت لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس ڈوگر کے ممکنہ تبادلے کی باقاعدہ مخالفت کی تھی اور خبردار کیا تھا کہ ان کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر تقرری آئینی طریقۂ کار اور عدالتی روایات کی خلاف ورزی ہو گی۔اس کے باوجود، جسٹس ڈوگر کو 13 فروری 2025 کو قائم مقام چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ مقرر کر دیا گیا۔ اگلے روز حلف برداری کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں تمام ججوں کو مدعو کیا گیا تھا، تاہم پانچ جج، جن میں اب ٹرانسفر کیے جانے والے تینوں جج بھی شامل تھے، نے تقریب میں شرکت نہیں کی اور اس کا بائیکاٹ کیا۔اس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ میں بڑے پیمانے پر انتظامی تبدیلیاں کی گئیں، جن کے نتیجے میں سینیئر ترین جج جسٹس محسن اختر کیانی کے اختیارات نمایاں طور پر کم کر دیے گئے، جو اس سے قبل اہم فیصلہ سازی کے امور میں مرکزی کردار رکھتے تھے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کی ایڈمنسٹریشن کمیٹی، جو پہلے چیف جسٹس، سینیئر ترین جج اور ایک سینیئر جج پر مشتمل تھی، اسے تبدیل کر کے چیف جسٹس ڈوگر اور ان کے دو نامزد ججوں پر مشتمل کر دیا گیا، جس سے عدالت میں فیصلہ سازی کے اختیارات کا توازن نمایاں طور پر بدل گیا۔بعد ازاں جسٹس ڈوگر نے 8 جولائی 2025 کو بطور چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ حلف اٹھایا، اور ان پانچ سینیئر ججوں کو، جنھوں نے ان کے تبادلے کی مخالفت کی تھی، مختلف اہم کمیٹیوں سے الگ کر دیا گیا۔گذشتہ سال ستمبر میں ان پانچ ججوں نے سپریم کورٹ میں مشترکہ طور پر متعدد درخواستیں بھی دائر کی تھیں، جن میں بینچوں کی تشکیل، روسٹر، اور مقدمات کی منتقلی جیسے معاملات پر اعتراضات اٹھائے گئے تھے۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں بطور ایڈشنل جج تعینات ہونے والے بابر ستار سنہ 1975 میں راولپنڈی میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم اسی شہر سے حاصل کی۔ انھوں نے برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ قانون کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد اُنھوں نے بطور وکیل پریکٹس شروع کی۔بابر ستار کی سنہ 2006 میں ہائی کورٹ کے وکیل کی حیثیت سے انرولمنٹ ہوئی اس کے بعد سنہ 2017 میں ان کی انرولمنٹ بطور سپریم کورٹ کے وکیل کے طور پر ہوئی۔ بابر ستار کو ٹیکس کے معاملات اور کارپوریٹ لا پر عبور حاصل ہے۔سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کے کیس میں بابر ستار جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی وکلا کی ٹیم میں شامل تھے اور اُنھوں نے ایف بی آر اور ٹیکس قوانین کے بارے میں دلائل بھی دیے تھے۔اس صدارتی ریفرنس کے خلاف درخواستوں کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے دس رکنی بینچ نے بابر ستار کی تعریف کی تھی۔بابر ستار مقامی ٹی وی چینل پر نشر ہونے والے پروگراموں میں بطور مبصر بھی شریک ہوتے رہے ہیں۔جسٹس محسن اختر کیانی فروری 1970 میں اسلام آباد میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم اسلام آباد ایف جی بوائز ہائی سکول اینڈ کالج سے حاصل کی۔ بعد ازاں انھوں نے پنجاب یونیورسٹی سے وکالت جبکہ کراچی یونیورسٹی سے ایل ایل ایم کی ڈگری حاصل کی۔ قانونی پریکٹس انھوں نے سنہ 1995 سے اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار سے شروع کر دی تھی۔ جبکہ سنہ 2009 میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے وکیل بنے۔ جسٹس محسن اختر کیانی 2014-2015 میں اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بھی رہے ہیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ 2011 میں فعال کی گئی تو محسن اختر کیانی دسمبر 2015 میں پہلے جج تھے جو اسلام آباد سے ہی تعینات ہوئے۔ان کی تعیناتی سے قبل اسلام آباد کی بار ایسوسی ایشن کا یہ مطالبہ رہا تھا کہ اسلام آباد میں فیڈرل ڈومیسائل والا جج بار ایسوسی ایشن سے تعینات ہونا چاہیے۔ثمن رفعت امتیاز کا تعلق کراچی سے ہے اور وہ سپریم کورٹ کی وکیل بھی ہیں۔ وہ 2004 سے کراچی میں وکالت کر رہی ہیں جبکہ امتیاز لا کے نام سے انھوں نے اپنی لا فرم بھی بنائی ہوئی ہے۔اے لیولز کے بعد ثمن امتیاز نے دبئی میں امریکن یونیورسٹی سے بزنس ایڈمنسٹریشن کی ڈگری حاصل کی اور اس کے بعد قانون کی ڈگری رچمنڈ یونیورسٹی ورجینیا سے حاصل کی تھی۔ثمن امتیاز 2007 سے بطور وکیل ہائی کورٹ وکالت کر رہی ہیں جبکہ 2019 میں وہ سپریم کورٹ کی وکیل کے طور پر بھی رجسٹرڈ ہو گئی تھیں۔انھوں نے لا جرنل کو دیے جانے والے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ جب وہ دبئی میں بزنس ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کر رہیں تھیں تو اس وقت ان کا ایک کورس بزنس لا بھی تھا جس کو پڑھنے کے بعد انھوں نے سوچا کہ آگے اسی شعبے میں جانا ہے۔ثمن امتیاز نے اپنے انٹرویو میں بتایا کہ وہ ’بے نظیر بھٹو کو آئیڈلائز کرتی ہیں۔‘انھوں نے کہا کہ وہ تقریباً 12 سال کی تھیں جب بے نظیر بھٹو وزیراعظم بنیں۔ ’ایک خاتون کو اتنے بڑے عہدے پر دیکھنا یقیناً بہت مثبت اور متاثرکن تھا۔‘قانونی ماہرین اس فیصلے پر تنقید کیوں کر رہے ہیں؟اگرچہ حکومت کی طرف سے اس فیصلے کا دفاع کیا گیا ہے تاہم بعض قانونی ماہرین اس فیصلے سے ناخوش ہیں۔قانونی ماہر بیرسٹر صلاح الدین نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ منتقلی ’بلاوجہ کی گئی اور اس کا مقصد ججز کو سزا دینا ہی تھا۔‘ان کے مطابق اس سے ’عدلیہ کے انتظامیہ کے ماتحت ہونے‘ کا تاثر ملتا ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’جو یہ کہا گیا ہے کہ تبادلے کے بعد نئے ججز کی تعیناتی عمل میں نہیں لائی جائے گی اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ انتظامیہ اب اپنی پسند کے ججز کو ان عدالتوں میں لے کر آئے گی۔‘جبکہ کالم نگار اور قانونی ماہر بیرسٹر اسد رحیم نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ فیصلے 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے ذریعے ممکن ہوا ہے۔ ان کی رائے میں جس طرح اسلام آباد ہائیکورٹ کے ’جسٹس طارق محمود جہانگیری کو گھر بھیجا گیا اور وفاقی آئینی عدالت کا قیام عمل میں لایا گیا، اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ کیسے اب عدلیہ ایک ایگزیکٹو کے ماتحت ادارے کے سوا کچھ نہیں۔‘اسد رحیم کا کہنا ہے کہ یہ آئین سازی ’بنیادی تقاضوں کے ہی خلاف ہے کہ عدلیہ کو انتظامیہ کے ہاتھ میں دے دیا جائے۔ یہ اصول سنہ 1954 میں طے ہو چکا تھا کہ عدلیہ کو انتظامیہ سے علیحدہ رکھنا ہے کیونکہ بصورت دیگر اس کا غلط استعمال ہوگا۔‘بی بی سی نے جب اس فیصلے کے بارے میں قانونی ماہر ایڈووکیٹ اسد جمال سے پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ ’ایسے ججز جو حکمرانوں کے لیے باعث زحمت بن سکتے ہیں ان کو کنٹرول کرنے کے لیے یہ ترامیم متعارف کرائی گئی ہیں۔‘اسد جمال کے بقول انھوں نے اس قانون سازی کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں ایک درخواست بھی دائر کر رکھی ہے مگر دو ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود ابھی تک شنوائی ہی نہیں ہو سکی ہے۔وہ خبردار کرتے ہیں کہ یہ قانون ’ہائیکورٹ کے ججز پر ایک لٹکتی تلوار ہے۔‘حکومتی ردعمل: ’انتقام کا تاثر غلط ہے‘تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ تینوں ججز کے ٹرانسفر کو ’انتقام کا تاثر دینا غلط‘ ہے۔وزیرِ مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک کہتے ہیں کہ ’آئین کے آرٹیکل 200 اور 175 اے کے تحت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس میں اکثریتی ووٹ سے ان چیزوں پر فیصلہ کیا گیا ہے۔‘انھوں نے مزید کہا کہ جوڈیشل کمیشن میں سپریم کورٹ کے اور آئینی عدالت کے چیف جسٹسز اور پانچ سینیئر ججز ہیں، جبکہ حکومت کے صرف چار لوگ ہیں: وزیرِ قانون، اٹارنی جنرل اور حکومتی بینچر کے دو اراکین۔’یہ کوئی سزا نہیں ہے، آپ کو پتا ہے بار ایسوسی ایشنز کا بھی یہ مطالبہ رہا ہے کہ ججز کا ٹرانسفر کیا جانا چاہیے۔‘وہ کہتے ہیں کہ عدلیہ کی آزادی پر ’کوئی قدغن نہیں، نہ یہ کوئی وار ہے۔‘ رپورٹ اعظم خان، بی بی سی
پٹرولیم کے سٹریٹیجک ذخائر رکھنا ضروری ہیں ۔عالمی ترسیل مشکلات کا شکار ہے ۔یہی حالات جاری رہے جلد کرفیو لگانا پڑے گا ۔فرنس آئل ڈیزل اور گیس سے بجلی کی پیداوار روکنا پڑے گی ۔بہت بڑا بحران دروازوں پر دستک دے رہا ہے ۔مہنگا تیل خریدنے کیلئے زرمبادلہ کے زخائر ناکافی ہیں ،پیسوں کا بندوبست ہو بھی جائے امریکہ سے تیل کی درآمد بہت مہنگا سودا ہو گا ۔ملک چلانے کیلئے خلیجی تیل کے علاؤہ کوئی آپشن قابل عمل نہیں ۔
جنگ سے گریز اور امن کی تلاش =====================شاہد اقبال کامران ===================پہلگام سانحے کے بعد اپنی نااہلی اور غفلت پر پردہ ڈالنے کے لیے انڈیا نے فوری طور پر آسان ترین راستہ اختیار کرتے ہوئے سارا الزام پاکستان کے سر تھوپ دیا۔ پہلگام حادثہ نہایت درجہ محتاط مگر گہری اور تفصیلی تحقیقات کا متقاضی ہے ۔ انڈیا ہمیشہ اپنی ہر انتظامی اور حفاظتی ناکامی کے بعد پاکستان کو مورد الزام ٹھہرا کر ؛ گویا اپنے عوام اور دنیا بھر کو الو بنا کر ؛اپنا الو جیسا منہ دکھانے کا بندوست کر لیتا ہے ۔اس بار نریندر مودی نے ریاست بہار کے چناو کے دباو کو اپنے اعصاب پر اس قدر سوار کر لیا کہ وہ اپنے اوسان ہی خطا کر بیٹھا۔پہلگام سانحہ افسوسناک اور تشویشناک ہے ۔وہاں بے گناہ سیاحوں کی جان لینے والے دہشت گرد کسی معافی اور رحم کے مستحق نہیں ہیں۔لیکن وہ دہشت گرد پہلگام جیسے دور دراز ، محفوظ اور امرناتھ یاترا کے مصروف روٹ پر واقع مقام تک کیسے پہنچ پائے؟ مقبوضہ کشمیر میں شنید ہے کہ انڈیا نے نو لاکھ فوج بٹھا رکھی ہے۔ان نو لاکھ فوجیوں کو بٹھانے کے علاوہ چلنے پھرنے اور مقبوضہ علاقے کی سیکیورٹی کی طرف توجہ بھی دینی چاہیئے تھی۔ دہشت گردی کے اس واقعے کو روایتی الزام تراشی کا عنوان بنا کر انڈین اتھارٹیز نے اپنے غیر مستحکم قبضے کے غیر موثر ہونے کی خبر خود ہی عام کر دی ہے ۔ جب سے لائن آف کنٹرول پر سیزفائر ہوا تھا ، اور دنوں اطراف تعینات افواج نے باہم امن و امان کے ساتھ رہنے کی تربیت حاصل کرنی شروع کی تھی،نریندر مودی کی طبیعی انتہا پسندی یہ سب کچھ برداشت نہیں کر پا رہی تھی۔ وہ جس کی سیاست کی بنیاد ہی مذہبی منافرت پر ہو ، اس سے امن ، برداشت اور سلامتی کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے ۔نریندر مودی کی اصل دشمنی کشمیر میں بسنے والے پرامن مسلمانوں کے ساتھ ہے۔ مودی روز بروز کشمیر میں آبادی کے قدرتی تناسب کو ختم کرتے ہوئے ہندو آباد کاروں کو کشمیر میں بسانے میں مصروف ہے۔مودی نے اس حوالے سے اسرائیل کا “ڈیزائن” اپنا رکھا ہے ۔حیرت در حیرت ہے کہ انڈیا کی روز اول سے اسرائیل کے ساتھ گہری دوستی، جنگی تعاون، دفاعی تجارتی روابط اور ہر قضیئے میں اسرائیل کی حمایت اور اعانت کے باوجود دنیائے عرب اور ایران سب انڈیا کی محبت میں مبتلا اور اسیر رہتے ہیں۔اور یہ وہی عالم عرب اور ایران ہے جسے ہماری درسی کتابوں میں عالم اسلام، دنیائے اسلام ،ملت اسلامیہ اور امت واحدہ جیسے پرفریب عنوانات سے یاد کیا اور کرایا جاتا ہے۔ اور پھر فلسطین کے علامتی و ملامتی صدرمحمود عباس کا اس موقع پر اسرائیل کے قریبی اتحادی اور دوست ملک انڈیا کی حمایت کا اعلان کرنا انتہائی نامناسب عمل ہے۔اس ساری صورتحال کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ پاکستان خارجہ پالیسی کے میدان میں “سارے خسارے ہمارے” کا آزمودہ سوداگر رہا ہے اور ہے بھی۔ایک آ جا کے چین بچتا ہے ،لیکن ساتھ ہی ساتھ چین امریکیوں کے سامنے ہماری بے طرح خودسپردگی سے بھی حیران و پریشان رہتا ہے۔وہ ہماری جغرافیائی ترتیب پر فریفتہ اور ہمارے دعوی دوستی پر یقین رکھنے والا دوست ملک ہے ، 1962ء میں چین انڈیا جنگ کے آغاز سے چند گھنٹے پہلے پاکستان کو پیغام پہنچایا گیا تھا کہ یہی وقت ہے ، کشمیر کو اپنی تحویل میں لے لیں ، دوسری طرف سے مزاحمت کا کوئی امکان نہیں ہے۔لیکن پاکستان کے نام نہاد اور دراز قد فیلڈ مارشل نے ایرانی مشورے پر انڈیا کی فوجوں کے شانہ بشانہ لڑنے کے لیے پاکستانی افواج کو تو نہیں بھیجا ،لیکن امریکہ کے کہنے پر انڈیا کو کشمیر کے محاذ پر مکمل امن فراہم کرنے کی یقین دہانی کرا دی ۔شاید پاکستان کے لیے کشمیر حاصل کرنے کا یہ آخری موقع تھا۔ امر واقعہ تو یہ ہے کہ ؛چین مشکل وقت کے فیصلہ کن لمحات میں دل و جان سے پاکستان کے کام آ جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ میں ہمیشہ آرزو رکھتا ہوں کہ پاکستان کو اپنے مفادات کو تحفظ دیتے ہوئے ، چین کے ساتھ اپنے تعلق اور رشتے و رابطے کو مستحکم رکھنا چاہیئے ۔ یاد رکھنا چاہیئے کہ ؛جنگ سیاسی بزنس بھی ہے ۔پاکستان کو نریندر مودی کی سیاسی حیات نو کے لیے اس بزنس کا حصہ نہیں بننا چاہیئے۔اگر ایک میزائل بھی پاکستان کے کسی علاقے میں گرا،تو اس کا مطلب ہے کہ ہم اپنے دفاع میں ناکام رہے ہیں ۔انڈیا کے نزدیک اس میزائل حملے کا مطلب ہو گا کہ اس نے اپنے دعوے کے عین مطابق “مبینہ و مفروضہ دہشت گردی کے کیمپس” تباہ کر دیئے ہیں۔میں ایسی جنگ کے سخت خلاف ہوں۔میرے خیال میں پاکستان کے وزیراعظم کو پوری دنیا کو بلند آواز میں بتانا چاہیے کہ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ملک ہے اور انڈیا اس دہشت گردی کے کاروبار میں ملوث ہے۔کیا جعفر ایکسپریس کے سانحے کو پاکستان نے اقوام عالم کے سامنے ڈھنگ سے پیش کیا؟ مارکیٹ کیا؟ انڈیا کے ملوث ہونے کا شور مچایا؟ 2019 ء سے انڈیا نے کشمیر کا اسٹیٹس تبدیل کر رکھا ہے ،تو کیا پاکستان نے اس پر اقوام متحدہ اور دیگر فورمز پر آواز اٹھائی؟ میں جنگ کے کاروبار کو جڑ سے ختم کرنا چاہتا ہوں مجھے اپنے ہمسائے میں دشمن نہیں ، دوست ملک درکار ہیں۔ ====================
پاکستان میں جتنی بھی کورئیر کمپنیاں کام کر رہی ہیں ان کے بارے میں میرا مشاہدہ یہ ہے کہ سب کی کسٹمر سروس اس وقت تک بہت اچھی ہے جب تک آپ کا ان سے واسطہ نہ پڑے۔ بدقسمتی سے ٹی سی ایس کے ساتھ میرا واسطہ ایک ایسے امانت کے بوجھ کی صورت میں پڑا جو اب میرے لیے ذہنی کوفت کا باعث بن چکا ہے۔ گزشتہ سال اگست میں جب سیلاب کی وجہ سے ملک کا مواصلاتی نظام درہم برہم تھا، میں نے کراچی میں اپنے ایک دوست کی ضرورت مند بیٹی کے لیے ایک موبائل فون روانہ کیا۔ دو ماہ تک سیلاب کا بہانہ بنا کر مجھے لارے لگائے جاتے رہے اور آخر کار اکتوبر 2025 میں کمپنی نے تحریری طور پر یہ تسلیم کر لیا کہ پارسل گم ہو چکا ہے اور اس کے متبادل تاوان ادا کیا جائے گا۔اس تحریری وعدے کو ملے اب چھ ماہ بیت چکے ہیں، سال بدل گیا اور سال کا پہلا کوارٹر بھی گزر گیا، مگر ٹی سی ایس کی سرد مہری نہیں بدلی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ فزیکل آفس والے ہاتھ جھاڑ کر مجھے آن لائن سروس کی دیوار سے ٹکر مارنے بھیج دیتے ہیں، جہاں ہر بار ایک نیا نمائندہ مجھ سے وہی پرانی داستانِ غم دوبارہ سنانے کا مطالبہ کرتا ہے۔ستم ظریفی دیکھیے کہ جب میں انہیں کمپنی کا اعترافی خط دکھاتا ہوں تو وہ ٹریکنگ آئی ڈی مانگتے ہیں اور پھر کمال معصومیت سے کہتے ہیں کہ ہم تین ماہ سے پرانا ریکارڈ ٹریک نہیں کر سکتے۔ سوال یہ ہے کہ جب نقصان کا اعتراف ہو چکا اور ازالے کی فائل بن چکی تو اب ٹریکنگ کا راگ کیوں الاپا جا رہا ہے؟ میں نے اب تک سینکڑوں ای میلز کی ہیں لیکن جواب میں ہمیشہ وہی ایک رٹی رٹائی خودکار میل موصول ہوتی ہے جس کا ایک ایک نقطہ مہینوں سے وہی ہے، جیسے میرا واسطہ کسی جیتے جاگتے انسان سے نہیں بلکہ ایک ایسی بے حس مشین سے ہے جس کے پاس صرف الفاظ ہیں، احساس نہیں۔ ہر ہفتے وہی تماشہ، وہی شناخت کی طلب اور وہی ‘معذرت خواہ ہیں’ کی گردان سن سن کر اب یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ ادارہ کسٹمر کو انصاف دینے کے بجائے اسے تھکا کر دستبردار کر دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ ان کے پاس کسی کنسائنمنٹ نمبر کے حوالے سے کمپلینٹ کا کوئی ٹریک ریکارڈ نہیں ہوتا، ہر دفعہ ان کے لئے آپ ایک نیا کیس اور یک نیا بندہ ہیں اس لئے ہر دوسرے دن آپ کو ان کے نمائندے کو پورا رام کتھا دوبارہ سنانا پڑتا ہے ۔ اگر آپ میں سے کسی کا اس حوالے سے کوئی تجربہ ہو تو وہ مجھے اس کیس میں پیش رفت کے لئے کیا مشورہ دے گا ۔۔
بریکنگ نیوز نارمل پاسپورٹ 21 دن سے کم کرکے اب 14 کر دیا گیا اسلام آباد۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت طلال چوہدری کی زیر صدارت اجلاس میں شہریوں کی سہولت کیلئے بڑے فیصلے نارمل پاسپورٹ 21 دن سے کم کرکے اب 14 کر دیا ہے ۔ محسن نقوی پاسپورٹ دفاتر میں مکمل کیش لیس سسٹم رائج ہوگا۔ محسن نقوی وزیر داخلہ کی بزنس پاسپورٹ کے اجراء کے نظام کو جلد حتمی شکل دینے کی ہدایت پاسپورٹ کی گھروں کی دہلیز تک ڈلیوری کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کا فیصلہ وزیر داخلہ نے پاسپورٹ دفاتر میں 15 روز تک مکمل کیش لیس نظام رائج کرنے کا ٹاسک دے دیا کیش ادائیگی ختم ہونے سے ایجنٹ مافیا کا خاتمہ ہوگا اور شہریوں کو سہولت ملے گی۔ محسن نقوی بزنس پاسپورٹ کے اجراء سے متعلق امور پر کام تیز کرنے کی ہدایتپاسپورٹ نظام کو بہتر بنانے اور عوامی سہولت کے لیے پاسپورٹ اتھارٹی کا قیام انتہائی ضروری ہے، محسن نقوینارمل پاسپورٹ پہلے 21 روز میں ڈلیور کیا جاتا تھا۔ اب 14 روز میں ڈلیور کیا جائے گا۔ بریفنگ وفاقی سیکرٹری داخلہ ڈی جی پاسپورٹ و امیگریشن اور متعلقہ حکام کی اجلاس میں شرکت
سی ایس ایس کے انٹرویو میں ایک امیدوار سے سوال ہوا:سوال: تقسیمِ ہند کب ہوئی؟ امیدوار:جناب… شروعات تو کافی پہلے ہو چکی تھی،البتہ قصہ مکمل 1947 میں ہوا…پینل نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، متاثر ہوئے…دوسرا سوال: آزادی میں سب سے اہم کردار کس کا تھا؟ امیدوار:جناب… کردار تو بہت زیادہ تھے…کسی ایک کا نام لینا باقیوں کے ساتھ زیادتی ہوگی…اب پینل پوری طرح قائل ہو چکا تھا…تیسرا سوال: کیا کرپشن ملک کا سب سے بڑا دشمن ہے؟ امیدوار:جناب… اس پر ایک کمیٹی تحقیق کر رہی ہے…جب تک رپورٹ نہ آ جائے…میں قبل از وقت کچھ نہیں کہہ سکتا…یہ جواب سنتے ہی پینل خوش…فیصلہ:آپ سلیکٹ ہو گئے ہیں… مبارک ہو…! بس پلیز… سوالات باہر کسی کو مت بتائیے گا…امیدوار باہر نکلا تو دوسرے امیدواروں نے گھیر لیا…سب نے پوچھا: بھائی! کیا پوچھ رہے ہیں اندر؟ امیدوار بولا:سوال تو نہیں بتا سکتا…لیکن جوابات کا وعدہ نہیں لیا گیا…لہٰذا جوابات سن لو…—اگلا امیدوار اندر گیا…سوال: آپ کب پیدا ہوئے؟ جواب:جناب… کوششیں تو کافی پہلے شروع ہو گئی تھیں…قصہ مکمل 1947 میں ہوا…سوال: آپ کے والد صاحب کا نام؟ جواب:جناب… کردار تو بہت ہیں…کسی ایک کا نام لینا زیادتی ہوگی…سوال: کیا آپ پاگل ہیں؟ جواب:جناب… ایک کمیٹی تحقیق کر رہی ہے،جب تک رپورٹ نہ آ جائے…میں کچھ نہیں کہہ سکتا…🤣🤣🤣انتخاب










