تازہ تر ین

ملک بھر میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار۔۔وزارت داخلہ خارجہ میں اکھاڑ بچھاڑ اھم ترین تبادلے۔پٹرول کی قیمتوں میں کمی ڈیزل مھمگا۔پاکستان ترکی اور سعودی معاہدہ ایران کے لیے خطرہ نھیاستنبول ایئرپورٹ یورپ کے مصروف ترین ایئرپورٹ کے طور پر لندن ہیتھرو سے آگے نکل گیا ہے۔۔ استنبول ائئر پورٹ ھیترو ائئر پورٹ کو پیچھے چھوڑ گیا۔۔۔۔عامر رضا کو نشان امتیاز۔۔عمران خان سے بہنوں کی ملاقات کا فیصلہ۔۔ تحریک انصاف کا سپریم کورٹ کے باہر دھرنا ختم۔۔ ۔پارلیمانی لیڈروں کی شرکت۔۔ ۔گڈز ٹرانسپورٹ اور حکومت مک مکا۔۔پٹرول مافیا اور حکومتی مک مکا۔۔ ۔۔ کھربوں روپے لوٹنے والے ائل مافیا ان ایکشن۔۔ تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

ایرانی دفتر خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے خطے کی صورتحال اور حالیہ دفاعی پیش رفت پر اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کے ممالک اب اچھی طرح سمجھ چکے ہیں کہ سلامتی کوئی ایسی چیز نہیں ہے جسے جعلی ثالثوں کے ذریعے خریدا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عبوری معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رہنے تک امریکہ کے ساتھ کسی قسم کی کوئی بات چیت نہیں کی جائے گی۔ آبنائے ہرمز کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اگر اس معاملے میں کسی تیسرے فریق کی مداخلت نہ ہو تو آبنائے ہرمز کو کھولا جا سکتا ہے، تاہم عمان کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ اکیلا آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے مکمل تحفظ کا ضامن نہیں ہے۔ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ ایران کے لیے کسی قسم کا خطرہ نہیں ہے، جبکہ انہوں نے خلیجی ممالک پر زور دیا کہ وہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کے حملوں کے لیے امریکہ کو اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجاز

*عزاداری جلوس کے پیشِ نظر سرگودھا شہر کے تعلیمی اداروں میں کل 12 اگست کو مقامی تعطیل کا اعلان*سرگودھا(آن لائن) ڈپٹی کمشنر حسین احمد رضا چوہدری نے 28 صفر کے موقع پر منعقد ہونے والے عزاداری جلوس کے پیشِ نظر سرگودھا شہر کی حدود میں واقع تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں کل 12 اگست 2026 کو مقامی تعطیل کا اعلان کر دیا ہے۔ جاری کردہ حکم نامے کے مطابق مقامی تعطیل کا اطلاق سرگودھا شہر کے تمام سرکاری و نجی سکولوں، کالجز اور یونیورسٹیوں پر ہوگا۔تعطیل کا فیصلہ سیکیورٹی وجوہات اور عزاداری جلوس کے پرامن انعقاد کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ محکموں اور تعلیمی اداروں کے سربراہان کو حکم نامے پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

11 اگست تک میر رضا علی قتل کیس کی کہانی میں ایک بڑا موڑ آ چکا ۔۔ مبینہ قاتل اس قدر چالاک تھے کہ کیس کی ابتدا میں پولیس کی تفتیش خودکشی کے امکان کی طرف جا رہی تھی، لیکن دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ اور تازہ کیمیائی شواہد نے معاملہ پھر قتل کی طرف دھکیل دیا ہے۔۔۔جامعہ کراچی میں قائم آئی سی سی بی ایس کی کیمیکل لیبارٹری سے موصولہ رپورٹ کے مطابق تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ میر رضا کے خون میں بے ہوش کردینے والی دوا کے اثرات ملے ہیں۔ جبکہ شرٹ کے مختلف حصوں اور تیزاب بھی پایا گیا ہے۔۔شرٹ پر دو گولیوں کے نشانات پائے گئے۔جبکہ مقتول کی شناخت مٹانے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔۔۔28جولائی ۔۔ چار بج کر اٹھائیس منٹ کے بعد کیا ہوا؟کراچی میں پچیس سالہ میر رضا علی کی موت کی کہانی بظاہر ایک سادہ سی گمشدگی سے شروع ہوئی، مگر جیسے جیسے اس کی کڑیاں جوڑی گئیں، معاملہ اتنا پیچیدہ ہوتا گیا ۔۔میر رضا علی آئی بی اے کے گریجویٹ تھا، نوجوان کاروباری تھا اور وافلکس کے نام سے کامیاب کاروبار چلا رہے تھا۔وہ بہت کم عمری میں نوجوانوں کے لیے رول ماڈل بھی بن چکاتھا۔اہل خانہ کے مطابق زندگی میں آگے بڑھنے کے کئی منصوبے تھے، حتیٰ کہ اگست میں ان کا نکاح بھی تھا۔ رات تقریباً ساڑھے تین بجے میر رضا اپنی بہادرآباد والی دکان پر پہنچا۔ سی سی ٹی وی میں وہ دکان کے سیکیورٹی گارڈ کی دراز سے تیس بور پستول نکالتے ہوئے دکھائی دیا۔ وہاں سے وہ پھر اپنی گاڑی میں گھر روانہ ہو گیا۔یہاں کہانی کا پہلا عجیب موڑ آتا ہے۔۔۔گھر پہنچ کر اس نے اپنی گاڑی وہیں چھوڑ دی۔ اسمارٹ واچ بھی گھر رہ گئی، گھر کی چابیاں اور انتالیس ہزار روپے بھی وہیں رہ گئے۔ پھر اس نے آن لائن ٹیکسی بک کی اور صبح تقریباً چار بج کر آٹھ منٹ پر گھر سے گلستانِ جوہر کے لیے روانہ ہوا۔۔۔۔ ٹیکسی ڈرائیور کے مطابق وہ گلستانِ جوہر میں اترا۔ سی سی ٹی وی میں اسے اکیلے چلتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔ تقریباً چار بج کر بائیس منٹ پر اس کا موبائل فون بند ہوگیا اور چار بج کر اٹھائیس منٹ پر وہ گلستانِ جوہر بلاک دو میں ٹیکسی سے اتر گیا۔ اس کے بعد میر رضا جیسے کراچی کے نقشے سے غائب ہی ہوگیا۔۔۔اس کا موبائل بعد میں جائے وقوعہ سے تقریباً دو سو گز کے فاصلے پر ملا، جبکہ پستول کا ہولسٹر بھی وہیں سے برآمد ہوا۔۔۔۔۔اگلی رات، یعنی انتیس جولائی کو، صبح تین بج کر چھتیس منٹ پر ایک موٹرسائیکل ایک نسبتاً ویران مقام پر آتی ہے۔

وہ وہاں صرف تقریباً بائیس سیکنڈ رکتی ہے اور پھر چلی جاتی ہے۔ تفتیش کاروں کو شبہ ہوا کہ ممکن ہے اسی مختصر وقفے میں میر رضا کی لاش وہاں لا کر پھینکی گئی ہو۔اور پھر لاش مل جاتی ہے۔لاش کی حالت ایسی تھی کہ شناخت بھی آسان نہیں تھی۔ ابتدائی طور پر پولیس کی تفتیش میں خودکشی کا امکان سامنے آیا۔ اس نظریے کے حق میں سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ میر رضا خود دکان سے پستول لے کر نکلا تھا۔لیکن میر رضا کے والد اس بات کو شروع ہی سے ماننے کے لیے تیار نہیں تھے۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے بیٹے کی لاش دیکھی تھی اور جسم پر موجود زخم انہیں خودکشی کے بجائے قتل کی طرف لے جا رہے تھے۔۔۔یہاں سے کیس نے دوسرا رخ اختیار کیا۔۔۔قبر کشائی ہوئی، دوبارہ پوسٹ مارٹم ہوا اور وہ چیز سامنے آئی جس نے ابتدائی کہانی کو تقریباً الٹ کر رکھ دیا۔۔۔دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ میں جسم پر تشدد کے شواہد، متعدد زخموں اور پیٹھ سے گولی لگنا ثابت ہوگیا۔۔تفتیش میں میر رضا کے کاروبار اور ڈیجیٹل کرنسی کی سرمایہ کاری کا معاملہ بھی سامنے آیا۔ بعض تفتیشی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ کاروباری نقصان کے بعد وہ کروڑوں روپے کے قرض میں ڈوب چکا تھا۔ یہ دعویٰ بھی زیر تفتیش ہے ۔۔پولیس ذرائع کے مطابق میر رضا پر تقریباً 5 کروڑ روپے سے زائد کا مبینہ قرض تھا، جبکہ قرض کی رقم کا تقاضا کرنے والے 8 افراد کی فہرست سامنے آئی ہے، جن میں دو بھائی بھی شامل تھے۔ تاہم یہ تفتیشی دعویٰ ہے۔۔۔میر رضا کا ایک کاروباری شراکت دار بھی مبینہ طور پر اس واقعے کے بعد سے غائب ہے۔ پولیس نے اس کیس میں دوستوں، کاروباری شراکت داروں اور گیسٹ ہاؤس کے ملازمین سمیت متعدد افراد سے پوچھ گچھ کی ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق اکیس افراد کو حراست میں لے کر مختلف پہلوؤں سے تفتیش کی جا چکی ہے۔کئی تاحال زیر حراست ہیں۔۔جس گیسٹ ہاؤس کے قریب میر رضا کی لاش ملی، اس کے بارے میں بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اس کی سی سی ٹی وی فوٹیج ابھی تک ایک اہم کڑی سمجھی جا رہی ہے۔یوں اس وقت میر رضا علی کیس کے سامنے کم از کم تین الگ کہانیاں کھڑی ہیں۔۔۔لیکن ۔۔ سب سے اہم سوال اب یہ ہے کہ ٹیکسی سے اترنے کے بعد میر رضا علی کے ساتھ کیا ہوا تھا؟ یہی وہ سوال ہے جس کا جواب حاصل کرنے کے لیے تمام تفتیش ایک نقطے کے گرد گھوم رہی ہے۔۔وکیل جبران ناصر کا بھی کہنا ہے کہ ٹیکسی سے اترنے کے بعد کے 12 گھنٹے تفتیش سے مسنگ ہیں۔۔خدشہ ہے کہ اسی عرصے کے دوران میر رضا کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔۔تفتیشی ماہرین کا کہنا ہے ۔۔ اس کیس میں میر رضا کےٹیکسی سے اترنے کے بعد تکنیکی شواہد محدود ہیں۔۔تفتیش آگے ضرور بڑھے گی، مگر زمانہ قدیم کے انداز سے ۔لیکن امکان یہ ہے کہ اصل ملزم بچ نکلنے کے لیے کوئی غلطی ضرور کرے گا۔۔اور اسی غلطی کا تفتیشی ماہرین کو انتظار ہے۔۔

🔴 فوری | ایران کا ممکنہ فوجی تصادم پر انتباہ، اعلیٰ سطح کی تیاری کا اعلانتہران کا کہنا ہے کہ خطے میں امریکی و اسرائیلی عسکری سرگرمیوں پر کڑی نظر ہے، کسی بھی ممکنہ حملے کا فوری جواب دینے کا عندیہتہران — ایرانی سیاسی تجزیہ کار اور سابق جوہری مذاکراتی ٹیم کے رکن محمد مرندی نے مشرقِ وسطیٰ میں ممکنہ فوجی کشیدگی کے خطرے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران خطے میں امریکی اور اسرائیلی عسکری سرگرمیوں اور نقل و حرکت کا انتہائی باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے۔مرندی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ ایران خطے کے متعدد ممالک، جن میں کویت، متحدہ عرب امارات، قطر، سعودی عرب، بحرین اور اردن شامل ہیں، میں امریکی فوجی موجودگی اور سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایرانی سرزمین کے خلاف کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کا فوری اور سخت ردعمل دیا جائے گا۔ایرانی افواج کو مکمل چوکس رہنے کا عندیہمرندی کے مطابق ایران نے کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے اپنی دفاعی تیاری کو بلند سطح پر برقرار رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تہران کسی بھی براہِ راست فوجی کارروائی کو سنگین خطرے کے طور پر دیکھے گا اور ممکنہ جواب کے دائرہ کار کا تعین حالات اور حملے میں شریک فریقوں کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ایرانی مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں پہلے ہی عسکری کشیدگی، باہمی دھمکیوں اور دفاعی تیاریوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جبکہ کسی بھی ممکنہ براہِ راست تصادم کے علاقائی سطح پر پھیلنے کے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔امریکی فوجی تنصیبات بھی ممکنہ خطرات کی زد میںتہدیدات میں اضافے کے باعث خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کی سلامتی سے متعلق خدشات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ کسی بڑے فوجی تصادم کی صورت میں خلیجی ممالک اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر حصوں میں موجود اہم عسکری اور تزویراتی تنصیبات پر دباؤ بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔تاہم، مرندی کے دعوے کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی کہ خطے میں ہونے والی مبینہ عسکری نقل و حرکت کسی قریب الوقوع حملے کی تیاری کا حصہ ہے۔ اسی طرح امریکہ یا اسرائیل کی جانب سے ایران پر کسی فوری یا اچانک حملے کی منصوبہ بندی کے حوالے سے کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔باہمی بازدار قوت کا سخت امتحانحالیہ بیانات خطے میں باہمی بازدار قوت، دفاعی تیاری اور ممکنہ جوابی کارروائی کے بڑھتے ہوئے خطرات کی عکاسی کرتے ہیں۔ کسی بھی فریق کی جانب سے محدود فوجی اقدام بھی صورتِ حال کو تیزی سے وسیع علاقائی بحران میں تبدیل کر سکتا ہے۔خطے میں موجود حساس بحری گزرگاہوں، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور اہم فوجی تنصیبات کے باعث کسی ممکنہ تصادم کے اثرات صرف متعلقہ ممالک تک محدود رہنے کے بجائے علاقائی سلامتی، تجارت اور توانائی کی ترسیل کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔مشرقِ وسطیٰ میں صورتحال بدستور انتہائی حساس ہے، جبکہ آئندہ چند گھنٹے فریقین کی عسکری حکمتِ عملی، بازدار قوت اور کشیدگی کو قابو میں رکھنے کی صلاحیت کے حوالے سے اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved