
*ایک ہی شخص نے کئی کمپنیاں بنائیں، تمام ٹول پلازہ اسی کو دیے گئے، قائمہ کمیٹی اجلاس میں انکشاف*فنڈز کی عدم فراہمی کی وجہ سے منصوبوں میں تاخیر ہوتی ہے، این ایچ اے حکام کی کمیٹی کو بریفنگاسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ ایک ہی شخص نے کئی کمپنیاں بنائیں، تمام ٹول پلازے اسی کو دیے گئے۔سید حفیظ الدین کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی مواصلات کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں ترقیاتی منصوبوں کی وقت پر عدم تکمیل پر اظہار برہمی کیا گیا۔این ایچ اے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ فنڈز کی عدم فراہمی کی وجہ سے منصوبوں میں تاخیر ہوتی ہے۔ منصوبوں کے لیے بروقت فنانسنگ ملے تو منصوبے مقررہ مدت میں مکمل ہوں گے۔ منصوبوں کے لیے سالانہ بنیادوں پر قسطوں میں بجٹ مختص کیا جاتا ہے۔ فنانسنگ یکمشت ادا نہیں کی جاتی۔حکام نے اجلاس میں بتایا کہ ملک بھر میں 109 ٹول پلازہ بنائے گئے ہیں۔ 90 ٹول پلازوں کی ٹینڈرنگ ہوگئی ہے۔ این ایل سی کو 10 ٹول پلازے دیے گئے ہیں اور باقی نجی کمپنیوں کے پاس ہیں۔کنوینیئر کمیٹی نے انکشاف کیا کہ ایک ہی شخص نے کئی کمپنیاں بنائی ہیں اور سارے ٹول پلازہ اس شخص کو ملے ہیں۔ اخباروں میں آچکا ہے اور سندھ میں یہ بات عام ہے۔اس موقع پر قائمہ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں ٹول پلازہ کی ٹینڈرنگ دستاویز طلب کرلیں۔ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں چیئرمین این ایچ اے اور سیکرٹری مواصلات کو طلب کرلیا ۔کنوینیئر کمیٹی نے کہا کہ چیئرمین اور سیکرٹری نہ آئے تو ان کے خلاف تحریک استحقاق لائی جائے گی۔ بعد ازاں کمیٹی نے سکھر حیدر آباد موٹروے اور پورٹ قاسم سے ایم نائن منصوبے کی تفصیلات طلب کرلیں۔

جاپان کی بلٹ ٹرینوں نے 60 سالوں کے دوران کسی بھی ٹرین حادثے کی وجہ سے ایک بھی مسافر کی ہلاکت یا زخمی ہوئے بغیر 10 ارب سے زیادہ مسافروں کو اپنی منزل تک پہنچایا ہے۔جب سے پہلی ‘شنکانسین’ (Shinkansen) ٹوکیو اولمپکس سے محض نو دن پہلے، 1 اکتوبر 1964ء کو ٹوکیو اسٹیشن سے روانہ ہوئی، یہ نیٹ ورک دنیا کے وسیع ترین اور سب سے زیادہ استعمال ہونے والے تیز رفتار ریل نظاموں میں سے ایک بن چکا ہے۔ ٹرینیں معمول کے مطابق 300 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد کی رفتار سے چلتی ہیں، جو جاپان کے بڑے شہروں کے درمیان روزانہ، مسلسل چھ دہائیوں سے، دن میں کئی بار مسافروں کو لے کر جاتی ہیں۔ اور اس پورے عرصے میں، 10 ارب سے زیادہ انفرادی سفروں کے دوران، ایک بھی شخص ٹرین کے پٹری سے اترنے یا تصادم کے باعث ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔اگر اس کا موازنہ کیا جائے تو دنیا بھر کے دیگر تیز رفتار ریل نیٹ ورکس کو ہلاکت خیز حادثات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جرمنی کے آئی سی ای (ICE) نیٹ ورک کو 1998ء کے ایشیڈے (Eschede) سانحے میں 101 افراد سے ہاتھ دھونا پڑا۔ اسپین کی تیز رفتار لائن پر 2013ء کے سانتیاگو ڈی کمپوسٹیلا (Santiago de Compostela) حادثے میں 79 افراد ہلاک ہوئے۔ چین کے سسٹم کو 2011ء میں ایک ہلاکت خیز تصادم کا سامنا کرنا پڑا۔ جاپان کی شنکانسین نے ان تمام ممالک کے برابر یا ان سے بڑے پیمانے پر کام کیا ہے لیکن اسے کبھی بھی اس جیسے کسی سانحے کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔یہ کوئی خوش قسمتی نہیں ہے۔ یہ دہائیوں کے سوچے سمجھے انجینئرنگ فیصلوں کا نتیجہ ہے۔ شنکانسین ٹرینیں خصوصی طور پر اپنے ہی مخصوص ٹریکس پر چلتی ہیں، جو پیدل چلنے والوں، کاروں اور سست رفتار ریل ٹریفک سے مکمل طور پر الگ تھلگ ہیں۔ ایک خودکار ٹرین کنٹرول سسٹم مسلسل رفتار کی نگرانی کرتا ہے اور اگر ٹرین محفوظ حد سے تجاوز کرے تو خود بخود بریک لگا دیتا ہے۔ ملک بھر میں نصب زلزلہ پیما آلات (Seismometers) زلزلے کے پہلے جھٹکے کو محسوس کر لیتے ہیں اور تیز جھٹکے آنے سے پہلے ہی متاثرہ علاقے کی ہر ٹرین کو چند سیکنڈوں میں روک سکتے ہیں۔اس نظام کا عملی طور پر بھی امتحان ہو چکا ہے۔ 2011ء کے تباہ کن توہوکو (Tohoku) زلزلے اور سونامی کے دوران، چلنے والی ہر شنکانسین ٹرین خود بخود محفوظ طریقے سے رک گئی۔ کوئی بھی مسافر زخمی نہیں ہوا۔ نقصان صرف ان خالی ٹرینوں کو پہنچا جو دیکھ بھال کے یارڈز (Maintenance yards) میں کھڑی تھیں۔#explainthis #japan #japanese #japanesetrain #BulletTrain

Dr. Lubna Farah 📰 As U.S.–Iran Tensions Rise, Trump Signals Gulf States May Be Asked to Share Security CostsAs regional tensions escalate following Iranian operations that reportedly affected infrastructure in several Gulf states, Saudi Arabia, the United Arab Emirates, and Qatar have largely maintained a policy of restraint. With Washington weighing tougher action against Tehran, U.S. President Donald Trump is facing growing political and economic pressure at home.Analysts say any prolonged military confrontation with Iran could drive up global energy prices and increase pressure on the U.S. economy, potentially triggering broader inflation. At the same time, members of the Democratic Party have intensified scrutiny of the administration over the potential financial implications of an extended military campaign and its impact on the U.S. defense budget.Against this backdrop, Trump has renewed calls for wealthy Gulf allies to contribute more toward the costs of their security. His recent remarks suggesting that countries including Saudi Arabia, the United Arab Emirates, and Qatar should help cover the costs of U.S. protection have drawn renewed attention across the region.The comments are consistent with assessments by some U.S. observers that any military confrontation with Iran could become protracted, placing additional strain on America’s defense spending and increasing concerns among U.S. taxpayers.The key question now is: How much financial support could the Trump administration seek from its Gulf partners if regional hostilities continue?

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر کے معاملے پر ٹرتھ اینڈ ری کنسیلیشن کمیشن کے قیام کا مطالبہ کردیا، مظفرآباد میں پارٹی عہدیداران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس کمیشن میں سزا و جزا کے ساتھ حقائق کو سامنے لایا جائے۔










