All posts by admin

اسٹاک مارکیٹ کریش عوام کے اربوں روپے ڈوب گئے۔۔ایل پی جی میں 300 روپے فی کلو 46 روپے فی کلو مھنگی۔۔شیخ حسینہ کی بھارت میں تقریر شیخ مجیب کے گھر پر حملہ۔۔صدر زرداری کا دورہ چین کیا کھویا کیا پایا۔۔پاکستان میں فلاحی سرگرمیاں بند۔ یو ایس ایڈ کے ابتدائی دنوں میں فنڈز 90 روز کے فنڈز بند۔۔کھسروں پر ٹرمپ نے پابندی عائد کر دی۔۔وزیر اعطم مولانا فضل الرھمان ملاقات مامعلات طے۔سومرو ڈائریکٹر جنرل حج نے 72 ارب روپے کی کرپشن 2024حج میں کی۔۔80 ھزار حجاج کو سومرو نے بیچ ڈالا ، سھیل رانا لاءیو میں بادبان یو ٹیوب پر۔ تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوسری بار اقتدار سنبھالنے کے بعد امریکی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کے فنڈز منجمد کر دیے ہیں۔ اس فیصلے نے دنیا کے متعدد ممالک کی طرح پاکستان میں بھی بہت سے حلقوں کو مایوسی اور بے یقینی میں مبتلا کر دیا ہے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوسری بار اقتدار سنبھالنے کے بعد امریکی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کے فنڈز منجمد کر دیے ہیں۔ اس فیصلے نے دنیا کے متعدد ممالک کی طرح پاکستان میں بھی بہت سے حلقوں کو مایوسی اور بے یقینی میں مبتلا کر دیا ہے۔پاکستان میں کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیمیں (این جی اوز) جو زیادہ تر یو ایس ایڈ کے فنڈز پر انحصار کرتی ہیں، اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔ان میں سے کئی نے اپنی فلاحی سرگرمیاں روک دی ہیں اور پہلے مرحلے میں اپنے ملازمین کی تنخواہوں میں ستر فیصد تک کمی کر دی ہے۔ٹرمپ انتظامیہ نے ابتدائی طور پر یو ایس ایڈ کے فنڈز نوے دن کے لیے منجمد کیے ہیں اور اس دوران امریکی حکومت دنیا میں دی جانے والے امدادی رقوم کے استعمال کے حوالے سے جائزہ لے گی۔تفصیلی جائزے کے بعد ہی امریکی حکومت فیصلہ کرے گی کہ کس پراجیکٹ کے لیے فنڈنگ جاری رکھی جائے اور کس کی مالی امداد بند کر دی جائے۔فری اینڈ فئیر الیکشن نیٹ ورک کے ترجمان رشید چوہدری کہتے ہیں، “یہ نوے دن نہایت اہم ہیں کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس مدت کے دوران منصوبوں کے مستقبل کا فیصلہ کرے گی۔ اس کے بعد ہی ہم اندازہ لگا سکیں گے کہ اصل نقصان کتنا ہو گا۔”پاکستان سینٹر فلانتھروپی (پی ایس پی) کے ایک سروے کے مطابق پاکستان میں ایک لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ این جی اوز موجود ہیں۔ان میں سے زیادہ تر فعال نہیں ہیں لیکن جو کام کر رہی ہیں وہ اصلاحات، ایڈووکیسی اور فلاحی شعبوں میں کام سرگرمیاں سر انجام دی رہی ہیں۔ ان میں صحت، استعداد کاری اور غربت کے خاتمے جیسے امور کر ترجیح دی جاتی ہے۔رشید چوہدری نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ جو تنظیمیں اصلاحات اور ایڈووکیسی کے شعبے میں کام کر رہی ہیں وہ ضرور متاثر ہوں گی لیکن اتنی زیادہ نہیں جتنی کہ وہ تنظیمیں جو انسانی امداد کے منصوبوں پر کام کر رہی ہیں۔انہوں نے مزید کہا، “نہ صرف لوگ اپنی ملازمتیں کھو دیں گے بلکہ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ لاکھوں لوگ جو انسانی امدادی منصوبوں سے مستفید ہو رہے ہیں، وہ سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔”

لمحہ با لمحہقومی خبریںبین الاقوامی خبریںتجارتی خبریںکھیلوں کی خبریںانٹرٹینمنٹصحتدلچسپ و عجیبخاص رپورٹ8 فروری 2024 کے انتخابات میں ہیرا پھیری، جبر اور دھاندلی کے 64 نئے ذرائع کا استعمال کیا گیا، 2024 کے الیکشن کا ایک سال مکمل ہونے پر غیر سرکاری تنظیم پتن نے رپورٹ جاری کردی۔پتن ترقیاتی تنظیم نے ووٹروں کےخلاف جنگ کے عنوان سے رپورٹ کا پہلا حصہ جاری کردیا،

لمحہ با لمحہقومی خبریںبین الاقوامی خبریںتجارتی خبریںکھیلوں کی خبریںانٹرٹینمنٹصحتدلچسپ و عجیبخاص رپورٹ8 فروری 2024 کے انتخابات میں ہیرا پھیری، جبر اور دھاندلی کے 64 نئے ذرائع کا استعمال کیا گیا، 2024 کے الیکشن کا ایک سال مکمل ہونے پر غیر سرکاری تنظیم پتن نے رپورٹ جاری کردی۔پتن ترقیاتی تنظیم نے ووٹروں کےخلاف جنگ کے عنوان سے رپورٹ کا پہلا حصہ جاری کردیا، رپورٹ میں عوامی مینڈیٹ کی چوری سے متعلق تجزیہ اور وضاحت کی گئی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ انتخابات میں ہیرا پھیری، جبر اور دھاندلی کے 64 نئے ذرائع کا استعمال کیا گیا، انتخابات سے پہلے اور پولنگ کے دن کے ذرائع اور ووٹوں میں دھاندلی کا مقصد “مثبت” نتائج حاصل کرنا تھا، ارباب اختیار اور مملکت کے سارے وسائل چوری شدہ عوام کے مینڈیٹ کو بچانے میں مصروف ہیں، پیکا کا نفاذ اور 26ویں آئینی ترمیم وغیرہ اس کی مثال ہیں۔پتن رپورٹ میں کہا گیا کہ ملک میں آمریت مزید زور پکڑ رہی ہے، عام انتخابات میں بے مثال دھاندلی کے بعد آئین کے ڈھانچے اور روح کو مسخ کرنے کے اقدامات ہوئے، عدلیہ کو محکوم، میڈیا، آزاد صحافیوں اور سوشل میڈیا کارکنوں کو دبانے کے اقدامات ہوئے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ الیکشن کمیشن ویب سائٹ پر انتخابی نتائج کا آڈٹ کیا، انتہائی تشویش ناک رجحانات سامنے آئے، الیکشن کمیشن ستمبر 2024 تک اپنی ویب سائٹ پر انتخابی نتائج کے فارم تبدیل کرتا رہا، لاہور کے متعدد قومی حلقوں کے سیکڑوں پولنگ اسٹیشنز پر رائے دہندگان کا ٹرن آؤٹ 80 فیصد سے زیادہ تھا، کچھ حلقوں میں یہ ٹرن آؤٹ 100 فیصد سے بھی زیادہ تھا جو ناممکن ہے۔متعلقہ صوبائی حلقوں کے مشترکہ پولنگ اسٹیشنوں پر ٹرن آؤٹ اوسطاً 40 فیصد تھا، یہ رجحان پنجاب اور کراچی میں زیادہ پایا جاتا ہے، سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود پانچ درجن سے زائد مخصوص نشستیں ابھی تک خالی ہیں، نامکمل مقننہ کی ہر قانون سازی میں قانونی حیثیت اور عوام کے اعتماد کا فقدان ہوتا ہے۔پتن نے اپنی رپورٹ میں سفارش کی ہے کہ عام انتخابات 2024 میں دھاندلی کی تحقیقات اور ذمہ داریوں کے تعین کےلیے انکوائری کمیشن قائم کیا جائے۔

والد صاحب اور ان کی نصیحتیں تفصیلات کے لئے بادبان نیوز

“والد صاحب”میرے والد جب کبھی میرے کمرے میں آتے اور دیکھتے کہ بتی جل رہی ہے اور میں کمرے میں نہیں ہوں، تو کہتے: “تم بتی کیوں نہیں بجھاتے؟ اتنی بجلی کیوں ضائع کرتے ہو؟”جب وہ واش روم میں جاتے اور نل سے پانی ٹپک رہا ہوتا، تو زور سے کہتے: “تم نل کو اچھی طرح بند کیوں نہیں کرتے؟ اتنی پانی کی بربادی کیوں ہو رہی ہے؟”ہمیشہ وہ میرے اوپر تنقید کرتے اور مجھ پر الزام لگاتے کہ میں سُستی کا شکار ہوں!چھوٹی اور بڑی ہر بات پر ٹوکتے، یہاں تک کہ بیماری کی حالت میں بھی!پھر ایک دن آیا جب مجھے نوکری ملی، وہ دن جس کا میں بے صبری سے انتظار کر رہا تھا.آج میں اپنی زندگی کی پہلی نوکری کے لیے انٹرویو دینے جا رہا تھا یہ ایک بڑی کمپنی میں ایک معزز ملازمت کے لیے تھااگر میں منتخب ہو گیا تو اس گھر کو چھوڑ کر چلا جاؤں گا اور اپنے والد کی مسلسل نصیحتوں سے چھٹکارا حاصل کر لوں گا.صبح سویرے اُٹھا، بہترین کپڑے پہنے، خوشبو لگائی اور نکلنے لگا. دروازے کے پاس کسی نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا.میں نے پلٹ کر دیکھا تو والد صاحب مسکراتے ہوئے کھڑے تھے، حالانکہ اُن کی آنکھوں میں بیماری کے آثار نمایاں تھے.انہوں نے مجھے کچھ پیسے دیے اور کہا: “میں چاہتا ہوں کہ تم مثبت رہو، پُر اعتماد رہو اور کسی سوال سے نہ ڈرو.”میں یہ نصیحت سُن کر بیزاری سے مسکرایا، اندر سے سوچ رہا تھا کہ یہ بھی وقت ہے نصیحت کرنے کا، جیسے وہ میری خوشی کے لمحے کو بھی خراب کرنا چاہتے ہوں.میں گھر سے نکلا، ایک ٹیکسی کرائے پر لی اور کمپنی کی طرف روانہ ہو گیا.جب میں وہاں پہنچا تو حیران رہ گیا!نہ کوئی دربان تھا اور نہ کوئی استقبالیہ کا عملہ، بس کچھ ہدایتی بورڈز تھے جو انٹرویو کے کمرے کی طرف رہنمائی کر رہے تھے.جیسے ہی میں دروازے میں داخل ہوا، دیکھا کہ دروازے کا ہینڈل اپنی جگہ سے نکلا ہوا ہے اور ٹوٹنے کے قریب ہے.مجھے فوراً اپنے والد کی نصیحت یاد آئی کہ مثبت رہو، تو میں نے فوراً ہینڈل کو درست کیا.آگے چلتے ہوئے دیکھا کہ باغ میں پانی بھر گیا ہے، ایک تالاب کا پانی بہہ رہا تھا، شاید مالی اسے بھول گیا تھا.مجھے والد کی پانی کے ضیاع پر ناراضگی یاد آئی، میں نے نل کی رفتار کم کر دی اور پانی کو دوسرے تالاب میں بہنے دیا.عمارت کے اندر پہنچا اور سیڑھیوں پر چڑھتے ہوئے دیکھا کہ روشنی کی بتی دن کے وقت جل رہی ہے.مجھے والد کا چہرہ یاد آیا اور فوراً بتی بُجھا دی.جب میں انٹرویو کے کمرے میں پہنچا، تو دیکھا کہ بہت سے لوگ نوکری کے لیے موجود ہیں.سب کی طرف دیکھتے ہوئے، میں نے سوچا کہ میں ان کے سامنے کس طرح معمولی نظر آ رہا ہوں.پھر دیکھا کہ جو بھی انٹرویو دینے جا رہا ہے، چند منٹوں میں واپس آ رہا ہے.میں نے سوچا کہ اگر یہ لوگ اپنی تمام قابلیت کے باوجود کامیاب نہیں ہو سکے، تو میں کیسے ہو سکتا ہوں؟میں نے انٹرویو چھوڑنے کا فیصلہ کیا.لیکن جیسے ہی میں نکلنے لگا، میرا نام پکارا گیامیں اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر کے کمرے میں داخل ہو گیا.سامنے تین لوگ بیٹھے تھے، انہوں نے مسکرا کر پوچھا: “آپ کب اس نوکری کو سنبھالنا چاہتے ہیں؟”مجھے لگا جیسے وہ مذاق کر رہے ہوں.میں نے اپنے والد کی نصیحت یاد کی کہ پُر اعتماد رہو.میں نے کہا: “جب میں امتحان میں کامیاب ہو جاؤں گا، تب سنبھالوں گا.”ایک آدمی نے کہا: “آپ کامیاب ہو چکے ہیں”میں حیران رہ گیا کہ کسی نے مجھ سے کوئی سوال نہیں پوچھا، اور انہوں نے بتایا کہ میرا امتحان ہو چکا ہے.پھر ایک اور نے کہا: “ہم نے کمپنی میں کچھ جگہوں پر خرابیاں جان بوجھ کر رکھی تھیں تاکہ دیکھ سکیں کہ کون اُمیدوار انہیں ٹھیک کرتا ہے، اور آپ نے ہر غلطی کو درست کیا.”اس لمحے، میرے سامنے سب کچھ مانند پڑ گیا. میں نے اپنے والد کی تصویر دیکھنا شروع کی.وہ سخت مزاج جو ہمیشہ میری بھلائی چاہتا تھا.مجھے گھر واپس جانے اور ان کے ہاتھ چومنے کی شدید خواہش ہوئی.جب میں گھر پہنچا تو وہاں لوگوں کا ہجوم دیکھا. سب کے چہروں پر دُکھ کے آثار تھے.میں بہت دیر سے پہنچا تھامیرے والد چلے گئے تھے،😭 اور میں اُن کی محبت اور نصیحتوں کی قدر کرنے میں دیر کر گیا.والد صاحب، آپ نے ہمیشہ مجھے درست راستہ دکھایا، اور میں ہمیشہ آپ کا شکر گزار رہوں گا

چیمپیئنز ٹرافی، پاکستان کے لیے امارات چھوڑنے والے عثمان خان کے پاس واقعی۔پاکستان اور چین ایک جسم کے 2 حصہ ہے صدر زرداری۔۔اھم 40 افراد کے تبادلے 5 سے استعفے۔۔مھنگای ھاے مھنگای اٹا مھنگا خون سستا۔۔وزارت حج کرپشن کی دوڑ میں پھلے نمبر پر۔جسٹرڈ افغان مہاجرین کو افغانستان واپس بھیجنے کا فیصلہ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

سردار ایاز صادق ایک نام نہیں، ایک ادارہ ھے۔ تین بار قومی اسمبلی کے اسپیکر بنے ، 333 دنوں میں پارلیمنٹ کو مضبوط بنانے کیلئے اقدامات کئے۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

سردار ایاز صادق ایک نام نہیں، ایک ادارہ ھے۔

تین بار قومی اسمبلی کے اسپیکر بنے ، 333 دنوں میں پارلیمنٹ کو مضبوط بنانے کیلئے اقدامات کئے ، 20 سال سے روکی ہوئی پرموشن کا معاملہ ہو یا غیر قانونی ایکسٹنشن کا خاتمہ، بجٹ میں کمی کے لیے بھرتیوں پر پابندی ، غرض ہر اہم اور توجہ طلب مسلے کو حل کرنے کے علاوہ سر سبز پارلیمنٹ کا تصور کہ ؛جہاں پر کوئی گند نظر نہ آئے۔ اور اب 333 روز کے بعد میں پارلیمنٹ کے کسی کونے میں کوئی گند نظر نہیں آتا ۔

جہاں ایک سال میں قانون سازی کا ریکارڈ قائم کیا گیا وہیں پر ملازمین اور افسران کی عزت وتکریم میں اضافہ بھی نظر آیا۔ سردار ایاز صادق کی حکمت عملی اور رویے نے ایمان دار افسران اور ملازمین کو مزید عزت سے نوازا ۔ انہوں نے ایک سال میں 20 سال کے گند کو صاف کرنے کی کوشش کی ۔ سب سے بڑھ کر پارلیمنٹ کی بالادستی کو بھی مزید تقویت دی ۔ تفصیلات کے لئے

کھربوں روپے کی کرپشن ڈائریکٹر مکہ برطرف ڈائریکٹر جنرل کی گرفتاری۔سومرو ڈائریکٹر جنرل حج نے 72 ارب روپے کی کرپشن 2024حج میں کی۔۔مری مرغیاں کھلانے والے فرحان قریشی کا سعودی عرب بلدیہ نے 2 ماہ کچن بند رکھا۔۔سومرو نے 30 ھزار کا اس سال پھر کوٹہ دے دیا ریٹائرڈ سیکرٹری نے اپرول کیسے دی۔۔کور کمانڈر کانفرس اویس دستگیر اور فیاض شاہ پھلی دفعہ بطور کور کمانڈر شریک ملک کے اندرونی بیرونی دشمنوں کا خاتمہ جاری ہے۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر