All posts by admin

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ میری حکومت جتنے دن بھی رہے. میں بلیک میل نہیں ہوں گا۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد میں ہونیوالے واقعات کی مذمت کرتا ہوں، رینجرز کے اہلکاروں کی شہادت پر افسوس ہے

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ میری حکومت جتنے دن بھی رہے. میں بلیک میل نہیں ہوں گا۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد میں ہونیوالے واقعات کی مذمت کرتا ہوں، رینجرز کے اہلکاروں کی شہادت پر افسوس ہے. لواحقین کے غم میں شریک ہوں۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت پر اس طرح چڑھائی کرنا مناسب نہیں. پی ٹی آئی کی اسلام آباد میں شرپسندی کی مذمت کرتا ہوں. جلسہ کرنا سب کا حق ہے مگر آئین کی بے حرمتی کی گئی ہے۔میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ اسٹاک ایکسچینج میں بہتری آئی ہے. انارکی پاکستان کے لیے اچھی نہیں ہے، ایک صوبے کو دوسرے صوبے پر چڑھائی نہیں کرنی چاہیے. تاجروں کے مسائل حل کرنے کے لیے تمام اقدامات اٹھائے جائیں گے۔وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ 50 ارب روپے کی لاگت سے زمینداروں کو سولر سسٹم فراہم کر رہے ہیں، صوبے کی امن و امان کی صورتحال اچھی نہیں ہے، سنجیدگی سے امن و امان کی صورتحال کو دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بچے کے اغوا کے معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں. بچے کی بازیابی کے لیے اقدامات کر رہے ہیں، اس طرح کے معاملات کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے، عوام کو تکلیف ہو رہی ہے۔میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ لیگل ٹریڈ کے حق میں ہیں مگر اسمگلنگ کو ٹریڈ نہیں کہا جا سکتا، ہم میرٹ پر نوکریاں دے رہے ہیں، کیسکو میں بہت زیادہ کرپشن ہے. سی سی آئی کا اجلاس کافی عرصے سے نہیں ہوا، جلد ہونا چاہیے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ بلوچستان میں پانی نہ ہونے کی وجہ سے فصلوں کو نقصان پہنچا ہے، صوبائی حکومت تاجروں کی آواز بنے گی. پانی کے مسئلے کو وفاق کے سامنے اٹھائیں گے. ایران کے ساتھ تجارتی معاہدے ہوئے ہیں. بارڈر مارکیٹس کو جلد شروع کریں گے، میری حکومت جتنے دن بھی رہے، میں بلیک میل نہیں ہوں گا۔

انڈر 19 ورلڈ کپ کے فائنل میں افغانستان نے پاکستان کو شکست دے کر سیریز اپنے نام کر لی۔انڈر 19 ورلڈ کپ کا فائنل میچ افغانستان اور پاکستان کے درمیان کھیلا گیا۔ فائنل میچ میں افغانستان نے پاکستان کو 21 رنز سے شکست دے دی۔

انڈر 19 ورلڈ کپ کے فائنل میں افغانستان نے پاکستان کو شکست دے کر سیریز اپنے نام کر لی۔انڈر 19 ورلڈ کپ کا فائنل میچ افغانستان اور پاکستان کے درمیان کھیلا گیا۔ فائنل میچ میں افغانستان نے پاکستان کو 21 رنز سے شکست دے دی۔افغانستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ اوورز میں 250 رنز بنائے۔ ہدف کے تعاقب میں پاکستان ٹیم 48 اوورز میں 229 رنز بنا کر آل آوٹ ہو گئی۔دبئی کی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کرکٹ اکیڈمی میں کھیلے گئے فائنل میں افغانستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 250 رنز بنائے۔ برکت اللہ نے 79 اور نازیف اللّٰہ نے 56 رنز اسکور کیے، دونوں کھلاڑیوں کے درمیان 130 رنز کی شراکت ہوئی۔پاکستان کے علی رضا اور عبدالسبحان نے 3، 3 وکٹیں حاصل کیں جبکہ جواب میں پاکستانی ٹیم 229 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔

اسلام آباد میں تحریک انتشار نے فساد برپا کیا، ملک افراتفری اور فساد کا متحمل نہیں ہو سکتا، فسادیوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا، وزیراعظم شہباز شریف کی وفاقی کابینہ کے اجلاس میں گفتگو

اسلام آباد میں تحریک انتشار نے فساد برپا کیا، ملک افراتفری اور فساد کا متحمل نہیں ہو سکتا، فسادیوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا، وزیراعظم شہباز شریف کی وفاقی کابینہ کے اجلاس میں گفتگواسلام آباد۔27نومبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں تحریک انتشار نے فساد برپا کیا، ملک افراتفری اور خون ریزی کا متحمل نہیں ہو سکتا، فساد اور انتشار کی سیاست کی حوصلہ شکنی ناگریز ہے، فسادیوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا، 9 مئی کے ملزموں کو عدالتیں بروقت سزائیں دیتیں تو یہ سب نہیں ہوتا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ اسلام آباد میں ایک مرتبہ پھر فساد برپا کیا گیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بہترین حکمت عملی کے ذریعے اس سے نمٹا اور عوام کو سکون میسر آیا، فساد کی وجہ سے پاکستان بھر بالخصوص اسلام آباد میں معیشت کو نقصان پہنچا، کئی دن سے کاروبار نہ ہونے کے برابر تھا، دکانیں بند تھیں، تاجر دہائیاں دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ فیکٹری مالکان، دیہاڑی دار مزدور سب پریشان تھے، ہسپتالوں میں مریضوں کو مشکلات کا سامنا تھا، جڑواں شہروں میں نظام زندگی معطل ہو چکا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سٹاک ایکسچینج نے 99 ہزار 300 کا ریکارڈ قائم کیا تھا، گذشتہ روز ایک دن میں 4 ہزار پوائنٹس کی کمی ہوئی، یہ ان فسادیوں کی وجہ سے ہوا جو ملک کی ترقی و خوشحالی کے دشمن بن چکے ہیں، گذشتہ رات امن بحال ہونے کے بعد سٹاک ایکسچینج آج 99 ہزار تک پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں مسلمہ اصول ہے، سرمایہ کاری وہاں ہوتی ہے جہاں امن و سکون ہو اور منافع کمانے کے بہت اچھے مواقع میسر ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی خطرناک روش 2014ء سے پہلے نہیں تھی، اس سے پہلے کوئی اسلام آباد پر چڑھائی کا تصور بھی نہیں تھا، لوگ شہروں میں احتجاج کرتے تھے اور انہیں آئین و قانون کے مطابق پرامن احتجاج کا حق حاصل ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ 2014ء سے بدقسمتی سے اس خطرناک روش کی بنیاد ڈالی گئی، چینی صدر شی جن پنگ ستمبر 2014ء میں پاکستان کے دورے پر آ رہے تھے، فسادیوں نے 126 دن فساد برپا کئے رکھا، اس کے نتیجہ میں چینی صدر کا دورہ ملتوی ہوا اور اپریل 2017ء میں وہ پاکستان کے دورہ پر آئے۔ شہباز شریف نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر ان فسادیوں نے پھر فساد برپا کیا، دوست ممالک کے مہمانوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی، اس موقع پر سکیورٹی چیلنجز سے احسن انداز میں نمٹے، اجتماعی بصیرت اور منصوبہ بندی سے یہ کامیابی ملی، پاک فوج نے مکمل سکیورٹی کی ذمہ داری سنبھالی، سعودی وفد کے دورے کے موقع پر اودھم مچایا گیا، تخریب کاری کی گئی، غیر ملکی اسلحہ لے کر آتے ہیں، بے گناہ شہریوں کو تنگ، زخمی اور شہید کرتے ہیں، اسلام آباد پولیس کے اہلکار کو شہید کیا گیا اور بے شمار زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی محب وطن شہری جس کو ملک نے عزت، تعلیم، روزگار اور ترقی کے مواقع دیئے وہ اس ملک کا دشمن ہو جائے، پاکستان کی مخالفت کرے، اس حد تک چلا جائے کہ ملک برباد ہو جائے اور اسے کوئی پرواہ نہ ہو، خطرناک روش نے ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ ہمیں باہمی مشاورت اور صلاح مشورے سے سخت فیصلے کرنا پڑیں گے کہ ہمیں پاکستان کی معیشت کو بچانا ہے، ترقی دینی ہے اور ملک کو خوشحال بنانا ہے یا ہمیں دھرنوں کا سامنا کرنا ہے، تمام وسائل اور توانائی اس میں جھونکیں اور ملکی معیشت کا کباڑہ ہونے دیں، ہمارے پاس دو راستے ہیں، ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ کونسا راستہ اختیار کرنا ہے، ظاہر ہے کہ ایک راستہ ہے اور وہ پاکستان کی ترقی و خوشحالی کا راستہ ہے، حکومت، مقننہ اور تمام اداروں کو مل کر فیصلہ کرنا ہے کہ ان فسادیوں اور ملک دشمنوں کا ساتھ ہمیں نہیں دینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکا شینکو ایک بار پھر پاکستان کے دورے پر آئے ، ان سے ملاقات کے دوران مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، وہ ان منصوبوں پر عملی پیشرفت کے خواہاں ہیں، دسمبر میں ایک پاکستانی وفد بیلاروس کا دورہ کرے گا اور معاہدوں کو حتمی شکل دیں گے، فروری میں بیلاروس کے صدر اور وزیراعظم پاکستان کے درمیان فروری میں معاہدے ہوں گے، دونوں ممالک زراعت، زرعی مشینری سمیت دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب یہ پیشرفت ہو رہی تھی اس وقت فسادی بندوقیں اور ہتھیار لے کر آئے ہوئے تھے، ہمارے رینجرز اور پولیس کے جوان شہید ہوئے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار زخمی ہوئے، ہر روز میدان جنگ لگے گا تو توانائی کہاں خرچ ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ 77 سال بعد بھی ہم قرضوں میں جکڑے ہوئے ہیں، ہماری معیشت اب بتدریج استحکام کی راہ پر گامزن ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ اگر عدالتیں 9 مئی کے ملزموں کو وقت پر سزائیں دیتیں تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا، قانون کو ہاتھ میں لے کر قانون کی دھجیاں اڑانے والوں کو سزائیں ملتیں تو ایسا نہ ہوتا، ان حالات میں پوری قوم کو سوچ بچار کرکے فیصلہ کرنا ہے کہ ہم نے آگے کس طرح بڑھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد پولیس، رینجرز، پنجاب پولیس، سندھ پولیس سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مل کر تازہ ترین حملے کو ناکام بنایا اور انہیں دھکیل کر ان سے پورا اسلام آباد خالی کرایا۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے باعث صورتحال خراب ہے، کرم ایجنسی میں درجنوں بے گناہ افراد شہید ہوئے۔ خیبرپختونخوا حکومت کو کرم ایجنسی، پارا چنار میں امن و امان کی صورتحال کی بحالی پر اپنی پوری توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد پر لشکر کسی کے دوران عسکری حکام نے بھرپور تعاون فراہم کیا، وزیر داخلہ، سیکرٹری داخلہ اور ان کی ٹیم کا شکر گزار ہوں۔ وزیراعظم نے کہا کہ انہیں پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے سے بچ جانے کی تکلیف ہے، ان کے دور میں مہنگائی اور پالیسی ریٹ آسمانوں پر پہنچ چکا تھا۔ انہوں نے کہا کہ تمام اتحادی جماعتوں نے بھرپور ساتھ دیا، تمام اشاریے مثبت ہیں، ہمارے ناقدین بھی معاشی استحکام کا اعتراف کر رہے ہیں، یہ ہماری اجتماعی کوششوں کا نتیجہ ہے، ان تمام کامیابیوں میں ٹیم ورک کے ساتھ ساتھ آرمی چیف جنرل سیّد عاصم منیر کا اہم کردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2018ء کے انتخابات میں تاریخی دھاندلی ہوئی، اس کا حساب تو دے دیں، اس پر عمران خان نے انکوائری کمیٹی بنانے کا اعلان کیا، آج تک اس کمیٹی کا کوئی اجلاس نہیں ہوا، آج پھر دھاندلی کا شور مچا کر اسلام آباد پر چڑھائی کرتے ہیں، کسی دوسری جماعت کے احتجاج کے دوران ایک گملا بھی کبھی نہیں ٹوٹا، احتجاج سے روزانہ 190 ارب روپے کا ملکی معیشت کو نقصان ہو رہا ہے، ذاتی مفاد کے لئے قوم کو نقصان پہنچانے سے بڑا کوئی جرم نہیں اور اس کی کوئی معافی نہیں۔ انہوں نے پاکستان کے دوست ملک کے فرمانروا کو تکلیف پہنچائی، اس سے بڑی ملک دشمنی کوئی نہیں، یہ تحریک نہیں تخریب کاری اور فتنہ ہے، سیاست میں اس کوئی گنجائش نہیں، سیاسی جماعتیں قومی ترقی و خوشحالی میں ہراول دستہ ہوتی ہیں، اس جتھہ بندی کو ہر صورت ختم کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو گالیاں دی گئیں، نیشنل پریس کلب پر حملہ کیا گیا، یہ جمہوریت نہیں فسطائیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلا م آباد ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ بغیر اجازت اس کو نہ آنے دیا جائے، انہوں نے اس حکم کی خلاف ورزی کی، سنگجانی میں انہیں جگہ دینے کا کہا گیا، ایک شخص ضد پر اڑا رہا، پاکستان کی طرف اٹھنے والے ہر ہاتھ کو توڑ دیں گے۔ اس موقع پر شہداء کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔

پی ٹی آئی کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کی مذمت کرتا ہوں، مولانا فضل الرحمان*سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مظاہرین کے خلاف گزشتہ رات ہونے والے گرینڈ آپریشن کی مذمت کر دی

*پی ٹی آئی کے ساتھ جو کچھ ہوا اس کی مذمت کرتا ہوں، مولانا فضل الرحمان*سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مظاہرین کے خلاف گزشتہ رات ہونے والے گرینڈ آپریشن کی مذمت کر دی۔مولانا فضل الرحمان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ آج کے حالات 8 فروری کے الیکشن کی وجہ سے ہیں، ہمارے اداروں کو الیکشن سے دور ہونا ہوگا تبھی عوام کو سکون آئے گا۔ان کا کہنا تھا کہ کوئی مذاکرات کوئی بات چیت ہو تو راستہ نکل آتا ہے، آپ کہیں زبردستی جیل میں رکھیں گے وہ کہیں ہم زبردستی نکالیں گے تو نتیجہ انارکی ہوتی ہے، ہم ایک ملک اور ایک قوم ہیں سارے معاملات اتفاق رائے سے ہونے چاہئیں

راولپنڈی اور اسلام آباد میں تمام تعلیمی ادارے کل معمول کے مطابق کھلیں گے، اعلامیہ۔پاکستانی حکومت سیاسی کارکنوں کے بنیادی حقوق کا احترام کرے۔ملک بھر میں انٹرنیٹ بند یا سلو سب کچھ بند۔تحریک انصاف سیاسی نھی دھشت گرد جماعت ھے تارڈ۔صائم ایوب کی عمدہ بیٹنگ۔ماں دھرتی پر قربان ھونے والوں کی تعداد میں اضافہ۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی گزشتہ روز احتجاج کے دوران شہید ہونے والے نائیک محمد رمضان، سپاہی گلفام خان اور سپاہی شاہ نواز خان کی نماز جنازہ میں شرکت

: 26 نومبر، 2024. *وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی گزشتہ روز احتجاج کے دوران شہید ہونے والے نائیک محمد رمضان، سپاہی گلفام خان اور سپاہی شاہ نواز خان کی نماز جنازہ میں شرکت*چکلالہ، راولپنڈی میں پڑھی جانے والی نماز جنازہ میں وزیرِ اعظم کے ساتھ ساتھ نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر، سول اور ملٹری افسران کی بڑی تعداد شریک ہوئی. سیاسی مفادات کے حصول کیلئے پاکستان کسی فساد اور خونریزی کا متحمل نہیں ہو سکتا. وزیرِ اعظمملک میں فساد و انتشار کے ایسے اقدامات قابل مذمت ہیں. وزیرِ اعظممجھ سمیت پوری قوم احتجاج کے دوران اپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیر ڈیوٹی پر مامور جوانوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہے. وزیرِاعظمپوری قوم احتجاج میں شہید ہونے والے جوانوں کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے. وزیرِاعظم

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی شمالی وزیرِ ستان میں خوارج کی افعانستان سے پاکستان داخل ہونے کی کوشش ناکام بنانے پر سیکیورٹی فورسز کے افسران و جوانوں کی پذیرائی*وزیرِ اعظم کی تین خوارج کو جہنم واصل کرنے پر افسران و اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف

: 26 نومبر، 2024. *وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی شمالی وزیرِ ستان میں خوارج کی افعانستان سے پاکستان داخل ہونے کی کوشش ناکام بنانے پر سیکیورٹی فورسز کے افسران و جوانوں کی پذیرائی*وزیرِ اعظم کی تین خوارج کو جہنم واصل کرنے پر افسران و اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف. دھشتگردی کے ملک سے مکمل خاتمے تک اس کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے. وزیرِ اعظماپنے پیاروں سے دور ملک کی سرحدوں کی حفاظت پر مامور افواج پاکستان کے افسران و جوان لائق تحسین ہیں. وزیرِاعظم