All posts by admin

190 ملین پاؤنڈ ریفرنس حتمی مرحلے میں داخل ہوگیا، احتساب عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 342 کا سوال نامہ فراہم کر دیا۔

190 ملین پاؤنڈ ریفرنس حتمی مرحلے میں داخل ہوگیا، احتساب عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 342 کا سوال نامہ فراہم کر دیا۔احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس پر سماعت اڈیالہ جیل میں کی، بانی پی ٹی آئی کو کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا جبکہ بشریٰ بی بی بھی پیشی کے لیے موجود تھیں۔نیب کے پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی اور امجد پرویز ٹیم کے ہمراہ پیش ہوئے جبکہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر بھی عدالت میں موجود تھے۔190 ملین پاؤنڈ کیس: احتساب عدالت کو عمران خان اور بشریٰ بی بی کی بریت درخواستوں پر دوبارہ فیصلہ کرنے کی ہدایتسوال نامے میں سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس سے متعلق 79 سوالات پوچھے گئے ہیں۔سوال نامہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی موجودگی میں ان کے وکیل سلمان صفدر نے وصول کیا۔عمران خان اور بشریٰ بی بی کی جانب سے 11 نومبر کو 342 کے سوال نامے کے جواب عدالت میں جمع کروائے جائیں گے۔بعد ازاں اسلام آباد کی احتساب عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس پر سماعت 11 نومبر تک ملتوی کر دی۔واضح رہے کہ 6 نومبر کو عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس حتمی مرحلے میں داخل ہو گیا تھا، جہاں وکلا صفائی نے 35 گواہوں پر جرح مکمل کر لی تھی۔342 کا بیان کیا ہوتا ہے؟ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت ملزمان سے ان کا موقف سنتے ہیں۔عدالت کی جانب سے دیے گئے موقع پر ملزم چاہے تو اپنی صفائی میں کچھ کہہ سکتا ہے، اسے 342 کا بیان بھی کہتے ہیں۔آج نیوز نے ماہر قانون وقاص ابریز کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ملزم کا بیان زیر دفعہ 342 (ض) (ف) قلمبند کرتے ہوئے عدالت خود ملزم سے سوالات کرتی ہے اور وہ ان سوالات کے جواب دیتا ہے۔کیس کا پس منظرواضح رہے کہ 190 ملین پاؤنڈز یا القادر ٹرسٹ کیس میں الزام لگایا گیا ہے کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ نے پی ٹی آئی کے دور حکومت میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) کی جانب سے حکومتِ پاکستان کو بھیجے گئے 50 ارب روپے کو قانونی حیثیت دینے کے عوض بحریہ ٹاؤن لمیٹڈ سے اربوں روپے اور سینکڑوں کنال مالیت کی اراضی حاصل کی۔یہ کیس القادر یونیورسٹی کے لیے زمین کے مبینہ طور پر غیر قانونی حصول اور تعمیر سے متعلق ہے جس میں ملک ریاض اور ان کی فیملی کے خلاف منی لانڈرنگ کے کیس میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) کے ذریعے 140 ملین پاؤنڈ کی وصولی میں غیر قانونی فائدہ حاصل کیا گیا۔عمران خان پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے اس حوالے سے طے پانے والے معاہدے سے متعلق حقائق چھپا کر کابینہ کو گمراہ کیا، رقم (140 ملین پاؤنڈ) تصفیہ کے معاہدے کے تحت موصول ہوئی تھی اور اسے قومی خزانے میں جمع کیا جانا تھا لیکن اسے بحریہ ٹاؤن کراچی کے 450 ارب روپے کے واجبات کی وصولی میں ایڈجسٹ کیا گیا۔

سپریم جوڈیشل کونسل نے ججز کے خلاف 10 شکایات کو ناکافی قرار شواہد کی بنا پر خارج کردیا، سپریم جوڈیشل کونسل اجلاس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججز کے خط کے حوالے سے مشاورت کا دائرہ کار وسیع کرنے پر اتفاق کیا گیا

سپریم جوڈیشل کونسل نے ججز کے خلاف 10 شکایات کو ناکافی قرار شواہد کی بنا پر خارج کردیا، سپریم جوڈیشل کونسل اجلاس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججز کے خط کے حوالے سے مشاورت کا دائرہ کار وسیع کرنے پر اتفاق کیا گیا جبکہ ججز کے خلاف مضحکہ خیز شکایات دائر کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔سپریم کورٹ میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس منعقد ہوا جس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا۔اعلامیے کے مطابق اجلاس میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر شامل تھے جبکہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق اور چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس ہاشم کاکڑ نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔اعلامیے میں بتایا گیا کہ اجلاس کے دوران ججز کے خلاف 10 شکایات کا جائزہ لیا گیا جبکہ جوڈیشل کونسل نے ججز کے خلاف 10 شکایات ناکافی شواہد کی بنیاد پر خارج کر دیں، اجلاس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججز خط کے مطابق کوڈ آف کنڈکٹ 209(8) پر غور کیا گیا۔اعلامیے کے مطابق اجلاس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججز کے خط پر تبادلہ خیال کیا گیا اور 6 ججز کے خط کے حوالے سے مشاورت کا دائرہ کار وسیع کرنے پر اتفاق کیا گیا جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججز کے خط کا معاملہ آئندہ اجلاس میں دوبارہ اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا کہ اجلاس میں ججز کے خلاف مضحکہ خیز شکایات دائر کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اعلامیہ کے مطابق جوڈیشل کونسل کا کوڈ ججز کے علاوہ دیگر اداروں پر لاگو ہوتا ہے، کوڈ اف کنڈکٹ کے معاملے پر مشاورت کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کا فیصلہ کیا گیا، آئندہ اجلاس میں کوڈ آف کنڈکٹ ترمیم پرغور کیا جائے گا۔جوڈیشل کونسل نے اعادہ کیا کہ کونسل کا اجلاس ماہانہ بنیادوں پر بلایا جائے گا، اجلاس ماہانہ بلانے کا مقصد جوڈیشل کمیشن میں شکایات کو جلد نمٹانا ہے، من گھڑت اور بے بنیاد شکایات کنندگان کے خلاف ضابطے کی کارروائی آگے بڑھائی جائے گی۔واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ایک جج کی ڈگری کی شکایت سمیت دیگر شکایات بھی کونسل میں زیر التوا تھیں، جوڈیشل کونسل کے اعلامیہ میں کسی جج کا نام درج نہیں کیا گیا جن کی شکایات ناکافی شواہد کی بنیاد پر خارج کی گئی ہیں۔اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ اجلاس میں کونسل کے رولز طے کرنے اور الگ سیکرٹریٹ کے قیام پر بھی مشاورت ہوئی، کونسل نے رجسٹرار کی تجاویز پر اتفاقِ کیا اور طے کیا کہ آئندہ اجلاس میں رولز پیش کیے جائیں گے۔اعلامیے کے مطابق کونسل نے چیف جسٹس کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ ایک اہل انفرادی فرد کا انتخاب کریں جو بطور سیکریٹری فرائض سر انجام دے، کونسل کے سیکریٹری کی معیاد 3 ماہ ہوگی، جس کاکام رولز بنانے کی مشق کا جایزہ لینا اور سیکرٹریٹ کے لیے انسانی وسائل کا اہتمام کرنا ہوگا۔

پاکستان اور ابوظہبی پورٹس کمپنی کے درمیان مختلف مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے ہیپاکستان اور ابوظہبی پورٹس کمپنی کے درمیان 4 مختلف مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کی تقریب اسلام آباد میں منعقد ہوئی

پاکستان اور ابوظہبی پورٹس کمپنی کے درمیان مختلف مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے ہیپاکستان اور ابوظہبی پورٹس کمپنی کے درمیان 4 مختلف مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کی تقریب اسلام آباد میں منعقد ہوئی، تقریب میں پاکستان کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف، وزیردفاع خواجہ آصف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار ، پاکستان ریلوے، ایف بی آر، نیشنل شپنگ اور ایئرپورٹ اتھارٹی کے حکام نے شرکت کی۔پاکستان ریلویز، نیشنل شپنگ اور ایف بی آر نے ابوظہبی پورٹس کمپنی کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔پاکستان کی ایئرپورٹ اتھارٹی نے ابوظہبی پورٹس کمپنی سے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف سے ابو ظہبی کے اعلیٰ سطح سرمایہ کاری وفد نے ملاقات کی، وفد کی قیادت ابوظہبی کے وزیر مملکت برائے بیرونی تجارت کر رہے تھے۔وزیراعظم شہباز شریف نے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی اور ثقافتی دیرینہ تعلقات ہیں. وزیراعظم نے تجارت، سرمایہ کاری، توانائی کے شعبوں میں اشتراک کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔شہباز شریف نے کہا کہ وفد کا دورہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے دونوں حکومتوں کے عزم کا عکاس ہے.متحدہ عرب امارات کی جانب سے کی جانے والی سرمایہ کاری معیشت کے استحکام میں اہم ثابت ہو گی۔اس موقع پر ڈاکٹر ثانی بن احمد الزیودی نے مہمان نوازی پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا، یو اے ای کے وزیر مملکت نے ابو ظہبی پورٹس کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری پر اطمینان کا اظہار کیا۔ڈاکٹر ثانی نے شپنگ، پورٹس کی ایفیشنسی بڑھانے اور لاجسٹک کے شعبوں میں مزید تعاون کے عزم کا اظہار کیا. اس موقع پر وزیراعظم نے ابوظہبی پورٹس گروپ کے ساتھ میری ٹائم افیئرز، ایوی ایشن، ریلویز اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے متعلق چار مفاہمتی یادداشتوں کے تبادلے کا مشاہدہ کیا۔مفاہمتی ناموں کے مطابق پاکستان اور اے ڈی پورٹس گروپ کسٹم، ریل، ہوائی اڈے کے بنیادی ڈھانچے اور میری ٹائم شپنگ اور لاجسٹکس کے شعبوں میں ممکنہ تعاون کو تلاش کریں گے۔مفاہمتی یادداشتوں کا مقصد ڈیجیٹل کسٹم کنٹرول کو بہتر بنانا، مال بردار ریل کے لیے وقف کردہ کوریڈورز تیار کرنا، پاکستان کے بحری بیڑے اور میرین سروسز کے ساتھ ساتھ پاکستان کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں کو اپ گریڈ کرنا ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) کی صوبائی زرعی آمدن پر ٹیکس لگانے کیلئے قانون سازی کی شرط پر عمل درآمد نہ ہو سکا ہے

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) کی صوبائی زرعی آمدن پر ٹیکس لگانے کیلئے قانون سازی کی شرط پر عمل درآمد نہ ہو سکا ہے۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف وفد آئندہ ہفتے صوبائی حکام سے الگ الگ مذاکرات کرے گا۔ذرائع نے بتایا کہ صوبائی حکومتی سے آئندہ ملاقات کے ایجنڈے میں نیشنل فسکل پیکٹ، امدادی قیمتوں کا تعین، بجٹ سرپلس سمیت اہم نکات شامل ہیں۔قومی مالیاتی معاہدے کے تحت 30 اکتوبر تک زرعی صوبائی قانون سازی کا عمل مکمل کرنا تھا۔آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات سے قبل پنجاب اور کیبرپختونخوا نے کابینہ سے قانون سازی کی منظوری لی تھی، لیکن صوبائی اسمبلی سے زرعی آمدن پر ٹیکس لگانے کیلئے قانون تاحال منظور نہ ہو سکا۔آئی ایم ایف شرط کے مطابق صوبوں کو جنوری 2025 سے زرعی آمدن پر ٹیکس لگانا ہے، زرعی آمدن پر 5 فیصد سے 45 فیصد تک ٹیکس عائد کیا جائے گا۔30 اکتوبر تک تمام صوبوں کو زرعی آمدن پر ٹیکس لگانے کیلئے قانون سازی نہ ہو سکی، صوبائی اسمبلی سے قانون سازی نہ ہونے پر آئی ایم ایف کی شرط پوری نہیں ہوئی، سندھ اور بلوچستان بھی زرعی آمدن پر ٹیکس عائد کرنے کیلئے قانون سازی نہ کر سکے۔ذرائع کے مطابق قومی مالیاتی معاہدے کے تحت زرعی آمدن پر ٹیکس صوبے ہی جمع کریں گے، زرعی اشیا کی امدادی قیمتیں مقرر نہ کرنے کیلئے صوبائی اقدامات کا جائزہ بھی متوقع ہےپنجاب میں سموگ کی صورتحال آج بھی انتہائی خراب ہے، دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں لاہور بدستور پہلے نمبر پر ہے اور صبح سویرے شہر کا ائیر کوالٹی انڈیکس 714 تک پہنچ گیا ہے۔پنجاب میں شدید سموگ کے باعث کئی شہروں میں حد نگاہ نہایت کم ہوگئی۔ دھند کے باعث موٹرویز کو مختلف مقامات سے بند کردیا گیا ہے۔موٹروے ایم ٹو لاہور سے کوٹ سرور تک دھند اور سموگ کے باعث بند ہے۔ لاہور سیالکوٹ اور موٹروے ایم فور پنڈی بھٹیاں سے عبدالحکیم تک بند کردیا گیا۔ترجمان موٹروے پولیس کے مطابق موٹرویز کو عوام کی حفاظت کیلئے بند کیا جاتا ہے۔ شہری زیادہ سے زیادہ دن کے اوقات پر سفر کرنے کو ترجیح دیں اور گاڑیوں میں دھند والی لائٹس کا استعمال کریں۔ لاہور ہائی کورٹ نے بھی سموگ کیس میں ورک فرام ہوم پالیسی پر عملدرآمد کرنے اور مارکیٹیں آٹھ بجے بند کرنے کا حکم دے دیا ہے، ساتھ ہی پنجاب حکومت نے بھی ورک فرام ہوم پالیسی پر کام شروع کردیا ہے، ملازمین نجی ہوں یاسرکاری کام گھر بیٹھ کر کریں گے۔ لاہور میں گیارہ اور بارہ نومبر کو مصنوعی بارش برسانے کی بھی تیاری ہونے لگی ہے۔ اٹھارہ اضلاع میں پارکس اور تفریح گاہیں دس روز بند رہیں گی۔عدالت نے دو ہفتوں کے لیے اتوار کے دن کمرشل سرگرمیوں پر پابندی لگانے کا حکم بھی دیا۔وفاقی حکومت نے ملک بھر میں پاسپورٹس کی نئی فیس کا اعلان کر دیا ہے۔حکومت کی جانب سے ای پاسپورٹ، مشین ریڈ ایبل (ایم آر پی)، اور گمشدہ پاسپورٹس کے اجرا کے لیے الگ الگ فیس مقرر کی گئی ہیں۔ای پاسپورٹ کی فیسای پاسپورٹ (36 صفحات) کی 5 سال کی نارمل فیس 3000 روپے اور ارجنٹ فیس 15,000 روپے ہو گی۔ای پاسپورٹ (75 صفحات) کی نارمل فیس 15,500 روپے، جبکہ ارجنٹ فیس 27,000 روپے ہو گی۔36 صفحات کے ای پاسپورٹ کی 10 سال کی نارمل فیس 24,750 روپے اور ارجنٹ فیس 40,500 روپے ہو گی۔75 صفحات کے ای پاسپورٹ کی 10 سال کی نارمل فیس 16,500 روپے اور ارجنٹ فیس 27,000 روپے ہو گی۔مشین ریڈ ایبل (ایم آر پی) کی فیسایم آر پی (36 صفحات) کی 5 سال کی نارمل فیس 4500 روپے، ارجنٹ فیس 7500 روپے، اور فاسٹ ٹریک فیس 13,500 روپے ہو گی۔ایم آر پی (72 صفحات) کی 10 سال کی نارمل فیس 6700 روپے، ارجنٹ فیس 11,200 روپے، اور فاسٹ ٹریک فیس 16,200 روپے ہو گی۔72 صفحات کا 5 سال کا نارمل ایم آر پی 8200 روپے، ارجنٹ 13,500 روپے، اور فاسٹ ٹریک فیس 19,500 روپے ہو گی۔100 صفحات کے نارمل ایم آر پی کی 5 سال کی فیس 9000 روپے، ارجنٹ 18,000 روپے، اور فاسٹ ٹریک 23,000 روپے ہو گی۔10 سال کے لیے 100 صفحات کا نارمل ایم آر پی 13,500 روپے، ارجنٹ 17,000 روپے، اور فاسٹ ٹریک 32,000 روپے ہو گا۔گمشدہ پاسپورٹس کی فیسپہلی، دوسری، اور تیسری مرتبہ گم شدہ پاسپورٹ کے لیے بھی الگ الگ فیس مقرر کی گئی ہیں:پہلی مرتبہ گم ہونے والے پاسپورٹ کی فیس 54,000 روپے ہو گی۔تیسری مرتبہ گم ہونے پر فیس 356,000 روپے وصول کی جائے گی۔یہ نئی فیسیں پاسپورٹس کے اجرا کے عمل کو منظم کرنے اور حکومت کے مالی وسائل بڑھانے کے لیے متعارف کرائی گئی ہیں۔بھارت سے چلنے والی آلودہ ہواؤں نے پورے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔آلودہ ہواؤں کے باعث ملتان مسلسل دوسرے دن بھی ملک کا آلودہ ترین شہر قرار پاگیا۔ ایئر کوالٹی انڈیکس 1300کو چھو کر بعد میں 700 تک آیا۔دوسرے نمبر پر لاہور 467 ، تیسرے نمبر پر پشاور 392 اور راولپنڈی 254 اسکور کے ساتھ چوتھا آلودہ ترین شہر رہا۔ایئر کوالٹی انڈیکس کے مطابق اسلام آباد پانچواں اور کراچی آج پاکستان کا آٹھواں آلودہ ترین شہر رہا۔لاہور میں حکومتی اعلانات کے باوجود گرین لاک ڈاؤن پر عملدرآمد نہ ہوسکا۔اسموگ پر قابو پانے کیلئے بڑی تعداد میں فوارے نصب کیے جائیں، فرانسیسی ماہر موسمیاتلاہور میں شہری ماسک پہننے کو تیار نہیں، موٹرسائیکل رکشے بھی سڑکوں پر رواں دواں، جھاڑو دینے سے پہلے چھڑکاؤ کرنے کے احکامات بھی مکمل طور پر نظرانداز کردیے گئے۔پنجاب کے 18 اضلاع میں تمام تفریحی مقامات 17 نومبر تک بند ہیں جبکہ سیاحتی پروگرام اور تقریبات بھی معطل کردی گئیں۔پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ یہ مسئلہ اب ایک شہر یا صوبے کا نہیں رہا، پورے پاکستان اور خطے کا انسانی مسئلہ بن چکا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ شہری احتیاط کریں، شدید آلودگی کے شکار شہروں کے مکین گھروں سے نہ نکلیں۔

بھارتی کرکٹ بورڈ بی سی سی آئی نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کو آگاہ کیا ہے

بھارتی کرکٹ بورڈ بی سی سی آئی نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کو آگاہ کیا ہے کہ چیمپئنز ٹرافی کےلیے بھارتی ٹیم پاکستان نہیں جائے گی۔ کرکٹ ویب سائٹ کے مطابق بی سی سی آئی نے حکومت سے کلیئرنس نہ ملنے پر ٹیم کو پاکستان بھیجنے سے منع کیا ہے۔آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی پاکستان کے تین وینوز پر اگلے سال 19 فروری سے 9 مارچ تک شیڈولڈ ہے، جس میں 8 ٹیمیں حصہ لیں گی۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے میں 4، 5 خودکش حملہ آوروں کو پکڑا ہے، جن کا ان دنوں میں پھٹنے کا منصوبہ تھا

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے میں 4، 5 خودکش حملہ آوروں کو پکڑا ہے، جن کا ان دنوں میں پھٹنے کا منصوبہ تھا، اس وقت سارے مل کر لڑ رہے ہیں، یہ پوری جنگ کی صورتحال ہے۔کوئٹہ میں وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی کہنا تھا کہ یہ کوئی عام حالات نہیں ہیں کہ چوری یا ڈکیتی ہے، صرف پولیس کو بہترین سہولیات فراہم نہیں کی جارہیں، اب ہم ایف سی کو بھی اختیارات دینے جا رہے ہیں تاکہ وہ بھی لڑ سکیں۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ بغیر واقعے کی بھی میں نے کوئٹہ، تربت اور گوادر میں کئی بار چکر لگایا ہے، میرا چند مہینے میں یہ 10واں دورہ ہے، وفاقی حکومت ہر طریقے سے حکومت بلوچستان کو سپورٹ کر رہی ہے۔

بھارتی کرکٹ بورڈ بی سی سی آئی نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کو آگاہ کیا ہے کہ چیمپئنز ٹرافی کےلیے بھارتی ٹیم پاکستان نہیں جائے گی

بھارتی کرکٹ بورڈ بی سی سی آئی نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کو آگاہ کیا ہے کہ چیمپئنز ٹرافی کےلیے بھارتی ٹیم پاکستان نہیں جائے گی۔ کرکٹ ویب سائٹ کے مطابق بی سی سی آئی نے حکومت سے کلیئرنس نہ ملنے پر ٹیم کو پاکستان بھیجنے سے منع کیا ہے۔آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی پاکستان کے تین وینوز پر اگلے سال 19 فروری سے 9 مارچ تک شیڈولڈ ہے، جس میں 8 ٹیمیں حصہ لیں گی۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ عطیات سے ملک نہیں چلتے ٹیکسز پر چلتے ہیں، ملک کو چلانے کے لیے نجی شعبے کو آگے آنا ہوگا

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ عطیات سے ملک نہیں چلتے ٹیکسز پر چلتے ہیں، ملک کو چلانے کے لیے نجی شعبے کو آگے آنا ہوگا، آئی ایم ایف کے ساتھ قرض معاہدے میں کوئی چیز خفیہ نہیں ہے، کوئی بھی ملک ڈیپازٹ یا قرض کو روول اوور کرنے کو تیار نہیں البتہ چین اور سعودی سمیت دیگر ممالک سرمایہ کاری چاہتے ہیں۔اسلام آباد لٹریچر فیسٹیول سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمداورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت کا کام صرف پالیسی دینا ہے، کاروبار چلانا صرف نجی شعبے کا کام ہے، ملک عطیات سے نہیں چلتے ٹیکسز پر چلتے ہیں، ہر کسی کو ٹیکس دینا ہو گا۔محمد اورنگزیب نے صحافی کے منی بجٹ سے متعلق سوال کا جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ خاطر جمع رکھیں اللہ خیر کرے گا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومتی ملکیتی اداروں کی کئی سال پہلے نجکاری ہو جانا چاہیے تھی، ایف بی آر کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کیا جائے گا، ایف بی آر کے گوشوارے جمع کروانے کیلئے کنسلٹنٹ سے مدد لینا پڑتی ہے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف سے انفارمیشن گروپ کے پروبیشنری افسران کی ملاقات*وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے انفارمیشن گروپ کے 51ویں کامن ٹریننگ پروگرام کے پروبیشنری افسران نے وزیر اعظم ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات کی

وزیراعظم محمد شہباز شریف سے انفارمیشن گروپ کے پروبیشنری افسران کی ملاقات*وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے انفارمیشن گروپ کے 51ویں کامن ٹریننگ پروگرام کے پروبیشنری افسران نے وزیر اعظم ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات کی۔ پروبیشنری افسران، اپنی ٹریننگ مکمل ہونے کے بعد وزارت کے مختلف اداروں میں اپنی تعیناتی کے منتظر ہیں. وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور وفاقی سیکرٹری اطلاعات و نشریات محترمہ عنبرین جان بھی ملاقات میں موجود تھیں۔وزیر اعظم نے افسران کا پرتپاک استقبال کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت اور عوام کے درمیان فاصلوں کو ختم کرنے، شفافیت کو یقینی بنانے اور اعتماد کو فروغ دینے میں انفارمیشن گروپ کے افسران کا اہم کردار ہے۔وزیر اعظم نے دور حاضر کے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے میڈیا کے منظر نامے میں مؤثر ابلاغ کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے افسران کی حوصلہ افزائی کی اور اس امید کا اظہار کیا کہ تمام افسران اپنی ذمہ داریوں کو دیانتداری، پیشہ ورانہ مہارت اور عوامی بہبود کے لیے مضبوط عزم کے ساتھ ادا کریں گے۔ افسران نے ملک کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود میں اپنا حصہ ڈالنے کے عزم کا اعادہ کیا۔افسران کے ساتھ بات چیت کے دوران وزیر اعظم نے قومی یکجہتی کو فروغ دینے اور شہریوں کو اہم حکومتی اقدامات کے بارے میں تعلیم دینے میں سٹیٹ میڈیا اور انفارمیشن گروپ کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے پروبیشنری افسران کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ جمہوری عمل میں عوام کی شمولیت کو بڑھانے کے لیے جدید مواصلاتی آلات کو بروئے کار لانے کے لیے سرگرم رہیں۔