جڑواں شہروں میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج کا آج تیسرا روز ہے، راولپنڈی اور اسلام آباد میں احتجاج کے حوالے سے درجنوں مقدمات درج کئے جاچکے ہیں اور سیکڑوں مظاہرین کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ مقدمات میں بانی پی ٹی آئی سمیت متعدد رہنما بھی نامزد کئے گئے ہیں اور دہشتگردی سمیت سخت ترین دفعات درج کی گئی ہیں۔راولپنڈی پولیس نے بانی پی ٹی آئی عمران خان، راجہ بشارت، شہریار ریاض، راجہ راشد حفیظ، اعجاز خان جازی، ناصر محفوظ سمیت متعدد رہنماؤں کو مقدمے میں شامل کرلیا ہے۔تھانہ ٹیکسلا میں 250 سے 300 کارکنان پر مقدمہ درج کیا ہے، جبکہ سو سے زائد مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے۔ مقدمے میں دہشتگردی سمیت سخت ترین دفعات لگائی گئی ہیں۔متن مقدمہ میں بتایا گیا کہ مظاہرین آتشیں اسلحہ سمیت اسلام آباد جا رہے تھے اور دھمکی دے رہے تھے کہ بانی پی ٹی آئی سمیت دیگر عہدیداروں نے حکم دیا ہے کہ زیادہ سے زیادہ جتھوں میں اکٹھا ہوا جائے۔اگر انہیں رہا نہ کیا گیا تو اسلام آباد کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں۔ایف آئی آر کے مطابق مظاہرین نے خوف و ہراس پیدا کیا اور وہاں موجود لوگوں کو ڈرایا۔ مظاہرین پیٹرول بموں اور اسلحے سے لیس تھے، مظاہرین نے روڈ بلاک کیا اور پولیس ملازمین کو اغواء کر کے تشدد بھی کیا۔گزشتہ روز وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی کے احتجاج سے 120 افغان باشندوں سمیت 564 افراد گرفتار کئے گئے ہیں جبکہ خیبرپختونخوا پولیس کے 11 پولیس اہلکاربھی پکڑے گئے ہیں۔اور آج آئی جی اسلام آباد ناصر علی رضوی نے بتایا کہ احتجاج کے دوران 120 افغان باشندوں سمیت 878 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔آج اسلام آباد پولیس نے ڈی چوک سے 15 پی ٹی آئی کارکنان کو گرفتار کیا۔لاہور میں کارکنان رہاتحریک انصاف کے گزشتہ روز گرفتار ہونے والے 70 کارکنوں کو لاہور کی کینٹ کچہری عدالت نے رہا کر دیا ہے اور تمام کارکنان کو فوری رہا کرنے کا حکم بھی دے دیا۔جوڈیشل مجسٹریٹ نے تمام کارکنوں کو ڈسچارج کردیا۔دوسری جانب لاہور میں تقریباً 300 اور مجموعی طور پر 3 ہزار سے زائد کارکنوں کو حراست میں لیا گیا اس کے علاوہ پی ٹی آئی کے 1590 کارکنوں کی گرفتاری کےاحکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔پنجاب پولیس نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی ملک لیاقت علی کو بھی گرفتار کیا ہے، ملک لیاقت علی اپنے گارڈز کے ہمراہ گرفتار ہوئے۔انہوں نے بتایا کہ حمید شاہ 26 نمبر چونگی پر مظاہرین کے پتھراؤ کے زد میں آیا، حمید شاہ پر تشدد بھی کیا گیا جس سے وہ شہید ہوگئے، شہید کے بچے سوال کر رہے ہیں کہ کیا ریاست انہیں انصاف دے گی؟آئی جی اسلام آباد نے اعلان کیا کہ اہلکار کی شہادت پر سخت سے سخت ایف آئی آر درج کی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد پر چڑھائی کے پروگرام کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا لیڈ کر رہے تھے، سب نے دیکھا ہے کہ دھاوا بولنے والوں کو لیڈ کون کر رہا تھا، دھاوا بولنے والوں کے خلاف 10 ایف آئی آر درج ہوچکی ہیں، ہم عبدالحمید کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ ہم نے صبر سے کام لیا لیکن مظاہرین نے تشدد کا راستہ اپنایا، مظاہرین نے پولیس پر زہریلی گیس فائر کی، احتجاج کے دوران 120 افغان باشندوں سمیت 878 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ احتجاج کے دوران 154 ملین روپے کے سیف سٹی کیمروں کا نقصان کیا گیا، ہمارے جوانوں کی 31 موٹر سائیکلوں کا نقصان ہوا، مظاہرین نے تین نجی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا، مظاہرین نے کے پی پولیس کا سامان استعمال کیا۔علی ناصر رضوی کا مزید کہنا تھا کہ مظاہرین نے سرکاری شیل استعمال کیے، مظاہرین نے میٹرو بس کا جنگلہ توڑ دیا، ہمیں مظاہرین سےسرکاری اسلحہ بھی ملا ہے، مظاہرین میں کے پی پولیس کے حاضر سروس اہلکار بھی تھے۔










