سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا دورہ پاکستان۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا آئندہ ہفتے دورہ پاکستان کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق سعودی ولی عہد کی 10 سے 15 مئی کے دوران پاکستان آمد متوقع ہے۔وزیر اعظم شہبازشریف نے دورہ سعودی عرب میں محمد بن سلمان کو دورہ پاکستان کی دعوت دی تھی۔ذرائع کا کہناہے کہ محمد بن سلمان کا دورہ، پاکستان میں سعودی سرمایہ کاری کے سلسلے کی کڑی ہے۔دوسری جانب حکومتی ترجمان کے مطابق سعودی ولی عہدکےدورہ پاکستان کی تاریخوں کاحتمی فیصلہ نہیں ہوا۔

مخصوص نشستوں کی بندر بانٹ فیصلے کو سپریم کورٹ نے معطل کر دیا۔ تحریک انصاف کو بڑا ریلیف۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سپریم کورٹ کا فیصلہ الیکشن کمیشن کے لاء ونگ کو بھیج دیا۔

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں اجلاس ہوا، جس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر مشاورت کی گئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کا فیصلہ الیکشن کمیشن کے لاء ونگ کو بھیج دیا، لاء ونگ سپریم کورٹ کے فیصلے کا تفصیلی جائزہ لے گا۔ذرائع کے مطابق قانونی ٹیم سپریم کورٹ کے فیصلے کا جائزہ لے کر الیکشن کمیشن کو رپورٹ دے گی۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل سماعت کے لیے مقرر کر دی اور مخصوص نشستوں سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کر دیا۔سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ اراکین پر مشتمل جماعت سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں دیگر جماعتوں کو دینے کا فیصلہ معطل کردیا۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں کے حصول کیلئے دائر سنی اتحاد کونسل کی اپیلوں پر سماعت ہورہی ہے جہاں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ اپیلوں پر سماعت کر رہا ہے، بینچ کی سربراہ جسٹس منصور علی شاہ کر رہے ہیں جب کہ جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس محمد علی مظہر بھی بینچ کا حصہ ہیں، سماعت کا آغاز ہوا تو مخصوص نشستوں پر نامزد خواتین ارکان اسمبلی کی جانب سے بنچ پر اعتراض کیا گیا، جن کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ ’یہ آئین کے آرٹیکل 51 کی تشریح کا مقدمہ ہے، پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے تحت کیس پانچ رکنی بنچ سن سکتا ہے‘، اسی طرح وفاقی حکومت کی جانب سے بھی تین رکنی بنچ پر اعتراض کیا گیا تاہم عدالت نے بنچ پر اعتراض مسترد کر دیا۔

جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ ’ابھی تو ابتدائی سماعت ہے، اگر اپیلیں قابل سماعت قرار پائیں تو کوئی بھی بنچ سن لے گا، اس سٹیج پر تو دو رکنی بنچ بھی سماعت کر سکتا ہے‘، اس کے بعد سنی اتحاد کونسل کے وکیل فیصل صدیقی نے دلائل کا آغاز کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ ’پی ٹی آئی کے آزاد جیتے ہوئے اراکین اسمبلی نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی‘، جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ ’سات امیدوار تاحال آزاد حیثیت میں قومی اسمبلی کا حصہ ہیں؟‘، جسٹس اطہر من اللّٰہ نے پوچھا کہ ’کیا پی ٹی آئی ایک رجسٹرڈ سیاسی جماعت ہے؟‘ اس پر فیصل صدیقی نے جواب دیا کہ ’پی ٹی آئی ایک رجسٹرڈ سیاسی جماعت ہے‘۔
جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس میں کہا کہ ’رجسٹرڈ سیاسی جماعت ہے صرف الیکشن میں حصہ نہیں لیا‘، جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ ’آزاد اراکین کو کتنے دنوں میں کسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنا ہوتی ہے؟‘، فیصل صدیقی نے بتایا کہ ’آزاد اراکین قومی اسمبلی کو تین روز میں کسی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کرنا ہوتی ہے‘، جسٹس اطہر من اللّٰہ نے سوال کیا کہ ’اگر کسی سیاسی جماعت کے پاس انتخابی نشان نہیں ہے تو کیا اس کے امیدوار نمائندگی کے حق سے محروم ہو جائیں گے؟‘، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ ’کوئی سیاسی جماعت انتخابات میں حصہ لے کر پارلیمانی جماعت بن سکتی ہے، دوسری صورت یہ ہے کہ کوئی سیاسی جماعت انتخابات میں حصہ نہ لے اور آزاد جیتے ہوئے اراکین اس جماعت میں شمولیت اختیار کر لیں‘۔
جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ ’سیاسی جماعتوں کے درمیان مخصوص نشستوں کی تقسیم کس فارمولے کے تحت ہوتی ہے، سیاسی جماعت کیا اپنی جیتی ہوئی سیٹوں کے مطابق مخصوص نشستیں لے گی یا زیادہ بھی لے سکتی ہے؟‘، اس پر فیصل صدیقی نے بتایا کہ ’کوئی سیاسی جماعت اپنے تناسب سے زیادہ کسی صورت مخصوص نشستیں نہیں لے سکتی‘، جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ ’سیاسی جماعت کو اتنی ہی مخصوص نشستیں مل سکتی جتنی جیتی ہوئی نشستوں کے تناسب سے ان کی بنتی ہیں‘۔
جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ’قانون میں کہاں لکھا ہے کہ بچی ہوئی نشتسیں دوباری انہی سیاسی جماعتوں میں تقسیم کی جائے گی‘، ہمیں پبلک مینڈیٹ کی حفاظت کرنی ہے، اصل مسئلہ پبلک مینڈیٹ کا ہے‘، جسٹس اطہر من اللہ نے دریافت کیا کہ ’قانون میں یہ کہاں لکھا ہے کہ انتخاباتی نشان نہ ملنے پر وہ سیاسی جماعت الیکشن نہیں لڑ سکتی؟‘، اس پر وکیل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ’جی یہی سوال لے کر الیکشن سے قبل میں عدالت گیا تھا‘۔
اس موقع پر مخصوص نشستوں کے کیس میں سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن حکام کو طلب کیا، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ ’الیکشن کمیشن حکام ریکارڈ لے کر فوری آئیں، الیکشن کمیشن سے کچھ سوالات کرنے ہیں، دوسری جماعتوں کو کس قانون کے تحت نشستیں دی گئیں؟ ہم الیکشن کمیشن اور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہیں، فیصلوں کی معطلی صرف اضافی نشستیں دینے کی حد تک ہوگی، کیس کی تاریخ مقرر کر کے روزانہ کی بنیاد پر سماعت کریں گے‘۔

بادبان ٹی وی کی رپورٹ کے بعد ذوالفقار حیدر کا مزھبی امور کا سیکرٹری لگا دیا گیا 10 ماہ تک یہ عھدہ خالی رھا 300 ارب روپے کی کرپشن کرنے کے بعد ڈی ایم جی کے انتھای ایمان دار ترین آفیسر کو ذوالفقار حیدر کو اس عھدے پر تعینات کیا گیا ہے ذوالفقار کے والد محترم بھی ایک ایمان دار آفیسر تھے وہ بھی گریڈ 21 کے ریٹائرڈ بیورو کریٹ ھے ذوالفقار حیدر تمام بڑے عھددوں پر فائز رہ چکے ھے کرپٹ کاکڑ کے وہ بھی زیر عتاب رھے وہ مافیا کا کیسے مقابلہ کرتے ھے

سعودی سرمایہ کاری کرنے کے لیے وفد پاکستان میں موجود جبکہ پاکستانی 100 ارب ڈالر گرشتہ 3سال میں پاکستان باھر لے کر جا چکے ھے سعودی کونسے سرمایہ کار پاکستان میں اے تفصیلات کے لئے کلک کرے

سعودی عرب کا اعلیٰ سطح کا وفد پاکستان پہنچ گیا، وفد میں 30 سے زائد کمپنیوں کے سرمایہ کار شامل ہیں۔سعودی وفد ولی عہد محمد بن سلمان کی خصوصی ہدایت پر پاکستان پہنچا ہے، سعودی تجارتی وفد سرمایہ کاری کے باہمی تعاون کےلیے پاکستان پہنچ گیا۔سعودی نائب وزیر سرمایہ کاری ابراہیم المبارک کی قیادت میں وفد کے 50 ارکان ہیں جس میں ٹیکنالوجی، توانائی، ہوا بازی، تعمیرات، مائننگ اور ہیومن ریسورسز سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی 30 کمپنیوں کے نمائندے شامل ہیں۔وزیر تجارت جام کمال اور وزیر پیٹرولیم مصدق ملک نے سعودی وفد کا استقبال کیا۔ اس موقع پر جام کمال نے کہا کہ سعودی وفد کے دورے کا مقصد باہمی تجارتی تعلقات کا فروغ ہے۔جام کمال نے کہا کہ پاکستانی کمپنیاں 30 سعودی کمپنیوں کے ساتھ مختلف شعبوں میں منسلک ہوں گی۔ بزنس ٹو بزنس میٹنگز میں زراعت، کان کنی، انسانی وسائل پر توجہ دی جائے گی۔ توانائی، کیمیکلز اور میری ٹائم جیسے شعبوں پر بھی توجہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ آئی ٹی، مذہبی سیاحت، ٹیلی کام، ایوی ایشن کے شعبے بھی زیر غور آئیں گے۔ پاکستانی کمپنیاں اپنے کاروبار اور سرمایہ کاری کی تجاویز سعودی کمپنیوں سے شیئر کریں گی

کسانوں کا بیساکھی کا روایتی تہوار بھی ختم۔ 400 سے زائد عرصہ تک منایا جانے والہ کسانوں کی خوشی کا میلہ گندم کٹای کا مظہر ھوتا تھا

کسانوں کیلئے سب سے بڑی نقد آور فصل ہے جس کی کٹائی سے پہلے پنجاب میں بیساکھی کا روایتی تہوار منایا جاتا ہے۔ یہ تہوار کسانوں کی ان خوشیوں اور امیدوں کا مظہر ہوتا ہے جو گندم کی فصل سے وابستہ ہوتی ہیں۔ تاہم اس سال کسانوں کیلئے یہ تہوار کسی خوشی کا باعث ثابت نہیں ہوا کیونکہ بیساکھ کا پنجابی مہینہ شروع ہوتے ہی بارشیں شروع ہو گئیں جو تاحال وقفے وقفے سے جاری ہیں۔ اس سے جہاں گندم کی فی ایکڑ پیداوار میں کمی آئی ہے وہیں فصل کی کٹائی کا عمل بھی متاثر ہوا ہے کیونکہ گندم کی کٹائی سے پہلے اسے سخت دھوپ کی ضرورت ہوتی ہے لیکن بار بار ہونے والی بارشوں کے باعث گندم کی کھڑی فصلیں خراب ہو رہی ہیں۔ دوسری طرف حکومت بھی رواں سال گندم کی خریداری میں وہ دلچسپی نہیں دکھا رہی ہے جو کہ گزشتہ برسوں میں نظر آتی تھی۔

اس وقت جہاں ایک طرف موسمیاتی تبدیلی زراعت کے شعبے کو شدید متاثر کر رہی ہے وہیں دوسری طرف حکومتی پالیسیاں بھی اس شعبے کو سپورٹ کرنے کی بجائے اسے مزید مشکلات کا شکار کر رہی ہیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال حکومت نے کسانوں کے گھروں اور کھیتوں پر چھاپے مار کر زبردستی سرکاری ریٹ پر گندم ضبط کر لی تھی لیکن اس سال صورتحال یہ ہے کہ گندم کے کاشتکاروں کو حکومت کی طرف سے باردانہ بھی فراہم نہیں کیا جا رہا ۔ ان حالات سے مجبور ہو کر کسانوں نے گندم کی فروخت کیلئے غلہ منڈیوں کا رخ کر لیا ہے لیکن وہاں بھی گندم کی قیمت میں روز بروز کمی کا سلسلہ جاری ہے۔ اس حوالے سے مزید افسوسناک امر یہ ہے کہ حکومت کی ان استحصالی پالیسیوں کے خلاف پرامن احتجاج کرنے والے کسانون کو تشدد کا نشانہ بنانے کے علاوہ گرفتار کرکے تذلیل کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ وہ حالات ہیں جن کی وجہ سے کسان سخت مایوسی کا شکار ہیں اور انہیں سمجھ نہیں آ رہی ہے کہ انہیں کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے۔

کسانوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے اپنی ہی مقرر کردہ امدادی قیمت پر خریداری نہ کرکے گندم کی ریکارڈ پیداوار کو کسانوں کیلئے زحمت بنا دیا ہے۔ علاوہ ازیں گزشتہ چند ماہ کے دوران بڑی مقدار میں بیرون ملک سے درآمد کی گئی اضافی گندم نے بھی اوپن مارکیٹ میں گندم کی مانگ میں کمی کی ہے۔ اس وجہ سے نہ تو حکومت گندم کی خریداری میں سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہی ہے اور نہ ہی آڑھتی یا فلور مالکان کسانوں سے حکومت کی مقرر کردہ امدادی قیمت پر گندم خریدنے کے لئے تیار ہیں۔ واضح رہے کہ رواں سال گندم کی کٹائی شروع ہونے سے پہلے تک حکومت کے پاس چالیس لاکھ ٹن سے زائد گندم کے ذخائر موجود تھے۔ علاوہ ازیں نگران حکومت کے دور میں نجی شعبے کے ذریعے ایک ارب ڈالر مالیت کی 34 لاکھ ٹن اضافی گندم بیرون ملک سے درآمد کی گئی جو کہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 36 فیصد زیادہ ہے۔ اس طرح گندم کی نئی فصل آنے سے قبل ملک میں تقریبا 74 لاکھ ٹن سے زائد گندم موجود تھی جبکہ رواں سال گندم کی پیداوار کا تخمینہ 30 ملین ٹن سے زیادہ ہے۔ اگرچہ گندم کی اس پیداوار کو ایک ریکارڈ قرار دیا جا رہا ہے لیکن اس کے باوجود یہ پیداوار پاکستان کی ضرورت سے کم ہے۔ اس لئے گندم کی خریداری کے حوالے سے حکومتی رویہ سمجھ سے بالاتر ہے۔

علاوہ ازیں نگران حکومت کی طرف سے گندم کی اچھی پیداوار کے باوجود نجی شعبے کو ایک ارب ڈالر سے زائد کی اضافی گندم درآمد کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ بھی شکوک وشبہات کو جنم دیتا ہے۔ واضح رہے کہ درآمدی گندم آنے سے قبل اوپن مارکیٹ میں گندم کی فی من قیمت چار ہزار روپے سے زیادہ تھی۔ تاہم جب پنجاب کے محکمہ خوراک نے فلور ملز کو گندم کا اجراروک دیا تو اس قیمت میں مزید اضافہ ہو گیا جس کا تمام تر فائدہ بیرون ملک سے سستے داموں گندم درآمد کرنے والوں نے اٹھایا ۔ یہ حالات ان شکوک شبہات کو تقویت دیتے ہیں کہ گندم کی نئی فصل کی آمد سے قبل بیرون ملک سے گندم کی درآمد کے فیصلے کے پیچھے کسی نہ کسی نے ناجائز منافع کمایا ہے۔ ایسے میں موجودہ حکومت کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس اسکینڈل کی انکوائری کر کے ذمہ دار عناصر کو عوام کے سامنے بے نقاب کرے اور ان کی جیبوں میں جانے والے ناجائز منافع کو ضبط کر کے کسانوں کو براہ راست سبسڈی دے۔

اگر حکومت زراعت کے شعبے اور کسان کو مزید تباہی سے بچانا چاہتی ہے تو اس کا فوری حل یہی ہے کہ حکومتی سطح پر فوری طور پر گندم کی خریداری شروع کی جائے تاکہ کسانوں کو ان کی محنت کا پورا معاوضہ مل سکے۔ علاوہ ازیں ارباب اقتدار کو یہ بات بھی ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے کہ رواں سال گندم کی اچھی پیداوار کے باوجود ملک میں گندم کے اتنے ذخائر موجود نہیں ہیں کہ اگلی فصل آنے تک مقامی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔ اس لئے اگر سرکاری طور پر کسانوں سے گندم نہ خریدی گئی تو کسانوں سے اونے پونے گندم خریدنے والا مافیا چند ماہ بعد یہی گندم مہنگے داموں فروخت کرکے دگنا منافع کمائے گا اور آج روٹی سستی کرنے کا کریڈٹ لینی والی حکومت کو اپنی ساکھ بچانے کے لئے بھاری زرمبادلہ خرچ کر کے بیرون ملک سے گندم درآمد کرنا پڑے گی۔ اس لئے اگر آج ہم اپنے کسان کی عزت نفس اور حقوق کا خیال رکھیں گے تو کل کو یہی کسان ناصرف ملک کو زرعی شعبے میں خودکفیل بنائیں گے بلکہ اضافی پیداوار کے ذریعے زرعی اجناس کی برآمد سے ملک کو زرمبادلہ بھی کما کر دیں گے۔

بل زیادہ بھیجنے پر 3 سال قید بل منظور۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے اوور بلنگ پر 3 سال قید کی سزا کا بل منظور کر لیا، وزارت توانائی کے مطابق قومی اسمبلی نے ڈسکوز میں اوور بلنگ پر قانون سازی کی منظوری دیدی ہے۔نیپرا ذرائع کے مطابق ایف آئی اے کی جانب سے بلاوجہ ہراساں کئے جانے سے بچنے کے لیے رولز میں تبدیلی کر دی گئی ہے، جس کے بعد ایف آئی اے صرف نشاندہی کرے گی ، افسران کی گرفتاری کا اختیار نہیں ہو گا۔دریں اثناء وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ نیپرا ایکٹ میں ترمیم سے ایک اور وعدہ پورا کر دکھایا، اس شق سے اوور بلنگ اور غلط بلنگ کرنے والے افسران کی پکڑ ہو سکے گی۔ آئندہ ایف آئی اے نہیں ، نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی اوور بلنگ پر کارروائی کرے گی۔

دارالحکومت میں گزشتہ ہفتے کے دوران کار لفٹنگ، موٹر سائیکل چوری اور موبائل فون چھیننے کے واقعات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، کیونکہ اس کے مختلف تھانوں میں 77 سے زائد کار جیکنگ اور موبائل فون اور نقدی چھیننے کے 76 سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے

دارالحکومت میں گزشتہ ہفتے کے دوران کار لفٹنگ، موٹر سائیکل چوری اور موبائل فون چھیننے کے واقعات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، کیونکہ اس کے مختلف تھانوں میں 77 سے زائد کار جیکنگ اور موبائل فون اور نقدی چھیننے کے 76 سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے۔ اعداد و شمار کے مطابق ڈکیتی اور گن پوائنٹ پر نقدی چھیننے سمیت مختلف نوعیت کی چوری کی 16 وارداتیں ہوئیں۔کار جیکنگ کے 77 واقعات میں 70 دو پہیہ گاڑیاں اور نو کاریں شامل ہیں۔ اسی عرصے میں کھنہ، کراچی کمپنی، لوہی بھیر، مارگلہ، آبپارہ اور نون تھانوں کی حدود میں جرائم پیشہ گروہ سب سے زیادہ سرگرم تھے۔زیر جائزہ مدت کے دوران کار جیکرز نے انڈسٹریل ایریا تھانے کی حدود سے ایک کار اور 9 موٹر سائیکلیں، کراچی کمپنی تھانے کی حدود سے 9 موٹر سائیکلیں، تھانہ کھنہ کی حدود سے 7 موٹر سائیکلیں اور 6 موٹر سائیکلیں چوری کیں۔ تھانہ کوہسار کا دائرہ اختیارمزید برآں، تھانہ مارگلہ میں ایک کار اور چار موٹر سائیکلوں سمیت آٹو چوری کے پانچ واقعات رپورٹ ہوئے، تھانہ لوہی بھیر میں پانچ کار چوری کی وارداتیں اور سیکرٹریٹ تھانے سے چار موٹر سائیکلیں چوری کی گئیں۔اسی طرح تھانہ کھنہ کی حدود سے مسلح افراد نے 13 موبائل فونز کے ساتھ ساتھ نقدی بھی چھین لی، ڈاکوئوں نے دو مقامات پر وارداتیں کیں اور تھانہ کھنہ کی حدود سے آٹو چوری کی 7 موٹر سائیکلیں اور آٹو چوری کی 10، موبائل چھیننے کی 4 اور ڈکیتی کی دو وارداتیں رپورٹ ہوئیں۔ گزشتہ ہفتے کے دوران انڈسٹریل ایریا تھانےاس دوران کراچی کمپنی تھانے کی حدود میں موبائل چھیننے کی 6 وارداتیں، گاڑیاں چوری کی 9 اور ڈکیتی کی ایک واردات ہوئی۔ اسی طرح تھانہ لوہی بھیر نے موبائل چوری کے 5 مقدمات، کار جیکنگ کے 5 اور ڈکیتی کا ایک مقدمہ درج کیا جبکہ آٹو چوری کے 6، موبائل چھیننے کے 2 اور ڈکیتی کا ایک مقدمہ تھانہ مارگلہ میں درج کیا گیا۔مزید برآں تھانہ آبپارہ کی حدود میں آٹو چوروں نے چھ موٹر سائیکلیں اور مسلح افراد تین افراد سے موبائل فون چھین کر لے گئے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران موبائل چھیننے کے مزید سات، کار جیکنگ کے پانچ اور چوری کا ایک کیس نون تھانے میں رپورٹ ہوا۔