بینظیر بھٹو اسپتال راولپنڈی میں کانگو وائرس سے متاثرہ 2 مریض انتقال کرگئے۔اسپتال ذرائع کے مطابق کانگو وائرس سے متاثرہ 3 مریض رواں ماہ اٹک سے لائے گئے تھے، جن میں سے 2 انتقال کرگئے ہیں۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

بینظیر بھٹو اسپتال راولپنڈی میں کانگو وائرس سے متاثرہ 2 مریض انتقال کرگئے۔اسپتال ذرائع کے مطابق کانگو وائرس سے متاثرہ 3 مریض رواں ماہ اٹک سے لائے گئے تھے، جن میں سے 2 انتقال کرگئے ہیں۔ذرائع کے مطابق بینظیر بھٹو اسپتال میں لایا گیا کانگو وائرس کا تیسرا مریض تاحال زیر علاج ہے

ڈی ایم ایس بینظیر بھٹو اسپتال راولپنڈی ڈاکٹر جنید نے کہا ہے کہ کانگو جان لیوا وائرس ہے، بچاؤ کے امکانات صرف 10 فیصد ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کانگو وائرس جانوروں سے انسان اور انسان سے انسان میں منتقل ہوتا ہے، مسوڑوں، ناک اور فضلے میں خون آنا، تیز بخار کانگو وائرس کی علامات ہیں۔کانگو وائرس کے نئے کیسز سامنے آنے پر محکمہ ہیلتھ پنجاب نے 9 رکنی ڈاکٹرز کی خصوصی ٹیم اٹک بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسلام آباد میں وسیع پیمانے پر تبدیلیاں نیوی کے لیفٹیننٹ کمانڈر یاسر آفریدی ڈی ای جی آپریشن تمام تھانوں کے ایس ایچ او تبدیل تفصیلات کے لئے کلک کرے

اسلام آباد پولیس میں مزید تبادلوں کا فیصلہ کیا گیا ہے، ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) سے محرر تک اکھاڑ پچھاڑ ہوگی۔تفصیلات کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ ڈی آئی جی آپریشنز کے عہدے پر تعیناتی کے لیے لاہور سے علی رضا کو لایا جا رہا ہے، جبکہ ایس ایس پی آپریشنز جمیل ظفر کو بھی تبدیل کیا جائے گا۔ذرائع نے بتایا کہ ایس ایس پی آپرینشز کے لیے بلوچستان سے ایک پی ایس پی آفیسر کو تعینات کیا جائے گا، حسن سردار احمد خان کو ایس ایس پی لا اینڈ آرڈر تعینات کردیا گیا ۔اسی طرح ایس پی سوہان اصغر علی کو تبدیل کرکے ایس پی وزیراعظم ہاؤس تعینات کردیا گیا، ذرائع کے مطابق خیبرپختوانخو صوبے سے واپس تبدیل ہونے والے ایس ایس پی یاسر آفریدی کو بھی اہم عہدے پر تعینات کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق تھانوں کی سطع پر بھی ایس ایچ اوز اور تفتیشی افسران کی ڈویثرن سطع پر تبدیل کیا جائے گا، تھانوں کے تمام محرر اور نائب محرر بھی تبدیل کردئیے جائیں گے

تفتیشی افسر سب انسپکٹر دنوں سیکٹر کمانڈر کی تفتیشی اور 161 بیان لے جسٹس محسن اختر کیانی اسلام آباد ھای کورت ایجنسیاں ھمیں احکامات جاری کرنے سے گریز کرے چیف جسٹس پنجاب ھای کورٹ ازادنہ فیصلے کرنے سے کوی نھی روک سکتا جسٹس اطہر من اللہ سینٹ میں ججز کخلاف شیری رحمان کی صدارت کے بعد تقاریر کا ردعمل ھم پاکستان کو کدھر لے کر جارھے تفصیلات کے لئے کلک کرے

‏احمد فرہاد کیس/ مکمل عدالتی کارروائی ‏اسلام آباد ہائی کورٹ نے مسنگ پرسنز کیسز لائیو دکھانے کا فیصلہ کر لیا۔ مغوی شاعر کی عدم بازیابی پر سیکرٹری دفاع اور آئی ایس آئی کے سیکٹر کمانڈر کو 29 مئی کو طلب کر لیا ہے ۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے ہم نے جبری گمشدگیوں کو روکنا ہے۔اب یہ صرف ایک آدمی کی ریکوری کی بات نہیں پوری قوم کی ریکوری کا معاملہ ہے۔یہ حکومت تو جبر کے دور سے گزر کر آئی ہے اسے تو سمجھنا چاہیے، صحافیوں کی خبر سے اتنی تکلیف کیوں ہوتی ہے؟ عدلیہ اداروں کے ماتحت نہیں، ادارے ایسا کرنے کا سوچیں بھی نہیں، جب جب ایسا ہوا اس کے بھیانک نتائج نکلے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ بدنام ترین تاریخ ہے‏اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے مغوی شاعر احمد فرہاد کی بازیابی درخواست پر سماعت کی۔ اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے کہا احمد فرہاد کی تلاش کی کوشش جاری ہے، لوکیشن ٹریس ہوئی ہے، ہم نے سی ڈی آر لی ہے، پولیس ٹیم وہاں پر موجود ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے ریاست کی گارنٹی ناکام ہو گئی ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا نہیں، ابھی ناکام نہیں ہوئی۔‏جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا احمد فرہاد کی بازیابی کا معاملہ اب غیرمتعلقہ ہو گیا ہے، اسے ریکور کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اب ایک شخص کا بازیاب ہونا غیرمتعلقہ ہے، یہ صرف ایک آدمی کی ریکوری کی بات نہیں پوری قوم کی ریکوری کا معاملہ ہے۔اگر احمد فرہاد بازیاب ہوتا تو پھر پٹیشن ختم ہو جاتی، اب میں اس پر ججمنٹ دوں گا۔اب پولیس مسنگ پرسن کیس میں انٹیلیجنس ایجنسی کےافسر کو شامل تفتیش کرے گی،پھر ٹرائل کورٹ کی صوابدید ہو گی کہ وہ اسے بطور گواہ بلائے یا نہیں۔ سیکٹر کمانڈر کی حیثیت ہمارے ایس ایچ او کے برابر ہے، اس کو عدالت میں پیش ہوتے کوئی شرمندگی نہیں ہونی چاہیے، تمام ادارے قانون کے ماتحت ہیں عدالتوں میں پیش ہونے سے کسی کی بےعزتی نہیں ہوتی۔ ‏عدالت نے پوچھا آئی ایس آئی کس کو جوابدہ ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا آئی ایس آئی وزیراعظم کے ماتحت ہے، جسٹس کیانی نے کہا پھر تو بہت آسان ہو گیا سیدھا وزیراعظم کو رپورٹ کرتے ہیں درمیان میں کوئی نہیں۔پھر ہم وزیراعظم کو بلا کر پوچھ لیں گے کہ آپ کے ماتحت ادارہ کیسے کام کرتا ہے۔فی الحال وزیراعظم کو نہیں بلا رہا ۔ ابھی آئی ایس آئی کی ورکنگ سمجھنا چاہتا ہوں۔وزیراعظم کو طلب کرنا آخری آپشن ہو گا۔ سیکرٹری دفاع عدالتی سوالات کے جواب دیں کہ آئی ایس آئی کام کیسے کرتی ہے؟ اس کی انٹرنل ورکنگ کیسے ہے؟ کیا ریاست کے فنڈز استعمال ہوتے ہیں؟ سیکٹر کمانڈرز کی کیا ذمہ داریاں ہیں، ان کے نیچے کتنے لوگ کام کرتے ہیں ۔اب ایجنسیاں چھپ کر نہیں رہیں گی بلکہ سامنے اور سٹرکچرڈ ہوں گی۔ان کی ورکنگ کی ٹرانسپیرنسی بہت ضروری ہے۔پاکستان میں کوئی ایجنسیز ایسے کام نہیں کر سکتیں کہ جس کا چیک اینڈ بیلنس نا ہو۔یہ ادارے کام کر کے قوم پر احسان نہیں کر رہے، جب اداروں کا احتساب نہ ہو اور احتساب کا طریقہ کار موجود نہ ہو تو پھر مسئلہ ہوتا ہے۔ایجنسیوں کا سٹرکچر موجود ہو گا اور طریقہ کار طے کیا جائے گا۔ایجنسیز کی ورکنگ کہیں تحریری طور پر رکارڈ پر نہیں ہے۔اگر پولیس کے پاس تھانے میں بندہ ہو اوروہ انکار کرےکہ اس کے پاس نہیں تو کیاریمیڈی ہے؟قانون میں ایسے پولیس اہلکار کے خلاف دس سال قید کی سزا ہے۔کیا کوئی مثال ہے کہ کسی انٹیلی جنس افسر کو پراسیکیوٹ کیا گیا ہو؟ اٹارنی جنرل نے کہا نہیں، ایسا نہیں ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا یہ جو استثنا ملا ہوا ہے اسی کوختم کرنا ہے۔ یا تو ایجنسیوں کو قانون سازی کر کے چھ چھ ماہ کا اختیار دے دیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا آئین میں اس کی اجازت نہیں ہے۔ جسٹس کیانی نے کہا آئین ان باقی چیزوں کی اجازت بھی نہیں دیتا جو ہو رہی ہیں۔انہوں نے کہا یہ ساری لیگل باتیں ہیں جس پر اعتراض والی تو کوئی بات نہیں۔اٹارنی جنرل نے کہا دیکھ لیتے ہیں کہ ایجنسیز کا دنیا بھر میں کردار کیا ہوتا ہے۔ اس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا سی آئی اےکا سربراہ تو جوابدہ ہوتا ہےاور کئی کئی گھنٹے کھڑےہوکر سوالوں کے جواب دیتا ہے۔ ایجنسیز ہمیں کانفیڈنشل چیزیں دیتی ہے اور ہم انہیں صرف اپنے پاس رکھتے ہیں۔ایسی چیزیں تو ہم بھی پڑھ کر بند لفافے میں واپس کر دیتے ہیں۔ مسنگ پرسن کیس میں پہلے بھی ایک ایک کروڑ روپے کے جرمانے کیے تھے، مسئلے کا حل نہیں نکل رہا، آج بھی وہیں کھڑے ہیں۔ میں نے تو کبھی نہیں دیکھا کہ کسی عدالت نے دہشت گرد کا ریمانڈ مسترد کیا ہو۔ دہشت گردوں کو تو کبھی ضمانت یا رعایت بھی نہیں دی۔ اس بندے کو غائب ہوئے دس دن ہو گئے ہیں۔ ‏عدالتی کارروائی / مکمل احوال 2/2‏ایمان مزاری ایڈووکیٹ نے کہا یہ مغوی کی انٹرایجنسی ٹرانسفر بھی کرتے ہیں، ایم آئی سے بھی اس متعلق بیان حلفی لیا جائے۔ مغوی کو وڈیو بیان ریکارڈ کرانے پر مجبور کیا جا رہا ہے کہ وڈیو بیان ریکارڈ کرائے اور کہے کہ ماضی میں جوکچھ کہا وہ غلط تھااور آئندہ ایسا نہیں کرے گا۔ اٹارنی جنرل کی گارنٹی پوری نہیں ہو سکی۔یہ بتایا جا رہا ہے کہ اگر بندہ نکلے گا تو ڈیل کر کے نکلے گا ایسے نہیں نکل سکتا۔احمد فرہاد کی جان کو شدید خطرہ ہے۔‏سینئر صحافی و اینکر حامد میر روسٹرم پر آ گئےاور کہا حکومت نے پیمرا کے ذریعے میڈیا کے خلاف اعلان جنگ کر دیا ہےاور عدالتی کارروائی رپورٹ کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ اس عدالت میں اسی کیس کی گزشتہ سماعت کے بعد ہوا۔ عدالت نے جو آج باتیں پوچھی ہیں کیا وہ ہم چلا سکتے ہیں؟ جسٹس کیانی نے کہا آپ بالکل چلا سکتے ہیں۔پیمرا کا آرڈر میرے سامنے نہیں، ہم آئندہ اس عدالت کی کارروائی لائیو دکھائیں گے۔مسنگ پرسنز کے کیسز اب لارجر بینچ میں بھجوانے کا کہوں گا۔جسٹس محسن اختر کیانی نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کر کے کہا جب چینلز پر چیزیں چلاتے ہیں تو آپ کو بری کیوں لگتی ہیں؟ یہ حکومت تو خودجبر کے دور سے گزر کر آئی ہے اسے تو سمجھنا چاہیے، صحافیوں کی خبر سے اتنی تکلیف کیوں ہوتی ہے؟ ہم تو اس کو بھی نہیں روک پائے جو بیٹھ کر گالیاں دیتا ہے۔ صحافیوں کی گائیڈ لائنز موجود ہیں، وہ دوسرے کا موقف بھی پوچھتے ہیں۔اگر حکومت نے اپنا مثبت چہرہ دکھانا ہوتا ہے تو اس کے لیے شفافیت ضروری ہے۔ ہم یہی ٹرانسمیشن لائیو کر دیں گے جس نے جو سمجھنا ہو گا سمجھ لے گا۔ ‏ایس ایس پی آپریشنز جمیل ظفر نے کہا انٹیلی جنس بیورو پولیس کی معاونت کر رہی ہے۔ عدالت نے پوچھا آئی ایس آئی اور ایم آئی معاونت نہیں کرتیں؟ ایس ایس پی نے جواب دیا پولیس آئی بی سے ہی معاونت لیتی ہے۔ آئی جی اسلام آباد نے کہا جبری گمشدگی کی طرف معاملہ جا رہا ہو تو جے آئی ٹی بنائی جاتی ہے۔ جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم بناکر اس میں انٹیلی جنس اداروں کے نمائندے بھی ہوتے ہیں۔ جسٹس کیانی نے کہا یہ ایسے ہی ہے کہ میں ایجنسی کے لوگوں کو چیمبر میں بلا کر گپ شپ لگاؤں، کچھ ان کی سنوں، کچھ انہیں بتاؤں۔لاپتہ افراد کمیشن کی مایوس کن کارکردگی ہے، کئی کئی سال کیس چلتا ہے۔کمیشن کونظرآتا ہے کہ بندہ ایجنسی کی تحویل میں بھی ہے مگر مانگ بھی نہیں سکتے۔وہ ادھر سے مان بھی رہے ہوتے ہیں اور بندہ بھی نہیں چھوڑ رہے ہوتے۔ ‏عدالت نے سینئر صحافی حامد میر کو عدالتی معاون مقرر کرتے ہوئے کہا کہ ہیومن رائٹس کے نمائندے اور پارلے منٹیرین کو بھی عدالتی معاون مقرر کریں گے۔ کیس کی مزید سماعت29 مئی کو ہو گیبشکریہ : اویس یوسفزئی صاحب / کورٹ رپورٹر

جسٹس محسن کیانی اور بارہ ججز احمد فراز کیس مکمل کھانی صرف بادبان ٹی وی پر تفصیلات کے لیے کلک کریں

‏احمد فرہاد کیس/ مکمل عدالتی کارروائی

‏اسلام آباد ہائی کورٹ نے مسنگ پرسنز کیسز لائیو دکھانے کا فیصلہ کر لیا۔ مغوی شاعر کی عدم بازیابی پر سیکرٹری دفاع اور آئی ایس آئی کے سیکٹر کمانڈر کو 29 مئی کو طلب کر لیا ہے ۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے ہم نے جبری گمشدگیوں کو روکنا ہے۔اب یہ صرف ایک آدمی کی ریکوری کی بات نہیں پوری قوم کی ریکوری کا معاملہ ہے۔یہ حکومت تو جبر کے دور سے گزر کر آئی ہے اسے تو سمجھنا چاہیے، صحافیوں کی خبر سے اتنی تکلیف کیوں ہوتی ہے؟ عدلیہ اداروں کے ماتحت نہیں، ادارے ایسا کرنے کا سوچیں بھی نہیں، جب جب ایسا ہوا اس کے بھیانک نتائج نکلے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ بدنام ترین تاریخ ہے

‏اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے مغوی شاعر احمد فرہاد کی بازیابی درخواست پر سماعت کی۔ اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے کہا احمد فرہاد کی تلاش کی کوشش جاری ہے، لوکیشن ٹریس ہوئی ہے، ہم نے سی ڈی آر لی ہے، پولیس ٹیم وہاں پر موجود ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے ریاست کی گارنٹی ناکام ہو گئی ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا نہیں، ابھی ناکام نہیں ہوئی۔

‏جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا احمد فرہاد کی بازیابی کا معاملہ اب غیرمتعلقہ ہو گیا ہے، اسے ریکور کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اب ایک شخص کا بازیاب ہونا غیرمتعلقہ ہے، یہ صرف ایک آدمی کی ریکوری کی بات نہیں پوری قوم کی ریکوری کا معاملہ ہے۔اگر احمد فرہاد بازیاب ہوتا تو پھر پٹیشن ختم ہو جاتی، اب میں اس پر ججمنٹ دوں گا۔اب پولیس مسنگ پرسن کیس میں انٹیلیجنس ایجنسی کےافسر کو شامل تفتیش کرے گی،پھر ٹرائل کورٹ کی صوابدید ہو گی کہ وہ اسے بطور گواہ بلائے یا نہیں۔ سیکٹر کمانڈر کی حیثیت ہمارے ایس ایچ او کے برابر ہے، اس کو عدالت میں پیش ہوتے کوئی شرمندگی نہیں ہونی چاہیے، تمام ادارے قانون کے ماتحت ہیں عدالتوں میں پیش ہونے سے کسی کی بےعزتی نہیں ہوتی۔

‏عدالت نے پوچھا آئی ایس آئی کس کو جوابدہ ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا آئی ایس آئی وزیراعظم کے ماتحت ہے، جسٹس کیانی نے کہا پھر تو بہت آسان ہو گیا سیدھا وزیراعظم کو رپورٹ کرتے ہیں درمیان میں کوئی نہیں۔پھر ہم وزیراعظم کو بلا کر پوچھ لیں گے کہ آپ کے ماتحت ادارہ کیسے کام کرتا ہے۔فی الحال وزیراعظم کو نہیں بلا رہا ۔ ابھی آئی ایس آئی کی ورکنگ سمجھنا چاہتا ہوں۔وزیراعظم کو طلب کرنا آخری آپشن ہو گا۔ سیکرٹری دفاع عدالتی سوالات کے جواب دیں کہ آئی ایس آئی کام کیسے کرتی ہے؟ اس کی انٹرنل ورکنگ کیسے ہے؟ کیا ریاست کے فنڈز استعمال ہوتے ہیں؟ سیکٹر کمانڈرز کی کیا ذمہ داریاں ہیں، ان کے نیچے کتنے لوگ کام کرتے ہیں ۔اب ایجنسیاں چھپ کر نہیں رہیں گی بلکہ سامنے اور سٹرکچرڈ ہوں گی۔ان کی ورکنگ کی ٹرانسپیرنسی بہت ضروری ہے۔پاکستان میں کوئی ایجنسیز ایسے کام نہیں کر سکتیں کہ جس کا چیک اینڈ بیلنس نا ہو۔یہ ادارے کام کر کے قوم پر احسان نہیں کر رہے، جب اداروں کا احتساب نہ ہو اور احتساب کا طریقہ کار موجود نہ ہو تو پھر مسئلہ ہوتا ہے۔ایجنسیوں کا سٹرکچر موجود ہو گا اور طریقہ کار طے کیا جائے گا۔ایجنسیز کی ورکنگ کہیں تحریری طور پر رکارڈ پر نہیں ہے۔اگر پولیس کے پاس تھانے میں بندہ ہو اوروہ انکار کرےکہ اس کے پاس نہیں تو کیاریمیڈی ہے؟قانون میں ایسے پولیس اہلکار کے خلاف دس سال قید کی سزا ہے۔کیا کوئی مثال ہے کہ کسی انٹیلی جنس افسر کو پراسیکیوٹ کیا گیا ہو؟ اٹارنی جنرل نے کہا نہیں، ایسا نہیں ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا یہ جو استثنا ملا ہوا ہے اسی کوختم کرنا ہے۔ یا تو ایجنسیوں کو قانون سازی کر کے چھ چھ ماہ کا اختیار دے دیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا آئین میں اس کی اجازت نہیں ہے۔ جسٹس کیانی نے کہا آئین ان باقی چیزوں کی اجازت بھی نہیں دیتا جو ہو رہی ہیں۔انہوں نے کہا یہ ساری لیگل باتیں ہیں جس پر اعتراض والی تو کوئی بات نہیں۔اٹارنی جنرل نے کہا دیکھ لیتے ہیں کہ ایجنسیز کا دنیا بھر میں کردار کیا ہوتا ہے۔ اس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا سی آئی اےکا سربراہ تو جوابدہ ہوتا ہےاور کئی کئی گھنٹے کھڑےہوکر سوالوں کے جواب دیتا ہے۔ ایجنسیز ہمیں کانفیڈنشل چیزیں دیتی ہے اور ہم انہیں صرف اپنے پاس رکھتے ہیں۔ایسی چیزیں تو ہم بھی پڑھ کر بند لفافے میں واپس کر دیتے ہیں۔ مسنگ پرسن کیس میں پہلے بھی ایک ایک کروڑ روپے کے جرمانے کیے تھے، مسئلے کا حل نہیں نکل رہا، آج بھی وہیں کھڑے ہیں۔ میں نے تو کبھی نہیں دیکھا کہ کسی عدالت نے دہشت گرد کا ریمانڈ مسترد کیا ہو۔ دہشت گردوں کو تو کبھی ضمانت یا رعایت بھی نہیں دی۔ اس بندے کو غائب ہوئے دس دن ہو گئے ہیں۔

‏عدالتی کارروائی / مکمل احوال 2/2

‏ایمان مزاری ایڈووکیٹ نے کہا یہ مغوی کی انٹرایجنسی ٹرانسفر بھی کرتے ہیں، ایم آئی سے بھی اس متعلق بیان حلفی لیا جائے۔ مغوی کو وڈیو بیان ریکارڈ کرانے پر مجبور کیا جا رہا ہے کہ وڈیو بیان ریکارڈ کرائے اور کہے کہ ماضی میں جوکچھ کہا وہ غلط تھااور آئندہ ایسا نہیں کرے گا۔ اٹارنی جنرل کی گارنٹی پوری نہیں ہو سکی۔یہ بتایا جا رہا ہے کہ اگر بندہ نکلے گا تو ڈیل کر کے نکلے گا ایسے نہیں نکل سکتا۔احمد فرہاد کی جان کو شدید خطرہ ہے۔

‏سینئر صحافی و اینکر حامد میر روسٹرم پر آ گئےاور کہا حکومت نے پیمرا کے ذریعے میڈیا کے خلاف اعلان جنگ کر دیا ہےاور عدالتی کارروائی رپورٹ کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ اس عدالت میں اسی کیس کی گزشتہ سماعت کے بعد ہوا۔ عدالت نے جو آج باتیں پوچھی ہیں کیا وہ ہم چلا سکتے ہیں؟ جسٹس کیانی نے کہا آپ بالکل چلا سکتے ہیں۔پیمرا کا آرڈر میرے سامنے نہیں، ہم آئندہ اس عدالت کی کارروائی لائیو دکھائیں گے۔مسنگ پرسنز کے کیسز اب لارجر بینچ میں بھجوانے کا کہوں گا۔جسٹس محسن اختر کیانی نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کر کے کہا جب چینلز پر چیزیں چلاتے ہیں تو آپ کو بری کیوں لگتی ہیں؟ یہ حکومت تو خودجبر کے دور سے گزر کر آئی ہے اسے تو سمجھنا چاہیے، صحافیوں کی خبر سے اتنی تکلیف کیوں ہوتی ہے؟ ہم تو اس کو بھی نہیں روک پائے جو بیٹھ کر گالیاں دیتا ہے۔ صحافیوں کی گائیڈ لائنز موجود ہیں، وہ دوسرے کا موقف بھی پوچھتے ہیں۔اگر حکومت نے اپنا مثبت چہرہ دکھانا ہوتا ہے تو اس کے لیے شفافیت ضروری ہے۔ ہم یہی ٹرانسمیشن لائیو کر دیں گے جس نے جو سمجھنا ہو گا سمجھ لے گا۔

‏ایس ایس پی آپریشنز جمیل ظفر نے کہا انٹیلی جنس بیورو پولیس کی معاونت کر رہی ہے۔ عدالت نے پوچھا آئی ایس آئی اور ایم آئی معاونت نہیں کرتیں؟ ایس ایس پی نے جواب دیا پولیس آئی بی سے ہی معاونت لیتی ہے۔ آئی جی اسلام آباد نے کہا جبری گمشدگی کی طرف معاملہ جا رہا ہو تو جے آئی ٹی بنائی جاتی ہے۔ جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم بناکر اس میں انٹیلی جنس اداروں کے نمائندے بھی ہوتے ہیں۔ جسٹس کیانی نے کہا یہ ایسے ہی ہے کہ میں ایجنسی کے لوگوں کو چیمبر میں بلا کر گپ شپ لگاؤں، کچھ ان کی سنوں، کچھ انہیں بتاؤں۔لاپتہ افراد کمیشن کی مایوس کن کارکردگی ہے، کئی کئی سال کیس چلتا ہے۔کمیشن کونظرآتا ہے کہ بندہ ایجنسی کی تحویل میں بھی ہے مگر مانگ بھی نہیں سکتے۔وہ ادھر سے مان بھی رہے ہوتے ہیں اور بندہ بھی نہیں چھوڑ رہے ہوتے۔

‏عدالت نے سینئر صحافی حامد میر کو عدالتی معاون مقرر کرتے ہوئے کہا کہ ہیومن رائٹس کے نمائندے اور پارلے منٹیرین کو بھی عدالتی معاون مقرر کریں گے۔ کیس کی مزید سماعت29 مئی کو ہو گی

بشکریہ : اویس یوسفزئی صاحب / کورٹ رپورٹر

سپیکر ایاز صادق مولوی تمیز الدین کے روپ میں۔ امن کا سپاہی عاصم منیر۔۔ ایرانی صدر شھید امت مسلمہ کو سوگوار کر گیا۔ حج 2024 2 سو ارب روپے کی کرپشن۔۔سولنگی اور کاکڑ کی حرامزدگیاں کھربوں کی کرپشن۔۔ تفصیلات بادبان کے تازہ شمارہ میں 28 مئی کو اپنے ھاکر سے طلب کریں۔ 29 مئی کو ان لائن بادبان ٹی وی اور ڈیلی پوسٹ انٹرنیشنل پر

34 ارب صحت کارڈ کے لئے مختص سکولوں کو اپ گریڈ۔ کے پی کے بجٹ میں اور کیا تفصیلات کے لیے کلک کریں

وزیر خزانہ خیبرپختونخوا آفتاب عالم نے مالی سال 25-2024 کا صوبائی بجٹ پیش کردیا جبکہ ملکی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب کہ کسی صوبے نے وفاق سے پہلے اپنا بجٹ پیش کیا۔ خیبر پختونخوا میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد اضافہ جبکہ مزدور کی کم از کم تنخواہ 32 ہزار سے بڑھا کر36 ہزارمقرر کردی گئی۔خیبرپختونخوا اسمبلی کا بجٹ اجلاس 2 گھنٹے 15 منٹ تاخیر سے شروع ہوا، اجلاس کی صدارت اسپیکر بابر سلیم سواتی نے کی، اس موقع پر وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپوربھی ایوان میں موجود ہیں۔بجٹ تقاریربجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ آفتاب عالم آفریدی نے کہا کہ 8 فروری کےانتخابات میں عوام نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو واضح مینڈیٹ دیا، پی ٹی آئی حکومت نے خیبر پختونخوا میں بے مثال ترقیاتی کام کیے، خیبرپختونخوا کے عوام نے پی ٹی آئی کو تیسری بار منتخب کیا، ترقیاتی منصوبوں میں سے اہم صحت انصاف کارڈ کا اجراء ہے۔آفتاب عالم آفریدی کا کہنا تھا کہ عوام کو صحت کی یکساں سہولیات مفت فراہم کرنے کا وعدہ پورا کیا، پی ٹی آئی نے اسکولوں،کالجز اور جامعات کی تعداد میں اضافہ کیا، تعلیمی معیار کی بلندی کے لیے مختلف پروگرامز متعارف کرائے، تعلیمی اصلاحات سے طلبہ کے لیے حصول تعلیم کے زیادہ سے زیادہ موقع پیدا ہوئے، نئےاساتذہ کی بھرتی سے تعلیم کے فروغ میں بہتری آئی، تعلیم قوموں کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے، نئےاسکولوں کے ساتھ ساتھ کئی اسکولوں کو اپ گریڈ کیا، ایک لاکھ قابل اساتذہ کو بھرتی کیا گیا۔خیبرپختونخوا حکومت کا تاریخ میں پہلی بار وفاق سے پہلے بجٹ پیش کرنے کا فیصلہوزیرخزانہ نے کہا کہ بہتر سرمایہ کاری وہ ہے جو بچوں کا مستقبل بہتر بنانے کے لیے ہو، پی ٹی آئی حکومت عوامی خدمت کے لیے ہمیشہ پرعزم رہی، پی ٹی آئی قیادت ہر چیلنج سے نمٹنے کے لیے تیار ہے، پی ٹی آئی حکومت آئندہ بھی عوام کے لیے اقدامات اٹھائے گی، عوام کی خدمت کا سفر جاری رہے گا۔ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا 4 کروڑ سے زائد شہریوں کو یونیورسل ہیلتھ کوریج دینے والا پہلا صوبہ ہے، ادویات کی فراہمی کے لیے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے، صوبے کا پہلا برن اینڈ ٹراما سینٹر بہترین خدمات فراہم کررہا ہے۔آفتاب عالم آفریدی نے مزید کہا کہ امن وامان خیبرپختونخوا کا بڑا مسئلہ رہا، پی ٹی آئی حکومت نے آتے ہی امن و امان کے مسئلے پر قابو پایا، دہشت گردی کے واقعات میں خاطرخواہ کمی ہوئی، امن وامان کی بحالی کے لیے پولیس پرخصوصی توجہ دی، امن وامان کی بحالی کے لیے پولیس پر خصوصی توجہ دی، پولیس کو جدید اسلحہ اور بلٹ پروگ گاڑیاں فراہم کیں۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں اختیارات نچلی سطح پر منتقل کیے، مقامی حکومتوں کے لیے سالانہ ترقیاتی منصوبوں کی مد میں 20 فیصد فنڈز مختص کیے، خیبرپختونخوا نے اپنی آمدنی میں خاطرخواہ اضافہ کیا۔وزیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ پی ٹی آئی کے منصوبوں نے معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کردیا، عوام کو سستی اور معیاری صحت کی سہولیات فراہم کرنا حکومت کا اولین فرض ہے، حکومت کےاقدامات سے غریب طبقہ زیادہ مستفید ہوا، ضم اضلاع کے اخراجات کے لیے اب تک صرف 123 ارب روپے ملے، ضم اضلاع کے لیے 147ارب روپے کے خسارے کا سامنا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت ضم اضلاع کا سالانہ حصہ 262 ارب روپے بنتا ہے، صوبے کو ہرسال واجب الادا رقم اپنے حصے کے مقابلے میں کم ملتی ہے، خیبرپختونخوا حکومت کو 139 ارب روپے کے سالانہ خسارے کا سامنا ہے، ٹیکس شرح کے بجائے ٹیکس نیٹ بڑھانے پر توجہ دے رہے ہیں، ہوٹلوں پر ٹیکس کی شرح 6 فیصد کردی گئی ہے۔آفتاب عالم نے کہا کہ شادی ہالوں کے لیے فکسڈ سیلز ٹیکس ریٹ متعارف کرانے کی تجویز ہے، پراپرٹی ٹیکس کی مد میں بڑا ریلیف دیا جارہا ہے، ریسٹورنٹ انوائس مینجمنٹ سسٹم کا استعمال تمام ہوٹلوں پر لازم ہوگا۔انہوں نے کہا کہ فی کینال پراپرٹی ٹیکس 13 ہزار 600 سے کم کرکے 10 ہزار کردیا گیا ہے، کمرشل پراپرٹی پرٹیکس 16 فیصد سے کم کرکے 10 فیصد کردیا گیا ہے، کارخانوں پر پراپرٹی ٹیکس 2.5 روپے فی مربع فٹ ہے، کارخانوں پر پراپرٹی ٹیکس 10 ہزار 600 روپے فی کنال بنتا ہے، کارخانوں پر پراپرٹی ٹیکس کو کم کر کے 10 ہزار وپےفی کنال کرنے کی تجویز ہے، ریونیو موبلائزیشن پلان کے تحت 93.50 ارب روپے کا ہدف مقرر ہے۔خیبرپختونخوا: نگراں حکومت نے آئندہ 4 ماہ کا بجٹ تیار کرلیاان کا کہنا تھا کہ تمباکو پر پراونشل ایکسائز ڈیوٹی لگانے کا بل جلد اسمبلی میں پیش ہوگا، تمباکو کی آمدن صوبے کے بجائے وفاق کو جارہی ہے جو صوبے کا حق ہے، 18ویں ترمیم کے بعد وفاق نے تمباکو سے متعلق معاملات کو اپنے پاس رکھا ہے۔وزیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصداضافے کی تجویز ہے، پنشن میں بھی 10 فیصد اضافے کی تجویز ہے، کم از کم تنخواہ 32 ہزار سے بڑھا کر 36 ہزارکی جارہی ہے۔خیبرپختونخوا کا مالی سال 2024-25 کا بجٹ پیشخیبرپختونخوا کا مالی سال 2024-25 کا بجٹ صوبائی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا بجٹ کا کل حجم 1754 ارب روپے ہے جبکہ آئندہ مالی سال کا بجٹ 100 ارب سرپلس اور صوبائی حکومت کو وفاق سے ایک ہزار 212 ارب سے زائد ملنے کا امکان ہے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ایک فیصد کی مد میں 108 ارب 44 کروڑ بھی بجٹ میں شامل ہیں، ٹیکسیشن کی مد میں صوبائی حکومت کا 63 ارب 18 کروڑ کا ہدف مقرر ۔ ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اور ریٹائر ملازمین کی پینشن میں 10 فیصد اضافہ ۔صوبے میں کم سے کم ماہانہ اجرت 32 ہزار سے بڑھا کہ 36 ہزار مقرر۔جائیداد کی منتقلی پر صوبائی ٹیکس 6.5 فیصد سے کم کر رکے 3.5 فیصد کرنے کی تجویز ۔کاشتکار کی بجائے ٹیبیکو کمپنی ٹیکس لگانے کی تجویز ۔ہوٹلوں کے ٹیکس کی شرح 8 فیصد سے کم کر کے 6 فیصد کر دی۔تمام ہوٹلو کے لئے ریسٹورانٹ انوایس منیجمنٹ سسٹم لازمی قرار۔بجٹ دستاویز کے مطابق صوبائی حکومت کو وفاق سے ایک ہزار 212 ارب سے زائد ملنے کا امکان ہے جبکہ وفاقی قابل تقسیم محاصل سے 902 ارب 50 کروڑ ملنے کی توقع ہے اور دہشت گرد کیخلاف جنگ کے ایک فیصد کی مد میں 108 ارب 44 کروڑ ملنے کا امکان ہے۔صوبے کو پن بجلی خالص منافع کی مد میں 33 ارب 9 کروڑ ملیں گے، پن بجلی بقایاجات کی مد میں 78 ارب 21 کروڑ ملے گے جبکہ صوبائی حکومت 93 ارب 50 کروڑ اپنے وسائل سے اکھٹے کرے گی، ٹیکسیشن کی مد میں صوبائی حکومت کا 63 ارب 18 کروڑ کا ہدف مقرر کرے گی۔ضم اضلاع کے لیے 259 ارب 91 کروڑ ملنے کی توقع ہے، وفاق سے ضم اضلاع کے لیے 72 ارب 60 کروڑ ملیں گے، اضافی گرانٹ کی مد میں وفاق سے 55 ارب ملنے کی توقع ہے۔صوبائی حکومت آئندہ برس تنخواہوں ، پینشن اور گرانٹ کی مد میں 1 ہزار 237 ارب سے زائد خرچ کرے گی، صوبائی ملازمین کی تنخواہوں کی مد میں 246 ارب ، تحصیل ملازمین کی تنخواہوں میں 263 ارب خرچ ہوں گے، صوبائی حکومت پیشن کی مد میں 162 ارب 40 کروڑ سے زائد خرچ کرے گی۔جاری اخراجات کی مد میں 264 ارب 70 کروڑ خرچ کئے جائے گے، ایم ٹی آئی اسپتالوں کے ملازمین کی تنخواہوں کے لیے 26 ارب 97 کروڑ خرچ کئے جائے گے، ایم ٹی آئی اسپتالوں کے اخراجات کے لیے 28 ارب 68 کروڑ خرچ ہوں گے، ضم اضلاع میں تنخواہوں ، پینشن اور جاری اخراجات پر 144 ارب 62 کروڑ خرچ ہوں گے جبکہ صحت سہولت کارڈ کے لیے 34 ارب مختص کیے گئے ہیں ۔بجٹ میں تعلیم کے لیے 362 ارب 68 کروڑ اور صحت کے لیے 232 ارب مختص کئے گئے ہیں، اسی طرح صحت سہولت کارڈ میں 28 ارب بندوبستی اضلاع ، 6 ارب قبائلی اضلاع کے لیے ہوں گے، 26 ارب 70 کروڑ گندم کی سبسڈی کے لیے مختص کئے گئے ہیں۔خیبرپختونخوا بجٹ میں اخراجات کا تخمینہ 1404 ارب روپے ہوگاطلبہ کو مفت کتب کی فراہمی کے لیے 9 ارب ، بی آر ٹی کی سبسڈی کے لیے 3 ارب جبکہ ریلیف اقدامات کے لیے اڑھائی ارب مختص کیے گئے ہیں، پناہ گاہوں کے لیے 90 کروڑ، احساس روزگار، نوجوان پروگرام ، ہنر پروگرام کے لیے 12 ارب مختص کئے گئے ہیں، احساس اپنا پروگرام کے لیے 3 ارب مختص اور 5 ہزار گھر تعمیر کیے جائے گے جبکہ سی آر بی سی پروجیکٹ کیلئے 10 ارب مختص ، 3 لاکھ ایکڑ اراضی سیراب ہوگی۔خیبرپختونخوا حکومت نے قبائلی اضلاع کے لیے 3 فیصد شیئر کی مد میں دیگر صوبوں سے آمدن بجٹ میں ظاہر کر دیا۔پنجاب سے 28 ارب 80 کروڑ ، سندھ سے 11 ارب 30 کروڑ اور بلوچستان سے 4 ارب 20 کروڑ کا حصہ ظاہر کیا گیا جبکہ وفاق کے ساتھ متنازعہ پن بجلی بقایاجات کے 41 ارب بھی بجٹ میں شامل کئے گئے ہیں۔خیبرپختونخوا حکومت نے وینڈ فال لیوی کی مد میں 46 ارب 80 کروڑ روپے آمدن ظاہر کردی، تیل پر رائلٹی کی مد میں 26 ارب 20 کروڑ، گیس ڈیولپمنٹ سرچارج کی مد میں 2 ارب 70 کروڑ اور گیس پر ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 2 ارب 70 کروڑکی آمدن ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔وزیر خزانہ خیبرپختونخوا آفتاب عالم نے مالی سال 25-2024 کا صوبائی بجٹ پیش کردیا جبکہ ملکی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب کہ کسی صوبے نے وفاق سے پہلے اپنا بجٹ پیش کیا۔ خیبر پختونخوا میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد اضافہ جبکہ مزدور کی کم از کم تنخواہ 32 ہزار سے بڑھا کر36 ہزارمقرر کردی گئی۔خیبرپختونخوا اسمبلی کا بجٹ اجلاس 2 گھنٹے 15 منٹ تاخیر سے شروع ہوا، اجلاس کی صدارت اسپیکر بابر سلیم سواتی نے کی، اس موقع پر وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپوربھی ایوان میں موجود ہیں۔بجٹ تقاریربجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ آفتاب عالم آفریدی نے کہا کہ 8 فروری کےانتخابات میں عوام نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو واضح مینڈیٹ دیا، پی ٹی آئی حکومت نے خیبر پختونخوا میں بے مثال ترقیاتی کام کیے، خیبرپختونخوا کے عوام نے پی ٹی آئی کو تیسری بار منتخب کیا، ترقیاتی منصوبوں میں سے اہم صحت انصاف کارڈ کا اجراء ہے۔آفتاب عالم آفریدی کا کہنا تھا کہ عوام کو صحت کی یکساں سہولیات مفت فراہم کرنے کا وعدہ پورا کیا، پی ٹی آئی نے اسکولوں،کالجز اور جامعات کی تعداد میں اضافہ کیا، تعلیمی معیار کی بلندی کے لیے مختلف پروگرامز متعارف کرائے، تعلیمی اصلاحات سے طلبہ کے لیے حصول تعلیم کے زیادہ سے زیادہ موقع پیدا ہوئے، نئےاساتذہ کی بھرتی سے تعلیم کے فروغ میں بہتری آئی، تعلیم قوموں کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے، نئےاسکولوں کے ساتھ ساتھ کئی اسکولوں کو اپ گریڈ کیا، ایک لاکھ قابل اساتذہ کو بھرتی کیا گیا۔خیبرپختونخوا حکومت کا تاریخ میں پہلی بار وفاق سے پہلے بجٹ پیش کرنے کا فیصلہوزیرخزانہ نے کہا کہ بہتر سرمایہ کاری وہ ہے جو بچوں کا مستقبل بہتر بنانے کے لیے ہو، پی ٹی آئی حکومت عوامی خدمت کے لیے ہمیشہ پرعزم رہی، پی ٹی آئی قیادت ہر چیلنج سے نمٹنے کے لیے تیار ہے، پی ٹی آئی حکومت آئندہ بھی عوام کے لیے اقدامات اٹھائے گی، عوام کی خدمت کا سفر جاری رہے گا۔ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا 4 کروڑ سے زائد شہریوں کو یونیورسل ہیلتھ کوریج دینے والا پہلا صوبہ ہے، ادویات کی فراہمی کے لیے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے، صوبے کا پہلا برن اینڈ ٹراما سینٹر بہترین خدمات فراہم کررہا ہے۔آفتاب عالم آفریدی نے مزید کہا کہ امن وامان خیبرپختونخوا کا بڑا مسئلہ رہا، پی ٹی آئی حکومت نے آتے ہی امن و امان کے مسئلے پر قابو پایا، دہشت گردی کے واقعات میں خاطرخواہ کمی ہوئی، امن وامان کی بحالی کے لیے پولیس پرخصوصی توجہ دی، امن وامان کی بحالی کے لیے پولیس پر خصوصی توجہ دی، پولیس کو جدید اسلحہ اور بلٹ پروگ گاڑیاں فراہم کیں۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں اختیارات نچلی سطح پر منتقل کیے، مقامی حکومتوں کے لیے سالانہ ترقیاتی منصوبوں کی مد میں 20 فیصد فنڈز مختص کیے، خیبرپختونخوا نے اپنی آمدنی میں خاطرخواہ اضافہ کیا۔وزیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ پی ٹی آئی کے منصوبوں نے معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کردیا، عوام کو سستی اور معیاری صحت کی سہولیات فراہم کرنا حکومت کا اولین فرض ہے، حکومت کےاقدامات سے غریب طبقہ زیادہ مستفید ہوا، ضم اضلاع کے اخراجات کے لیے اب تک صرف 123 ارب روپے ملے، ضم اضلاع کے لیے 147ارب روپے کے خسارے کا سامنا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت ضم اضلاع کا سالانہ حصہ 262 ارب روپے بنتا ہے، صوبے کو ہرسال واجب الادا رقم اپنے حصے کے مقابلے میں کم ملتی ہے، خیبرپختونخوا حکومت کو 139 ارب روپے کے سالانہ خسارے کا سامنا ہے، ٹیکس شرح کے بجائے ٹیکس نیٹ بڑھانے پر توجہ دے رہے ہیں، ہوٹلوں پر ٹیکس کی شرح 6 فیصد کردی گئی ہے۔آفتاب عالم نے کہا کہ شادی ہالوں کے لیے فکسڈ سیلز ٹیکس ریٹ متعارف کرانے کی تجویز ہے، پراپرٹی ٹیکس کی مد میں بڑا ریلیف دیا جارہا ہے، ریسٹورنٹ انوائس مینجمنٹ سسٹم کا استعمال تمام ہوٹلوں پر لازم ہوگا۔انہوں نے کہا کہ فی کینال پراپرٹی ٹیکس 13 ہزار 600 سے کم کرکے 10 ہزار کردیا گیا ہے، کمرشل پراپرٹی پرٹیکس 16 فیصد سے کم کرکے 10 فیصد کردیا گیا ہے، کارخانوں پر پراپرٹی ٹیکس 2.5 روپے فی مربع فٹ ہے، کارخانوں پر پراپرٹی ٹیکس 10 ہزار 600 روپے فی کنال بنتا ہے، کارخانوں پر پراپرٹی ٹیکس کو کم کر کے 10 ہزار وپےفی کنال کرنے کی تجویز ہے، ریونیو موبلائزیشن پلان کے تحت 93.50 ارب روپے کا ہدف مقرر ہے۔خیبرپختونخوا: نگراں حکومت نے آئندہ 4 ماہ کا بجٹ تیار کرلیاان کا کہنا تھا کہ تمباکو پر پراونشل ایکسائز ڈیوٹی لگانے کا بل جلد اسمبلی میں پیش ہوگا، تمباکو کی آمدن صوبے کے بجائے وفاق کو جارہی ہے جو صوبے کا حق ہے، 18ویں ترمیم کے بعد وفاق نے تمباکو سے متعلق معاملات کو اپنے پاس رکھا ہے۔وزیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصداضافے کی تجویز ہے، پنشن میں بھی 10 فیصد اضافے کی تجویز ہے، کم از کم تنخواہ 32 ہزار سے بڑھا کر 36 ہزارکی جارہی ہے۔خیبرپختونخوا کا مالی سال 2024-25 کا بجٹ پیشخیبرپختونخوا کا مالی سال 2024-25 کا بجٹ صوبائی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا بجٹ کا کل حجم 1754 ارب روپے ہے جبکہ آئندہ مالی سال کا بجٹ 100 ارب سرپلس اور صوبائی حکومت کو وفاق سے ایک ہزار 212 ارب سے زائد ملنے کا امکان ہے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ایک فیصد کی مد میں 108 ارب 44 کروڑ بھی بجٹ میں شامل ہیں، ٹیکسیشن کی مد میں صوبائی حکومت کا 63 ارب 18 کروڑ کا ہدف مقرر ۔ ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اور ریٹائر ملازمین کی پینشن میں 10 فیصد اضافہ ۔صوبے میں کم سے کم ماہانہ اجرت 32 ہزار سے بڑھا کہ 36 ہزار مقرر۔جائیداد کی منتقلی پر صوبائی ٹیکس 6.5 فیصد سے کم کر رکے 3.5 فیصد کرنے کی تجویز ۔کاشتکار کی بجائے ٹیبیکو کمپنی ٹیکس لگانے کی تجویز ۔ہوٹلوں کے ٹیکس کی شرح 8 فیصد سے کم کر کے 6 فیصد کر دی۔تمام ہوٹلو کے لئے ریسٹورانٹ انوایس منیجمنٹ سسٹم لازمی قرار۔بجٹ دستاویز کے مطابق صوبائی حکومت کو وفاق سے ایک ہزار 212 ارب سے زائد ملنے کا امکان ہے جبکہ وفاقی قابل تقسیم محاصل سے 902 ارب 50 کروڑ ملنے کی توقع ہے اور دہشت گرد کیخلاف جنگ کے ایک فیصد کی مد میں 108 ارب 44 کروڑ ملنے کا امکان ہے۔صوبے کو پن بجلی خالص منافع کی مد میں 33 ارب 9 کروڑ ملیں گے، پن بجلی بقایاجات کی مد میں 78 ارب 21 کروڑ ملے گے جبکہ صوبائی حکومت 93 ارب 50 کروڑ اپنے وسائل سے اکھٹے کرے گی، ٹیکسیشن کی مد میں صوبائی حکومت کا 63 ارب 18 کروڑ کا ہدف مقرر کرے گی۔ضم اضلاع کے لیے 259 ارب 91 کروڑ ملنے کی توقع ہے، وفاق سے ضم اضلاع کے لیے 72 ارب 60 کروڑ ملیں گے، اضافی گرانٹ کی مد میں وفاق سے 55 ارب ملنے کی توقع ہے۔صوبائی حکومت آئندہ برس تنخواہوں ، پینشن اور گرانٹ کی مد میں 1 ہزار 237 ارب سے زائد خرچ کرے گی، صوبائی ملازمین کی تنخواہوں کی مد میں 246 ارب ، تحصیل ملازمین کی تنخواہوں میں 263 ارب خرچ ہوں گے، صوبائی حکومت پیشن کی مد میں 162 ارب 40 کروڑ سے زائد خرچ کرے گی۔جاری اخراجات کی مد میں 264 ارب 70 کروڑ خرچ کئے جائے گے، ایم ٹی آئی اسپتالوں کے ملازمین کی تنخواہوں کے لیے 26 ارب 97 کروڑ خرچ کئے جائے گے، ایم ٹی آئی اسپتالوں کے اخراجات کے لیے 28 ارب 68 کروڑ خرچ ہوں گے، ضم اضلاع میں تنخواہوں ، پینشن اور جاری اخراجات پر 144 ارب 62 کروڑ خرچ ہوں گے جبکہ صحت سہولت کارڈ کے لیے 34 ارب مختص کیے گئے ہیں ۔بجٹ میں تعلیم کے لیے 362 ارب 68 کروڑ اور صحت کے لیے 232 ارب مختص کئے گئے ہیں، اسی طرح صحت سہولت کارڈ میں 28 ارب بندوبستی اضلاع ، 6 ارب قبائلی اضلاع کے لیے ہوں گے، 26 ارب 70 کروڑ گندم کی سبسڈی کے لیے مختص کئے گئے ہیں۔خیبرپختونخوا بجٹ میں اخراجات کا تخمینہ 1404 ارب روپے ہوگاطلبہ کو مفت کتب کی فراہمی کے لیے 9 ارب ، بی آر ٹی کی سبسڈی کے لیے 3 ارب جبکہ ریلیف اقدامات کے لیے اڑھائی ارب مختص کیے گئے ہیں، پناہ گاہوں کے لیے 90 کروڑ، احساس روزگار، نوجوان پروگرام ، ہنر پروگرام کے لیے 12 ارب مختص کئے گئے ہیں، احساس اپنا پروگرام کے لیے 3 ارب مختص اور 5 ہزار گھر تعمیر کیے جائے گے جبکہ سی آر بی سی پروجیکٹ کیلئے 10 ارب مختص ، 3 لاکھ ایکڑ اراضی سیراب ہوگی۔خیبرپختونخوا حکومت نے قبائلی اضلاع کے لیے 3 فیصد شیئر کی مد میں دیگر صوبوں سے آمدن بجٹ میں ظاہر کر دیا۔پنجاب سے 28 ارب 80 کروڑ ، سندھ سے 11 ارب 30 کروڑ اور بلوچستان سے 4 ارب 20 کروڑ کا حصہ ظاہر کیا گیا جبکہ وفاق کے ساتھ متنازعہ پن بجلی بقایاجات کے 41 ارب بھی بجٹ میں شامل کئے گئے ہیں۔خیبرپختونخوا حکومت نے وینڈ فال لیوی کی مد میں 46 ارب 80 کروڑ روپے آمدن ظاہر کردی، تیل پر رائلٹی کی مد میں 26 ارب 20 کروڑ، گیس ڈیولپمنٹ سرچارج کی مد میں 2 ارب 70 کروڑ اور گیس پر ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 2 ارب 70 کروڑکی آمدن ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

سنی اتحاد کونسل کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں وزراء کی کارکردگی کے خلاف ایم پی ایز نے شکایات کے انبار لگا دئیے ۔

سنی اتحاد کونسل کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں وزراء کی کارکردگی کے خلاف ایم پی ایز نے شکایات کے انبار لگا دئیے ۔ وزیراعلی علی امین گنڈا پور نے بانی چئیرمین سے ملاقات کے بعد کارکردگی کی بنا پر وزراء کو تبدیل کرنے کا عندیہ دے دیا۔سنی اتحاد کونسل کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس وزیر اعلی علی امین گنڈا پور کی صدارت میں ہوا۔ذرائع کے مطابق وزراء کی کارکردگی کے خلاف ایم پی ایز نے شکایات کیں ایم پی ایز نے وزیر اعلی کے پی کے کو بتایا کہ وزراء دفاتر میں موجود ہی نہیں ہوتے۔ایم پی ایز کی شکایات پر وزیراعلی علی امین گنڈا پور نے عمران خان سے ملاقات کے بعد کارکردگی کی بنا پر وزراء کو تبدیل کرنے کا عندیہ دے دیا علی امین گنڈا پور نے کہا کہ عمران خان سے ملاقات ہوگی توکارکردگی سے آگاہ کرونگا،وزراء کو ملاقات کے بعد تبدیل کیا جائے گا۔وزیر اعلی کے پی کے نے کہا کہ چیف سیکرٹری اور آئی جی کو 10 روز میں تبدیل نہ کیا گیا تو پلان بی پر عمل کرینگے بجلی کا بٹن ہمارے ہاتھ میں ہے، تمام ایم پی ایز ساتھ دینگے۔ وزیر اعلی نے تمام ایم پی ایز کو بجٹ پر اعتماد میں لیا۔

سندھ اور پنجاب کے میدانی علاقوں میں شدید گرمی کی لہر جاری ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق لاڑکانہ میں پارہ 50 تک پہنچ گیا، جبکہ سکھر اور نوابشاہ میں 48 ریکارڈ کیا گیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق ڈی جی خان 47، ڈی آئی خان، بہاولپور اور سرگودھا میں درجہ حرارت 46 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا

سندھ اور پنجاب کے میدانی علاقوں میں شدید گرمی کی لہر جاری ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق لاڑکانہ میں پارہ 50 تک پہنچ گیا، جبکہ سکھر اور نوابشاہ میں 48 ریکارڈ کیا گیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق ڈی جی خان 47، ڈی آئی خان، بہاولپور اور سرگودھا میں درجہ حرارت 46 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ ملتان، حیدرآباد، فیصل آباد، ساہیوال، تربت اور نوکنڈی میں درجہ حرارت 45 ڈگری رہا۔اسی طرح بنوں میں 43 اور چکوال میں درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ لاہور میں پارہ 41 تک پہنچ گیا، حبس کی وجہ سے گرمی کا احساس 47 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہا۔

پیمرا چئیرمین اور سیکرٹری اطلاعات طلب۔ تحریک انصاف کا دفتر سیل کے بعد توڑ دیا گیا۔ عدالتوں کا احترام کرے ایجنسیاں اور حکومت ھمیں احکامات جاری نہ کرے چیف جسٹس۔ وزیر اعطم کے لیے مشکلات مے اضافہ 3 اھم وزراء کونسے۔ ملتان انٹر چینج منصوبے کا افتتاح۔ اڈیالہ جیل میں بند شخص فتنہ ھے بخاری۔ لاپتہ شاعر بازیاب داخلہ دفاع ایم ای ای ایس ای سیکٹر کمانڈر طلب۔ ھاکی ٹیم ھالیڈ روانہ پولینڈ میں 8 ملکی ٹورنامنٹ کھیلے گی۔ تفصیلات بادبان ٹی وی، بادبان ٹویٹر اور بادبان یوٹیوب پر

پاکستان آرمی کے حاضر سروس کیپٹن SSG ولید احمد موٹروے پر دوران سفر کال سننے کے لئے گاڑی روک کر نیچے اترے تو 2نامعلوم ڈاکوؤں نے کیپٹن صاحب پر پسٹل تان لیا فوجی افیسر کو زدکوب کیا گیا کیپٹن صاحب کا 9mmپسٹل اور آئی فون MAX PRO 15 اور ایک Samsung موبائل اور نقدی 18000 روپے بھی چھین لئے پنجاب پولیس نے مقدمہ درج کر کے کاروائی کا آغاز کر دیا