لوٹ کے بدھو گھر کو اے آئینی ترمیم تعطل کا شکار۔ گلابی نمک اور پاکستان۔ملزمان کی پشت پناہی اسلام آباد پولیس کے افسران شکنجے میں۔حکومت اور ای پی پی کا گٹھ جوڑ۔فیصلے نہ کرنے والے ججوں کے خلاف سخت کاروائی ھو گی۔پاکستان ھاکی ھار کر جیت گئی۔پاکستان ھاکی ٹیم دوسری دفعہ پینلٹی اسٹروک سے سیمی فائنل میں شکست سے دو چار ھوی۔مافیا جیت گیا پاکستان ھار گیا۔12 ھزار ارب روپے کی کرپشن جاری کوی پوچھنے والا نھی۔تفصیلات بادبان نیوز پر

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے انٹرا پارٹی الیکشن کا کیس مقرر کردیا ہے

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے انٹرا پارٹی الیکشن کا کیس مقرر کردیا ہے۔دو روز قبل سپریم کورٹ کے 8 رکنی بینچ کی جانب سے مخصوص نشستوں کی وضاحت کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ذرائع نے بیرسٹر گوہر کو پی ٹی آئی کا چیئرمین تسلیم کرنے کی تردید کی تھی۔اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ بیرسٹر گوہر کو تحریک انصاف کا چیئرمین تسلیم کرنے کا تاثر سرا سر غلط ہے کیونکہ انٹراپارٹی انتخابات الیکشن کمیشن میں زیر سماعت ہے جس پر کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔اور اب الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ‏پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کیس کی سماعت 18 ستمبر کو ہوگی۔ اس حوالے سے پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر اور رؤف حسن کو نوٹس جاری کردیے گئے ہیں۔

وفاقی وزیر برائے قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے قانون سازی حکومت کا اختیار ہے اور ہم ایک قانون لا رہے ہیں جس کے مطابق سال میں مقدمے کا فیصلہ نہ کرنے والے ججز کے خلاف تادیبی کارروائی ہوگی

وفاقی وزیر برائے قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے قانون سازی حکومت کا اختیار ہے اور ہم ایک قانون لا رہے ہیں جس کے مطابق سال میں مقدمے کا فیصلہ نہ کرنے والے ججز کے خلاف تادیبی کارروائی ہوگی۔اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر کی تقریر کا جواب دیتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا پارلیمنٹ کا اختیار ہے کہ آئینی ڈھانچے میں رہتے ہوئے قانون سازی کرے۔ان کا کہنا تھا اسد قیصر میرے محترم ہیں، اسپیکر کی کرسی پر براجمان رہے ہیں، مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ ڈرافٹ تو تب سامنے لایا جائے جب بل ایوان میں پیش کیا جائے، کابینہ میں معاملہ آتا ہے آس کے بعد کابینہ کی خصوصی کمیٹی اس کو جانچتی ہے، کابینہ اور خصوصی کمیٹی کے بعد پارلیمنٹ میں بل آتا ہے، ابھی یہ بل مسودہ بن کر کابینہ نہیں گیا تو اس کو ایوان میں کیسے لایا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اتحادیوں سے بل پر مشاورت کی تھی، اپوزیشن کا کام حکومتی بل پر تنقید کر کے اس میں سے چیزیں نکلوانا ہے لیکن جب ہمارا کام پورا ہو گا تو ہی ہم آپ تک مسودہ پہنچائیں گے۔ان کا کہنا تھا آئینی ترمیم کوئی نئی بات نہیں یہ چارٹر آف ڈیموکریسی کا حصہ ہے، ہم اپنی مخالفتوں اور ٹائمنگ کی وجہ سے اپنی داڑھیاں کھینچتے رہتے ہیں اور اپنی ساری طاقت جا کر جھولی میں ڈال کر آجاتے ہیں، خدارا مضبوط ہو کر کھڑے ہوں کہ 25 کروڑ عوام نے آپ کو اختیار دیا ہے، آپ نے ملک کی ڈائریکشن طے کرنی ہے اور بتانا ہے کہ ملک کیسے چلنا ہے، چیف جسٹس نے چینی کا ریٹ طے نہیں کرنا ہے، چیف جسٹس نے بجلی کے کھمبے لگانے کا حکم نہیں دینا، چیف جسٹس نے نہیں بتانا کہ کون سی سیاسی جماعت نے کیسے چلنا ہے، منشور اس ایوان میں بیٹھے لوگوں نے دینا ہے۔اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا جب آئینی ترامیم کا معاملہ کمیٹی میں آیا تو میں نے وہاں آئینی عدالت کی تجویز پیش کی جسے فوری طور پر چیف جسٹس پاکستان کی مدت ملازمت سے جوڑ دیا گیا، آئینی عدالت میں ایک چیف جسٹس اور 7 سے 8 ججز کی تعیناتی کی بات سامنے آئی ہے، اس آئینی عدالت میں تمام اکائیوں کی نمائندگی ہو گی، اپنی کمزوریوں کی وجہ سے ہماری خواہش ہوتی ہے کہ ہمارے معاملات سپریم کورٹ جائیں اور وہیں پر حل ہوں کیونکہ ہم یہ معاملات اکٹھے بیٹھ کر حل نہیں کر سکتے، ہم نے اتنی نادانیاں کی ہیں کہ سارا اختیار دیوار کے اس پار دے دیا ہے، کچھ اس پار ہے اور کچھ اس سے آگے ہوگا، یہ کب واپس آئے گا جب آپ نے اپنا اختیار استعمال کرنا شروع کرنا ہے اور وہ اختیار قانون سازی کا اختیار ہے۔وزیر قانون کا کہنا تھا ابھی تو ہم ضابطہ فوجداری کا ایک پیکج لا رہے ہیں جس میں گرفتاری سے لے کر ایف آئی آر کے اندارج، چالانوں کے داخلے، پراسیکیوشن کے کردار اور ضمانتوں اور مقدمات کے فیصلوں تک 90 مختلف ترامیم شامل ہیں، ٹرائل کی ٹائم لائن سے لیکر ایک سال تک جج کو فیصلہ کرنا ہوگا ورنہ اس جج کے خلاف تادیبی کارروائی ہوگی، یہ سب چیزیں اس کا حصہ ہیں اور میں چیلنج کرتا ہوں کہ اپوزیشن جس بار کونسل سے کہے گی وہاں یہ پیکج لیکر جائیں گے، اگر یہ پیکج مسترد ہوا تو میں جوابدہ ہوں گا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاق اور صوبائی حکومتوں سے سالانہ ترقیاتی پلان کی سمری طلب کر لی۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاق اور صوبائی حکومتوں سے سالانہ ترقیاتی پلان کی سمری طلب کر لی۔

عدالت نے وفاق اور چاروں صوبوں میں ترقیاتی فنڈز کے معاملے سے متعلق کیس میں بلاک مختص کردہ سکیمز یا امبریلا سکیمز کی تفصیلات بھی طلب کر لیں۔

عدالت نے حکم دیا کہ حالیہ منظور شدہ بجٹ کی سالانہ ترقی پلان سمری فنانس سیکرٹری یا چیف سیکرٹری کے دستخط سے پیش کی جائے۔

دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ریمارکس دیئے کہ ہم عوامی پیسے کے تحفظ کے تناظر میں کیس سن رہے ہیں، حکومتیں پیسے ضرور خرچ کریں لیکن شفافیت ہونی چاہیے، شفافیت کا مطلب یہ ہے کہ ترقیاتی سکیمز انفرادی شخصیات کی بنیاد پر نہ چلائی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ ضیا الحق نے اراکین اسمبلی اور سینیٹرز کے لیے ترقیاتی فنڈز کے نام پر پیسے دینے کی روایت شروع کی۔

جسٹس نعیم اختر افغان کا کہنا تھا کہ پہلے بھی کافی مشکلات ہیں، ہم عوامی فنڈز کا ضیاع نہیں ہونے دیں گے۔

اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ منصوبے ضرور بنائیں لیکن سب کچھ آئین کے تحت ہونا چاہیے، حکومتیں تبدیل ہوتی ہیں تو منصوبے لٹک جاتے ہیں، ترقیاتی منصوبے انفرادی شخصیات کے تحت نہیں ہونے چاہئیں، ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں منصوبے کیا بنائے جا رہے ہیں، شفافیت ہونی چاہیے۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت 3 ہفتوں تک کے لئے ملتوی کر دی۔

پارلیمنٹ لاجز سے گرفتار ایم این اے ایز کو رھا کر دیا گیا تفصیلات بادبان ٹی وی پر

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے گرفتار ایم این ایز کو پارلیمنٹ لاجز سب جیل سے رہا کردیا گیا، جس کے بعد وہ اپنے گھروں کو روانہ ہوگئے۔سب جیل سے رہائی پانے والوں میں شیخ وقاص اکرم، شیر افضل مروت اور عامر ڈوگر شامل ہیں، جبکہ پی ٹی آئی رہنما زین قریشی، مولانا نسیم شاہ، احمد چٹھہ، یوسف خان اور احد شاہ کو بھی رہا کردیا گیا ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ دنوں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے گرفتار ارکان کی درخواست پر پارلیمنٹ لاجز کو سب جیل قرار دینے کی منظوری دی تھی۔جس کے بعد پی ٹی آئی کے گرفتار اراکین قومی اسمبلی کو پارلیمنٹ لاجز میں رکھاگیا تھا، پارلیمنٹ لاجز کو سب جیل قرار دینے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا تھا۔پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں کو 9 ستمبر کو گرفتار کیا گیا تھا۔

ابصار عالم کی فرقہ واریت اور مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش؟ رپورٹر سے جاننے کی کوشش کرتے رہے کہ بریلوی مکتبہ فکر کے صاحبزادہ حامدرضا نے دیوبندی مکتبہ فکر کے مولانا فضل الرحمان کے پیچھے نماز پڑھی یا نہیں اور دونوں کا مسلک ڈسکس کرتے رہے

مولانا فضل الرحمن ملک کے وسیع تر قومی مفاد میں حسب سابق حکومت کا ساتھ دیں گے۔مولانا کیا چاھتے ھیں کچھ معلوم نہیں۔ننگے جج اور پاکستان اظھر سیید۔حالات کشیدہ صورتحال نازک 72 گھنٹے اھم۔ملک میں غیر یقینی صورتحال جاری اتحادیوں کی کرپشن 1900 ارنب تک پھنچ گئی۔8 ججز نے تمام بڑوں چھٹو کو ننگا کر دیا۔وزرا ء بھی لا علم کیا ھو رھا ھے پارلیمنٹ کی راہ داریوں میں چھمگویاں۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز پر کلک کریں

مسلم لیگ نواز ٹوٹ گئ، گزشتہ ایک سال سے جاری اختلافات کے بعد گلگت بلتستان میں مسلم لیگ(ن) کی سیاسی اور پارلیمانی پارٹی دو حصوں میں تقسیم ہو گئی ہے۔

گزشتہ ایک سال سے جاری اختلافات کے بعد گلگت بلتستان میں مسلم لیگ(ن) کی سیاسی اور پارلیمانی پارٹی دو حصوں میں تقسیم ہو گئی ہے۔ گلگت بلتستان میں پارٹی کی صوبائی قیادت گزشتہ ایک سال سے اختلافات کا شکار تھی جس کے بعد صوبائی جنرل سیکریٹری اکبر تابان نے صوبائی صدر و سابق وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمٰن کے خلاف باقاعدہ بغاوت کر کے متوازی تنظیمی ڈھانچہ تشکیل دے دیا۔صوبائی سیکریٹری جنرل نے دو حکومتی عہدیداروں پر مشتمل 32 رکنی ورکنگ کمیٹی تشکیل دے دی اور اس میں شامل ناموں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا جس میں کہا گیا کہ کمیٹی علاقے بھر میں پارٹی کی ازسرنو تشکیل کرے گی۔اس حوالے سے ہونے والے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر انجینئر محمد انور نے کہا کہ پارٹی کے اندر آمرانہ ذہنیت کے حامل افراد نے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے اس لیے پارٹی کو فعال بنانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت زیلی ونگز کے علاوہ ضلعی اور ڈویژنل سطح پر پارٹی کا ڈھانچہ تشکیل دیا جائے گا۔یاد رہے کہ صوبائی وزیر سیاحت غلام محمد پارٹی صدر حافظ حفیظ الرحمٰن کے ساتھ ہیں جبکہ وزیر خوراک انجینئر انور، رکن اسمبلی صنم فریاد، معاون خصوصی برائے وزیر اعلیٰ یاسر تابان، صوبائی حکومتی ترجمان فیض اللہ فراق اور کوارڈینیٹر برائے وزیر اعلیٰ شراف الدین فریاد جنرل سیکرٹری اکبر تابان گروپ میں میں شامل ہیں۔