Monthly Archives: August 2025
عمران خان نے محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر نامزد کردیا !!!۔این ڈی ایم اے مکمل طور ناکام 2500 افراد جان بحق۔۔پاکستانی کھلاڑیوں کے سنٹرل کنٹریکٹ جاری ۔ بابر رضوان شاہین کو اے کیٹگری سے بی کیٹگری میں تنزلی۔اڈیالہ جیل کے باھر کارکنوں پر تشدد حالات کشیدہ صورتحال نازک۔بھارت شکست تسلیم کرے اور اگے چلے۔ سینٹ اسداد دھشت گردی بل 2025 کٹرت راے سے منظور۔ ۔اپوزیشن دوغلے پن کا شکار۔بلوچستان میں 15 روز سے انٹرنیٹ سروس بدستور بند۔سیلاب متاثرین 25 ھزار کو افواج پاکستان نے ریسکیو کر کے محفوظ مقامات پر منتقل کیا ای ایس پی ار۔رانا سناالہ نے پنجاب میں سینٹ کی جنرل نشست پر کاغذات جمع کروا دیا۔لودھراں بلیک بکس مل گیا۔وزارت خارجہ مکمل طور ناکام۔۔وکٹ کے دونوں جانب کھیلنے والے 21 ویں صدی کے کھلاڑی۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

تعلیم یافتہ بلوچ۔ اظہر سیدیہ بات بظاہر وطن پرستوں کیلئے حیرت کا باعث ہے تعلیم یافتہ بلوچ نوجوان کس طرح بندوقیں اٹھا کر پہاڑوں پر چڑھ گئے۔ جنرل ایوب سے جنرل مشرف تک بلوچ عسکریت پسندی قبائلی راہنماوں تک محدود تھی ۔ بظاہر مالکوں کی پالیسیوں پر عام بلوچ کو غصہ اور اضطراب ہوتا تھا لیکن پہاڑوں پر چڑھنے والے مخصوص قبیلہ کے جوان ہوتے تھے جو اپنے سردار کے حکم کی تعمیل کرتے تھے۔ سردار نے کہا پہاڑ پر چڑھ گئے سردار نے حکم دیا پہاڑ سے اتر ائے۔ جنرل ضیاء نے سفید ٹوپی پہن کر یا قوم کو پہنا کر گیارہ سال حکومت کی تو مشرف کتا گود میں لے کر گیارہ سال گزار گیا۔ ایک نے مذہب کا چوغہ پہنا تو دوسرے نے لبرل ہونے کا ڈھونگ رچایا۔ مقصد دونوں کا ایک ہی تھا۔ یہ دو حکومتوں ہی مذہبی شدت اور عسکریت پسندی یعنی طالبان اور موجودہ بلوچ عسکریت پسندی کی زمہ دار ہیں۔ جنرل مشرف کے دو گناہ ناقابل معافی ہیں ۔ ایک لال مسجد اپریشن جس نے بنے بنائے طالبعلموں میں امریکی سی ائی اے اور را کو نفوذ کرنے کا موقع فراہم کیا۔ دوسرا اکبر بگٹی کی شہادت جس نے اس بلوچ عسکریت پسندی کو جنم دیا جو قبائلی تعصب سے باہر نکل گئی اور عام بلوچ نوجوانوں میں سرائیت کر گئی۔ تنقید ہوتی ہے ریاستی سکالرشپ پر پڑھنے اور سرکاری ملازمتیں حاصل کرنے والے پرسکون زندگی کی بجائے پہاڑوں میں فوج کے ساتھ لڑتے ہوئے زندہ جل جانے کو ترجیح دیتے ہیں اور غدار ہیں۔ ہماری ناقص رائے کے مطابق لاپتہ بلوچ نوجوانوں کے متعلق چلائی جانے والی منظم پراپیگنڈا مہم اور ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی دو سال تک لاپتہ بلوچوں کے معاملہ پر دھرنوں ریلیوں نے تعلیم یافتہ بلوچ نوجوانوں کو بڑی تعداد میں متاثر کیا اور وہ بندوق اٹھا کر ریاست کے باغی بننے لگے۔ پراپیگنڈا کےجس ہتھیار سے مالکوں نے کبھی پیپلز پارٹی کو پنجاب سے نکالا، بینظیر بھٹو کو امریکن سنڈی ، اصف علی زرداری کو مسٹر 10 پر سنٹ مشہور کیا۔ پراپیگنڈا کے جس ہتھیار سے نواز شریف کو مودی کا یار بنایا۔ لندن فلیٹس کا شور مچایا۔ پراپیگنڈا کے جس ہتھیار سے ایک پورن سٹار ایسے شخص کو مولوی طارق جمیل ایسوں کے زریعے مدینہ کی مثالی ریاست کا معمار مشہور کر دیا۔ ایک نوسر باز کو پوری ریاست سونپ دی۔ ہم سمجھتے ہیں پراپیگنڈا کے اسی ہتھیار سے بلوچ نوجوانوں کو ریاست سے متنفر کیا گیا ہے۔ فوج کو ولن بنایا گیا ہے۔ پہلے یہ ہتھیار مالکان استعمال کرتے تھے۔ اب یہ ہتھیار مالکوں سے متنفر، سی پیک مخالف اور ایٹمی ہتھیاروں کے درپے قوتیں استعمال کر رہی ہیں۔ ہماری ناقص رائے کے مطابق صورتحال پر قابو پایا جانا ممکن ہے۔ عالمی شطرنج پر روس چین ایسی قوتوں کا طاقت پکڑنا اور امریکی معیشت پر دیوالیہ ہونے کی تلوار لٹکنے سے پاکستان موجودہ صورتحال سے بچ نکلے گا۔ ایک طرف حلیف طاقتوں کی مدد سے بلوچ عسکریت پسندی اور طالب علموں کا مکو ٹھپا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ ایسی پراپیگنڈا مہم پر مکمل پابندی سے بتدریج متنفر بلوچ نوجوان قومی دھارے میں واپس لائے جا سکتے ہیں۔ کالم کی دم۔ دہشتگردی کے الزام میں پکڑے گئے نوجوان پی ایچ ڈی بلوچ پروفیسر کے ساتھ ایمان مزاری کی فوٹو شاپ تصویر پراپیگنڈا نہیں حماقت ہے۔

ملتان میں کار اور موٹر سائیکل میں تصادم 4 افراد زخمی ہوئےخانیوال روڈ ڈی ایچ اے گیٹ کے قریب کار اور موٹر سائیکل میں تصادم ہوا جس کے نتیجے میں 3 موٹر سائیکل سوار اور ایک کار سوار زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو ریسکیو نے طبی امداد فراہم کرنے کے بعد نشتر اسپتال منتقل کر دیا۔ زخمیوں میں 22 سالہ محمد فرمان، 27 سالہ فخر زمان، 22 سالہ رمضان اور 15 سالہ دلاور شامل ہیں۔

*🔴کراچی میں موسلادھار بارش نے پورا شہر ڈبودیا، مرکزی شاہراہیں بند، پانی گھروں میں داخل، مختلف حادثات میں 8 افراد جاں بحق**🔵شہر قائد میں آج کے مقابلے میں کل زیادہ بارش کا امکان ہے: محکمہ موسمیات نے خبردار کردیا**🟢کراچی میں موسلادھار بارش کے باعث فضائی آپریشن متاثر، متعدد پروازیں منسوخ اور تاخیرکا شکار**⚫شہر میں اگر 40 ملی میٹر سے اوپر بارش ہوجائے تو صورتحال خراب ہوتی ہے، میئر کراچی مرتضی وہاب نے اعتراف کرلیا**🟡سندھ حکومت کا کل بروز بدھ کراچی میں اسکول بند رکھنے کا فیصلہ**🔴وزیر تعلیم سندھ سردار شاہ کا کہنا ہے کہ کل ممکنہ بارشوں کے باعث شہر کے اسکول بند رہیں گے۔**🟢سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن کا بھی کہنا ہے کہ کل کراچی میں نجی اور سرکاری اسکولز بند کرنے کا فیصلہ ۔

ملتان میں کار اور موٹر سائیکل میں تصادم 4 افراد زخمی ہوئےخانیوال روڈ ڈی ایچ اے گیٹ کے قریب کار اور موٹر سائیکل میں تصادم ہوا جس کے نتیجے میں 3 موٹر سائیکل سوار اور ایک کار سوار زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو ریسکیو نے طبی امداد فراہم کرنے کے بعد نشتر اسپتال منتقل کر دیا۔ زخمیوں میں 22 سالہ محمد فرمان، 27 سالہ فخر زمان، 22 سالہ رمضان اور 15 سالہ دلاور شامل ہیں۔

وفاق کا بڑا قدم پاکستان کو 12 صوبوں میں تقسیم کرنے کی تیاری، نسلی سیاست کو دھچکا اسلام آباد پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا انتظامی ڈھانچے کا منصوبہ تیار، میڈیا ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے ملک کو بارہ (12) نئے صوبوں میں تقسیم کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ اقدام نسلی و لسانی بنیادوں پر صوبائی سیاست کو کمزور کرنے اور وفاق کو مزید مضبوط بنانے کیلئے اٹھایا جا رہا ہے۔موجودہ صوبائی ڈھانچہ 1970ء میں قائم ہوا تھا اور چلا آ رہا ہے، جو بڑی حد تک لسانی بنیادوں پر بن چکا ہے۔ماہرین کے مطابق انتظامی بنیادوں پر صوبوں کی تقسیم سے ترقیاتی فنڈز کی منصفانہ تقسیم، تیز گورننس اور مرکز کے ساتھ ہم آہنگی ممکن ہوگی۔بھارت، نائیجیریا اور ایتھوپیا جیسے ممالک میں اس حکمت عملی نے کامیابی حاصل کی ہے۔ذرائع کے مطابق موجودہ صوبائی سیٹ اپ — پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا — ختم کر کے ہر ایک کو چھوٹے صوبوں میں تقسیم کیا جائے گا، جبکہ کشمیر اور گلگت بلتستان کو بھی مزید اختیارات دیے جائیں گے۔ مجوزہ 12 صوبے، ہیڈکوارٹرز اور اہم علاقے1️⃣ پنجاب (4 صوبے)1. پنجاب وسطی — ہیڈکوارٹر: لاہوراضلاع: لاہور، قصور، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، اوکاڑہ2. پنجاب شمالی — ہیڈکوارٹر: راولپنڈیاضلاع: راولپنڈی، اٹک، جہلم، چکوال، میانوالی، خوشاب3. پنجاب جنوبی — ہیڈکوارٹر: ملتاناضلاع: ملتان، خانیوال، وہاڑی، لودھراں، بہاولپور، رحیم یار خان4. پنجاب مغربی — ہیڈکوارٹر: فیصل آباداضلاع: فیصل آباد، ٹوبہ ٹیک سنگھ، جھنگ، سرگودھا، بھکر2️⃣ بلوچستان (4 صوبے)1. بلوچستان ساحلی — ہیڈکوارٹر: گوادراضلاع: گوادر، کیچ، پسنی، اورماڑہ، لسبیلہ2. بلوچستان وسطی — ہیڈکوارٹر: خضداراضلاع: خضدار، قلات، مستونگ، آواران، سوراب3. بلوچستان شمالی — ہیڈکوارٹر: کوئٹہاضلاع: کوئٹہ، زیارت، پشین، قلعہ عبداللہ، چمن4. بلوچستان مشرقی —

ہیڈکوارٹر: ڈیرہ مراد جمالیاضلاع: نصیر آباد، جھل مگسی، کچھی، سبی، ڈیرہ بگٹیخیبر پختونخوا (2 صوبے)1. خیبر شمالی — ہیڈکوارٹر: پشاوراضلاع: پشاور، مردان، صوابی، نوشہرہ، چارسدہ، بونیر2. خیبر جنوبی — ہیڈکوارٹر: ڈیرہ اسماعیل خاناضلاع: ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، کوہاٹ، ہنگو، کرک، بنوں سندھ (2 صوبے)1. سندھ شہری — ہیڈکوارٹر: کراچیاضلاع: کراچی کے تمام اضلاع، حیدرآباد2. سندھ دیہی — ہیڈکوارٹر: سکھراضلاع: سکھر، لاڑکانہ، خیرپور، شکارپور، نواب شاہ، دادو، میرپور خاص ممکنہ طریقہ کار3 ماہ: آئینی مسودہ اور صوبائی حدود کا تعین6 ماہ: قومی و صوبائی اسمبلیوں سے دو تہائی اکثریت سے منظوری4 ماہ: عبوری گورنر، چیف سیکرٹری اور آئی جی کی تعیناتی6–8 ماہ: نئی حلقہ بندیاں اور انتخابات2–3 سال: مستقل صوبائی دارالحکومت اور سیکرٹریٹ کی تعمیر ممکنہ ردعملعوام: شہری علاقوں میں خوشی، دیہی علاقوں میں احتیاطسیاسی جماعتیں: وفاقی جماعتیں کریڈٹ لینے کی دوڑ میں، قوم پرست جماعتوں کا ممکنہ احتجاجعالمی میڈیا: اسے پاکستان کی سب سے بڑی انتظامی ریفارم قرار دے گا۔
27 ویں آئینی ترمیم اور پاکستان کا مستقبل ۔ حالات کشیدہ صورتحال نازک پاکستان کو بڑے خطرے کا سامنا۔۔ملک میں غیر یقینی صورتحال برقرار مافیا کخلاف کریک ڈاؤن۔۔3 اھم ترین پلان تیار کر لئے گئے 44 اھم شخصیات کے خلاف گھیرا تنگ۔2 سال میں 50 ھزار ارب روپے کی بےضابطگیاں منی لانڈرنگ سمیت دیگر امور پر کریک ڈاؤن۔افواج پاکستان کا سیلاب زدگان کی مدد کے لیے ریسکیو آپریشن 1200 افراد بچا لئے۔بڑے نھی بھت بڑے تبادلے اھم شخصیات تبدیل۔قوم کا فوج پر اعتمادہماراسب سے بڑا اثاثہ ہے اور ہماری قوت کا سرچشمہ ہے: سید عاصم منیر۔۔آٹے کے سمگلنگ عروج پر مافیا ان ایکشن۔وزرات خارجہ مکمل طور پر ناکام وزیراعلی پنجاب اور مستقبل کی وزیر اعظم کو سرکاری پروٹوکول دلوانے میں ناکام وزارت خارجہ کے کرپٹ بابوز۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

27 ویں آئینی ترمیم کی بازگشت، کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہےحنیف صابر دوہفتے ہونے کو ہیں سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ اخبارات اور ٹیلی ویژن چینلز پر 27 ویں آئینی ترمیم کی آمد زیر بحث ہے۔ آئینی ترمیم کی خبروں کی تردید بھی بڑی شدو مدد کے ساتھ کی جا رہی ہے۔ ہم جب نئے نئے شعبہ صحافت میں وارد ہوئے تو سینیئرز اور استاد صحافی بڑے وثوق کے ساتھ کہا کرتے تھے کہ جس خبر کی تردید ہو گئی اس میں کچھ نہ کچھ ضرور سچائی ہوتی ہے۔ کارزار صحافت میں گزارے 35 برسوں میں ہم نے بھی بارہا دیکھا کہ جن خبروں اور باتوں کی تردید ہوتی رہی وہی بعد میں سچ ثابت ہوئیں۔ جس کی ایک مثال مائنس بینظیر اور مائنس نواز شریف ہے اور مائنس عمران نوشتہ دیوار ہے۔ہفتہ 16 اگست کو کراچی میں وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت (ایف پی سی سی آئی) میں برسر اقتدار یونائیٹد بزنس گروپ کے سرپرست اعلیٰ ایم ایم تنویر نے، جو سابق تاجر رہنما ایس ایم تنویر کے صاحبزادے ہیں اور آخری نگران سیٹ اپ میں پنجاب کابینہ میں وزیر بھی رہے، ایک پریس کانفرنس کی۔ پریس کانفرنس میں ان کے ہمراہ ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ، میاں زاہد حسین اور احمد چنائے بھی موجود تھے۔ ایف پی سی سی آئی کے رہنمائوں کا پریس کانفرنس کرنا ایک معمول کی بات ہے کیوں کی ملکی معاشی و اقتصادی پالیسیوں اور حکومتی فیصلوں پر سب سے زیادہ ٹھوس اور کاروباری برادری کا نمائندہ موقف اسی کو مانا جاتا ہے۔عمومی طور پر ان کی پریس کانفرنس بھی ایک پریس ریلیز کی صورت میں سامنے آتی ہے جسے اخبارات بزنس کے صفحہ یا کارنر میں اور ٹی وی چینلز بزنس نیوز میں جگہ دیتے ہیں۔ اگر کبھی ٹی وی چینلز ان کی پریس کانفرنس کی لائیو کوریج کریں بھی تو وہ ایک دو منٹ کے لیے ہوتی ہے تاکہ ان کی حاضری لگ جائے۔مگر یہ پریس کانفرنس، جس کے لئے اتنی تمہید باندھی گئی ہے، کوئی عام پریس کانفرنس نہیں تھی، نہ موضوع کے اعتبار سے اور نہ ہی کوریج کے اعتبار سے، کیونکہ اسے تقریبا تمام بڑے نجی نیوز چینلز پر براہ راست دکھایا گیا اور وہ بھی پوری کی پوری پریس کانفرنس کو۔ یونائیٹد بزنس گروپ کے سرپرست اعلی ایس ایم تنویر اور ایف پی سی سی آئی کی قیادت کی پریس کانفرنس کا لب لباب یہ تھا کہ ایف پی سی سی آئی نئے صوبوں کے قیام اور نئے این ایف سی ایوارڈ کی حمایت کرتا ہے۔ ان کا استدلال تھا کہ جب پاکستان بنا تو موجودہ پاکستان (جو اس وقت مغربی پاکستان تھا) کی آبادی چار کروڑ تھی اور صوبوں کی تعداد بھی چار تھی۔

جبکہ اس وقت ملک کی آبادی 24 کروڑ ہے مگر صوبوں کی تعداد چار ہی ہے۔ اس لئے انتظامی بنیاد پر نئے صوبے بننے چاہئیں تاکہ انتظامی کنٹرول، گورننس اور پرفارمنس بہتر ہو سکے کیونکہ موجودہ گورننس اور انتظامی ڈھانچے کے ساتھ ملک کو بھارت کے مقابلے میں معاشی طور پر زیادہ مضبوط اور ترقی یافتہ نہیں بنایا جا سکتا۔ انہوں نے نئے این ایف سی ایوارڈ پر بھی بات کی اور کہا کہ نہ صرف نیا این ایف سی ایوارڈ آنا چاہیے بلکہ یہ نئے فارمولے کے تحت آنا چاہیے۔اب چلتے ہیں دوسری طرف اور دیکھتے ہیں کہ پارلیمنٹ میں کیا ہو رہا ہے۔ اپوزیشن کے ایم این اے ریاض فتیانہ نے ایوان میں آئینی ترمیم کا بل جمع کرایا جس میں کہا گیا ہے کہ پنجاب کو تقسیم کرکے ایک نیا صوبہ ‘مغربی پنجاب’ بنایا جائے اور فیصل آباد اور ساہیوال ڈویژنوں کو صوبہ ‘مغربی پنجاب میں شامل کیا جائے۔ ریاض فتیانہ کے پیش کردہ بل پر کافی محنت کی گئی ہے اور انہوں نے قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ کی نشتوں کی تقسیم و تعداد بھی اس بل میں دی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت نے اس بل کی مخالفت نہیں کی بلکہ اسے قائمہ کمیٹی قانون و انصاف کے حوالے کر دیا گیا۔

ان ہی دنوں میں ایک اور آئینی ترمیم کا بل بھی قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا ہے جسے میڈیا یا سوشل میڈیا پر زیادہ پذیرائی نہیں ملی مگر اپنے موضوع کے اعتبار سے اور موجودہ صورتحال میں وہ بل بھی انتہائی اہم نظر آتا ہے۔ یہ بل بھی اپوزیشن کے ارکان عامر ڈوگر، شبیر قریشی، اویس احمد جکھڑ اور خواجہ شیراز نے پیش کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 140 میں ترمیم کی جائے اور بلدیاتی یا مقامی حکومتوں کے سٹرکچر کو آئینی تحفظ دیا جائے، صوبوں کو زیادہ مالی اختیارات دیے جائیں، صوبائی سطح پر بھی این ایف سی ایوارڈ کی طرز پر صوبائی فنانس کمیشن تشکیل دیا جائے تاکہ صوبوں کو جانے والے فنڈز اضلاع اور بلدیاتی اداروں کو منتقل ہو سکیں۔ بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مقامی ادارے مقامی حکومتوں کے حوالے کیے جائیں جن میں تعلیم صحت، صفائی وغیرہ اور بہت سے انتظامی امور بھی شامل ہیں۔ اس حصے میں برطانوی سٹی کائونسلز کے سسٹم اور اختیارات کی جھلک نظر آتی ہے۔ اس بل کی تیاری میں بہت زیادہ محنت کی گئی ہے اور مالیاتی امور کو جس انداز سے ہینڈل کیا گیا ہے وہ قابل تحسین ہے۔ یہ بل بھی متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا ہے۔نئے صوبوں کے قیام کی بات نئی نہیں۔ صوبہ جنوبی پنجاب کے قیام کا بل قومی اسمبلی میںپیش بھی کیا جا چکا ہے اور وہ نا منظور نہیں ہوا بلکہ کہیں نہ کہیں اب بھی موجود ہے۔ محمد علی درانی اگرچہ اس وقت خاموش ہیں مگر چند سال پہلے وہ جنوبی پنجاب سے الگ صوبہ بہاولپور کے قیام کے حوالے سے کافی متحرک رہے ہیں۔

صوبہ ہزارہ تحریک تو کئی جانیں لے چکی ہے اور جب بھی نئے صوبوں کی بات ہوگی وہ تحریک سر اٹھائے گی۔ مولانا فضل الرحمن فاٹا کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے مخالف رہے ہیں اور ان کا استدلال تھا کہ فاٹا کو الگ صوبہ بنایا جائے۔ صوبہ پوٹھوہار یا ساتھ والے اضلاع راولپنڈی، اٹک اوت چکوال کو شامل کرکے فیڈرل کیپیٹل کو صوبہ بنانے کے حوالے سے بھی بھی ماضی میں باتیں ہوتی رہی ہیں۔ خاص طور پر، پرویز مشرف دور میں جب شوکت عزیز وزیر اعظم تھے اس وقت اس طرح کے فارمولے زیر بحث رہے ہیں۔ بلوجستان رقبے کے لحاظ سے بہت بڑا صوبہ ہے جس میں تین بڑی اقوام پشتون، بلوچ اور مکرانی تین الگ الگ اطراف میں آباد ہیں۔ سندھ کی تقسیم کا نام سنتے ہی پیپلز پارٹی کی قیادت کے چہرے سرخ ہو جاتے ہیں مگر کراچی کی سیاست کا محور کسی نہ کسی طور الگ صوبہ رہا ہے اور یہ استدلال بحرحال وزن رکھتا ہے کہ کراچی جیسے بڑے شہر کا نظم و نسق بہتر طور پر چلانے کے لئے ایک الگ انتظامی ڈھانچے کی ضرورت ہے۔گورننس، معاشی ترقی و خوشحالی، برآمدات کے فروغ، معدنی وسائل اور ملکی استحکام اور اسے ایشین ٹائیگر بنانے کے حوالے سے جو باتیں ایف پی سی سی آئی کی پریس کانفرنس میں کی گئیں تقریبا وہی باتیں اس وقت مختلف فورمز اور مختلف سطحوں پر زیر بحث ہیں۔ ملک کی معاشی حالت کو بہتر بنانے کے لئے فیلڈ مارشل نے جو معاشی سفارتکاری کی ہے اس میں بھی برآمدات کو بہتر بنانے، غیر ملکی سرمایہ کاری لانے اور معدنی وسائل کو ترقی دینے کو مرکزی حیثیت حاسل ہے اور وہ اس کا برملا اظہار بھی کر چکے ہیں۔

ایف پی سی سی آئی کی لیڈر شپ کی پریس کانفرنس میں بھی معاشی ترقی کے حوالے سے یہی باتیں کی گئیں۔ اس پریس کانفرنس میں دو باتیں اضافی تھیں، نئے صوبوں کا قیام اور این ایف سی ایوارڈ۔ اور یہی وہ دو امور ہیں جن کے حوالے سے گذشتہ ہفتے قومی اسمبلی میں آئینی ترامیم کے بل پیش کیے گئے ہیں۔اگر مقتدر حلقے یہی چاہتے ہیں تو اتفاق رائے قطعا مشکل نہیں ہو گا۔ آئینی ترمیم کروانے والوں نے تو اس وقت کروا لی تھی جب یہ ناممکن نظر آتا تھا۔ اس وقت تو پی ٹی آئی بطور پارٹی بہت متحرک اور مضبوط تھی مگر اب پی ٹی آئی کے پارلیمانی سسٹم کے اندر بطور پارٹی خاتمے اور خواتین نشتوں کی تقسیم کے بعد پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی کی نااہلیوں نے نمبر گیم تبدیل کر دی ہے اور آئینی ترمیم کا کام بہت آسان ہو گیا ہے۔ دونوں بل اپوزیشن کی طرف سے آنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ وہ پہلے ہی آن بورڈ ہیں۔ ویسے بھی بہت سی نااہلیوں کے درمیان شاہ محمود قریشی کی بریت اور اپوزیشن ارکان کا آن بورڈ ہونا بتاتا ہے کہ پی ٹی آئی کا نیا جنم ہونے کو ہے، باقی نظام تو پہلے سے ہائبریڈ ہے۔ستائیسویں آئینی ترمیم کے حوالے سے باتوں کی تردید تو کی جا رہی ہے مگر قومی اسمبلی میں جو بل آئے ہیں ان کی سپورٹ ایف پی سی سی آئی کی طرف سے آنا اور کاروباری برادری کی سب سے بڑی تنظیم کی طرف سے اس کی حمایت کیا جانا بتاتا ہے کہ مرزا غالب نے درست ہی فرمایا تھابے خودی بے سبب نہیں غالبکچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔

سیاست سے پہلے ریاست و معیشت ۔چودہ اگست کی خوشیاں طوفانی بارشوں اور سیلاب سے ماند پڑ گئیں ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان قدرتی آفات کا مقابلہ نہیں کرسکتا ۔لیکن بقول شاعر ” جب میری تدبیریں کامیاب ہوئیں تو تقدیر نے مجھ پر انعامات کی بارش کی۔

اسکا مطلب یہ ہے کہ انسانی کوشش اور حکمت و منصوبہ بندی سے بہت سے مشکلات و مسائل سے چھٹکارا حاصل کرنا ممکن ہو جاتا ہے ۔ لیکن بدقسمتی سے ہم من حیث القوم عجیب و غریب مٹی سے بنے ہیں کہ ہمارے اندر احساس نام کی چیز ہے ہی نہیں، ہم جیسے لوکوں سے حکمران منتخب ہوتے ہیں ۔پھر ہم حکمران طبقے سے شکوہ بھی کرتے ہیں کہ وہ اقتدار کی غلام گردشوں محرابوں میں پہنچ کر ہمیں بھول جاتے ہیں ۔لیکن یہ شکوہ کافی حد تک ٹھیک بھی ہے کیونکہ عام آدمی حالات کے بدلنے پر اس قدر دسترس نہیں رکھتا جتنا اختیار اصحاب اقتدارِ کے پاس ہوتا ہے ۔اس لئے حکومت وقت اور حکمرانوں کی زمہ داری زیادہ بنتی ہے کہ وہ نہ صرف حالات امن میں عوام کے بنیادی حقوق و سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے میں کسی کوتاہی یا نا اہلی کا ارتکاب نہ کریں بلکہ ہنگامی حالات و قدرتی آفات مثلاً زلزلے، طوفانی بارشوں اور قہرناک سیلابی صورتحال کے لئے بھی بہتر سے بہترین منصوبہ بندی و پیش بندی کریں۔ کیونکہ یہ بات ناقابل فہم و ناقابل برداشت ہے کہ گرمی سے بےحال لوگ باران رحمت کے لئے دعا کریں اور پھر معمولی بارش سے سینکڑوں افراد لقمہ اجل بن جائیں۔ ہمارا ایمان ہے کہ موت کا ایک وقت متعین ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ انسان غلطی پر غلطی کرے، اصلاح احوال کا انتظام نہ کرے اور پھر تباہی و بربادی کی صورت میں زمہ دار فطرت کو ٹہرائے۔ یہ مجرمانہ خاموشی اور غفلت کے زمرے میں آتا ہے ۔چند دن پہلے انہی خدشات کا اظہار پاکستان فیڈریشن آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے پریس کانفرنس کے دوران ملک کے مایہ ناز سرمایہ کاروں نے بھی بھرپور طریقے سے کیا ۔ معروف بزنس مین ایس ایم تنویر صاحب نے تو اس انداز سے مروجہ خراب معاشی حالات کا تذکرہ کیا جیسے انہوں نے اپنا کلیجہ نکال کے اہل احساس کو جگانے بلکہ جھنجھوڑنے کی کوشش کی ہو۔

انہوں نے بلا جھجک اور ببانگ دہل بتایا کہ ہمارا سیاست سے کوئی سروکار نہیں ۔ہم صرف معیشت کی بہتری کی بات کرتے ہیں۔ اور ہم سلگتے مسائل کی نشاندھی کرتے ہیں۔مسائل کا حل حکومت کی زمہ داری ہے۔۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ این ایف سی کا نظام ناکام ہوچکا ہے کیونکہ این ایف سی میں کسی بھی صوبے کو دیا جانے والی رقم نیچے کی سطح پر نہیں پہنچتی۔انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ حکومتی اخراجات میں واضح کمی لائی جائے اور وسائل نچلی سطح پر منتقل کئے جائیں۔ سرکاری ملازمین اور باقی ٹیکس دینے والوں کو مزید نچوڑنے کی بجائے حکومت ٹیکس نیٹ کو وسیع کرے۔۔تنویر صاحب نے یہ بھی کہا کہ بے روزگاری اور مہنگائی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زیادہ زور دیا کہ بھارت حالیہ شکست کے بعد آرام سے نہیں بھیٹے گا۔اس لئے ہمیں معیشت کو بہت زیادہ مظبوط کرنا ہوگا۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر صاحب اور وزیراعظم شہباز شریف صاحب کی ترجیحات معیشت کو استحکام دینے سے متعلق ہیں ۔تو پھر ہمیں مزید وقت ضائع کئے بغیر معیشت کی بحالی کے لئے ہنگامی اقدامات کرکیوں ابھی تک ہمارا قرضوں پر گزارا شرمناک ہے ۔
ایس ایم تنویر صاحب اور ان کے فیڈریشن کے نمائندے ملک کے اہم ترین سرمایہ دار ہیں اور۔ وہ یقیناً معیشت کی بہتری کے اقدامات کر سکتے ہیں ۔لہذا حکومت کو ان کے بیان کردہ نکات پر تہ دل سے غور و خوص کرنا چاہئے۔ہمم تو ایسے ایم تنویر صاحب کو حکومتی اخراجات میں کمی کے حوالے سے صرف اتنا کہیں گے۔کہ ایک دفعہ ہمیں اسلام آباد میں اوقاف بلڈنگ میں قائم وزارت غربت مکاؤ کا شاندار دفتر دیکھنےکا موقع ملا تو ہم ششدر و حیران ہوئے کہ ماشاء اللہ پاکستان کے اندر غربت نام کی کوئ چیز نہیں ۔اسی دن گوہر اعجاز صاحب نے بھی تقریباً ایسے خیالات کا اظہار کیا تھا کہ حکومت کو چاہئے کہ ملک کے اہم ترین سرمایہ داروں کو بٹھا کر ان کی مدد سے معیشت کو استحکام کے خدو خال واضح کرے۔چونکہ حکومت وقت کو ان سب باتوں کا نہ صرف ادراک ہے بلکہ شہباز شریف صاحب کی ترجیحات معیشت کے حوالے سے فیڈریشن کے خیالات سے ملتے جلتے ہیں ۔بس ضرورت اس بات کی ہے کہ جاری اڑان کو بقول مفکر اسلام علامہ اقبال کے الفاظ میں ،” تو اور بھی اس آگ کو بازو کی ہوا دے”. لیکن اس کے ساتھ ساتھ ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ اپوزیشن والے بھی کچھ عرصہ کے لئے سیاست کو ایک طرف رکھ کے خلوص نیت سے حکومتی اقدامات کی ممکن حد حمایت کرے۔کیونکہ آج ملک کی بہتری اس میں ہے کہ پہلی ترجیح معیشت کے استحکام کو دی جانے کیونکہ مظبوط معیشت محفوظ پاکستان کا ضامن ہے۔سیاست کے اور بہت مواقع ہیں ۔

: 18 اگست 2025.*وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں طوفانی بارشوں و سیلاب کے متاثرین کیلئے جاری امدادی سرگرمیوں پر اعلی سطح اجلاس**وزیرِ اعظم کا خیبرپختونخوا کے سیلاب متاثرین کیلئے وفاقی کابینہ کی ایک ماہ کی تنخواہ عطیہ کرنے کا اعلان**وزیرِ اعظم کی خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں بارشوں و سیلاب سے متاثرین کی مدد میں وفاقی اداروں کو مزید متحرک ہونے کی ہدایت**مصیبت کی اس گھڑی میں کوئی وفاقی، کوئی صوبائی حکومت نہیں، ہمیں متاثرہ لوگوں کی مدد و بحالی یقینی بنانی ہے. وزیرِاعظم*مصیبت زدہ پاکستانی بہن بھائیوں کی مدد ہماری قومی ذمہ داری ہے. وزیرِاعظمیہ سیاست کا نہیں، خدمت کا اور لوگوں کے دکھوں پر مرحم رکھنے کا وقت ہے. وزیرِاعظموفاقی حکومت جاں بحق ہونے والے افراد کے ساتھ ساتھ متاثرین کو وزیرِ اعظم پیکیج کے تحت بھی امدادی رقوم فراہم کرے گے. وزیرِاعظم*متاثرہ علاقوں میں امدادی اشیاء کی تقسیم و بحالی کے آپریشن کی نگرانی وزیرِ امور کشمیر و گلگت بلتستان کریں گے. وزیرِ اعظم**متاثرہ علاقوں میں بجلی، پانی، سڑکوں و دیگر سہولیات کی بحالی کی نگرانی متعلقہ وفاقی وزراء خود کریں گے. وزیرِاعظم*تمام متعلقہ وزراء خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان خود جائیں. وزیرِاعظماین ایچ اے شاہراہوں کی بحالی میں صوبائی یا قومی شاہراہوں میں تخصیص نہ کرے، امداد کیلئے راستے کھولنا پہلی ترجیح رکھا جائے. وزیرِ اعظموزارت مواصلات، این ایچ اے اور ایف ڈبلیو او متاثرہ علاقوں میں شاہراہوں و پُلّوں کی مرمت یقینی بنائے، وزیرِ موصلات ان علاقوں میں خود جاکر بحالی آپریشن کی نگرانی کریں. وزیرِاعظموزیرِ اعظم کی وزیر بجلی کو متاثرہ علاقوں میں خود جا کر معائنہ کرنے اور بجلی کا نظام ترجیحی بنیادوں پر بحال کروانے کی ہدایت. وزیرِاعظماین ڈی ایم اے فوری طور پر نقصانات کا حتمی جائزہ پیش کرے. وزیرِاعظماین ڈی ایم اے امدادی اشیاء کی خیبر پختونخوا کے متاثرین میں امدادی اشیاء کی تقسیم کا جامع لائحہ عمل پیش کرے. وزیرِ اعظم وزیرِ اعظم کی وزارت خزانہ کو این ڈی ایم اے کو ضروری وسائل فراہم کرنے کی ہدایت. وزیرِاعظمجب تک متاثرہ علاقوں میں آخری شخص تک مدد اور بنیادی انفراسٹرکچر کی بحالی نہیں ہوجاتی، متعلقہ وفاقی وزراء وہیں رہیں گے. وزیرِاعظموزرات صحت ادویات و ڈاکٹرز کی ٹیموں کو خیبر پختونخوا بھیجے اور طبی کیمپس قائم کئے جائیں. وزیرِ اعظمبینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو بھی متاثرین کی مدد کیلئے متحرک کیا جائے. وزیرِ اعظموزیرِ اعظم اور اجلاس کےشرکاء کی سیلاب میں جاں بحق ہونے والے افراد کی بلندی درجات اور زخمیوں کی صحت یابی کیلئے دعا. وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں حالیہ تباہ کن بارشوں و سیلاب کے متاثرین کی مدد و بحالی پر جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا. اجلاس کو این ڈی ایم اے اور وزیرِ اعظم کی جانب سے مدد کیلئے مقرر کردہ وفاقی وزراء کی جاری امدادی سرگرمیوں پر بریفنگ دی گئی.اجلاس کو بتایا گیا کہ وفاقی حکومت، صوبائی حکومتوں، پاک فوج و دیگر اداروں کی جانب سے اب تک متاثرین کیلئے 456 ریلیف کیمپس کے قیام کے ساتھ ساتھ 400 ریسکیو آپریشن کئے جاچکے. بشمول آج، متاثرین کیلئے امدادی اشیاء پر مشتمل ٹرک پہنچائے جارہے ہیں. وزیرِ اعظم نے ہدایت کی سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں امدادی ٹرکوں کے قافلوں کو ترجیحی بنیادوں پر پہلے بھیجا جائے. اب تک کے محتاط اندازے کے مطابق 126 ملین روپے سے زائد کے سرکاری و نجی املاک کے نقصانات کا تخمینہ لگایا گیا ہے. این ڈی ایم اے کی جانب سے راشن، خیموں، ادویات، میڈیکل ٹیموں و دیگر اشیاء کی فراہمی پر رپورٹ پیش کی گئی. وزیرِ اعظم کی اشیاء کی تعداد میں مزید اضافے کی ہدایت. اجلاس کو بتایا گیا کہ ستمبر کے دوسرے ہفتے تک مون سون جاری رہے گا. 6 بڑے اسپیل گزر چکے جبکہ مزید 2 متوقع ہیں جن کے اثرات ستمبر کے آخری ہفتے تک رہیں گے. اجلاس میں وفاقی وزیر امور آزاد کشمیر و گلگت بلتستان انجینئیر امیر مقام نے سوات، وزیرِ بجلی سردار اویس خان لغاری نے خیبرپختونخوا، معاون خصوصی مبارک زیب نے باجوڑ، چئیرمین این ایچ اے نے مالاکنڈ جبکہ سیکریٹری موصلات نے گلگت سے صورتحال پر جائزہ پیش کیا. وزیرِ مذہبی امور سردار محمد یوسف، وزیرِ آبی وسائل میاں محمد معین وٹو، ڈاکٹر مصدق ملک اور دیگر حکام نے وزیرِ اعظم کی ہدایت کے مطابق امدادی سرگرمیوں پر پیش رفت سے آگاہ کیا. اجلاس میں وفاقی وزراء خواجہ آصف، احسن اقبال، مصدق مسعود ملک، احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ، انجینئیر امیر مقام، سردار اویس خان لغاری، سردار محمد یوسف، میاں محمد معین وٹو، معاون خصوصی مبارک زیب، چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک، وزیرِ اعظم کے چیف کوارڈینیٹر مشرف زیدی اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.
رتی گلی(نیلم ویلی) میں پاک فوج کیا بروقت ریسکیو آپریشن اور ایک منظم اور موثر حکمت عملی سے پھنسے ہوئے متعدد سیاحوں کو بحفاظت نکال لیا۔ کٹھن پہاڑی راستوں پر عارضی پل اور رسیوں کے ذریعے محفوظ گزرگاہیں قائم کی گئیں، جبکہ میڈیکل کیمپ اور کھانے پینے کی سہولیات فراہم کر کے متاثرہ افراد کو ہر ممکن سہارا دیا گیا۔ سیاحوں اور مقامی آبادی نے پاک فوج کو سراہتے ہوئے بھرپور خراج تحسین پیش کیا۔
مسلم لیگ ن کا پنجاب سے رانا ثناء اللہ کو سینیٹر بنانے کا فیصلہ رانا ثناء اللہ کو تحریک انصاف کے سزا یافتہ اعجاز چودھری کی خالی نشست پر سینیٹر بنایا جائے گا۔ ملک میں سونے کی قیمت میں جاری کمی کے بعد ایک بار پھر اضافہ۔ پاکستان میں پہلی بار چھاتی کے کینسر سے بچاؤ کیلئے ویکسین تیار یہ ویکسین 12 سال کی لڑکیوں کو تین ڈوزز میں لگائی جائے گی۔خیبر پختونخوا طوفانی بارشوں اور سیلاب کی لپیٹ میں 2100 افراد جان بحق۔700 ارب کا نقصان۔ریسکیو آپریشن جاری 7 لاکھ افراد متاثر 5001 گھر تباہ عوام کھلے آسمان کے نیچے۔وفاقی حکومت کا نئے گیس میٹر لگوانے پر عائد پابندی ختم کر دی۔۔پاکستان شاہین کا ٹاپ اف ٹی ٹونٹی میں 179 رنز کا ٹارگٹ عبدالصمد کی دھواں دھار شاندار سینچری۔افغان مہاجرین کی جبری بے دخلی کا عمل ان حالات میں مناسب نہیں ۔ مولانا فضل الرھمان۔اسرائیل میں لاکھوں افراد کا غزہ جنگ کے خاتمے اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے مظاہرہ۔ایشیا کپ کے لئے کرکٹ ٹیم کی کامیابی کا تناسب صفر ھو گا۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

پیٹرولیم ڈویژن نے نئے گیس کنکشن پر عائد پابندی ختم کرنے کیلئے سمری وفاقی کابینہ کو ارسال کر دی**🔵نئے گیس کنکشن موجودہ قیمت سے 4 گنا زائد 3 ہزار 900 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کی درآمدی ایل این جی کی قیمت پر دیے جانے کا امکان، پہلے سال ایک لاکھ 20 ہزار کنکشنز دینے کا ہدف مقرر*

نہروں کے معاملے پر 27ویں ترمیم کے ذریعے فیصلہ سازی کا اختیار وفاق کو دیا جا سکتا ہے آپریشن کے حوالے سے پاکستان بھر میں اختیار اسٹیبلشمنٹ کو وفاق کے ذریعے دیا جا سکتا ہے تاکہ صوبے مزاحمت نا کر سکیں معدنیات کے حواے سے معاملات وفاق کو دے دیے جائیں گے۔

افغان مہاجرین کی جبری بے دخلی کا عمل ان حالات میں مناسب نہیں ۔افغان مہاجرین کی کٹیگریز طے کی جائیں ۔بہت سے افغان ہیں جنہوں سالہا سال سے سرمایہ کاری کی ہوئی ہے ۔بہت سے افغانی طلباء ہماری ہاں سے انجینیر اور ڈاکٹر بنے ہیں یہ ہمارے سکلز ہیں ان کو ضائع نہ کریں

۔ جو طلباء ہیں ان کو تعلیم مکمل کرنے دی جائے، قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان کا عوامی نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب

ٹاپ اینڈ ٹی 20 سیریز پاکستان شاہینز کی دوسری جیت ♥️♥️معاذ صداقت کی 3 وکٹیں
قیصر احمد شیخ کا دورہ ساوتھ افریقہ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری۔۔4 اھم ترین گرفتاریاں کس کی۔۔قوم کا فوج پر اعتمادہماراسب سے بڑا اثاثہ ہے اور ہماری قوت کا سرچشمہ ہے: سید عاصم منیر ۔؟؟تفصیلات کے لیے بادبان نیوز
پاکستان میں پانی کے بحران کا حل بہتر منصوبہ بندی میں پوشیدہ*کوٹری بیراج اور دیگر آبی ذخائر میں پانی کا بہاؤ پاکستان میں پانی کے بحران کا حل بہتر منصوبہ بندی میں پوشیدہ ہےکوٹری بیراج پر 9 اگست 2025 کو پانی کا بہاؤ 1,71,846 کیوسک کی بلند ترین سطح پر پہنچا, ذرائع 18 اگست 2025 کو بہاؤ کم ہو کر 71,227 کیوسک پر آ گیا، جو اب بھی کم از کم ضرورت سے کئی گنا زیادہ ہے
***پاکستان میں پانی کے بحران کا حل بہتر منصوبہ بندی میں پوشیدہ*کوٹری بیراج اور دیگر آبی ذخائر میں پانی کا بہاؤ پاکستان میں پانی کے بحران کا حل بہتر منصوبہ بندی میں پوشیدہ ہےکوٹری بیراج پر 9 اگست 2025 کو پانی کا بہاؤ 1,71,846 کیوسک کی بلند ترین سطح پر پہنچا, ذرائع 18 اگست 2025 کو بہاؤ کم ہو کر 71,227 کیوسک پر آ گیا، جو اب بھی کم از کم ضرورت سے کئی گنا زیادہ ہے، ذرائع اس وقت کوٹری بیراج سے خارج ہونے والا پانی کم از کم 5,000 کیوسک کی مطلوبہ حد سے بہت زیادہ ہے، ذرائع اگر مناسب ذخیرہ گاہیں اور نہری نظام قائم ہوں تو سندھ اور جنوبی پنجاب کی سال بھر کی ضروریات کے لیے پانی محفوظ کیا جا سکتا ہے، ذرائع موجودہ بہاؤ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وسائل موجود ہیں، صرف بہتر منصوبہ بندی اور انفراسٹرکچر کی ضرورت ہے، ذرائع اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان میں پانی کی قلت نہیں بلکہ پانی کو محفوظ کرنے اور استعمال کرنے کے نظام کی کمی ہے، ذرائع
بجلی کا بل جمع کروا دیا ہے بیٹے کا جنازے کے لیے ضمانت منظور کی جاے یا جنازہ جیل میں پڑھایا جاے غدار لغاری خاندان کے کا کارنامے حکومت کے لئے مشکلات مے اضافہ 72 گھنٹے اھم۔۔40 ھزار اھم ترین شخصیات کو ای سی ایل میں ڈال دیا گیا۔۔کھربوں روپے لوٹنے اور کرپشن۔۔مولانا فضل الرھمان کے لیے مشکلات۔سہہ ملکی سیریز اور ایشیاء کپ کے لئے مائنس بابر اعظم پلس فخر زمان قومی کرکٹ ٹیم کا اعلان ہوگیا۔۔ 13 اگست کو سلیکشن کے حوالے سے کہہ دیا تھا کہ۔۔؟*ٹھیکری والا کے علاقہ میں پسٹل صاف کرتے ہوئے نوجوان سر میں گولی لگنے سے جاں بحق ہو گیا۔100 رکنی کابینہ 3 وزراء کے علاوہ تمام وزراء کرپشن میں ملوث۔۔پھلے نمبر پر اسحاق ڈار دوسرے نمبر پر لغاری اور تیسرے نمبر پر ھارون اختر۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

یہ بابر اعظم، محمد رضوان، شاہین آفریدی اور حسن علی کو پاکستان کی T20 اور ونڈے کرکٹ سے باہر ہی رہنا چاہیے۔ ان کھلاڑیوں میں صلاحیت ہیں لیکن کپتانی کے چکروں اپنی کرکٹ کو تباہ کررہے ہیں۔ ان کھلاڑیوں ایک سال کے لیے سینٹرل کنڑیکٹ اور پاکستان کرکٹ سے باہر رکھا جائے۔ شاہین آفریدی اب شاہد آفریدی کا داماد ہونے کی وجہ سے ٹیم میں ہے۔ محمد حارث،صائم ایوب، حارث روف اور حسن علی کے لیے یہ آخری چانس ہےکیونکہ ان دونوں کو اپنی باولنگ پر توجہ دینی ہوگی اور سازشی پلان سے دور رہیں۔ جو سازشیں کرتے ہیں ان کی بیک اپ پر سابق کھلاڑی موجود ہیں۔
خون سفید ہوگیا !جے یو آئی رہنما مفتی کفایت اللہ کے بیٹے کی فائرنگ، بھائی اور بہن قتل جبکہ مفتی کفایت اللہ اور انکی اہلیہ زخمی، بیٹا فائرنگ کے بعد فرار

🚨 ملتان گارڈن ٹاؤن خاتون پر تشدد کی ویڈیو وائرل کا واقعہ ملتان تھانہ کینٹ نے ویڈیو وائرل ہونے پر فوری مقدمہ درج کر لیا *ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس نے ریڈ کر کے 02 خواتین اور ایک مرد کو گرفتار کر لیا*کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہیں ہے قانون سب کے لیے برابر ہے پولیس کمزور طبقات خواجہ سراؤں خواتین بچوں کے حقوق کی محافظ ہے شہریوں پر تشدد کسی صورت قابل برداشت نہیں سی پی او ملتان صادق علی ڈوگر🚨 ملتان گارڈن ٹاؤن خاتون پر تشدد کی ویڈیو وائرل کا واقعہ *گرفتار ملزمان کی عدالت نے ضمانت منظور کرلی۔ ذرائع*اطلاعات ہیں کہ تشدد کرنے والی خاتون، مسلم لیگ (ن) کے سابق ٹکٹ ہولڈر اور موجودہ ڈپٹی اٹارنی جنرل لاہور، میاں سلیمان علی قریشی کی اہلیہ ہیں۔ اور اس کے ساتھ جو دوست تھے اس کی بہن 19 گریڈ کی افیسر تھیں۔
آخر سوال صرف مولانا سے ہی کیوں؟”مولانا کہاں ہیں؟ اسمبلی میں ہوتے ہوئے بھی مسجد کیسے گرا دی گئی؟” یہ سوال سوشل میڈیا پر آپ نے بہت دیکھا ہوگا، شاید یہی لبرل طبقہ ہے جس نے اپنی ایمانی غیرت یا تو مولانا کے حوالے کر رکھی ہے یا پھر ان کے اندر ایمانی غیرت بالکل ہے ہی نہیں۔
آخر سوال صرف مولانا سے ہی کیوں؟
تحریر: واجد علی تونسوی
“مولانا کہاں ہیں؟ اسمبلی میں ہوتے ہوئے بھی مسجد کیسے گرا دی گئی؟” یہ سوال سوشل میڈیا پر آپ نے بہت دیکھا ہوگا، شاید یہی لبرل طبقہ ہے جس نے اپنی ایمانی غیرت یا تو مولانا کے حوالے کر رکھی ہے یا پھر ان کے اندر ایمانی غیرت بالکل ہے ہی نہیں۔ کیا مساجد کی حفاظت کرنا صرف مولانا کی ذمہ داری ہے؟ کیا اسمبلی میں صرف مولانا ہی مسلمان ہیں؟ پھر دیگر لیڈروں سے سوال کیوں نہیں کیا جاتا کہ وہ مساجد کے خلاف کارروائی کو کیوں نہیں روکتے؟ بالفرض! اگر مان بھی لیا جائے کہ مولانا اسمبلی میں اسی لیے ہیں کہ اسلام کے خلاف ہونے والے اقدامات کے خلاف کھڑے ہوں، تو یہ سوال ان سے ضرور بنتا ہے کہ وہ اس وقت کیوں خاموش رہے، جب مسجد کو گرانے کی اجازت دی گئی؟ مولانا کے خلاف سوال تب بنتا، جب وہ مسجد گرانے کی اجازت دے دیتے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ سوال اصل حکمرانوں سے ہونا چاہیے جو اجازت دیتے یا حکم چلاتے ہیں۔ وزیراعظم، صدر اور دیگر اعلیٰ عہدے دار جب خاموش رہیں تو پھر سوال کیوں مولانا سے کیا جاتا ہے؟ کیا انہیں معلوم نہیں تھا؟ اگر معلوم تھا تو پھر خاموشی کیوں اختیار کی گئی؟ جو اجازت دے چکے یا حکم چلا رہے ہیں، ان سے سوال ہونا چاہیے تھا، مگر اس کے بجائے مولانا کو بدنام کرنے کی سازش کی گئی۔مسجد گرنے کے بعد سب سے پہلا کام تو یہ تھا کہ مزاحمت کی جائے اور اس کے خلاف آواز بلند کی جائے، لیکن لبرل طبقہ بجائے اس کے کہ اصل مجرموں کے خلاف بولے، مولانا کے خلاف ہی کینہ اور غیظ و غضب دکھانے لگا۔ مولانا نے اسمبلی میں کھڑے ہو کر حکمرانوں کو واضح الفاظ میں دھمکی دی کہ پچاس مساجد کو غیر قانونی قرار دے کر گرانے کی گھناؤنی سازش واپس لو۔ اگر جرات ہے تو دوبارہ مسجد کی ایک اینٹ بھی گرا کر دکھاؤ۔ بدقسمتی یہ ہے کہ دجالی میڈیا نے مولانا کی اس تقریر کو ٹی وی پر دکھانے سے انکار کر دیا، کیونکہ جب مولانا اچھی بات کرتے ہیں تو یہ میڈیا کو تکلیف ہوتی ہے۔ ان چینلز کو کہا جاتا ہے کہ اگر کوئی داڑھی والا برا کام کرے تو اسے دکھاؤ، مگر اگر اچھا کام کرے تو اسے دکھانا منع ہے۔یہی وجہ ہے کہ مولانا کی تقریر عوام تک پہنچانے میں رکاوٹیں ڈالی گئیں، لیکن خوش قسمتی سے وہ تقریر یوٹیوب پر بہت وائرل ہوئی اور لوگ جان گئے کہ مولانا اس مسئلے پر پوری طرح کھڑے ہیں۔ پھر وہی لوگ جنہوں نے مولانا سے سوال کیا تھا کہ وہ کہاں ہیں، اب ان کی جرات نہیں کہ ان کے ردعمل کو نظر انداز کریں۔ مولانا کی دھمکی کی وجہ سے حکمرانوں کو پیچھے ہٹنا پڑا، لیکن اس کے بجائے لبرل طبقہ مولانا کو بدنام کرنے کی سازش میں لگا رہا۔یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ آخر مولانا کو ہی کیوں نشانہ بنایا جاتا ہے؟ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں تو صدر، وزیراعظم، اور دیگر بڑے عہدے دار بھی موجود ہیں۔ کیا ان سے سوال نہیں کرنا چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کیوں نہیں کرتے؟ اگر انہیں معلوم تھا کہ مساجد کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے، تو ان کا فرض تھا کہ وہ اس سازش کو روکیں، مگر خاموشی اور اجازت کی صورت میں تنقید مولانا پر کی جاتی ہے۔

اس سے واضح ہوتا ہے کہ لبرل طبقہ کی یہ سازش ہے کہ مولانا کو بدنام کر کے ان کی ایمانی غیرت کو کمزور کیا جائے، حالانکہ مولانا نے ہر غیر اسلامی قانون کے خلاف آواز بلند کی ہے، مگر میڈیا اس کو نظر انداز کرتا ہے۔یہ سازش کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی، کیونکہ عوام مولانا کے جذبے کو جانتی ہے۔ وہی لوگ جو آج مولانا کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ایک دن انہیں امام مانیں گے۔ سیاست اور مذہب الگ نہیں ہو سکتے اور مساجد کی حفاظت سب کی ذمہ داری ہے۔ صرف مولانا کو ہی موردِ الزام ٹھہرانا انصاف نہیں۔ اگر سب مل کر اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور ادارے اپنی جگہ پر کام کریں تو ملک میں امن اور ہم آہنگی قائم ہوگی۔









