برگئڈیر صدیق سالک کی یاد میں برگئڈیر صولت رضا کی دل چھو لینے والی تحریر

صدیق سالک کی یاد میںتحریر: بریگیڈیئر صولت رضا (ریٹائرڈ)بریگیڈئیر تفضل حسین صدیقی کی باعزت ریٹائرمنٹ کے بعد بریگیڈیئر صدیق سالک نے ڈائریکٹر آئی ایس پی آر کا عہدہ سنبھالا تو پورے دفتر میں خوف وہراس کی لہر دوڑ گئی ۔ یہ کیفیت غیر متوقع نہیں تھی سٹاف کو معلوم تھا کہ مزاج یار بچپن سے “عاشقانہ ” ہے۔ میں آئی ایس پی آر لاہور میں تعینات تھا۔ میرے ایک رفیق کار نے راولپنڈی سے کانپتی ہوئی آواز میں اطلاع دی کہ بریگیڈیر سالک نے آئی ایس پی آر کی کمان سنبھال لی ہے اور آج انہوں نے بڑے سخت احکامات صادر کئے ہیں۔”اچھا ٹھیک ہے۔ ابھی یہ احکامات لاہور نہیں پہنچے ” میرا جواب سن کر موصوف بولے ” آپ خوش نہ ہوں عنقریب ریجنل دفاتر کی شامت آنے والی ہے۔”میں نے جواب دیا کہ بھائی ہمارا کیا ہے پہلے ایک گگلی بالر کا سامنا کرتے رہے۔ اب فاسٹ بالر آ گیا ہے۔ تو سر پر ہلمٹ پہن لیتے ہیں اور باہر جاتی ہوئی تیز گیند سے فاصلہ رکھیں گے۔ دو چار روز کی بات ہے سب ٹھیک ہو جائے گا ۔ “اگلے روز ٹھیک ساڑھے آٹھ بجے صبح ڈائر یکٹر کے پی اے کی فون پر آواز سنائی دی سالک صاحب آپ سے بات کریں گے۔”پی اے نے لائن تھرو کی تو سالک صاحب فون پر تھے۔ میں نے تقریباً نعرہ لگاتے ہوئے کہا “اسلام علیکم سر ! بہت بہت مبارک ہو۔ !!!دوسری جانب سے آواز آئی وعلیکم السلام ، شکریہ۔ میجر صولت رضا آپ نے ہلمٹ خرید لیا ہے ” ایک لمحے کے لیے میں سناٹے میں آگیا ۔ جی سر۔۔۔ میں سر ….. ساڑھے سات بجے سے پہن کر بیٹھا ہوں۔۔سر میرا جواب سن کر ادیب صدیق سالک ڈائریکٹر آئی ایس پی آر پر حاوی آگیا۔ فون پر ہلکا سا قہقہ سنائی دیا تو میرے اوسان بحال ہوئے۔ میں نے خوشامدانہ لہجے میں ایک اور فقرہ آگے بڑھایا۔ سر! آپ کی کمان میں آغاز سے ہی مخبری کا نظام بہت اعلیٰ دکھائی دیتا ہے۔ سالک صاحب کب چوکنے والے تھے۔ فوراً بولے فی الحال اس شعبے میں پہلے سے تعینات شٹاف سے استفادہ کر رہا ہوں لہذا آپ زیادہ محتاط رہیں ۔ “صدیق سالک نے فوج میں کمیشن سے شہادت تک مثالی محنت جذبے اور جوانمردی کے ساتھ اپنے فرائض ادا کئے ۔ انہوں نے زندگی کا ہر لمحہ بھر پور انداز میں بسر کیا۔ میں نے انھیں سب سے پہلے واہگہ کی سرحد پر ایک جنگی قیدی کے روپ میں دیکھا۔ انہوں نے چند لمحے پہلے سرحد عبور کر کے طویل قید سے رہائی حاصل کی تھی اور آئی ایس پی آر کا ” نو آموز لیفٹینٹ پی آرااوڈھاکہ میجر صدیق سالک کا استقبال کرنے میں مصروف تھا ۔ وہ اپنے ہمراہ سقوط ڈھاکہ اور بھارتی قید کا آنکھوں دیکھا حال لائے جسے انہوں نے “ہم یاراں دوزخ ” وٹنس ٹو سرنڈر ” اور میں نے ڈھا کہ ڈوبتے دیکھا سمیت دیگر کتابوں میں براہ راست یا بالواسطہ انداز میں رقم کیا۔ ان کے نزدیک ابھی مشرقی پاکستان کی کہانی ختم نہیں ہوئی۔ وہ اسے دوٹوک انداز میں لکھ رہے تھے Pakistan Needs Politics اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔ انگریزی کتاب کا مسودہ مبینہ طور پر لاپتہ ہو گیا۔ اس کے علاوہ سالک صاحب ایک سیاسی ناولٹ “وار ننگ ” بھی لکھ رہے تھے ان کی شہادت کے بعد یہ مسودہ بھی مفقود الخبر ہو گیا ۔ سالک صاحب کی مطبوعہ اور غیر مطبوعہ تحریریں قومی اثاثہ ہیں انہیں یوں ضائع نہیں ہونا چاہیے تھا۔ بریگیڈیئر صدیق سالک بنیادی طور پر ایک دیانتدار قلم کار تھے ۔ سرکاری ملازمت کے مخصوص تقاضوں کے باوجود انہوں نے اپنے قاری سے کبھی بے وفائی نہیں کی ۔ وہ فوج میں ترقی کی منازل طے کرتے رہے کیپٹن میجر لیفٹیننٹ کرنل، فل کرنل اور بریگیڈیر اس کے بعد بھی مزید ترقی ان کی راہ میں تھی لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا جون 88ء میں سال چھ ماہ بعد با عزت ریٹائرمنٹ کی آرزو کرنے والا صدیق سالک 17 اگست 88ء کو عسکریوں کی اس تابندہ صف میں شامل ہو گیا جو کبھی ریٹائر نہیں ہوتے ۔ روزانہ اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے ہیں لیکن وہ ہمیں نظر نہیں آتے کیونکہ ہم اس کا شعور نہیں رکھتے۔سقوط مشرقی پاکستان نے صدیق سالک کی سرکاری، ادبی اور کسی حد تک ذاتی زندگی پر بھی گہرے اثرات مرتب کئے ۔ وہ مزاح نگار کم اور تلخ نگار زیادہ ہو گئے تھے۔ لیکن کبھی کبھار ان کے روز مرہ مزاج کا حصہ بھی بن جاتی تھی وہ فرائض کی انجام دہی کے دوران انتہا تک پہنچنے کی تمنا کرتے تھے جو ظاہر ہے ہر انسان کے بس کا روگ نہیں ۔ بریگیڈیر صدیق سالک ایک سخت گیر کپتان مشفق کوچ اور بے تکلف دوست کی حیثیت رکھتے تھے۔ سخت گیر کپتان کا روپ انھوں نے دفتر کے نظام کو درست کرنے کے لیے دھارا تھا اور اس ” ادا کاری ” کا اعتراف انہوں نے اپنی کتاب سلیوٹ ” میں کیا ہے جو ان کی شہادت کے بعد شائع ہوئی وہ لکھتے ہیں کہ میں نے یہ خوفناک امیج بڑی محنت سے بنایا ہے اور اس سے آئی ایس پی آر کا گراف اور اوپر چلا گیا اور میری ذاتی مقبولیت کا گراف خاصا گر گیا۔صدیق سالک کی پوری سروس ایک ڈٹ جانے والے پروفیشنل کی رہی۔ مسلح افواج کی پبلسٹی اور میڈیا کے ساتھ تعلقات سے متعلق امور کے بارے میں ان کی رائے کو ویٹو کا درجہ حاصل تھا۔ سینئرز اور جونیئر زیکساں طور پر اس مرتبے سے آگاہ تھے لہذا ہم جیسے ” کو تاہ اندیش ” اکثر سالک صاحب کے نام سے اپنی ناچیز رائے پیش کر کے روزمرہ کے کام نکال لیا کرتے تھے۔ پیشہ ورانہ لحاظ سے یہ رعب ودبدبہ اور کسی حد تک احترام صدیق سالک کے بعد آئی ایس پی آر کے کسی اور سربراہ کے حصے میں نہیں آیا انہوں نے انتہائی مختصر وقت میں آئی ایس پی آر ڈائریکٹوریٹ کو وقار اور بلندی کی جانب گامزن کیا۔ زیر کمان افسردن رات مصروف عمل دکھائی دینے لگے۔ ایک دور اندیش سربراہ کی حیثیت سے انہوں نے ادارے کے بہتر مستقبل کے لیے پلاننگ کی اور پاک افواج کی ہائی کمان سے اسے منظور بھی کرایا انہیں آئی ایس پی آر سے اپنے گھر کی کی محبت اور لگاؤ تھا بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ دفتر سے زیادہ مانوس تھے تو بے جانہ نہ ہوگا۔ روزانہ سترہ اٹھارہ گھنٹے دفتر میں ہی بسر ہو جاتے تھے اس کے باوجود بعض ” شاہ سواروں ” کو اُن سے شکوہ رہتا تھا کہ ” ہم وفاودار نہیں ہیں “ادبیوں اور صحافیوں سے صدیق سالک کے تعلقات کی بنیاد نظریاتی ، جغرافیائی یا لسانی دائرے نہیں تھے البتہ ذاتی دوستی کے معاملے میں وہ بے حد محتاط اور کسی حد تک پسند اور ناپسند کے قائل تھے۔ شاید اسی وجہ سے کچھ قلمی حوریں اور غلمان ان سے نالاں رہتے تھے۔بریگیڈئیر صدیق سالک آئی ایس پی آر کے پہلے سربراہ تھے جو پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی کے دوران باور دی جاں بحق ہوئے۔ ان کے بعد آئی ایس پی آر ایک ” بے بس یتیم ” کی مانند تھا سب کی نظریں صدیق سالک کی کرسی پرتھیں لیکن محض کرسی پر بیٹھنے سے صدیق سالک بن جانا ممکن نہیں تھا عبوری دور میں چند ایک نے کوشش کی مگر منہ کے بل جا گرے۔ کچھ عرصے بعد بریگیڈیر ریاض اللہ ڈائریکٹر آئی ایس پی آر تعینات کیے گیے ان کا بنیادی تعلق فوج کی ایک پیادہ رجمنٹ سے تھا اور عہدہ سنبھالنے کے لیے پوری سروس میں پہلی مرتبہ آئی ایس پی آر کے دفاتر میں تشریف فرما ہوئے ظاہری قد کاٹھ صدیق سالک کی مانند تھا جس سے دنیا کی نظروں میں آئی ایس پی آر کی یتیمی دور ہو گئی البتہ پیشہ ورانہ بے بسی کا دورانیہ طویل سے طویل تر ہوتا چلا گیا اور میڈیا کی نظروں میں آئی ایس پی آر باوردی مزاح (Humour in Uniform) کا سب سے اہم منبع بن گیا اس بیش قیمت مزاح کے شہ پاروں کو عام کرنے میں ذرائع ابلاغ کے دوستوں نے اہم کردار ادا کیا ان حالات میں صدیق سالک کی کمی بے حد محسوس کی گئی کاش انھیں چند برس مزید میسر آجاتے تو ابلاغی محاذ پر پاک فوج کو ایک جامع منفرد اور پیشہ ورانہ بنیا د رکھنے والا ادارہ جلد میسر آجاتا اور ساتھ ہی اردو اور انگریزی ادب میں مزید چند شاہکار کتب کا اضافہ ہوتا بیک وقت یہ دونوں کارنامے صدیق سالک ہی انجام دے سکتے تھے ۔ بہر حال مختصر عرصے میں بھی انہوں نے قابل تقلید مثال قائم کی اور ان کی کاوشیں ہمیشہ مشعل راہ رہیں گی۔ اللہ تعالٰی شہید کے درجات مزید بلند فرمائے ۔ آمین

ریلیف آپریشن*پاک فوج کی *کور آف انجینئرز کی اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم (USAR)* نے بونیر ، شانگلہ اور سوات کے مختلف علاقوں میں کام شروع کر دیا *اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم مختلف آلات کی مدد سے ملبے کے نیچے دبے زخمیوں اور لاشوں کو ڈھونڈنے میں مدد دے گی*

*بریکنگ* *اپڈیٹ- فلڈ ریلیف آپریشن*پاک فوج کی *کور آف انجینئرز کی اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم (USAR)* نے بونیر ، شانگلہ اور سوات کے مختلف علاقوں میں کام شروع کر دیا *اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم مختلف آلات کی مدد سے ملبے کے نیچے دبے زخمیوں اور لاشوں کو ڈھونڈنے میں مدد دے گی* اس کے علاوہ کور آف انجینئرز کے جوان ٹوٹے ہوئے پلوں اور بند ہوئے راستوں کو بھی کھولنے میں مصروف ہیں بونیر ، شانگلہ اور سوات کے مختلف علاقوں میں پاک فوج اور فرنٹیئر کور نارتھ کا ریسکیو آپریشن جاری ہے پاک فوج کے مزید دستوں نے کل رات کو مختلف پے پہنچ کے کام سنبھال لیا موسم کی خرابی کے باوجود پاک فوج کے ہیلی کاپٹر ریسکیو مشن میں مصروف ہیں

خیبر پختونخوا آرمی فلڈ ریلیف آپریشن اپڈیٹ**بونیر ، شانگلہ اور سوات کے مختلف علاقوں میں پاک فوج اور فرنٹیئر کور نارتھ کا ریسکیو آپریشن جاری*پاک فوج کے مزید دستوں نے کل رات سے سیلاب زدہ علاقوں میں پہنچ کر کام سنبھال لیا کور آف انجینئرز کے دستوں نے بھی سازو سامان سمیت کام کاآغاز کر دیا موسم کی خرابی کے باوجود پاک فوج کے ہیلی کاپٹر ریسکیو مشن میں مصروف ہیں

*بریکنگ**خیبر پختونخوا آرمی فلڈ ریلیف آپریشن اپڈیٹ**بونیر ، شانگلہ اور سوات کے مختلف علاقوں میں پاک فوج اور فرنٹیئر کور نارتھ کا ریسکیو آپریشن جاری*پاک فوج کے مزید دستوں نے کل رات سے سیلاب زدہ علاقوں میں پہنچ کر کام سنبھال لیا کور آف انجینئرز کے دستوں نے بھی سازو سامان سمیت کام کاآغاز کر دیا موسم کی خرابی کے باوجود پاک فوج کے ہیلی کاپٹر ریسکیو مشن میں مصروف ہیں آرمی چیف کی ہدایات کے مطابق ، پاک فوج کا ایک دن کا راشن بھی ضرورت مند افراد تک پہنچایا جا رہا ہےپاک فوج کے ڈاکٹرز نے متاثرہ علاقوں میں میڈیکل کیمپ بھی لگا لیا ہے جہاں پے مفت ادویات تقسیم کی جا رہی ہیں بونیر کے گاؤں چوراک میں پاک فوج کے دستے ریسکیو آپریشن میں مصروف آدم خیل میں تباہ شدہ مکانات کے ملبے تلے دبنے والے افراد کی بحالی کا سلسلہ جاری تمام متاثرہ افراد کو بحفاظت ریسکیو کرنے اور محفوظ مقامات پر منتقل کرنے تک آپریشن جاری رہے گاپاک فوج کی جانب سے متاثرہ خاندانوں کو ضروری اشیاء کی فراہمی بھی کی گئی، جن میں راشن اور بستر شامل ہیںپاک فوج کی جانب سے متاثرہ افراد کے لیے ہر ممکن اقدامات ہورے ہیںعوام نے تمام کوششوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پاک فوج کا شکریہ ادا کیا

لال مسجد کے فسادی ملا!!اسلام آباد میں آپ کسی سرکاری زمین پر بغیر اجازت مسجد بنانی شروع کریں۔ کوئی اعتراض کرے تو اسے کافر قرار دیں۔ مسجد کے ساتھ اپ کی رہائش گاہ اور مدرسہ (مستقل کمائی کا ذریعہ) خودبخود بن جاتا ہے

لال مسجد کے فسادی ملا!!اسلام آباد میں آپ کسی سرکاری زمین پر بغیر اجازت مسجد بنانی شروع کریں۔ کوئی اعتراض کرے تو اسے کافر قرار دیں۔ مسجد کے ساتھ اپ کی رہائش گاہ اور مدرسہ (مستقل کمائی کا ذریعہ) خودبخود بن جاتا ہے۔ سی ڈی اے کی رپورٹ کے مطابق صرف اسلام اباد میں 194 مساجد (ملحقہ مدارس و رہائشگاہیں) اسی طریقے سے قبضہ کر کے بنائی گئی ہیں۔ جن میں 165 سی ڈی اے سیکٹرز میں ہیں۔ جہاں زمین کی مالیت 50 لاکھ تا 1 کروڑ روپے مرلہ ہے۔ مولوی عبدالعزیز کے والد مفتی عبداللہ لال مسجد کے سرکاری مولوی تھے۔ ان کے لیے سی ڈی اے نے محکمہ اوقاف کے نام لال مسجد سے ملحقہ 206 مربع گز زمین الاٹ کی تھی۔ لیکن موصوف زمین خالی دیکھ کر اپنا قبضہ بڑھاتے رہے اور آہستہ آہستہ 9533 مربع گز زمین پر قابض ہوگئے۔ فائر برگیڈ کی زمین بھی دبا لی۔ اپنے اس قبضے پر ایک عالی شان رہائش گاہ اور مدرسہ بنا کر اس کو ‘جامعہ حفصہ’ کا نام دے دیا۔ 1998ء میں مفتی عبداللہ کی ہلاکت کے بعد ان کے ہونہار بیٹوں عبدالعزیز اور عبدالرشید نے قبضے میں مزید اضافہ فرمایا اور خواتین کی لائبریری کے لیے مختص زمین بھی دبا لی۔ انہی دنوں دونوں بھائیوں نے القاعدہ اور اسامہ بن لادن سے اپنے روابط اعتراف بھی کیا۔ اس تازہ قبضے پر بلآخر سی ڈی اے حرکت میں آئی اور مارچ 2001ء میں خواتین لائبریری کے لیے مختص زمین واگزار کرانے سی ڈی اے اہلکار پہنچے۔ سی ڈی اے اہلکاروں کو غازی عبدالرشید نے یقین دلایا کہ آپ چلے جائیں ہم خود ہی ایک ہفتے میں تجاوزات گرا دینگے۔ سی ڈی اے اہلکار اس جھانسے میں آکر واپس چلے گئے۔ وعدہ پورا نہ ہوا اور سی ڈی اے حکام دوبارہ پہنچے تو اب لال مسجد والے تیار تھے۔ 100 کے قریب ڈنڈا بردار طالبات نے سی ڈی اے اہلکاروں پر دھاوا بول دیا۔ اہلکار مار کھا کر بھاگے اور اس حملے کی ایف آئی آر لال مسجد اتنظامیہ کے خلاف قریبی تھانے میں درج کرائی۔اس کے کچھ عرصہ بعد نائن الیون ہوا اور لال مسجد میں پاکستان اور افواج پاکستان کے خلاف تقاریر کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ 2003ء میں بیت اللہ محسود کا نمائندہ عیسی غازی برادران سے ملا اور دونوں نے بیت اللہ محسود کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا جو ان دنوں پاکستان کے خلاف طالبان کو منظم کر رہا تھا۔ اس ملاقات کے بعد وزیرستان سے دہشتگرد لال مسجد آنے لگے اور لال مسجد کے طلباء کو وزیرستان بھیجا جانے لگا۔ 2004 میں وزیرستان میں پاک فوج کی دہشتگردوں کے ساتھ پہلی جنگ ہوئی تو لال مسجد نے فوراً فتوی جاری کیا کہ پاک فوج مرتد ہے، مارے گئے فوجی شہید نہیں مردار ہیں اور ان کا جنازہ پڑھنا جائز نہیں۔ اسی سال غازی عبدالرشید کی گاڑی دہشتگردوں کی نقل و حرکت کے لیے استعمال ہوئی۔ لیکن انتظامیہ بدستور ان کے خلاف کاروائی سے ہچکچاتی رہی۔ 2005ء میں آخر کار دہشتگردوں سے روابط پر پہلی پر اسلام آباد پولیس نے لال مسجد پر چھاپہ مارا۔ لیکن وہاں موجود ڈنڈا بردار طالبات سینکڑوں کی تعداد میں باہر آئیں اور پولیس پر حملہ کر دیا۔ پولیس طالبات کو ہاتھ نہ لگاسکی اور بےبس ہوگئی۔ اس واقعے نے لال مسجد والوں کو سمجھا دیا کہ مدرسہ طلبا خاص طور پر خواتین کو سیکیورٹی اہلکار ہاتھ نہیں لگاتے۔ جس کا انہوں نے بعد میں خوب فائدہ اٹھایا۔2006ء تک لال مسجد کے بہت سے طلباء وزیرستان میں تربیت لے چکے تھے اور لال مسجد وزیرستانی دہشتگردوں کا بیس کیمپ بن چکی تھی۔ نہ صرف وزیرستانی بلکہ ازبک اور مصری بھی لال مسجد پہنچنے لگے۔ لال مسجد کی کمانڈ اور کنٹرول وزیرستان منتقل ہوچکی تھی۔ حکومتی نمائندوں نے لال مسجد والوں سے رابطے شروع کیے اور دہشتگردوں سے روابط ختم کرنے کا مطالبہ کیا

جسے انہوں نے مسترد کر دیا۔ اسی سال سی ڈی اے نے اسلام آباد میں قبضہ کر کے بنائی گئی 194 میں سے 70 مساجد و مدارس کی زمین واگزار کرانے کا نوٹس جاری کیا۔ ساتھ ہی ‘قابض ملاؤوں’ کو یقین دہانی کرائی گئی کہ متبادل جگہیں فراہم کی جائنگی۔ ان میں جامعہ حفصہ بھی شامل تھی۔ جنوری 2007ء میں سی ڈی اے نے ان 5 مساجد و مدارس کو مسمار کر دیا جو خالی کر لی گئی تھیں اور گرین بیلٹ پر یعنی سڑک کے درمیان بنائی گئی تھیں۔ اس کے جواب میں جامعہ حفصہ کی لٹھ بردار طالبات نے خواتین لائبریری کے ساتھ ملحقہ بچوں کی لائبریری پر بھی قبضہ کر لیا۔ ساتھ ہی سو کے قریب طلباء اور طالبات ہاتھوں میں ڈنڈے لیے قریبی آبپارہ مارکیٹ پہنچیں اور وہاں سی ڈیز کی دکانوں میں گھس کر سی ڈیز نکال کر ان کو آگ لگا دی اور دکانداروں کو وارننگ دی۔ گاڑیاں روک کر ان میں لگے ٹیپ ریکارڈر ڈنڈوں سے توڑے۔ لال مسجد سے پاکستان میں بے حیائی کے خاتمے اور شریعت کے نفاذ کا اعلان کر دیا گیا۔ یہ سب کچھ سی ڈی اے نوٹس کے بعد ہوا۔ ان کو روکنے پولیس بھیجی گئی۔ تو لال مسجد کی بدمعاش طالبات نئی قبضہ شدہ جگہ کے گرد دائرہ بنا کر بیٹھ گئیں۔ سب نے سروں پر جہادی پٹیاں باندھ رکھی تھیں اور ‘شریعت یا شہادت’ کے نعرے مارنے لگیں۔ اسی دوران جامعہ فریدیہ کے سینکڑوں طلبا بھی ہاتھوں میں ڈنڈے لے کر مارکیٹوں کے چکر لگانے لگے۔ جامعہ فریدیہ فیصل مسجد کے قریب ایک اور مدرسہ ہے۔ یہ بھی غازی بردارن کی ملکیت ہے اور یہ بھی الاٹ کی گئی جگہ سے 10 گنا بڑی جگہ پر قبضہ کر کے بنایا گیا ہے۔ ان کے علاوہ جی سیون میں انہی بھائیوں کا ایک تیسرا مدرسہ ہے۔ اس کا نام بھی جامعہ حفصہ ہے اور اس کا بڑا حصہ بھی قبضہ کر کے بنایا گیا ہے۔ کم از کم 20 تا 25 کنال پر محیط اس زمین کی مالیت 3 تا 4 ارب روپے ہے۔ حکومت نے مزاکراتی وفد بھیجنے شروع کر دئیے۔ جن کو کوئی گھاس نہیں ڈالی گئی۔ لال مسجد میں اعلانیہ بچیوں کو لٹھ بربادی کی تربیت دی جانے لگی اور اس کی تشہیر بھی کی گئی۔ ان طالبات نے ہلہ بول کر دو پولیس والوں کو اغواء کر لیا جن کو اس شرط پر چھوڑا گیا کہ حکومت لال مسجد والوں کا تازہ ترین قبضہ تسلیم کرے گی اور حکومت کی مزاکراتی ٹیم نے لال مسجد والوں کی شرائط مان لیں۔ اس پر لال مسجد والوں کے حوصلے آسمان پر پہنچ گئے اور انہوں نے مطالبہ کیا کہ جو مساجد مسمار کی گئی ہیں وہ دوبارہ بنا کر انہی مولویوں کو واپس کی جائیں جنہوں نے قبضہ تھا۔ وفاق المدارس کی مصالحت سے یہ شرط بھی مان لی گئی بلکہ ایک مسمار کی گئی مسجد کی دوبارہ تعمیر بھی شروع کر دی گئی۔ اس پر بجائے رکنے وہ کے وہ مزید شیر ہوگئے۔ 27 مارچ 2007 کو لال مسجد کی لٹھ بردار طالبات نے 3 خواتین کو فحاشی کے الزام میں اغواء کر لیا۔ پولیس پہنچی تو چند پولیس والے بھی اغواء کر لیے۔ ایک آدھ دن حبس بےجا میں رکھنے کے بعد ان کو چھوڑ دیا۔ 6 اپریل کو مولوی عبدالعزیز نے اپنی مسجد میں شرعی عدالت کا اعلان کر دیا اور پاکستانی عدالتوں کو کلعدم قرار دے دیا۔ لوگوں سے کہا کہ اپنے مقدمات لال مسجد لایا کریں۔ یہیں پر مجرموں کو شرعی سزائیں دی جائنگی۔ ساتھ ہی دھمکی دی کہ اگر حکومت نے اس کو بند کرنے کی کوشش کی تو لال مسجد کے طلبا (دہشتگرد) پاکستان بھر میں ہزاروں خود کش حملے کرینگے۔ 18 مئی 2007 کو لال مسجد والوں نے پھر چار پولیس والوں کو اغوا کیا، مارا پیٹا اور لال مسجد میں بند کر دیا۔ پولیس نے مزاکرات کر کے ان کو چھڑایا۔ 23 جون 2007ء کو جامعہ حفصہ کی طالبات نے 10 چینی باشندوں بشمول خواتین اور کچھ دیگر لوگوں کو اغواء کیا اور ان کو مارا پیٹا۔ اہم بات یہ ہے کہ چینی باشندوں کو عین اس وقت اغواء کیا گیا جب ایک دن بعد آفتاب شیر پاو چین کے اہم ترین دورے پر جانے والے تھے۔ چین نے احتجاج کیا اور چینی سفیر کے دباؤ پر منتیں ترلے کر کے ان کو چھڑایا گیا۔ اس وقت پاکستانی اداروں کو یقین ہوگیا کہ لال مسجد کے ڈانڈے وزیرستان سے ہوتے ہوئے انڈیا تک جارہے ہیں۔ ملک بھر میں پرویز مشرف پر تنقید ہونے لگی کہ وہ ضرورت سے زیادہ نرمی سے کام لے رہے ہیں اور ان پر لال مسجد والوں کے خلاف کاروائی کرنے کے لیے دباؤ بڑھنے لگا۔ جس کے بعد پولیس کی مدد کے لیے لال مسجد رینجرز بھیجی گئی۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے اس وقت کے سربراہ ڈاکٹر خالد مسعود نے کہا کہ غیر قانونی اور قابض جگہ پر تعمیر کردہ مساجد غیر قانونی ہوتی ہیں اور ان کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے۔رینجرز پہنچی تو لال مسجد کے میناروں سے ان پر گولیاں چلائی گئیں اور ایک سپاہی سینے میں گولی لگنے سے شہید ہوگیا۔ ایک رینجر سپاہی کی ٹانگ پر گولی لگی۔ ام حسان اور عبدالرشید نے موقف اختیار کیا کہ ہمارے ایک “بچے” نے بغیر اجازت کے گولی ماری ہے اور ہمارے ‘بچوں’ کو اشتعال نہ دلایا جائے۔ لیکن اپنی شرعی عدالت میں اس “بچے” پر کوئی حد نافذ نہ کی۔ 3 جولائی کو بڑی تعداد میں ڈنڈا بردار طالبات باہر نکلیں اور عینی شاہدین کے مطابق رینجرز والوں سے وائرلس سیٹ اور ہتھیار چھین لیے۔ پولیس نے آنسو گیس پھینک کر رینجرز کی جان چھڑائی۔ رینجرز کو ایکشن کا حکم نہ تھا لہذا وہ بےبس رہی اور مسجد انتظامیہ نے ایک بار پھر ‘عورت کارڈ’ کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ اس کے بعد ڈیڑھ سو کے قریب طالبات اور طالبان نے محکمہ موسمیات کی عمارت پہ حملہ کر دیا اور وہاں آتے جاتے لوگوں پر فائرنگ شروع کر دی اور وہاں سلفر بم پھینکے جس سے وہاں آگ لگ گئی۔ یہ وہ حملہ تھا جب کے بعد پہلی بار پولیس اور رینجرز نے جوابی کاروائی کی۔ لال مسجد والوں کی اندھا دھند فائرنگ سے 4 سولینز کی موت ہوئی اور جوابی کاروائی میں لال مسجد والوں کی 4 ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ فوراً علاقہ خالی کروا لیا گیا۔ مسجد کے گرد کانٹا تار بچھائی جانے لگی اور حکم ملا کہ اب کوئی ہتھیار کے ساتھ مسجد سے نکلے تو گرفتار کریں اگر وہ فائرنگ کرے تو اسے گولی ماریں۔ پاک فوج کو بھی طلب کر لیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی لاؤڈ سپیکر پر حکومت کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ سرنڈر کرنے والی طالبات اور طلبا کو فی کس 5 ہزار روپے وظیفہ اور مفت تعلیم دی جائیگی۔ نیز طالبات کو بغیر کسی چیکنگ کے گھروں کو پہنچایا جائیگا۔ بصورت دیگر حکومت آپریشن کرے گی۔4 جولائی 2007 کو دونوں اطراف سے فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا۔ حکومت بار بار آپریشن کی ڈیڈ لائن آگے بڑھاتی رہی اور سرنڈر کرنے کی اپیلیں کرتی رہی۔ ساتھ ہی مسجد کے ارد گرد کرفیو لگا دیا گیا۔ تاکہ مزید سولینز مسجد سے ہونے والی فائرنگ کا نشانہ نہ بنیں۔5 جولائی کو مسجد کے ارد گرد دھماکے کیے گئے تاکہ لوگ خوفزدہ ہوکر نکل آئیں۔ اس دوران ایک بار پھر ڈیڈ لائن آگے بڑھائی گئی۔ کیونکہ پاک فوج کسی بھی صورت مسجد میں آپریشن نہیں کرنا چاہتی تھی۔ان دھماکوں کے کچھ دیر بعد لڑکیوں کا ایک جھرمٹ باہر نکلا جن کو حسب معمول چیک نہیں کیا گیا۔ لیکن بیچ میں چلنے والی ایک لڑکی کے نقاب سے داڑھی نظر آرہی تھی۔ اس پر ایک خاتون پولیس افسر کی نظر پڑ گئی اور اس نے اس کو چیک کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ مولانا عبدالعزیز ثابت ہوا جو برقعہ پہن کر بھاگ رہا تھا۔ وہی عبدالعزیز جو بچیوں کو شریعت یا شہادت کی پٹیاں پڑھاتا رہا اور جس نے دعوی کیا تھا کہ میں نے حضورﷺ کو خواب میں دیکھا ہے اور ان کی ہدایت پر یہ سب کر رہا ہوں (نعوذبااللہ)۔ عبدالعزیز کو گرفتار کرلیا گیا۔ عبدالعزیز کے اس شرمناک فرار اور یوں برقعہ میں گرفتاری پر 800 کے قریب طلبا اور 400 طالبات نے سرنڈر کر دیا۔6 جولائی کو ایک بار پھر حکومتی وفد نے مسجد والوں سے بات چیت کی۔ لیکن وہ باہر آئے تو کچھ ہی دیر بعد لال مسجد سے سکیورٹی اہلکاروں پر پھر سے فائرنگ کی گئی۔ اسی شام جیو نیوز کے لائیو پروگرام میں عبدالرشید اپنی شرائط سے دوبارہ پھر گیا۔ سب کو یقین ہوگیا کہ مسجد کا کنٹرول خارجیوں کے پاس ہے اور وہ اپنی حفاظت کی شرط منوائے بغیر کسی صورت مزاکرات نہیں ہونے دینگے۔ غازی عبدالرشید کی ایک ہی رٹ تھی کہ میرے “مجاہدین” ساتھیوں (وزیرستانی دہشتگردوں) سے کوئی باز پرس نہیں ہوگی نہ ان کو کوئی ہاتھ لگائیگا۔ وہ جہاں سے آئے ہیں وہاں واپس جانے دیا جائیگا اور میری ماں بیمار ہے اس کا علاج کیا جائیگا۔ ماں کے علاج کا وعدہ کیا گیا لیکن دہشتگردوں کو چھوڑنے پر حکومت تیار نہ تھی۔ اس دوران 21 مزید طلباء نے سرنڈر کیا۔ ساتھ ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا اور 2 مزید خارجی ہلاک ہوگئے۔ اس دوران پاک فوج کے ایس ایس جی کمانڈوز پہنچ گئے۔ لال مسجد سے ہونے والی بھاری گولہ باری میں کمانڈو دستے کو لیڈ کرنے والے کرنل ہارون اسلام شدید زخمی ہوگئے اور دو دن بعد شہید ہوگیے۔6 جولائی کو ہی لال مسجد سے تعلق رکھنے والے ایک خارجی نے پرویز مشرف کے جہاز کو راولپنڈی کے ایک گھر سے اینٹی ائر کرافٹ گن سے نشانہ بنانے کی کوشش کی جو کامیاب نہیں ہوئی۔ اس کے باؤجود پرویز مشرف فیصلہ کن آپریشن کو مسلسل موخر کرتے رہے۔ 7 جولائی کو سخت مزاحمت کے بعد کمانڈوز کو لال مسجد کی دیواروں تک رسائی مل گئی۔ انہوں نے مسجد کی دیواروں میں سوراخ کیے تاکہ خواتین یا بچوں کو فرار کی راہ مل سکے۔ اسی دوران ان سوراخوں سے ایک 13 سالہ لڑکا نکل کر بھاگا جس کو فوراً ریسکیو کر لیا گیا۔ لڑکے نے انکشاف کیا کہ اس کو مسجد میں زبردستی روکا گیا تھا۔ اس دوران حکومت مسلسل دہشتگردوں سے سرنڈر کی اپیلیں کرتی رہی۔ پاکستان کی درخواست پر مفتی اعظم اور امام کعبہ شیخ عبدالرحمان سے بھی اپیل کرائی گئی اور مولانا طارق جمیل نے بھی اپیل کی کہ سرنڈر کریں قانون ہاتھ میں نہ لیں، مسجد اور خواتین کو مورچے نہ بنائیں۔ 9 جولائی کو فن لینڈ نے پاکستان می اپنا سفارت خانہ بند کر دیا اور دیگر ممالک نے بھی اپنی تشویش ظاہر کی۔ 10 جولائی کو چودھری شجاعت حسین اور اعجازالحق نے آخر کار مزاکرات کی ناکامی کا اعلان کیا۔ اسی دن انٹلیجنس اداروں نے رپورٹ پیش کی کہ مسجد پر کم از کم 100 دہشتگرد قابض ہیں۔ غازی عبدالرشید نے دھمکی دی کہ ہمارے پاس اتنا اسلحہ اور گولہ بارود ہے کہ ہم ایک مہینہ تک جنگ جاری رکھ سکتے ہیں۔ جس پر آرمی نے ایک آخری بار ایمبولنس میں کھانے پینے کا سامان بھیجا اور لال مسجد انتظامیہ سے کہا کہ سرنڈر کریں یا کم از کم خواتین اور بچوں کو باہر بھیج دیں۔ یہ اپیل رد کر دی گئی۔ اسی دن کمانڈوز نے پیش قدمی کا فیصلہ کیا۔ مسجد کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ مسجد کے اندر سے جدید ہتھیاروں سے فائرنگ کی جارہی تھی۔فوج کو گرنیڈ استعمال کرنے کی اجازت نہیں ملی تھی اور آنسو گیس کا خارجیوں پر کوئی اثر نہیں ہورہا تھا کیونکہ سب نے گیس ماسک پہن رکھے تھے۔ دہشتگردوں نے بڑی تعداد میں گیسولین بم اور سلفر بم استعمال کیے جو ہر چیز کو جلا دیتے ہیں۔ مسجد کے میناروں سے خاص طور پر کمانڈوز کو نشانہ بنایا جا رہا تھا اور کئی شہادتیں ہوئیں۔ لیکن مسجد کا گراؤنڈ فلور صاف کر دیا گیا۔ وہاں موجود 30 بچے اور خواتین دوڑ کر پاک فوج کی جانب آئیں جن کو فوراً محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ اس دن ایس ایس جی کے 30 زخمی ہونے والوں میں سے 19 دہشتگردوں کے پھینکے گئے گرنیڈوں سے زخمی ہوئے۔ اس دوران پاک فوج پر دو خود کش حملے بھی کیے گئے۔ جواب میں ایس ایس جی صرف ہاتھ میں لے جانے والے ہتھیاروں سے لڑ رہی تھی۔باقی رہ جانے والے دہشتگرد مسجد کے تہہ خانوں میں چلے گئے اور وہاں طالبات کو اپنی ڈھال بنا لیا۔ عبدالرشید نے آخری بیان دیا کہ ہمارے 30 مجاہدین ابھی باقی ہیں اور میری ماں زخمی ہے۔ حکومت ہمارے خلاف پوری طاقت استعمال کر رہی ہے۔ بیسمنٹ پر آپریشن شروع ہوا تو غازی عبدالرشید ہاتھ اٹھائے باہر نکلا۔ تب ان ک پشت پر فائرنگ کر کے اس کے ساتھیوں نے اس کو ہلاک کر دیا۔ بیسمنٹ میں موجود دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا گیا اور باقی رہ جانے والی طالبات کو ریسکیو کر لیا گیا۔ 11 جولائی کو مسجد دہشتگردوں سے صاف ہونے کا اعلان کر دیا گیا۔ اس آپریشن میں پاک فوج کے 11 جوان شہید اور 33 زخمی ہوئے۔ شہید ہونے والوں میں 10 ایس ایس جی کمانڈوز تھے جو پاکستان کی تاریخ میں کسی بھی آپریشن میں شہید ہونے والے کمانڈوز کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ 91 دہشتگرد ہلاک کیے گئے۔ ہلاک ہونے والے دہشتگردوں میں مصری، ازبک اور عرب بھی شامل تھے۔ 19 لاشیں ناقابل شناخت تھیں لیکن ان میں خاتون کوئی نہیں تھی۔ 3 جولائی سے 11 جولائی کے درمیان 628 مرد اور 465 خواتین اور 3 بچوں کو دہشتگردوں کے چنگل سے چھڑایا گیا۔ دہشتگردوں کے قبضے سے راکٹ لانچرز، دستی بم، اینٹی ٹینک شکن ہتھیار، نائٹ وژن گاگلز، بارودی سرنگیں، خود کش جیکٹیں، بم پروف جیکٹیں اور بڑی تعداد میں بندوقیں اور پستول برآمد ہوئے۔ 36 گھنٹے صرف ان بوبی ٹریپس کو صاف کرنے میں لگے جو دہشتگردوں نے مسجد میں لگائی تھیں۔ اس کے علاوہ مسجد سے ایمن اظواہری کے خطوط بھی برآمد ہوئے جن میں غازی برادران کو پاکستان کے خلاف مسلح جدوجہد شروع کرنے کی تلقین تھی۔ یہ آپریشن مسلسل 18 ماہ کے مزاکرات کے بعد کیا گیا تھا۔ 11 جولائی کو ایمن اظواہری نے پاکستان کے خلاف ایک ویڈیو بیان کے ذریعے اعلان جہاد کر دیا۔لال مسجد آپریشن کو جواز بنا کر پورے پاکستان میں دہشتگردوں اور ان کے حامیوں نے پاک فوج پر حملے شروع کر دئیے۔ پاکستان کے خلاف جہاد کو فرض قرار دیا۔ 12 اور 14 جولائی کو پاک فوج پر 3 خودکش حملے کیے گئے۔ 6 جولائی 2008 کو پولیس پر لال مسجد کے قریب ایک اور حملہ ہوا، کئی جانیں گئیں، جسے طالبان نے لال مسجد کے ہی تربیت یافتہ طلباء کا انتقام قرار دیا۔ لال مسجد کو 15 دن کے اندر اندر دوبارہ بنا کر نمازیوں کے لیے کھول دیا گیا۔ ہلاک ہونے والوں کے ورثا کے لیے معاؤضوں کا اعلان کیا گیا۔ قبضہ کر کے بنائی گئی جامعہ حفصہ کی جگہ متبادل جگہ دینے کا اعلان کیا گیا۔ آپریشن کے ایک ماہ بعد 16 اگست 2007ء کو سپریم کورٹ نے سوموٹو لیا کہ مسجد میں جنگ کر کے دہشتگردوں کو مارنا ماورائے عدالت قتل قرار دیا۔ اسی سوموٹو پر بدنام زمانہ چیف جسٹس افتخار چودھری نے لال مسجد آپریشن پر عدالتی کمیشن بنانے کا حکم دیا اور قتل ہونے والے دہشتگردوں کی طرف سے آپریشن کرنے والے کے خلاف مقدمات درج کرنے کا حکم دیا۔ افتحار چودھری تب سویا ہوا تھا جب لال مسجد والوں اپنی عدالت لگا کر پاکستان کی تمام عدالتوں کو کلعدم قرار دیا۔ زمینوں پر قبضے کیے اور لوگوں کو اغواء اور قتل کرنا شروع کیا۔ افتخار چودھری کے حکم پر وہ تمام طلباء کو ڈیٹا اور ضروری ضمانتیں لے بغیر رہا کر دیا گیا جن کے بارے میں اطلاع تھی کہ وہ وزیرستان سے تربت پاچکے ہیں۔ ان طلباء نے بعد میں پورے پاکستان میں خود کش حملے کیے۔ وکلاء لاہور بار کے صدر نے بھی لال مسجد والوں کے حق میں بیان دیا۔ لال مسجد والوں کے خلاف آپریشن کرنے پر اکتوبر 2013ء کو اسلام آباد ھائی کورٹ نے پرویز مشرف کو گرفتار کرنے کا حکم دیا۔ اسی طرح فروری 2016 کو ایک اور جج نے عبدالرشید کے قتل کے جرم میں پرویز مشرف کی گرفتاری کا حکم جاری کیا۔ وہی عبدالرشید جو ایک ماہ تک فوج سے جنگ کرنے کے اعلانات کرتا رہا۔ لال مسجد آپریشن کے مرکزی کردار اور سب سے بڑے فسادی مولانا عبدالعزیز کے خلاف جتنے بھی مقدمات محتلف عدالتوں میں چلائے گئے عدلیہ نے ان سب میں ان کو باعزت بری کر دیا۔لال مسجد کے حوالے سے پاکستانی میڈیا کا کردار انتہائی منفی رہا۔ پہلے مدرسہ کی طالبات اور ملاؤوں کی ایسی تشہیر کی گئی جیسے وہ بہت شیر دل ہیں۔ لڑکیوں کے انٹرویوز کیے جانے لگے۔ انہیں لگنے لگا کہ وہ درحقیقت میں کوئی انقلاب برپا کر رہے ہیں۔ جنگ اخبار نے پولیس والوں کو بکری اور لڑکیوں کو شیر کے روپ میں کارٹوں بنا کر شائع کیا۔ جب انہوں نے لوگوں کو مارنا اور اغواء کرنا شروع کیا، ایک کیمرہ مین مار دیا اور مارکیٹوں میں آگ لگانے لگے تو سارا میڈیا ریاست کی رٹ پر سوالات اٹھانے لگا۔ لیکن جب پاک فوج نے ہر حد تک صبر کر لینے کے بعد آپریشن کیا تو اسی میڈیا نے “لال مسجد کی بچیاں” کا راگ الاپنا شروع کر دیا۔ پرویز مشرف کو ایک ایسے بے رحم اور سفاک حکمران کی حیثیت سے پیش کرنا شروع کیا جس نے اپنے اقتدار کے دوام کی خاطر “معصوم” پچیوں کا قتل عام کیا۔ یہ پروپیگنڈہ اتنا زہر آلود تھا کہ جنرل پرویز مشرف بےچارہ ہزار صفائیاں اور ثبوت پیش کرنے کے بعد بھی آج تک اس الزام سے بری نہ ہوسکا۔ مشرف مخالف اینکر حامد میر نے کچھ عرصہ بعد انکشاف کیا کہ لال مسجد پر درحقیقت وہاں موجود دہشتگردوں کا کنٹرول تھا اور غازی برادران ان کے ہاتھوں میں یرغمال تھے۔ لال مسجد کمیشن کی رپورٹ کے مطابق لال مسجد اپریشن میں 103 افراد ہلاک ہوئے جن میں کوئی بھی خا تون نہیں تھی ۔92 افراد سویلین تھے جبکہ11 سیکورٹی اہلکار شہید ہوئے تھے۔ 16 افراد کی شناخت نہیں ہو سکی۔ 6 ماہ تک جاری رہنے والی اس انکوائری میں ہلاکتوں کے حو الے سے مختلف رپورٹیں جمع کروائی گئی تھیں جن کی روشنی میں کمیشن اس نتیجے پر پہنچا کہ لال مسجد اپریشن میں ہلاک ہونے والوں میں کوئی بھی خا تون شامل نہیں تھی۔ لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ لال مسجد اپریشن کو بنیاد بنا کر بہت سی سیاسی و مذہبی جماعتیں اپنی دوکانداری چمکاتی رہیں اور اگر یہ تسلیم کر لیتیں کہ کوئی خاتون یا بچی ہلاک نہیں ہوئی تو ان کا چورن کیسے بکتا؟ یاد رکھیں یہ مشرف مخالف جج افتخار چودھری کے حکم پر بنایا گیا عدالتی کمیشن تھا جس میں مشرف کا ہمدرد کوئی نہیں تھا لیکن مخالفین بہت سے تھے کیونکہ ان دنوں مشرف کے خلاف عدلیہ بحالی تحریک بھی چل رہی تھی۔ لال مسجد والوں کی جنگ اسلام کی نہیں زمین پر قبضے کی جنگ تھی۔ جسے میڈیا نے بڑھاوا دیا۔ اس جنگ کو اسلام کا نام دے کر پورے ملک میں آگ لگائی گئی۔ مزاکرات کی ناکامی وجہ سے وہ وزیرستانی دہشتگرد تھے جنہوں نے مسجد کا کنٹرول سنبھال لیا تھا اور وہ ہر صورت اپنی محفوظ واپسی چاہتے تھے۔ مسجد میں پڑھنے والے بچیوں کے بہت سے لواحقین نے بیان دیا تھا کہ ان کی بچیوں کو مسجد پر قابض دہشتگردوں نے زبردستی روکے رکھا اور بعض لواحقین کو مارا پیٹا بھی گیا۔ اس آپریشن میں کوئی بچی نہیں ماری گئی تھی۔ آج بھی لال مسجد والے ایچ 8 میں مزید زمین کے لیے ہی آئے دن ڈرامے کرتے رہتے ہیں اور کچھ عرصہ پہلے پھر فرما رہے تھے کہ اگر ہمیں ایچ 8 میں 20 کنال کا پلاٹ نہیں دیا گیا تو ہم دوبارہ ‘نفاذ شریعت’ کی مہم چلا دینگے۔ کل سے وہی فسادی ملا اسی چورن کے ساتھ دوبارہ سرگرم ہے۔ اس کے لیے ہمیں ہماری عدالتوں کا شکر گزار ہونا چاہئے۔

کھربوں روپے کی کرپشن کرنے والے فضل الرھمان اپنے بیٹے کو بچا رھے ھے جنھوں نے اربوں روپے کی کرپشن کی عمران خان حکومت گرانے کے بعد گورنر 5 وزارتیں ڈپٹی اسپیکر شپ خود وزیر اعظم کا جھاز استعمال کرتے رھے فضل الرھمان جنہوں نے مسجد کو شہید کیا ھے انکے ساتھ رابطے میں تھا اور مناسب نذرانہ عقیدت وصول کیا اپ کو یاد ھے مولانا غازی شہید کو جب شھید کیا تو مولانا فضل الرھمان نے کیا رول ادا کیا تھا وہ اپوزیشن لیڈر بھی تھے اور کے پی میں حکومت بھی انکی تھی اور ایک ھزار کنال زمین ڈی ای خان میں اس وقت کے ڈی جی ای ایس ای احسان سے لی تھی اب بھی 500 کنال اور گورنر شپ پر مک مکا ھے

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ٹریلرز نے مزید 10 افراد کو کچل دیا*کراچی: مائی کلاچی روڈ پر ٹریلر کی زد میں آنے سے خاتون سمیت 2 افراد جاں بحق ہوگئے۔پولیس حکام کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ٹریفک حادثات میں 10 افراد جاں بحق ہوئے جن میں ایک بچی، ایک بچہ اور 2 خواتین بھی شامل ہیں

*🔴کراچی: گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ٹریلرز نے مزید 10 افراد کو کچل دیا*کراچی: مائی کلاچی روڈ پر ٹریلر کی زد میں آنے سے خاتون سمیت 2 افراد جاں بحق ہوگئے۔پولیس حکام کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ٹریفک حادثات میں 10 افراد جاں بحق ہوئے جن میں ایک بچی، ایک بچہ اور 2 خواتین بھی شامل ہیں ۔پولیس کا کہنا ہےکہ مائی کلاچی پر ٹریلر کی زد میں آنے والا نوجوان اور خاتون ٹک ٹاکر تھے جو سی ویو سے واپسی پر حادثے کا شکار ہوئے۔دوسری جانب نیٹی جیٹی فلائی اوور پر بائیک سوار نوجوان ٹریلر کی زد میں آکر جان سے گیا۔ادھر گلستان جوہر انڈر پاس میں بھی تیز رفتار کار کی زد میں آکر ایک راہگیر بچی اور ایک لڑکی جان سے چلے گئے جب کہ احسن آباد میں ایک شخص کو ٹرک کے ٹائروں تلے روند دیا گیا۔پولیس کے مطابق اورنگی ٹاؤن سیکٹر ساڑھے 11 میں واٹر ٹینکر نے بچے کو کچل کر مار ڈالا، اورنگی ٹاؤن نمبر 5 میں بھی نامعلوم گاڑی کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار نوجوان جاں بحق ہوا ۔ پولیس کا بتانا ہے کہ سپر ہائی وے رینجرز ٹریننگ اسکول کے سامنے نامعلوم گاڑی کی سوزوکی موٹر سائیکل کو ٹکر کے نتیجے میں سوزوکی ڈرائیور موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔ مزید برآں ہاکس بے روڈ پر بھی ٹریفک حادثے میں عرفان نامی شخص جاں بحق ہوگیا۔

بلوچستان بھر میں امن و امان کے پیش نظر مزید 15 روز کیلئے دفعہ 144 نافذ*بلوچستان حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے دوران موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی ہوگی

*🔴بلوچستان بھر میں امن و امان کے پیش نظر مزید 15 روز کیلئے دفعہ 144 نافذ*بلوچستان حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے دوران موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی ہوگی، موٹرسائیکل چلاتے ہوئے چہرہ چھپانے پر بھی پابندی ہوگی۔صوبے بھر میں ہر قسم کے اجتماعات، 5 سے زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر بھی پابندی ہوگی، پابندی کااطلاق 31اگست تک ہوگا۔