Monthly Archives: August 2025
سیلاب کے بعد جب بونیر میں کفن کم ہونے پر دکانیں کھولنے کے اعلانات کروانے پڑے*خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع کی طرح ضلع بونیر میں بھی جب شدید سیلابی صورت حال پیدا ہوئی تو ہر طرف افراتفری پھیل گئی
*🔴سیلاب کے بعد جب بونیر میں کفن کم ہونے پر دکانیں کھولنے کے اعلانات کروانے پڑے*خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع کی طرح ضلع بونیر میں بھی جب شدید سیلابی صورت حال پیدا ہوئی تو ہر طرف افراتفری پھیل گئی۔ کہیں لوگ اپنوں کو بچانے میں مصروف تھے تو کہیں لاشیں نکالی جا رہی تھیں۔دن بھر یہ سلسلہ چلتا رہا تو ہسپتالوں سے پیغام پہنچایا گیا کہ اموات کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے اور ’کفن کے لیے کپڑا کم پڑ گیا ہے۔‘اس دوران بونیر ٹریڈ یونین فیڈریشن کے صدر فضل ربی نے بونیر کے تمام دکان داروں کو سوشل میڈیا کے ذریعے پیغام بھیجا کہ وہ اپنی دکانیں کھول کر ہسپتالوں میں کفن پہنچائیں۔فضل الٰہی بتاتے ہیں کہ ’ہمیں اطلاعات مل رہی تھیں کہ بڑی تعداد میں لوگ متاثر ہوئے ہیں اور اموات بڑھتی جا رہی ہیں جبکہ کفن کے لیے کپڑا نہیں تھا اس لیے ہم نے دکان داروں سے درخواست کی کہ وہ دکانیں کھول دیں۔‘

بونیر کے مرکزی بازار میں جمعے کو دکانیں بند ہوتی ہیں۔ اکثر دکان دار گھریلو مصروفیات کی وجہ سے دکان نہیں کھول پاتے جبکہ گذشتہ روز سیلابی صورتحال کے بعد ان کے لیے آنا محال ہوگیا تھا۔بونیر کی ٹریڈ یونین فیڈریشن کے صدر فضل ربی خود بھی اس وقت پشاور میں تھے۔ وہ جب پشاور پہنچے تو انہیں اطلاع ملی کہ سیلاب کی وجہ سے اموات میں اضافے کا خدشہ ہے تاہم ضلع بھر میں کفن کی شدید قلت ہے۔انہوں نے سیلاب کے پہلے روز کے حوالے سے اردو نیوز کو بتایا کہ ’مجھے خبر ملی کہ سانحے کے شکار افراد کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ کفن کا کپڑا ختم ہو چکا ہے۔ میں نے سوشل میڈیا پر اپیل کی کہ دکان دار اپنی دکانیں کھولیں اور کفن کے لیے کپڑا پیر بابا ہسپتال پہنچائیں۔‘میں نے وعدہ کیا کہ ’اخراجات میں خود ادا کر دوں گا۔ اس اپیل کے بعد جو منظر سامنے آیا وہ پاکستانی معاشرے کی یکجہتی اور انسانیت کی ایک روشن مثال ہے۔‘ان کے مطابق دکان داروں نے نہ صرف فوری طور پر دکانیں کھولیں اور کپڑا فراہم کیا بلکہ ایک بھی دکاندار نے اس کے بدلے پیسوں کا مطالبہ نہیں کیا۔فضل ربی بتاتے ہیں کہ ’یہ ہمارے معاشرے کی خوبصورتی ہے کہ مصیبت کے وقت سب ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ کسی نے ایک روپیہ بھی نہیں مانگا۔‘گذشتہ 48 گھنٹوں میں شدید بارشوں اور فلیش فلڈز نے خیبر پختونخوا کے اس خوبصورت خطے کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق ان بارشوں اور سیلابی ریلوں نے صوبے بھر میں 307 زندگیاں نگل لیں جن میں 279 مرد، 15 خواتین اور 13 بچے شامل ہیں۔علاوہ ازیں 23 افراد زخمی ہوئے جن میں 17 مرد، 4 خواتین اور 2 بچے ہیں۔ صوبے بھر میں 74 گھروں کو نقصان پہنچا جن میں سے 63 جزوی طور پر متاثر ہوئے اور 11 مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔سب سے زیادہ تباہی ضلع بونیر میں ہوئی جہاں 184 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ بونیر کی تحصیل چغرزی میں گنشال وادی اپنی سرسبز چٹانوں اور پرسکون فضا کی وجہ سے مشہور ہے۔گنشال کے گنبت گاؤں کے قریب لینڈ سلائیڈنگ اور سیلابی ریلوں نے کئی خاندانوں کو ملبے تلے دبا دیا۔عامر زیب باچا خود اس سانحے کا شکار ہوئے ہیں۔ وہ گنشال میں رہتے ہیں اور محکمہ پولیس سے وابستہ ہیں۔وہ اپنی داستان سناتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’میرے والد، چار بہنیں، ایک چچا، دو چچیاں، ایک بھابھی، ایک کزن اور اس کی بیگم سمیت 22 افراد سیلاب کی نذر ہو گئے۔ اب تک ہم صرف 15 کی لاش نکال پائے ہیں اور باقیوں کو تلاش کر رہے ہیں، ہمیں کوئی سراغ نہیں مل رہا۔‘عامر زیب کے مطابق انہوں نے اپنے خاندان کے 8 زخمیوں کو بھی نکال لیا ہے تاہم گھروں کے نشان مٹ گئے ہیں۔وہ اپنے خاندان کے متعلق بتاتے ہیں کہ ’ہمارا خاندان دو مقامات پر رہائش پذیر تھا۔ گنشال کے اس مقام پر چھ گھر تھے۔ ان میں سے چار گھر مکمل طور پر غائب ہو چکے ہیں جبکہ دو کے محض آثار باقی ہیں۔ مقامی لوگ اپنی مدد آپ کے تحت ریسکیو آپریشن کر رہے ہیں کیونکہ سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے امدادی ٹیمیں بروقت نہیں پہنچ پا رہیں۔‘تحصیل چیئرمین چغرزی شریف خان بھی گذشتہ 24 گھنٹوں سے اپنے علاقے میں لوگوں کے پاس موجود ہیں اور ریسکیو آپریشن میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔وہ چغرزی میں سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں سے متعلق بتاتے ہیں کہ ’اب تک ہمارے پاس جو اعداد و شمار ہیں ان کے مطابق صرف یو سی گلبانڈئی میں 40 افراد کی موت ہو چکی ہے جبکہ متعدد اب بھی لاپتہ ہیں۔ گنشال میں صرف ایک خاندان کے 22 افراد کے لاپتہ ہونے کی تصدیق ہوئی ہے اور ریسکیو آپریشن میں ضلعی انتظامیہ، ٹی ایم اے، اور مقامی رضاکار سب شامل ہیں۔‘پی ڈی ایم اے کے مطابق یہ حادثات سوات، بونیر، باجوڑ، تورغر، مانسہرہ، شانگلہ اور بٹگرام میں پیش آئے ہیں۔محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ شدید بارشوں کا سلسلہ 21 اگست تک جاری رہ سکتا ہے۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی ہدایت پر متاثرہ اضلاع کے لیے 50 کروڑ روپے کے امدادی فنڈز جاری کیے گئے ہیں جن میں سے 15 کروڑ روپے بونیر کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔
خدا نے مجھے ملک کا محافظ بنایا ہے مجھے اس کے علاوہ کسی عہدے کی خواہش نہیں، آرمی چیف سید عاصم منیرمیں ایک سپاہی ہوں اور میری سب سے بڑی خواہش شہادت ہے، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر
پاکستان کے پاس نایاب زمینی خزانہ ہے اس خزانے سے پاکستان کا قرضہ بھی اتر جائے گا اورپاکستان کا شمار جلد ہی خوشحال ترین معاشروں میں ہونے لگے گا، آرمی چیف سید عاصم منیراگلے سال سے ریکوڈک سے ہر سال 2 ارب ڈالر کا خالص منافع ہوگا اور جو ہر سال بڑھتا جائیگا، آرمی چیف سید عاصم منیر
آپریشنز کو کامیاب بنانے کیلئے عوام کی مدد ضروری ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر۔۔سیلاب کے بعد جب بونیر میں کفن کم ہونے پر دکانیں کھولنے کے اعلانات۔۔بونیر میں شہدا کی تعداد زیادہ کفن کم۔۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز













اسٹیٹ بینک کے احکامات کھوہ کھاتے میزان بینک بحریہ ٹاؤن کی برانچ بند سٹاف غائب عملہ چھٹیوں پر حجاج رل گئے
مجیب الرحمٰن شامی کو 40کروڑ کا قرضہ معاف کرانے پر تمغہ امتیاز سے نوازا گیا ،۔۔کلاؤڈ برسٹ اور لینڈ سلائیڈنگ نے دنیا میں تباھی مچا دی ھے-*بونیر کے علاقے پیر بابا میں سیلاب کے باعث 75 افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جن میں 25 خواتین اور 18 بچے شامل ہے۔۔۔۔*خیبرپختونخوا میں طوفانی بارش اور سیلابی صورتحال کے مطابق مرنے والوں کی تعداد 153 سے زائد ہونے کا امکان۔۔*بونیر ۔۔۔۔ پاک افواج سیلابی علاقے میں پہنچ گئی ہیں ، انہوں نے امدادی کاروائی شروع ہوگئی۔۔سوات میں ایک گھر مکمل طور پر سیلابی ریلے میں بہہ گیا تفصیلات بادبان ٹی وی پر

لال مسجد آپریشن اور غازی عبدالرشید۔ اظہر سیدلال مسجد آپریشن کی بازگشت دارالحکومت کی فضاؤں میں سنائی دے رہی تھی ۔قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ابھی ناکہ بندی شروع نہیں کی تھی۔مولوی عبدالرشید نے صحافیوں کی ملاقاتیں ممکن تھیں لیکن پہلے فون پر انٹرویو دینا ہوتا تھا پھر مسجد کے اندر جانے کی اجازت ملتی تھی۔ بڑی تعداد میں بچیاں اور کم عمر بچے مسجد میں موجود تھے ۔ہم بلیو ایریا روزنامہ جنگ کے بیورو آفس میں بیٹھتے تھے ۔تقریبا روز ہی لال مسجد جاتے ۔غصے اور جذبات سے بھری طالبات اور بچوں سے بات کرتے۔ہمیں پتہ تھا آپریشن ہونا ہے اور ان بچوں میں سے بیشتر آپریشن کی بھینٹ چڑھ جائیں گے۔ایک سات سالہ معصوم چہرے والا خوبصورت پختون بچہ ہمیں روزانہ اپنی کالے برقعہ میں ملبوس نقاب پوش بہن کے ساتھ مسجد کے باہر سڑک پر نظر اتا۔ہم نے ایک روز اسکی بہن کو کہا دو تین روز میں کاروائی شروع ہو جائے گی ۔تم اپنے بھائی کو لے کر واپس بنوں اپنے گھر چلی جاؤ ۔تمہاری واپسی کا سارا بندوبست ہم کر دیتے ہیں۔بچوں کے معصوم زہین کفر اسلام کی جنگ کے نام پر اسقدر آلودہ کر دئے گئے تھے اس بچی نے غصہ سے صاف انکار کر دیا۔مسجد کے منتظمین ان بچوں اور بچیوں کو ہیومین شیلڈ بنائے ہوئے تھے ۔مولوی عبدالرشید اور مولوی عبد العزیز کو یقین تھا مدرسہ میں بڑی تعداد میں بچے اور بچیوں کی موجودگی میں آپریشن نہیں ہو گا ۔ہمیں کسی سورس سے پتہ چلا اگلے چوبیس گھنٹے میں آپریشن شروع ہو جائے گا اور چند گھنٹے بعد علاقہ میں نقل و حمل بند کر دی جائے گی ۔ہم نے اطلاع ملتے ہی مولوی عبدالرشید کو فون کیا اور ملنے کی اجازت چاہی ۔مولوی نے کہا ابھی آجاؤ بعد میں مصروفیت زیادہ ہے۔ہم اگلے دس منٹ میں مولوی صاحب کے سامنے تھے ۔ہم نے مولوی صاحب سے درخواست کی کہ بنوں کے گل زمان نامی سات سالہ بچے کو چند گھنٹے کیلئے اپنے گھر لیجانا چاہتے ہیں۔اسکی شکل میرے بیٹے سے بہت ملتی ہے

۔اپنے گھر والوں سے ملانا ہے ۔اپ مدرسہ کا کوئی لڑکا ساتھ بھیج دیں دو گھنٹے بعد واپس لے آؤں گا ۔ہمیں آج بھی یاد ہے مولوی عبدالرشید نے چند سیکنڈ بڑے غور سے ہمیں دیکھا اور پھر صاف انکار کر دیا۔ہم نے آخر میں مولوی صاحب کو صاف صاف بتا دیا آپریشن شروع ہونے والا ہے یہ بچہ مارا جائے گا ہم اسے بچانا چاہتے ہیں لیکن مولوی صاحب ٹس سے مس نہ ہوئے الٹا کمرے میں موجود لڑکوں کو کہا اسے باہر چھوڑ او۔اگلے دن آپریشن شروع ہو گیا۔مولوی رشید مارا گیا۔مولوی عزیز طالبات کے برقعہ میں طالبات کے ساتھ فرار ہوتے پکڑا گیا۔آپریشن کے دوران انتظامیہ نے بہت ساری بچیوں اور بچوں کو بچ کر نکل جانے کا موقع فراہم کیا ۔ہماری گنتی کے مطابق تین چار سو بچیاں ،بچے،خواتین آپریشن کے دوران محفوظ راستے سے نکل آئیں ۔لیکن گل زمان اور اسکی بہن ہمیں بچ جانے والوں میں نظر نہیں ائے۔ہم نے بعد ازاں اسلام آباد انڈسٹریل ایریا کے ایک کولڈ سٹوریج کو بھی دیکھا جہاں ڈیڈ باڈیز رکھی گئی تھیں وہاں بھی گل زمان نہیں ملا۔ہم آج بھی سمجھتے ہیں وہ سات سالہ بچہ اور اسکی بہن اگر آپریشن میں مارے گئے تھے تو اسکا زمہ دار مولوی عبدالرشید اور مولوی عبد العزیز تھے جنہوں نے زیر تعلیم بچوں کو بطور ہیومین شیلڈ استمال کیا ۔

*خیبرپختونخوا میں سیلابی صورتحال کے پیش نظر وزیراعظم شہبازشریف کا اہم فیصلہ**وزیراعظم شہبازشریف نے چئیرمین این ڈی ایم اے کو خیبرپختونخوا میں امدادی کارروائیاں تیز کرنے کا حکم دے دیا**خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں پاک آرمی امدادی کاروائیوں میں لگی ہوئی ہے*

مقام چینگئ بانڈہ کے قریب سوکئی میں سرکاری ہیلی کاپٹر ملبہ ملا گیا ہے حادثے کے نتیجے میں دو پائلیٹ سمیت عملے کے پانج افراد شہید ہوئے، صوبائی حکومت کل سوگ کا منانے کا اعلان کیا ہے ، کل صوبے بھر میں قومی پرچم سرنگوں رہے گاl

*چنیوٹ جشن آزادی پر ڈنڈوں کا آزادانہ استعمال**چنیوٹ سرگودھا روڈ چُنگی پر رکشہ ٹیکس کی وصولی والا عملہ گُھنڈا گردی میں عروج پکڑنے لگا*رکشہ ڈرائیور پر ڈنڈوں کی بارش کر دیرکشہ ڈرائیور دُہائی کرتا رہا کہ میں نے صبح پرچی لی ہے اُس کے ہاتھ سے پرچی چھین کر پھاڑ دی گئی نئی پرچی خریدنے پر زور دیا گیا اور چلتے رکشہ پر ڈنڈوں کی برسات جاری رہی رکشہ میں بیٹھی سواریوں کو بھی زخمی کردیا گیا کہاں گئی انتظامیہ کہاں گئے ٹھیکہ دار ان کو ہلہ شیریں دینے والے خُدا کے بندے بنو بندوں کے خُدا نہ بنو چنیوٹ میں حسب طاقت ہر کوئی فرعوں بنا ہوا ہے چنیوٹ میں انصاف کیلئے اگر کوئی دروازہ کُھلا ہے تو رکشہ ڈرائیور کھٹکھٹانے کیلئے منتظر ہے کمشنر فیصل آباد میڈم مریم خان صاحبہڈپٹی کمشنر چنیوٹ صفی اللہ گوندل صاحباسسٹنٹ کمشنر چنیوٹ اشفاق رسول صاحب خدارا چنیوٹ کی عوام پر رحم کیا جائے ایسے ناخوشگوار واقعات کی روک تھام کے لئے عملی اقدامات کئے جائیں تاکہ چنیوٹ ضلع میں امن کی فضاء قائم رہ سکے عوامی مطالبہ 🙏🏼
فلڈ ریلیف آپریشن*بونیر، سوات اور باجوڑ میں پاک فوج / فرنٹیئر کور کا فلڈ ریلیف آپریشن جاری پاک فوج کی ٹیمیں سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف

***- فلڈ ریلیف آپریشن*بونیر، سوات اور باجوڑ میں پاک فوج / فرنٹیئر کور کا فلڈ ریلیف آپریشن جاری

پاک فوج کی ٹیمیں سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف

پاک فوج کے ہیلی کاپٹرز میں راشن اور دیگر سامان مہیا کیا جا رہا ہے اور سیلاب زدہ علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے

پاک فوج کے مزید دستے بھی ریلیف آپریشن میں حصہ لینے کے لیے روانہتمام متاثرہ افراد کو بحفاظت ریسکیو کرنے اور محفوظ مقامات پر منتقل کرنے تک آپریشن جاری رہے گا
آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، ہلال جرات، نشان امتیاز (ملٹری) کی صوبہ خیبر پختونخوا میں سیلاب سے متاثرہ عوام کی بحالی سے متعلق خصوصی ہدایاتپاک فوج نے ایک دن کی تنخواہ خیبر پختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ عوام کی بحالی کے لئے وقف کر دیپاک فوج نے اپنا ایک دن کا راشن جو تقریباً 600 ٹن سے زیادہ بنتا ہے، خیبر پختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ عوام کی امداد کے لئے مختص کر دیا
آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، ہلال جرات، نشان امتیاز (ملٹری) کی صوبہ خیبر پختونخوا میں سیلاب سے متاثرہ عوام کی بحالی سے متعلق خصوصی ہدایاتپاک فوج نے ایک دن کی تنخواہ خیبر پختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ عوام کی بحالی کے لئے وقف کر دیپاک فوج نے اپنا ایک دن کا راشن جو تقریباً 600 ٹن سے زیادہ بنتا ہے، خیبر پختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ عوام کی امداد کے لئے مختص کر دیاخیبر پختونخوا میں تعینات فوج سیلاب سے متاثر عوام کی بحالی میں بھرپور مدد کرے گی, سیکیورٹی ذرائع اس سلسلے میں اضافی فوجی دستے بھی بھیجے جا رہے ہیں، سیکیورٹی ذرائع آرمی چیف نے کور آف انجینئرز کو خصوصی ہدایات جاری کر دی ہیں کے پلوں کی مرمت کا کام جلد مکمل کرے، جہاں ضروری ہے عارضی پل قائم کیے جائیں، سیکیورٹی ذرائع آرمی کے نائن یونٹ کے ریسکیو سنیفنگ ڈاگ یونٹ کو بھی سرچ اینڈ ریسکیو کے لئے بھیجا جا رہا ہے، سیکیورٹی ذرائع آرمی کی خصوصی اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم بھی آرمی چیف کی ہدایت پر تعینات کر دی گئی ہے، سیکیورٹی ذرائع پاک فوج کے ہیلی کاپٹر اور آرمی آیویشن کو پہلے سے ہی خیبر پختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ عوام کی بحالی کے لئے تعینات کر دیا گیا ہے، سیکیورٹی ذرائع
وفاقی حکومت چینی میں 400 ارب روپے کی کرپشن کرنے کے بعد 300 ارب روپے کی مزید کرپشن کے لئے 86 ھزار میٹرک ٹن کرپشن کے لئے تیار
وزارت غذآئی تحفظحکومت پاکستانملک میں چینی کی طلب پوری کرنے اور قیمتوں میں استحکام کے پیش نظر 85 ہزار میٹرک ٹن چینی کی درآمد کے لئے سوکار (SOCAR) کے ذریعے لیٹر آف کریڈٹ (ایل سیز) قائم کر دیئے گئےیہ تمام ایل سیز باضابطہ طور پر کھولے اور متعلقہ بینکوں کے ذریعے ترسیل کر دی گئی ہیںسوکار کے ساتھ طے پانے والے تجارتی معاہدے کے تحت چینی کی یہ کھیپ مرحلہ وار پاکستان پہنچائی جائے گیپہلی کھیپ آئندہ چند ہفتوں میں بندرگاہ پر پہچنے کی توقع ہےحکومت نے یہ اقدام اندرون ملک چینی کے ذخائر میں اضافے اور مستقبل میں کسی ممکنہ قلت یا قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے بچاؤ کے لئے کیا ہےمنصوبے کے تحت درآمدی چینی کو اوپن مارکیٹ میں رعایتی نرخوں پر عوام تک پہنچایا جائے گا85 ہزار میٹرک ٹن چینی کی درآمد سے مارکیٹ میں سپلائی کا تسلسل برقرار رہے گادرآمدی چینی معیار کے عالمی تقاضوں پر پورا اترنے اور مقررہ مدت میں پاکستان پہنچنے کو یقینی بنایا جائے گا
*پنجاب حکومت نے سرکاری سکولوں سے 43960 اساتذہ کی آسامیاں ختم کر دی**ایس ایس ای/ ایس ایس ٹی (گریڈ 16) کی 53 آسامیاں ختم کی گئی**
*پنجاب حکومت نے سرکاری سکولوں سے 43960 اساتذہ کی آسامیاں ختم کر دی**ایس ایس ای/ ایس ایس ٹی (گریڈ 16) کی 53 آسامیاں ختم کی گئی**ایس ای ایس ای/ ای ایس ٹی (گریڈ 15) کی 283 آسامیاں ختم کی گئی**ای ایس ای/ پی ایس ٹی (گریڈ 14) کی 43624 آسامیاں ختم کی گئی سرکاری سکولوں کو پرائیویٹ اداروں اور این جی اوز کے حوالے کرنے کے منصوبے پر تیزی سے عمل درآمد جاری ذرائع*









