ہمیں ہتھیاروں اور فوج کی ضرورت نہیں،یواےای وضاحت چاہتا ہے کہ مشکل وقت میں کن ممالک پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے.مشیر اماراتی ۔۔بلاول بھٹو اور شھباز شریف ملاقات رزلٹ صفر۔۔امبرین جان شکنجے میں۔ ھای کورت ان ایکشن۔۔چئیرمین پیمرا کی سیٹ خطرے میں تعیناتی کالعدم قرار دی جا سکتی ہے۔۔۔پاکستان اور موجودہ شھباز حکومت اکھٹھے نھی چل سکتے۔۔72 گھنٹے دنیا تیسری عالمی جنگ کی طرف گامزن۔۔دنیا اختتام کے قریب سب کچھ ختم ھونے والہ ھے ایران نے جنگ بندی کو یکسر مسترد کر دیا۔۔۔۔امریکہ پر اعتماد نھی اسرائیل کو ھم ختم کرینگے مجتبی خمینی۔عربوں سے کوی شکایت نھی و ہ جو کام کر رھے انھیں کرنے دے۔۔اسرائیل پر جوابی حملے مزید شدت ائیگی ھم مارے گئے یا مر جائنگے مجتبی خمینی رپورٹ سھیل رانا۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

خطے کی کشیدہ صورتحال اور قومی سلامتی کے معاملات پر وزیراعظم شہباز شریف اور چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کے درمیان اہم ملاقات ہوئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ملاقات میں خطے کی کشیدہ صورتحال کے پیش نظر کیے گئے اقدامات پر بات چیت کی گئی اور وزیراعظم نے ایران امریکا جنگ میں پاکستان کے سفارتی کردار پر بلاول بھٹو زرداری کو اعتماد میں لیا،

ملاقات میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، وزیراعلی

بلوچستان سرفراز بگٹی بھی شریک تھے، دونوں وزرائ اعلیٰ نے وزیراعظم کو صوبوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن سے متعلق حکمت عملی پر بریفنگ دی۔ رپورٹس کے مطابق ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، ملاقات میں وزیراعظم کے ہمراہ حکومتی وزراء

سعودی وزارت داخلہ نے ویزوں کی میعاد سے متعلق نئی سہولت کا اعلان کیا ہے۔حکام کے مطابق جن افراد کے ویزوں کی مدت 25 فروری تک تھی، وہ مقررہ فیس ادا کرکے 18 اپریل تک مملکت میں قیام کر سکتے ہیں۔وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ایسے افراد جن کے ویزوں کی میعاد 25 فروری کو ختم ہو چکی ہے، وہ بغیر کسی اضافی فیس کے مملکت کی بین الاقوامی گزرگاہوں سے روانہ ہو سکتے ہیں۔سعودی حکام کے مطابق یہ سہولت عمرہ، ٹرانزٹ اور وزٹ ویزوں کے حامل افراد کے لیے دستیاب ہوگی، جو 18 اپریل تک اس پیشکش سے فائدہ اٹھا سکتے

اپنے بچوں کو 10 سال کی عمر سے ہی بتانا شروع کر دیں کہ اس دنیا کا نظام غیر منصفانہ ہے ، ان سے جھوٹ نہ بولیں کہ وہ اس دنیا میں جو چاہیں گے انہیں مل جاۓ گا یا ان کی تعلیم ان کو اعلی مقام تک لے جائیگی بلکہ انہیں ایک غیر منصفانہ نظامِ زندگی کے لیئے تیار کریں

تاکہ جب وہ پریکٹیکل لائف میں آئیں تو انہیں اس بات کا پوری طرح ادراک ہو کہ انہہوں نے اس غیر منصفانہ نظام سے اپنی صلاحیتوں کے مطابق اپنا حصہ کیسے وصول کرنا ہے

ٹرمپ کی نظر میں خلیجی معاشروں کی اہمیت نہیں ہےقطری رہنما نايف بن نهار کی تنقید خارجہ پالیسی: واشنگٹن ممکنہ طور پر سارے الزامات اسرائیل پر ڈال کر خود کو اس جھال سے نکالنے کی کوشش کرسکتا ہے۔۔ایران نے پوری دنیا کی اسٹیبلیشمنٹ کو ننگا کر دیا۔مذاکرات نہیں کرنیگی ایران نے اسرائیل پر میزائل کا 80 واں لہر کے آغاز کر دیا۔۔میں ڈونلڈ ٹرمپ سے زیادہ ایران پر یقین کرتا ہوںسی آئی اے کے سابق سربراہ جان برینن کا حیران کن بیان۔۔ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئے چار سال ہوگئے۔ اس عرصہ میں عوام کو کیا حاصل ہوا؟ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

درج ذیل افسران کو غیر معمولی جرات، نمایاں بہادری اور مشکل حالات میں فرض سے غیر متزلزل وابستگی کے اعتراف میں ستارۂ بسالت سے نوازا گیا:میجر عدنان اسلم (شہید)135 ایل/سی – سابق 29 ایف ایف – 6/5 کمانڈو بٹالینمیجر سبتین حیدر (شہید)133 ایل/سی – سابق 4 پی آرمیجر حمزہ اسرار (شہید)133 ایل/سی – سابق 22 ایف ایفکیپٹن حسنین اختر (شہید)143 ایل/سی – سابق 8 میڈ آرٹی – 3 کمانڈو بٹالینان کی عظیم قربانیاں اور جرات مندانہ کارنامے بہادری، عزت اور وطن سے وفاداری کی

ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئے چار سال ہوگئے۔ اس عرصہ میں عوام کو کیا حاصل ہوا؟ تباہ کن مہنگائی، بے تحاشا بیروزگاری، صحت انشورنس کا خاتمہ، میڈیا اور آزادی اظہار پر پابندیاں، دہشت گردی میں اضافہ، ملک سے تعلیم یافتہ افراد کا انخلا۔

اصل میں کیا ھونے والہ ھے پاکستان عربوں کی سیاست میں پاکستان سعودی عرب سے 100 ارب ڈالر لے گا دفاع کے لئے امریکہ جنگ ھار چکا ہے اس سے قرضہ معاف کرواے گا پاکستان کا عرب امارات بحرین اور قطر اپنی آزادی کی بھیک مانگ رھے ھے ان سے 300 ارب ڈالر لے گا یا 31مارچ تک پٹرول اور ڈیزل کی پرانے ریٹس پر خریدی ھوی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرکے ایک ھزار ارب روپے کا نفع حکمرانوں کے فرنٹ مینوں کی جیب میں گیا ھے تفصیلات کے لیے سھیل رانا لاءیو لندن سے تفصیلات کے لیے کلک کرے

صدر صاب ، پنڈی سے فون آیا ہے !!فون بجا ۔۔۔ بائیس مارچ دو ہزار چھبیس، اتوار کی رات۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے حوالے سے فون کیا۔ فنانشل ٹائمز نے آج تیئس مارچ کو یہ خبر دو ایسے ذرائع کے حوالے سے بریک کی ہے جنھیں اس گفتگو کی تفصیلات بتائی گئیں۔ ٹائمز آف اسرائیل نے فنانشل ٹائمز کے حوالے سے رپورٹ دہرائی: پاکستان نے خود کو امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ ختم کرانے کے لیے بنیادی ثالث کے طور پر پیش کیا ہے۔ فنانشل ٹائمز، سن یا مرر نہیں ہے، اگر وہ کچھ چھاپتا ہے تو توجہ دینی بنتی ہے. تیئس مارچ دو ہزار چھبیس۔ یہ تاریخ یاد رکھیں کہ اس دن کا تاریخ کا حصہ بننے کا چانس ہے. آج صبح ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بڑے حرفوں میں لکھا: “میں نے محکمہ جنگ کو ہدایت دی ہے کہ ایرانی بجلی گھروں اور توانائی ڈھانچے پر تمام فوجی حملے پانچ دن کے لیے ملتوی کر دیے جائیں۔” بلومبرگ، سی این این، الجزیرہ، این پی آر سب نے تصدیق کی۔ ٹرمپ نے صحافیوں سے کہا کہ گزشتہ دو دنوں میں ایران کے ساتھ “بہت اچھی اور نتیجہ خیز بات چیت” ہوئی ہے اور دونوں فریقین “معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔” کہا کہ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکاف اور جیرڈ کشنر نے اتوار کی شام ایرانی فریق کی ایک “اعلیٰ شخصیت” سے گفتگو کی۔ بنیادی مطالبہ: ایران یورینیم افزودگی بند کرے۔ سی این بی سی کو بتایا: “ہم معاہدے کے بہت قریب ہیں۔”ٹرمپ نے ہفتے کو اڑتالیس گھنٹے کی مہلت دی تھی۔ آبنائے ہرمز کھولو ورنہ بجلی گھر تباہ کر دیں گے۔ مہلت آج شام ختم ہونی تھی۔ مگر حملے ملتوی ہو گئے۔ تیل کی قیمتیں فوری طور پر گریں۔ عالمی منڈیوں میں ابھار آیا۔ایران نے فوراً تردید کی۔وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ایرنا کو بتایا: “گزشتہ چند دنوں میں بعض دوست ممالک کے ذریعے پیغامات موصول ہوئے تھے جن میں کہا گیا کہ امریکہ جنگ ختم کرنے کے لیے مذاکرات چاہتا ہے۔ لیکن ایران نے جواب نہیں دیا۔ گزشتہ چوبیس دنوں میں امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات یا بات چیت نہیں ہوئی۔”

مجلس کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے مزید سخت لہجے میں ایکس پر لکھا: “امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوئے۔ یہ جھوٹی خبریں تیل اور مالیاتی منڈیوں میں ہیرا پھیری اور امریکہ اور اسرائیل کو جس دلدل میں پھنسے ہیں اس سے نکالنے کے لیے پھیلائی جا رہی ہیں۔”لیکن ایرانی ترجمان کا ایک جملہ پکڑو۔ “دوست ممالک کے ذریعے پیغامات موصول ہوئے۔”یہ “دوست ممالک” کون ہیں؟سی این این کے مطابق ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے اڑتالیس گھنٹوں میں درجن بھر سے زائد فون کالز کیں۔ ایرانی وزیر خارجہ سے بات کی۔ مصری وزیر خارجہ سے بات کی۔ قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سے بات کی۔ سعودی وزیر خارجہ سے بات کی۔ پاکستانی عہدیداروں سے بات کی۔ مصر اور ناروے کی قیادت سے بات کی۔ سی این این نے لکھا: “بات چیت سے واقف افراد کے مطابق ترکی اور مصر دونوں نے فریقین کے درمیان پیغامات پہنچائے ہیں۔”مگر فنانشل ٹائمز نے لکھا کہ “بنیادی ثالث” پاکستان ہے۔ روایتی ثالث عمان اور قطر اس وقت کم فعال ہیں۔اب سوال یہ ہے: پاکستان یہ کردار کیسے ادا کر سکتا ہے؟ اس کی بنیاد سمجھنا ضروری ہے۔پہلی بنیاد: رسائی۔پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس کی بیک وقت واشنگٹن، تہران اور ریاض تینوں تک رسائی ہے۔ واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے کا ایک حصہ باقاعدہ طور پر ایرانی مفادات کی نمائندگی کرتا ہے کیونکہ ایران اور امریکہ کے درمیان انیس سو اناسی سے سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ یعنی جب ایران کو امریکہ تک کوئی پیغام پہنچانا ہو تو ایک راستہ اسلام آباد سے ہو کر جاتا ہے۔ مسلم نیٹ ورک ٹی وی کو ایک پاکستانی سینئر سفارتکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا: “پاکستان روایتی ثالثوں کی جگہ لینے کی کوشش نہیں کر رہا۔ وہ ایک ایسے وقت میں پل بننے کی کوشش کر رہا ہے جب اعتماد کا بحران شدید ہے اور رابطے کے ذرائع بکھرے ہوئے ہیں۔

” اس نے مزید کہا: “پاکستان کو یہاں جو چیز متعلقہ بناتی ہے وہ رسائی ہے۔ فوجی سطح پر اور سیاسی سطح پر دونوں فریقوں تک۔”دوسری بنیاد: عاصم منیر کا ذاتی رشتہ ٹرمپ کے ساتھ۔جون دو ہزار پچیس۔ مئی کے پاک بھارت تصادم کے بعد ٹرمپ نے عاصم منیر کو وائٹ ہاؤس بلایا۔ کابینہ روم میں ظہرانہ۔ پھر اوول آفس میں ملاقات۔ ایک گھنٹے کی طے شدہ ملاقات دو گھنٹے سے تجاوز کر گئی۔ ٹرمپ کے ساتھ وزیر خارجہ مارکو روبیو اور مشرق وسطیٰ کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکاف تھے۔ عاصم منیر کے ساتھ صرف قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک تھے۔ کوئی سویلین وزیر نہیں۔ کوئی سفیر نہیں۔ امریکی تاریخ میں پہلی بار کسی صدر نے پاکستانی فوجی سربراہ کو سویلین قیادت کے بغیر تنہا وائٹ ہاؤس میں بلایا تھا۔ ٹرمپ نے صحافیوں سے کہا: “عاصم منیر سے ملنا میرے لیے اعزاز ہے۔ میں نے انھیں شکریہ ادا کرنے کے لیے بلایا ہے کہ انھوں نے جنگ نہیں کی۔” پھر کہا: “وہ ایران کو ہم سے بہتر جانتے ہیں۔ وہ ایران کے بارے میں کچھ بھی خوش نہیں ہیں۔ اس (عاصم منیر) نے میری بات سے اتفاق کیا۔”ڈان اخبار نے لکھا کہ ملاقات “تلاشی” نوعیت کی تھی، حتمی نہیں۔ مگر ٹرمپ کے لیے یہ حکمت عملی تھی۔ اسرائیل ایرانی ایٹمی تنصیبات پر امریکی شمولیت چاہتا تھا۔ ٹرمپ ایسا شراکت دار ڈھونڈ رہا تھا جو قریب ہو اور جس کے پاس انٹیلی جنس کی گہرائی ہو۔تیسری بنیاد: سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ۔ستمبر دو ہزار پچیس۔ ریاض کے الیمامہ محل میں ولی عہد محمد بن سلمان اور وزیر اعظم شہباز شریف نے اسٹریٹیجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ عاصم منیر ساتھ تھے۔ بنیادی شق: “کسی بھی فریق پر جارحیت دونوں پر جارحیت تصور ہو گی۔” نیٹو کی شق پانچ جیسی زبان۔ یہ معاہدہ اس لیے ہوا کیونکہ ستمبر دو ہزار پچیس میں اسرائیل نے دوحہ پر حملہ کیا تھا جو خلیجی تعاون کونسل کے کسی رکن ملک پر پہلا حملہ تھا اور خلیجی ممالک کا امریکی حفاظتی ضمانتوں پر اعتماد ڈگمگا گیا تھا۔اٹھائیس فروری دو ہزار چھبیس۔ جنگ شروع ہوئی۔ ایران نے جوابی حملوں میں سعودی عرب پر بھی میزائل داغے۔ چھ مارچ کو سعودی وزارت دفاع نے تصدیق کی کہ شہزادہ سلطان ہوائی اڈے کی طرف تین بیلسٹک میزائل روکے گئے۔ سات مارچ کو سعودی عرب نے پہلی بار باہمی دفاعی معاہدہ فعال کیا۔ عاصم منیر فوری طور پر ریاض پہنچے۔ سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان سے ملاقات ہوئی۔ شہزادہ خالد نے ایکس پر لکھا کہ دونوں نے “ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں اور انھیں معاہدے کے تحت روکنے کے اقدامات” پر بات کی۔ ایکسپریس ٹریبیون نے لکھا کہ عاصم منیر کے دورے نے پاکستان کو حرمین شریفین اور سعودی ڈھانچے کے “سلامتی ضامن” کے طور پر پیش کیا۔ حج دو ہزار چھبیس تین ماہ سے بھی کم فاصلے پر ہے اور حج کی سلامتی ایرانی میزائل حملوں سے براہ راست خطرے میں ہے۔ایک اور تفصیل۔ جنوری دو ہزار چھبیس میں پاکستانی ایف سولہ بلاک باون طیارے سعودی عرب میں کثیرالقومی فوجی مشق کے لیے موجود تھے. ۔ تجزیہ نگاروں نے بعد میں لکھا کہ یہ تعیناتی اب پیچھے مڑ کر دیکھیں تو اسی نوعیت کی ہم آہنگی کی مشق معلوم ہوتی ہے جو حقیقی تصادم میں درکار ہوتی ہے۔چوتھی بنیاد: ایران کے ساتھ سرحد اور تعلقات۔پاکستان کی ایران کے ساتھ نو سو کلومیٹر کی سرحد ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے مئی دو ہزار پچیس میں پاک بھارت تصادم کے فوراً بعد ایران کا دورہ کیا تھا۔ صدر مسعود پزشکیان اور آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقات کی تھی۔ یہ ذاتی رشتے ابھی اہم ہیں۔تین مارچ دو ہزار چھبیس کو پاکستانی وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے ایک ایسا بیان دیا جس نے ہر دارالحکومت میں ہلچل مچا دی۔ انھوں نے کہا کہ انھوں نے ذاتی طور پر تہران کو خبردار کیا ہے کہ سعودی عرب پر حملہ نہ کرے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسے سنجیدگی سے لیا۔ خارج نہیں کیا۔ مذاق نہیں اڑایا۔ ضمانتیں مانگیں کہ سعودی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔ ایران نے اسے اتنا سنجیدگی سے لیا کہ سعودی عرب میں ایرانی سفیر نے باقاعدہ عوامی بیان دیا جس میں ریاض کے اس وعدے کو سراہا کہ اس کی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔ڈپلومیٹ میگزین نے لکھا کہ وزیر خارجہ ڈار نے پارلیمنٹ کو بریفنگ میں بتایا: “ایران نے ایٹمی ہتھیار نہ بنانے پر رضامندی ظاہر کی تھی لیکن امریکہ ایران کا پورا ایٹمی پروگرام مکمل طور پر ختم کروانا چاہتا تھا۔” ڈار نے مزید بتایا کہ پاکستان نے اسلام آباد میں ثالثی مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی ہے۔پانچویں بنیاد: اندرونی جہاد۔جنگ شروع ہوتے ہی پاکستان کے اندر طوفان اٹھا۔ پاکستان کی شیعہ آبادی مجموعی آبادی کے پندرہ سے بیس فیصد ہے۔ خامنہ ای کی شہادت کی خبر پر سڑکوں پر نکل آئے۔ کراچی میں مظاہرین امریکی قونصل خانے کی طرف بڑھے۔ امریکی میرین سکیورٹی گارڈز نے فائرنگ کی۔ کم از کم دس افراد ہلاک ہوئے۔ ساٹھ سے زائد زخمی ہوئے۔ ملک بھر میں جھڑپوں میں کم از کم تیئس افراد ہلاک ہوئے۔ گلگت بلتستان میں تین دن کا کرفیو لگایا گیا۔ مظاہرین نے اقوام متحدہ کے دفاتر پر حملہ کیا۔ بارہ افراد مارے گئے۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو کی تصاویر جلائی گئیں۔ خامنہ ای کی تصاویر اٹھائی گئیں۔الجزیرہ نے لکھا کہ پاکستان کی خطرناک فرقہ وارانہ تاریخ ایک اور خطرے کی تہہ ہے۔ زینبیون بریگیڈ، جو پاکستانی نژاد شیعہ ملیشیا ہے اور ایرانی پاسداران انقلاب کی تربیت، مالی تعاون اور کمان میں کام کرتی ہے، نے گزشتہ دہائی میں ہزاروں لڑاکا بھرتی کیے ہیں۔ کرم ایجنسی جو اس بریگیڈ کا بنیادی بھرتی مرکز ہے وہاں دو ہزار چوبیس کے آخری ہفتوں میں فرقہ وارانہ جھڑپوں میں ایک سو تیس سے زائد افراد مارے گئے تھے۔بیس مارچ کو عاصم منیر نے راولپنڈی میں شیعہ علماء سے ملاقات کی۔ پاکستان کی سفارتی کوششوں کی تفصیلات بتائیں۔ اور صاف الفاظ میں کہا: “پاکستان میں کسی دوسرے ملک کے واقعات کی بنیاد پر تشدد برداشت نہیں کیا جائے گا۔” ترجمان پاک فوج نے اسے دہرایا: “بیرونی واقعات کی بنیاد پر پاکستان میں تشدد جائز نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔”اب تصویر دیکھیں. ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے میں بندھا ہوا ہے۔ معاہدے کی شق فعال ہو چکی ہے۔ سعودی عرب نے نو دن مسلسل ایرانی حملے برداشت کیے ہیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات دونوں نے کہا ہے کہ ایرانی حملوں نے “سرخ لکیر” عبور کر لی ہے۔ پہلی مارچ کو امریکہ، بحرین، اردن، کویت، قطر، سعودی عرب اور امارات کا مشترکہ بیان آیا: “ہم ان حملوں کے خلاف دفاع کے حق کی توثیق کرتے ہیں۔”دوسری طرف ایران کے ساتھ نو سو کلومیٹر کی سرحد ہے۔ واشنگٹن میں ایرانی مفادات کی نمائندگی کرتا ہے۔ تہران سے براہ راست بات کر سکتا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ پاکستان کی بات سنجیدگی سے سنتا ہے۔تیسری طرف خلیجی ممالک میں لاکھوں پاکستانی مزدور ہیں جن کی ترسیلات زر ملکی معیشت کی شہ رگ ہیں۔ الجزیرہ نے لکھا کہ معاشی طور پر خلیجی ممالک سے بھیجی جانے والی رقوم پاکستان کے لیے قیمتی غیر ملکی زرمبادلہ فراہم کرتی ہیں۔چوتھی طرف ملک کے اندر فرقہ وارانہ تناؤ ابل رہا ہے۔ پانچویں طرف افغانستان کے ساتھ جنگ جاری ہے۔ پاکستانی سفیر ماسکو نے تصدیق کی ہے کہ اسلام آباد نے افغان تنازعے میں روسی ثالثی مانگی ہے۔اور ان سب دباؤوں کے درمیان فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ٹرمپ سے فون پر بات ہو رہی ہے۔اب آج کے دن کی گہرائی سمجھیں۔بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے سربراہ فاتح بیرول نے آج کینبرا میں کہا: “کوئی ملک اس بحران سے محفوظ نہیں ہے اگر صورتحال اسی سمت جاتی رہی۔” انھوں نے کہا کہ نو ممالک میں چالیس سے زائد توانائی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ یہ بحران انیس سو تہتر اور انیس سو اناسی کے مشترکہ تیل بحرانوں سے بدتر ہے جن میں مجموعی طور پر ایک کروڑ بیرل یومیہ کا نقصان ہوا تھا۔ آبنائے ہرمز سے گزرنا “دو ہزار چھبیس کی باقی مدت کے لیے مکمل طور پر ناممکن ہے” سمندری مال برداری کے اعداد و شمار فراہم کرنے والے ادارے زینیٹا کے ماہر پیٹر سینڈ نے سی این این کو بتایا۔ امریکہ میں پٹرول کی قیمتیں مسلسل تیئسویں دن بڑھیں اور تین ڈالر چھیانوے سینٹ فی گیلن تک پہنچ گئیں جو اگست دو ہزار بائیس کے بعد سب سے زیادہ ہیں۔

ایران کی دفاعی کونسل نے آج دھمکی دی: اگر بجلی گھروں پر حملہ ہوا تو پوری خلیج میں توانائی اور پانی کے ڈھانچے نشانہ بنائے جائیں گے اور آبنائے ہرمز کے سمندری راستوں میں بارودی سرنگیں بچھا دی جائیں گی۔ “غیر متحارب” ممالک صرف ایران سے ہم آہنگی سے آبنائے سے گزر سکیں گے۔ ساحلوں یا جزائر پر حملے کی صورت میں پوری خلیج مکمل طور پر بند کر دی جائے گی۔ادھر اسرائیل تہران پر بمباری جاری رکھے ہوئے ہے۔ آج بھی وسیع پیمانے پر حملے ہوئے۔برطانوی وزیر اعظم کیر سٹارمر نے پارلیمانی کمیٹی کو بتایا: “ہم بحرین، کویت اور سعودی عرب میں فوری طور پر مختصر فاصلے کے فضائی دفاعی نظام تعینات کر رہے ہیں۔”بحرین میں آج شدید دھماکے اور فضائی خطرے کے سائرن سنے گئے۔ اے ایف پی کے نامہ نگار کے مطابق ٹرمپ کے اعلان کے بعد بھی خلیج میں پہلی بار سائرن بجے۔ بحرین کی وزارت داخلہ نے شہریوں سے کہا: “پرسکون رہیں اور قریب ترین محفوظ مقام پر جائیں۔”اور اس سب کے بیچ میں یوکرین کے صدر زیلینسکی نے کہا کہ ان کے پاس “ناقابل تردید ثبوت” ہیں کہ روس ایران کو انٹیلی جنس فراہم کر رہا ہے۔اب بتاؤ۔ اس شطرنج کی بساط پر پاکستان کہاں ہے؟پاکستان ایک رسی پر چل رہا ہے۔ دائیں طرف سعودی عرب ہے جو کہتا ہے معاہدے پر عمل کرو۔ بائیں طرف ایران ہے جس کے ساتھ سرحد ہے اور جس کی شیعہ آبادی ملک کے اندر ہر جمعے کو سڑکوں پر آ سکتی ہے۔ نیچے ایندھن کا بحران ہے جو معیشت کی ریڑھ توڑ سکتا ہے۔ اوپر ٹرمپ ہے جو ایک دن مہلت دیتا ہے دوسرے دن معاہدے کی بات کرتا ہے۔اس سب کے درمیان عاصم منیر کا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے تینوں فریقوں کا اعتماد برقرار رکھا ہے۔ ٹرمپ اسے “اپنا پسندیدہ فیلڈ مارشل” کہتا ہے۔ سعودی ولی عہد اس سے ذاتی طور پر ملتے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ اس کے ملک کی بات سنتا ہے۔ یہ تینوں کانوں تک بیک وقت رسائی ہی اصل طاقت ہے۔لیکن خطرے اتنے ہی بڑے ہیں۔اگر خلیجی تعاون کونسل نے اجتماعی فوجی کارروائی کا فیصلہ کیا تو پاکستان پر باہمی دفاعی معاہدے کے تحت فوج بھیجنے کا دباؤ آئے گا۔ سعودی عرب اور امارات نے “سرخ لکیر” کی بات کی ہے۔ تجزیہ نگار رضا رانا نے الجزیرہ کو بتایا: “ایران کا بنیادی خطرہ فضائی ہے، ڈرون اور میزائل۔ اور یہ وہ شعبہ ہے جہاں پاکستان مدد کر سکتا ہے۔ لیکن اس کا مطلب ہو گا کہ پاکستان جنگ کا فریق بن جائے۔ اور یہ سب سے بڑا سوالیہ نشان ہے۔”وزیر دفاع خواجہ آصف نے پہلے ہی واضح کر دیا ہے: پاکستان ایران کے خلاف کسی فوجی مہم میں حصہ نہیں لے گا۔ لیکن واضح کرنا اور حقیقت میں نہ لینا دو الگ باتیں ہیں۔ جب دباؤ بڑھتا ہے تو واضح لائنیں دھندلی ہو جاتی ہیں۔آج کا دن اہم ہے۔ چوبیس دن کی بمباری کے بعد پہلی بار ایک کھڑکی کھلی ہے۔ پانچ دن کی مہلت۔ چھوٹی سی۔ مگر کھلی ہے۔ٹرمپ نے سی این این کو بتایا: “آبنائے ہرمز بہت جلد کھل جائے گی۔” کہا کہ وہ آبنائے پر مشترکہ امریکی ایرانی کنٹرول دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ تجویز اتنی حیران کن ہے کہ کسی نے سنجیدگی سے لینے سے انکار کر دیا۔ لیکن ٹرمپ نے کہی ہے۔اصل سوال یہ ہے: کیا یہ پانچ دن کافی ہیں؟ایران کا لہجہ دیکھو تو نہیں لگتا۔ قالیباف نے واضح کر دیا ہے۔ دفاعی کونسل نے بارودی سرنگوں کی دھمکی دے دی ہے۔ اسرائیل تہران پر بمباری بند نہیں کر رہا۔ خلیجی ممالک جنھوں نے جنگ کی مخالفت کی تھی اب کہہ رہے ہیں کہ جنگ بندی سے پہلے ایرانی فوجی طاقت کو کمزور کرنا ضروری ہے۔مگر ایک فون ہے جو راولپنڈی سے واشنگٹن گیا ہے۔اور ایک ملک ہے جو اسلام آباد میں مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کر چکا ہے۔ شنید ہے کہ امریکی نائب صدر اسلام آباد آکر مزاکرات میں شامل ہوگا. آج دنیا کی نظریں واشنگٹن، تہران اور تل ابیب پر ہیں۔ مگر فون راولپنڈی سے آیا ہے۔ پاکستان ہیز پنچڈ وے ابو اٹس ویٹ. پنڈی والے افغانستان والے جوئے کے بعد شاید پاکستانی تاریخ کا سب سے بڑا جوا کھیل رہے ہیں. ٹرمپ اور ایران اور عربوں کے درمیان پڑنا شیر پر سواری کے مترادف ہے. اقوام متحدہ عضو معطل بن چکی ہے. غزہ پیس بورڈ کا پلیٹ فارم استعمال ہو سکتا ہے. تاہم زرا سا توازن درہم برہم ہوا تو تو کچھ بڑوں کے سر لڑھک سکتے ہیں. اللہ کرے پاکستان اس میں سرخرو ٹھہرے. اگلے پانچ دن بتائیں گے کہ یہ فون تاریخ بدلتا ہے یا تاریخ کا حاشیہ بن کر رہ جاتا

میں اور خامنہ ای مل کر آبنائے ہرمز کو کنٹرول کریں گے :ٹرمپ کا اعلان۔تھران پر بمبار-ی کا جواب آج رات شدت کے ساتھ دیا جائے گا۔امریکہ سے کسی قسم کے مذاکرات نھی ھونگے خمینی کےقتل کا بدلہ لینگے۔کسی ملک کو ثالثی کا نھی کھا اسلام میں انکھ کا بدلہ انکھ اور قتل کا بدلہ قتل ھےایران۔۔پاکستان میں مذاکرات کی خبروں پر تبصرہ صرف یہ ہے سدی نہ سدای کھیتوں ا گئی کڑی دی تای۔۔ ۔۔جنگ کا پہلا مرحلہ ایران جیت گیا ٹرمپ جنگ سے بھاگنے لگا۔۔پاکستان میں عوام 2 وقت کی روٹی سے مجبور۔۔ ۔۔عمران عید کے موقع پر دس ارب کا جہاز خرید سکتا تھا لکین ایک دن میں دس لاکھ درخت لگواے۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

اچھی طرح یاد ہے جب عمران نیازی کے دور میں دونوں بہن بھائی جیل میں بے جرم قید تھے تو آئے روز پیشیاں بھگتنی پڑتی تھیں صدر کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہوئی تو جج نے کہا ایمبولینس میں لے کر آؤایک پیشی پر دونوں بہن بھائی پیش ہوئے صدر آصف علی زرداری نحیف حالت میں لاٹھی کے سہارے چل رہے تھے آگے ادی فریال تالپور تھیں اور پیچھے وہ تھے جب سرکاری اہلکاروں کے رش میں ادی فریال تالپور کو گھیرا ہوا تھا تو اسی وقت مردِ حُر نے اپنی لاٹھی کو اوپر اٹھایا اور غصے میں بولا کہ میری بہن سے دور رہو ، وہ منظر آج بھی یاد ہے مجھےدونوں بہن بھائیوں نے اپنی ذاتی زندگیوں کو قربان کرکے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ وفا کا رشتہ ہر حال میں نبھایا ہے

🚨 بریکنگ نیوزروسی وزیر دفاع کا دعویٰ: ایران کے پاس جدید میزائل نظام، جنگ روکنے کا انتباہروس کے وزیر دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ Iran کے پاس ایسا مؤثر اور جدید میزائل نظام موجود ہے جو امریکہ کے پاس بھی نہیں ہےانہوں نے کہا کہ ایران کے پاس ایسے جدید میزائل موجود ہیں جو ابھی تک استعمال نہیں ہوئے اور ان کا ذخیرہ نہ صرف Is*ra*el بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہےروسی وزیر دفاع نے United States اور اسر**ائیل پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر جنگ بند کریں، بصورت دیگر نقصانات “حیران کن” ہو سکتے ہیںماہرین کے مطابق یہ بیان خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایک اہم وارننگ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے ممکنہ اثرات عالمی سطح پر بھی پڑ سکتے

کولمبیا کا طیارہ گر کر تباہ فوجیوں کو لے جانے والا ایک فوجی طیارہ حادثے کا شکار ہو کر تباہ ہو گیا، جس کے بعد علاقے میں ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی۔ حادثے کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہیں آ سکیں جبکہ امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ کر ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں۔متعدد ہلاکتوں اندیشہ

امریکہ نے چار ٹن محفوظ سونے کے زخائر فروخت کیلئے پیش کر دئے ۔گزشتہ ہفتہ بھی تین ٹن زخائر بیچے تھے ۔ایک طرف امریکی ایران جنگ کی وجہ سے اربوں ڈالر کے اضافی بوجھ تلے دب گئے ہیں دوسری طرف امریکیوں کو تنگ کرنے کیلئے چین نے امریکی بانڈز میں اپنی سرمایہ کاری نکالنا شروع کر دی ہے ۔دو ہفتوں کے دوران چینی دس ارب ڈالر کے بانڈز بھنا چکے ہیں ۔امریکی ادائیگیوں کے توازن کو برقرار رکھنے کیلئے سونے کے محفوظ زخائر بیچنے نکل پڑے ہیں ۔امریکی ڈالر کو صرف “امریکہ سپر پاور ہے”کا تصور بچائے ہوئے ہے ۔سپر پاور ہونے کا تاثر ختم ہوتے ہی عالمی کیپٹل مارکیٹ ڈالر کی اس گراوٹ کا نظارہ کرے گی دنیا بھر کے حصص بازار زمیں بوس ہو جائیں گے اور مارکیٹیں مالیاتی زلزلے تلے دب مریں گی ۔

جنگ چین امریکہ کی ہے ۔اظہر سیدنری حماقت ہے یہ سوچنا ایران اسرائیل اور مہلک ہتھیاروں سے لیس امریکہ کو برابر کی ٹکر دے رہا ہے ۔اسرائیل کے پہلے حملہ میں ایران کو بے پناہ نقصان پہنچایا گیا تھا ۔حالیہ دوسرے حملہ میں امریکہ کو برطانیہ کی عملی معاونت اور خلیجی ریاستوں میں اپنے اڈوں کی مدد حاصل تھی ۔ایران کی صف اول کی سیاسی اور فوجی قیادت ختم کی جا چکی ہے ۔اتنے بڑے نقصانات کے باوجود ایران کی کامیابیاں سمجھ میں نہ آنے والی بات ہے ۔اگر یہ تصور کیا جائے ایران میں عملاً چین امریکہ اور اسرائیل سے لڑ رہا ہے تو بات سمجھ میں آتی ہے ۔ایک چھوٹی سی مثال ہے جنگ کے اٹھارویں یعنی کل کے روز امریکہ کا سٹلییھ ایف 35 طیارہ لاک کر کے گرایا گیا تو اج ایرانی فضاؤں میں ایف 35 طیارے غائب تھے ۔جنگ کے تیسرے روز بحرین،قطر اور اردن میں جدید ترین ریڈار سسٹم ایک ہی روز اسی طرح تباہ کر دئے گئے جس طرح آپریشن سیندور میں پاکستان نے ایس 400 نظام تباہ کیا تھا ۔اگلے تین روز میں امریکی بچا کچھا سسٹم اٹھا کر اسرائیل لے گئے ۔یوکرائن سے فضائی نگرانی کا نظام اور جنوبی کوریا سے دو ریڈار سسٹم واپس لے لئے ۔امریکہ اسرائیل حملہ کے پورے سات دن کے بعد طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن پر کامیاب میزائل حملہ سے یہ خوفناک جنگی مشین میدان جنگ سے واپس بلا لی گئی ۔جیرالڈ فورڈ طیارہ بردار جہاز جس طمطراق سے آیا تھا

جہاز کے مختلف حصوں میں آگ لگنے کے بعد اسی تیز رفتاری سے واپس بھاگ نکلا جس طرح بھارتی طیارہ بردار جہاز وکرانت جو کراچی کی طرف روانہ ہوا تھا راستے میں ہی واپس بھاگ نکلا تھا ۔کل ایرانی میزائلوں نے دس جہتی میزائل شیلڈ کو ناکام بنا کر اسرائیل کے ڈیمونا ایٹمی مرکز پر حملہ کیا ۔اس سے دو روز قبل اسرائیل کی حیفا ائل ریفائنری پر کامیاب حملہ کیا گیا تھا اور تاحال وہاں آگ لگی ہوئی ہے۔ایران پر ڈھائی ہفتے سے روزانہ دو سو سے زیادہ جدید ترین لڑاکا طیارے تباہی مچا رہے ہیں۔شہری انفراسٹرکچر ملیا میٹ ہو چکا ہے ۔پھر کونسی قوت ہے جو ایران کے جوابی حملے کامیاب بنا رہی ہے ۔ڈرون ختم ہو رہے ہیں نہ میزائل لانچر ۔دو اور دو چار کے مطابق ایران کو مسلسل سپلائی مل رہی ہے ۔ایران کو مسلسل ٹیکنیکی معاونت مل رہی ہے ۔ایران کی مدد کرنے والی قوت چین ہے ۔خلیجی ریاستوں کو ایران پر جوابی حملوں سے روکنے والی قوت پاکستان ہے ۔جنگ بندی ہو یا جنگ جاری رہے حتمی لوزر امریکہ اور اسرائیل ہیں۔یہ جنگ ختم ہو کر بھی جاری رہے گی کہ اس کے اثرات امریکہ اور اسرائیل دونوں کو بھگتنا ہیں۔امریکی معیشت نادہندہ ہے ۔اسے ہر مہینے اربوں ڈالر کے قرضوں کی ادائیگیاں کرنا ہوتی ہیں ۔امریکی دیوانوں کی طرح کبھی وینزویلا چڑھ دوڑتے ہیں ۔کبھی ایران پر حملہ آور ہوتے ہیں ۔کبھی گرین لینڈ، کینیڈا اور کبھی کیوبا پر قبضہ کے اعلان کرتے ہیں اصل میں انکے دانے مک گئے ہیں۔انہیں سپر پاور کی حیثیت برقرار رکھنے کیلئے نئے وسائل کی ضرورت ہے ۔انہیں چین کا راستہ روکنے کیلئے توانائی کے وسائل پر قبضہ کرنا ہے ۔چینی سب جانتے ہیں ۔ایران چینیوں کیلئے ریڈ لائن ہے ۔چین کو اپنی صنعتی مشین چلانے کیلئے تیل کی ضرورت ہے ۔ایران پر امریکی حملہ کامیاب ہو یا ناکام افراتفری ضرور پیدا ہونا ہے ۔عالمی افراتفری شروع بھی ہو چکی ہے ۔امریکی ناکام ہونگے اور انہیں ناکام ہونا ہی ہے ۔توانائی کے زخائر پر امریکی کنٹرول ختم ہونا ہی ہے ۔چین کی زنبیل میں بہت سارے تیر موجود ہیں۔چینی توانائی کے زخائر پر امریکی قبضہ کبھی نہیں ہونے دیں گے کہ یہ انکی بقا کا سوال ہے ۔

جنگ چین امریکہ کی ہے ۔اظہر سیدنری حماقت ہے یہ سوچنا ایران اسرائیل اور مہلک ہتھیاروں سے لیس امریکہ کو برابر کی ٹکر دے رہا ہے ۔اسرائیل کے پہلے حملہ میں ایران کو بے پناہ نقصان پہنچایا گیا تھا ۔حالیہ دوسرے حملہ میں امریکہ کو برطانیہ کی عملی معاونت اور خلیجی ریاستوں میں اپنے اڈوں کی مدد حاصل تھی ۔ایران کی صف اول کی سیاسی اور فوجی قیادت ختم کی جا چکی ہے ۔اتنے بڑے نقصانات کے باوجود ایران کی کامیابیاں سمجھ میں نہ آنے والی بات ہے ۔اگر یہ تصور کیا جائے ایران میں عملاً چین امریکہ اور اسرائیل سے لڑ رہا ہے تو بات سمجھ میں آتی ہے ۔ایک چھوٹی سی مثال ہے جنگ کے اٹھارویں یعنی کل کے روز امریکہ کا سٹلییھ ایف 35 طیارہ لاک کر کے گرایا گیا تو اج ایرانی فضاؤں میں ایف 35 طیارے غائب تھے ۔جنگ کے تیسرے روز بحرین،قطر اور اردن میں جدید ترین ریڈار سسٹم ایک ہی روز اسی طرح تباہ کر دئے گئے جس طرح آپریشن سیندور میں پاکستان نے ایس 400 نظام تباہ کیا تھا ۔اگلے تین روز میں امریکی بچا کچھا سسٹم اٹھا کر اسرائیل لے گئے ۔یوکرائن سے فضائی نگرانی کا نظام اور جنوبی کوریا سے دو ریڈار سسٹم واپس لے لئے ۔امریکہ اسرائیل حملہ کے پورے سات دن کے بعد طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن پر کامیاب میزائل حملہ سے یہ خوفناک جنگی مشین میدان جنگ سے واپس بلا لی گئی ۔جیرالڈ فورڈ طیارہ بردار جہاز جس طمطراق سے آیا تھا جہاز کے مختلف حصوں میں آگ لگنے کے بعد اسی تیز رفتاری سے واپس بھاگ نکلا جس طرح بھارتی طیارہ بردار جہاز وکرانت جو کراچی کی طرف روانہ ہوا تھا راستے میں ہی واپس بھاگ نکلا تھا

۔کل ایرانی میزائلوں نے دس جہتی میزائل شیلڈ کو ناکام بنا کر اسرائیل کے ڈیمونا ایٹمی مرکز پر حملہ کیا ۔اس سے دو روز قبل اسرائیل کی حیفا ائل ریفائنری پر کامیاب حملہ کیا گیا تھا اور تاحال وہاں آگ لگی ہوئی ہے۔ایران پر ڈھائی ہفتے سے روزانہ دو سو سے زیادہ جدید ترین لڑاکا طیارے تباہی مچا رہے ہیں۔شہری انفراسٹرکچر ملیا میٹ ہو چکا ہے ۔پھر کونسی قوت ہے جو ایران کے جوابی حملے کامیاب بنا رہی ہے ۔ڈرون ختم ہو رہے ہیں نہ میزائل لانچر ۔دو اور دو چار کے مطابق ایران کو مسلسل سپلائی مل رہی ہے ۔ایران کو مسلسل ٹیکنیکی معاونت مل رہی ہے ۔ایران کی مدد کرنے والی قوت چین ہے ۔خلیجی ریاستوں کو ایران پر جوابی حملوں سے روکنے والی قوت پاکستان ہے ۔جنگ بندی ہو یا جنگ جاری رہے حتمی لوزر امریکہ اور اسرائیل ہیں۔یہ جنگ ختم ہو کر بھی جاری رہے گی کہ اس کے اثرات امریکہ اور اسرائیل دونوں کو بھگتنا ہیں۔امریکی معیشت نادہندہ ہے ۔اسے ہر مہینے اربوں ڈالر کے قرضوں کی ادائیگیاں کرنا ہوتی ہیں ۔امریکی دیوانوں کی طرح کبھی وینزویلا چڑھ دوڑتے ہیں ۔کبھی ایران پر حملہ آور ہوتے ہیں ۔کبھی گرین لینڈ، کینیڈا اور کبھی کیوبا پر قبضہ کے اعلان کرتے ہیں اصل میں انکے دانے مک گئے ہیں۔

انہیں سپر پاور کی حیثیت برقرار رکھنے کیلئے نئے وسائل کی ضرورت ہے ۔انہیں چین کا راستہ روکنے کیلئے توانائی کے وسائل پر قبضہ کرنا ہے ۔چینی سب جانتے ہیں ۔ایران چینیوں کیلئے ریڈ لائن ہے ۔چین کو اپنی صنعتی مشین چلانے کیلئے تیل کی ضرورت ہے ۔ایران پر امریکی حملہ کامیاب ہو یا ناکام افراتفری ضرور پیدا ہونا ہے ۔عالمی افراتفری شروع بھی ہو چکی ہے ۔امریکی ناکام ہونگے اور انہیں ناکام ہونا ہی ہے ۔توانائی کے زخائر پر امریکی کنٹرول ختم ہونا ہی ہے ۔چین کی زنبیل میں بہت سارے تیر موجود ہیں۔چینی توانائی کے زخائر پر امریکی قبضہ کبھی نہیں ہونے دیں گے کہ یہ انکی بقا کا سوال ہے ۔

ملا یعقوب ڈالر عرف آستین کا سانپ‼️‼️بیس سال اس نے پاکستان میں پرتعیش زندگی گزاری۔ جب ملا عمر فوت ہوئے تو ان کا جانشین چننے کی باری آئی۔ یعقوب کم عم بھی تھا اور کم عقل بھی، سب سے بڑھ کر اس نے جہاد میں ایک دن بھی حصہ نہ لیا تھا اس لیے شوری نے ملا اختر منصور کو امیر بنانے کا فیصلہ کیا۔اس پر یہ موصوف ناراض ہو گئے۔ اس کی ناراظگی کو دور کرنے کے لیے اسے امریکہ سے پانچ لاکھ ڈالر ملے۔ وقتی طور پر یہ چپ رہا لیکن جب دوبارہ طاقت میں آیا تو اس نے سانپ کا روپ دوبارہ اپنا لیا۔ اس کی پاکستان سے دشمنی بھی اسی بات پر ہے کہ اس کو امیر بننے میں پاکستان نے کردار ادا نہ کیا۔ اس بات کا انکشاف مفتی عبدالرحیم نے کیا جو ملا عمر کی نہایت عقیدت مند اور قریبی ساتھی رہے ہیں۔

امریکہ سے کسی قسم کے مذاکرات نھی ھونگے خمینی کےقتل کا بدلہ لینگے۔کسی ملک کو ثالثی کا نھی کھا اسلام میں انکھ کا بدلہ انکھ اور قتل کا بدلہ قتل ھےایران۔۔پاکستان میں مذاکرات کی خبروں پر تبصرہ صرف یہ ہے سدی نہ سدای کھیتوں ا گئی کڑی دی تای، ایران

تفصیلات کے مطابق

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اسلام آباد میں ہونگے، پاکستان میزبانی کرے گا، رائٹر….!!!!

امریکا ایران کشیدگی میں کمی کیلئے ترکیہ،مصراورپاکستان متحرک….

وہ کون تھا جس نے پی ایس ایل کا شیڈول آئی پی ایل کے دوران بنایا؟ اب آئی پی ایل زیادہ پیسہ دے رہا ہے اور ہمارے غیر ملکی کھلاڑی لے جا رہا ہے۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

وہ کون تھا جس نے پی ایس ایل کا شیڈول آئی پی ایل کے دوران بنایا؟ اب آئی پی ایل زیادہ پیسہ دے رہا ہے اور ہمارے غیر ملکی کھلاڑی لے جا رہا ہے۔

عاقب جاوید کو ہٹاؤ،🤡 پاکستان کرکٹ کو بچاو، 🏏 سب لوگ اس ٹرینڈ کا حصہ بنیں اور ذیادہ سے ذیادہ لوگوں تک اس ٹرینڈ کو پہنچا ییں، 🇵🇰🏏 واحد سلیکٹر ہے جس کو پورا پاکستان نفرت کر رہا

پاکستان ہائی کمیشن نئی دہلی میں یوم پاکستان جذبہ حب الوطنی سے منایا گیاناظم الامور پاکستان ہائی کمیشن سعد احمد وڑائچ نے چانسری لان میں قومی پرچم بلند کیا۔اس موقع پر صدر مملکت، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم/وزیر خارجہ کے پیغامات پڑھ کر سنائے گئے

پاکستان ہائی کمیشن نئی دہلی میں یوم پاکستان جذبہ حب الوطنی سے منایا گیاناظم الامور پاکستان ہائی کمیشن سعد احمد وڑائچ نے چانسری لان میں قومی پرچم بلند کیا۔اس موقع پر صدر مملکت، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم/وزیر خارجہ کے پیغامات پڑھ کر سنائے گئے۔23 مارچ 1940 کی قراردادِ لاہور علیحدہ وطن کے حصول کی جدوجہد میں برصغیر کے مسلمانوں کیلئے ایک سنگِ میل ثابت ہوئی۔ سعد احمد وڑائچ قائد اعظم محمد علی جناح کی زیر قیادت سات سال کے مختصر عرصہ میں اس اجتماعی تحریک کو قیام پاکستان کی صورت ایک اظہار ملا۔ سعد احمد وڑائچتحریک پاکستان کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، انکی عظیم قربانیاں آزادی کے انمول تحفے کے تحفظ اور ملکی ترقی اور خوشحالی کیلئے مخلصانہ کاوشیں بروئے کار لانے میں پوری قوم کیلئے مشعل راہ ہیں ۔ سعد احمد وڑائچ آج کے بھارت پر نظر دوڑائیں تو ہندوتوا کا عفریت ہمارے اسلاف کی دوراندیشی کی زندہ مثال ہے- سعد احمد وڑائچتاریخ کا سبق ہے کہ وہی قومیں حقیقتاً آزاد رہیں جو اپنی آزادی کے دفاع کی صلاحیت رکھتی ہیں ۔ سعد احمد وڑائچ معرکہ حق نے ایک بار پھر دفاع وطن کے لیے ہماری قوم کے اجتماعی عزم کی تجدید کی۔ پوری دنیا پاکستان کے اپنی خودمختاری کے تحفظ اور آزادی کے دفاع کے غیر متزلزل عزم کی گواہ ہے۔ سعد احمد وڑائچدفاع وطن کیلئے بہادر مسلح افواج کے کردار کو سراہتے ہوئے سعد احمد وڑائچ نے کہا کہ پاکستان کا وضع کردہ ڈیٹرنس نہ صرف جنوبی ایشیا میں استحکام کا سبب ہے بلکہ علاقائی امن کی بھی ضمانت ہے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان پرامن تعلقات برابری، باہمی احترام اور تمام تنازعات کے پُرامن حل کی بنیاد پر ہی قائم ہو سکتے ہیں ۔ سعد احمد وڑائچ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن اور استحکام کا ہدف تنازعہ جموں و کشمیر کا اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق منصفانہ حل کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ سعد احمد وڑائچ

وزیراعظم شہباز شریف کا مہنگی گاڑیوں میں ڈلنے والے فیول (ہائی آکٹین آئل) میں 200 روپے فی لیٹر اضافے کا فیصلہ۔۔*اگر ایران نے ایک بار پھر سعودی عرب میں توانائی کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا تو سعودی عرب ایران کے خلاف جنگ کا اعلان کر دے گا، سعودی میڈیا۔*ایران، اسرائیل امریکہ جنگ کے باعث پاکستان میں تیل بحران شدت اختیار کر گیا، منی لاک ڈاؤن کی تیاری شروع، جلد اہم فیصلے متوقع۔۔۔ایرانی ڈرونز اسرائیلی فضائی صنعتوں اور خطے میں امریکی جاسوس طیاروں کے اڈوں کو نشانہ بنانے کے لئے روانہ ۔۔۔*ایوان شاہی نے کہا ہے کہ ’شہزادہ محمد بن بندر بن محمد بن سعود الکیبر آل سعود انتقال کر گئے۔حکومت پاکستان تیل کے ذریعے بجٹ بناے گی پاکستان کی گھٹیا ترین حکومت ثابت ہو چکی ہے۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

⚡ 🔹 ایران نے اعلان کیا ہے کہ موجودہ صورتِ حال میں کوئی بھی جہاز جو آبنائے ہرمز سے گزرنا چاہے گا، اسے 2 ملین ڈالر ٹول ادا کرنا ہوں گے۔جنگ کے بعد عبور کے نئے ضوابط اور جہازوں کے لیے ٹول عائد کیے جائیں گے اور آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی آبی گزرگاہ کے درجے سے خارج کر دیا جائے گا، جس کا اختیار مکمل طور پر ایران کے پاس ہوگا۔