فوج ملک کی سلامتی کے لیے پرعزم ارمی چیف گلگت بلتستان کا دورہ۔۔ ارمی چیف نے اگلے مورچوں پر عید منای۔۔سیاسی جماعتوں اور حکومت محلوں میں۔۔وفاقی وزیر داخلہ سید محسن نقوی اورڈائریکٹر جنرل فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی ڈاکٹر عثمان انور کی ہدایات پر ملک بھر میں سرکاری جائیدادوں اور املاک کو غیر قانونی قابضین سے واگزار کرانے کی مہم زور و شور سے شروع کر دی گئی ہے۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

گلگت :(بادبان رپورٹ )فیلڈ مارشل چیف آف ڈیفنس فورسز چیف آف آرمی سٹاف حافظ سید عاصم منیر صاحب کی پاک-افغان سرحد پر اگلے مورچوں پر تعینات SSG جوانوں سے ملاقات۔پاکستان نے واضح کیا ہے کہ افغان سرزمین کو دہ شت گردی کے لیے استعمال ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ دشمن عناصر کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں جاری رہیں گی۔افغان عبوری حکومت سے مؤثر اقدامات کی توقع۔پاک فوج ملکی سلامتی کے لیے پرعزم ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ سید محسن نقوی اورڈائریکٹر جنرل فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی ڈاکٹر عثمان انور کی ہدایات پر ملک بھر میں سرکاری جائیدادوں اور املاک کو غیر قانونی قابضین سے واگزار کرانے کی مہم زور و شور سے شروع کر دی گئی ہے اس سلسلے میں ڈائریکٹر ایف ائی اے اسلام اباد زون شہزاد ندیم بخاری اور ڈپٹی ڈائریکٹر میر فیضان الحق کی خصوصی ہدایات پر قائم کی گئی ٹیم نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایف ائی اے شاہد الیاس اور ایس ایچ او اینٹی کرپشن سرکل شہزاد سرور خاکوانی کی سربراہی میں تھانہ گنج منڈی کی حدود میں ٹائر بازار کے علاقے میں متروکہ وقف املاک بورڈ کی جائیداد غیر قانونی قابضین سے واگزار کرا کر متعلقہ حکام کے حوالے کی گئی.

کسی قسم کے نہ خوشگوار واقع سے بچنے کی غرض سے ایف ائی اے اور مقامی پولیس کی بھاری تعداد میں نفری موقع پر موجود رہی تمام غیر قانونی دکانوں اور جائیداد کو باقاعدہ سربمہر کر کے قبضہ متعلقہ حکام کے حوالے موقع پر ہی کر دیا گیا عوامی حلقوں نے غیر قانونی قابضین سے سرکاری اراضی اور جائیداد واگزار کرنے کی مہم کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس طرح کے غیر قانونی عناصر کی حوصلہ شکنی جاری رہے گی اور قانون کی عملداری ہر صورت میں قائم کی جائے گی۔

ایران نے عراق، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر، کویت، اردن، ترکی — حتیٰ کہ قبرص پر بھی بمباری کی ہے۔16 دنوں کی جنگ۔ ہر سمت میں میزائل اور ڈرون۔لیکن ایک ملک جو ایران کی سرحد پر واقع ہے — اسے ہاتھ تک نہیں لگایا گیا۔پاکستان۔اور پاکستان کی سرزمین پر امریکی فوجی نگرانی (reconnaissance) آپریشنز موجود ہیں۔تو پھر ایران پاکستان کو کیوں نظرانداز کر رہا ہے؟یہ اس پوری جنگ کے سب سے دلچسپ اسٹریٹجک سوالات میں سے ایک ہے۔ اور اس کا جواب صرف پاکستان سے کہیں بڑی تصویر کو ظاہر کرتا ہے۔سب سے پہلے — آئیے وہ حقائق دیکھتے ہیں جو ہمیں معلوم ہیں۔پاکستان اور ایران کے درمیان تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد ہے۔ وہ حقیقی معنوں میں ہمسایہ ممالک ہیں۔ایران نے ان ممالک پر حملہ کیا ہے جو اس کے لیے کم خطرہ رکھتے ہیں — جیسے اردن، ترکی، عمان، قبرص — ایسے ممالک جن کی نہ تو ایران کے ساتھ سرحد ہے اور نہ ہی امریکی مہم میں بڑی اسٹریٹجک اہمیت۔لیکن پاکستان —

جو براہ راست ایران کا ہمسایہ ہے، جس کی سرزمین پر امریکی نگرانی کے اثاثے موجود ہیں، جس نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے تحت F-16 طیارے تعینات کیے ہیں — اس پر ایران نے ایک بھی حملہ نہیں کیا۔ایران نے پاکستان کو زبانی طور پر بھی نشانہ نہیں بنایا۔ نہ کوئی دھمکی، نہ کوئی انتباہ، نہ کوئی الٹی میٹم۔ایک ایسی جنگ میں جہاں ایران نے برطانیہ سے لے کر جنوبی کوریا تک سب کو دھمکیاں دی ہیں — پاکستان کے حوالے سے مکمل خاموشی۔اس کی وجوہات یہ ہو سکتی ہیں

…1. پاکستان ایک ہی وقت میں ہر فریق کے ساتھ توازن رکھ رہا ہے — اور ایران یہ جانتا ہے۔پاکستان اس وقت دنیا کے پیچیدہ ترین جغرافیائی و سیاسی حالات میں سے ایک کا سامنا کر رہا ہے۔اس کا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ ہے — جو ایران کا علاقائی حریف ہے۔اس نے سعودی عرب میں F-16 طیارے تعینات کیے ہیں۔اس کی 80 فیصد سے زیادہ فوجی خریداری چین سے ہوتی ہے۔یہ افغانستان کی سرحد پر طالبان کے خلاف اپنی جنگ بھی لڑ رہا ہے۔اسے اپنے شہروں میں ایران کے حامی شیعہ مظاہروں کو بھی سنبھالنا پڑ رہا ہے۔اس نے ایران میں پھنسے تقریباً 35,000 پاکستانی شہریوں کو نکالا ہے۔اور اس نے عوامی طور پر کہا ہے کہ وہ ایران کو امریکی-اسرائیلی جارحیت کے خلاف “دفاع” کرتے ہوئے دیکھتا ہے۔پاکستان بیک وقت ایران کے دشمنوں کے ساتھ بھی ہے اور ایران کے مؤقف کے ساتھ ہمدردی بھی رکھتا ہے۔پاکستان پر حملہ کرنے کا مطلب ہوگا اسے کسی ایک فریق کا انتخاب کرنے پر مجبور کرنا۔اور اس وقت — پاکستان کا غیر جانبدار رہنا ایران کے لیے کسی بھی میزائل حملے سے زیادہ فائدہ مند ہے۔2. چینیہاں معاملہ مزید اہم ہو جاتا ہے۔چین نے چین-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) میں 62 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔یہ ایک بڑا انفراسٹرکچر منصوبہ ہے جو مغربی چین سے پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں واقع گوادر بندرگاہ تک جاتا ہے۔گوادر ایران کی چاہ بہار بندرگاہ سے صرف 170 کلومیٹر دور ہے۔چین واضح کر چکا ہے کہ CPEC اور گوادر بندرگاہ کو ہر قیمت پر محفوظ رکھا جائے گا۔بیجنگ نے یہاں تک تجویز دی ہے کہ گوادر میں مستقل چینی فوجی موجودگی ہو سکتی ہے۔اگر ایران پاکستان پر حملہ کرتا ہے، تو اس کا مطلب ہوگا چین کے اہم ترین اسٹریٹجک منصوبے کے آخری حصے پر حملہ۔چین ایران کے 80 فیصد سے زیادہ تیل کا خریدار ہے۔ یہ جنگ کے دوران ایران کی سب سے اہم معاشی شہ رگ ہے۔ایران اس ہاتھ کو نہیں کاٹے گا جو اسے سہارا دے رہا ہے۔3. کوریڈور تھیورییہ ایک تجزیاتی مفروضہ ہے — تصدیق شدہ حقیقت نہیں

— لیکن دفاعی ماہرین اس پر سنجیدگی سے بات کر رہے ہیں۔ایران نے 16 دنوں میں ہزاروں میزائل اور ڈرون داغے ہیں۔امریکہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے ایران کی میزائل پیداوار کی تنصیبات کو تباہ کر دیا ہے اور اس کی صلاحیت میں 90 فیصد کمی آ گئی ہے۔تو سوال یہ ہے کہ ایران کے ہتھیار اب بھی کہاں سے آ رہے ہیں؟ایک نظریہ یہ ہے کہ CPEC راہداری — جو بلوچستان سے گزرتی ہے اور ایران کے سیستان-بلوچستان صوبے سے جڑی ہے — ممکنہ طور پر سپلائی روٹ کے طور پر کام کر رہی ہو۔ایران سے تیل پاکستان کے راستے چین جا رہا ہو۔اور دوسری طرف سے ڈرون، میزائل اور فوجی سامان واپس آ رہا ہو۔اگر ایسا ہے — تو پاکستان پر حملہ کرنا اس راستے کو ختم کرنے کے مترادف ہوگا جو ایران کی جنگی مشین کو چلائے رکھتا ہے۔4. جوہری عنصرپاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے۔ایران نہیں۔کسی جوہری ملک پر حملہ — چاہے روایتی ہتھیاروں سے ہی کیوں نہ ہو — شدید خطرناک ردعمل کا باعث بن سکتا ہے۔پاکستانی سرزمین تک جنگ کا پھیلنا چین، بھارت اور جوہری سطح کے حساب کتاب کو متحرک کر سکتا ہے — جو موجودہ خلیجی صورتحال سے کہیں بڑا بحران بن سکتا ہے۔ایران ایک حساب شدہ، اسٹریٹجک جنگ لڑ رہا ہے — کوئی لاپرواہ جنگ نہیں۔ایک ہی وقت میں امریکہ اور اسرائیل سے لڑتے ہوئے پاکستان کے ساتھ جوہری نوعیت کا بحران چھیڑنا حکمت عملی نہیں —

بلکہ خودکشی ہے۔جب آپ ان چاروں نکات کو اکٹھا دیکھتے ہیں تو ایک بڑی تصویر سامنے آتی ہے۔ایران نے پاکستان پر حملہ نہیں کیا کیونکہ پاکستان — چاہے جان بوجھ کر یا غیر ارادی طور پر — ان تمام اسٹریٹجک مفادات کے بیچ میں کھڑا ہے جنہیں ایران محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔چین کی سرمایہ کاری۔ چین کا انفراسٹرکچر۔ سپلائی چینز۔ جوہری توازن۔ سفارتی ابہام۔ایران پاکستان پر مہربان نہیں ہے۔ایران صرف اسٹریٹجک ہے۔یہ میری رائے ہے۔میں غلط بھی ہو سکتا ہوں — لیکن فی الحال مجھے یہی نظر آ رہا ہے۔مجھے اس وقت کوئی اور مضبوط امکان دکھائی نہیں دے

‏پاکستانی مزائیل پروگرام سے متعلق متنازعہ بیان ۔ پاکستان اور امریکہ آمنے سامنے آگئے ۔ پاکستان نے تلسی گوبر کو شٹ اپ کال دے دی ۔ پاکستان کے مزائیل صرف اپنے دفاع کیلئے ہیں ۔ امریکہ کو بھارت کی 12 ہزار کلومیٹر سے زائد رینج کی حامل میزائل صلاحیتوں پر غور کرنا چاہیےپاکستان نے امریکی ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس بھارتی نژاد تلسی گبارڈ کی جانب سے پاکستانی میزائل پروگرام سے متعلق دیے گئے گمراہ کن اور حقیقت سے بعید بیان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے خطے کی تزویراتی حقیقتوں کو مسخ کرنے کی ناکام کوشش قرار دیا ہے۔ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرابی نے سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان کی تذویراتی صلاحیتیں کسی جارحانہ عزائم کا حصہ نہیں بلکہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کی حامل ہیں جن کا واحد مقصد قومی خودمختاری کا تحفظ ہے۔ انہوں نے امریکی دعوؤں کی قلعی کھولتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا میزائل پروگرام “بین البراعظمی حدِ مار” (ICBM) سے کہیں کم ہے اور یہ “قابلِ اعتبار کم از کم دفاعی صلاحیت” کے اصول پر سختی سے قائم ہے۔ترجمان نے امریکی پالیسی میں موجود کھلے تضاد کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کو پاکستان کے دفاعی پروگرام پر فرضی تشویش کے بجائے بھارت کی 12 ہزار کلومیٹر سے زائد رینج کی حامل میزائل صلاحیتوں پر غور کرنا چاہیے، جو علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے حقیقی خطرہ ہیں۔ ترکیے کے نامور تجزیہ کار شائق الدین نے بھی اس پر کڑی تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ “روس کی مدد سے تیار ہونے والا بھارت کا بین البراعظمی ذخیرہ امریکہ کو نظر کیوں نہیں آتا؟

یہ صرف اپنی مرضی سے کسی کو خطرہ قرار دینے کی بدترین مثال ہے۔”سابق سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی نے تلسی گبارڈ کے بیان کو حقیقت سے عاری قرار دیتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان کا ایٹمی نظریہ صرف اور صرف بھارت کی جانب سے لاحق خطرات کے لیے مخصوص ہے، اس کا مقصد دنیا بھر میں طاقت کا اظہار یا امریکہ کو نشانہ بنانا ہرگز نہیں ہے۔یاد رہے کہ امریکی سینیٹ کمیٹی میں سماعت کے دوران بھاری نژاد تلسی گبارڈ نے بے بنیاد دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان ایسے میزائل تیار کر رہا ہے جو امریکہ تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پاکستان نے اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں امن کے لیے امریکہ کو تعصب پسندی چھوڑ کر “حقائق پر مبنی” اور “غیر امتیازی” رویہ اختیار کرنا ہوگا۔تلسی گوبر ہندو مذہب سے تعلق رکھتی ہیں اور بھارتی نژاد امریکن ہیں ۔

‏میکرون ایمانوئل 🇫🇷 نے جنگ کے 18ویں دن ٹرمپ اور نیتن یاہو کے خلاف بغاوت کی ‏جیورجیا میلونی 🇮🇹 نے جنگ کے 13ویں دن ٹرمپ اور نیتن یاہو کے خلاف بغاوت کی ‏کئیر اسٹارمر 🇬🇧 نے جنگ کے 17ویں دن ٹرمپ اور نیتن یاہو کے خلاف بغاوت کی ‏دریں اثنا، یہ شخص ہسپانوی 🇪🇸 وزیرِاعظم پیدرو سانچیز پہلے دن ہی امریکہ اور اسرائیل کے خلاف کھڑا ہو گیا، حالانکہ ٹرمپ نے اسے تنقید کا نشانہ بنایا‏اس کی عظمت کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم رکھیں گے تو لوگ اپنا لائف سٹائل تبدیل نہیں کریں گے: وزیر پیٹرولیم,..ایران کے ساتھ مستقبل کا اعتماد ٹوٹ چکا ہے۔ ہم اپنے ملک اور اپنے وسائل کے دفاع کے لیےتمام ضروری فیصلے کریں گے۔ فیصل بن فرحان ، سعودی وزیرخارجہ. فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جمعرات کو کہا ہے کہ پاکستان میں کسی دوسرے ملک میں پیش آنے والے واقعات کی بنیاد پر تشدد کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔.. پاکستان ہاکی فیڈریشن نے27 مارچ کو کانگریس کااجلاس بلالیا.پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم رکھیں گے تو لوگ اپنا لائف سٹائل تبدیل نہیں کریں گے: وزیر پیٹرولیم.غیرت اور بےغیرتی کی انتہا.. امریکہ جنگ ھار چکا.اسلامی جمہوریہ ایران دنیا کا پہلا ملک ہے جس نے F35 جنگی طیارے کو نشانہ بنایا۔.اللہ اکب⚡ ایران نے امریکی F_35 کو مار گرایا ۔.: دنیا میں پہلی بار F35 جنگی طیارے کو نشانہ بنایا گیا.. تفصیلات کے لیے بادبان ٹی وی

انتہائی افسوسناک خبر 🥺۔۔!!کراچی سے لاہور جانے والی شالیمار ایکسپریس لاکھا روڈ کے قریب حادثے کا شکار ہو گئی، جس کے بعد ضلع نوشہرو فیروز اور نوابشاہ کے اسپتالوں میں فوری طور پر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ذرائع کے مطابق حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں، پولیس اور ضلعی انتظامیہ موقع پر پہنچ گئی، جبکہ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کرنے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ حکام کی جانب سے تمام سرکاری اسپتالوں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثے کی نوعیت اور جانی نقصان کے بارے میں مکمل تفصیلات ابھی سامنے نہیں آ سکیں، تاہم امدادی کارروائیاں تیزی

ایران کے ساتھ مستقبل کا اعتماد ٹوٹ چکا ہے۔ ہم اپنے ملک اور اپنے وسائل کے دفاع کے لیےتمام ضروری فیصلے کریں گے۔ فیصل بن فرحان ، سعودی وزیرخارجہ

کراچی: ملک بھر میں بوہری برادری آج عید الفطر مذہبی جوش و جذبے سے منا رہی ہے۔عید الفطر کا سب سے بڑا اجتماع کراچی کے علاقے صدر کی طاہری مسجد میں منعقد ہوا، جہاں بوہری جماعت سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے نمازِ عید ادا کی۔اس کے علاوہ پان منڈی، سولجر بازار، بلوچ کالونی اور حیدری سمیت مختلف علاقوں میں بھی نمازِ عید کے اجتماعات منعقد ہوئے، جہاں ملک و قوم کی بقا، سالمیت اور امن و امان کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔نماز کی ادائیگی کے بعد افراد نے ایک دوسرے کو عید کی مبارکباد دی اور خوشیاں بانٹیں۔اجتماعات کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات بھی کیے گئے تھے۔افغانستان کے ساتھ عید منانے والی

کل رات نواب شاہ سے لاہور جاتے ہوئے موٹروے پولیس نے ملتان کے قریب 2500 روپے کا چلان کر دیا اور چالان کرنے کی وجہ پوچھی گئی تو پولیس افسر نے بتایا کہموٹروے پر سپیڈ لمٹ 120 سے کم کر کے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کر دی گئی ہے اور سپیڈ لمٹ کم کرنے کی وجہ؟ پوچھنے پر پولیس افسر نے بتایا کہ دنیا اس وقت حالت جنگ میں ہے اس لیے فیول کی بچت کے لیے گورنمنٹ کی طرف سے یہ پولیسی بنائی گئی ہے (میرے چہرے پر حیرانگی کے تاثرات دیکھ کر)پولیس افسر نے مثال دے کر بتاتے ہوئے مجھے یہ بات سمجھائی٫ کہ دیکھیں سر ،آپ سکھر سے موٹروے پر چڑھے ہیں لاہور تک جاتے ہوئے اگر اپ 120 کی سپیڈ پر جاتے تو اپ کا پانچ لیٹر ایکسٹرا خرچ ہونا تھا اور اب آپ 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے جائیں گے تو اپ کے فیول کی بچت ہو جائے گی تو اپ کے فائدے کے لیے ہی یہ کیا گیا ہےمیرا 1500 بچانے کے چکر میں 2500 کا چالان کر دیا قومیں اسی طرح ترقی کرتی ہیں 🥴technalogiaCopied!

کل رات نواب شاہ سے لاہور جاتے ہوئے موٹروے پولیس نے ملتان کے قریب 2500 روپے کا چلان کر دیا اور چالان کرنے کی وجہ پوچھی گئی تو پولیس افسر نے بتایا کہموٹروے پر سپیڈ لمٹ 120 سے کم کر کے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کر دی گئی ہے اور سپیڈ لمٹ کم کرنے کی وجہ؟ پوچھنے پر پولیس افسر نے بتایا کہ دنیا اس وقت حالت جنگ میں ہے اس لیے فیول کی بچت کے لیے گورنمنٹ کی طرف سے یہ پولیسی بنائی گئی ہے (میرے چہرے پر حیرانگی کے تاثرات دیکھ کر)پولیس افسر نے مثال دے کر بتاتے ہوئے مجھے یہ بات سمجھائی٫ کہ دیکھیں سر ،آپ سکھر سے موٹروے پر چڑھے ہیں لاہور تک جاتے ہوئے اگر اپ 120 کی سپیڈ پر جاتے تو اپ کا پانچ لیٹر ایکسٹرا خرچ ہونا تھا اور اب آپ 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے جائیں گے تو اپ کے فیول کی بچت ہو جائے گی تو اپ کے فائدے کے لیے ہی یہ کیا گیا ہےمیرا 1500 بچانے کے چکر میں 2500 کا چالان کر دیا قومیں اسی طرح ترقی کرتی ہیں 🥴technalogiaCopied!

کل رات نواب شاہ سے لاہور جاتے ہوئے موٹروے پولیس نے ملتان کے قریب 2500 روپے کا چلان کر دیا اور چالان کرنے کی وجہ پوچھی گئی تو پولیس افسر نے بتایا کہموٹروے پر سپیڈ لمٹ 120 سے کم کر کے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کر دی گئی ہے اور سپیڈ لمٹ کم کرنے کی وجہ؟ پوچھنے پر پولیس افسر نے بتایا کہ دنیا اس وقت حالت جنگ میں ہے اس لیے فیول کی بچت کے لیے گورنمنٹ کی طرف سے یہ پولیسی بنائی گئی ہے (میرے چہرے پر حیرانگی کے تاثرات دیکھ کر)پولیس افسر نے مثال دے کر بتاتے ہوئے مجھے یہ بات سمجھائی٫ کہ دیکھیں سر ،آپ سکھر سے موٹروے پر چڑھے ہیں لاہور تک جاتے ہوئے اگر اپ 120 کی سپیڈ پر جاتے تو اپ کا پانچ لیٹر ایکسٹرا خرچ ہونا تھا اور اب آپ 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے جائیں گے تو اپ کے فیول کی بچت ہو جائے گی تو اپ کے فائدے کے لیے ہی یہ کیا گیا ہےمیرا 1500 بچانے کے چکر میں 2500 کا چالان کر دیا قومیں اسی طرح ترقی کرتی ہیں 🥴technalogiaCopied!

خطے میں جنگی ماحول کے باوجود کرکٹ کا میلہ بروقت سجے گا، پی سی بی نے ایچ بی ایل پی ایس ایل کی تمام ٹیموں کے ساتھ ٹریننگ شیڈول شیئر کر لیا جس کے مطابق 24 اور 25 مارچ کو پلیئرز تیاریاں جانچیں گے۔آسٹریلینز سمیت اب تک کسی غیر ملکی کھلاڑی نے اپنی فرنچائز یا بورڈ کو عدم دستیابی سے آگاہ نہیں کیا، حکام سب ہی کی آمد کے منتظر ہیں، تاحال پشاور کا واحد میچ بھی ’’آن‘‘ ہے۔تفصیلات کے مطابق پاکستان سپر لیگ کا افتتاحی مقابلہ 26 مارچ کو قذافی اسٹیڈیم میں دفاعی چیمپیئن لاہور قلندرز اور حیدرآباد کنگز مین کے درمیان ہوگا، ان دنوں مشرق وسطیٰ میں جنگ چھڑی ہوئی ہے جس کی وجہ سے فلائٹس کا شیڈول درہم برہم ہو چکا۔ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے بعد بھارت سے ٹیموں کو وطن واپسی میں بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا، حالات کی وجہ سے پی ایس ایل میں تاخیر کے خدشات بھی سامنے آئے، البتہ پی سی بی حکام کے مطابق انعقاد وقت پر ہوگا۔گزشتہ روز تمام ٹیموں کے ساتھ ٹریننگ کا شیڈول بھی شیئر کر لیا گیا جس کے مطابق 24 اور 25 مارچ کو پریکٹس سیشنز کا انعقاد ہوگا۔ 2، 2 ٹیمیں ایک وقت میں اپنی تیاریاں جانچیں گی۔مزید پڑھیں

اسلام آباد: ایف آئی اے کی بڑی کارروائی، ٹائمز امیگریشن فراڈ کا مرکزی ملزم گرفتار رپورٹ:(چوہدری ہارون اشتیاق)اسلام آباد میں امیگریشن فراڈ کے ایک بڑے اسکینڈل میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے کارروائی کرتے ہوئے ٹائمز امیگریشن فراڈ کیس کے مرکزی ملزم کو لاہور سے گرفتار کر لیا ہے۔ایف آئی اے کے مطابق ملزم ایک منظم نیٹ ورک کے ذریعے ہزاروں شہریوں کو بیرون ملک ملازمت اور ویزا فراہم کرنے کے نام پر دھوکہ دیتا رہا اور اس دوران کروڑوں روپے کا فراڈ کیا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ ملزم نے جعلی ناموں سے امیگریشن کمپنیاں قائم کر رکھی تھیں جن کے ذریعے شہریوں سے بھاری رقوم وصول کی جاتی تھیں۔حکام کا کہنا ہے کہ اس اسکینڈل میں تقریباً 25 کروڑ روپے کے فراڈ کا سراغ ملا ہے جبکہ ملزم کے زیر استعمال متعدد بینک اکاؤنٹس بھی ٹریس کر لیے گئے ہیں۔ مزید یہ کہ فراڈ سے حاصل ہونے والی رقم سے ملزم نے مختلف جائیدادیں بھی خرید رکھی تھیں۔تحقیقات کے دوران ملزم کے بیرون ملک روابط، خاص طور پر متحدہ عرب امارات سے تعلقات کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔ ایف آئی اے نے لاہور میں کارروائی کے دوران ملزم کی ایک اور جعلی ویزا کمپنی بھی بے نقاب کر دی ہے۔ایف آئی اے نے متاثرہ شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی شکایات کے اندراج اور مزید کارروائی کے لیے ایف آئی اے لاہور زون سے رابطہ کریں۔ مزید تحقیقات جاری ہیں اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس کیس میں مزید اہم گرفتاریاں بھی عمل میں آ سکتی ہیں۔Federal Investigation Agency – FIA #chuadhrayharoonishtiaq

فیتہ کو آگ لگ گئی ہے ۔اظہر سیدامریکہ کو عظیم سمجھنے والے سمجھتے رہیں لیکن حقیقت یہی ہے 38 کھرب ڈالر کی مقروض سپر پاور کی ناک کٹ کر ہاتھوں میں آچکی ہے ۔ وینزویلا اور ایران پر چڑھائی سے پہلے اپنی پھٹی ہوئی کان دنیا کی نگاہوں سے بچانے کیلئے درآمدات پر بھاری ٹیکس ہی عائد نہیں کئے اپنے ان گننت ادارے بھی بند کر دئے ۔یو ایس ایڈ کے دنیا بھر میں آپریشن ہی بند نہیں کئے دنیا کے تمام ممالک کو دی جانے والی امداد بھی بند کر دی ۔اس وقت صرف دو ملک امریکہ سے امداد لے رہے ہیں ایک اسرائیل اور دوسرا افغانستان ۔ناک اس بری طرح پھٹ چکی ہے قرضوں کی ادائیگی اور وسائل میں اضافہ کیلئے کبھی غزہ میں تعمیراتی منصوبے شروع کرنے اور کبھی گرین لینڈ پر قبضے کے منصوبے بناتے ہیں ۔کبھی کینیڈا کے وسیع رقبہ پر قبضہ کرنے اور وسائل بڑھانا کا سوچتے ہیں کبھی کیوبا پر قبضہ کرنے کی تڑیاں لگاتے نظر آتے ہیں ۔سچ صرف اتنا ہے بے پناہ قرضوں سے سپر پاور کی ناک پھٹ کر ہاتھ میں آگئی ہے ۔ایک طرف چین کی دیو ہیکل صنعتی مشین کو درکار تیل کی فراہمی روکنے کیلئے وینزویلا کے صدر کو اغواء کرتے ہیں اور کبھی ایران کے سپریم لیڈر کو مارتے ہیں۔سپر پاور کی حقیقت دنیا بھر کی ریاستوں پر کھل چکی ہے ۔ہمیشہ کی پالتو مغربی جمہوریتیں امریکی بالادستی کو قصہ پارینہ سمجھ کر چین سے دوستی کی پینگیں بڑھانے لگی ہیں

۔ ہمیشہ کی غلام عرب ریاستیں امریکی دباؤ کے بعد امریکی منت ترلوں پر بھی توجہ نہیں دے رہیں ایران پر جوابی حملے نہیں کر رہیں ۔ایران کے سارے میزائل لانچر تباہ کر دیں ۔شہروں میں تباہی مسلط کر دیں ۔کامیابی پھر بھی نہیں ملنے والی ۔زمینی افواج بہت بڑے اور وسیع ایران میں بھیجنی پڑیں گی ۔ایٹمی ہتھیار استعمال کرنا پڑیں گے ۔اسکی قیمت ہو گی جو زوال بتدریج سپر پاور پر آرہا ہے اسکی رفتار سپرسانک میزائل کی طرح تیز ہو جائے گی ۔دنیا اب کبھی پہلے جیسی نہیں رہے گی ۔ایران جنگ کا آغاز سپر پاور کے زوال کی نوید ہو گا ۔

پاسد-اران انقلا-ب نے امریکہ کے جدید لڑاکا طیارے ایف 35 کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیاہے تاہم ترجمان سینٹ کام کا کہناہے کہ طیارہ بحفاظت لینڈ کر گیاہے اور پائلٹ کی حالت مستحکم ہے۔الجزیرہ کے مطابق پاسد-اران انقلا-ب کا کہناہے کہ امریکہ کے جدید سٹیلتھ لڑاکا طیارے ایف 35 کو فائرنگ کے ذریعے نشانہ بنایا گیاہے ۔سینٹ کام کے ترجمان ٹم ہاکنز نے بیان میں کہا کہ طیارہ ایران کے اوپر جنگی مشن پر پرواز کر رہا تھا، طیارے کو بحفاظت لینڈ کروا لیا گیاہے اور پائلٹ کی حالت بھی مستحکم ہے۔ایف 35 لڑاکا طیارے کی قیمت 100 ملین ڈالر سے بھی

اب انوسٹر انہی ممالک کا رخ کریں گے جو دفاعی طور پر محفوظ ہونگے پاکستان اگر اپنا ٹیکس سسٹم ، کرپشن سے پاک نظام حکومت اور نظام انصاف ٹھیک کر لے تو مستقبل قریب میں پاکستان لاکھوں بیرونِ ملک انوسٹرز کو اپنی طرف متوجہ کر سکتا ہے پاکستان ایٹمی قوت ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین جغرافیائی محل وقوع پر واقع 17 کروڑ با صلاحیت نوجوانوں کی آبادی کا ملک ہےاگر ہم اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھاتے تو یقیناً پاکستان اور پاکستانی عوام کی بدقسمتی ہو گی

ستھرا پنجاب پروجیکٹ میں بے ضابطگیوں پروزیراعلی پنجاب کوخط لکھ دیاگیاخط کی کاپی چیئرمین نیب،گورنر پنجاب اور چیف سیکرٹری پنجاب کوبھی ارسالیہ خط قانون دان کی جانب سے بھجوایاگیاہےاربوں روپے کے منصوبے میں مالی بے ضابطگیوں اور شفافیت کی کمی سوالیہ نشان ہے۔متنمنصوبے میں پروکیورمنٹ قوانین کی مبینہ خلاف ورزیاں سامنے آئی ہیں۔متنمنصوبے کی فزیبلٹی، ٹینڈرنگ اور مالی ساخت کی تفصیلات منظرعام پر نہیں لائی گئیں۔متنمنصوبہ ممکنہ طور پر قانونی و مالی منظوریوں کے بغیر شروع کیا گیا۔متنپی اینڈ ڈی بورڈ کےطریقہ کار کو بائی پاس کرنے کرکےمنصوبے جاری ہوئے۔متنمسابقتی بولی کے عمل اور ٹھیکوں کی شفاف تقسیم پربھی سوالیہ نشان ہے۔متناجارہ داری کی بناء پرمن پسند اور بااثر شخصیات کوٹھیکوں سے نوازاگیا۔متنٹھیکوں میں عوامی فنڈز اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا خدشہ ہے۔متننیب، ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن کو فرانزک تحقیقات کا حکم دیاجائے۔متنپی سی ون، ٹینڈر دستاویزات، کنٹریکٹس اور آڈٹ رپورٹس جاری کی جائیں۔متنتحقیقات مکمل ہونے تک فنڈز کے اجرا اور منصوبے پر کام روکاجائے۔متنمقررہ مدت میں معلومات نہ دینے پر آئینی درخواست دائر کی جائے گی۔متن……..

عید سے ایک روز قبل ہی قصائیوں نے سرکاری نرخنامہ کی دھجیاں اڑا دیں , چھوٹا گوشت ،2600 سے لے کر 2800 روپے بڑا گوشت 1300 سے لے کر 1500 روپے تک فروخت ضلعی انتظامیہ کہاں ؟؟؟

ستھرا پنجاب پروجیکٹ میں بے ضابطگیوں پروزیراعلی پنجاب کوخط لکھ دیاگیاخط کی کاپی چیئرمین نیب،گورنر پنجاب اور چیف سیکرٹری پنجاب کوبھی ارسالیہ خط قانون دان کی جانب سے بھجوایاگیاہےاربوں روپے کے منصوبے میں مالی بے ضابطگیوں اور شفافیت کی کمی سوالیہ نشان ہے۔متنمنصوبے میں پروکیورمنٹ قوانین کی مبینہ خلاف ورزیاں سامنے آئی ہیں۔متنمنصوبے کی فزیبلٹی، ٹینڈرنگ اور مالی ساخت کی تفصیلات منظرعام پر نہیں لائی گئیں۔متنمنصوبہ ممکنہ طور پر قانونی و مالی منظوریوں کے بغیر شروع کیا گیا۔متنپی اینڈ ڈی بورڈ کےطریقہ کار کو بائی پاس کرنے کرکےمنصوبے جاری ہوئے۔متنمسابقتی بولی کے عمل اور ٹھیکوں کی شفاف تقسیم پربھی سوالیہ نشان ہے۔متناجارہ داری کی بناء پرمن پسند اور بااثر شخصیات کوٹھیکوں سے نوازاگیا۔متنٹھیکوں میں عوامی فنڈز اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا خدشہ ہے۔متننیب، ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن کو فرانزک تحقیقات کا حکم دیاجائے۔متنپی سی ون، ٹینڈر دستاویزات، کنٹریکٹس اور آڈٹ رپورٹس جاری کی جائیں۔متنتحقیقات مکمل ہونے تک فنڈز کے اجرا اور منصوبے پر کام روکاجائے۔متنمقررہ مدت میں معلومات نہ دینے پر آئینی درخواست دائر کی جائے گی۔متن……..#LatestUpdates #LatestNews #news #BreakingNews

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پولیس سروس آف پاکستان کے سینئر افسر میاں عامر ذوالفقار خان کی ترقی نہ دینے اور انہیں طویل عرصے تک او ایس ڈی رکھنے کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ہائی پاورڈ سلیکشن بورڈ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس انعام امین منہاس نے 27 فروری 2026 کو دیے گئے فیصلے میں قرار دیا کہ درخواست گزار، جو گریڈ 21 کے سینئر افسر ہیں، کو گریڈ 22 میں ترقی کے لیے شفاف اور منصفانہ انداز میں زیر غور نہیں لایا گیا جبکہ ان کے جونیئر افسران کو ترقی دے دی گئی۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ ہائی پاورڈ سلیکشن بورڈ نے درخواست گزار کے خلاف مالی دیانت اور اختیارات کے غلط استعمال جیسے الزامات عائد کیے مگر ان کی کوئی ٹھوس بنیاد ریکارڈ پر موجود نہیں تھی۔عدالت کے مطابق بورڈ نے مجاز قواعد کے برعکس ذاتی آراء اور غیر مصدقہ معلومات پر انحصار کیا، جبکہ درخواست گزار کی کارکردگی رپورٹس کو تسلیم کرنے کے باوجود انہیں کم درجہ بندی دی گئی جو منطقی تضاد ہے۔ مزید برآں درخواست گزار کو ان الزامات سے آگاہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی صفائی کا موقع دیا گیا،

جو کہ آئین کے آرٹیکل 10 اے کے تحت منصفانہ ٹرائل کے حق کی خلاف ورزی ہے۔عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ درخواست گزار کو جنوری 2023 سے او ایس ڈی رکھنا، بغیر کسی واضح وجہ اور ذمہ داری کے، ایک غیر قانونی اور من مانی کارروائی تھی جس کا مقصد افسر کو عملی طور پر سائیڈ لائن کرنا تھا۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں ہدایت کی کہ درخواست گزار کے کیس پر دوبارہ غور کیا جائے اور اس بار صرف سرکاری سروس ریکارڈ کو مدنظر رکھا جائے، کسی ذاتی تاثر یا غیر مستند معلومات کو شامل نہ کیا جائے۔عدالت نے واضح کیا کہ ترقی کے لیے غور محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ حقیقی اور منصفانہ ہونا چاہیے، اور کسی بھی سرکاری ملازم کے خلاف دیانت سے متعلق الزامات ٹھوس شواہد پر مبنی ہونا لازمی ہیں، بصورت دیگر ایسے فیصلے کالعدم تصور ہوں گے۔

عدالت نے واضح کیا کہ ترقی کے لیے غور محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ حقیقی اور منصفانہ ہونا چاہیے، اور کسی بھی سرکاری ملازم کے خلاف دیانت سے متعلق الزامات ٹھوس شواہد پر مبنی ہونا لازمی ہیں، بصورت دیگر ایسے فیصلے کالعدم تصور ہوں گے۔

بلوچستان کے علاقے دکی میں سکیورٹی فورسز پر بزدلانہ حملہ، قیمتی جانوں کا نقصان۔فرنٹیئر کور کے جوان مادرِ وطن پر قربان ہو گئے۔ یہ عظیم سپوت اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے۔ان کی بہادری، قربانی اور حب الوطنی کو پوری قوم سلام پیش کرتی ہے۔۔

پاکستان نے جوابی کارروائی کرتے ھوے بمباروں اور انکے ھینڈلرز کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ بغداد میں موجود امریکی سفارت خانے پر حملہ اسرائیلی میڈیا: حزب اللہ نے کم از کم 20 میزائل الجلیل میں اسرائیلی فوج کی پوزیشنوں پر داغے ہیں.*امریکہ نے معاشی بحران کے باعث 90 ارب ڈالر کے بانڈز فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے
…23 مارچ کی تقریبات منسوخ وزیر اعطم ھاوس۔۔فٹ بال ورلڈ کپ سے متعلق ای-را-ن کا بڑا مطالبہ سامنے آگیا.. تفصیلات بادبان ٹی وی پر

*23 مارچ کویومِ پاکستان پریڈ اور اس سے منسلک تمام تقریبات منعقد نہیں کی جائیں گی: وزیراعظم آفس*اسلام آباد: وزیر اعظم آفس سے جاری اعلامیے کے مطابق 23 مارچ کویومِ پاکستان کی پریڈ اور اس سے منسلک تمام تقریبات منعقد نہیں کی جائیں گی۔

وزیر اعظم آفس سے کفایت شعاری اقدامات پر عملدرآمد کے حوالے سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ 23 مارچ کو یوم پاکستان وقار اور احترام کے ساتھ سادہ پرچم کشائی کی تقریبات کے ساتھ منایا جائے گا۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یومِ پاکستان کے نظریات سے وابستگی کے ساتھ وسیع ترکفایت شعاری پالیسی کوبھی برقرار رکھا جائے، تمام وزارتوں، ڈویژنز اور محکموں کو ہدایت کی جاتی ہےکہ یوم پاکستان سادگی اور پر وقار طریقے سے منائیں۔وزیر اعظم آفس کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ محدود تقریبات کے باوجود اس دن کی اہمیت اور اس کا حقیقی پیغام اجاگر کیا جائے۔

امریکا میں ایران کے ساتھ جاری جنگی صورتحال پر اختلافات بڑھنے لگے ہیں، جس کے نتیجے میں اعلیٰ سرکاری سطح پر بھی دراڑیں نمایاں ہو رہی ہیں۔اسی تناظر میں امریکا کے قومی انسدادِ دہشت گردی مرکز کے ڈائریکٹر Joe Kent نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے

۔رپورٹس کے مطابق ایران کے معاملے پر پالیسی اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں اور یہ تنازع صدر Donald Trump کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے، کہا جا رہا ہے کہ اہم اتحادیوں کے بعد اب سرکاری افسران بھی اس پالیسی سے اختلاف کرتے ہوئے علیحدگی اختیار کر رہے ہیں۔اپنے بیان میں جو کینٹ نے کہا کہ انہوں نے گہرے غور و فکر کے بعد استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا،

ان کا کہنا تھا کہ وہ ایران کے خلاف جاری جنگ کی حمایت نہیں کر سکتے کیونکہ ان کے مطابق ایران سے امریکا کو کوئی فوری خطرہ لاحق نہیں ہے۔اس استعفے نے امریکی پالیسی سازی کے اندر موجود اختلافات کو مزید واضح کر دیا ہے، جبکہ یہ پیش رفت ایران کے معاملے پر عالمی سطح پر جاری بحث کو بھی نئی جہت دے سکتی ہے۔

*امریکہ نے معاشی بحران کے باعث 90 ارب ڈالر کے بانڈز فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے**جنوبی لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیلی دشمن کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں*

حکومت یا ڈاکو خانہ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

حکومت کی ایک اور حرام خوری۔ ایک نئی قسم کا فکسڈ ٹیکس متعارف کرا دیا گیا ہے۔ اب اگر آپ بجلی کا ایک یونٹ بھی استعمال نہ کریں تب بھی آپ کو اس کی ادائیگی کرنی پڑے گی۔ یہ ٹیکس منظور شدہ لوڈ (Sanctioned Load) کی بنیاد پر لگایا گیا ہے، یعنی آپ کا جتنا منظور شدہ لوڈ ہوگا، اسی کے مطابق آپ سے رقم وصول کی جائے گی چاہے آپ ایک یونٹ بجلی بھی استعمال نہ کریں۔مزے کی بات یہ ہے کہ میری کل بجلی کی لاگت Rs. 2,176.68 ہے، اور اس پر منظور شدہ لوڈ کا فکسڈ ٹیکس Rs. 982.19 ہے، اور زُل یہ کہ اس فکسڈ ٹیکس پر بھی 17% GST لگا دیا گیا ہے۔ بے شرم حکومت!اس حکومت کو سلام — پتہ نہیں ایسے آئیڈیاز کہاں سے لاتے ہیں۔ صرف یہی ٹیکس میرے کل بجلی کے بل کا تقریباً 50 فیصد بن رہا ہے۔ شرم آنی چاہیے اس حکومت کو، اور ہمیں بھی، کیونکہ ہمارے اندر اس کے خلاف کھڑے ہونے کی ہمت نہیں ہے۔

انا للہ وانا علیہ راجعون!!علی لاریجانی ایران کے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر سابق اسپیکر اور اہم ترین راہنما تھے وہ چند ماہ پہلے پاکستان کے دورہ پر آئے تو 12 روزہ جنگ میں ساتھ دینے پر پاکستانی عوام اور حکومت کا شکریہ ادا کیا اور ساتھ کہا ایران پاکستان کے لئے بلینک چیک ہے جیسے چاہے استعمال کرے وہ آج اسرائیلی حملہ میں شہید ہو گئےپاکستان نے اپنا بہترین دوست اور ایران نے اپنا عزیم رہنما کھویا ہے

l

جن لوگوں کے مفادات زیرو ہوتے ہیں وہ اپوزیشن کا کردار ادا کرتے ہیں۔۔۔ پروفیسر اب تمہیں یہ کون سمجھائے۔۔۔سب رولڈ گولڈ ہے ایف بی آر کا ایک ایسا افسر جس کے اثاثے 50 ارب وہ افسر کون؟ سینیٹر پلوشہ خان کا مہنگائی کا بوجھ حکومت برداشت نہ کر سکی دل پر پتھر رکھ کے 9 کروڑ کی مہنگی گاڑی چیئرمین سینیٹ کیلئے خرید لی۔10 کروڑ کی بھی خریدتے تو تم کیا کر لیتے؟؟ وفاقی وزیر سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ محلہ غفور آباد چنیوٹ میں مستحق خواتین میں عید کے لیے 3۔پیس سوٹ تقسیم کر رہے ہیں کرپشن 200 ارب روپے تک پہنچ گئی عزیز آلہ کرپشن کا بےتاب بادشاہ باٹھ روم کے ویزے پر جانے والہ بلقیاس بلقیاس بی بی کے روپ میں کچن کے ٹھیکیدار فرحان قریشی کا زاتی ملازم ڈی جی کا سٹاف افیسر کیسے بنا باورچی کھانے کے ٹھیکیدار نوید گجر فرحان قریشی جو مری ھوی مرغیاں کھلانے کے باوجود تھیکے لے اڑے نوید عزیز اللہ کا فرنٹ مین المشہور سرگودھا ھوٹل والہ جو خود تندورچی ھے شاکر کی شاطریاں اور لوٹ مار بھائیوں کی جوڑی مکمل وزارت مذہبی امور کرپشن کا گڑھ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

آپریشن غضب للحق ، پاک افواج کے افغانستان میں کامیاب فضائی حملے*پاک افواج نے 16 مارچ کی شب کابل اور ننگر ہار میں افغان طالبان فوجی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا ، *سیکیورٹی ذرائع*ان حملوں میں پاک افواج نے کابل میں دو مقامات پر ٹیکنیکل سپورٹ انفراسٹرکچر اور ایمونیشن سٹوریج کو موثر انداز میں تباہ کیا ، *سیکیورٹی ذرائع* *ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ* فضائی حملے کے بعد سیکنڈری ڈیٹونیشن کی وجہ سے بلند ہوتے شعلے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ بارود کا بہت بڑا ذخیرہ تھا *سیکیورٹی ذرائع*افغان طالبان کے ترجمان ذبیع اللہ مجاہد کا ڈرگ ہسپتال کو نشانہ بنانے کا بیان مضحکہ خیز ہے ، *سیکیورٹی ذرائع*ننگر ہار میں کاروائی کرتے ہوئے پاک افواج نے چار مقامات پر افغان طالبان کی ملٹری تنصیبات کو بھی کامیابی سے نشانہ بنایا *سیکیورٹی ذرائع*ننگر ہار میں فضائی کاروائیوں کے دوران ملڑی تنصیبات سے ملحقہ لاجسٹک ، ایمونیشن، ٹیکنیکل انفراسٹرکچر کو بھی تباہ کیا گیا *سیکیورٹی ذرائع**آپریشن غضب للحق کے تحت کارروائیاں اہداف کے حصول تک جاری رہیں گی*

🚨 ٹرمپ کی پکار اور جرمنی کا صاف انکار: ہرمز اتحاد ناکام، اور دنیا خوراک کے بحران کے دہانے پر! 🌾📉دوستو! چند گھنٹے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مکار نے فاکس نیوز پر آ کر اعلان کیا کہ وہ یورپی اتحادیوں اور علاقائی حکومتوں کو کال کر رہا ہے تاکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک “عالمی اتحاد” بنایا جا سکے۔اور چند ہی گھنٹوں بعد… جرمنی (Germany) نے صاف انکار کر دیا!جرمن حکومت کے ترجمان کا آج کا باضابطہ بیان ذرا غور سے پڑھیں:”جب تک یہ جنگ جاری ہے، ہماری کوئی شرکت نہیں ہوگی، یہاں تک کہ آبنائے ہرمز کو فوجی طاقت کے ذریعے کھلا رکھنے کی کسی بھی کوشش میں بھی ہم حصہ نہیں لیں گے۔”یہ وہ لمحہ ہے جب مارکیٹ کی وہ تمام خوش فہمیاں دم توڑ گئیں کہ ہرمز کا مسئلہ چند دنوں میں حل ہو جائے گا۔آئیے اس سفارتی زلزلے کا ڈیپ انالیسس کرتے ہیں:🤦‍♂️ جرمنی کی حیران کن چال

:ذرا سوچیں کہ ابھی کیا ہوا ہے۔ امریکہ نے یورپ کی سب سے بڑی معیشت سے مدد مانگی ہے—وہ ملک جس نے روسی انرجی بحران میں سب سے زیادہ امریکی مدد لی، اور وہ نیٹو اتحادی جسے خلیجی توانائی کی سب سے زیادہ ضرورت بھی رہتی آئ ہے۔اس 33 کلومیٹر کے سمندری راستے سے دنیا کی ایک تہائی (1/3) فرٹیلائزر (کھاد) اور عالمی تیل کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔لیکن جرمنی نے کیا کہا؟ “اس کا نیٹو سے کوئی تعلق نہیں ہے،” اور وہ پیچھے ہٹ گیا۔

● جاپان پہلے ہی انکار کر چکا ہے۔● آسٹریلیا پہلے ہی انکار کر چکا ہے۔● امریکی نیوی 12 مارچ کو تصدیق کر چکی ہے کہ وہ اکیلے سیکیورٹی دینے کے لیے “تیار نہیں” ہے۔ٹرمپ 7 ممالک سے جنگی جہاز مانگ رہا ہے، اور آج شام تک کنفرم کمٹمنٹس کی تعداد کیا ہے؟ پتا ہے؟… زیرو (Zero)!⏱️ دو گھڑیاں جو کبھی نہیں ملیں گی:اب ذرا کیلنڈر پر ریاضی کا حساب لگائیں۔فرض کریں کہ اگلے ہفتے کوئی جادوئی اتحاد بن بھی جاتا ہے۔ اس 33 کلومیٹر کے راستے سے ایرانی بارودی سرنگوں کو صاف کرنے میں پھر بھی مہینوں لگیں گے۔ پھر انشورنس کمپنیوں کو اپنا حساب دوبارہ کرنے میں جو وقت لگے گا وہ الگ۔دوسری طرف زراعت کا کیلنڈر دیکھیں:● امریکی کارن بیلٹ (Corn Belt): انہیں وسط اپریل تک نائٹروجن چاہیے۔● انڈیا: انہیں مئی تک ‘خریف’ کی فصل کی تیاری کے لیے کھاد چاہیے۔

● آسٹریلیا: انہیں جون تک یوریا چاہیے۔کیا آپ کو مسئلہ سمجھ آ رہا ہے؟فوجی اتحاد بننے کا وقت “مہینوں” میں ناپا جا رہا ہے، جبکہ فصلیں بونے کا وقت “ہفتوں” میں ختم ہو رہا ہے! یہ دونوں ٹائم لائنز آپس میں نہیں ملتیں۔ دنیا 2026 کے آخر میں جو کھانا کھائے گی، اس کا فیصلہ مٹی کی کیمسٹری کر رہی ہے، نہ کہ یہ بات کہ کون سا وزیرِ خارجہ ٹرمپ کا فون اٹھاتا ہے۔☠️ عالمی غذائی قلّت؟ ● دنیا بھر میں ٹریڈ ہونے والی 49% یوریا (Urea) خلیجی ممالک سے آتی ہے۔

اس کی سپلائی 97% تک گر چکی ہے۔● بنگلہ دیش: چاول کے سیزن کے عین وسط میں 6 میں سے 5 یوریا فیکٹریاں بند ہو چکی ہیں۔● انڈیا: اس نے باقاعدہ چین سے ایمرجنسی یوریا مانگا ہے۔ جواب میں چین نے اگست تک فاسفیٹ (Phosphate) کی ایکسپورٹ پر ہی پابندی لگا دی ہے!● مصر (Egypt): اپنے 6 کروڑ 90 لاکھ لوگوں کو روٹی کی سبسڈی دینے کے لیے اپنے غیر ملکی ذخائر پانی کی طرح بہا رہا ہے۔🛑 کھاد کے بغیر انشورنس کا کیا کریں گے؟جرمنی کی گیس کی قیمتیں (TTF) بندش کے بعد سے 45 سے 60 فیصد بڑھ چکی ہیں، اور بظاھر ان کی GDP گر رہی ہے۔ پھر بھی وہ اسی گیس کے راستے کو محفوظ بنانے میں حصّہ داری لے کر ایران کے مقابل آنا نہیں چاہ رہے-امریکی حکومت کی 20 ارب ڈالر کی DFC انشورنس کا کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ انشورنس صرف مالی نقصان پورا کرتی ہے، وہ سمندر سے وہ بارودی سرنگیں صاف نہیں کرتی-کیا آپ کو لگتا ہے دنیا امریکہ مکار کی چالوں کو سمجھنے لگی ہے اسی لئے کوئی ساتھ نہیں آ رہا ؟👇

متحدہ عرب امارات کے مختلف علاقوں میں پیر کے روز میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے جس کے نتیجے میں دارالحکومت ابو ظہبی میں ایک شہری ہلاک ہو گیا جبکہ دبئی بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب ایندھن کے ٹینک میں آگ لگنے سے فضائی سفر متاثر ہوا

متحدہ عرب امارات کے مختلف علاقوں میں پیر کے روز میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے جس کے نتیجے میں دارالحکومت ابو ظہبی میں ایک شہری ہلاک ہو گیا جبکہ دبئی بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب ایندھن کے ٹینک میں آگ لگنے سے فضائی سفر متاثر ہوا۔ حکام کے مطابق ایک ڈرون سے متعلق واقعے کے بعد ہوائی اڈے کے قریب ایندھن کے ذخیرے میں آگ بھڑک اٹھی جس کے باعث پروازوں میں خلل پڑا۔ بعد ازاں حکام نے بتایا کہ آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔مشرقی امارت فجیرہ میں بھی تیل کی تنصیبات پر ڈرون حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں آگ لگ گئی۔ چند روز قبل اسی امارت میں ایک بڑی توانائی کی تنصیب سے دھواں اٹھتا بھی دیکھا گیا تھا۔

امریکہ کی صحافت طوائف گھری ھوی ھے تماش بینوں میں۔۔اسلام آباد میں کرفیو زندگی سسکیاں لینے پر مجبور جنازے بھی نہیں پڑھے جا سکے۔۔جمعہ کے روز اسلام آباد کو کلب سے آنے والے سمیت تمام انٹری ایگزٹ کے راستے سیل کر دئیے گئے۔۔سیونتھ اور ایٹتھ نیتھ ایونیو مکمل طور پر سیل فون بند۔۔بلیو ایریا مکمل طور پر لاک ڈاون سمیت عوام جمعہ کے نماز سے محروم۔۔پریس کلب الیکشن بڑے اپ سیٹ خالد اور نئیر کو شکست۔دھشت گردی کا خطرہ الرٹ جاری۔۔اسلام آباد میں دو عدد ڈرون بھیجنے والا دہشتگرد ہری پور سے گرفتار۔افگانڈو افغان وزارت دفاع کا اہلکار ہے ۔ہری پور سے ڈرون اڑائے تھے ۔عرب ممالک نے امریکہ کو اڈے ،میزائل ریڈار جس دن دیے اسی دب ہی خودمختاری اور سالمیت ختم ہوگئی تھی ۔لیفٹیننٹ جنرل(ر) معین الدین حیدر۔۔اڈے ،میزائل ریڈار جس دن دیے اسی دب ہی خودمختاری اور سالمیت ختم ہوگئی تھی۔اب اگر حملے ھور ھے تو ذمہ دار ایران نھی عرب ممالک خود ھے۔۔اب دوبئ کی ٹریڈنگ بذریعہ پاکستان ہو رہی ہے کنٹینرز جہازوں میں گراچی آ رہے ہیں۔۔اسرائیلیوں کی رات کی نیندیں حرام ہو چکی ہیں ،مزید تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

دنیا بدل گئی ہے ۔ اظہر سید امریکہ کو کسی نے نہیں ڈبویا یہ کیپٹلزم کے گھاٹ اترا ہے ۔سپر پاور کی کہانی اسی طرح ختم ہو رہی ہے جس طرح ماضی کی عظیم سلطنتیں فنا کے گھاٹ اتریں۔ایران پر حملہ اونٹ کی کمر پر تنکہ ہے جس کا بوجھ اٹھایا جانا ممکن نہیں رہا ۔سب کو حقیقت کا پتہ چل گیا ہے ۔ایرانی جنگ بندی کا معاوضہ مانگنے لگے ہیں ۔سعودی عرب نے ایران پر حملہ نہیں کیا امریکی شکوہ کرنے لگے ہیں۔کیپٹلزم خود غرض ہے ۔ یہ کیپٹلزم بیس سال تک امریکہ کو افغانستان میں بٹھا کر اس کا دودھ نکالتا رہا ۔ایک امریکی فوجی کی عینک ،کپڑے اور جسم پر سجے دوسرے سازو سامان سے دو سو سے زیادہ جونکیں خون چوستی رہیں ۔کھربوں ڈالر کے اخراجات کے بعد جب ہاتھی نڈھال ہو گیا تو ان جونکوں یعنی جنگی صنعتوں نے امریکہ کو افغانستان سے نکلنے کی اجازت دے دی۔جنگی صنعت کے منہ کو جو خون لگ چکا ہے اس نے پہلے وینزویلا پر حملہ کروایا پھر ایران پر چڑھ دوڑا ۔مارکیٹ میں دوسرے کھلاڑی بھی موجود ہیں۔جب جونکیں امریکی معیشت کو چوس رہی تھیں چینی خاموشی سے ترقی کرتے جا رہے تھے ۔آپریشن سیندور کے بعد بھارت کی دھوتی اتری ایران پر حملہ امریکی دھوتی اتار دے گا ۔سعودی عرب اس لئے ایران پر حملہ نہیں کر رہا باقیوں کی طرح سعودیوں کو بھی پتہ چل چکا ہے ہاتھی دم توڑ رہا ہے ۔اردن،قطر،عراق ،بحرین شام کسی نے ایران پر حملہ نہیں کیا باوجود اس کے ایرانی میزائل انہیں نشانہ بناتے رہے ۔ظلم تو یہ کرد بھی امریکیوں کے قابو میں نہیں آئے ۔کوئی دن جاتا ہے ایران جنگ ختم ہو جائے گی ۔امریکی دھوتی اتر جائے گی ۔خلیج کی ساری ریاستیں امریکیوں کے اثر سے آزاد ہو جائیں گے ۔دنیا کو چلانے کے نئے اصول وضع ہونگے ۔

گورباچوف نے پسپائی کا فیصلہ کر کے دنیا کو ایٹمی جنگ سے بچا لیا تھا ۔سوویت یونین کو تحلیل کر دیا تھا ۔سوویت یونین چاہتا تو دنیا کو تین مرتبہ تباہ کر سکتا ہے ۔خود بھی مرتا ساری دنیا کو بھی مار دیتا لیکن روسی انسانیت کے محسن ثابت ہوئے ۔امریکی معیشت بھی سوویت معیشت کی طرح برباد ہو چکی ہے ۔ملٹی نیشنل کمپنیوں نے سپر پاور کو کھا لیا ہے ۔امریکی اسی جگہ پر کھڑے ہیں جہاں کبھی سوویت یونین کھڑا تھا۔وہی آپشن امریکہ کے پاس ہے جو کبھی سوویت یونین کے پاس تھا ۔ایٹمی ہتھیار استعمال کریں اور ایران کو شکست دے دیں یا پسپا ہو جائیں ۔امریکی ریاستوں کو آزاد ہونے کی اجازت دے دیں ۔سوویت یونین نے ایٹمی ہتھیار استعمال نہیں کئے تھے ۔دیکھنا یہ ہے امریکی کیا فیصلہ کرتے ہیں ۔ایران میں ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار استمال کئے یا روایتی ایٹم بم استعمال کیا پورے خلیج کا نقشہ تبدیل ہو گا اور ساتھ میں دنیا کا نقشہ بھی بدلے گا

۔دوسری جنگ عظیم میں صرف امریکیوں کے پاس جوہری ہتھیار تھے آج پانچ نہیں سات ایٹمی طاقتیں ہیں ۔کر لیں ایران میں ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال اور لے آئیں دنیا کو اس سطح پر جہاں اگلی عالمی جنگ پتھروں سے لڑی جائے ۔

ہم ایسے محب وطن ہیں صحافت کی آڑ میں اس مٹی کے خلاف اپنا خبیث باطن ظاہر کرتے ہیں ۔کھاتے یہاں سے ہیں پلیٹ میں کھایا ہوا ہگتے ہیں ۔اقوام متحدہ میں ایک قرار داد سعودی عرب اور عرب امارات پر حملہ کی تھی ۔بیس ارب ڈالر سے زیادہ زرمبادلہ یہاں سے آتا ہے ۔ہم ایسے غلیظ ہیں خبر بناتے ہیں گویا اپنے اندر کا گند باہر نکالتے ہیں “پاکستان نے ایران کے خلاف قرارداد کے حق میں ووٹ دیا”اتنے گندے ہیں پاکستان نے ایران پر امریکہ اسرائیل حملہ کی مذمت کی اور دوسری قرارداد کے حق میں ووٹ دیا ۔ایران نے پاکستان کا شکریہ ادا کیا چونکہ کتے کے بچے ہیں اس کا زکر ہی گول کر دیا ۔ مٹی سے وفا ہر جنٹلمین کے خمیر میں ہوتی ہے چونکہ ہم خنجر ہیں اس لئے اس مٹی سے وفا ممکن ہی نہیں ہاں نوکری یہاں کرنا ہے ۔پیسے یہاں سے کمانے ہیں لیکن خنجر ہیں اس لئے گندگی بھی یہاں ہی کرنا ہے ۔پختون،پنجابی،بلوچ،سندھی ہم سب ایک ہیں ۔یہ ملک ہم سب کے بچوں کی چھت ہے ۔

جو اس مٹی میں گھس بیٹھئے ہیں وہ چن چن کر ایسی چیزیں لاتے ہیں ایک دوسرے سے نفرت پھیلے ۔وفاق کمزور ہو ۔جو معاشرہ تباہی کے گھاٹ اترے پیچھے ایسے ہی دلال ہوتے ہیں جنہوں نے معاشرے میں بھائی چارہ کی بجائے نفرت پھیلائی ہوتی ہے ۔ انتشار پیدا کیا ہوتا ہے۔ہم ایسی ذہنیت کو جانتے ہیں ۔پہچانتے ہیں۔سدباب کرنا بھی آتا ہے لیکن رحم کرتے ہیں ۔شائد سنبھل جائیں۔

ایران جنگ ۔اظہر سید امریکہ اور اسرائیل نے جن مفروضوں پر ایران کو نشانہ بنایا جنگ کے نو روز گزرنے پر جو حقائق دنیا کے سامنے ہیں ایران،چین اور روس کی تیاریاں زیادہ مکمل تھیں ۔ابتدائی حملہ سے آج تک ایرانی شہروں پر تباہی مسلط کی گئی ۔بیشتر سیاسی اور فوجی قیادت ختم کر دی گئی لیکن ردعمل حیرت انگیز ہے ۔خلیج میں ٹھاڈ میزائل دفاعی سسٹم کے چار ریڈار موجود تھے امریکہ اسرائیل کے ابتدائی حملوں کے بعد ایرانی ردعمل میں کویت،اردن،قطر میں سارے ریڈار تباہ ہو چکے ہیں ۔اب صرف پٹریاٹ،ایرن ڈوم اور ایرو دفاعی شیلڈ موجود ہیں لیکن وہ ایرانی میزائل روکنے میں ناکام ہیں۔تباہی ایران میں مچی ہے ناکامی اسرائیل اور امریکہ کی زیادہ خوفناک ہے ۔اس مرتبہ ایرانی میزائلوں کو جو گائیڈنس میسر ہے وہ سات ماہ پہلے حاصل نہیں تھی

۔اس دفعہ ابرہم لنکن حملہ کے دوسرے روز ہی ایرانی میزائلوں کا نشانہ بن گیا باوجود اس کے طیارہ بردار جہاز مکمل حفاظتی شیلڈ میں تھا لیکن شائد چینی اور روسی ٹیکنالوجی سے بچ نہیں پایا ۔لڑائی کے دوران چینی اور روسی مدد کے کوئی شواہد موجود نہیں لیکن امریکی میڈیا روسی معاونت کی خبریں دے رہا ہے لیکن بغیر شواہد کے ۔دو چیزیں ممکن ہیں چینی معاونت پہلے سے شروع تھی اور متوقع حملہ کے تناظر میں تھی ۔شائد چینی ہنر مند اب بھی زیر زمین میزائل ٹھکانوں پر موجود ہوں جو چینی سٹلائٹ کی معاونت سے سو فیصد درست نشانہ بازی کروا رہے ہیں ۔سو فیصد درستگی کا یہ عالم ہے امریکی فوجی کویت کے ہوٹل کے جس کمرے میں موجود تھے اسے نشانہ بنایا گیا ۔سات امریکی فائٹر جیٹ کویت میں “فرینڈلی” فائرنگ کا نشانہ بن گئے بقول امریکی کویتی موقف کے لیکن ایوی ایشن کے عالمی ماہرین امریکہ کویت موقف کو تسلیم نہیں کرتے اور کہتے ہیں امریکی طیارے برتر ٹیکنالوجی کا نشانہ بنے ہیں ۔ابرہم لنکن میدان جنگ سے بھاگ گیا ہے ۔خلیج میں موجود لڑاکا جیٹ قبرص منتقل ہو گئے ہیں ۔قطر،بحرین اور اردن میں فوجی اہلکار وہاں سے نکال لئے گئے ہیں۔خلیج میں بچے کچھے ریڈار وہاں سے اسرائیل منتقل کر دئے گئے ہیں ۔لگتا ہے ایران ،روس اور چین کا ہوم ورک زیادہ مکمل تھا اور اس میں ایرانی فوجی اور سیاسی قیادت کے قتل ہونے کا باب بھی شامل تھا ۔آسان لفظوں میں ایران کا انتظامی ڈھانچہ تباہ کرنے،سیاسی اور فوجی قیادت کو راہ سے ہٹانے کے باوجود امریکہ اور اسرائیل یہ جنگ ہار گئے ہیں۔جوابی حملوں کی ایرانی صلاحیت برقرار ہے۔ ایسا لگتا ہے زمینی قبضے کے بغیر یہ صلاحیت ختم کرنا ممکن نہیں ۔صرف دو آپشن باقی ہیں ۔ایران میں زمینی افواج اتریں اور کامیابی حاصل کریں ۔امریکہ ایٹمی حملہ کرے ۔جیٹ طیاروں سے بمباری میں تباہی مچانا ممکن ہے زیر زمین میزائل کے سارے ٹھکانے ختم کرنا ممکن نہیں کہ اب ایرانی میزائل سو فیصد درستگی کے ساتھ ریڈار بیٹریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔آبنائے ہرمز بند ہوئے آج چھٹا دن ہے صدر ٹرمپ کے تمام تر بانگ دعووں کے باوجود آبنائے ہرمز کو کھولا نہیں جا سکا ۔دنیا بحران کا شکار ہو چکی ہے ۔امیر ترین خلیجی ریاستوں سے سرمایہ کار بھاگ رہے ہیں اور مسلسل بھاگ رہے ہیں۔ہر گزرتے دن ٹرمپ اور نیتن یاہو کے کپڑے اترتے جا رہے ہیں کچھ دن اور گزر گئے دونوں دہشت گرد دنیا کے سامنے ننگے کھڑے ہونگے ۔پاکستان کی باری تو جب آئے گی تب آئے گی ابھی ایران پر حملہ کے نتایج تو بھگت لیں ۔ایٹمی حملہ کی آپشن استمال کریں گے اسکی قیمت تیسری عالمی جنگ کا خدشہ ہے ۔زمینی افواج اتریں گے تو پتہ نہیں روس اور چین نے اسکی ایران کو کیسی تیاری کرا رکھی ہے ۔سیاسی اور فوجی قیادت کے ختم ہونے کے باوجود جو مزاحمت ہو رہی ہے اس کا دوسرا مطلب یہ ہے ہوم ورک مکمل تھا ۔ایران پر حملہ کے نتایج آئیں گے اور ضرور آئیں گے جو مغربی دنیا کیلئے ناقابل برداشت ہونگے ۔

شجاعت ہاشمی نماز جمعہ کے دوران روزے کی حالت میں خالق حقیقی سے جا ملا !! انا للہ و انا الیہ راجعون ہ۔۔۔۔۔۔تیریاں تو ای جانڑیں ربا ۔۔۔۔۔۔جنازے کی نماز آج 13 مارچ 2026 ء بعد از نماز تراویح 9 بجے رات جامعہ نعیمیہ گڑھی شاہو لاہور میں ہو گی شجاعت ہاشمی ۔۔۔۔۔اداکار نہیں فنکار تھا ، راولپنڈی کی ہر علمی ادبی تقریبات میں تسلسل سے شریک ہوتا ، مگر لکھا کبھی نہیں ، گورڈن کالج راولپنڈی سے انگریزی ادب میں ماسٹر 1994 ء میں صدارتی ایوارڈ تمغۂ حسن کارکردگی ملا راولپنڈی میں 1948 ء میں ولادت ہوئی ، نوجوانی میں اکثر شجاعت ہاشمی راولپنڈی کے محلہ بنی یا ملحقہ سرکلر روڈ پر کبھی کبھار ہماری نظر میں آجایا کرتا ، قبیلہ قریش سے تھا ، اس لئے ،ملکوں ، سے محبت کرتا تھا گورڈن کالج کے پروفیسر نصراللہ ملک سے متاثر تھا راولپنڈی میں پیدا ہونے والا شجاعت ، آج لاہور میں سپرد خاک ہو گا ، بقول سید ضمیر جعفری خلد سے نکلے تو درماندہ کلاں پیدا ہوئے ہم کہاں بوئے گئے اور کہاں پیدا ہوئے۔۔۔۔۔۔جبار مرزا 13 مارچ 2026 ء ۔۔۔۔۔۔

نانی کمیٹیاں والی ==================شاہد اقبال کامران ============== میں ایسے شرپسند لوگوں کے خلاف قانون سازی کرنا چاہتا ہوں ،جو دوسروں کو ہر لحظہ ان کی عمر کا احساس دلاتے رہتے ہیں۔شرلی بے بنیاد بھی ایسے ہی لوگوں میں شامل ہے ۔ہزار بار سمجھا چکا ہوں ،تربیت کرنے کی کوشش کر چکا ہوں ، دم بھی کروا کر دیکھ لیا ہے ،لیکن اس کے نظام غور و فکراور طرز گفتار میں دوسروں کی بڑھتی عمر کا شمار اور برملا اظہار شامل رہتا ہے۔وہ بظاہر اپنائیت سے ،مگر درحقیقت شرپسندی سے لوگوں کے نام رکھتا ہے ، چاچو، ماموں، تایا، کھالہ(خالہ کو کہتا ہے) پھپھو یا پھپھی، اور نانی وغیرہ ۔اسے لاکھ بار سمجھایا ہے کہ لوگوں کو ان کے اعمال و کردار اور ان کی گفتار سے جانچا کرو ۔کسی کو ماما یا نانی کہہ دینے سے کچھ بھی نہیں ہوتا۔اس کا موقف بڑا عجیب و غریب سا ہے۔کہتا ہے کچھ غلطیاں انسان کم علمی ، نادانی اور انجانے میں کر گزرتا ہے۔وہ درگزر کے قابل ہوتی ہیں ۔لیکن غلطیوں اور مکاریوں کی بعض قسموں کا تعلق خالصتاً بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ ہوتا ہے ۔وہ کہتا ہے کہ نانی کتنا محترم اور پیار بھرا رشتہ ہے ۔لیکن جن بزرگ مسمات میں نہ شفقت اور پیار ہو ،نہ دوسروں کا احساس ،لیکن بظاہر وہ ایسے ڈرامے کرتی پھریں جیسے وہ تو بہت ہی ہمدرد ،غم خوار دوسروں سے محبت اور شفقت کرنے والی ہستی ہیں۔ایسیوں کو وہ شیطان کی نانی قرار دیتا ہے۔خیر میں اس سے کیا بحث کروں ۔اس کا ایک ذاتی دکھ بھی سمجھتا ہوں ۔اس نے موٹر سائیکل خریدنے کے لیے محلے کی ایک عمر رسیدہ مگر ماہر امور کمیٹی خاتون کے ساتھ ایک کمیٹی میں شرکت کی تھی۔ یہ کمیٹیوں والی خاتون پیشے کے اعتبار سے دایہ تھی ۔اس پیشے اور مہارت کی وجہ سے وہ محلے کی تمام عورتوں کی رازدار ، خدمت گزار اور واقف حال تھی ۔شرلی باقاعدگی سے اپنے حصے کی کمیٹی اسے ادا کرتا تھا ۔اس نے اپنے اخراجات بہت ہی محدود کر دیئے تھے۔اس نے پلے سے چائے پینی چھوڑ دی تھی ،گھر میں ہوتا تو کھانا نہیں کھاتا تھا ، کوئی کھلا دے تو انکار نہیں کرتا تھا۔یہاں تک کہ ایک دن چھوڑ کر صابن سے منہ دھویا کرتا ۔اس نے پرانا پرفیوم ختم ہونے کے بعد نیا پرفیوم نہیں خریدا ،کہتا تھا کہ اب احساس ہوا ہے کہ انسان کے خیالات اچھے ہوں ، تو اس کے جسم انسانی کی اپنی مہک بھی بڑی دلفریب ہوتی ہے۔ستم ظریف کئی بار کہہ چکا تھا کہ شرلی بھائی میں گواہ ہوں کہ تم نے سب سے زیادہ فریب خود اپنے ہی دل کو دیئے ہیں۔لیکن اس دن قیامت ہی آگئی جب شرلی کو علم ہوا کہ جس مہینے کی سات تاریخ کو اس کی کمیٹی نکلنے والی تھی ،اس مہینے کی چھ تاریخ کو نانی کمیٹیاں والی ساری رقم لے کر غائب ہو گئی ۔نانی کمیٹیاں والی بلوچ ہوتی تو اس کے گم شدہ ہوجانے کو طرح طرح کے امکانات میں شمار کیا جا سکتا تھا،ممکن ہے شرلی اس کی تصویر والا پوسٹر لئے لاپتا افراد کے کسی احتجاج میں بھی شامل ہوا کرتا۔لیکن نانی کمیٹیاں والی تو شرلی کے شہر کے وسط میں رہنے والی سرد گرم چشیدہ اور بعد ازاں جہاں دیدہ خاتون تھی۔اس نقد نقصان نے شرلی کا دل توڑ کر رکھ دیا۔وہ خاموش آواز میں نانی کمیٹیاں والی کو بددعائیں دیا کرتا ۔ایک دن کھلکھلا کر ہنس پڑا ۔اس کے اس طرح سے بغیر کسی وجہ کے کھلکھلا کر ہنسنے سے میں اور ستم ظریف بڑے حیران ہوئے ۔پوچھا کیا ہوا شرلی؟

کہنے لگا یار میں ایک عرصے سے نانی کمیٹی خور کو بددعائیں دے رہا ہوں، ابھی ابھی اچانک ایک خیال میرے دل آیا کہ او نادان جس خدا نے آج تک تمہاری کوئی دعا قبول نہیں کی ، وہ تمہاری بددعا کیونکر سنے گا ۔چل چپ کر اور اپنے دھیان کو کسی دوسرے گیان میں لگا۔میری ہنسی چھوٹ گئی۔میں نے شرلی کو احتیاط سے تھپکی دی اور کہا کہ شرلی یار تم اچھے آدمی ہو ،دفع کرو نانی کے فراڈ کو ،وہ اللہ کی پکڑ میں ضرور آئے گی۔چند روز بعد شرلی دھڑام سے کمرے میں داخل ہوا ،اس سے پہلے کہ اس کے اس طرح آنے کی وجہ پوچھتے ،اکھڑے سانسوں کے ساتھ کہنے لگا وہ نانی کمیٹیاں والی واپس آ گئی ،واپس آ گئی ،قسمے بالکل پہچانی نہیں جارہی ۔فل ڈرامہ بن کر آئی ہے۔لوگوں نے اسے گھیر رکھا تھا ، وہ بڑے اطمینان کے ساتھ کہانی سنا رہی تھی کہ اس کے گھر چور گھس آئے تھے اور اس سے سارےپیسے چھین کر فرار ہو گئے ۔وہ فوری طور پر تھانے گئی تھی ،تھانیدار نے اسے مشورہ دیا کہ وہ کچھ دنوں کے لیے کسی عزیز رشتے دار کے ہاں چلی جائے ۔جب چور پکڑے گئے تو تمہیں اطلاع کر دیں گے۔بس اتنی سی بات ہے۔محلے میں کوئی بھی اس کی باتوں پر یقین کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔لیکن پتہ نہیں کس طرح ،اس نے تھانیدار کو ساتھ ملایا ہوا ہے ۔تھانیدار نے ایک رضاکار سپاہی اس کے گھر کے باہر بٹھا دیا ہے تاکہ کوئی غصیلا محلے دار نانی فراڈن کا سر ہی نہ پھاڑ دے۔وہ تو بھلا ہو محلے کی اس دلیر خاتون کا ،جو دو وکیلوں کی بیوہ اور تیسرے وکیل کی بیوی ہے، اس نے اپنے حاضر سروس شوہر کی مدد سے نہ صرف نانی کمیٹیاں والی کے خلاف مقدمہ دائر کروایا ،بلکہ مسلسل پیروی اور اثر و رسوخ کے متناسب اور مناسب استعمال سے نانی کو مالی خرد برد کا الزام ثابت ہو جانے پر سزائے قید بھی دلوا دی۔اب نانی کمیٹیاں والی کو جیل کیا ہوئی ، شرلی مزید اداس اور مایوس ہو گیا۔پوچھا کہ یار تمہیں تو خوش ہونا چاہیئے تھا نانی کے جیل جانے سے۔کہنے لگا اس کے جیل جانے سے خوشی تو ملے نہ ملے ،لیکن اب ہماری رقم ملنے کا کوئی امکان باقی نہیں رہا۔ایک روز شرلی نے خبر دی کہ نانی ضمانت پر رہا ہو گئی ہے۔محلے میں یہ بات پھیلی ہوئی ہے کہ اس کی پشت پر تھانیدار کی حمایت اور سفارش موجود ہے۔جیل سے آنے کے بعد نانی کے طور طریقے ، انداز نششت و برخاست ، یہاں تک کے چلنے پھرنے کا انداز بھی تبدیل ہوگیا۔اس نے یہ بات پھیلانا شروع کردی کہ وہ جیل کسی مالی خرد برد کی وجہ سے نہیں ، سیاسی مخالفین کی سازش کی وجہ سے گئی تھی۔وہ بڑے اعتماد سے کہتی کہ جیل نے مجھے گہرے غوروفکر کا موقع دیا ہے ۔وہاں میں نےجیل لائبریری کی ساری اردو کتابیں پڑھ ڈالیں ہیں ۔شاعری اور ناول تو منہ زبانی یاد ہیں ۔بس میڈیکل ایجوکیشن پوری نہیں ہو سکی ،اس لیے چھوڑنی پڑی ،اس کے علاؤہ میں نے کچھ بھی نہیں چھوڑا۔شرلی اس بدلی ہوئی نانی کی باتیں سنتا اور توبہ توبہ کرتا ہے ،کہتا تھا کہ پہلے یہ دایہ گیری کیا کرتی تھی ،اب دادا گیری پر اتر آئی ہے۔وہ حیران تھا کہ اسے یہ چالاکیاں کون سکھا رہا ہے۔ پھر ایک روز بتانے لگا کہ ایک آن لائن اخبار روزنامہ تمانچہ انٹرنیشنل کا مدیر ہوشیار موٹا اس کا مشیر بن گیا ہے۔یہ ہوشیار موٹا بنیادی طور پر پولیس کا مخبر شمار ہوتا تھا ،پھر اس نے اپنی موٹر سائیکل کی نمبر پلیٹ پر پریس لکھوانے کے لیے ایک آن لائن اخبار جاری کر دیا اور اب وہ نانی کا مشیر اعلی بنا پھرتا ہے۔اب نانی نے اعلان کر دیا ہے کہ وہ یونین کونسل کا الیکشن لڑے گی۔لوگ کہتے ہیں کہ ہوشیار موٹا اس کی سیاسی تربیت کر رہا ہے۔ہوشیار موٹے نے نانی کو سکھایا اور سمجھایا ہے کہ وہ جاہلوں کی طرح چیخ چیخ کر نہ بولا کرے۔اسے رک رک کر ،ٹھہر ٹھہر کر آہستہ آواز میں بولنا چاہییے۔ہوشیار موٹے نے نانی کو سمجھایا کہ وہ جیل کو شرمندگی کی بجائے اپنے لیے ایک فخر بنا کر پیش کیا کرے ۔وہ بار بار کہا کرے کہ وہ سیاسی قیدی تھی۔ ہوشیار موٹے نے اسے بہت ساری کتابوں اور ان کے مصنفین کے نام بھی یاد کرائے ،اور اسے سکھایا کہ وہ بس یہی باتیں کیا کرے ۔ہوشیار موٹے نے ایک سوشل میڈیا چینل پر ایک انٹرویو بھی اپنے موبائل فون سے ریکارڈ کر کے اپ لوڈ کروا دیا۔شرلی نے جس روز اپنے موبائل فون پر ہمیں نانی کمیٹی خور کا ہوشیار موٹے کو دیا گیا انٹرویو سنایا ،اس روز یقین آ گیا کہ اگر اب قیامت نہیں آئی ،تو پھر کبھی نہیں آئے گی ۔یعنی نانی بڑے تحمل اور آرام سے کہہ رہی تھی کہ”میرے ہسٹیریا میں مبتلا رہنے کی وجہ ہسٹری ہے ، جو میں نے فکشن پڑھتے ہوئے پائی کولو کے ہاں دیکھی ۔” مزید کہنے لگی کہ” جیل میں بہشتی زیور کی ایک سے زیادہ جلدیں دیکھ کر حیرت ہوئی،پوچھنے پر جیلر نے بتایا کہ جیل میں سنیارے بھی کافی زیادہ آتے ہیں۔” اس انٹرویو میں ایک سوال کے رٹے رٹائے جواب میں دایہ نانی کمیٹیاں والی کمال درجے کے اعتماد سے کہہ رہی تھی کہ” ایف ایس سی میں میرے کارل مارکس کم آئے تھے لیکن ابو نے چونکہ سرمایہ پڑھنے میں وقت ضائع کرنے کی بجائے سرمایہ جمع کرنے پر توجہ دے رکھی تھی

،اسلیے انہوں نے مجھے میڈیکل کالج میں داخلہ دلوا دیا۔وہ تو میں نے خود ہی واپس کر دیا تھا ورنہ آج میں بھی ڈاکٹر ہوتی۔” ایک سوال کے جواب میں اس نے بتایاکہ نطشے تھا تو گوالمنڈی ہی کا ،پر اردو ذرا مشکل سی لکھتا تھا۔پھر میں نے جیب خرچ سے رقم بچا کر لعنت کی ایک کتاب خریدی ،اس میں مشکل الفاظ کے معنی دیکھ لیتی تھی۔ یہ اچھا آدمی تھا ،اگر نشہ چھوڑ دیتا تو اور زیادہ اچھی کتابیں لکھ سکتا تھا۔ستم ظریف یہ انٹرویو سن کر کہنے لگا کہ یہ ساری “جاتی عمریا” کی کارستانیاں ہیں۔نانی کمیٹیاں والی نے سستے اسکرپٹ اور سست اینکر کا انتخاب کیا۔اور ایسے ایسے دعوے کر ڈالے ،جن کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔اتنا “شدید” مطالعہ کرنے کی بجائے اگر یہ خاتون صرف خود سے میٹرک ہی کر لیتی، تو اس کی آنکھیں وغیرہ کھل چکی ہوتیں۔ شرلی پوچھنے لگا کہ یہ شدید مطالعے سے کیا مراد ہے ؟ ستم ظریف نے جواب دیا کہ یہ مطالعے کی وہ قسم ہے جو ذوق و شوق کی بجائے اندھا دھند طریقے سے کیا جاتا ہے۔اس میں کتاب کو ہاتھ نہیں لگایا جاتا ،بلکہ جس طرح ختم پڑھنے کے لیے مدرسے کے بچے بلائے جاتے ہیں ،اسی طرح معمولی معاوضے پر لوگوں کو ترغیب دی جاتی ہے کہ ہسٹری میں سے فکشن نکال کر پڑھیں اور کاغذ پر لکھ کر چٹ پکڑا دیں۔ایسی بہت ساری چٹیں جب جمع ہو جائیں تو شرطیہ رنگ چٹا ہو جاتا ہے ۔کچھ یہی وجہ ہے کہ اب جاتی عمریا کی نانی کمیٹیاں والی اپنے گورے رنگ کے ساتھ ایک متحمل مزاج لیڈر بننے کی مشق کر رہی ہے۔

اب دوبئ کی ٹریڈنگ بذریعہ پاکستان ہو رہی ہے کنٹینرز جہازوں میں گراچی آ رہے ہیں اور لانچیں انہیں دوبئ لے کر جا رہی ہیں کراچی پورٹ اور قاسم پورٹ کو ٹرانزٹ شنپمنٹ کے لیئے تیزی کے ساتھ تیار کیا جا رہا ہے اگر اس سچوئیشن کو صحیح مینج کیا جاۓ تو کراچی واپس کراچی بنُ سکتا ہے