
شوکت نواز میر کی گرفتاری۔نقصان کس کا؟کور ممبر شوکت نوازمیر کی گرفتاری سے زیادہ اس کی دھرنے میں موجودگی ریاست کے مفاد میں تھی۔دھرنے میں موجود ایک خاص گروپ جس کی ہم نشاندہی شروع دن سے کررہے ہیں،کہ انہیں ایکشن کمیٹی کا چارٹرڈ آف ڈیماند نہیں اس کی آڑ چاہیے،جہاں سے ہوکر وہ اپنی کئی دھائیوں کی محرومی کا بدلہ لے رہے ہیں کیونکہ لوگوں نے کبھی ان کے چکنے چپڑوں نعروں پر کان نہیں دھرا تھا،اب الحمدللہ اس کے خلاف ایکشن کمیٹی کے اندر سے یہ آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ انہوں نے ایکشن کمیٹی کے ایجنڈے کو ہی ایک اور غیر ضروری رخ دے دیاہے۔ اوپر سے نیم خواندہ انقلابی جن کے ہاتھ میں سوشل میڈیا کا ہتھیار آگیا

جیسے بندر کے ہاتھ میں ماچس” ایسے انقلابی جو ہر ایک کی پوسٹ پر آکر گالی دینا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ان سب کی موجودگی اور حماقتوں کے توڑ کے عمر نزیر کشمیری کو ایک بھاری بھر کم کور ممبر کا ساتھ ریاست کے مفاد میں تھا تاکہ ان کن کنکتروں کے ایجنڈے کے آگے بند باندھا جاسکے۔اس تحریک سے اس سسٹم کے ڈسے کشمیریوں میں امید کی کرن پیدا ہوئی تھی۔ان کے انتہا پسندانہ طریق کار کی کبھی ہم نے حمایت نہیں کی۔لیکن اس سے انکار نہیں کہ انہیں وہ عوامی حمایت ملی کہ شاید کئی دھائیوں نے اس خطے میں ایسی مقبول عوامی تحریک نہ دیکھی ہو۔تاہم اس عوامی حمایت اور مقبولیت کو انتخابی سیاست میں ڈھالنے کی بجائے غیر ضروری جلد بازی،ہٹ دھرمی کی وجہ سے اب بند گلی میں دھکیل دیاگیا ہے

۔اب ایکشن کمیٹی کا ایک ہی مطالبہ نظر آتا ہے کہ ہم سے مذاکرات کرو۔ریاست کا موڈ مذاکرات کا فی الحال نظر نہیں آرہا۔احتجاج اور دھرنے کی طوالت سے نقصان کس کا ہورہا ہے؟ جتنا یہ طویل ہوگا لوگوں کے اندر ردعمل ہوگا۔ایک سنہری موقع ان لوگوں نے گنوا دیا کہ ایکشن کمیٹی کو بطور جماعت رجسٹرڈ کرواتے اور پھر الیکشن میں جاتے۔ان کو خوف کس چیز کا تھا؟ غیر ضروری اور بچگانہ راستے کا انتخاب کرنے کی بجائے لوگوں سے رائے لیتے،ریفرنڈم کرواتے کہ الیکشن میں جایا جائے یا نہیں؟ لیکن یہاں تو ان کے پائوں ہی زمین پر نہیں لگتے تھے۔انتہا پسندی کی دنیا میں انتہا انتخابی عمل میں شرکت اور بار بار شرکت ہے۔شوکت نواز میر دھرنے میں ہوتا تو شاید حماقتیں کم ہوتیں۔آپ نے اپنے راستے خود محدود کئے۔سارے سیاستدانوں کو گالی دی،انہیں ڈنگر کہا

۔ان کو مذاکرات میں نہیں بیٹھنے دیا گیا تو اب پھر محمود اچکزئی،مشتاق احمد خان،علامہ ناصر عباس،شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر،سلمان راجہ جیسوں سے Safe passage مانگا جارہا ہے۔اب بھی وقت ہے مولانا فضل الرحمن اور حافظ نعیم الرحمن کی بات سنیں ان سے گارنٹی لیں اور پرامن گھروں کا جائیں۔لوگوں کا مزیدنقصان نہ کریں۔بچوں کے انٹر میڈیٹ کے پیپرز اس احتجاج کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں۔کاروبار تباہ ہو گئے ہیں،نظام سارا دھرم برم ہوچکا ہے۔ان حالات کا ایسے رہنا ریاست اور ایکشن کمیٹی کسی کے حق میں نہیں۔اب چارٹرڈ آف ڈیمانڈ کی بجائے این آر او مانگا جارہا ہے اور 38 نکات ایک طرف رہ گئے نئے 13 نکات آگئے۔جو خود آنکھوں دیکھتے پیدا کئے حالات کا شاخسانہ ہے۔

باپ بڑا نہ بھیا۔۔۔۔سب سے بڑا روپیہ وہ آیا اس نے دیکھا اور فتحیاب تھہرا۔۔۔۔۔۔جی ہاں آپ سمجھ رہے تھے کہ سب پیسے کا کمال تھا تو ٹھیک ہی سمجھ رہے تھے ۔۔۔۔پیسے کا بھی کمال تھا اور بھائیوں کا بھی۔۔۔۔سردار تنویر الیاس نے پیپلز پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ کیا تو کئ اور لوگ بھی پیپلزپارٹی چھوڑنے کا اعلان کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ان سب کو معلوم ہے بھائیوں کا آزاد کشمیر میں فیصلہ پیپلزپارٹی کے حوالے سے غیر جانبدارانہ ہے۔۔۔۔۔اس لئے انہوں نے مطالبات ہی ایسے کئے جو پورے نہ ہو سکیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان میں مقیم جموں کشمیر کے محاجرین کی 12 نشستیں ہیں جن میں سے 6 جموں اور 6 ویلی کی ہیں ان 12 نشستوں کے ووٹرز کی کل تعداد درج ذیل ہے ۔ایل اے 34 ووٹرز کی کل تعداد 19008ایل اے 36 ووٹرز کی کل تعداد 87274ایل اے 36ووٹرز کی کل تعداد 99772ایل اے 37 ووٹرز کی کل تعداد 111230ایل اے 38ووٹرز کی کل تعداد 50225ایل اے 39 ووٹرز کی کل تعداد 37639ویلی کے 6 نشستوں کے ووٹرز کی کل تعداد ایل اے 40 ووٹرز کی کل تعداد 4895ایل اے 41 ووٹرز کی کل تعداد 6410ایل اے 42 ووٹرز کی کل تعداد 4167ایل اے 43 ووٹرز کی کل تعداد 3346ایل اے 44 ووٹرز کی کل تعداد 6925ایل اے 45 ووٹرز کی کل تعداد 7681پاکستان میں اتنی بڑی تعداد میں مقیم جموں کشمیر کے مہاجرین کی آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں نمائندگی کو ختم کرنا درست ہے ؟

اسلام آباد: پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ پر ڈپٹی اسسٹنٹ منسٹر برائے آپریشنز میجر جنرل مبارک بن عبدالرحمن الموینی اور ان کے ہمراہ آنے والے وفد کے اعزاز میں عشائیہ دیا گیا۔اس موقع پر باہمی تعلقات، دفاعی تعاون اور مشترکہ دلچسپی کے مختلف امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ عشائیے میں دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ روابط اور تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔

سیڑھی اور سانپ سیڑھیبظاہر ڈی پی او قصور آفتاب احمد پھلروان کا معاملہ خاصا پیچیدہ دکھائی دیتا ہے، مگر اس کا حل اتنا مشکل نہیں۔ میرا تجزیہ یہ ہے کہ آفتاب احمد پھلروان ایک دور اندیش، معاملہ فہم اور حالات کی نبض پہچاننے والے افسر ہیں۔ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ کون ان کیلئے سیڑھی ہے اور کون لڈو کے سانپ والی سیڑھی ثابت ہو سکتا ہے، اور کس “سمت” میں پیش رفت ان کے کیریئر کیلئے فائدہ مند ہوگی۔قصور میں جو سیاسی و انتظامی شطرنج بچھی، اس کے بعد اگر اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد اور وزیر اعلیٰ مریم نواز کے درمیان تعلقات دوبارہ بہترین ہیں، نئی پیش رفت سے دونوں ایک بار پھر ایک صفحے پر آ گئے ہیں، تو اس کے اثرات انتظامی فیصلوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

آفتاب پھلرواں بھی بخوبی جانتے ہیں کہ کس کا فون سننا ہے اور کس کا نہیں۔ وہ اس سے بھی واقف ہیں کہ کسے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانا ہے، اور کس کے سامنے چائے کی میز سجانا ہے۔ آفتاب احمد پھلروان یہ اسمجھنے میں دیر نہیں لگائیں گے کہ ان کے قصور مشن کا دی اینڈ ہو چکا ہے، اور کوئی اور ضلع ان کا منتظر ہے۔ اگر پنجاب کے دو بڑوں کے درمیان سیاسی ہم آہنگی برقرار رہتی ہے تو پھر یہ معاملہ، جو آج پیچیدہ دکھائی دیتا ہے، انتظامی سطح پر بہت کم وقت میں حل ہو سکتا ہے۔

ایرانی حکومت نے شہید رہبر کی تدفین سے پہلے ان کی ذاتی اثاثوں کی تفصیلات جاری کر دی ہیں ۔ جو یہ ہیں:ان کی ملکیت میں موجود تمام چیزیں صرف ایک چھوٹے پک اپ ٹرک تک محدود ہیں۔کوئی جائیداد نہیں، کوئی بینک اکاؤنٹ نہیں، کوئی محلات نہیں، کوئی کمپنیاں نہیں، اور کوئی پوشیدہ فنڈز نہیں۔انہوں نے ایران میں ایک رہنما کے طور پر 47 سال گزارے، جن میں وزیر دفاع کے طور پر، صدر جمہوریہ کے طور پر اور ایران کے سپریم لیڈر کے طور پر تقریباً 40 سال شامل ہیں۔ ایران جو کہ تیل، گیس اور صنعتوں سے مالا مال ملک ہے، اور وہ ریاست جس نے دنیا کے شدید ترین دباؤ کا مقابلہ کیا اور علاقائی منصوبوں کا ڈٹ کر سامنا کیا۔وہ ایک ایسے مذہبی پیشوا تھے جن کی پیروی لاکھوں لوگ کرتے تھے، اور اربوں روپے کے مذہبی واجبات (خمس و زکوٰۃ) انہیں ادا کیے جاتے تھے۔اس کے باوجود وہ اس دنیا سے رخصت ہوئے تو ان کے پاس پرانے گھریلو فرنیچر کے سوا کچھ نہ تھا، جو کہ امریکی اور صیہونی میزائلوں کی زد میں آ کر تباہ ہو گیا

۔ان کے دنیاوی اثاثوں کی اصل تفصیلات درج ذیل ہیں:1. ایک پرانا چھوٹا پک اپ ٹرک (سوزوکی پک اپ)2. پرانا گھریلو فرنیچر (جو میزائلوں سے تباہ ہو گیا)۔3. رئیل اسٹیٹ یا جائیداد۔ صفر (کوئی نہیں)4. فعال بینک اکاؤنٹ۔ صفر (کوئی نہیں)5. محل یا ذاتی رہائش گاہ۔ صفر (کوئی نہیں)6. کارپوریٹ شیئرز یا نجی کمپنیاں۔ صفر (کوئی نہیں)7. پوشیدہ فنڈز یا بیرونی (آف شور) اکاؤنٹس۔ صفر (کوئی نہیں)عظمت کی تعریف یوں ہی کی جاتی ہے: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح خاندانی سلطنتیں کھڑی کر کے نہیں؛ ذاتی دولت کا انبار لگا کر نہیں؛ اور بہت سے عرب رہنماؤں کی طرح بیرون ملک اربوں روپے اسمگل کر کے نہیں۔دہائیوں تک وہ اپنے موقف پر قائم رہے،

انہوں نے کھل کر فلسطین، لبنان، اور خطے سمیت دنیا بھر کے مظلوم عوام کی حمایت کی۔انہیں ایسے نادر مواقع اور پرکشش سودوں کی پیشکش کی گئی جو انہیں عرب دنیا کے کئی حکمرانوں سے زیادہ امیر بنا سکتے تھے، لیکن انہوں نے ان سب کو ٹھکرا دیا۔انہیں روئے زمین کی سب سے طاقتور سپر پاور کی طرف سے دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا، لیکن انہوں نے کبھی اپنے اصولوں کو نہیں چھوڑا۔شدید دباؤ، پابندیوں اور قتل کی مسلسل دھمکیوں کے باوجود، وہ دہائیوں تک انہی موقف پر قائم رہے جو انہوں نے اپنائے ہوئے تھے۔










