تازہ تر ین

رضا ڈار کون ہے ؟ پنجاب حکومت ظلم جبر میں سب سے آگے۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

رضا ڈار کون ہے ؟ کیا فارن عورتوں کے ساتھ زنا بلجبر ہوا؟ اب سی سی ڈی کہاں ہے؟ کیا واقعی ہی اسحاق ڈار کا نواسہ ہے ؟ پنجاب حکومت ظلم جبر میں سب سے آگے ؟لاہور میں دو غیرملکی خواتین کا اغواء برائے تاوان ، ریپ ، تشدد اور اہم ترین ملکی شخصیت کے نواسے کا ملوث ہونا۔پنجاب کے دل لاہور میں اک ایسا واقعہ ہوا ہے جس کی گونج انٹرنیشنل میڈیا میں سنائی دے رہی ہےذرا تصور کریں ایسا کون سورما ہے جس نے پنجاب کے دل لاہور میں سی سی ڈی کی دہشت کے باوجود دو غیرملکی خواتین کو نہ صرف اغوا کیا بلکہ تین دن تک ان کا ریپ کیا جاتا رہا ، تشدد کیا گیا اور رہائی کے بدلے ڈیڑھ ملین ڈالر تاوان مانگا گیا ۔ یہ تو سیدھا سیدھا بیل (سی سی ڈی) کو لال کپڑا دکھانے کے مترادف ہے29جون کو دو غیر ملکی خواتین اسٹیفنی اڈیانا ایرون اور آسٹر اسٹیفن بروچو جن کا تعلق ہالینڈ اور وینزویلا سے ہے ، ایک پاکستانی محمد رضا ڈار کی دعوت اور معاونت سے پاکستان آتی ہیں ، جہاں انہیں ڈیفنس ایک گھر میں لے جایا جاتا ہے اور اغوا کر لیا جاتا ہے ، ان کے ساتھ مبینہ طور پر چار لوگ ریپ کرتے ہیں اور ان سے رہائی کے بدلے ڈیڑھ ملین ڈالر تاوان طلب کرتے ہیں ۔ اسٹیفنی کے والد کا جب اپنی بیٹی سے رابطہ نہیں ہو پاتا تو 15 پر پنجاب پولیس کو کال کرتے اور گمشدگی رپورٹ کرتے ہیں جس پر پنجاب پولیس فوری حرکت میں آتی ہے اور صرف دو گھنٹے میں خواتین بازیاب کر لی جاتی ہیں ۔یہ ہے وہ اسٹوری جو چلائی جا رہی ہے ۔ کیا حقیقت میں ایسا ہی ہوا ؟؟؟نہیںان دونوں خواتین کو محمد رضا ڈار نے پاکستان بلوایا ، اپنے پاس رکھا۔۔یہ اپنی مرضی سے اس کے ساتھ رہیں ، پارٹیاں ہوتی رہیں ، جیسا ہائی سوسائٹیز میں اب فیشن بن چکا ہے ، پھر رقم کے لین دین پر ان بن ہو گئی اور خواتین اخلاقی بلیک میلنگ پر اتر آئیں ۔ رضا ڈار کے نانا پاکستان کی اک طاقتور ترین شخصیت اور صاحبِ اقتدار ہیں تو طاقت اور اقتدار کے نشے میں نوجوان رضا ڈار معاملے کی حساسیت کو نہ سمجھ سکے اور جوش جوابی میں ان خواتین پر تشدد کیا ۔ خواتین روتی پیٹتی تھانے پہنچیں ، جہاں ایس ایچ او فریاد اعوان نے محمد رضا ڈار کی حقیقت جاننے کے بعد مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا ، جیسا کہ پاکستان میں معمول ہے کہ جہاں کسی صاحبِ اقتدار یا حکمران کا معاملہ ہوتا ہے پولیس ہاتھ کھڑے کر دیتی ہے ۔ خاتون نے ہالینڈ اپنے والد کو صورتحال سے آگاہ کیا ، جنہوں نے ڈچ ایمبیسی کو اپنی بچی کے اغواء کے معاملے سے آگاہ کیا۔۔۔ڈچ ایمبیسی نے فوری اسلام آباد اور پنڈی میں رابطہ کیا اور معاملات نانا کے نواسے کے ہاتھ سے نکل گئیے ۔ ڈچ ایمبیسی کے دباؤ کے تحت ڈی آئی جی آپریشنز نے نہ صرف متعلقہ ایس ایچ کو غفلت اور غیر ذمہ داری پر معطل کر دیا بلکہ خاتون کی مدعیت میں محمد رضا ڈار اور تین دوسرے افراد کے خلاف سنگین نوعیت کی دفعات کے تحت مقدمہ 1560/26 تھانہ ڈیفنس سی درج ہو گیا۔جس کے بعد جج محمد سعید کی عدالت میں خواتین کے دفعہ 64 کے تحت بیانات ہو گئے ہیںیہ اغواء برائے تاوان یا ریپ کا معاملہ نہیں تھا ، اک لین دین کا معاملہ تھا جو محمد رضا ڈار کی انا اور ناسمجھی سے اک سنگین رخ اختیار کر گیا اور پاکستان کا اک انتہائی برا تاثر دنیا میں گیا کہ پاکستان غیر ملکیوں یا خواتین کے لئیے اک محفوظ ملک نہیں ہے ۔ ۔ کیس آگے کیا رخ اختیار کرتا ہے ، دیکھ

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved