
د. لبنى فرح کریملن کا دوٹوک پیغام، تہران کے لیے روسی حمایت مزید مضبوطماسکو: روس نے ایران کے ساتھ اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کو ایک بار پھر نمایاں کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ موجودہ علاقائی کشیدگی کے دوران تہران کو اس کی سیاسی اور تزویراتی حمایت حاصل رہے گی۔روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے روسی سلامتی کونسل کے نائب چیئرمین دمتری میدویدیف کو سابق ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی سرکاری تدفین میں روسی وفد کی قیادت کے لیے اپنا خصوصی نمائندہ مقرر کیا۔ روس میں ایران کے سفیر کاظم جلالی کے مطابق میدویدیف نے صدر پوٹن کے خصوصی ایلچی کی حیثیت سے تقریب میں شرکت کی۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا کہ سرکاری سوگ کی تقریبات میں تقریباً 100 ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی، جن میں سربراہانِ مملکت، پارلیمانی اسپیکرز، وزرائے خارجہ، اعلیٰ حکومتی شخصیات اور دیگر ممتاز عالمی رہنما شامل تھے۔اپنے دورے کے دوران دمتری میدویدیف نے روس اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک تعلقات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک دفاع، عسکری تعاون اور دیگر اہم شعبوں میں اشتراکِ عمل کو مزید وسعت دیں گے

۔انہوں نے آبنائے ہرمز کو ایران کا ایک انتہائی اہم جغرافیائی و تزویراتی اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی بحری تجارت میں اس کی کلیدی حیثیت ایران کو غیرمعمولی اہمیت فراہم کرتی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ بیان خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایران کے اسٹریٹجک اثر و رسوخ کی جانب واضح اشارہ ہے۔روسی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان کسی جامع مفاہمت تک پہنچنا موجودہ حالات میں نہایت پیچیدہ اور دشوار ہوگا، جو خطے کی بدلتی ہوئی سلامتی کی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق یوکرین جنگ کے بعد روس اور مغربی ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ماسکو کو ایران سمیت اپنے قریبی شراکت داروں کے ساتھ سیاسی، اقتصادی اور دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے کی طرف مائل کیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ روس۔ایران تعلقات میں یہ پیش رفت عالمی طاقتوں کے درمیان نئی جغرافیائی و سیاسی صف بندی کا اہم حصہ سمجھی جا رہی ہے۔

د. لبنى فرح نیویارک: یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران فائرنگ، 8 افراد زخمی؛ بروکلین برج کے قریب آتش بازی سے آگ بھی بھڑک اٹھینیویارک: امریکا کے یومِ آزادی (4 جولائی) کی تقریبات کے دوران پیش آنے والے دو الگ الگ واقعات نے جشن کا ماحول متاثر کر دیا۔ نیویارک کے معروف ساحلی علاقے کونی آئی لینڈ میں فائرنگ کے نتیجے میں 8 افراد زخمی ہو گئے، جبکہ بروکلین برج کے قریب آتش بازی کے دوران پلیٹ فارم پر آگ لگنے سے موقع پر بھگدڑ اور خوف و ہراس پھیل گیا۔امریکی میڈیا کے مطابق کونی آئی لینڈ میں فائرنگ سے زخمی ہونے والوں میں 4 بچے بھی شامل ہیں، جبکہ ایک زخمی کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ پولیس نے زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا،

تاہم فائرنگ کی وجوہات اور حملہ آور یا حملہ آوروں کے بارے میں فوری طور پر کوئی معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔دوسری جانب امریکا کے 250 ویں یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران بروکلین برج کے قریب آتش بازی کے لیے نصب پلیٹ فارم پر اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس سے تقریب میں شریک افراد میں کچھ دیر کے لیے خوف و ہراس پھیل گیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق آگ لگنے کے بعد دھواں اور شعلے دور سے بھی دکھائی دیے، تاہم فائر بریگیڈ اور متعلقہ حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تقریباً ایک منٹ کے اندر آگ پر قابو پا لیا۔ حکام نے واضح کیا کہ آگ بروکلین برج پر نہیں بلکہ آتش بازی کے لیے قائم کیے گئے عارضی پلیٹ فارمز تک محدود رہی
۔سرکاری حکام کے مطابق اس واقعے میں کوئی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی، جبکہ 143 سالہ تاریخی بروکلین برج مکمل طور پر محفوظ ہے اور اس کے ڈھانچے کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا۔واضح رہے کہ امریکا میں عوامی تقریبات کے دوران فائرنگ کے واقعات ایک بار پھر سیکیورٹی انتظامات پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ گزشتہ ماہ امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ایک اسکول کی گریجویشن تقریب کے دوران اسٹیڈیم کے قریب فائرنگ سے ایک شخص ہلاک اور تین دیگر زخمی ہو گئے تھے، جس کے بعد تقریب میں شریک افراد جان بچانے کے لیے محفوظ مقامات کی جانب دوڑ پڑے تھے۔

د. لبنى فرح.ٹرمپ کا حیران کن اعتراف: خامنہ ای کے جنازے میں لاکھوں نہیں، کروڑوں ایرانیوں کی شرکت نے مجھے حیران کر دیاواشنگٹن: امریکی صدر Donald Trump نے پہلی بار سابق ایرانی سپریم لیڈر Ali Khamenei کے بارے میں عوامی سطح پر تبصرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی کے دوران ایران معاہدے کا خواہاں تھا۔امریکی یومِ آزادی کی تقریبات کے آغاز پر ماؤنٹ رشمور میں خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ “ہم نے ایران کو صرف ایک ہفتے کی مہلت دی تاکہ وہ اپنے رہنما کی آخری رسومات اور سوگ کی تقریبات مکمل کر سکے، کیونکہ ہم اچھے لوگ ہیں، بس اسی لیے۔”اپنی تقریر میں ٹرمپ نے مزید کہا کہ “دو عالمی جنگوں اور سرد جنگ نے امریکہ کے دشمنوں کو تاریخ کے صفحات میں دفن کر دیا۔ ہم نے وینزویلا کو ایک دن میں شکست دی، اور ایران کو بھی کچل دیا

۔”ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ انہوں نے وائٹ ہاؤس سے ویڈیو اسکرینوں پر علی خامنہ ای کی آخری رسومات دیکھی تھیں اور جنازے میں عوام کی غیرمعمولی شرکت پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا، “میں حیران رہ گیا کہ ایرانی خامنہ ای کے جنازے پر رو رہے تھے، مجھے تو لگا تھا کہ لوگ ان سے نفرت کرتے ہیں۔”انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کو جنازے کی تقریبات کے باعث سات دن کے لیے مؤخر کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔دوسری جانب، تہران میں علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے متعدد افراد کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔ بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق جنازے میں غیرمعمولی عوامی شرکت متوقع تھی، جبکہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر موجودہ سپریم لیڈر Mojtaba Khamenei تقریب میں شریک نہیں ہوئے۔

سابق کرکٹر کامران اکمل کا کہنا ہے کہ یہ وہی بابر اعظم ہے جس کو کیا کچھ نہیں کہا گیا اور کپتانی سے زبردستی ہٹایا گیا تھا اس کے بعد دوبارہ کپتانی کو قبول کرنا یہ میری سمجھ میں نہیں آرہا ہے سلمان آغا اگر کپتان سے انکاری کرتے تو بابر اعظم کو بھی انکار کردینا چاہئے تھا یہ کپتانی بابر کے گلے پڑھے گی مجھے آج بھی یاد ہے جب یونس خان کو ون ڈے ٹیم کی کپتانی سے ہٹایا گیا پھر دوہزار پندرہ ون ڈے ورلڈ کپ میں یونس کو مصباح الحق کی جگہ کپتان بنانے کی آفر ہوئی تو یونس خان تاریخی جملہ کہا تھا کہ آپ نے مجھے دوہزار نو میں کپتانی سے ہٹایا اور اب پھر کپتان بنارہے ہو اور آپ کو لگتا ہے میں یہ کپتانی قبول کرلوں گا میں ایسی کپتانی پر تھوکتا ہوں ویسے لوگ یونس خان کی اتنی عزت نہیں کرتے وہ بڑے پلیئرتو تھے ہی لیکن اس سے زیادہ اصول

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے نئے مالی سال کے لیے حکومتی پالیسی واضح کر دی، کابینہ اراکین اور انتظامی سیکرٹریز کو اہم ہدایات جاری! ⬅️ کرپشن پر زیرو ٹالرنس ہے، کسی بھی سطح پر کرپشن اور بدعنوانی برداشت نہیں ہوگی، کرپشن کے تمام راستے بند کیے جائیں،⬅️ کرپٹ اور نااہل افسران کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کریں، چاہے وہ کسی کے بھی چہیتے ہوں،⬅️ محکموں کی کارکردگی کا اصل معیار عوام کا اطمینان ہوگا، عوام مطمئن نہ ہوں تو اچھی سے اچھی پریزنٹیشن کا کوئی فائدہ نہیں،⬅️ تمام وزراء ہر ماہ کم از کم سات اضلاع کے دورے کریں، عوام میں جائیں اور مسائل کے فوری حل کو یقینی بنائیں، ⬅️ عوامی شکایات اور ان کے ازالے کا روزانہ جائزہ لوں گا، بروقت ازالہ نہ ہونے پر ذمہ داروں کے خلاف بھرپور کارروائی ہوگی، ⬅️ وزراء ضلعی دوروں کا باقاعدہ شیڈول مرتب کریں، ہر محکمہ اپنا کمپلینٹ سیل قائم کرکے وزیراعلیٰ کمپلینٹ سیل سے منسلک کرے،⬅️ عمران خان کے وژن کے عکاس تمام سگنیچر منصوبوں پر فوری اور ترجیحی بنیادوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے،⬅️ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں حکومت کی ترجیحات واضح ہیں، تمام محکمے اپنے ترقیاتی منصوبوں پر تیز رفتار عملدرآمد یقینی بنائیں،⬅️ تمام محکمے رواں مالی سال میں ڈی ایف سی اسکیموں کی تکمیل یقینی بنائیں،

نئی ترقیاتی اسکیموں کے لیے واضح ٹائم لائنز مرتب کریں،⬅️ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ سے کسی معاملے پر رابطہ کیا جائے تو 24 گھنٹوں کے اندر نتیجہ چاہیے، ⬅️ تمام وزراء، مشیران اور محکموں کے انتظامی سیکرٹریز باہمی رابطہ مضبوط بنائیں اور تمام فیصلے مشاورت، میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر کریں،⬅️ تمام محکمے اپنی کمیونیکیشن اسٹریٹجی بنائیں اور عوام کو حکومتی اصلاحات اور منصوبوں سے مؤثر انداز میں آگاہ کریں،⬅️ تین ماہ بعد دوبارہ کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا، دی گئی ہدایات پر عملدرآمد کی بنیاد پر سزا و جزا کا فیصلہ ہوگا.#CMKP #sohailafridi #PublicServiceDelivery #GoodGovernance










