
*سی سی ڈی میں مبینہ کرپشن کا بڑا اسکینڈل بے نقاب، سابق ایس ایچ او سمیت متعدد اہلکار شکنجے میں، اینٹی کرپشن کی کارروائیاں تیز*سی سی ڈی پنجاب میں مبینہ کرپشن، منشیات فروشوں سے روابط اور جھوٹے مقدمات درج کرنے کے الزام میں تحقیقات کا دائرہ وسیع ہو گیا۔ ذرائع کے مطابق جتوئی، لیہ اور ڈی جی خان سے تعلق رکھنے والے متعدد سی سی ڈی اہلکاروں کو لاہور میں حراست میں لے کر ان سے تفتیش کی جا رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اینٹی کرپشن لاہور نے تھانہ سٹی لیہ کے سابق ایس ایچ او عرفان باجوہ اور سابق تفتیشی افسر (آئی او) سب انسپکٹر نادیہ کو احتساب عدالت میں پیش کیا۔ عدالت نے سابق ایس ایچ او عرفان باجوہ کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا، جبکہ سب انسپکٹر نادیہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا۔

ذرائع کے مطابق مقدمے میں سی سی ڈی کے متعدد اہلکاروں، ایک سابق ایس ایچ او، بعض دیگر افراد اور ایک صحافی کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ تفتیشی حکام مبینہ طور پر منشیات فروشوں سے روابط، جھوٹے مقدمات کے اندراج اور اختیارات کے ناجائز استعمال سمیت مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیے جانے کا امکان ہے اور مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔ تاہم مقدمے میں نامزد تمام افراد کے خلاف عائد الزامات تاحال ابتدائی نوعیت کے ہیں، جن کا فیصلہ عدالت میں شواہد اور قانونی کارروائی کے بعد ہوگا۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے نجی پیٹرولیم کمپنی کے خلاف اربوں روپے کی ڈیوٹی اور ٹیکس چوری کیس میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے 5 ارب 94 کروڑ روپے کی ریکوری کر لی ہے۔ایف آئی اے کے مطابق کارپوریٹ کرائم سرکل کی تحقیقات کے دوران نجی پیٹرولیم کمپنی سے 5 ارب 94 کروڑ روپے وصول کیے گئے، جبکہ تحقیقات میں کمپنی کی جانب سے مزید ٹیکس چوری کے معاملات بھی سامنے آئے ہیں۔ادارے کا کہنا ہے کہ وصول کی گئی رقم میں سابقہ واجب الادا ڈیوٹی اور ٹیکسز بھی شامل ہیں۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے نجی پیٹرولیم کمپنی کے خلاف اربوں روپے کی ڈیوٹی اور ٹیکس چوری کیس میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے 5 ارب 94 کروڑ روپے کی ریکوری کر لی ہے۔ایف آئی اے کے مطابق کارپوریٹ کرائم سرکل کی تحقیقات کے دوران نجی پیٹرولیم کمپنی سے 5 ارب 94 کروڑ روپے وصول کیے گئے، جبکہ تحقیقات میں کمپنی کی جانب سے مزید ٹیکس چوری کے معاملات بھی سامنے آئے ہیں۔ادارے کا کہنا ہے کہ وصول کی گئی رقم میں سابقہ واجب الادا ڈیوٹی اور ٹیکسز بھی شامل










