تازہ تر ین

چینی کی برآمد، مہنگی درآمد اور شوگر ملز مالکان کے اضافی منافع کا دعویٰ، مفتاح اسماعیل نے حکومت کی پالیسی پر سوال اٹھا دیےاسلام آباد: پاکستان میں چینی کی برآمد اور بعد ازاں درآمد کی حکومتی پالیسی ایک بار پھر سیاسی و معاشی بحث کا مرکز بن گئی ہے

چینی کی برآمد، مہنگی درآمد اور شوگر ملز مالکان کے اضافی منافع کا دعویٰ، مفتاح اسماعیل نے حکومت کی پالیسی پر سوال اٹھا دیےاسلام آباد: پاکستان میں چینی کی برآمد اور بعد ازاں درآمد کی حکومتی پالیسی ایک بار پھر سیاسی و معاشی بحث کا مرکز بن گئی ہے۔ سابق وزیر خزانہ اور عوام پاکستان پارٹی کے رہنما مفتاح اسماعیل نے حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ سستی چینی برآمد کرنے کے بعد مہنگی چینی درآمد کی گئی، جس سے مبینہ طور پر شوگر ملز مالکان کے ایک محدود گروپ کو غیر معمولی مالی فائدہ پہنچا۔تازہ طور پر جیو نیوز کی جانب سے نشر کیے گئے بیان میں مفتاح اسماعیل سے منسوب دعویٰ سامنے آیا کہ حکومت نے جان بوجھ کر سستی چینی ایکسپورٹ کی اور بعد میں مہنگی چینی امپورٹ کی، جس کے نتیجے میں 20 شوگر ملز مالکان خاندانوں کو ماہانہ 30 ارب روپے کا اضافی منافع پہنچایا گیا۔چینی پہلے برآمد، پھر درآمدمفتاح اسماعیل کا مؤقف ہے کہ حکومت کی جانب سے بڑی مقدار میں چینی برآمد کرنے کی اجازت دینے کے بعد مقامی مارکیٹ میں قیمتوں پر دباؤ بڑھا۔ 23 اگست 2026 کی ایک رپورٹ کے مطابق انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ سال حکومت نے 7 لاکھ 50 ہزار ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دی، جس کے بعد ان کے مطابق مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمت تقریباً 50 روپے فی کلو بڑھ گئی۔ان کے مطابق بعد میں حکومت نے نجی شعبے کے بجائے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (TCP) کے ذریعے 3 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کا فیصلہ کیا۔ مفتاح اسماعیل کا دعویٰ تھا کہ TCP نے عالمی مارکیٹ میں اس وقت کی قیمت سے تقریباً 40 ڈالر فی ٹن زیادہ قیمت پر چینی خریدی۔مفتاح اسماعیل نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ درآمدی چینی کو سیلز ٹیکس اور ایکسائز ڈیوٹی سے استثنیٰ حاصل ہونے کے باوجود یہ مقامی مارکیٹ میں دستیاب چینی سے مہنگی پڑی۔حکومت کا مؤقف کیا ہے؟حکومت نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ چینی کی برآمد اضافی ذخیرے کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی تھی۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق گزشتہ سال درآمد کی گئی چینی میں سے تقریباً ایک لاکھ ٹن اضافی چینی دوبارہ برآمد کی جا رہی ہے اور یہ اقدام مارکیٹ کے حالات بہتر ہونے کے بعد کیا گیا ہے۔حکومت کا مؤقف ہے کہ اس عمل سے مارکیٹ، کسان یا صارف پر منفی اثر نہیں پڑے گا۔ حکومتی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ شوگر انڈسٹری سے 60 ارب روپے اضافی ٹیکس وصول کیا گیا اور کسی کو ٹیکس استثنیٰ نہیں دیا گیا۔قیمتوں میں اضافے پر اختلافچینی کی قیمت میں اضافے کے معاملے پر بھی حکومت اور مفتاح اسماعیل کے درمیان اختلاف موجود ہے۔ مفتاح اسماعیل کے مطابق چینی کی قیمت میں اضافے سے حکومت کو سیلز ٹیکس کی مد میں فی کلو اضافی رقم حاصل ہوئی، جبکہ ان کا کہنا ہے کہ شوگر انڈسٹری میں ٹریک اینڈ ٹریس نظام کے ذریعے سیلز ٹیکس چوری میں کمی بھی ہوئی ہے۔اس سے قبل جولائی 2025 میں بھی مفتاح اسماعیل نے چینی کی برآمد سے متعلق حکومتی پالیسی پر سخت اعتراضات اٹھائے تھے اور الزام لگایا تھا کہ چینی کی برآمد سے شوگر ملز مالکان کو فائدہ پہنچایا گیا۔ انہوں نے اس وقت حکومت کی پالیسی کو مفادات کے ممکنہ ٹکراؤ سے بھی جوڑا تھا۔اصل سوال: برآمد یا درآمد، فائدہ کس کو؟اس پورے معاملے کا بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر ملک میں چینی کا ذخیرہ ضرورت سے زیادہ تھا تو اس کی برآمد کس قیمت پر کی گئی، اور بعد میں اگر مقامی ضرورت پوری کرنے کے لیے درآمد ضروری ہوئی تو درآمدی چینی کس قیمت پر خریدی گئی۔مفتاح اسماعیل کا مؤقف ہے کہ برآمد اور درآمد کے درمیان قیمت کے فرق نے شوگر ملز مالکان کے لیے غیر معمولی مالی فائدہ پیدا کیا، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ برآمد کا فیصلہ اضافی ذخیرے اور مارکیٹ کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے کیا گیا اور بعد کی درآمد و دوبارہ برآمد بھی مارکیٹ کو مستحکم رکھنے کے لیے تھی۔لہٰذا 20 خاندانوں کو ماہانہ 30 ارب روپے کے اضافی منافع کا دعویٰ فی الحال مفتاح اسماعیل کی طرف سے پیش کیا گیا ایک سیاسی و معاشی الزام ہے؛ دستیاب رپورٹس میں اس مخصوص رقم کے آزادانہ آڈٹ یا سرکاری طور پر تصدیق شدہ حساب کی تفصیل سامنے نہیں آئی۔چینی کی برآمد، درآمد، قیمتوں اور شوگر ملز کے منافع سے متعلق یہ تنازع اس وقت بھی جاری ہے اور حکومت و مفتاح اسماعیل دونوں اپنے اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔نوٹ: اس خبر میں شامل 30 ارب روپے ماہانہ اضافی منافع اور پالیسی سے متعلق دیگر الزامات کو متعلقہ فریق کے دعوے کے طور پر بیان کیا گیا ہے، حتمی ثابت شدہ حقیقت کے طور پر نہیں۔…منقول

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved