All posts by admin

سولنگی اور ھیرا منڈی تفصیلات کے لئے بادبان نیوز کو فالو کرے

‏50 کے عشرے کی ہیرامنڈی آج کے دور کی ہیرامنڈی سے بہت مختلف ہوا کرتی تھی۔ اس وقت عام طور پر نواب اور وڈیرے ہی ہیرامنڈی میں گانا سننا افورڈ کرپاتے تھے چنانچہ سارا سیٹ اپ انہیں کے شایان شایان ہوا کرتا تھا۔شام ڈھلتے ہی ٹبی بازار سے لے کر شاہی مسجد کو نکلنے والی گلی کی صفائیاں شروع ہوجاتیں، پھولوں کے گجرے بیچنے والے جگہ جگہ کھڑے ہوتے اور گلاب و موتئے کی خوشبو سے گلیاں مہکتی رہتیں۔باہر دکانوں پر استاد لوگوں کے ڈیرے ہوتے جہاں ہر وقت موسیقی سیکھنے سکھانے کا پروگرام چلتا رہتا، ہارمونیم، طبلے اور بانسری کی آوازوں سے سارا علاقہ گونجتا رہتا۔بازارحسن والوں کے بھی کچھ اصول ہوتے تھے۔ جب تک بادشاہی مسجد میں عشا کی نماز ختم نہ ہوجاتی، تب تک کوٹھے کو جانے والی سیڑھیوں کے بالائی دروازے بند رہتے۔ جونہی نماز کا وقت ختم ہوتا، ہیرامنڈی میں چہل پہل شروع ہوجاتی، برقی قمقمے جگمگانے لگتے، انواع و اقسام کے پان بیچنے والے آ جاتے۔ نواب لوگ بگھی میں بیٹھ کر اپنے ملازمین کے ہمراہ قدم رنجہ فرماتے۔رات دیر تک رقص و سرور کی محفلیں چلتیں، اس دوران کبھی پان، کبھی شربت، تو کبھی دیسی بوتلوں کی سپلائی بھی چلتی رہتی۔یہ وہ وقت تھا جب ہیرامنڈی کو بازارحسن کہا جاتا تھا کیونکہ وہاں صرف ناچ گانے کا ہی کام ہوتا تھا۔50 کے عشرے میں راجستھانی گھرانہ نقل مکانی کرکے ہیرامنڈی منتقل ہوا۔ اس گھرانے کی خواتین گانے بجانے کی نسبت سونے، سلانے پر زیادہ مہارت رکھتی تھیں، چنانچہ ان کا دھندا آہستہ آہستہ چلنا شروع ہوگیا۔ وہیں سے بازارحسن کا نام ہیرامنڈی پڑ گیا۔راجستھانی طوائف کے ڈیرے پر ایک دفعہ سندھ کا ایک وڈیرا آیا اور طے شدہ معاوضہ ادا کرکے اندر کمرے میں چلا گیا۔ اسے اس خاتون کی ادا پسند آگئی، اسے آفر کی کہ میرے ساتھ سندھ چلو اور دو دن وہیں گزارو۔خاتون نے فوراً شرط رکھ دی کہ سو لوں گی ۔ ۔ یعنی سو روپے مانگ لئے۔ یاد رہے کہ اس وقت سو روپے میں ایک تولہ سونا آجاتا تھا۔وڈیرے نے حامی بھر لی اور اسے لے کر سندھ آگیا۔ راستے میں اس کے دل میں پھر خواہش مچلی، خاتون کو اشارہ کیا تو اس نے پھر کہہ دیا کہ سو لوں گی ۔ ۔ بہر حال، سندھ آتے آتے وہ خاتون “سو لوں گی” ہی کہتی آئی۔وڈیرے نے اسے چند روز رکھا اور پھر واپس بھیج دیا۔ 9 ماہ بعد اس خاتون کا لڑکا پیدا ہوا تو اس نے سندھ اس کے ناجائز باپ کو خط لکھا اور پوچھا کہ لڑکے کی ذات کیا رکھی جائے؟وڈیرے کو خاتون کا ” سو لوں گی ” کہنا یاد تھا، اس نے فوراً کہہ دیا کہ اسے سولنگی کہنا شروع کردو۔ چونکہ سولنگی بہت بڑا اور قابل عزت قبیلہ ہے، اس لئے وڈیرے نے سوچا کہ لڑکا بڑا ہو کر کنجر کہلانے کے عذاب سے بچ جائے گا۔بہرحال، وہ لڑکا اب بوڑھا ہوچکا اور مرتضی سولنگی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ہیرامنڈی کی توہین اسی لئے اس سے برداشت نہیں ہوئی کیونکہ اس کی اپنی پیدائش بھی اسی منڈی میں ہوئی تھی۔واللہ اعلم!!!

کوئی غلط فہمی میں نہ رھے جنید اکبر۔۔پوری طاقت سے آئینگے۔۔منافقت کا لبادہ اوڑھے اندرونی و بیرونی دشمنوں کو اچھی طرح جانتے ہیں ارمی چیف۔۔ججز کے تبادلے اسلام آباد کے وکلاء ھڑتال پر۔۔صدر کسی ھای کورت کے جج کا تبادلہ کر سکتے ہیں صدیقی۔۔ایف آئی اے اور ریفارم۔۔لڑکوں کے بعد جنوبی افریقہ کی انڈر 19 لڑکیاں بھی آج ٹی ٹوئینٹی ورلڈ کپ کا فائنل ہار گئیں انڈیا سے اور میچ جیتنے کے بعد رونے لگ گئیں۔۔ملک بھر میں رکشہ دھشت گردی میں ملوث۔۔3 سالہ لڑکی سالی کو قتل کرنے والا گرفتار۔۔امریکی چھوٹے طیارے کی کرپش لیڈنگ۔۔حکومتی دعوے ردی کی ٹوکری میں گندم کی پیداوار میں کمی بحران۔۔پیپلز پارٹی نے وزیر اعظم کو ھٹانے کی دھمکی دے دی۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

بلوچستان کے ضلع قلات کے علاقے منگوچر میں سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کے دوران 12 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق منگوچر آپریشن میں دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے سی بلوچستان کے 18 جوان بھی شہید ہو گئے۔

بلوچستان کے ضلع قلات کے علاقے منگوچر میں سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کے دوران 12 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق منگوچر آپریشن میں دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے سی بلوچستان کے 18 جوان بھی شہید ہو گئے۔

منگوچر میں کارروائی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بھی حصہ لیا۔31 جنوری اور یکم فروری کی رات دہشت گردوں نے روڈ بلاک کرنے کی کوشش کی تھی۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری متحرک ہوئے، جنہوں نے دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو کامیابی سے ناکام بنا دیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے کہا کہ دشمن قوتوں کی ایماء پر دہشت گردی کا مقصد بلوچستان کا پُرامن ماحول خراب کرنا تھا، بزدلانہ فعل کی حوصلہ افزائی کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ قلات کے علاقے منگوچر میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہے، بلوچستان کے استحکام اور ترقی کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں ناکام بنانے کے لیے پُرعزم ہیں، ہمارے بہادر سپاہیوں کی ایسی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔

اسلام آباد کا چیف جسٹس کون۔۔سعودی عرب کی ایک اور ائیر لائن نے آپریشن شروع کردیا۔۔بھوک موت کا خوف ختم کر دیتی ہے ملک بھر میں مھنگای کی وجہ سےعوام کا اداروں اور حکومت پر اعتماد ختم ھو چکا ھے۔افواج پاکستان کی ایک روز مے 18 شہادتیں اھم اجلاس بلوچستان میں آرمی چیف سمیت بلوچستان کے کور کمانڈر ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشن ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلی جنس شریک۔۔*ایل ایل بی 5 سالہ پروگرام ختم کرنے کا فیصلہ آئندہ کیلئے نئے ایڈمیشن 2025 میں LLB پروگرام 4 سال۔ جنیداکبر کی منظور پشتین سےملاقات ھم کدھر جا رھے ھیں۔ بھوک موت کا خوف ختم کر دیتی ہے ملک بھر میں مھنگای کی وجہ سےعوام کا اداروں اور حکومت پر اعتماد ختم ھو چکا ھے۔۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

یہ ٹیم ھے سرپرائز پارٹی۔ ایف آئی اے کی کارروائی 12 انسانی سمگلر گرفتار۔۔کرکٹ ٹیم کی سلیکشن بورڈ کی نا اہلی ھے۔۔شطرنج کی آخری چال اور فیصلے کا رزلٹ۔۔پاکستان چمپین ٹرافی شروع ھونے سے پھلے ھی ھار چکا ہے۔۔مذاکرات ختم دما دم مست قلندر۔۔امریکہ میں پاکستان کا نیٹ ورک پکڑا گیا۔۔اسرائیلی وزیر دفاع ان ایکشن۔ این ایل سی اور ایف ڈبلیو نے ایک سال مے ٹول پلازوں میں 200 فیصد اضافہ کر دیا این ایچ اے بے بس یہ ایسے ھی ھے جیسے کور کمانڈر جنرل آفیسر کمانڈنگ کے نیچے ھو تفصیلات کے لیے بادبان نیوز کو فالو کرے

بینظیر انکم سپورٹ میں 19 ارب کا فراڈ۔ بے نظیر اِنکم سپورٹ پروگرام سے اب تک 1 لاکھ 43 ہزار سرکاری ملازمین و آفسران نے 19 ارب روپے ہڑپ کئے ۔غیر یقینی صورتحال خوف کے ساے برقرار۔مھنگای کا طوفان بجلی کے بلوں کے بعد گیس کے بلوں نے عوام کو زندہ جلا دیا۔عمران خان کے لیے مشکلات مے اضافہ۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کا مزید ریکارڈ پبلک کردیا کابینہ ڈویژن نے مارچ 2023 سے 31 دسمبر 2024 اور 1997 سے لیکر 2001 تک کا توشہ خانہ ریکارڈ جاری کردیااس سے قبل 2023 میں 2002 سے 2 مارچ 2023 تک کا توشہ خانہ رکارڈ جاری کیا گیا تھا

وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کا مزید ریکارڈ پبلک کردیا کابینہ ڈویژن نے مارچ 2023 سے 31 دسمبر 2024 اور 1997 سے لیکر 2001 تک کا توشہ خانہ ریکارڈ جاری کردیااس سے قبل 2023 میں 2002 سے 2 مارچ 2023 تک کا توشہ خانہ رکارڈ جاری کیا گیا تھا، دستاویز 1997 سے لیکر 2001 تک کے ریکارڈ کے مطابق نواز شریف، شہباز شریف، پرویز مشرف، رفیق تارڑ کے نام تحائف لینے والوں میں شامل، دستاویزچوہدری نثار، گوہر ایوب، اسحاق ڈار اور خواجہ آصف کے نام شامل، دستاویزچوہدری شجاعت، شیخ رشید، تہمینہ دولتانہ، عابدہ حسین اور سعید مہدی سمیت کئی بیوروکریٹس اور سیاست دانوں کے نام فہرست کا حصہ، دستاویزبلاول بھٹو، عارف علوی، انوارالحق کاکڑ، قاضی فائز عیسی، آصفہ بھٹو، سینیٹر طلحہ محمود اور طارق فاطمی کو بھی تحائف ملے، دستاویز بیشتر شخصیات نے تحائف توشہ خانہ میں جمع کرادیے، دستاویز بطور وزیر اعظم نواز شریف کو 1998 میں 17 لاکھ 21 ہزار 250 روپےمالیت کے تحائف ملے، دستاویز نواز شریف نے 2 لاکھ 59 ہزار 151 روپے کی رقم ادا کرکے تحائف رکھ لیے، دستاویز نواز شریف نے ڈائمنڈ جیولری سیٹ حاصل کیا، دستاویزنواز شریف ایک اور جیولری سیٹ اور گھڑی اپنے پاس رکھی، دستاویزنواز شریف نے گولڈ لیڈیز واچ حاصل کی، دستاویز بطور وزیراعلی پنجاب شہباز شریف کو 1998 میں 13 لاکھ 15 ہزار 366 روپے تحائف ملے، دستاویز شہبازشریف نے ایک لاکھ 98 ہزار 544 روپے ادا کرکے تحائف رکھ لیے، دستاویز شہبازشریف نے 18 کیرٹ گولڈ گھڑی، ایک قہوہ سیٹ، جنٹس اور لیڈیز واچ رکھ لیں، دستاویزبطور چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف نے ایک ٹی وی سیٹ، ایک باول مفت حاصل کیا، دستاویزجنرل مشرف نے ایک گھڑی، ایک خنجر، قہوہ پاٹ رقم ادا کرکے حاصل کیے، دستاویزجنرل مشرف کو تحفے میں ملنے والا ایرانی کارپٹ اور ریپلکا فالکن نیلام کیے گئے، دستاویز بطور صدر رفیق تارڑ نے درجنوں تحائف مفت یا رقم ادا کرکے رکھے، دستاویزاسحاق ڈار نے دو گلاسزکا تحفہ رقم ادا کرکے رکھ لیا، دستاویزاسحاق ڈار نے پاکٹ واچ کا تحفہ توشہ خانہ میں جمع کرایا، دستاویزشیخ رشید نے ایک قہوہ سیٹ،دو ٹائیز اور بریف کیس رکھا، دستاویز