*نیا DG FIA کون ہو گا؟*اس تقرری کے حوالے سے وزیراعظم صاحب نے مختلف ناموں پر غور و خوض شروع کر دیا ہے۔اور آئندہ ہفتے اس تقرری کا امکان پایا جاتا ہے۔متوقع DG کے لئے ان افسران کے نام گردش میں ہیں۔ پہلے تو اس بھی بڑی اور اہم پوسٹنگ پر تعینات یعنی IG پنجاب پولیس ڈاکٹر عثمان انور، اے ڈی خواجہ سیکرٹری برائے انسانی حقوق، راجہ رفعت ممتاز IG موٹر وےاور جان محمد صاحب بھی جنہیں اضافی چارج دیا گیا ہے ایڈیشنل DG FIA ہیں اور سلمان چوہدری ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ، یہ وہ ہیں جنہوں نے یونان کشتی حادثہ کی تحقیقات کی تھیں اور ان کے چانسز کافی زیادہ ہیں۔وزیراعظم صاحب ان میں سے کسی کی تقرری کا فیصلہ کریں گے اور پھر یہ معاملہ کابینہ میں چلا جائے گا اور کابینہ سے تقرری کی منظوری حاصل کی جائے گی۔لیکن جو بندہ IG پنجاب پولیس ہے اور حکومت کی گڈ بکس میں بھی ہے تو وہ کیوں اس عہدے کی لائن میں لگے گا؟تو یہاں پر ایک بات بتاتے چلیں کہ ڈاکٹر عثمان انور فی الحال گریڈ 21 میں ہیں، اور اگر گریڈ 22 میں جانے کا کوئی چانس بنتا ہے تو وہ بخوشی FIA کے DG بننے کے لئے تیار ہو جائیں گے۔
فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل پر کیس کی سماعت میں جسٹس حسن اظہر نے سوال کیا کہ کیا 9 مئی کا جرم دہشتگردی کے واقعات سے زیادہ سنگین ہے؟ سپریم کورٹ میں جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت کی جہاں وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیے۔ سماعت کے آغاز میں جسٹس جمال مندوخیل نے کل دیے جانے والے ریمارکس پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کل خبر چلی میں نے کہا 8 ججز کےفیصلے کو 2 ججز غلط کہہ دیتے ہیں، خبر پر بہت سے ریٹائرڈ ججز نے مجھ سے رابطہ کیا، میڈیا کی پرواہ نہیں لیکن درستگی ضروری ہے، بات عام تاثرمیں کی تھی اور کہا تھا کہ 8ججز کےفیصلےکو 2 لوگ کھڑے ہوکرکہتے ہیں غلط ہے۔ وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ فوجی عدالتوں کا آرٹیکل 175 کے تحت عدالتی نظام میں ذکر نہیں، فوجی عدالتیں الگ قانون کے تحت بنتی ہیں جو تسلیم شدہ ہے۔اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آرٹیکل 175 کے تحت بننے والی عدالتوں کے اختیارات وسیع ہوتے ہیں، مخصوص قانون کے تحت بننےوالی عدالت کادائرہ اختیار محدود ہوتا ہے۔ جسٹس مندوخیل نے ریمارکس دیے 21 ویں آئینی ترمیم میں لکھا ہےفوجی عدالتیں جنگی صورتحال میں بنائی گئی تھیں، شہریوں کے ٹرائل کےلیے آئین میں ترمیم کرنا پڑی تھی، اس پر وکیل وزارت دفاع نے کہا کہ ٹرائل کے لیے ترمیم کی ضرورت نہیں تھی، ترمیم کے ذریعے آرمی ایکٹ میں مزید جرائم کو شامل کیا گیا تھا۔ جسٹس حسن اظہر نے کہا کہ 21 ویں آئینی ترمیم میں مہران اور کامرہ بیسز کا بھی ذکر ہے، جی ایچ کیو پر حملہ کرنے والوں کا ٹرائل کہاں ہوا تھا؟ کامرہ بیس پر حملہ آور ملزمان کا ٹرائل کہاں ہوا تھا ؟ پاکستان کے اربوں روپے مالیت کے 2 کورین طیارے تباہ ہوئے تھے، کیا 9 مئی کا جرم دہشتگردی کے واقعات سے زیادہ سنگین ہے؟ جسٹس حسن کے سوالات پر وکیل وزارت دفاع نے کہا مہران بیس حملے کے تمام دہشتگرد مارے گئے تھے، اس پر جسٹس حسن سوال کیا کیا مارے جانے کے بعد کوئی تفتیش نہیں ہوئی کون تھے؟ کہاں سے اور کیسے آئے؟ کیا دہشتگردوں کے مارے جانے سے مہران بیس حملے کی فائل بند ہو گئی؟ وکیل وزارت دفاع نے جواب دیا تحقیقات ضرور ہوئی ہونگی، جی ایچ کیو حملہ کیس کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں ہوا تھا اور ٹرائل 21 ویں آئینی ترمیم سے پہلے ہوا تھا، اس پر جسٹس حسن نے کہا تمام حملوں کی بنیاد پر آئینی ترمیم کی گئی تھی تاکہ ٹرائل میں مشکلات نہ ہوں۔ بعد ازاں عدالت نے وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث کے دلائل مکمل ہونے پر کیس کی سماعت میں وقفہ کردیا اور مزید سماعت وقفے کے بعد ہوگی۔
190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل میں اشتہاری ملزمان کے خلاف کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔ ذرائع وزارت داخلہ کے مطابق وزارتِ داخلہ نے 190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل میں چار اشتہاری ملزمان کے پاسپورٹ بلاک کردیے۔ ملک ریاض اور علی ریاض کے پاسپورٹ وزارت داخلہ نے بلاک کردیے۔سابق مشیر شہزاد اکبر اور فرح گوگی کے پاسپورٹ بھی بلاک کردیے گئے۔ذرائع وزارت داخلہ کے مطابق وزارتِ داخلہ نے پاسپورٹ نیب کی سفارش پر بلاک کردیے۔یاد رہے کہ نیب نے 28 جنوری کو ملزمان کے پاسپورٹ بلاک کرنے کے لیے وزارت داخلہ کو خط لکھا تھا۔—2———— سپریم کورٹ میں 8 نئے ججز کی تعیناتی کے معاملے میں اہم پیشرفت سامنے آگئی۔تفصیلات کے مطابق جوڈیشل کمیشن اجلاس کی تاریخ تبدیل کردی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ 11 فروری کو طلب کیا جانے والا اجلاس اب ایک دن قبل 10 فروری کو طلب کرلیا گیا ہے۔اجلاس سپریم کورٹ کے کانفرنس روم میں دن 2 بجے ہوگا۔ جوڈیشل کمیشن کے ممبران کو اجلاس ایک دن پہلے بلانے سے متعلق باقاعدہ طور پر آگاہ کردیا گیا ہے۔سپریم کورٹ میں 8 نئے ججز کے لیے پانچوں ہائی کورٹس کے 5 سینئر ججز کے نام طلب کیے گئے ہیں۔—3———- ایک ماہ کیلئے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 1 روپے 3 پیسے کمی کا امکان ہے۔نیپرا نے سی پی پی اے کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت مکمل کر لی ۔ چیئرمین نیپرا وسیم مختار کی سربراہی میں نیپرا اتھارٹی نے درخواست پر سماعت کی ، نیپرا اعداد و شمار کا جائزہ لیکر بعد میں فیصلہ جاری کرے گا۔سی پی پی اے حکام نے کہا کہ دسمبر میں ہاور پلانٹس میرٹ کے مطابق چلے ہیں، دسمبر کے دوران فیول کی قیمتیں بھی کم رہی ہیں نیلم جہلم پاور پراجیکٹ اگر چلتا ہوتا تو عوام کو مزید فائدہ پہنچتا۔سی پی پی اے حکام کے مطابق ونٹر پیکج کے تحت بجلی کی ڈیمانڈ میں 1.5 فیصد اضافہ ہوا، صارفین نے ونٹر پیکج کے ذریعے 18 کروڑ یونٹس اضافی استعمال کیے،سماعت کے دوران سی پی پی اے کے نقصانات پورے کرنے پر صارفین نے سوالات اٹھا دیے ۔ صارفین نے استفسار کیا کہ بتایا جائے سی پی پی اے کے نقصانات کیسے پورے ہوتے ہیں۔اتھارٹی کے مطابق دسمبر میں سی پی پی اے نقصانات 2.63 فیصد کی بجائے 2.44 فیصد رہے۔ نیپرا حکام نے کہا کہ سی پی پی اے کے نقصانات کا بوجھ بجلی صارفین پر نہیں ڈالا جاتا۔صارفین نے استفسار کیا کہ اگر عوام سے یہ پیسے وصول نہیں ہوتے تو کہاں سے ہوتے ہیں۔ سی پی پی اے حکام کے مطابق سی پی پی اے اپنے یہ نقصانات اپنے منافع سے پورے کرتا ہے۔صارفین نے کہا کہ آپ کے منافع کی شرح کتنی ہے جو اربوں روپے کے نقصانات پورے کر لیتے ہیں۔—4————–بیرون ممالک میں پاکستانیوں کے بھیک مانگنے کے بڑھتے ہوئے واقعات میں اہم پیشرفت سامنے آگئی۔ بیرون ملک پاکستانی بھکاریوں کی روک تھام سے متعلق بھی قانون سازی سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق انسانی سمگلنگ کی روک تھام سے متعلقہ ترمیمی بل کے اہم مندرجات سامنے آگئے۔نئی قانون سازی کے تحت بل میں منظم بھیک مانگنے کی تعریف بیان کی گئی ہے۔بل کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ منظم بھیک مانگنے کے لیے بھرتی کرنے، پناہ دینے پر 7 سال قید اور دس لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا۔ منظم بھیک مانگنے سے مراد کسی شخص کو جان بوجھ کر،فراڈ، یاخیرات وصول کرنے میں ملوث کرنا ہے۔مننظم بھیک مانگنے سے مراد دھوکہ دہی، زبردستی، ورغلا کر بہانے سے بھیک مانگنے میں ملوث کرنا ہے۔ منظم بھیک مانگنا کسی عوامی مقام پر خیرات مانگنا یا وصول کرنا ہے۔بل کے مسودے میں مزید کہا گیا ہے کہ قسمت کا حال بتا کر ،کرتب دکھا کر بھیک مانگنا منظم بھیک مانگنا ہے۔ منظم بھیک مانگنے سے مراد بہانے سے اشیاء فروخت کرنا بھی ہے۔گاڑیوں کی کھڑکیوں پر دستک دینا، زبردستی گاڑیوں کے شیشے صاف کرنا بھی منظم بھیک ہے۔ منظم بھیک مانگنے سے مراد کسی نجی احاطے میں داخل ہو کر بھیک مانگنا یا خیرات وصول کرنا ہے۔کسی زخم، چوٹ، بیماری، معذوری کو دکھا کر کے خیرات یا بھیک حاصل کرنے بھی منظم بھیک ہے ۔بل کے متن میں بتایا گیا ہے کہ خود کو بطور نمائش استعمال ہونے دینا بھی منظم بھیک مانگنے کے زمرے میں آتا ہے۔جی سی سی ممالک کے مطابق حج، عمرہ، زیارت کے دوروں پر آنے والے کچھ پاکستانی بھیک مانگنے میں ملوث ہیں۔ بھیک مانگنے والے اور ان کے پیچھے موجود گینگ کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔بل کے متن میں تفصیلات بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ملوث ایجنٹ اور گینگ آسانی سے قانونی کارروائی سے بچ جاتے ہیں۔—–5——- چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس 2024 کیخلاف درخواست خارج کرنے کو چیلنج کردیا ہے۔تفصیلات کے مطابق بیرسٹر گوہر نے آئینی بینچ کے 12 دسمبر 2024 کے فیصلے کیخلاف اپیل دائر کردی۔ درخواست میں صدر پاکستان، سیکرٹری کابینہ اور سیکرٹری قانون کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ اپیل منظور کرتے ہوئے 12 دسمبر کا آئینی بینچ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس کی شق 2، 3، 4، 5 آئین سے متصادم ہیں۔ پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس کے تحت کیے گئے تمام اقدامات کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔—6—-ڈی جی آئی ایس پی آر کی آئی بی اے کراچی کے طلباء و طالبات کے ساتھ خصوصی نشست کا انعقاد کیا گیا۔ آئی بی اے آمد پر ڈی جی آئی ایس پی آر کا بھرپور استقبال کیا گیا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس خصوصی نشست میں پاکستان کی ترقی اور خوش حالی میں طلباء کے مثبت کردار کو سراہا۔ انھوں نے ابتدائیہ کلمات میں اس بات کا اظہار کیا کہ آئی بی اے لرننگ کا سسمبل ہے اور میں اس کامیابی پر آئی بی اے کے اساتذہ کو سلیوٹ پیش کرتا ہوں۔آئی بی اے اپنی طرز کا نہ صرف بہترین ادارہ ہے بلکہ یہاں کا نظام تعلیم بھی دنیا کے جدید تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے آئی بی اے کے طلباء و طالبات کے سوالات کے جواب انتہائی خوش اسلوبی سے دیئے اور طلباء کی سوچ کو سراہا۔ طلباء و طالبات نے پاک افواج کی قربانیوں اور خدمات کو سراہا۔ اساتذہ اور طلبہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اُن کے تحفظات کے تفصیلی جوابات دیئے گئے جو انتہائی تسلی بخش تھے۔اس موقع پر طلبہ کا کہنا تھا کہ ہم سوشل میڈیا پر پاک فوج کے خلاف کیے جانے والے پروپیگنڈا کی مکمل نفی کرتے ہیں۔طلبہ اور اساتذہ نے سیشن کو سراہا اور ڈی جی آئی ایس پی آر سے کہا کہ اس طرح کےمزید سیشن منعقد کیے جائیں۔——7—–چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ دوسری ہائیکورٹ سے لانے کے خلاف اسلام آبادکے وکلاء میدان میں آ گئے۔اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن اور اسلام آباد بار ایسوسی ایشن نےمشترکہ اعلامیہ جاری کردیا۔ اعلامیہ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر یاست علی آزاد اور ڈسٹرکٹ بار کے صدر نعیم گجر کی جانب سے جاری کیاگیا۔اسلام آبادمیں باہر کے ججز کی تعیناتی پر ملک گیر احتجاج کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ارباب اختیار کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے معزز ججز صاحبان کے علاوہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا چیف جسٹس کسی کو بھی تعینات نہ کیا جائے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز صاحبان میں سے ہی چیف جسٹس اسلام آباد تعینات کیا جائے۔مشترکہ اعلامیہ کے مطابق اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن اور اسلام آباد بار ایسوسی ایشن اس عمل کو عدلیہ کی آزادی اور خود مختاری پر حملہ تصور کرے گی۔ ملک گیر احتجاج کی کال دی جائے گی اور اسلام آباد میں آل پاکستان وکلاء کنویشن کا انعقاد کیا جائے گا اور ارباب اختیار کے خلاف با قاعدہ تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔——-8——خیبر پختونخوا میں نگران دور حکومت میں بھرتی ہونے والے 9 ہزار 762 ملازمین کی فہرست سامنے آگئی، جنہیں سروس سے فارغ کیا جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں نگران دور حکومت میں ہونے والی بھرتیوں کی فہرست تیار کرلی گئی ہے۔ نگراں حکومت دورمیں 9ہزار 762 بھرتیاں ہوئیں۔ بھرتیاں 23 جنوری 2023 سے 29 فروری 2024 تک کی گئیں۔ نگراں دورمیں سب سے زیادہ ہزار19بھرتیاں پولیس میں ، محکمہ بلدیات 192، محکمہ جیل خانہ جات میں 159بھرتیاں کی گئیں۔محکمہ اعلی تعلیم 702، محکمہ صحت میں 693 افراد اور محکمہ ایلمنٹری وسیکنڈری ایجوکیشن میں2 ہزار323 افراد بھرتی کئے گئے جبکہ محکمہ محنت،محکمہ داخلہ و دیگر اداروں میں بھی بھرتیاں کی گئیں۔یاد رہے کے پی اسمبلی میں خیبرپختونخوا ملازمین 2025 بل منظور کیا گیا تھا، جس کے تحت نگراں دور میں بھرتی سرکاری ملازمین کو سروس سے فارغ کیا جائیگا۔ بل کا اطلاق 22 جنوری 2023 سے 29 فروری 2024 کی بھرتیوں پر ہو گا تاہم سن اور اقلیتی کوٹہ، کمیشن کے ذریعے ہونے والی بھرتیوں کو استثنی حاصل ہو گا۔ملازمین کو نکالنے میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کیلئے کمیٹی تشکیل دی جائیگی، 7 رکنی کمیٹی کی سربراہی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کریں گے اور تمام ادارے نگراں دور کی بھرتیوں پر 30 دن میں رپورٹ مرتب کریں گے۔——9——–وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کو ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی دعوت دی ہے۔وزیر اعظم شہباز شریف نےوفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہاؤس کمیٹی میں پی ٹی آئی کے مطالبات پر بات چیت کی جا سکتی ہے۔وزیراعظم شہباز شریف کی طرف سے یہ دعوت مذاکرات کے عمل میں تعطل کے دو روز بعد دی گئی ہے۔یادرہےمنگل کے روز مذاکرات کے طے شدہ راؤنڈ میں پی ٹی آئی کے وفد نے شرکت نہیں کی تھی اور حکومتی مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا تھا، تاہم سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے مشاورتی اجلاس میں پی ٹی آئی کی جانب سے مذاکراتی سیشن میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے کے بعد کی صورتحال پر غور کیا گیا تھا۔اجلاس کے دوران سپیکر قومی اسمبلی نے پی ٹی آئی کے سینیئر رہنماؤں اسد قیصر اور عمر ایوب سے دوبارہ ٹیلیفونک رابطہ کیا اور مذاکرات میں شرکت کی دعوت دی۔سپیکر نے کہا کہ تمام مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے اور یہ وقت ہے کہ فریقین مل بیٹھ کر معاملات طے کریں۔ تاہم، پی ٹی آئی نے مشاورت کے بعد مذاکراتی عمل میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کیا اور واضح کیا کہ جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے بغیر مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکتے۔جس کے بعد حکومتی کمیٹی مذاکراتی اجلاس کے لیے کمیٹی روم میں آئی اور سپیکر کی سربراہی میں باضابطہ اجلاس ہوا۔ تاہم اپوزیشن کے نہ آنے کی وجہ سے اجلاس ملتوی کرنا پڑا۔پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان ہونے والے مذاکرات پر بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے لیے ہم نے ایک کمیٹی بنائی اور سپیکر کے توسط سے یہ مذاکرات شروع ہو گئے۔ جس کے لیے ان کی کمیٹی کے جانب سے ڈیمانڈ کی گئی کہ انہیں لکھ کر دیا جائے، ہماری کمیٹی نے کہا ہم آپ کو لکھ کر جواب دیں گے، میٹنگ اسی ماہ کی 28 تاریخ کو ہونی تھی لیکن اس سے پہلے وہ بھاگ گئے۔ ہمارے(حکومتی کمیٹی) ممبرز نے انہیں کہا کہ آپ نے لکھ کر ہمیں ڈیمانڈز دی ہیں، ہم بھی آپ کو لکھ کر جواب دینے کے لیے تیار ہیں، ہم آپ سے بات کریں گے۔انہوں نے کہاکہ 2018 کے انتخابات کے بعد جب احتجاجاً پارلیمنٹ میں کالی پٹیاں باندھ کر داخل ہوا، تو پی ٹی آئی کے عمران خان نے کہا کہ ہم ہاؤس کمیٹی بنا رہے ہیں، وہ ساری تحقیق کرے گی، آپ اپنے ممبرز منتخب کر دیں۔تو میں نے انہیں اعلان کرنے کو کہا، انہوں نے وہاں پر اعلان کیا لیکن وہ دن ہے اور آج کا دن ، کمیٹی ضرور بنی ہو گی ایک آدھا اجلاس ہوا اور باقی تاریخ کا حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ’یہ اپنے گریبان میں جھانکیں، وہ ہاؤس کمیٹی بنی تھی جوڈیشنل کمیشن نہیں بنا تھا، جس کی میٹنگ ہی نہیں ہوئی۔‘شہباز شریف نے پی ٹی آئی ارکان سے کہا کہ آئیں، بیٹھیں، ہاؤس کمیٹی کے لیے ہم تیار ہیں، 2018 الیکشن کمیٹی اپنا کام مکمل کرے اور 2024 پر بھی ہاؤس کمیٹی بنے اور حقائق سامنے لے کر آئے۔اسی طرح 26 نومبر کے دھرنے کی بات کرتے ہیں تو 2014 کا جو دھرنا تھا، اس کا بھی ہاؤس کمیٹی احاطہ کرے اور 26 نومبر کو بھی احاطہ کرے۔انہوں نے مزید کہا کہ میں صدق دل اور نیک نیتی سے تیار ہوں کہ یہ مذاکرات آگے بڑھیں تا کہ ملک بھی آگے بڑھے، ملک مزید نقصان کا متحمل نہیں ہو سکتا۔———–10—— پیکا ترمیمی ایکٹ 2025 نافذ العمل ہو گیا جس کا گزٹ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا۔وزارت قانون کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد پیکا قانون کا باضابطہ اطلاق ہو گیا، ڈیجیٹل نیشن بل کا بھی نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔-
امریکہ کے وزیرِِ خارجہ مارکو روبیو نے خبردار کیا ہے کہ اگر افغان طالبان کی تحویل میں مزید امریکی شہری ہوئے تو امریکہ ان کی اعلیٰ قیادت کے سروں کی قیمت مقرر کرے گا۔
امریکی وزیر خارجہ نےطالبان کے سروں کی قیمت لگا دی
صدرِ پاکستان آصف زرداری نے پیکا ایکٹ ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے جس کے بعد یہ قانون بن گیا ہے۔ پاکستان کی پارلیمان نے اس بل کی منظوری دی تھی
*صادق سنجرانی کی گرفتاری*صادق سنجرانی بہت بڑا مہرہ تھا فیض حمید اور 30 سالہ پراجیکٹ کالمبا ترین عرصہ یعنی 6 سال یہ چیئرمین سینیٹ رہا جس کے دوران اس نے اور اس کے بھائی نے بہت زیادہ کرپشن کی تھی بلوچستان اور اسلام آباد میں۔ذرائع کے مطابق اب اس کے خلاف کرپشن کے کافی کیسیز کھل چکے ہیں جن میں اس کے خلاف کافی ثبوت اور شواہد اکٹھے کر لئے گئے ہیں اور آنے والے چند ہفتوں میں اس کی گرفتاری بھی متوقع ہے۔
*سپین میں انتشاری پارٹی کا صدر اور 30 کے قریب افراد گرفتار*ذرائع کے مطابق سپین کے ایک صوبے Andalusia میں فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے انتشاری پارٹی کے صدر وسیم ارشاد چوہدری کو انسانی سمگلنگ کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا۔وسیم ارشاد ترکی اور یونان سے بندے سمگل کر کے سپین لاتا تھا۔جب یہ یونان سے بندے سپین لاتا تھا تو 10 ہزار یورو فی بندہ وصول کیا کرتا تھا
جس میں گارنٹی یہ ہوتی تھی کہ آپ کا کیس بھی بنائیں گے جعلی کاغذات، جعلی جاب لیٹر، رہائش گاہ کا جعلی ثبوت، جعلی یوٹیلیٹی بلز بھی تیار کر کے دیں گے۔اس نے 5/6 مکان Andalusia میں لئے ہوئے تھے جہاں ان بندوں کو ٹھہرایا جاتا تھا۔سپین کے اداروں نے چھاپہ مار کر ان مکانوں سے 30 کے قریب لوگوں کو گرفتار کر کے چارج شیٹ کر دیا۔وسیم کے پاس پرتگال کا پاسپورٹ ہے اور بیوی بھی پرتگالی ہے۔
اسٹیبلشمنٹ نے ملک ریاض کی ٹویٹ جس میں اس نے دھمکی لگائی تھی کہ میرے پاس سب کے راز ہیں تمام ثبوتوں کے ساتھ کا جواب دے دیا کہ*توں کڈ لے جیڑا سپ کڈنا ای*اس کے بعد ملک ریاض کی سِٹّی تو بالکل ہی گُم ہو گئی۔
ذرائع کے مطابق،پھر اس نے اپنی عادت اور پرانے طریق کار کے مطابق اسٹیبلشمنٹ کی ایک طاقتور ترین شخصیت کے انتہائی قریبی رشتہ دار سے رابطہ کیا۔وہ قریبی رشتہ دار آرمی چیف جنرل عاصم منیر صاحب کی رہائش گاہ کے قریب ہی واقع ایک کالونی میں رہتے ہیں۔اور یہ رشتہ دار رشتے کے اعتبار سے آرمی چیف صاحب کے سگے بزرگ ہیں (کوئی ماموں، چاچو، تایا یا کوئی بھی ہو سکتےہیں لیکن ہیں قریبی)
۔پنڈی کے رہائشی حضرات تو شاید سمجھ گئے ہوں گے کہ کن کے متعلق بات ہو رہی ہے۔تو ملک ریاض نے خود فون کیا یا کسی پیغام رساں کے ذریعے ان بزرگ شخصیت سے رابطہ کیا اور وہی چارہ ڈالا جو وہ سب کو ڈالتا آیا ہے اور ہمیشہ مچھلیاں پھنستی تھیں۔چارہ ڈالتے ہوئے کہا کہ”بھائی کس چکر میں پڑ گئے ہیں آپ۔ میں آپ کا خادم، آپ کی خدمت کے لئے تیار-“جیسے کہ رہا ہو کہ کوئی پلاٹ چاہیئے، وِلا چاہیئے، سونے کی انگوٹھیاں یا ہیرے چاہئیں، (یعنی جو ملک ریاض کر سکتا ہے اس سارے کی آفرز لگا دیں) آپ بس حکم کر دیں۔
اس بزرگ شخصیت نے آرمی چیف صاحب کو بتایا کہ ملک ریاض یہ آفرز کر رہا ہے۔اب چونکہ موجودہ آرمی چیف صرف دین دار نہی ہیں بلکہ پورے کے پورے دین میں داخل ہیں۔نہ کوئی لین نہ دین، نہ پلاٹ، نہ فارن وزٹ، نہ کوٹھی، نہ ٹرانفسر پوسٹنگ میں گھپلا، غرض کچھ بھی تو نہی وہ کیسے ملک ریاض کے جال میں پھنس سکتے ہیں۔لہٰذا ملک ریاض کی اس بےوقوفی کے بعد نیب نے پریس ریلیز جاری کر دی۔اور اب اس کی ٹویٹ کا جواب گیا ہے کہ*جو سپ توں کڈنا اے پٹاری وچوں او توں کڈلے،**چھوڑنا نئی ہے-*اب پھر کام اور تیز ہو گیا ہے اس کی گرفتاری کی کوششیں ہیں، حکومت بھی یو اے ای سے رابطے کر رہی ہے کہ پائی صاب اے بندہ ساڈے حوالے کرو ایس دے پاکستان وچ بڑے رولے نیں۔ملک ریاض بڑا ماہر شکاری تھا لیکن زندگی میں پہلی بار غلط جگہ پر ہاتھ ڈال بیٹھا ہے، ایک ایسے بندے کےہاتھ چڑھا ہے جو اس کے پھیلائے ہوئے جال نہیں پھنسا۔یہ ان سائڈ سٹوری ہے۔
*روس نہیں، امریکہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ چین ہے، سی آئی اے CIA چیف*سی آئی اے کے ڈائریکٹر ریٹکلف نے چین کو اس کی اقتصادی طاقت اور عالمی مسابقت کی وجہ سے روس کی محدود صلاحیتوں سے متصادم جغرافیائی سیاسی خطرہ قرار دیا۔
پینٹاگون کے حکام نے انڈو پیسیفک میں چین کو روکنے پر توجہ مرکوز کی
ڈی جی ایف آئی اے کو عہدے سے ہٹا دیا گیا وفاقی حکومت نے او ایس ڈی بنا کر انھیں فوری طور پر گھر بھیٹنے کی ھدایت