All posts by admin
قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ نے بھی پریونشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) ترمیمی بل کی منظوری دے دی ہے۔ ازدی صحافت پر حملہ ترمیمی بل وفاقی وزیر رانا تنویر نے ایوان میں پیش کیا جس پر اپوزیشن نے احتجاج کیا جب کہ بعض سینیٹرز نے بل کی کاپیاں بھی پھاڑ دیں۔ اسی دوران پریس گیلری میں موجود صحافیوں نے بطور احتجاج واک آؤٹ کیا۔ وفاقی وزیر رانا تنویر نے دعویٰ کیا ہے کہ اس قانون کا تعلق اخبار، ٹی وی یا صحافیوں سے نہیں ہے۔ اس سے سوشل میڈیا کو ڈیل کیا جائے گا۔ ۔
قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ نے بھی پریونشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) ترمیمی بل کی منظوری دے دی ہے۔ ازدی صحافت پر حملہ ترمیمی بل وفاقی وزیر رانا تنویر نے ایوان میں پیش کیا جس پر اپوزیشن نے احتجاج کیا جب کہ بعض سینیٹرز نے بل کی کاپیاں بھی پھاڑ دیں۔ اسی دوران پریس گیلری میں موجود صحافیوں نے بطور احتجاج واک آؤٹ کیا۔ وفاقی وزیر رانا تنویر نے دعویٰ کیا ہے کہ اس قانون کا تعلق اخبار، ٹی وی یا صحافیوں سے نہیں ہے۔ اس سے سوشل میڈیا کو ڈیل کیا جائے گا۔ ۔
اعلیٰ سطحی امریکی سرمایاکاروں کے وفد کی پاکستان آمد*امریکا کا اعلیٰ سطحی انویسٹمنٹ وفد دو روزہ اہم دورے پر پاکستان پہنچ گیاوفد کی قیادت ٹیکساس ہیج فنڈ کے منیجر اور ٹرمپ خاندان کے قریبی بزنس پارٹنر جینٹری بیچ کر رہے ہیں

اعلیٰ سطحی امریکی سرمایاکاروں کے وفد کی پاکستان آمد*امریکا کا اعلیٰ سطحی انویسٹمنٹ وفد دو روزہ اہم دورے پر پاکستان پہنچ گیاوفد کی قیادت ٹیکساس ہیج فنڈ کے منیجر اور ٹرمپ خاندان کے قریبی بزنس پارٹنر جینٹری بیچ کر رہے ہیں، ذرائعنئی امریکی حکومت کے اقتدار سنبھالتے ہی انویسٹمنٹ وفد کا پاکستان آنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے، ذرائعامریکی وفد کے دورہ پاکستان سے دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں انویسٹمنٹ، معاشی اور دو طرفہ تعلقات کی نئی راہیں کھلیں گی، ذرائعدورہ کے دوران پاکستان اور امریکہ کے درمیان انویسٹمنٹ کے کئی معاہدوں پر بھی دستخط کیے گئے، ذرائع وفد میں شامل اراکین بالخصوص جینٹری بیچ کی پاکستان آمد ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے، ذرائعجینٹری بیچ ٹرمپ خاندان کے انتہائی قریبی ساتھی اور صدر ٹرمپ کے گزشتہ انتخابی مقابلوں میں پیش پیش رہے، ذرائعنئی امریکی حکومت آنے کے بعد کسی بھی امریکی وفد کا یہ پہلا دورہ ہے، ذرائع نئی امریکی حکومت قائم ہونے کے کچھ ہی دن بعد امریکی انویسٹمنٹ وفد کی پاکستان آمد دونوں ملکوں کے درمیان معاشی دو طرفہ تعلقات آگے بڑھانے کی طرف ایک اہم قدم ہے، ذرائع جینٹری بیچ نے گزشتہ دنوں مار اے لاگو میں صدارتی انتخابات کے بعد ایک تقریب کے دوران پاکستان کوزبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ;”پاکستان کے لوگوں نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں بہت قربانیاں دی ہیں، ہزاروں لوگ دہشتگردی کی نذر ہو گئے“پاکستان ایک حیرت انگیز ملک ہے، یہاں کا ماحول امریکی صدر ٹرمپ کیلئے سازگار ہے، جینٹری بیچپاکستان کے عوام امریکا کے ساتھ مثبت شراکت داری اور اچھے دوست کے طور پریکساں شرائط پر کام کرنے کے خواہاں ہیں، جینٹری بیچ جینٹری بیچ نے اپنے خطاب میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا تھا کہ;”پاکستان اور امریکا کے تعلقات پہلے سے زیادہ مضبوط اور باہمی تعاون پر مبنی بنائیں“امریکی انویسٹمنٹ وفد کا یہ دورہ، پاکستان اور امریکا کے درمیان مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کیلئے انتہائی سازگار ثابت ہوگا، ذرائع
نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ مکمل فعال۔چینی کی فی کلو قیمت میں 18 روپے کلو ریکارڈ اضافہ۔عدلیہ کے اس ادارے کی بدقسمتی ہے،6 ججز کے خط پر اگر سپریم کورٹ ڈٹ جاتی تو آج یہ حالات نہ ہوتے”جسٹس اطہر من اللہ۔*آئی پی پیز کے معاملے پر جماعت اسلامی کا 29 جنوری کو ملک گیر احتجاج کا اعلان۔ملک ریاض کے 50 چہرے ھر چہرے پر نیا فراڈ۔۔وزارت داخلہ میں تبدیلیاں۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان ۔ شرح سود میں 1 فیصد کمی کا فیصلہ۔مکہ اور مدینہ میں انویسٹمنٹ کی افر۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز
سپریم کورٹ میں نئے ججز تعینات کرنے کیلئے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 11 فروری کو طلب کرلیا گیا۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں نئے ججز تعینات کرنے کیلئے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 11 فروری کو طلب کرلیا گیا ہے
سپریم کورٹ میں نئے ججز تعینات کرنے کیلئے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 11 فروری کو طلب کرلیا گیا۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں نئے ججز تعینات کرنے کیلئے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 11 فروری کو طلب کرلیا گیا ہے۔اجلاس کی صدارت چیئرمین جوڈیشل کمیشن چیف جسٹس پاکستان کریں گے۔جوڈیشل کمیشن کا اجلاس سپریم کورٹ میں 8 نئے جج تعینات کرنے کیلئے بلایا گیا ہے، اس کے علاوہ ہائیکورٹس کے 5 سینئر ججز کے ناموں پر غور ہو گا، تمام ہائیکورٹس سے کل 25 ناموں پر غور ہوگا۔
دوھری شہریت رکھنے والے ایف بی آر کے افسران کی تفصیلات طلب
دوہری شہریت رکھنےوالےایف بی آرافسران سے تفصیلات طلب کر لی گئی ہیں۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے جاری کردہ مراسلے کے مطابق تمام ڈائریکٹرز جنرلز، چیف کمشنرزکو مرسلہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اہل خانہ کی دہری شہریت کی تفصیلات بھی فراہم کرنا لازمی ہے۔جاری کردہ مراسلے میں افسر کا نام، عہدہ، مدت ملازمت،غیرملکی شہریت کا ڈیٹا مانگ لیا گیا ہےدوہری شہریت رکھنے والےشوہر یا بیوی کا ڈیٹا الگ فراہم کرنا ہوگا دوہری شہریت سے متعلق ڈیٹا ایک ہفتے کےاندر فراہم کرنےکی ہدایت جاری کی گئی ہے۔fbr
مکہ اور مدینہ میں انویسٹمنٹ کی افر۔۔پرانے نوٹ بند گورنر اسٹیٹ بینک۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان۔ شرح سود میں 1 فیصد کمی کا فیصلہ۔۔, پہلی ٹیسٹ چمپئن شپ پاکستان کا پانچواں نمبر دوسری ٹیسٹ چمپئن شپ پاکستان کا ساتواں نمبر تیسری ٹیسٹ چیمپئن شپ پاکستان کا نواں نمبر اب اس سے آگے تو نمبر ہی ختم ہو گئے، تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

مکہ اور مدینہ میں انویسٹمنٹ کی افر۔۔پرانے نوٹ بند گورنر اسٹیٹ بینک۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان۔ شرح سود میں 1 فیصد کمی کا فیصلہ۔۔,

پہلی ٹیسٹ چمپئن شپ پاکستان کا پانچواں نمبر دوسری ٹیسٹ چمپئن شپ پاکستان کا ساتواں نمبر تیسری ٹیسٹ چیمپئن شپ پاکستان کا نواں نمبر اب اس سے آگے تو نمبر ہی ختم ہو گئے، تفصیلات کے لیے بادبان نیوز
ملک ریاض کے 50 چہرے* تحریر۔ عامر خاکوانیایڈمن *محمد آصف* ملک ریاض کے حوالے سے کالم لکھتے ہوئے اس کا نام سوچنے لگا تو پہلے دو تین نام ایسے آئے کہ انہیں منتخب کرتے ہوئے ہچکچاہٹ ہوئی، جیسے پہلے سوچا کہ ففٹی شیڈز آف ملک ریاض رکھا جائے، پھر خیال آیا کہ اس نام سے موجود فلمیں خاصی متنازع ہیں
*ملک ریاض کے 50 چہرے* تحریر۔ عامر خاکوانیایڈمن *محمد آصف* ملک ریاض کے حوالے سے کالم لکھتے ہوئے اس کا نام سوچنے لگا تو پہلے دو تین نام ایسے آئے کہ انہیں منتخب کرتے ہوئے ہچکچاہٹ ہوئی، جیسے پہلے سوچا کہ ففٹی شیڈز آف ملک ریاض رکھا جائے، پھر خیال آیا کہ اس نام سے موجود فلمیں خاصی متنازع ہیں تو قارئین اس طرف بات کو نہ لے جائیں۔اگلی سرخی ذہن میں آئی ’دس چہروں والا انسان‘، مقصد ان کی زندگی کے مختلف پہلو اور پرت در پرت شخصیت کی طرف اشارہ کرنا تھا۔ پھر خیال آیا کہ کہیں لوگ یہ نہ سمجھیں کہ انڈین دیومالائی داستانوں کے ولن راون کی طرف اشارہ ہے۔یہ بھی طے کیا کہ 9 زندگیوں والا ملک ریاض ( Nine Lives of Malik) ہی رکھا جائے۔ بنیادی طور پر یہ قدیمی انگلش محاورہ بلیوں کے لیے استعمال ہوتا ہے کہ نائن لائیوز آف کیٹ۔ اسپین میں نائن یعنی 9 کے بجائے سات کا عدد استعمال ہوتا ہے۔ مِتھ یہ ہے کہ بلی موت اور خطرے کو دھوکا دے دیتی ہے، اپنے وجدان، تیز ریفلیکسز اور غیر معمولی قوت فیصلہ کی بنا پر۔ جس کسی نے گھر میں بلیاں پالی ہوں، انہیں اس کا اندازہ ہوگا۔تو کیا یہ تصور کیا جائے کہ ملک ریاض ایک بار پھر اپنی بری قسمت کو جل دے جائیں گے، وہ بیچ سمندر جس منجدھار میں پھنسے ہیں، کیا اس سے ایک بار پھر نکل پائیں گے؟ آپ اپنی رائے دے سکتے ہیں، میں نے تو اپنے کالم کی سرخی یہ رکھ کر ایک طرح سے اپنی سوچ بتا دی ہے۔ملک ریاض کی زندگی ڈرامائی نشیب و فراز سے معمور ہے۔ وہ حقیقی معنوں میں ایک سیلف میڈ ہیں یعنی زیرو سے اربوں کھربوں بنانے والے۔ یہ سب کس طرح بنائے گئے، یہ بھی کھلا راز ہے، ہر کوئی جانتا ہے۔ کالم لکھنے سے پہلے ریسرچ کرتے ہوئے کئی لوگوں سے بات کی، جن میں لاہور اور اسلام آباد کے بعض پراپرٹی ڈیلرز بھی شامل تھے۔ ایسے بھی جو ملک صاحب کے مداح ہیں اور ان کے طور طریقوں کو کاپی کرنا چاہتے ہیں۔ ہر ایک کی زبان پر ملک ریاض کے حوالے سے وہ داستانیں اور ان کہی کہانیاں ہیں جنہیں ہم شائع نہیں کرسکتے کہ ایسے الفاظ چاہے سچے ہی کیوں نہ ہوں، انہیں قانونی طور پر ثابت کرنا دشوار ہوتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ ان کا تعلق سیالکوٹ سے ہے، ایک ٹھیکے دار گھر میں جنم ہوا، مگر مالی حالات اتنے ابتر تھے کہ جونیئر کلرک کی نوکری کرنا پڑی۔ ان کی زندگی کا یہ دور بڑا کٹھن تھا۔ گزر بسر مشکل ہوگئی تھی۔ ملک ریاض خود اپنے انٹرویوز میں کئی واقعات سناتے ہیں، جیسے بیٹی کے علاج کے لیے گھریلو برتن بیچنے پڑے۔ اضافی پیسوں کے لیے دیواروں پر قلعی یعنی چونے سے سفیدی کرنا، سڑک پر تارکول (سرائیکی میں ہم اسے لُک کہتے ہیں) بچھانا وغیرہ۔کالم نگار مظہر برلاس نے روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والے کالم میں ایک واقعہ لکھا ہے کہ ہاشمی نامی ایک شخص کا ملک ریاض کی زندگی میں بڑا اہم کردار ہے، وہ ان کے گھر ان برے دنوں میں راشن ڈلواتے رہے۔ مظہر برلاس کے مطابق بہت بعد میں جب ہاشمی صاحب کا انتقال ہوگیا تو ایک دن ایک شخص لمبی سی شاندار گاڑی میں ہاشمی کے گھر آیا اور کہاکہ والدہ محترمہ سے کہیں ماموں ریاض آیا ہے۔ آنے والا شخص ملک ریاض تھا جو اس دوران بے حد کامیاب بزنس مین اور کروڑوں اربوں میں کھیل رہے تھا۔اس واقعے کے راوی کےمطابق ملک ریاض نے اپنے محسن کی فیملی کو بحریہ ٹاؤن میں دس مرلے کا ایک شاندار گھر تحفے کے طور پر دیا۔ ہاشمی صاحب کے بیٹوں کے اکاؤنٹس میں بڑی رقم ڈلوا دی اور انہیں بحریہ ٹاؤن ہی میں بڑے مشاہرے پر ملازمت دلوا دی۔ یہ کہانی بظاہر فلمی اور ڈرامائی محسوس ہوتی ہے، مگر بہرحال کئی لوگ ایسی کہانیاں سناتے ہیں اور یہ ملک ریاض کا ایک شیڈ یا چہرہ ہے۔ مہربان، احسان شناس۔ واللہ اعلم بالصواب۔ان کا ایک ایسا ہی ایک چہرہ یا زندگی کا شیڈ غریبوں کی مدد کے منصوبے ہیں۔ بحریہ ٹاؤن دسترخوان جس کے تحت مبینہ طور پر دو لاکھ لوگوں کو روزانہ کھانا کھلایا جاتا ہے، بحریہ اسپتال میں بہت سے مستحق افراد کا مفت علاج، صومالی قذاقوں کی قید میں جانے والے پاکستانیوں کی مدد اور اس طرح کے بہت سے دیگر کام۔ملک ریاض کی کہانی مگر صرف یہی نہیں ہے، اس میں بہت سے ناخوشگوار اور سیاہ ابواب بھی ہیں۔ ایسی کہانیوں کی کمی نہیں جو ملک ریاض اور بحریہ ٹاؤن کے استحصال، دھوکہ دہی اور سنگدلانہ اپروچ کی تفصیل سناتے ہیں۔ ملک صاحب کے ناقدین ان کے مفت دستر خوان وغیرہ کے حوالے سے کہتے ہیں کہ لوٹ مار کرکے ایک چھوٹا حصہ چیئریٹی کرنے سے وہ رقم حلال نہیں ہوجاتی۔لاہور ایئرپورٹ کے ایک سابق مینیجر نے گزشتہ دنوں اپنی کہانی سنائی، ان کی مرحومہ بیوی نے بحریہ ٹاؤن لاہور میں ایک پلاٹ لیا اور انتظامیہ سے کہاکہ مجھے تمام ڈیوز بتا دیں، میں سب اکٹھے پیشگی ادا کر دیتی ہوں۔ انہوں نے بتائے گئے پانچ برسوں کے تمام واجبات یکمشت دے دیے۔ اس کے باوجود جب دو ڈھائی برس بعد ان کے خاوند پلاٹ بیچنے کی نیت سے پتا کرنے گئے تو معلوم ہوا کہ چند ہزار کے کسی نامعلوم سے واجبات کا بہانہ کرکے ان کا پلاٹ کینسل کردیا گیا۔ انہوں نے خاصا شور مچایا تو بحریہ ٹاؤن آرچرڈ میں انہیں کسی کونے کھدرے میں پلاٹ دے دیا گیا۔ انہوں نے احتجاج کیاکہ مین بحریہ والا پلاٹ تو ایک کروڑ کے لگ بھگ ہوگا جبکہ یہ پلاٹ تو بیس پچیس لاکھ سے زیادہ نہیں۔ انہیں جواب ملا کہ پلاٹ مل گیا ہے تو غنیمت سمجھیں۔اس طرح کی کہانیاں بے شمار لوگ سناتے ہیں۔ ان میں سے بہت سوں کی تو شنوائی بھی نہیں ہوئی۔ خود میرا ایک دوست جو امریکی شہر شکاگو میں مقیم ہے، اس کے اپنے پلاٹ کے ساتھ ایسا ہوا۔ اس کا اصل پلاٹ کینسل کرکے شور مچانے پر کسی دور افتادہ کونے کھدرے میں پلاٹ مل گیا، اس کی اصل قیمت سے کئی گنا کم مالیت والا۔ملک ریاض کا ایک چہرہ اس کی حیران کن کامیابی ہے۔ ایک عجیب وغریب داستان۔ ایک جونیئر کلرک کس طرح ملک کے امیر ترین آدمیوں میں سے ایک بنا۔ معمولی ٹھیکے داری سے پراپرٹی ٹائیکون بنا۔ اتنا طاقتور کہ ملک کا سب سے بڑا میڈیا ہاؤس اس کا نام تک نہیں لے سکتا۔ کسی بھی اخبار میں اس کے خلاف خبر نہیں لگتی، کسی چینل پر خبر نہیں چلتی۔ایک طویل عرصے تک صرف ڈان اخبار ہی میں بحریہ ٹاؤن کے خلاف کوئی جائز، قانونی، واقعتاً درست خبر بمشکل لگ سکتی تھی، اس کے علاوہ کوئی اور اخبار اس کے لیے تیار نہیں تھا۔ ملک ریاض کی اس بے پناہ طاقت کے پیچھے بحریہ ٹاؤن کی اشتہاری دولت بھی تھی، مگر اس سے زیادہ ان کے سول اور غیر سول حلقوں میں موجود بے پناہ تعلقات اور اثرورسوخ کارفرما تھا۔یہ بھی ایک الگ کہانی ہے کہ کس طرح ایک پرائیویٹ سوسائٹی کے نام کے ساتھ بحریہ کا لفظ نتھی ہوا۔ نیوی والے اس کے ساتھ نہیں ہیں مگر اپنا نام وہ واپس نہیں لے سکے۔ ملک ریاض کے بارے میں مشہور ہے کہ ان کے ادارے میں بڑے بڑے سول اور ملٹری ریٹائرڈ افسروں کو ملازمت دی جاتی رہی۔ مشہور شاعر ضمیر جعفری کے صاحبزادے احتشام ضمیر (مرحوم) جو اہم حساس ادارے میں اہم ذمہ داریوں سے ریٹائر ہوئے، وہ بھی بحریہ ٹاؤن کے ملازم رہے۔ ایسے لوگوں کی بڑی تعداد ہے۔ کہاجاتا ہے کہ کئی ریٹائرڈ ججز اور بیوروکریٹس بھی شامل ہیں۔میڈیا کے بھی بہت سے جغادری نام ملک ریاض کے زیراثر سمجھے جاتے ہیں۔ ایک زمانے میں ان کے نام سے روزنامہ جناح میں کالم بھی چھپا کرتا تھا جو مبینہ طور پر ملک کے ایک نامور کالم نگار، اینکر لکھا کرتے تھے، وہی جن کی شہرت کہانی کے انداز میں ڈرامائی کالم لکھنا ہے۔ ایک بار کسی کتابوں کی دکان پر ملک ریاض کے ان کالموں کا مجموعہ بھی دیکھا۔ معلوم نہیں ملک ریاض کس دل اور منہ سے اسے اپنی کتاب کہتے ہوں گے؟ روزنامہ جناح کے مالک ملک ریاض کے انتہائی قریبی عزیز تھے، یہ اخبار مگر بحریہ ٹاؤن کی دولت کے باوجود ناکام ہوا اور پھر یہ کسی اور کو دے دیا گیا۔ملک ریاض کی بحریہ ٹاؤن کی شہرت نوے کے عشرے میں ہوئی۔ اس زمانے میں کہا جاتا ہے کہ ان کے مسلم لیگ ن اور پی پی پی کے اہم رہنماؤں، حتیٰ کہ قیادت سے قریبی تعلقات قائم ہوئے۔ لاہور کے صحافتی حلقوں میں یہ بات مشہور ہے کہ ملک ریاض کی تجوری سے ملک کے بیشتر سیاستدان اور سیاسی جماعتیں مستفید ہوئیں۔بحریہ ٹاؤن لاہور میں عظیم الشان بلاول ہاؤس کے بارے میں بھی الزام لگایا جاتا ہے کہ یہ ملک صاحب کا زرداری صاحب کو تحفہ ہے۔ پی پی والے ظاہر ہے اس کی تردید کرتے ہیں۔ اسی طرح کی باتیں ن لیگ کے اعلیٰ سطح کے رہنماؤں کے بارے میں بھی کہی جاتی ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ملک ریاض کے تعلقات تحریک انصاف کے رہنماؤں سے بھی رہے۔ عثمان بزدار جب وزیراعلیٰ پنجاب تھے تو ملک ریاض کا طوطی بولتا تھا۔ رنگ روڈ کو بحریہ ٹاؤن کے کچھ حصے سے گزر کر جانا تھا، اس میں غیرمعمولی التوا ہوتا رہا، وجہ بحریہ ٹاؤن کو فائدہ پہنچانا تھا۔ وزیراعظم عمران خان لاہور آئے، انہوں نے صحافیوں کے سامنے کمشنر لاہور کو حکم جاری کردیا کہ اسے مکمل کیا جائے۔ وہ روڈ تب بھی مکمل نہ ہوئی اور ادھوری رہی۔تحریک انصاف کے حلقوں میں مقبول اینکر، یوٹیوبر عمران ریاض خان نے اس پر ایک پورا پروگرام عثمان بزدار کے خلاف داغ دیا، مگر کچھ بھی نہ ہوا۔ ن لیگ کے حامی بعض سینیئر اخبارنویسوں کا کہنا ہے کہ دراصل عمران خان نے انتظامیہ کو ایسا کرنے سے روک دیا تھا بلکہ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر لاہور کا تبادلہ بھی کرا دیا تھا۔ واللہ اعلم۔190 ملین پاؤنڈ کے کیس کا فیصلہ تو ابھی آیا ہے جس میں یہ کہا گیا کہ وزیراعظم عمران خان نے ملک ریاض کے ساتھ گٹھ جوڑ کیا تھا اور اسے فائدہ پہنچانے کے بدلے سوہاوہ میں ملک ریاض سے اراضی لی تھی۔ تحریک انصاف البتہ اس کی تردید کرتی ہے اور ایک بالکل ہی مختلف بیانیہ پیش کرتی ہے۔ تحریک انصاف کی بات ممکن ہے درست ہو، مگر بہرحال عمران خان کو ملک ریاض جیسے کردار کے ساتھ یہ معاملات کرنے ہی نہیں چاہیے تھے۔ویسے ایک دلچسپ بات لاہور کے ایک سینیئر ایڈیٹر نے بتائی، ان کے بقول چار پانچ سال قبل سوہاوہ کا ایک ریٹائر فوجی ان کے پاس دفتر آیا، اس کے پاس دستاویزات تھیں اور اس کا الزام تھا کہ ملک ریاض نے اس کی زمینوں پر قبضہ کیا ہے اور یہی زمینیں اب القادر یونیورسٹی کو عطیہ دے رہے ہیں۔ لاہور بیٹھے صحافی کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ ایسے ہائی پروفائل کیس میں پنگا لے اور سوہاوہ کی زمینوں کے مسئلے کی سچائی جانے۔ اس طرح کے الزامات در الزامات ملک ریاض پر ہیں۔ انہوں نے کبھی ان کی وضاحت کی زحمت نہیں فرمائی اور ایک طرح سے انہیں اگنور کرتے رہے۔ایک وجہ وہی 9 زندگیوں والی صلاحیت ہے۔ ملک ریاض ہر قسم کے بحران اور مشکل سے بچ کر نکلتے رہے ہیں۔ چیف جسٹس افتخار چوہدری ان کے درپے ہوگئے تھے، ملک ریاض اس قدر زچ آئے کہ ایک روز انہوں نے افتخار چوہدری کے بیٹے ارسلان کے خلاف پریس کانفرنس کر ڈالی کہ اس نے ان سے کروڑوں کے تحائف لیے ہیں۔ یہ خبر بم شیل ثابت ہوئی۔ انہی دنوں لاہور کے ایک ٹی وی چینل سے ان کا انٹرویو نشر ہوا، مگر انٹرویو کے چند گھنٹوں کے بعد آف اسکرین ویڈیو بھی سامنے آگئی جس سے لگا کہ یہ سب مینجڈ اور پلانٹڈ انٹرویو تھا۔ اس سے بھی بہت شور مچا، کچھ عرصے کے لیے اس انٹرویو کے اینکرز کی ساکھ بھی متاثر ہوئی، پھر ہر کوئی بھول بھال گیا۔افتخار چوہدری والا معاملہ یوں لگ رہا تھا کہ ملک ریاض کے گلے پڑ گیا ہے، پھر اچانک ہی سب کچھ ٹھیک ہوگیا۔ نجانے کیوں، نجانے کیسے؟ صحافی لوگ کم بخت ہر معاملے میں کچھ نہ کچھ کریدتے رہتے ہیں اور بے شک اخبار، ٹی وی پر نہ کہہ سکیں، نجی محفلوں میں ان کی گستاخانہ زبان بہت کچھ اگلتی رہتی ہے۔ ایسی ہی ایک کہانی افتخار چوہدری اور ملک ریاض کی ایک مبینہ ملاقات کی بھی ہے۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کتنا سچ، کتنا جھوٹ ہے۔ یہ بہرحال امر واقعہ ہے کہ ملک ریاض یہاں سے بچ نکلے۔سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ چند دنوں کے چیف جسٹس بنے تھے، ملک ریاض کو خطرہ تھا کہ کہیں ان کے خلاف وہ فیصلہ نہ کر دیں۔ وہ تمام دن ملک صاحب ملک سے باہر رہے اور ان کے پینل پر موجود ملک کے چوٹی کے وکلا صاحبان چیف جسٹس جواد خواجہ سے کیس میں مہلت لیتے رہے، یوں یہ مشکل بھی ٹل گئی۔مسلم لیگ ن کے تیسرے دور حکومت میں وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان بھی ملک صاحب کے پیچھے پڑ گئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ تب انہوں نے کراچی، سندھ میں پناہ لیے رکھی، جہاں ان کے دیرینہ مہربان آصف زرداری کا راج چلتا تھا، یہ وقت بھی گزر ہی گیا۔جنرل راحیل شریف جب آرمی چیف تھے، تب یہ افواہ اڑی تھی کہ اسٹیبلشمنٹ نے ملک ریاض کا مکو ٹھپنے کا ارادہ کرلیا ہے، مگر تب ہی بحریہ ٹاؤن کراچی لانچ ہوئی اور دروغ برگردن راوی ایک سو ارب سے زیادہ اس میں انویسٹ ہوگئے۔ اسٹیبلشمنٹ کے ذمہ داران نے سوچا کہ اگر ملک کو دبوچا گیا تو ملکی معیشت کو شدید دھچکا پہنچے گا، یوں ملک صاحب گیلے ہاتھ میں دبے صابن کی ٹکی کی طرح پھسل کر نکل گئے۔ملک ریاض کے لیے سب سے مشکل وقت ایک متنازع چیف جسٹس ثاقب نثار کے دور میں آیا جب سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کی جانب سے کوڑیوں کے مول بحریہ ٹاؤن کراچی کو دی گئی زمین کے معاملے کی تحقیق کی۔ اس بینچ کے جج صاحبان پر ن لیگی معترض رہے ہیں، مگر یہ واحد موقع ہے جب ملک ریاض کی گردن بری طرح پھنس گئی، وہ کسی بھی قسم کا سمجھوتہ کرنے، مینجمنٹ کرنے میں ناکام رہے، سپریم کورٹ نے 421 ارب کا جرمانہ عائد کیا اور یہ رقم ماہانہ قسطوں میں دینے کا حکم جاری کیا۔ چند ایک اقساط کی ادائیگی ہوئی، پھر اس فیصلے پر بھی عملدرآمد نہ ہوا، مگر بہرحال یہ ملک صاحب کے گلے کا سخت نوکیلا کانٹا ہی ثابت ہوا۔ 190 ملین پاؤنڈ کیس بھی دراصل اسی فیصلے سے جڑا ہے۔ملک ریاض کی زندگی کا ایک سب سے مشکل اور اب تک شائد سب سے سنگین فیز آج کل چل رہا ہے۔ 190 ملین پاؤنڈ کیس میں ان کے بارے میں خبریں آئیں کہ وہ وعدہ معاف گواہ بنیں گے۔ ملک ریاض نے ایسا کرنے سے انکار کردیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس کے بعد ہی ان پر مشکلات کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ اگلے روز اپنی ویڈیو میں انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ضبط کیے ہوئے ہیں لیکن اگر ان کا پیمانہ لبریز ہوگیا تو پچھلے پچیس تیس برسوں کا سب کچا چٹھا ثبوتوں کے ساتھ سامنے آ جائےگا۔خیر یہ تو جب سامنے آئےگا، تب ہی کچھ کہا جا سکتا ہے۔ یہ البتہ حقیقت ہے کہ ملک ریاض مشکل میں ہیں۔ 190 ملین پاؤنڈ کیس میں وہ پیش نہیں ہوئے، ملک سے باہر رہے۔ انہیں اشتہاری قرار دے کر ان کی ملکیتی اراضی نیلام کرنے کا حکم جاری ہوچکا۔ملک ریاض نے دبئی میں ایک بڑا پراپرٹی پراجیکٹ شروع کیا ہے، دو روز قبل قومی احتساب بیورو (نیب) نے اس حوالے سے پاکستانیوں کو خبردار کیا ہے کہ جس نے اس میں سرمایہ کاری کی، اسے منی لانڈرنگ سمجھا جائےگا۔ یوں لگ رہا ہے کہ ملک ریاض کی جان جلدی نہیں چھوٹ پائے گی اور شائد انہیں اگلے چند برس ملک سے باہر رہنا پڑےگا۔ملک ریاض کی یہ کہانی دلچسپ ہے اور ڈرامائی بھی۔ اس کے بہت سے حصے لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہیں، معلوم نہیں کبھی وہ گمشدہ ٹکڑے سامنے آ بھی پائیں گے یا نہیں۔ یہ بھی معلوم نہیں کہ ملک صاحب کا اختتام کیا ہوگا؟ قدرت کی لافانی قوت ہی یہ جانتی ہے۔ ہم تو صرف اندازے ہی لگا سکتے ہیں، خام اندازے۔
کرکٹ کا جنازہ زرا دھوم سے۔ ویسٹ انڈیز نے 34 سال بعد پاکستان میں ٹیسٹ میچ جیت لیا۔ملتان کی انڈسٹریل اسٹیٹ میں پیر کو گیس سپلائی کرنے والے ٹینکر میں دھماکہ ہوا ہے۔ حکام کے مطابق دھماکے میں 10افراد ہلاک جب کہ 60 سے زائد زخمی۔۔کل کے مذاکرات کے سیشن میں ہم شرکت نہیں کریں گے۔ عمر ایوب خان۔۔حسینہ واجد کے قریبی تاجروں کے اکاؤنٹس سے 17 ارب ڈالرز غائب،۔۔ویسٹ انڈیز سے ہارنے کے بعد پاکستان ٹیسٹ رینکنگ میں نویں نمبر تاریخ کی بدترین مثال۔۔ملتان دھماکے سے لرزاٹھا ،20 مکان مکمل تباہ، ہلاکتیں، 35 زخمی،43 کی حالت تشویشناک،۔۔*آئی پی پیز کے معاملے پر جماعت اسلامی کا 29 جنوری کو ملک گیر احتجاج کا اعلان۔ح۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز
ایک دور تھا جب دہلی میں کیا کچھ ہورہا ہے، اس حوالے سے سب سے باخبر دہلی میں برطانوی سفارت خانہ ہوا کرتا تھا۔ پھر اس کی جگہ سوویت نے لے لی اور اب سب سے باخبر امریکی سفارت خانہ ہے جو اس کام میں بہترین ہے۔بھارت تمام اہم ممالک سے مناسب فاصلہ رکھتے ہوئے محتاط انداز میں اپنے اصولوں پر سمجھوتا کیے بغیر اور سفارتی اقدار کے مطابق تعلقات قائم رکھے ہوئے ہے
ایک دور تھا جب دہلی میں کیا کچھ ہورہا ہے، اس حوالے سے سب سے باخبر دہلی میں برطانوی سفارت خانہ ہوا کرتا تھا۔ پھر اس کی جگہ سوویت نے لے لی اور اب سب سے باخبر امریکی سفارت خانہ ہے جو اس کام میں بہترین ہے۔بھارت تمام اہم ممالک سے مناسب فاصلہ رکھتے ہوئے محتاط انداز میں اپنے اصولوں پر سمجھوتا کیے بغیر اور سفارتی اقدار کے مطابق تعلقات قائم رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان کے ساتھ تعلقات ہمیشہ سے مشکل رہے ہیں لیکن بھارت نے انہیں سنبھالنے میں تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تمام خبریں شرمناک ہیں کہ بھارتی وزیراعظم ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریب حلف برداری میں شرکت کرنا چاہتے تھے لیکن انہیں مدعو نہیں کیا گیا۔صرف امید ہی کی جاسکتی ہے کہ دعوت نامے کے حصول کی بھارتی درخواست محض کہانی ہی ہو کیونکہ اس درخواست کا رد کیا جانا جواہرلال نہرو کے بھارت کی سفارتی تعظیم کے لیے اچھا نہیں۔ یہ حقیقت کہ نریندر مودی کی جگہ بھارتی وزیرخارجہ نے تقریب حلف برداری میں شرکت کی، اسے سفارتی کامیابی نہیں سمجھنا چاہیے۔عالمی تسلط کے حامی اور انتہائی دائیں بازو کے نظریات رکھنے والے ہر طرح کے رہنماؤں نے اس تقریب میں شرکت کی جوکہ بہت سے امیر اور غریب ممالک کے لیے تقریب میں شرکت نہیں کرنے کا ایک بہترین بہانہ تھا اور بہت سے ممالک نے یہی بہانہ کرکے شرکت نہیں کی۔میڈیا نے مکیش امبانی کو بھی بھرپور کوریج دی جنہیں ڈونلڈ ٹرمپ نے بذات خود مدعو کیا۔ اب اس ملاقات کے حوالے سے ہمیں امریکا کے سرکاری مؤقف کا انتظار کرنا چاہیے۔دونوں کی پہلے بھی ملاقات ہوچکی ہے۔ اس کے علاوہ مکیش امبانی نے بھارت کی ایک بین الاقوامی تقریب میں ڈونلڈ ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ کی بھی میزبانی کی تھی۔ اگر مجھے ٹھیک یاد ہو تو مکیش امبانی اور ان کے بھائی انیل امبانی کو بل کلنٹن اور جارج بش کی تقریب حلف برداری میں بھی مدعو کیا گیا تھا۔ دوسری جانب ہیلری کلنٹن نے امبانی کی شادی میں بھنگڑا بھی کیا تھا۔امریکی سیاستدان پیسے کے حصول کی کوششوں میں رہتے ہیں اور اپنے حلف لینے سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ مختلف مواقع پر اربوں ڈالرز جمع بھی کرچکے ہیں۔ اب یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ مشکل معاشی حالات میں، ٹرمپ کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کے لیے بھارت کتنی دولت خرچ کرسکتا ہے۔یہ دیکھنا دلچسپ ہے کہ مودی کے قریبی سمجھے جانے والے دو بزنس ٹائیکونز امریکا کے ساتھ کتنے مختلف تعلقات میں ہیں۔ مکیش امبانی اور گوتم اڈانی وہ دو شخصیات تھیں جنہوں نے من موہن سنگھ کے بعد نریندر مودی کو انتخابات میں کامیابی دلوانے کی بھرپور کوشش کی اور وہ اس مقصد میں کامیاب رہے۔دونوں نریندر مودی کے قریبی دوست سمجھے جاتے تھے لیکن پھر گوتم اڈانی کے امریکی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ معاملات خراب ہوگئے اور اب کرپشن اسکینڈل میں گرفتاری کے خوف سے وہ بھارت نہیں آرہے۔ مکیش امبانی روسی کرنسی ریوبل کی ادائیگی کرکے روسی تیل خرید رہے ہیں لیکن اس کے باوجود انہیں ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری تقریبِ حلف برداری میں مدعو کیا گیا۔جب ہم اسکول میں تھے تو امریکی صدر جان ایف کینیڈی لوگوں کو اتنے ہی عزیز تھے جتنی کہ برطانوی ملکہ۔ لیکن پھر سوویت یونین نے یوری گاگرین کو خلا میں بھیج دیا جس نے دنیا کو اپنے سحر میں جکڑا اور یوں سوویت کو بھی لوگ پسند کرنے لگے۔ اس وقت کے سوویت وزیراعظم نکیتا کروسچیف کے ساتھ محتاط تعلقات استوار کرکے عالمی تباہی سے بچنے میں جان کینیڈی کی تعریف کی گئی۔کینیڈی کے مطابق عالمی امن کے لیے اپنے حریف کی تذلیل نہیں کی جانی چاہیے لیکن آج بین الاقوامی تعلقات میں یہ اہم عنصر موجود نہیں۔ امریکی صدر رونالڈ ریگن کی جانب سے ’شیطانی روسی سلطنت‘ اور جو بائیڈن کا ولادیمیر پیوٹن کو مختلف ناموں سے بلانا، بلاشبہ جان کینیڈی کو گراں گزرتا۔یہی وجہ تھی کہ جب جان ایف کینیڈی کو قتل کیا گیا تو بھارتی ان کی موت پر خوب روئے۔ اس وقت بھارت، دولت یا فوجی طاقت کی بنیاد پر دوستوں کا انتخاب کرنے کے بجائے نئی اور غریب جمہوریتوں کے ساتھ تعلقات استوار کرنے پر زیادہ توجہ دے رہا تھا۔مجھے اپنی زندگی میں ایک ہی امریکی صدر کو قریب سے دیکھنے کا تجربہ ہوا اور وہ تھے جمی کارٹر۔ 1978ء میں ان کا ایئر فورس ون جہاز ہمارے سروں کے اوپر سے گزرا جب ہم جواہرلال نہرو یونیورسٹی کی ایک کھلی فضا میں چائے کی دکان جسے کمال کمپلیکس کہتے تھے، میں موجود تھے۔بھارتی حکومت بالخصوص اس کی اسٹیبلشمنٹ ہمیشہ سے دہلی کی بائیں بازو کی طلبہ تحریک سے خوفزدہ تھی۔ امریکا کی حمایت یافتہ مورارجی دیسائی کی قلیل مدتی حکومت بھی اسی طرح کا خوف پایا جاتا تھا۔ آزادی کے بعد سے کانگریس کے طویل مدت اقتدار کو توڑنے کے لیے مورارجی دیسائی کوئی خطرہ مول لینا نہیں چاہتے تھے۔ انہوں نے جمی کارٹر کی سیکرٹ سروس کی درخواست پر جواہرلال نہرو یونیورسٹی کے ہاسٹلز کے ٹیرس میں بندوق بردار نشانے باز کھڑے کیے تھے۔حکومت یہ بھول چکی تھی کہ بھارتی دائیں بازو بشمول جواہرلال نہرو یونیورسٹی کے طلبہ نے ماسکو کی حمایت یافتہ اندرا گاندھی کی پارٹی کے بجائے پرو مغرب جناتا پارٹی کی انتخابی مہم کی حمایت کی تھی۔ خیر جب جہاز اپنی گرج کے ساتھ ایئرپورٹ جانے کے لیے یونیورسٹی کیمپس سے گزر چکا تو ایک ناراض طالب علم نے پتھر اٹھایا اور اسے جتنا ہوا میں پھینک سکتا تھا، اس نے پھینکا۔اس حرکت پر طلبہ میں یہ مزاحیہ بحث چھڑ گئی کہ آیا اس کا پتھر جمی کارٹر کے جہاز سے ٹکرایا ہوگا یا نہیں۔ بحث کا اختتام کچھ یوں ہوا کہ عموماً کووں کو بھگانے کے لیے جو بڑی غلیل استعمال کی جاتی ہیں، جہاز کو پتھر مارنے کے لیے وہی موزوں ہوتی ہے۔پھر جمی کارٹر کے بعد جو مہمان آئے، انہیں تو زیادہ حفاظت کی ضرورت تھی۔ تہران سے فرار کے بعد شاہ ایران کے پاس پناہ کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی جبکہ ان کی حالت شیخ حسینہ واجد کی طرح خراب تھی جنہیں بنگلہ دیش کی سڑکوں پر ہونے والے مظاہروں کے آگے ہتھیار ڈال کر اقتدار سے الگ ہونا پڑا۔جمی کارٹر نے مورارجی دیسائی کو مشورہ دیا کہ وہ شاہ ایران کا اچھے سے استقبال کریں۔ شاہ ایران بھارت آئے۔ جواہرلال نہرو یونیورسٹی کے کچھ مظاہرین کو کرن بیدی کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا جو اس وقت ٹریفک پولیس کا چارج سنبھال رہی تھیں۔ طلبہ کو تہاڑ جیل بھیج دیا گیا جہاں انہوں نے اسٹریٹ ڈرامے کرتے ہوئے دن گزارے۔ایک دن شاہ ایران نے مغل دور کے شاہ کار لال قلعے کا دورہ کیا جہاں سے گزشتہ فارسی حکمران نے مشہور مور کا تخت لے لیا تھا۔ یہ مغل یادگار پر ان کا آخری دورہ تھا۔ معزول شاہ ایران کی موت جلا وطنی میں ہوئی جہاں ان کے تمام دوستوں بشمول بھارت، سب نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔جمی کارٹر کو رونالڈ ریگن سے انتخابات میں شکست ہوئی۔ اپنی ہی جماعت نے مورارجی دیسائی کو برطرف کیا اور اندرا گاندھی کی اقتدار میں واپسی کی راہ ہموار کی۔ اس کے علاوہ سوویت یونین جنہوں نے بھارت میں ہنگامہ آرائی سے خوب فائدہ اٹھایا تھا لیکن افغانستان اور ایران میں اتنی کامیاب نہیں ہوپائی کیونکہ سی آئی اے کی مدد سے ملاؤں نے سوویت نواز تودہ پارٹی کا پتہ صاف کردیا۔سرد جنگ کے خاتمے کے بعد بھارت نے مغرب کی حمایت اور خوشنودی کے لیے غیر وابستہ ممالک کی تحریک اور سارک پر سمجھوتا کرلیا۔ جب جارج بش کی دنیا بھر میں ساکھ بدنام تھی اور ان کے اپنے ملک میں بھی عراق جنگ کے باعث انہیں تنقید کا نشنہ بنایا جارہا تھا، تب 2006ء میں کانگریس کے وزیراعظم من موہن سنگھ نے ان کا خیرمقدم کیا اور مہمان سے کہا کہ ’ہم بھارتی آپ سے محبت کرتے ہیں‘۔ اس پر کمیونسٹ رہنما نے طنزیہ جملہ کسا جوکہ ایک یادگاری لمحہ بن گیا تھا، انہوں نے من موہن سنگھ سے کہا، ’آپ صرف اپنے لیے بولیں‘۔سفارتی سطح پر چاپلوسی سے بھارت کو فائدہ پہنچا نہ اس سے نریندر مودی کو کوئی مدد ملی۔









