All posts by admin

وزارت توانائی نے ایک تفصیلی منصوبہ ظاہر کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ مستقبل میں پاور سیکٹر کے صارفین کو سبسڈی کیسے ملے گی

وزارت توانائی نے ایک تفصیلی منصوبہ ظاہر کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ مستقبل میں پاور سیکٹر کے صارفین کو سبسڈی کیسے ملے گی، جس کے لیے کل 487 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔منصوبے کے مطابق، ان سبسڈیز کو سماجی تحفظ کے پروگراموں سے منسلک کیا جائے گا، جس میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ڈیٹا کے ذریعے مستحقین کا تعین کیا جائے گا۔اس منصوبے کے تحت، سبسڈی کا ایک اہم حصہ مختلف صارفین کے زمروں کے لیے مختص کیا گیا ہے، جس سے ٹارگٹ سپورٹ کو یقینی بنایا جائے گا۔لائف لائن صارفین: لائف لائن صارفین کے لیے 20 ارب روپے کی سبسڈی کا منصوبہ ہے، جو سب سے کم بجلی استعمال کرنے والوں کیلئے ہوگی۔محفوظ صارفین (200 یونٹ تک): ماہانہ 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو 380 ارب روپے کی سبسڈی ملنے کی توقع ہے۔محفوظ صارفین (300 یونٹس تک): 300 یونٹ تک استعمال کرنے والوں کے لیے، اس منصوبے میں 160 ارب روپے کی سبسڈی شامل ہے۔تاہم، 300 سے 700 یونٹس استعمال کرنے والے صارفین کے لیے سبسڈی بند کردی جائے گی، جس سے 23 ارب روپے کی بچت ہوگی۔ اسی طرح 700 سے زائد یونٹ استعمال کرنے والوں سے 50 ارب روپے کی سبسڈی بھی واپس لے لی جائے گی۔

بھارتی ڈرون خلیج بنگال میں گر کر تباہ ہوگیا تاہم ڈرون کے تباہ ہونے کی وجوہات تاحال سامنے نہ آسکیں۔

بھارتی ڈرون خلیج بنگال میں گر کر تباہ ہوگیا تاہم ڈرون کے تباہ ہونے کی وجوہات تاحال سامنے نہ آسکیں۔تفصیلات کے مطابق بھارت کا جنگی جنون ہمیشہ خطے کی سالمیت کے لئے ایک خطرے کا سبب رہاہے ۔بھارت نے امریکا سے MQ-9B نامی ڈرون لیز پر حاصل کیا تھا تاہم اب ڈرون خلیج بنگال میں گر کر تباہ ہو گیا، ڈرون کے تباہ ہونے کی وجوہات تاحال سامنے نہ آسکیں۔امریکا سے لیا جانے والا MQ-9Bنامی ڈرون بھارت نے بحرہند کے وسیع علاقے میں انٹیلی جنس نگران اور جاسوسی کیلئے مختص کیا تھا۔بھارت کےMQ-9B ڈرون کو تامل ناڈو میں بھارتی بحریہ کے بیس سے کنٹرول کیا جاتا تھا، جواب اس کی جگ ہنسائی کا سبب بن چکا ہے۔

لاہور ہائیکورٹ بار نے مجوزہ آئینی ترمیم کو یکسر مسترد کردیا ۔لاہورہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے زیراہتمام آل پاکستان وکلاء کنونشن کا انعقاد ہوا جس میں ملک بھر سے نامور وکلاء نے شرکت کی

لاہور ہائیکورٹ بار نے مجوزہ آئینی ترمیم کو یکسر مسترد کردیا ۔لاہورہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے زیراہتمام آل پاکستان وکلاء کنونشن کا انعقاد ہوا جس میں ملک بھر سے نامور وکلاء نے شرکت کی۔وکلاء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹرعلی ظفر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے پانچ سینیئر ترین ججز آئینی مسائل پرسماعت کریں، الگ سے آئینی عدالت بنانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔علی ظفر کا کہنا تھا کہ جو ترمیم منظور کرنے جارہے تھے اس پر پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے تھی۔وکیل رہنما حامد خان نے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئینی ترمیم پر بحث ہوتی ہے اسے اوپن رکھا جاتا ہے، انہوں نےتو ترمیم کو چھپا کر رکھا ہے۔وکلاء نمائندہ نے اجلاس میں قرارداد پیش کی جس کے مطابق پارلیمان قانون سازی اور آئینی ترمیم کرنے کا اختیار رکھتا ہے تاہم قانون سازی یا آئینی ترامیم آئین کے بنیادی ڈھانچے سے متصادم نہ ہو۔وکلاء نے کنونشن کے بعد ہائیکورٹ سے جی پی او چوک تک ریلی بھی نکالی۔

سرکاری ڈیزل چوری میں پولیس پھلے نمبر پر۔پیکا ایکٹ خاتون کو سذاے موت۔مہنگائی آسمان پر اور اسٹاک ایکسچینج ساتویں آسمان پر۔مھنگای نے 2 سال میں 89 خودکشیوں کو جنم دیا۔مھنگای نے 10 کروڑ پاکستانی عوام کو غربت کی لکیر سے نیچے پھینک دیا۔مھنگای نے 7 کروڑ طلبہ سے انکا مستقبل چھین لیا۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز پر کلک کریں

سپریم کورٹ کمیٹی کی ججز کمیٹی کا اجلاس منسوخ کشیدہ صورتحال نازک

سپریم کورٹ کی ججز کمیٹی کا اجلاس مؤخر کردیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ججز کمیٹی کے اجلاس کے ایجنڈے میں 63 اے فیصلے پر نظر ثانی اور آڈیو لیک کیس سے متعلق درخواستیں شامل تھی۔ ججز کمیٹی چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل ہے۔

میلادِ مصطفیٰ و ہفتہِ وحدت کی مناسبت سے امامیہ ریلیف سیل پاکستان و آئی ایس او کا موکبِ امامیہ و استقبالیہ کیمپ کا انعقاد*امامیہ ریلیف سیل پاکستان اور آئی ایس او الحسینی یونٹ راولپنڈی کی جانب سے میلادِ مصطفیٰ ﷺ اور ہفتہِ وحدت کی مناسبت سے معصومین سنٹر کمرشل مارکیٹ راولپنڈی میں موکبِ امامیہ اور استقبالیہ کیمپ کا اہتمام کیا گیا۔

*میلادِ مصطفیٰ و ہفتہِ وحدت کی مناسبت سے امامیہ ریلیف سیل پاکستان و آئی ایس او کا موکبِ امامیہ و استقبالیہ کیمپ کا انعقاد*امامیہ ریلیف سیل پاکستان اور آئی ایس او الحسینی یونٹ راولپنڈی کی جانب سے میلادِ مصطفیٰ ﷺ اور ہفتہِ وحدت کی مناسبت سے معصومین سنٹر کمرشل مارکیٹ راولپنڈی میں موکبِ امامیہ اور استقبالیہ کیمپ کا اہتمام کیا گیا۔ اس خصوصی کیمپ کا مقصد وحدتِ امت کے پیغام کو فروغ دینا اور جلوسِ میلاد کے شرکاء کا استقبال کرنا تھا۔کیمپ میں آنے والے شرکاء کے لیے سبیل، فروٹس، اور مٹھائیوں کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اس مبارک موقع پر مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی اور جشنِ میلادِ مصطفیٰ ﷺ میں جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا۔ شرکاء نے نہ صرف رسولِ خدا ﷺ کی ولادت کا جشن منایا، بلکہ فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی بھی کیا اور ان کی آزادی کے حق میں خصوصی دعا کا اہتمام کیا گیا۔ علامہ سید اعجاز موسوی اور مولانا عسکری نے شرکاء سے خطاب کیا اور وحدت امت اور فلسطین کی آزادی کے اہم موضوعات پر روشنی ڈالی۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ فارم 45یافارم47کی حیثیت ختم ہوجاتی ہے جب ڈبے کھل جاتے ہیں۔ الیکشن کے معاملہ میں تمام ووٹ ڈبے میں ہیں یہ بنیادی شواہد ہیں، فارم 45اورفارم47ثانوی شواہد ہیں۔ کسی کوشک وشبہ ہے کہ صحیح گنتی نہیں کی ، ایک ہی حل ہے ڈبہ کھول کردوبارہ گنو

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ فارم 45یافارم47کی حیثیت ختم ہوجاتی ہے جب ڈبے کھل جاتے ہیں۔ الیکشن کے معاملہ میں تمام ووٹ ڈبے میں ہیں یہ بنیادی شواہد ہیں، فارم 45اورفارم47ثانوی شواہد ہیں۔ کسی کوشک وشبہ ہے کہ صحیح گنتی نہیں کی ، ایک ہی حل ہے ڈبہ کھول کردوبارہ گنو۔ جھوٹا سچاکون ہے یہ اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے ہم حقائق پرچلیں گے، مجھے نہیں پتہ جھوٹا کون ہے ، سچا کون ہے، یہ کوئی میاں بیوی کا مقدمہ تونہیںچل رہا ہے کہ سچاکون ہے جھوٹاکون ہے۔ انصاف کے لئے اوپرجائیں ، ہم قانون کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں۔ کوئی ریٹرننگ افسر مخالف امیدوارکارشتہ دار تھا، کوئی قانونی دلائل دیں،الیکشن کمیشن اورالیکشن ٹریبونل سے ہارے ہیں آپ سے اُن کوکوئی دشمنی ہے۔ ڈبے میں جوووٹ پڑے ہیں وہ تودشمن نہیں یاتوکہتے کہ سیل ڈوٹی ہوئی تھی، ریٹرننگ افسر اپنی عقل استعمال نہیں کررہا بلکہ حقائق کی بنیاد پر دوبارہ گنتی کرکے فیصلہ کررہا ہے، ہرچیز کو بلاوجہ متنازع نہ بنائیں جبکہ عدالت نے پی بی14 نصیرآباد، بلوچستان میں دوبارہ گنتی اور ریٹرننگ افسران کی جانبداری کے الزامات کے حوالہ سے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار غلام رسول عمرانی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار محمد خان لہڑی کی کامیابی کے فیصلہ کو برقرار رکھا۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس نعیم اخترافغان اورجسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل 3رکنی بینچ نے بلوچستان اسمبلی حلقہ پی بی 14نصیرآباد پر الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کے خلاف پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار غلام رسول عمرانی کی کی جانب سے پاکستان مسلم لیگ (ن)کے امیدوار محمد خان لہڑی ،الیکشن کمیشن آف پاکستان اوردیگر کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کی جانب سے سعید خورشید احمد جبکہ مدعا علیہ کی جانب سے محمد اکرم شاہ بطور وکیل پیش ہوئے جبکہ ڈی جی لاء الیکشن کمیشن محمد ارشد اور لیگل کنسلٹنٹ فلک شیر بھی دوران سماعت عدالت میں پیش ہوئے۔ درخواست گزار کے وکیل کاکہناتھا کہ یہ پی بی 14نصیر آباد کے الیکشن کامعاملہ ہے، 8فروری کے انتخا بات میں میرے مئوکل نے 19039ووٹ حاصل کئے جبکہ (ن)لیگ کے جیتنے والے امیدوار نے 21103ووٹ حاصل کئے۔ وکیل کاکہنا تھا کہ96 پولنگ سٹیشنز میں سے 7 پولنگ سٹیشنز پر دوبارہ گنتی کی درخواست دائر کی۔چیف جسٹس نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو کیسے پتہ چلا کہ غلط رزلٹ تیار کیاگیا۔اس پر وکیل نے کہا کہ فارم 45 کے مطابق یہ رزلٹ نہیں تھے افسران جانبدار تھے۔چیف جسٹس نے کہا کہ درخواست میں الزام کیا ہے بتائیں، فارم 45یافارم47کی حیثیت ختم ہوجاتی ہے جب ڈبے کھل جاتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے دوبارہ ڈبے کھولے کہ نہیں، غیر ضروری باتیں نہ کریں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ دوبارہ گنتی کی درخواست کرسکتے ہیں یہ نہیں کہہ سکتے کہ میں نے 5ہزارووٹ لئے۔ جسٹس نعیم اخترافغان نے کہا کہ کاربن کاپی کیسے ثابت کی کہ یہی اصل فارم 45ہے، پریذائیڈنگ افسران نے اصل ریکارڈ پیش کیا، آپ کاپیوں پر کیس چلا رہے ہیں، آپ کے گواہان نے پریذائیڈنگ افسران کا نام تک غلط بتایا،آپ کے گواہ تو خود کو پولنگ ایجنٹس بھی ثابت نہیں کرسکے۔چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کے معاملہ میں بنیادی شہادت کیا ہوتی ہے، نکاح نامہ، فروخت کامعاہدہ کیا بنیادی شواہد ہوتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کے معاملہ میں تمام ووٹ ڈبے میں ہیں یہ بنیادی شواہد ہیں، فارم 45اورفارم47ثانوی شواہد ہیں۔ جسٹس نعیم اخترافغان نے کہا کہ دوبارہ گنتی توہوئی ہے۔ چیف جسٹس کاوکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ تقریروں والی بات نہ کریں، اصل نقطہ کی طرف آئیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ 7پولنگ سٹیشنز والی بات ہم نے سن لی، فارم 45اورفارم47کون بھرتا ہے۔ اس پر وکیل نے کہا کہ یہ پریذائیڈنگ افسربھرتا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ پھر یہ سسٹم ختم کردیں، کسی کوشک وشبہ ہے کہ صحیح گنتی نہیں کی ، ایک ہی حل ہے ڈبہ کھول کردوبارہ گنو۔چیف جسٹس نے کہا کہ انتخابات میں سب سے اہم شواہدڈبے میں موجود ووٹ ہوتے ہیں، فارم 45 تو پریذائیڈنگ افسر بھرتا ہے ،یا تو دوبارہ گنتی پر اعتراض کریں کہ ڈبے کھلے ہوئے تھے۔جسٹس شاہد بلال حسن نے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق آپ کے الزامات ثابت نہیں ہوتے،یہ ثابت نہیں کرسکے کہ آپ کے پولنگ ایجنٹس 7پولنگ سٹیشنز پر مووجود تھے،دوبارہ گنتی ہوئی ہے۔وکیل نے کہا کہ جج صاحب نے بغیر شواہد کے مجھے فیصلے میں جھوٹا کہہ دیا۔اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جھوٹا سچاکون ہے یہ اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے ہم حقائق پرچلیں گے، مجھے نہیں پتہ جھوٹا کون ہے ، سچا کون ہے، یہ کوئی میاں بیوی کا مقدمہ تونہیںچل رہا ہے کہ سچاکون ہے جھوٹاکون ہے۔چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ انصاف کے لئے اوپرجائیں ، ہم قانون کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں، دوبارہ گنتی ہوئی کہ نہیںہمارے سوال کاجواب نہیں دے رہے۔ اس پر وکیل نے کہا کہ دوبارہ گنتی 3مارچ 2024کو ہوئی،دوبارہ گنتی ریٹرننگ افسر کے سامنے ہوئی۔ وکیل کاکہنا تھا کہ دوبارہ گنتی میں میرے ووٹ وہی رہے اورمخالف جیتے تاہم ان کے ووٹ کچھ کم ہوگئے۔چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ کوئی ریٹرننگ افسر مخالف امیدوارکارشتہ دار تھا، کوئی قانونی دلائل دیں، الیکشن کمیشن اورالیکشن ٹربیونل سے ہارے ہیں آپ سے اُن کوکوئی دشمنی ہے۔ جسٹس نعیم اخترافغان کاکہنا تھا کہ محمد خان لہڑی (ن)لیگ کے امیدوار ہیں ان کے 20ہزارسے زائد ووٹ ہیں اور آپ کے 19ہزار سے زائد ووٹ ہیں اورآپ پی پی کے امیدوار ہیں۔ جسٹس نعیم اخترافغان کاکہنا تھا کہ جس پریذائیڈنگ افسر نے کاربن کاپی دی اُس کانام ہی غلط بتارہے ہیں۔ چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ ہم کیسے کہیں کہ 2فیصلے غلط ہیں کوئی وجہ توبتائیں۔ چیف جسٹس کاوکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہناتھا کہ آپ نے دوبارہ گنتی کی درخواست دی، کیا ڈبے دوبارہ بھر دیئے، ٹیمپرنگ کی، آپ کی درخواست پر دوبارہ گنتی کی ، کیسے حقائق کے خلاف جائیں گے، یاکہیں ڈبے کھلے ہوئے تھے پرائمری شواہد ڈبہ ہے ، ووبارہ گنتی میں دونوں کے ووٹ کم ہوئے ۔چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ آپ اپنے اقدام کو کیسے مستردکریں گے، آپ کے کہنے پر دوبارہ گنتی کروائی۔ چیف جسٹس کاکہنا تھاکہ ڈبے میں جوووٹ پڑے ہیں وہ تودشمن نہیں یاتوکہتے کہ سیل ڈوٹی ہوئی تھی، ریٹرننگ افسر اپنی عقل استعمال نہیں کررہا بلکہ حقائق کی بنیاد پر دوبارہ گنتی کرکے فیصلہ کررہا ہے، ہرچیز کو بلاوجہ متنازعہ نہ بنائیں۔ چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ پراسیس ختم ہوگیا، فارم 45غلط تھا یہ ثابت ہو گیا کہ دونوں کے ووٹ کم ہو گئے، اصلی بات ڈبے والی بات ہے ، یاتوکہیں کہ رات کوڈبے بھردیئے، سیل ٹوٹی ہوئی تھی۔چیف جسٹس کاوکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آپ کوہمیں جواب دینے کی ضرورت نہیں، ہمیں قائل کریں کہ فیصلہ غلط ہے۔ چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ کتنا وقت دیں ایک گھنٹہ ہو گیا ہے آپ کوسنتے ہوئے، آپ نے ہمیں فیصلہ کرنے کی اجازت دی شکریہ۔ چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ آپ الزام لگارہے ہیں آپ اُس پولنگ ایجنٹ کو بلاتے، آپ نے نہیں بلایاتاہم ٹریبونل نے تسلی کے انہیں بلایا اورجرح بھی کی۔ وکیل کاکہنا تھا کہ ریٹرننگ افسر نے فراڈ کرنے کے لئے میرے سرکے اوپر سات پریذائیڈنگ افسران کو مسلط کردیا۔اس پر چیف جسٹس کاوکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہناتھا کہ آپ وکیل بنیں گے گواہ نہ بنیں، کیاآپ کے مئوکل کمرہ عدالت میں موجود ہیں۔اس پر وکیل کاکہنا تھاکہ موجود ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا وہ کدھر ہیں تووکیل نے اشارہ کیااور غلام رسول عمرانی کھڑے ہوئے۔ چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ ہم آپ کے مئوکل کے سامنے کہہ دیتے ہیں وکیل نے بہت اچھے دلائل دیئے ہیں۔ چیف جسٹس کاحکم لکھواتے ہوئے کہنا تھا کہ درخواست گزارنے الیکشن ٹریبونل کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ حلقہ میں کل 26امیدواروں نے انتخابات میں حصہ لیا۔ کل 42132درست ووٹ ڈالے گئے، جن میں سے درخواست گزارنے 19039اورجیتنے والے امیدوار نے 21103ووٹ حاصل کئے۔ درخواست گزارنے الیکشن کمیشن کودوبارہ گنتی کی درخواست دی،دوبارہ گنتی کی درخواست منظورہوئی اور تمام فریقین کی موجودگی میں 3مارچ2024کو دوبارہ گنتی ہوئی۔ درخواست گزار نے 18787ووٹ حاصل کئے جبکہ جیتنے والے امیدوار نے20706ووٹ حاصل کیئے۔ دوبارہ گنتی میں دونوں امیدواروں کے ووٹ کم ہوگئے تاہم نتیجہ برقراررہا۔ الیکشن ٹریبونل نے جامع فیصلہ تحریرکیا۔ ٹریبونل نے شواہد کاآزادانہ طو ر پرجائزہ لیا اوراس نتیجہ پر پہنچے کہ درخواست گزار کے الزامات غلط ہیں اور صاف اورشفاف انتخابات ہوئے ہیں۔ عدالت نے درخواست ناقابل سماعت قراردیتے ہوئے خارج کردی۔

منصور شاہ 25 اکتوبر کو چیف جسٹس ھونگے وزیر قانون۔ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف میں نکاح۔حکومت کے لئے مشکلات مے اضافہ۔وزیر قانون تارڈ نے ائینی ترمیم کو پاس کروانے میں بونگی ماری۔اھم ادارے کے 3 بڑے لوگ خطرے میں۔وزیر اعطم نے کچن کابینہ کا اجلاس طلب۔‼️ایمنسٹی انٹرنیشنل نے عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کر دیا۔عمران خان کو جیل میں فری ٹرائل نہیں مل رہا وہ سیاسی قیدی ہیں اُن کو قانونی ہتھیاروں کی مدد سے پابند سلاسل کیا ہوا ہے ایمنٹسی انٹرنیشنل کا دعویٰ۔ ھم اس حد تک گر چکے ہیں کہ ایک ملک کی سفیر وزیر اعظم سے ملاقات کر رھی اور اسکو پروٹوکول اس ملک کے وزیر اعظم کا دیا جارہا ہے۔ ۔دو ٹوک موقف کے بعد اب سپریم کورٹ کی پریس ریلیز کا انتظار ایکسٹینشن لینے سے پہلے ہی انکار کر دیا۔ تفصیلات کے لیے بادبان نیوز پر کلک کریں