
‼️ٹاپ بریکینگ‼️▫️سپریم کورٹ کی رائے نے مہاجر نشستوں کے معاملے پر حکومت کے مؤقف کو درست ثابت کر دیا اور دباؤ کی سیاست کو مسترد کر دیا۔▫️عدالت نے قرار دیا کہ 12 مہاجر نشستیں آرٹیکل 22 کے تحت آئینی تحفظ رکھتی ہیں اور انہیں انتظامی فیصلے سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔▫️ سپریم کورٹ کے مطابق مہاجر نشستوں میں کسی بھی تبدیلی کے لیے آرٹیکل 33 کے تحت آئینی ترمیم ناگزیر ہے۔▫️عدالت کی رائے نے عوامی ایکشن کمیٹی کے اس مؤقف کو مسترد کر دیا کہ آئینی مطالبات سڑکوں کے دباؤ سے منوائے جا سکتے ہیں۔▫️

سپریم کورٹ نے حکومت کے اس فیصلے کی توثیق کی کہ باقی ماندہ آئینی معاملات منتخب اسمبلی کے سپرد کیے جائیں۔▫️عدالت نے واضح کیا کہ آئینی ترمیم عوامی مینڈیٹ، پارلیمانی بحث اور آئینی طریقۂ کار سے ہی ممکن ہے۔▫️آرٹیکل 22(4) کے تحت انتخابات کا بروقت انعقاد لازمی ہے، احتجاج یا سیاسی تنازع اس میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔▫️سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ انتخابات کے انعقاد اور امن و امان کے تحفظ کی آئینی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے۔▫️عدالت نے واضح کیا کہ پرامن احتجاج آئینی حق ہے، لیکن سڑکوں کی بندش، دھونس اور معمولاتِ زندگی میں خلل آئینی تحفظ حاصل نہیں کرتے۔▫️عدالتی رائے نے انتخابات اور ریاستی اداروں میں مداخلت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی بنیاد کو مزید مضبوط کر دیا۔▫️سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ آئینی تبدیلی کا راستہ اسمبلی اور ووٹ ہے، دباؤ اور محاذ آرائی نہیں۔▫️باقی ماندہ دو مطالبات پر حکومت کا مؤقف درست ثابت ہوا، آئینی مسائل کا حل صرف آئینی طریقۂ کار سے ممکن ہے۔▫️عدالت نے واضح کیا کہ آئینی سوالات کا فیصلہ منتخب نمائندے کریں گے، نہ کہ سڑکوں پر دباؤ ڈالنے والے گروہ۔▫️سپریم کورٹ کی رائے نے آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور ریاست کے امن و استحکام کے تحفظ کے مؤقف کو تقویت دی۔

مظفرآباد آزاد کشمیر کا وزٹ کرنے والے افراد کے لیے حکومت کی ایڈوائزری جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی 09 جون کی احتجاجی کال کے پیش نظر 05 جون سے 20 جون 2026 تک آزادکشمیر میں سفر اور داخلے سے اجتناب فرمائیں۔تاکہ غیر متوقع صورت حال و دشواری سے بچ سکیں ۔ل
احسن اقبال بمقابلہ شاہد خاقان عباسی!28 جولائی 2017 کا دن تھا،میں ایسٹ لندن میں دن کے گیارہ بجے اپنے دوست راؤ آفتاب کے ساتھ اس کے ڈرائنگ روم میں بیٹھا تھا ،ہم نے جیو نیوز لگائ ہوئ تھی جہاں تھوڑی دیر میں پانامہ کیس میں نواز شریف کی قسمت کا فیصلہ سنایا جانا تھا۔پانچ رکنی بینچ کے جسٹس اعجاز افضل خان نے جوں ہی نواز شریف کو 62 ایف (1) کے تحت نااہلی کا فیصلہ پڑھ کے سنایا،ہاہا کار مچ گئی اور مجھے واٹس ایپ پہ نارووال سے اپنے دوست رانا معظم کا پہلا فون موصول ہوا جس میں اس نے مجھے شاہد خاقان عباسی کے وزیراعظم بننے کی مبارکباد دی۔رانا معظم میرا کلاس فیلو ہے،اس نے ایک گھر مری میں بھی بنا رکھا ہے،گرمیاں اکثر ادھر ہی گذارتا ہے اور مری کی سیاست اور احوال کا مجھ سے بھی زیادہ واقف ہے۔وہی رانا معظم اب گزشتہ روز مجھے اپنے ایم این اے احسن اقبال اور شاہد خاقان عباسی کی کاکردگی کا موازنہ کر کے مجھے زچ کر رہا تھا۔ بقول رانا معظم کے،دونوں ” قد آور” انجینئر ہیں۔ دونوں مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما رہے۔ دونوں کئی بار قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ دونوں وفاقی کابینہ کا حصہ رہے۔

لیکن جب ان کے اپنے اپنے حلقوں کی ترقی کا جائزہ لیا جائے تو نتائج حیران کن حد تک مختلف نظر آتے ہیں۔رانا کہتا ہےآپا نثار فاطمہ کے صاحبزادے احسن اقبال یو ای ٹی لاہور کے فارغ التحصیل مکینیکل انجینئر ہیں،باضابطہ سیاسی منظر نامے میں 1993 سے سامنے آئے ہیں اور گزشتہ تقریباً تین دہائیوں میں زیادہ تر منصوبہ بندی، ترقی اور قومی ترقیاتی پروگراموں سے وابستہ رہے۔ پنجاب کے 41 اضلاع ہیں،احسن اقبال کا ضلع نارووال مگر ٹاپ فائیو اضلاع میں شامل ہے۔ناروال 1991 میں ضلع بنا۔اس نے فخریہ بتایا کہ احسن اقبال پچھلے دس سال میں نہایت چابک دستی کے ساتھ نارووال میں وفاق اور پنجاب سے بڑے بڑے ترقیاتی و تعلیمی منصوبے لانے میں کامیاب ہوئے،جن کی بدولت اب نارووال کو ترقیاتی سپیڈ کی بدولت ازراہ تفنن ‘ ریپبلک آف نارووال ‘ بھی کہا جاتا ہے۔احسن اقبال نے یہاں نیشنل سپورٹس سٹی پر 6 ارب روپے سے زائد، نارووال میڈیکل کالج پر 4.4 ارب روپے، یو ای ٹی نارووال کیمپس پر تقریباً 3 ارب روپے، انوویشن سنٹر اور انوویشن پارک پر تقریباً 3 ارب روپے، نیشنل سینٹر فار کوانٹم کمپیوٹنگ پر 3.3 ارب روپے، نیشنل سینٹر فار نینو سائنس اینڈ نینو ٹیکنالوجی پر 2.77 ارب روپے، یونیورسٹی آف نارووال کی توسیع پر 3 ارب روپے سے زائد، نارووال۔شکرگڑھ روڈ پر 1.6 ارب روپے، جبکہ 400 کلومیٹر سڑکوں کی بحالی کے پیکیج پر 28 ارب روپے خرچ کیے گئے۔ صرف ان چند منصوبوں کی مجموعی لاگت ہی تقریباً 60 ارب روپے سے زائید بنتی ہے۔کراچی جس کی آبادی تقریباً دو کروڑ ہے،

آج تک قومی سپورٹس سٹی سے محروم ہے، جبکہ نارووال، جس کی آبادی 17 لاکھ ہے، 14 اسٹیڈیموں کا مالک بن چکا ہے۔رانا کہنے لگا آپ کے شاہد خاقان عباسی تو احسن اقبال سے پانچ سال قبل 1988 سے قومی سیاست میں سرگرم ہیں۔ وہ پی آئی اے کے چیئرمین رہے، وفاقی وزیر پیٹرولیم رہے اور 2017 میں پاکستان کے وزیر اعظم بھی بنے۔ مجھے یہ بتاؤ کہ وزیراعظم ہوتے ہوئے بھی وہ اپنے حلقہ مری، کہوٹہ اور کوٹلی ستیاں میں کوئ بڑا کام کیوں نہیں کر سکے۔ان کے کریڈٹ میں زیادہ تر چھوٹے اور درمیانے درجے کے منصوبے ہی کیوں نظر آتے ہیں، جن میں چھوٹے ترقیاتی کام، لنک روڈز، سکولز،بی ایچ یوز وغیرہ کے روایتی ترقیاتی کام شامل ہیں۔ وہ اپنے سیاسی کیریئر کے تقریباً چار عشروں کے دوران نہ کوئی میڈیکل کالج قائم کر سکے، نہ کوئی بڑی سرکاری یونیورسٹی، نہ کوئی قومی تحقیقی ادارہ،اور نہ ہی کوئی ایسا میگا منصوبہ سامنے لا سکے جسے قومی سطح کا تعلیمی یا سائنسی سنگ میل کہا جا سکے۔حتی کہ مری اور کوٹلی ستیاں کو ضلع کا درجہ بھی اور کوہسار یونیورسٹی کا قیام بھی ان کے دور میں نہ ہو سکا۔ مری روڈ، مری ایکسپریس وے ،بڑے سیاحتی منصوبے، تجاوزات مہم،پتریاٹہ چیئر لفٹ وغیرہ تو نواز شریف نے کی جس کا وہاں گھر تھا۔اب یہ میری غیرت کا معاملہ تھا ،میں نے اپنے تئیں اپنے ایم این اے کو خوب ڈیفینڈ کیا۔میں نے کہا کہ وزارت عظمیٰ ایک عارضی پیکج تھا

اور امانتاً شاہد خاقان کے سپرد کی گئی۔ان کی یہی بڑی کارکردگی تھی کہ امور مملکت انھوں نے کامیابی سے چلایا۔یہ ان کی سادگی اور شرافت تھی کہ وہ نہ تو وزیراعظم ہاؤس شفٹ ہوئے نہ ہی انھوں نے اپنے حلقے کے لئے راجا پرویز اشرف کی طرح ملکی فنڈز پہ ڈانگ پھیری۔ پھر میں نے رانا معظم کو سمجھایا کہ شاہد خاقان عباسی نے اسی لیے نئی پارٹی عوام پاکستان بنائی ہے جو ایک ایسے نظام کے لئے لڑے گی جہاں میرٹ کی بالا دستی ہو گی۔جہاں شرافت،متانت کی سیاست ہو گی اور پالیسی کے تحت محروم علاقوں میں میرٹ پہ سہولیات دی جائیں گے اور جہاں کوئ احسن اقبال میرٹ سے ہٹ کے فنڈز نہ لے جا سکےگا۔رانا ہنس کے کہنے لگا ،لو پہلی بات ہے کہ ایسا ہو گا نہیں لیکن اگر عوام پاکستان پارٹی اقتدار میں آ گئی تو پھر تو تمہیں ضلع مری کے لئے تقریباً تین دہائیاں اور انتظار کرنا پڑے گا،کیونکہ ہر سال تقریباً 400 ارب کی عملاً پی ایس ڈی پی کے تحت میرٹ پہ پہلے فاٹا ، بلوچستان اور انٹیریئر سندھ کی محرومیاں دور ہوں گی اور پھر ضلع مری کی باری آئے گی۔یہ تو پھر تمہاری زندگی میں ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔اب میں اپنے آپ کو کوس رہا تھا،میں کیوں رانا کے ساتھ ایسے فضول کے موازنے اور سوالوں میں الجھا ہوں،جس سے ذہنی کوفت ہوئ۔تنگ آ کے میں نے رانا کو کہا میرے پاس شاہد خاقان کی صورت میں شرافت اور متانت کی لیڈرشپ موجود ہے، میں اسی پہ خوش ہوں،تمہیں اور ابرار الحق کو احسن اقبال ایسا چیتے کی آنکھوں والا گھاگ اور شاطر سیاستدان مبارک ہو۔مگر رانا آج مکمل شرارت کے موڈ میں تھا۔اب کہنے لگا کہ مشہور اکانومسٹ ڈاکٹر فرخ سلیم نے 17 اگست 2025 کو اپنے دی نیوز کے مضمون میں پھر شاہد خاقان کو 2016 میں قطر کے ساتھ 15 سالہ مہنگی ایل این جی ڈیل کئے جانے پہ مطعون ٹھہرایا اور کہا کہ اس ڈیل کی وجہ سے پاکستان پہ 2026 میں گیس کے اربوں ڈالر کا سرکلر ڈیبٹ چڑھ گیا ہے۔

وہ کہتے ہیں گیس کا یہ گردشی قرضہ 2016 سے قبل کبھی نہ تھا اور پڑوس کے ممالک انڈیا اور بنگلہ دیش میں پاکستان سے آٹھ گنا زیادہ ایل این جی استعمال کے بعد بھی کوئی سرکلر ڈیبٹ نہیں ہے۔شاہد خاقان کو چاہیے تھا اگر یہ غلط ہے تو اس کی ری بٹل دے دیتے۔رانا سے الجھ کے میں آ تو گیا مگر کل سے اس کے آخری الفاظ میرے کان میں گونج رہے ہیں اور مجھے کنفیوز کر رہے ہیں۔اس نے کہا کہ آپ مری کے لوگ بڑے سادے ہو، اپنے ایم این اے کی سادگی اور شرافت کے نام پہ اپنی نسلوں کی ترقی تک قربان کر دیتے ہو۔ذرا ایک ٹرم کے لئے احسن اقبال کو اپنا ایم این اے منتخب کر لو،پھر فرق دیکھنا۔انجنئیر ادریس عباسی 6 جون،2026










