ایوب خان کے دور میں ایک لطیفہ بہت مشہور ہوا۔ ہوا یہ کہ ایوب نے ایجنسیوں سے اپنی عوامی مقبولیت اور قبولیت کی رپورٹ مانگی جو %100 پیش کی گئی۔اس رپورٹ کو ایوب نے جعلی قرار دے دیا چنانچہ ایک اعلی سطحی اجلاس ہوا۔ جس میں فیصلہ ہوا کہ صدر ایوب خان خود کسی سنیما ہال میں تھرڈ کلاس کیبن میں عوام کے ساتھ بیٹھ کر اپنے متعلق ایک ڈاکومنٹری فلم دیکھیں گے اور عوام کا ردعمل کا خود ملاخطہ کریں گے۔ چنانچہ طے شدہ پروگرام کے مطابق صدر ایوب خان بھیس بدل کر سنیما ہال میں پہنچ گئے اور ان کے بارے ڈاکومنٹری فلم چلنا شروع ہوگئی۔ جس پہ سارا سنیما ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ ایوب خان خود تالی نہیں بجا رہے تھے مگر بہت خوش اور شاداں تھے۔ اسی دوران ساتھ بیٹھے آدمی نے صدر ایوب خان کو ایک زور دار تھپڑ رسید کر دیا اور بولا تالی بجاؤ ورنہ پولیس گرفتار کرکے تھانہ میں بند کر دے گی۔۔۔۔۔










