
سرمد علی،صحافت،تمغہ امتیاز اور ڈاکٹر عارف جلالاہلیت اور قیادت کا نتیجہ۔۔۔۔دفاتر کرائے کے لیے خالی ہیں فاروق فیصل خان لائلپور سے ہماری محبت کی وجہ عہد ساز صحافی ظفر ڈوگر اور میاں زاہد سرفراز سے قربت ہے، چبکہ فیصل اباد سے قلبی تعلق لاس اینجلس جا بسنے والے یونیورسٹی کے کلاس فیلو،قومی فتبال ٹیم کے سابق کھلاڑی محبوب الحسن اور وویمن یونیورسٹی فیصل اباد شعبہ میڈیا سٹڈیز کی سربراہ ڈاکٹر سلمی عنبر ہین۔۔۔۔ میاں زاہد سرفراز پاکستان کی سیاسی تاریخ کا نہ صرف انسائیکلوپیڈیا بلکہ کردار ہیں۔عہد فیلڈ مارشل ایوب خان میں پنجاب یونیورسٹی میں طلبہ یونین کے سیکرٹری۔ محترمہ فاطمہ جناح کے چیف سپورٹر اور پولنگ ایجنٹ، متعدد مرتبہ رکن پارلیمنٹ اور وفاقی وزیر رہے ہیں ۔اب بھی ان کا بیٹا علی سرفراز عہد فیلڈ مارشل سید عاصم منیر میں پی ٹی آئی کا رکن قومی اسمبلی ہے۔میاں زاہد سرفراز پیرانہ سالی کے باوجود پرانے لائلپور کی مجلسی زندگی،دیہی تہذیب اور وضع داری کی علامت ہیں۔ان کی زبان سے ہمیشہ لیلپور ہی سنا ہے۔

وہ صرف بلند آہنگ شخصیت کے مالک ہی نہیں دنیا بھر کے ادب کا مطالعہ اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔برادر ظفر ڈوگر کو عہد ساز صحافی اس لئے قرار دیتا ہوں کہ اس کی صورت فیصل آباد کی صحافت، علاقائی صحافت سے نکل کر قومی اور مرکزی دھارے میں شامل ہوئی۔روزنامہ ایکسپریس وہ پہلا قومی اخبار ہے جس نے فیصل آباد سے اپنی اشاعت کا اہتمام کیا تو ظفر ڈوگر کو اس کی ادارت کی ذمہ داری سونپی۔کچھ برسوں بعد روزنامہ جنگ کو بھی فیصل آباد سے اخبار شائع کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو اس کی نظر انتخاب بھی ظفر ڈوگر پر پڑی۔ٹی وی چینلز کا دور آیا تو محسن نقوی صاحب نے فیصل آباد سے چینل لانچ کیا تو ان کی جوہر شناس نظر نے بھی ظفر ڈوگر جیسے ہیرے کا انتخاب کیا۔ان دونوں شخصیات کی قربت کے نتیجے میں ہمیں زرعی یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر عارف جلال کا تحفہ ملا۔ڈاکٹر صاحب کی شخصیت پر لکھنے کا مطلب آپ کے کئ گھنٹے گئے۔ان کا اتنا تعارف کافی ہے کہ درس و تدریس کے بعد ان کا زیادہ تر وقت فیملی سے زیادہ میاں زاہد سرفراز اور ظفر ڈوگر کی صحبت میں گذرا ہے۔ڈاکٹر صاحب گزشتہ برس ریٹائر ہونے کے بعد قلم قبیلے والوں کے قافلے میں شامل ہو گئے ہیں۔

ہم خوش تھے کہ ان کا قلم زراعت اور زرعی تحقیق پر اٹھے گا، ہم سمجھ پائیں گے کہ ہماری زراعت کے ساتھ کیا ہوا اور کیا کرتے کی ضرورت ہے۔۔۔ان موضوعات پر انہوں نے لکھا بھی لیکن انہوں نے بھی اب ان موضوعات کو منتخب کرنا شروع کر دیا ہے جو ہم جیسے نیم خواندہ کی چراگاہ ہیں۔ڈاکٹر صاحب نے تازہ آرٹیکل میں اے پی این ایس(مالکان اخبارات کی تنظیم)کے صدر اور حکمران پیپلز پارٹی کے سینیٹر سرمد علی جن کو حکومت پاکستان نے تمغہ امتیاز کا حقدار ٹھہرایا کی ذاتی صفات اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو بیان کیا ہے۔ان کے مضمون کا عنوان ہے”سرمد علی۔۔پاکستانی جمہوری صحافت کے عہد ساز معمار قلم،قیادت اور ستارہ امتیاز”سرمد علی صاحب کو یہ اعزاز ملنے پر بہت مبارک۔اللہ پاک ان کو مزید کامیابیوں سے نوازے۔شخصی خوبیوں کو چھوڑ کر ایک صحافی ہونے کے ناطے ان کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کے نتیجے پر گفتگو تو کی جا سکتی ہے۔ماضی میں ان کے دور صدارت میں ان کی تنظیم پر تنقید کے نتیجے میں خاکسار اور اس وقت جس ادارے میں کام کر رہا تھا دونوں کو نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ اب تو ملازمت کا کوئی سلسلہ بھی نہیں۔سو پیارے ڈاکٹر عارف جلال صاحب سرمد صاحب کہاں اور کب سے عہد ساز معمار قلم ہوئے۔ان کے قلم سے کوئی ایک خبر، کالم ،مضمون، اداریہ لکھا ہوا موجود ہو تو اگاہ کیجئے گا۔۔وہ مارکیٹنگ کے ایک باصلاحیت انسان ہیں

جہنوں نے اپنی محنت سے اپنے ادارے اور اس کی بدولت صنعت میں بڑا مقام بنایا لیکن قلم کار نہیں ہیں۔وہ اس جدید صحافت کے معمار ضرور ہیں جس میں ادارتی پالیسی کلی طور پر مارکیٹنگ کے تابع ہے،جس میں ایڈیٹر شعبہ اشتہارات کے ہیڈ کو جوابدہ ہے۔وہ ادارتی مواد کے عوض استہارات کی اچھی ڈیل کرنے کے ماہر ہیں۔وہ صحافیوں یا ایڈیٹرز کی کسی تنطیم کے صدر نہیں بلکہ مالکان اخبارات کے کاروباری مفادات کو تحفظ دینے والی تنطیم کے صدر ہیں۔

اس حیثیت میں ان تنظیموں کے حصے بخرے کرنے میں بھی ان کا کردار کلیدی ہے۔اج ایڈیٹرز اور عامل صحافیوں کی تنظیموں کی اولین ترجیح اشتہارات کا حصول اور پیمنٹ کی ادائیگی ہے تو اس کا سہرا بھی ڈاکٹر صاحب کے ممدوع سرمد صاحب کو جاتا ہے۔ان کی قیادت، اہلیت اور وژن کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا اشاعتی ادارہ جس کے وہ کرتا دھرتا ہیں کے دفاتر برائے فروخت اور کرائے کے لئے خالی ہیں کے اشتہار دے رہا ہے۔ باقی تمام اخبارات اور صحافت حکومت کے سامنے اشتہارات کا کشکول اور صحافی عیدی کے لئے ہاتھ پھیلائے کھڑے ہیں۔

اداکارہ مومنہ اقبال سے ہراسگی اور دھمکیوں کے معاملے میں لیگی رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ ملوث نکلے۔اداکارہ کی جانب سے ثاقب چدھڑ اور انکی بیوی سمیرا خان کو درخواست میں نامزد کیا گیا ہےاین سی سی آئی اے لاہور نے لیگی رکن پنجاب اسمبلی اور انکی بیوی کو 22 مئی کو طلب کرلیا۔ذرائع

امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: پاکستانی ثالثی نازک مرحلے میں داخل، وزیر داخلہ محسن نقوی کا ہنگامی دورہ تہرانپاکستان کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے مستقل خاتمے اور کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کی سفارتی کوششیں اب ایک انتہائی نازک اور اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔ ان تازہ ترین پیش رفت کی تفصیلی تفصیلات درج ذیل ہیں

:وزیر داخلہ محسن نقوی کا 24 گھنٹوں میں دوسرا دورہ تہرانخطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال اور امریکا کی جانب سے ملنے والی حالیہ تجاویز کے بعد وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ایک ہی ہفتے (اور گزشتہ 24 گھنٹوں) کے دوران دوسری مرتبہ ہنگامی دورے پر تہران پہنچے ہیں۔ اہم ملاقاتیں: تہران پہنچنے پر محسن نقوی نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، ایرانی ہم منصب اسکندر مومنی اور پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے اعلیٰ حکام بشمول جنرل احمد وحیدی سے اہم ترین ملاقاتیں کیں، جن میں عسکری اور سول قیادت کو امریکی تجاویز پر اعتماد میں لیا گیا۔ دورے کا مقصد: ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق، پاکستانی وزیر داخلہ کا یہ دورہ دونوں ممالک (امریکا اور ایران) کے درمیان پیغامات کی فوری منتقلی اور دونوں جانب سے موصول ہونے والے مسودوں (Texts) کی مزید وضاحت اور ابہام دور کرنے کے لیے ہے۔امریکا کا نیا مسودہ اور ایرانی موقفذرائع کے مطابق امریکا کی جانب سے ایران کو ایک نیا مسودہ/تجاویز پیش کی گئی ہیں،

جس میں سابقہ پیشکشوں کے مقابلے میں ایرانی منجمد اثاثوں کی بحالی اور اقتصادی پابندیوں میں نرمی کے حوالے سے نسبتاً بہتر مراعات (Incentives) شامل کی گئی ہیں۔ ایران کا ردِعمل: ایرانی ترجمان کا کہنا ہے کہ تہران کو امریکی تجاویز کا مسودہ موصول ہو چکا ہے اور وہ اس کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ تاہم، ایران اب بھی اپنے بنیادی مطالبات (تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، اثاثوں کی واپسی اور بحری ناکہ بندی کے خاتمے) پر سختی سے قائم ہے۔مذاکرات کا اگلا دور: عید کے بعد اسلام آباد میںپاکستان کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت کی مسلسل پسِ پردہ سفارت کاری کے نتیجے میں دونوں فریقین کو دوبارہ براہِ راست میز پر لانے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔

دوسرا دور: پاکستان کی اولین ترجیح 8 اپریل سے نافذ العمل عارضی جنگ بندی کو مستقل معاہدے میں بدلنا ہے۔ اس سلسلے میں امریکا اور ایران کے مابین باقاعدہ مذاکرات کا اگلا اور حتمی دور عید کے فوراً بعد اسلام آباد میں شیڈول کیا جا رہا ہے، جہاں دونوں ممالک کے وفود حتمی مسودے کو حتمی شکل دینے کے لیے سر جوڑ کر بیٹھیں گے۔ سفارتی حلقوں کا تجزیہ: عید کے بعد اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات خطے میں مستقل امن یا دوبارہ ممکنہ کشیدگی کا فیصلہ کرنے میں تاریخی نوعیت کے حامل ہوں گے۔










