ایک آدمی ہر مہینے ایک بھکاری کو 1000 روپے دیا کرتا تھا۔یہ سلسلہ پورے ایک سال تک چلتا رہا۔پھر ایک دن اُس نے بھکاری کو صرف 750 روپے دیے۔بھکاری کو یہ بات عجیب لگی، مگر اُس نے دل میں کہا، “750 روپے کچھ نہ ہونے سے بہتر ہیں” اور چلا گیا۔اگلے مہینے اُس آدمی نے بھکاری کو صرف 500 روپے دیے۔یہ دیکھ کر بھکاری حیران ہوا اور آدمی سے پوچھا:”آپ مجھے پہلے 1000 روپے دیتے تھے، پھر 750، اور اب 500؟
جب بھی راولپنڈی کے سپوتوں کا ذکر ہوگا، بریگیڈیئر طارق محمود زیدی (بریگیڈیئر ٹی ایم) کے ذکر کے بغیر یہ ذکر ادھورا رہے گا۔ جس پودے کو ابو بکر عثمان مٹھا نے اپنے ہاتھوں سے لگایا تھا، اس کی آبیاری بریگیڈیئر طارق محمود نے کی۔ اللہ اس عظیم شخصیت کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ آمین۔بریگیڈیئر طارق محمود، جنہیں عام طور پر بریگیڈیئر ٹی ایم کے نام سے جانا جاتا ہے، پاکستان آرمی کے ایک مشہور افسر تھے، خاص طور پر اسپیشل سروس گروپ (SSG) میں اپنی خدمات کی وجہ سے نمایاں تھے۔ وہ 8 اکتوبر 1938 کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ ان کی رہائش گورڈن کالج اور ڈی اے وی کالج کے کونے پر واقع تھی۔ 1960 سے 1989 تک ان کا فوجی کیریئر شاندار خدمات سے عبارت رہا۔## فوجی کیریئر اور کامیابیاں:* **سروس برانچ**: پاکستان آرمی، اسپیشل سروس گروپ (SSG)* **عہدہ**: بریگیڈیئر جنرل* **اہم کمانڈز**:3rd Commando Powinda BattalionShaheen Company, 1st Commando Battalionاسپیشل سروس گروپ50th Airborne Division* **اہم آپریشنز**:1965 کی پاک بھارت جنگ کے دوران آپریشن جبرالٹر1971 کی جنگ، خاص طور پر مشرقی پاکستان میں فضائی آپریشنز1984 کے سیاچن آپریشنزسوویت-افغان جنگ، خاص طور پر ہل 3234 کی لڑائی* **اعزازات**:ہلالِ شجاعتستارہِ جرات (بار کے ساتھ)ستارہِ بسالتبریگیڈیئر ٹی ایم کو ان کی غیر معمولی بہادری اور قیادت کے لیے “Man of Steel” اور “TM Tiger” جیسے لقب دیے گئے۔## خاندانی پس منظر:بریگیڈیئر طارق محمود ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتے تھے جس میں خدمت کا جذبہ نمایاں تھا۔ ان کے بھائی، ڈاکٹر عزیز محمود زیدی، گورڈن کالج راولپنڈی کے پرنسپل رہے۔## المناک وفات:29 مئی 1989 کو، بریگیڈیئر ٹی ایم ایک پیراشوٹنگ حادثے میں شہید ہو گئے۔ یہ حادثہ پاکستان آرمی ایوی ایشن اسکول، رہوالی (گوجرانوالہ کے قریب) میں ایک ڈیمونسٹریشن جمپ کے دوران پیش آیا، جب ان کا مین اور ریزرو پیراشوٹ دونوں کھلنے میں ناکام رہے۔بریگیڈیئر ٹی ایم کی بہادری، قیادت اور خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
*اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے ایرانی سفیر رضا امیری مغدام کی ملاقات* ملاقات میں دوطرفہ تعلقات سمیت اہم علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیالاسپیکر قومی اسمبلی کا دونوں برادر ممالک میں تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کی ضرورت پر زوردونوں برادر ممالک کے تعلقات مذہب، تاریخ اور ثقافت کی مضبوط بنیادوں پر استوار ہیں، اسپیکر قومی اسمبلیایران پاکستان کا برادر ہمسایہ ملک ہے، اسپیکر قومی اسمبلیپاکستان ایران کے ساتھ اپنے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے، سردار ایاز صادقپاکستان ایران کے ساتھ پارلیمانی و اقتصادی شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے پُرعزم ہے،
سردار ایاز صادقدونوں ممالک میں پارلیمانی رابطے دوطرفہ تعلقات کو مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، سردار ایاز صادقایران کے ساتھ پارلیمانی و اقتصادی رابطوں کو فروغ دینا ہماری ترجیحات میں شامل ہے، اسپیکر قومی اسمبلیپارلیمانی روابط عوام کے درمیان فاصلے کم کر سکتے ہیں، اسپیکر قومی اسمبلیاسپیکر نے دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان مسلسل رابطوں کی اہمیت پر زور دیاخطے میں امن و استحکام کے لیے دونوں ہمسایہ ممالک کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہے، اسپیکر قومی اسمبلیایران پاکستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے،ایرانی سفیر رضا امیری مغدامخطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کا کردار قابلِ ستائش ہے،ایرانی سفیر رضا امیری مغدامایرانی سفیر نے اسپیکر قومی اسمبلی کو ایران کے دورے کی دعوت دیایرانی سفیر نے دوطرفہ تعلقات مضبوط بنانے کے لیے پارلیمانی تعاون کی اہمیت کو سراہادونوں ممالک میں توانائی، مینوفیکچرنگ اور دیگر اقتصادی شعبوں میں تعاون کے مواقع موجود ہیں،ایرانی سفیر رضا امیری مغداماسپیکر قومی اسمبلی کا دونوں ممالک میں رابطوں کو فروغ دینے میں کردار قابلِ تحسین ہے،ایرانی سفیر رضا امیری مغدام
موریطانیہ سے غیر قانونی طریقہ سے اسپین جانے والی کشتی کو حادثہ پیش آیا ، جس کے نتیجے میں 44 پاکستانیوں سمیت 50 افراد ہلاک ہو گئے۔ کشتی 2 جنوری کو موریطانیہ سے روانہ ہوئی تھی جس میں 86 تارکین وطن سوار تھے، جن میں 66 پاکستانی شامل تھے۔ حادثے کے نتیجے میں 36 افراد کو بچا لیا گیا۔ مراکشی حکام کا کہنا ہے کہ کشتی سپین کے لیے روانہ ہونے کے بعد حادثے کا شکار ہوئی۔ ان کے مطابق کشتی میں سوار 44 پاکستانیوں میں سے 15 نوجوان گجرات کے رہائشی تھے ۔ 10 سیالکوٹ اور 12 کا تعلق گوجرانوالہ سے بتایا جا رہا ہے۔ ابھی مزید کی شناخت جاری ہے۔
دبئی: افغان طالبان اور بھارتی حکام کے درمیان اہم ملاقات: سیاسی، اقتصادی تعلقات پر تبادلہ خیالدبئی میں افغان طالبان اور بھارتی حکام کے درمیان اہم ملاقات ہوئی جس میں باہمی تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور افغان بھارت کرکٹ تعاون مضبوط کرنے پر اتفاق کیا گیا۔بھارتی حکام کے مطابق بدھ کو سیکرٹری خارجہ وکرم مسری اور افغان قائم مقام وزیرخارجہ مولوی امیر خان متقی کی ملاقات میں بھارت نے افغان طالبان کو دوستی کا پیغام پہنچایا۔ملاقات میں چابہار بندرگاہ سے باہمی تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور افغان بھارت کرکٹ تعاون مضبوط کرنے پر اتفاق کیا گیا۔وزارت خارجہ افغانستان کی طرف سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ بھارت کے نائب وزیر خارجہ وکرم مسری نے افغان وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی کے ساتھ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور عوام کے درمیان تعلقات پر تبادلہ خیال کیا۔پریس ریلیز کے مطابق ملاقات میں مولوی امیر خان متقی نے انسانی امداد کے لیے ہندوستان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ امارت اسلامیہ معیشت پر مبنی پالیسی کے ذریعے دوسرے ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات رکھنا چاہتی ہے۔علاوہ ازیں مسری نے ہندوستان اور افغانستان کے درمیان تاریخی تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو نافذ کرکے افغانستان کی مدد کرنا چاہتا ہے۔
سیف علی خان حملے میں زخمی بھارتی اداکار سیف علی خان کو چند گھنٹے قبل ایک حملہ آور نے ان کے گھر کے باھر حملہ کر کے شدید زخمی کر دیا- سیف علی خان مسلمان اداکار ہیں- فی الحال ان کا اپریشن ھو رھا ھے اور کچھ کہنا مشکل ھے – بھارت اپنی ڈیڑھ ارب عوام کو فلموں، ویب سیریز، اور خبروں کے ذریعے jingoism پیدا کر تا ہے اور یہ اسی کا نتیجہ ھے – دنیا میں جنگ لڑنے کے تبدیل ہوتے طریقہ کار میں انفارمیشن کی dominance بہت زیادہ اہمیت اختیار کر چکی ہے- اور اس ضمن میں بھارت کی بالا دستی جنوبی ایشیا میں طاقت کے عدم توازن کا دوسرا بڑا محرک ھے- پہلا محرک بھارت کی اسلحہ خریدنے کی دوڑ میں دنیا بھر میں پہلا نمبر ھے- بھارتی خارجہ پالیسی کا مرکزی نقطہ پاکستان کے خلاف پراپیگنڈا کر کے بیرونی دنیا میں پاکستان کے امیج کو خراب کرنا ہے- اس کے علاوہ بی جے پی کے discourse کا مقصد بھارتی عوام کو پاکستان کے خلاف بڑھکا کر ہندو انتہاء پسند ووٹ بینک مضبوط کرنا اور اپنے دفاعی اخراجات کا جواز بنانا ،اپنے عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانا اور پاکستانی عوام کو اپنی سیاسی اور عسکری قیادت سے بدظن کرنا ہے-بالی ووڈ دنیا کی دوسری بڑی فلم انڈسٹری ہے، بھارتی پرائیویٹ ٹیلویژن ، اور اخبارات اپنے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ساتھ عوامی رائے پر بہت زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں- بی جے پی کا بالی ووڈ اور پرائیویٹ میڈیا سے گٹھ بندھن کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں- بھارت کے تین چار بڑے بڑے کھرب پتی کاروباری حضرات میڈیا کی لائف لائن ہیں اور بی جے پی اڈانی، امبانی، برلا، ٹاٹا کی لائف لائن ہے- بھارت نے کرکٹ کے ذریعے عوام کو بہترین entertainment مہیا کر رکھی ہے- پاکستان کا میڈیا، بھارتی میڈیا کے پراپیگنڈے کا مقابلہ نہیں کر سکتا- پاکستان کے پاس سینما، نہ ہونے کے برابر ہے- پرائیویٹ ٹیلیویژن انڈسٹری سرمایہ کی کمی کا شکار ہے، ڈیجیٹل میڈیا پر ایک دو چینل کے علاوہ انٹرٹینمنٹ کی شدید کمی ہے، سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر سیاسی مخالفین اپنے ہی ملک اور اداروں کو لپیٹتے ہیں- بھارت اپنی ڈیڑھ ارب عوام کو فلموں، ویب سیریز، اور خبروں کے ذریعے jingoism پیدا کر تا ہے اور پاکستان کو خطرے کے طور پر پیش کرتا ہے – یہی جواز امریکہ اور فرانس سے ہر سال 70 ارب ڈالر کا اسلحہ خریدنے کے لئے استعمال کرتا ہے- جس سے خطے کا دفاعی توازن خراب ہوتا ہے- بھارت اور پاکستان دونوں نوکلیئر طاقتیں ہیں اور ہمسائیہ ممالک ہیں-بھارتی discourse جنوبی ایشیا میں عدم توازن کو بڑھاوا دینے کا سب سے بڑا محّرک ہے- بھارتی جنگی جنون جنوب ایشیائی ممالک کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی روکاوٹ ہے- افغانستان میں داعش اور ٹی ٹی پی کی مالی معاونت ، افغانستان میں دہشت گرد کاروائیوں کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد ، میڈیا پراپیگنڈا کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے-ان ہتھ کنڈوں سے نمٹنے کے لئے پاکستان کے دفاعی انتظامات کو بھی ، بھارت پاکستانی عوام میں متنازع بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا- یہ تین دھاری discourse بھارت کی بیوقوفی اور فاؤل پلے ہے- بھارت علاقائی امن کے لئے تو خطرہ ہے ہی لیکن اپنے discourse کی وجہ سے پاکستان کی عوام کے ذہنوں پر بھی اثرانداز ہو رہا ہے جو کہ بہت تشویش ناک ہے-
پارا چنار جانے والے گاڑیوں کے قافلے پر ایک بار پھر فائرنگپشاور:ڈی آئی خان : پارا چنار جانے والے گاڑیوں کے قافلے پر ایک بار پھر فائرنگ کردی گئی جس کے باعث قافلہ واپس آگیا۔میڈیا نیوز کے مطابق لوئر کرم بگن میں پاراچنار جانے والے گاڑیوں پر ایک بار پھر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے، 35 گاڑیوں پر مشتمل قافلہ پاراچنار کی جانب گامزن تھا کہ نامعلوم ملزمان نے گاڑیوں پر فائرنگ کی جس کے باعث قافلے کو رکنا پڑا بعدازاں گاڑیاں واپس روانہ ہوگئیں۔
جنگ بندی کے باوجود اسرائیل جارحیت سے باز نہ آیا؛ وحشیانہ بمباری میں 40 فلسطینی شہیداسرائیل نے غزہ پر فضائی حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے