“پاکستان حج منسٹری اور ال راجی شرکے کی مکتب 121 کے حاجیوں کے ساتھ زیادتی”جو پاکستان سرکاری گورنمنٹ حج بجٹ ہے اس میں صرف زون 5 ہی ا سکتا ہے مگر پھر بھی گورنمنٹ اپنا زور لگا کر 2/3 مکتب زون 1 میں زور لگا کر لیتی ہے وہ کیسے لیتی ہے وہ ایک علیحدہ کہانی ہے اور کیوں لیتی ہے. مکاتب میں منسٹری کے اور گورنمنٹ اف پاکستان کے وی ائی پی افیشل یا وہ لوگ ٹھہرتے ہیں ان کے ساتھ نظر وٹو کے طور پر کچھ حاجیوں کو بھی ٹھرایا جاتا ہے تاکہ کوئی بات نہ کر سکے سال2026 Mina کے پاس تین مکتب الاٹ کیے گئے 120 121 اور 122 ان میں سے مکتب 121 میں بھی ہمارے گروپ ممبران تھے جن کو ایک مہینے پہلے اس مکتب الاٹمنٹ کی انفارمیشن دی گئی تھی انہوں نے اپنی ذہنی اور جسمانی تیاری اسی حساب سے کی ال راجی شرکے نے یکدم ایک لیٹر ایشو کر دیا کہ ان میں سے کئی حجاج کو 121 سے 137 نمبر خیمے میں شفٹ کیا جا رہا ہے اور ان کو نیو بینڈ اور ان کو نیو 137 مکتب کا wrist بینڈ پہننے پر مجبور کیا جارہا ہے حاجیوں نے احتجاج کیا پتہ چلا پہلے تو منسٹری نے ال راجی شرکے پے ڈالا کہ یہ انہوں نے اپنے کوئی بیڈ ترتیب چینج کی ہے یا ان کے کوئی مہمان ہے اس لئے پچاس حاجیوں کو ادھر بھیجا جا رہا ہے پھر جب ال راجی شرکے پے بات ائی تو انہوں نے ministry کا لیٹر دکھائے کہ یہ تمام پاکستان حج منسٹری کے ہدایات پر کیا جا رہا ہے جس پر ان کے دستخط ہیں.اصل کہانی یہ ہے کہ کچھ لوگ جن کے مکتب پیچھے ائے تھے انہوں نے سفارش کرا کر اعلی حکام سے اپنے مکتب اگے کروایا ہے اور اس کے علاوہ منسٹری کے بھی کچھ لوگ وہاں پے ایڈجسٹ ہوں گے اس کے علاوہ اس میں کچھ اور مذہبی مذہبی ایشوز بھی ہیں حجاج کے ساتھ سے دو تین دن پہلے ایسی حرکات کرنا بالکل انسانی حقوق کے منافق ہے اور یہ تو بالکل ان کو ذہنی طور پر حاجیوں کو مفلوج کر دینے والی بات ہے حج منسٹری کے ائنسٹائن اور ارسطو اتنے عقل کے اندھے ہیں بھئی اپ شروع سے ہی ان لوگوں کو zone فائیو میں بھیج دیتے تو جیسے پہلے ستر پرسنٹ لوگوں کو بھیجا ہے تو کوئی اواز بھی نہ اٹھاتا . اپ نے بعد میں سفارشی اور وی ائی پی لوگوں کیلئے مکتب میں adjustment کرنی تھی تو اپ اس چیز کو پہلے ہی کرتے اور یہ ہر سال ہوتی ہے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کچھ مذہبی ایشوز ہوتے ہیں اور کچھ وی ائی پیز کو ایڈجسٹ کرنا ہوتا ہے لیکن اس موقع پر ان کی عقل سلب ہو جاتی ہے اللہ سبحانہ و تعالی سے دعا ہے کہ جو متاثرہ حاجی ہیں ان کے لئے اسانی کرے اور جن ارباب اختیار جو ال راجی شرکے یا حج منسٹری میں جو بھی اس کے ذمہ دار ہیں اللہ سبحان اللہ تعالی ان پر اپنی سخت پکڑ کرے اور ان سے ان حاجیوں کے بہاف پر حساب لے
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف اپنے چار روزہ دورہء چین کے پہلے مرحلے میں ہانگژو پہنچ گئے ہیں.شیاؤ شین ائیرپورٹ ہانگژو پہنچنے پر نائب گورنر ژجیانگ شو وینگوانگ (Xu Wenguang)، چین کے پاکستان میں سفیر جیانگ زائیڈونگ اور پاکستان کے چین میں سفیر خلیل ہاشمی نے وزیرِ اعظم کا استقبال کیا. نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ اور معاون خصوصی طارق فاطمی وزیرِ اعظم کے ہمراہ ہیں.وزیرِ اعظم کی ہانگژو میں ژجیانگ صوبے کے پارٹی سیکریٹری وانگ ہاؤ (Wang Hao) سے ملاقات ہوگی. وزیرِ اعظم سی پیک فیز 2 کے تحت پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے مابین تعاون کے فروغ کیلئے منعقدہ بزنس فورم میں شرکت کریں گے اور معاہدوں و مفاہمتی یادداشتوں کے تبادلے کی تقریب میں شرکت کریں گے.علاوہ ازیں وزیرِ اعظم کی معروف چینی کمپنیوں کے سی ای اوز سے ملاقاتیں بھی ہونگی. وزیرِ اعظم چینی کمپنی علی بابا کے ہیڈکوارٹر کا دورہ بھی کریں گے اور تعاون کی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کی تقریب میں شرکت کریں گے.
ڈاکٹر خالد عباس الاسدی کی کتاب”ہم عہدِ وفا میں زندہ ہیں” کی تقریب پذیرائیاسلام آباد(پ۔ر)دُنیا کی تمام تہذیبوں میں سب سے بہتر تہذیب مسلمانوں کی ہے۔ ان خیالات کا اظہار ممتاز اُردو شاعرپروفیسر جلیل عالی نے مدینہ منورہ میں مقیم اُردو کے شاعر ڈاکٹر خالد عباس الاسدی کے شعری مجموعے “ہم عہدِ وفا میں زندہ ہیں” کی تقریب پذیرائی سے صدارتی خطاب کے دوران کیا
۔اُنھوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے بات کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتا ہوں کیونکہ میرے والد سیاسی لیڈر تھے۔ ہر قوم کی تاریخ کا میابیوں اور ناکامیوں کا مجموعہ ہوتی ہے۔پاکستان سب کا ہے،عوام کے ہمدرد لوگوں کا بھی اور مفادپرست لوگوں کا بھی۔ دنیا میں جتنی تہذیبیں گذری ہیں ان میں سب سے بہتر تہذیب مسلمانوں کی ہے
۔ ہماری فارن پالیسی کامیاب پالیسی ہے۔ڈائریکٹر جنرل، ادارۂ فروغِ قومی زبان پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر نے کہا کہ میرے نزدیک پاکستان واحد ملک ہے جہاں ایک بچہ باہر جاتا ہے اور تمام خاندان کی کفالت کرتا ہے۔ ۔
وہی بیرونِ ملک رہنے والا بچہ وطن کی محبت سے سرشار ہوتا ہے۔ پردیسی کے دل میں وطن کی یاد ایمان کا حصّہ ہے۔ پاکستان کا ہر شہری رضا کارانہ طور پر جنگ میں جانے کے لیے تیار ہوتا ہے۔
خالد نے مدینہ منورہ میں بیٹھ کر اپنے ملک کے لیے اس قدر خوبصورت اشعار لکھے۔اُنھوں نے ہم سب کی ترجمانی کی ہے اور ان کی یہ کوشش خراجِ تحسین کی مستحق ہے۔ ہماری دلی خواہش ہے کہ وہ اپنے اس روحانی سفر کو جاری رکھیں۔ اللہ اس ہلالی پرچم کی عزت بڑھانے والے لوگوں کو سلامت رکھے ۔ تقریب کی نظامت کے فرائض محبوب ظفر نے ادا کرتے ہوئے تمام احباب کا شکریہ ادا کیا۔ صاحبِ کتاب نے مدینہ منورہ سے آن لائن خطاب کرتے ہوئےاپنی نظمیں سنائیں اور فوج کو خراجِ تحسین پیش کیا
۔اُنھوں نے کہا کہ پاکستان قربانیاں دے کرحاصل کیا گیا اور قربانیوں سے قائم رہے گا۔ کئی ماؤں نے اس سرزمین پر اپنے بیٹے وار دیے ہیں۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ پاکستان میری پہلی محبت ہے جس کا آغاز میری ماں کے آنسو سے ہوا جب وہ اپنے والد کی شہادت کو یاد کرتی تھیں۔ محمدحمید شاہد نے کہا کہ ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے اس سرزمین سے جب ہمارا ایمان جڑتا ہے تو اسے کا نظریہ بہت اہم ہوجاتا ہے ۔ ہماری فوج جب ریاست سے جڑتی ہے تو ہمیں یہ بے حد اچھے لگتے ہیں۔
خالدالاسدی نے ادبی سفر غزل سے شروع کیا مگر عشق محمد غالب آگئی ۔ سبز گنبد سے سبز پرچم کا سفر ان کی اس تصنیف سے قاری تک منتقل ہوتا ہے ۔ یہ کتاب ان کی توقیر اور منزلت میں اضافہ کرے گی۔ جبار مرزا نے کہا کہ خالد کی فوج سے محبت کی کئی وجوہات ہیں، جس میں سے ایک ان کی والدہ کے آنسو بھی ہیں۔خالد کی یہ کتاب پاک فوج کو خراج ِ تحسین ہے جس کا قیام پاکستان کے وقت ایک رجمنٹ بھی مکمل موجود نہیں تھا۔ خالد ایک شاعر ،دوست اور درجن بھر کتابوں کے مصنف اور پانچ بہنوں کے اکلوتے بھائی ہیں
۔ مسجد نبوی کے 14ویں توسیعی منصوبے میں چیف ایڈمنسٹریٹر کے طور پر کام شروع کیا ،تین بار ٹرانسفر کا موقع بھی ملا مگر نہ گئے۔ سلمان باسط نے کہا کہ محبت میں ڈوبا یہ شخص اللہ کے نام پر قائم مملکت سے بھی محبت کرتا ہے۔ اس کتاب کا ایک ایک لفظ پاکستان کی انسیت سے بھر اپڑا ہے۔ ان کی یہ کتاب عشق اور محبت کا زمزمہ ہے۔فاروق عادل نے کہا کہ خالد سے جان پہچان نہیں ۔ وہ پاکستان سے محبت کرتے ہیں، جواُن کے کلام میں دیکھی جاسکتی ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ فلاں نہیں تو پاکستان نہیں لیکن ایسا ہرگز نہیں ۔ اُنھوں نے کوشش کی ہے کہ ہمارے ناراض اور روٹھے بچے جان سکیں کہ اُنھوں نے کیا حاصل کیا ہے۔
نفرت کی آگ بجھا کر محبت کے پُھول اگانے کا طریقہ یہ ہے۔ماہنامہ” ہلال” کے ایڈیٹر یوسف عالمگیرین نے کہا کہ شعروادب سے شغف ہوناتحفۂ خداوندی ہے کیونکہ ہر شخص شعر نہیں کہہ سکتا ، صرف پیدائشی شاعر ہی لکھ سکتے ہیں ۔ ڈاکٹر خالد کے وطنیت کے لیے کہے گئے اشعار کی گونج پورے ملک میں سنائی دیتی ہے۔ڈاکٹر خالد میں وطنیت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ ان کے ایک ایک شعراس کی گواہی دیتا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل شیر افگن لیفٹیننٹ جنرل شیر افگن پاکستان آرمی کے تھری اسٹار جنرل ہیں۔ انہیں “ہلال امتیاز – ملٹری” HI(M) سے نوازا گیا ہے، آئی جی ایف سی بلوچستان IGFC Balochistan* بطور میجر جنرل انہوں نے فرنٹیر کور بلوچستان کے انسپکٹر جنرل کے طور پر خدمات انجام دیں۔ یہ دورانیہ بلوچستان میں دہشت گردی اور امن و امان کے حوالے سے بہت حساس تھا۔ کوئٹہ اور دیگر علاقوں میں امن کی بحالی میں ان کا کردار کلیدی رہا۔ ترقی پا کر وہ 31 کور بہاولپور کے کمانڈر بنے۔ اس عہدے پر انہوں نے مشرقی سرحد کے دفاع، آپریشنل تیاری اور جوانوں کے مورال کو بلند رکھنے میں.
اہم کردار ادا کیا۔جی ایچ کیو راولپنڈی میں وہ انسپکٹر جنرل ٹریننگ اینڈ ایویلیوشن رہے۔ یہ عہدہ فوج کی تربیت، ڈاکٹرین اور مستقبل کی قیادت کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے بہت اہم ہوتا ہے۔انہیں آزاد کشمیر رجمنٹ کا کرنل کمانڈنٹ بھی مقرر کیا گیا
جو اس رجمنٹ کے لیے اعزاز کی بات ہے۔جنرل شیر افگن کو انسداد دہشت گردی، لائن آف کنٹرول LoC پر تعیناتی اور قومی سلامتی کے معاملات میں تجربہ کار اور جارحانہ مزاج افسر کے طور پر جانا جاتا ہے۔
سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے جنگ کے خاتمے کا باعث بننے والے کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات کو ایک اضافی موقع دینے، نیز آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی سکیورٹی اور آزادی کو 28 فروری 2026ء سے پہلے کی صورت حال کے مطابق بحال کرنے اور خطے کے امن و استحکام کی خاطر تمام اختلافی امور کو حل کرنے کے سلسلے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مثبت رد عمل کو اپنے ملک کی جانب سے انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے۔سعودی عرب نے اس سلسلے میں پاکستان کی مسلسل ثالثی کی کوششوں کو بھی بہت سراہا ہے۔
نیز مملکت اس بات کی متوقع ہے کہ ایران کشیدگی کے خطرناک نتائج سے بچنے کے لیے اس موقع سے فائدہ اٹھائے گا۔ ان خیالات کا اظہار شہزادہ فیصل بن فرحان نے ایکس پلیٹ فارم (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں کیا۔سعودی عرب امید کرتا ہے کہ ایران مذاکرات میں پیش رفت کے لیے کی جانے والی کوششوں کا جلد مثبت جواب دے گا تاکہ ایک ایسے جامع معاہدے تک پہنچا جا سکے جو خطے اور دنیا میں پائیدار امن کا ضامن ہو
⭕امریکہ کی قومی انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر نے ایران کے خلاف دوبارہ جنگ کی مخالفت کے باعث استعفیٰ دے دیا ہے۔یہ گمان نہ کریں کہ مذاکرات کسی نتیجے تک پہنچنے والے ہیں۔ایران کی مسلح افواج سو فیصد ہائی الرٹ پر ہیں۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمان کی رہائشگاہ آمد!وزیراعلیٰ نے دہشت گردی کے حالیہ واقعے میں شہید ہونے والے مولانا شیخ ادریس مرحوم کے لیے فاتحہ خوانی کی اور مولانا شیخ ادریس کی شہادت پر تعزیت اور دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ وفاق کے ذمہ خیبرپختونخوا کے بقایاجات اور مجموعی سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیادونوں رہنماؤں کا صوبے کے آئینی، قانونی اور مالی حقوق کے حصول کے لیے مشترکہ جدوجہد پر اتفاق کیا گیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ایرانی وزیرداخلہ اسکندر مومنی نے تہران پہنچنے پر فیلڈ مارشل کا پرتپاک استقبال کیا، وزیرداخلہ محسن نقوی بھی اس موقع پر موجود تھے۔آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل کا دورہ ثالثی کی کوششوں کا حصہ ہے، خطے میں قیام امن اور دیگر امور پر بات چیت ہوگی۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر اہم اعلیٰ ایرانی شخصیات سے ملاقات کریں گے۔یاد رہے کہ فیلڈ مارشل کا دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکی جنگ بندی کی تجاویز پر ایران اپنا ردِ عمل دینے کے قریب ہے۔وزیر داخلہ محسن نقوی بھی ایران میں موجود ہیں، وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کر کے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امریکا کے ساتھ جنگ کے خاتمے سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔خبر ایجنسی کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کر کے ایران امریکا جنگ کے خاتمے کے لیے مسودوں پر تفصیلی بات چیت کی۔ایرانی خبر ایجنسی کا کہنا ہے کہ دونوں شخصیات نے قیام امن کے طریقہ کار پر غور کیا۔دوسری جانب سفارتی ذرائع کا بتانا ہے کہ وزیر داخلہ محسن نقوی آج بھی تہران میں ہی قیام کریں گے، محسن نقوی امریکا ایران مذاکرات سے متعلق اہم ملاقاتیں جاری رکھےہوئے
وزیراعظم محمد شہباز شریف سے قطر کے تعمیر گروپ کے بانی محمد حسین آل علی کی قیادت میں وفد کی ملاقات ہوئی.سرمایہ کاری کے وزیر کو مدعو نہیں کیا گیا ملاقات میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.قطر پاکستان کا دیرینہ دوست ہے جس نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا. وزیرِ اعظمبیرونی سرمایہ کاری میں اضافے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھا رہے ہیں. وزیرِ اعظمخصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے تحت سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا. وزیرِ اعظمپاکستان کے سیاحت، ہوٹلنگ و ہاسپیٹیلٹی اور رئیل اسٹیٹ و تعمیرات کے شعبے میں سرمایہ کاری کی وسیع استعداد موجود ہے. وزیرِ اعظموزیرِ اعظم نے متعلقہ حکام کو گروپ کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے سہولت و معاونت فراہم کرنے کی ہدایت.تعمیر گروپ کے بانی نے گروپ کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری اور جاری منصوبوں سے آگاہ کیا.تعمیر گروپ پاکستان میں ہاسپیٹیلٹی و ہوٹلز اور رئیل اسٹیٹ و تعمیرات کے شعبے میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتا ہے اور اس حوالے سے کئی منصوبوں پر کام شروع ہو چکا ہے.
بریفنگ.محمد حسین آل علی نے پاکستان میں گروپ کی جانب سے سرمایہ کاری میں اضافے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا.محمد حسین آل علی نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کی قیادت میں ملکی ترقی اور کاروبار و بیرونی سرمایہ کاری میں اضافے کیلئے اقدامات کی تعریف کی.انہوں نے کہا کہ پاکستان میں وزیرِ اعظم کی قیادت میں حکومت ایس آئی ایف سی کے تحت سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنے کیلئے مثبت اقدامات اٹھارہی ہے.
*پی آئی اے کا قبل از حج آپریشن 97 فیصد بروقت پروازوں کی روانگی کے ساتھ مکمل**21 مئی 2026*پی آئی اے قبل از حج آپریشن 21 مئی کو کامیابی کے ساتھ مکمل ہو گیا۔ ترجمان پی آئی اے۔ رواں سال 210 پروازوں کےذریعے 53,000 سے زائد عازمین حج کو حجازِ مقدس پہنچایا گیا ۔ پی آئی اے کی قبل از حج کی پروازوں کی کامیابی کی شرح 97 فیصد رہی یعنی مجموعی طور پر 97 فیصد سے زائد پروازیں بروقت روانہ ہوئیں۔پی آئی اے کی جانب سے حج پروازوں کی بروقت روانگی مقررہ ہدف سے سات فیصد زائد رہی۔ اس سال 53،000 سے زائد عازمین حج کو پی آئی اے کے ذریعے سعودی عرب پہنچایا گیا ۔ حج آپریشن کے لیے اسلام آباد، کراچی، لاہور، ملتان، فیصل آباد، سیالکوٹ اور کوئٹہ سے براہِ راست پروازیں چلائی گئیں۔پی آئی اے کی جانب سے بعد از حج آپریشن کے لئےضروری اقدامات مکمل کر لئے گئے ہیںپی آئی اے کا بعد از حج آپریشن 30 مئی 2026 کو شرو ع ہو گا اور 30جون کو اختتام پذیر ہو گا ۔ترجمان پی آئی اے
راولپنڈی GHQ میں فوجی اعزازات دینے کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شہداء کے اہلِ خانہ، افسران اور جوانوں کو بہادری اور خدمات کے اعتراف میں اعزازات دیے
۔تقریب میں 50 ستارۂ امتیاز (ملٹری) 12 تمغۂ بسالت دیے گئے، شہداء کے اعزازات انکے خاندانوں نے وصول کیے۔