Monthly Archives: May 2026
سرمد علی اشتھار اکھٹھے کرتے کرتے تمغہ حاصل کر بیٹھا تفصیلات کے لیے فاروق فیصل کی وال سے شکریہ کے ساتھ۔۔مھنگای ھاےمھنگای اور خودکشیوں کا بازار۔۔تفتیش کے مطابق مقتول حمزہ خان کو اغوا کے بعد قتل کیا گیا، جبکہ اُن کی لاش ملزم عارف شاہ کے آبائی گھر مانسہرہ سے برآمد ہوئی، جسے باغیچے میں دفنایا گیا تھا۔ایس ایس پی عارف شاہ کو سزائے موت۔ روس اور چین کا نیا اسٹریٹجک اتحاد سامنے آگیا۔۔۔۔ڈالر کی بادشاہت کو آخری سلام امریکی سپر پاور کا خاتمہ۔۔روسی صدر اور چینی صدر شی کے درمیان 3 گھنٹے کی ملاقات میں سب کچھ طے پا گیا اب جس کی لاٹھی اسکی بھینس والہ سسٹم نھی ھو گا۔۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

سرمد علی،صحافت،تمغہ امتیاز اور ڈاکٹر عارف جلالاہلیت اور قیادت کا نتیجہ۔۔۔۔دفاتر کرائے کے لیے خالی ہیں فاروق فیصل خان لائلپور سے ہماری محبت کی وجہ عہد ساز صحافی ظفر ڈوگر اور میاں زاہد سرفراز سے قربت ہے، چبکہ فیصل اباد سے قلبی تعلق لاس اینجلس جا بسنے والے یونیورسٹی کے کلاس فیلو،قومی فتبال ٹیم کے سابق کھلاڑی محبوب الحسن اور وویمن یونیورسٹی فیصل اباد شعبہ میڈیا سٹڈیز کی سربراہ ڈاکٹر سلمی عنبر ہین۔۔۔۔ میاں زاہد سرفراز پاکستان کی سیاسی تاریخ کا نہ صرف انسائیکلوپیڈیا بلکہ کردار ہیں۔عہد فیلڈ مارشل ایوب خان میں پنجاب یونیورسٹی میں طلبہ یونین کے سیکرٹری۔ محترمہ فاطمہ جناح کے چیف سپورٹر اور پولنگ ایجنٹ، متعدد مرتبہ رکن پارلیمنٹ اور وفاقی وزیر رہے ہیں ۔اب بھی ان کا بیٹا علی سرفراز عہد فیلڈ مارشل سید عاصم منیر میں پی ٹی آئی کا رکن قومی اسمبلی ہے۔میاں زاہد سرفراز پیرانہ سالی کے باوجود پرانے لائلپور کی مجلسی زندگی،دیہی تہذیب اور وضع داری کی علامت ہیں۔ان کی زبان سے ہمیشہ لیلپور ہی سنا ہے۔

وہ صرف بلند آہنگ شخصیت کے مالک ہی نہیں دنیا بھر کے ادب کا مطالعہ اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔برادر ظفر ڈوگر کو عہد ساز صحافی اس لئے قرار دیتا ہوں کہ اس کی صورت فیصل آباد کی صحافت، علاقائی صحافت سے نکل کر قومی اور مرکزی دھارے میں شامل ہوئی۔روزنامہ ایکسپریس وہ پہلا قومی اخبار ہے جس نے فیصل آباد سے اپنی اشاعت کا اہتمام کیا تو ظفر ڈوگر کو اس کی ادارت کی ذمہ داری سونپی۔کچھ برسوں بعد روزنامہ جنگ کو بھی فیصل آباد سے اخبار شائع کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو اس کی نظر انتخاب بھی ظفر ڈوگر پر پڑی۔ٹی وی چینلز کا دور آیا تو محسن نقوی صاحب نے فیصل آباد سے چینل لانچ کیا تو ان کی جوہر شناس نظر نے بھی ظفر ڈوگر جیسے ہیرے کا انتخاب کیا۔ان دونوں شخصیات کی قربت کے نتیجے میں ہمیں زرعی یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر عارف جلال کا تحفہ ملا۔ڈاکٹر صاحب کی شخصیت پر لکھنے کا مطلب آپ کے کئ گھنٹے گئے۔ان کا اتنا تعارف کافی ہے کہ درس و تدریس کے بعد ان کا زیادہ تر وقت فیملی سے زیادہ میاں زاہد سرفراز اور ظفر ڈوگر کی صحبت میں گذرا ہے۔ڈاکٹر صاحب گزشتہ برس ریٹائر ہونے کے بعد قلم قبیلے والوں کے قافلے میں شامل ہو گئے ہیں۔

ہم خوش تھے کہ ان کا قلم زراعت اور زرعی تحقیق پر اٹھے گا، ہم سمجھ پائیں گے کہ ہماری زراعت کے ساتھ کیا ہوا اور کیا کرتے کی ضرورت ہے۔۔۔ان موضوعات پر انہوں نے لکھا بھی لیکن انہوں نے بھی اب ان موضوعات کو منتخب کرنا شروع کر دیا ہے جو ہم جیسے نیم خواندہ کی چراگاہ ہیں۔ڈاکٹر صاحب نے تازہ آرٹیکل میں اے پی این ایس(مالکان اخبارات کی تنظیم)کے صدر اور حکمران پیپلز پارٹی کے سینیٹر سرمد علی جن کو حکومت پاکستان نے تمغہ امتیاز کا حقدار ٹھہرایا کی ذاتی صفات اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو بیان کیا ہے۔ان کے مضمون کا عنوان ہے”سرمد علی۔۔پاکستانی جمہوری صحافت کے عہد ساز معمار قلم،قیادت اور ستارہ امتیاز”سرمد علی صاحب کو یہ اعزاز ملنے پر بہت مبارک۔اللہ پاک ان کو مزید کامیابیوں سے نوازے۔شخصی خوبیوں کو چھوڑ کر ایک صحافی ہونے کے ناطے ان کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کے نتیجے پر گفتگو تو کی جا سکتی ہے۔ماضی میں ان کے دور صدارت میں ان کی تنظیم پر تنقید کے نتیجے میں خاکسار اور اس وقت جس ادارے میں کام کر رہا تھا دونوں کو نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ اب تو ملازمت کا کوئی سلسلہ بھی نہیں۔سو پیارے ڈاکٹر عارف جلال صاحب سرمد صاحب کہاں اور کب سے عہد ساز معمار قلم ہوئے۔ان کے قلم سے کوئی ایک خبر، کالم ،مضمون، اداریہ لکھا ہوا موجود ہو تو اگاہ کیجئے گا۔۔وہ مارکیٹنگ کے ایک باصلاحیت انسان ہیں

جہنوں نے اپنی محنت سے اپنے ادارے اور اس کی بدولت صنعت میں بڑا مقام بنایا لیکن قلم کار نہیں ہیں۔وہ اس جدید صحافت کے معمار ضرور ہیں جس میں ادارتی پالیسی کلی طور پر مارکیٹنگ کے تابع ہے،جس میں ایڈیٹر شعبہ اشتہارات کے ہیڈ کو جوابدہ ہے۔وہ ادارتی مواد کے عوض استہارات کی اچھی ڈیل کرنے کے ماہر ہیں۔وہ صحافیوں یا ایڈیٹرز کی کسی تنطیم کے صدر نہیں بلکہ مالکان اخبارات کے کاروباری مفادات کو تحفظ دینے والی تنطیم کے صدر ہیں۔

اس حیثیت میں ان تنظیموں کے حصے بخرے کرنے میں بھی ان کا کردار کلیدی ہے۔اج ایڈیٹرز اور عامل صحافیوں کی تنظیموں کی اولین ترجیح اشتہارات کا حصول اور پیمنٹ کی ادائیگی ہے تو اس کا سہرا بھی ڈاکٹر صاحب کے ممدوع سرمد صاحب کو جاتا ہے۔ان کی قیادت، اہلیت اور وژن کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا اشاعتی ادارہ جس کے وہ کرتا دھرتا ہیں کے دفاتر برائے فروخت اور کرائے کے لئے خالی ہیں کے اشتہار دے رہا ہے۔ باقی تمام اخبارات اور صحافت حکومت کے سامنے اشتہارات کا کشکول اور صحافی عیدی کے لئے ہاتھ پھیلائے کھڑے ہیں۔

اداکارہ مومنہ اقبال سے ہراسگی اور دھمکیوں کے معاملے میں لیگی رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ ملوث نکلے۔اداکارہ کی جانب سے ثاقب چدھڑ اور انکی بیوی سمیرا خان کو درخواست میں نامزد کیا گیا ہےاین سی سی آئی اے لاہور نے لیگی رکن پنجاب اسمبلی اور انکی بیوی کو 22 مئی کو طلب کرلیا۔ذرائع

امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: پاکستانی ثالثی نازک مرحلے میں داخل، وزیر داخلہ محسن نقوی کا ہنگامی دورہ تہرانپاکستان کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے مستقل خاتمے اور کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کی سفارتی کوششیں اب ایک انتہائی نازک اور اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔ ان تازہ ترین پیش رفت کی تفصیلی تفصیلات درج ذیل ہیں

:وزیر داخلہ محسن نقوی کا 24 گھنٹوں میں دوسرا دورہ تہرانخطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال اور امریکا کی جانب سے ملنے والی حالیہ تجاویز کے بعد وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ایک ہی ہفتے (اور گزشتہ 24 گھنٹوں) کے دوران دوسری مرتبہ ہنگامی دورے پر تہران پہنچے ہیں۔ اہم ملاقاتیں: تہران پہنچنے پر محسن نقوی نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، ایرانی ہم منصب اسکندر مومنی اور پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے اعلیٰ حکام بشمول جنرل احمد وحیدی سے اہم ترین ملاقاتیں کیں، جن میں عسکری اور سول قیادت کو امریکی تجاویز پر اعتماد میں لیا گیا۔ دورے کا مقصد: ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق، پاکستانی وزیر داخلہ کا یہ دورہ دونوں ممالک (امریکا اور ایران) کے درمیان پیغامات کی فوری منتقلی اور دونوں جانب سے موصول ہونے والے مسودوں (Texts) کی مزید وضاحت اور ابہام دور کرنے کے لیے ہے۔امریکا کا نیا مسودہ اور ایرانی موقفذرائع کے مطابق امریکا کی جانب سے ایران کو ایک نیا مسودہ/تجاویز پیش کی گئی ہیں،

جس میں سابقہ پیشکشوں کے مقابلے میں ایرانی منجمد اثاثوں کی بحالی اور اقتصادی پابندیوں میں نرمی کے حوالے سے نسبتاً بہتر مراعات (Incentives) شامل کی گئی ہیں۔ ایران کا ردِعمل: ایرانی ترجمان کا کہنا ہے کہ تہران کو امریکی تجاویز کا مسودہ موصول ہو چکا ہے اور وہ اس کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ تاہم، ایران اب بھی اپنے بنیادی مطالبات (تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، اثاثوں کی واپسی اور بحری ناکہ بندی کے خاتمے) پر سختی سے قائم ہے۔مذاکرات کا اگلا دور: عید کے بعد اسلام آباد میںپاکستان کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت کی مسلسل پسِ پردہ سفارت کاری کے نتیجے میں دونوں فریقین کو دوبارہ براہِ راست میز پر لانے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔

دوسرا دور: پاکستان کی اولین ترجیح 8 اپریل سے نافذ العمل عارضی جنگ بندی کو مستقل معاہدے میں بدلنا ہے۔ اس سلسلے میں امریکا اور ایران کے مابین باقاعدہ مذاکرات کا اگلا اور حتمی دور عید کے فوراً بعد اسلام آباد میں شیڈول کیا جا رہا ہے، جہاں دونوں ممالک کے وفود حتمی مسودے کو حتمی شکل دینے کے لیے سر جوڑ کر بیٹھیں گے۔ سفارتی حلقوں کا تجزیہ: عید کے بعد اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات خطے میں مستقل امن یا دوبارہ ممکنہ کشیدگی کا فیصلہ کرنے میں تاریخی نوعیت کے حامل ہوں گے۔
اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا پرنس رحیم آغا خان اسلام آباد پہنچ گئے۔ صدر آصف علی زرداری نے نور خان ایئربیس پر معزز مہمان کا استقبال کیا۔ خاتون اول محترمہ آصفہ بھٹو زرداری بھی صدر مملکت کے ہمراہ تھیں

اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا پرنس رحیم آغا خان اسلام آباد پہنچ گئے۔ صدر آصف علی زرداری نے نور خان ایئربیس پر معزز مہمان کا استقبال کیا۔

خاتون اول محترمہ آصفہ بھٹو زرداری بھی صدر مملکت کے ہمراہ تھیں۔ روائیتی ثقافتی لباس میں ملبوس بچوں نے معزز مہمان کو پھول پیش کیے۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ اور اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے ایوانِ صدر پہنچنے پر پرنس رحیم آغا خان کا استقبال کیا
🚢 پاکستان کی بحری معیشت کے لیے اہم پیش رفتای سی سی نے نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن (NLC) کو پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (PNSC) کا انتظام سنبھالنے کی منظوری دے دی۔اس فیصلے سے شپنگ، تجارت اور ملکی لاجسٹکس کے شعبے میں بہتری اور نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع
جعفر ایکسپریس ٹرین سروس مسلسل دوسرے روز بھی معطل۔۔۔فیسکو آئیسکو گیپکو براے فروخت پرائویزیزہشن ان ایکشن۔ ۔۔وزیر اعلی کے پی ان ایکشن حالات کشیدہ صورتحال نازک بڑے حادثے کا خطرہ۔۔بیجنگ ۔۔۔چین کے وزیرِ خارجہ نے پیوٹن کا استقبال کیا۔۔ آئندہ مالی سال مہنگائی کی شرح 8.6 فیصد رہنے کی پیشگوئی۔۔دشمن بھارت کو پھلے بھی شکست دی ائیندہ بھی دینگے فیلڈ مارشل۔۔ھر مھم جوی کا دشمن کو شکست دے کر بھارت کو صفحہ ہستی سے مٹا دینگے۔اسلام آباد 26 نمبر پر دھرنا جاری عوام انتظامیہ امنے۔۔براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کو نشانہ بنانے والے ڈرونز عراق سے آئے تھے: متحدہ عرب امارات۔۔کوئٹہ آپیکس کمیشن کا اجلاس سول فوجی قیادت یک زبان۔امریکی ریاست کیلیفورنیا کی سب سے بڑی مسجد پر فائرنگ 3 افراد جانبحق ،پولیس۔۔ہزارہ موٹر وے جھاری کس اور برہان سے ہر قسم کی ٹریفک کے لئے بند کر دیا گیا۔ مسافر جی ٹی یا حطار روڈ استعمال کریں۔۔۔موٹر وے بند مسافر رل گئے۔پاکستان کی ترقی کوپروپیگنڈے، جعلی خبروں، بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی سے نہیں روکاجاسکتا، فیلڈ مارشل۔۔بلوچستان میں سرمایہ کاری کے تحفظ کے لیے ایف سی تعینات کرنے کا فیصلہ۔۔ترکیہ ہنگامہ خیز خطے میں یورپی یونین کا اہم شراکت دار ہے۔ ہمارے مفادات ایک ساتھ ہیں۔ ہم نے صدر ایردوان کے ساتھ یورپی یونین اور ترکیہ کے تعلقات کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان در لیین کا بیان۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

*کراچی میں چوری کی بڑی واردات، مسلح ملزمان 3 کروڑ سے زائد مالیت کا سونا، لاکھوں روپے نقدی لوٹ کر فرارکراچی: گلستان جوہر بلاک 17 میں واقعے بسیرا شاپنگ سینٹر کے اندر بڑی واردات کے دوران نامعلوم مسلح ملزمان 4 دکانوں سے 3 کروڑ روپے سے زائد مالیت کا سونا اور لاکھوں نقدی لوٹ کر فرار ہوگئے.سنار مارکیٹ کے صدرو متاثرہ سنار اعجاز حسین نے واردات کا مقدمہ شارع فیصل تھانے میں نامعلوم مسلح ملزمان کے خلاف درج کرادیا، مقدمے کے متن کے مطابق پیر کی شام ساڑھےسات بجے کے قریب واردات میں ملوث 4 نامعلوم ملزمان نے بیٹے لاریب کی بند دکان کا شیشہ توڑکر اندر داخل ہوئے اور لوٹ مار کی ملزمان دکان سے 2 کروڑ 19 لاکھ روپے کا سونا، 20 لاکھ روپے نقدی لیکر فرار ہوئے.مسلح ملزمان نے دوسری دکان پر موجود ملازم جمیل سے 40 لاکھ روپے کا سونا بھی چھینا, مسلح ملزمان نے تیسری دکان کے مالک شرجیل سے آئی فون اور چوتھی دکان سے اسلحہ کے زور پر 70 لاکھ روپے کا سونا لوٹا۔واردات کے بعد مسلح ملزمان نے فرار ہوتے ہوئے فائرنگ بھی کی جس سے دکان کا شیشہ ٹوٹ گیا دکان کا شیشہ ٹوٹنے سے ایک ملزم زخمی بھی ہوا۔

قومی مذاکراتی کمیٹی کا وفد ، کيا اس کميٹی کو عمران خان کا اعتماد حاصل ہے ؟؟تحريک انصاف کے سابق رہنماؤں نے ،سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل، کی قيادت ميں ، کراچی ميں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی شخصيات اور صحافيوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کيا ہے اس وفد ميں تحريک انصاف کے کئی سابق رہنما جن ميں سابق وفاقی وزراء محمد علی درانی، فواد چوہدری، محمود مولوی، سابق سینیٹرز ڈاکٹر وسیم شہزاد اور بیریسٹر سیف شامل تھے۔ تحريک انصاف کی سابقہ قيادت نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ قومی حکومت اور قومی مذاکراتی کے ذریعے مسائل کے حل کرے ، جس میں انکی خواہش ہے کہ اسٹبلشمنٹ، حکومتی اتحاد اور اپوزیشن جماعتوں بالخصوص سابق وزیراعظم عمران خان اور انکے ساتھیوں کی رہائی کے لئے سنجیدگی سے غور کرے ، واضح رہے کہ سابق وزير اعظم عمران خان اور انکی بہن عليمہ خان ان تمام رہنماؤں کو غدار اور مفاد پرست قرار ديتی ہيں، ابھی اس بات کی وضاحت باقی ہے کہ کراچی ميں ملاقاتيں کرنے والے ان سابقين کو کيا عمران خان کا اعتماد بھی حاصل ہے ،

دھرتی کا نایاب تحفہ ۔اظہر سیددنیا کے عظیم ترین انسان مٹی پیدا کرتی ہے ،جہاں غلیظ ترین انسان پیدا ہوتے ہیں وہ بھی مٹی کا ہی قصور ہے ۔پاکستان کے آئین اور قانون کے محافظوں پر نظر ڈالیں ایک سے بڑھ کر ایک نظر آتا ہے ۔کوئی آئین کی پہلی عصمت دری کو نظریہ ضرورت کا کفن پہنا کر دفناتا ہے ،کوئی منتخب وزیراعظم کو پھانسی کی سزا سنانے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے ،کوئی غیر آئینی حکمران کو آئین میں ترامیم کا حق دیتا ہے تو کوئی کسی سیاسی پارٹی کی ٹکٹیں فروخت کرتا ہے ۔کوئی سسلین مافیا کا نام لے کر عوام کو کھوتا بناتا ہے تو کوئی مخصوص ججوں کو ساتھ ملا کر کسی مخصوص سیاسی جماعت کی فائدے پہنچاتا ہے ۔اس مٹی نے ان نایاب ہیروں کے ساتھ ایک ایسا سپوت بھی پیدا کیا ہے

جو سب سے بازی لے گیا ۔ایسا انوکھا کبھی پیدا ہوا نہ ہو گا ۔اس جیسا کوئی بھی نہیں ۔لائین میں لگ کر ایک غیر آئینی حکمران کا حلف لیا اور جب یہ غیر آئینی حکمران بوجھ بنا تو اسی کے ساتھیوں کی ایما پر باغی بن گیا ۔ائین اور قانون کا محافظ بن گیا ۔اس جیسا کبھی کوئی ماں پیدا نہیں کر سکتی ۔اس کے پاس روتے پیٹتے عوام انصاف کیلئے پہنچے ،ہماری عمر بھی کی کمائی ایک نوسر باز نے اپنا گھر “کے خواب دکھا کر لوٹ لی ہے ۔اس نے عوام سے لوٹی ہوئی اربوں روپیہ کی دولت دیکھی تو بے

بس عوام کو انصاف دینے کی بجائے ملزم کے بیٹے کو اپنی بیٹی دے دی ۔انصاف کو تیل لینے بھیج دیا ۔لالچی اور حریص ہمیشہ بہترین داؤ لگاتا تھا ۔جب غیر آئینی حکمران آیا بھاگ کر اس کا حلف لے لیا ۔جب غیر آئینی حکمران کے اپنے ساتھی اسے بوجھ سمجھنے لگے بھاگ کر انکی کشتی میں بیٹھ گیا ۔بیٹی کے اچھے رشتہ کے متلاشی کے پاس جب ایڈن گارڈن اسکینڈل کا کیس آیا تو ملزم کے ساتھ آنے والے اس کے غیر شادی شادی بیٹے کو تاڑ لیا ۔ایک وچولے وکیل کو بیچ میں ڈالا اپنی بیٹی ملزم کے بیٹے سے بیاہ دی ۔اصل ملزم مر گیا ۔عوام سے لوٹے اربوں روپیہ کے اثاثے بیٹے کو منتقل ہو گئے ۔ان اثاثوں سے اب بیٹی کی زندگی تو سنور ہی گئی تھی نواسوں کی نسلیں بھی سنور گئیں ۔ گھر بیٹھ کر کھائیں گی ۔دنیا کی اس بساط پر اس جج ایسے خوش قمار کم ہی ہونگے جو چال بھی چلتے ہیں قیامت کی چلتے ہیں

اسلام آباد کے فیصل مسجد کے باہر ہر صبح ایک 14 سال کا لڑکا بیٹھا ہوتا تھا۔ نام تھا *سلیم*۔ ہاتھ میں پرانا ڈبہ، برش، اور کالے رنگ کی پالش۔ دن بھر وہ لوگوں کے جوتے چمکاتا۔ ایک جوتے کے 20 روپے۔ دن میں 15-20 جوتے پالش ہو جاتے تو 300-400 بن جاتے۔ اتنے میں گھر کا چولہا جلتا تھا۔ گھر میں امی اور چھوٹی بہن *ماریہ* تھی۔ ابا ایک حادثے میں چلے گئے تھے،

جب سلیم 10 سال کا تھا۔لوگ آتے، جوتے دیتے، اور کہتے “جلدی کر بچے، وقت نہیں ہے۔” کوئی حال نہ پوچھتا۔ سلیم چپ چاپ کام کرتا رہتا۔ رات کو جب مسجد کے باہر لائٹیں بند ہو جاتیں، تو وہ پارک کی بینچ پر بیٹھ کر پرانی کتابیں کھولتا۔ وہ کتابیں اسے ایک استاد دے گیا تھا، جو روز اس سے جوتے پالش کرواتا تھا۔ استاد کہتا تھا، “سلیم، ہاتھ داغی ہیں تو کیا ہوا، دماغ صاف رکھو۔”سلیم پڑھتا تھا۔ میٹرک، ایف ایس سی، سب رات کو ہی کیا۔ دن میں جوتے، رات میں فارمولے۔ لوگ ہنستے تھے، “جوتے پالش کرنے والا ڈاکٹر بنے گا؟”

سلیم کچھ نہ کہتا۔ بس ماریہ کی کاپی پر لکھے نام کو دیکھتا رہتا۔ اس نے قسم کھائی تھی کہ ماریہ کو ڈاکٹر بنائے گا۔18 سال کی عمر میں سلیم نے ایف ایس سی میں 98% لیے۔ اسکالرشپ ملی، NUST اسلام آباد میں داخلہ ہو گیا۔ داخلے کی فیس کے لیے اس نے 2 سال کی کمائی اکٹھی کی تھی — 1 لاکھ 80 ہزار۔ امی روتی رہی، “بیٹا یہ پیسے خرچ نہ کر، گھر مشکل سے چل رہا ہے۔” سلیم نے کہا، “امی، اگر میں نہ پڑھا تو ماریہ بھی میری طرح جوتے پالش کرے گی۔”یونیورسٹی میں بھی سلیم نے ہمت نہ ہاری۔ دن کو لیب میں کام، رات کو پڑھائی، اور ہفتے میں 2 دن پرانے کام والے دوستوں کے ساتھ جا کر انہیں اکاؤنٹنگ سکھاتا۔ گریجویشن کے بعد اس نے ایک چھوٹی سی IT کمپنی شروع کی

— صرف 3 لیپ ٹاپ اور ایک کرائے کا کمرہ۔ پہلا سال ناکامی کا تھا۔ پیسے ختم، قرض چڑھ گیا۔ لیکن سلیم نے ہمت نہ ہاری۔ وہی بات یاد تھی جو استاد نے کہی تھی، “سلیم، دھول میں بیٹھ کر بھی اگر خواب دیکھو تو وہ سچ ہوتے ہیں۔”5 سال بعد اس کی کمپنی نے ایک ایپ بنائی جو پاکستان بھر میں چل پڑی۔ آج سلیم کی عمر 29 سال ہے۔ اسلام آباد کے G-6 میں اس کا اپنا دفتر ہے، 200 سے زیادہ لوگ اس کے ساتھ کام کرتے ہیں۔

اور ماریہ؟ وہ اب ڈاکٹر ہے۔ پمز ہسپتال میں۔ آج بھی جب سلیم فیصل مسجد کے باہر سے گزرتا ہے، تو رکتا ہے۔ وہاں اب بھی ایک بچہ بیٹھا ہوتا ہے، ہاتھ میں پالش کا ڈبہ لیے۔ سلیم اتر کر اس کے پاس بیٹھتا ہے، اپنا کارڈ دیتا ہے، اور کہتا ہے، “بیٹا، جوتے چمکانے سے زیادہ ضروری ہے خواب چمکانا۔ جب کبھی ضرورت ہو، میرے پاس آ جانا۔”لوگ کہتے ہیں سلیم اب بلینئر ہے۔ سلیم کہتا ہے، “نہیں، میں اب بھی وہی لڑکا ہوں۔ بس فرق یہ ہے کہ اب میرے خواب بھی میرے ساتھ بیٹھ کر چمکتے

آپ آج ایرانی ملاوں سے درخواست کرکے دیکھ لیجیے کہ جناب کشمیری مسلمانوں کو مودی سرکار کے حکومتی مظالم اور ریاستی جبر کے خلاف آپکے تعاون کی ضرورت ہے انہیں فوراً سے موت پڑجاے گئ۔لگیں گے ادھر ادھر کی ہانکنے۔ لیکن کشمیری مسلمانوں کے حق میں انڈیا کے خلاف کبھی آپکے ساتھ کھڑے نہیں ہونگے۔ایران کے ان ملاوں کی عقل کا ذرا اندازہ لگالیں۔ اسرائیل ایران کی جان کے درپے ہے جبکہ مودی اسی اسرائیل کو اپنا باپ کہتا ہے اور یہ ملا اسی مودی کو اب اپنا باپ بنانے پر تلے ہوے ہیں۔حد ہوتی ہے خچرپن کی بھی۔ ہماری حکومت ایران کے ان ملاوں کو امریکی چھترول سے بچانے کیلیے دن رات ایک کیے ہوے ہے۔ اپنی سلامتی تک داو پہ لگاے ہوے ہے جبکہ یہ ملا ہماری ہی نیتوں پر شک کرتے ہیں اور ہمارے ہی وجود کے ازلی دشمن بھارت کیساتھ پیار کی پینگیں بڑھا رہے ہیں۔ہندوستان کی تاریخ کے سب سے بڑے سیاسی مفکر کوتلیا چانکیہ کا اپنی کتاب ارتھ شاستر میں فرمانا ہے کہ آپکے دشمن کا دشمن آپکا دوست ہوتا ہے۔

اب اگر انڈیا کے دشمن ہم ہیں اور ایران انڈیا کا دوست ہے تو ہم توایران کے دشمن ہوے نا۔ہماری عوام جن ایرانی ملاوں کے غم میں دن رات گھُلے جا رہی ہے وہی ملا وسطی ایشیائی ریاستوں کے گیٹ وے کی چابیاں اپنی چاہ بہار کی تھالی میں رکھ کر ہمارے ازلی دشمن کو پیش کررہے ہیں۔ہم نے تو بس قسم کھارکھی ہے ہم سدھرنے والے نہیں ہیں۔ ہم نے دراصل ٹھیکہ لے رکھا ہے ہمیشہ سے تاریخ کے الٹے رُخ کھڑے ہونے کا۔ ہم ایران کی محبت میں ہر روز اپنے اتحادی امریکہ کو مار کر سوتے ہیں اور دوبئی جیسے اپنے محسن کی پیٹھ میں چھرا گھونپ کر خوش ہوتے ہیں جبکہ اسی ایران کے ملا ہماری جان کے دشمن انڈیا کو خطہ میں اپنا سب سے بڑا اتحادی قرار دیتے ہیں۔ایرانی ملاوں والی یہ غلطی ہماری پہلی نہیں ہے۔ ایسی ہی ایک غلطی ہم افغانستان میں بھی دہرا چکے ہیں۔ جن طالبان کو وہاں بٹھا کر ہم امریکی شکست پر بغلیں بجارہے تھے آج وہی طالبان ہمارے وجود کے درپے ہیں۔امریکہ ان ملاوں کا علاج کیے بغیر اس خطہ سے نکل گیا تو یہی ملا آپکے ساتھ وہ کریں گے کہ آپ افغان طالبان کو بھی بھول جائیں گے۔جب انکے میزایلوں اور ڈرونوں کے گولوں کی تپش سعودیہ اور یو اے ای سے ہوتی ہوئی آپ تک پہنچے گی تو تب پتہ لگے گا کہ کس بھاو بکتی ہے۔

ابھی انڈیا نے صرف افغان طالبان کو گود لیا ہے تو آپکے کڑاکے نکل گئے ہیں۔ جب یہی انڈیا ایرانی ملاوں کے منہ میں چوسنی دیگا تو لگ پتہ جایگا۔فاترالعقل دلیل بھی کیسی دیتے ہیں کہ ایران کا حق ہے اپنے مفادات دیکھ کر تعلقات ٹھیک کرنے کا۔تو کیا یہی اصول ہم پر لاگو نہیں ہوتا؟ ایران اپنا مفاد دیکھ کر انڈیا کا جھولی چُک بن سکتا ہے تو اسرائیل نے کونسا ہماری بھینس مار دی ہے جو ہم اس سے بات نہیں کرسکتے؟ایران اور اسرائیل کی یہ کیسی دشمنی ہے کہ دونوں کا مشترکہ دوست انڈیا ہمارا ازلی دشمن ہے؟ کوئی ارسطو دستیاب ہے تو مجھے یہ پہیلی ضرور سمجھا دے۔سہیل بٹ
عید قرباں پہ سنڈے کی قربانی جائز ہے کہ نہیں۔تہران کے پاس معاہدہ کرنے کے لیے ’وقت محدود‘ ہے: صدر ٹرمپ کا ایران پر ایک اور حملے کا منصوبہ۔۔اڈیالہ دھرنا جاری حالات کشیدہ صورتحال نازک۔۔3 بڑے استعفے مانگ لئے گئے۔۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

حکومت پاکستان نے نجکاری کمیشن کے ذریعے بجلی کی تین بڑی تقسیم کار کمپنیوں (DISCOs)، فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (FESCO)، گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (GEPCO) اور اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (IESCO) کی نجکاری کے لیے مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں سے اظہار دلچسپی (EOIs) کو باضابطہ طور پر مدعو کیا ہے۔ اس نجکاری میں سرمایہ کاروں کے لیے تین تقسیم کار کمپنیوں میں سے ہر ایک میں مینجمنٹ کنٹرول کے ساتھ 51% سے 100% تک شیئر ہولڈنگ حاصل کرنے کا موقع مل رہا ہے۔ یہ اقدام حکومت پاکستان کے وسیع تر اقتصادی اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہے جس کا مقصد کارکردگی میں بہتری ، خدمات کی فراہمی کو معیاری بنانا، غیر ملکی اور ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا اور پاکستان کے پاور سیکٹر میں پائیدار ترقی کو فروغ دینا ہے۔ فیسکو، گیپکو اور آئیسکو مشترکہ طور پر پنجاب اور اسلام آباد کے بڑے صنعتی، تجارتی اور شہری مراکز میں 14 ملین سے زائد صارفین کو خدمات فراہم کرتے ہیں۔ نجکاری کا یہ عمل بین الاقوامی طور پر رائج طریقہ کار کے مطابق شفاف مقابلہ کے انداز میں آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

دلچسپی رکھنے والے سرمایہ کار انفرادی طور پر یا کنسورشیم کے حصے کے طور پر اہلیت کے معیار کے مطابق شرکت کر سکتے ہیں.اظہار دلچسپی کے نوٹس کے مطابق ہر تقسیم کار کمپنی کے لیے علیحدہ پیشکش جمع کرانی ہو گی. پیشکش جمع کرانے کی آخری تاریخیں ذیل ہیں: فیسکو: 7 جولائی 2026 گیپکو: 6 اگست 2026آئیسکو : 7 ستمبر 2026 سرمایہ کاری کے مواقع، نجکاری کے ڈھانچے اور دلچسپی رکھنے والے سرمایہ کاروں کے لیے طریقہ کار کی وضاحت کے لیے نجکاری کمیشن اور مالیاتی مشیر کی جانب سے مشترکہ طور پر سرمایہ کاروں کے لیے ایک آن لائن بریفنگ بھی منعقد کی جائے گی۔ حکومت پاکستان پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی نجکاری کو توانائی کے شعبے کو جدید اور فعال بنانے،




نجی شعبے کی شراکت کی حوصلہ افزائی اور صارفین کی خدمات کے معیار کو بڑھانے کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر دیکھتی ہے۔ توقع ہے کہ اس اقدام سے مالیاتی استحکام، توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور طویل مدتی اقتصادی استحکام میں مثبت کردار ادا ہوگا۔نجکاری کمیشن ڈسکوز کے موجودہ ٹیرف کے ڈھانچے، ملٹی ائیر ٹیرف کے نظام، بزنس ماڈل اور سپلائرز کےموجودہ فریم ورک کو بہتر بنانے کے لیے ممکنہ سرمایہ کاروں اور پاور سیکٹر کے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کرے گا

جس سے پاکستان میں بجلی کی فراہمی کے کاروبار میں نجی شعبے کی تیز رفتار اور زیادہ موثر شرکت میں مدد ملے گی۔ نجکاری کمیشن کا عزم ہے کہ پاکستان پالیسی کے تسلسل، ریگولیٹری شفافیت اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے سرمایہ کاری کے لیے پر تعاون ماحول پیدا کرے ۔ نجکاری کے عمل میں شمولیت کے لیے اہلیت کے تقاضوں اور اظہار دلچسپی جمع کرانے سے متعلق تفصیلی معلومات نجکاری کمیشن کی سرکاری ویب سائٹ پر دستیاب ہیں ۔
3 زلحج سے 14 زلحج تک بسیں بند ھو جاے گی ھمارے حاجی 30 کلومیٹر دور رھائیشوں میں نمازیں ادا کرینگے۔۔85 فیصد رھائیش نیو منی میں لی جو مزدلفہ کی حدود میں ھے 15 فیصد حجاج اولڈ منی میں ٹھہرے گئے سومرو نے 75 فیصد حجاج راجی کو دے دئیے گزشتہ حج پر 100 فیصد حجاج راجی کو دئیے گئے۔2000 حجاج کرام کے لیے 10 بسیں چلائی گئی جو کہ نا کافی ھے۔۔کھانوں میں فرحان قریشی کو کروڑوں ریال کا فائدہ دیا گیا اور نوید گجر کو جن کی تفصیل۔پاکستانی حجاج رل گئے نہ بسیں عمارتوں کی بلڈنگز میں لیفٹیں بند سومرو نے لوٹ مار کی تمام حدود کراس کر لی۔وزیر مذہبی امور بے بس متی قریش عزیزیہ جرول سے حجاج حرم پھنچےنے کے لیے تر سنے لگے۔پاکستانی حجاج لفٹوں اور بسوں میں پھسے ھوے تفصیلات ۔فرحان قریشی کے کچن کو گزشتہ حج میں سعودی حکومت نے سیل کر دیا تھا۔۔فرحان قریشی کے کچن کو گزشتہ حج میں سعودی حکومت نے سیل کر دیا تھا۔۔200 ارب روپے کی کرپشن۔۔مرزا کو بیڈ رپورٹ پر گلگت بلتستان سے نکالہ گیا وھاں پر ایک ماہ قبل 10 افراد اس کی ناقص کمانڈ کی وجہ سے قتل ھوے اور جس وزارت کو یہ مطوب تھا اسی وزارت میں تعینات کر دیا گیا ۔۔مرزا سیکرٹری جو کلیم اکاونٹس آفیسر کے ذریعے کروڑوں ریال کینڈا منتقل کروانے میں ملوث اور وزارت کا مطلوب ملزم ھے اسکو 29 روز پھلے اسی وزارت کا ایڈیشنل سیکرٹری انچارج لگا دیا گیا جس نے اتے ھی 38 ھزار فی حاجی کی کرپشن کی ایک لاکھ 20 ھزار حجاج کو 38 ھزار سے ضرب دے تو اربوں روپے بنتا ھے تفصیلات کے لیے Baadban YouTube Baadban. Tv


لوکل آبادیوں میں لی گئی رھائیش جھاں پر بسیں پھنچ ھی نھی سکتی دوسری طرف مسجد جن کی طرف بنایا گیا سٹاپ حرم سے 4 کلومیٹر دور 25 کلومیٹر سفر کر کے حاجی جب پھنچتا ھے تو اسکو حرم میں باب عبدالعزیز اور باب فھد گیٹ پر پھنچنے کے لیے 25 منٹ چاھیے

جب کہ دوسرا بس سٹاپ مسکوٹا جس سے 2 منٹ میں حاجی حرم میں پھنچ جاتا ھے


لوکل آبادیوں میں لی گئی رھائیش جھاں پر بسیں پھنچ ھی نھی سکتی دوسری طرف مسجد جن کی طرف بنایا گیا سٹاپ حرم سے 4 کلومیٹر دور 25 کلومیٹر سفر کر کے حاجی جب پھنچتا ھے تو اسکو حرم میں باب عبدالعزیز اور باب فھد گیٹ پر پھنچنے کے لیے 25 منٹ چاھیے جب کہ دوسرا بس سٹاپ مسکوٹا جس سے 2 منٹ میں حاجی حرم میں پھنچ جاتا ھے

سعودی عرب میں دھماکے حجاج محفوظ۔۔*سعودی عرب میں دھماکے، سعودی حکومت کے مطابق 3 ڈرونز سے حملہ کیا گیا ہے*
کھسروں کی کمائی کھانے والے 8 پولیس اہلکار گرفتار۔۔بھارتی آرمی چیف 10 مئی سے سبق سیکھنے کو تیار نہیں۔۔نئے بھآرتی ارمی چیف کے پاگل پن کے دورے۔۔پاکستان میں زندگی سسکیاں لینے لگی عوام 2 وقت کی روٹی سے مجبور۔۔موجودہ رجیم اس نظام کی سب سے زیادہ محافظ ہے۔۔افسوس لاچار حکُومت اور بے بس عوام اللٰہ حفاظت کرے ہم سب کی آمین۔۔جیٹ فیول سستا، ایئرلائنز کے کرایوں میں کمی۔۔ ۔۔کے پی حکومت میں وزراء کا لنڈا بازار۔۔ایران چین سے تعلقات بہتر بنانے گا ایران۔۔عوام کو حلال کرنے والے لغاری کو ھلال آمتیاز۔۔ ۔۔مفت خور حجاج کی فوج سعودی عرب میں تفصیلات بادبان یو ٹیوب پر۔۔دھلی میں گندگی کے ڈھیر۔۔پیپلزپارٹی کے لیے نیک دن | اجتماعی استعفی | امیدواروں کی بیٹھک۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

کھسروں کی کمائی کھانے والے پولیس اہلکار اپنے انجام کو پہنچ گئے ۔۔۔۔ لاہور کے علاقہ کوٹ لکھپت میں پولیس اہلکاروں اور خواجہ سراؤں کے خلاف شہری کو مبینہ طور پر لوٹنے اور مار پیٹ کا نشانہ بنانے کے الزام پر مقدمہ درج ہو گیا ۔ قصور کے رہائشی بلال احمد نے الزام عائد کیا ہے کہ اسے خواجہ سرا ماہی، خوشی اور کشمالہ نے ٹریپ کر کے ایک کوارٹر میں لے جا کر مارپیٹ کا نشانہ بنایا اور بعد ازاں واش روم میں بند کر دیا۔ جب متاثرہ شہری کو واش روم سے باہر نکالا گیا تو وہاں چار پولیس اہلکار موجود تھے۔ الزام ہے کہ اہلکاروں نے شہری سے 11 ہزار روپے رشوت لی اور بعد ازاں اسے چھوڑ دیا۔مقدمے میں پولیس اہلکاروں وقاص، سلیمان، عمیر اور عرفان سمیت خواجہ سراؤں کو نامزد کیا گیا ہے۔ترجمان پولیس کے مطابق واقعے کے بعد چاروں پولیس اہلکاروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ خواجہ سرا موقع سے فرار ہو گئے۔ اس مقدمہ میں تفتیش اور ضروری کارروائی جاری ہے ۔۔۔۔

ملک میں عام عوام کے حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں جبکہ آپ اس رجیم کی ترجیہات کا اندازہ اس عورت کے بیان سے لگا سکتے ہیں۔ یہ رجیم عمران خان کے پیچھے ہاتھ دھو کر، عمران خان کی نفرت میں نہیں پڑا۔ طاقت کے کاریڈورز میں جذبات نہیں ہوتے، صرف مفادات اور ان کا ہر قیمت پر تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔ عمران خان نے اس رجیم کا ادھار تھوڑی کھا رکھا ہےیہ رجیم عمران خان کا اس لیے بدترین دشمن بن چکا ہے کہ وہ اچھی طرح سمجھتا ہے کہ ان کے مفادات کو سب سے زیادہ خطرہ ہی عمران خان سے ہے۔ ان کی نفرت کی اور کوئی وجہ نہیں ورنہ اس رجیم کو دیگر لیڈران، بشمول تحریک انصاف کی بقیہ فرمانبردار لیڈرشپ، شریفوں، زرداروں، حافظ نعیم الرحمن، مولانا فضل الرحمٰن، ایمل ولی سمیت کسی سے زرہ برابر بھی خطرہ نہیں یہ رجیم اس نظام کا سب سے بڑا محافظ ہے لہذا یہ رجیم جسے خطرہ سمجھے گا، وہی حقیقی لیڈر ہے۔ باقی سب کی سیاست محض بول بچن اور وقت کا ضیاع ہے۔اس گرفتار عورت سے یاد آیا کہ جب یہ کانفیڈنس سے عدالت کی راہداریوں میں گھوم پھر رہی تھی، تو ایک مخصوص لبرل بریگیڈ کو اس پر بہت پیار آرہا تھا۔ آج یہ روتی ہوئی دہائیاں دے رہی اور اپنے ساتھ زبردستی کا شکوہ کررہی ہےدیکھیے گا لبرل بریگیڈ کی وہ نظریاتی فراڈنیں اب کیسا غائب ہوتی ہیں۔

خیبرپختونخوا میں وزرا مشیران کیلیے 18 نئے عہدے بناۓ گے ہیں یہ 6 نئے وزراء ، 4 مشیر اور 8 معاونین خصوصی کل گورنر ہاوس میں حلف اٹھانے کی تقریب ہوئپنجاب سندھ بلوچستان پختونخواہ اور وفاقی اسمبلی میں جتنے تحریک انصاف کے یا اتحادی ایم این ایز ایم پی ایز سب عمران خان کے نام پہ ووٹ لے کہ آۓ ہیںلیکن عمران خان کی رہائ کا کیا لائحہ عمل کیا ہو گا کسی کے پاس نہیں ہے رہائ تو دور کی بات ہے چار مہینوں سے عمران خان کی فیملی سے ملاقات کی بندش ختم نہیں کروا سکے سہیل افریدی کا ازادی کنٹینر بھی کھڑے کھڑے زنگ لگ رہا ہے رمضان بھی گزر گیا سہیل افریدی کی انقلاب کال نہیں آئ اتحادی محمود اچکزئ و ناصر راجہ کو بھی حقیقی آزادی مارچ کی قیادت سونپی گئ لیکن حاصل کچھ نہیںعمران خان نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ مجھے یہ ڈر نہیں کہ میرے مخالف ختم کرنے کی کوشش کریں گے بلکہ اندیشہ یہ ہے کہ میرے اپنے مجھے مائنس کریں گےاور وہ اندیشہ روز بروز درست ثابت ہوتا جا رہا ہے کہ عمران کو اسکے اپنے ہی مائنس کر چکے ہیں نہ چار ماہ سے زائد ملاقاتیں کروا سکے نہ انکھ کے علاج بحال کروا سکے نہ حقیقی آزادی کا لائحہ عمل دے سکے سب اپنے عہدوں کی بندر بانٹ اور عہدوں سے ملنے والی مراعات سمیٹنے میں لگے ہیں

دہلی کے نواح میں آباد رہائشی کالونی میانوالی نگر کے حوالے سے چند دلچسپ حقائق ۔۔۔۔ دہلی شہر کے مغرب میں 75 ایکڑ پر قائم یہ کالونی علاقے کی سب سے بڑی رہائشی کالونی ہے جو 1984 میں قائم کی گئی اور جہاں ضلع میانوالی کے کسی بھی شہر سے تقسیم ہند کے بعد آنیوالوں کو پلاٹ الاٹ کیے گئے ، اطلاعات کے مطابق یہاں 600 سے زائد خاندانوں نے پلاٹ حاصل کیے جو سب کے سب میانوالی کے کسی نہ کسی شہر گاؤں کے رہائشی تھے ۔۔۔ میانوالی نگر میں داخل ہوں تو آج بھی کہیں کوئی ایسی صدا اور لب و لہجہ سننے کو مل جاتا ہے کہ گماں ہوتا ہے میانوالی کے کسی محلے یا بازار میں داخل ہو گئے ہوں ۔۔۔
چار روزہ جنگ کے بعد ======================شاہد اقبال کامران ==================ہمیں چھ مئی سے لے کر دس مئی تک کی چار روزہ جنگ کو “میڈیا وار” کے کذب و افتراء سے ہٹ کر دیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ یہ میری زندگی کی تیسری بڑی جنگ ہے۔ 65 ء میں میں چار سال کا بچہ تھا کچھ کچھ یاد ہے گھروں کے باہر کھودے گئے ایل شیپ کے مورچے ، رات کو آسمان پر جہازوں کے گزرنے کی آوازیں اور ریڈیو پر مقبول و محبوب جنگی ترانے۔ 71ء میں کچھ بے اثر ( بلکہ مزاحیہ) ترانوں کے علاوہ کوئی اچھی چیز یاد نہیں۔ پر اکیسویں صدی کی یہ جنگ طلسمی آئینے میں براہ راست دیکھی ، سنی اور لڑی ہے۔ چھ مئی سے لے کر گیارہ مئی تک شب و روز اس جنگ کا مشاہدہ کرنے سے اندازہ ہوا کہ جنگ کی دھول میں سب سے پہلے سچائی اور حقیقت مدھم پڑ جاتی ہے۔پر اب زمانہ خبر سے زیادہ نظر کا ہو گیا ہے۔بڑے اور ترقی یافتہ ممالک کے سٹیلائیٹ اسٹیشن دونوں ملکوں کے مابین برپا ہونے والے مبارزے کو براہ راست دیکھ رہے تھے۔اور کس نے کس کے ساتھ کیا کیا ہے ، وہ جاننے والے اچھی طرح سے جان چکے ہیں۔اب وقت ہے کہ ہم اس جنگ کے احوال اور مآل کو اپنے سنجیدہ مطالعے اور تجزیے کا عنوان بنائیں۔اگر ہم نے اس چار روزہ جنگ کا صحیح تجزیہ کر کے اپنی خوبیوں پر فخر کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی خامیوں اور کوتاہیوں کو ٹھیک طریقے سے شمار کر کے انہیں درست نہ کیا تو پھر مستقبل میں نقصان کا اندیشہ ہے۔

اس جنگ کی بنیاد مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہوئے ایک حادثے کو بنایا گیا تھا، جس میں چند نامعلوم افراد نے مبینہ طور پر چھبیس سیاحوں کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔یہ مقبوضہ کشمیر میں اپنی نوعیت کا ایک علحدہ اور حد درجہ افسوسناک حادثہ تھا اور سراسر سیکیورٹی کے ذمہ داروں کی ناکامی اور نااہلی کا ثبوت تھا۔لیکن جس سرعت سے بھارت کے انتہا پسند وزیر اعظم نریندر مودی نے پہلگام حادثے کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دے کر اس کے خلاف انواع و اقسام کے منفی اقدامات کا اعلان کیا، اس سے اس امر کا سراغ ملتا ہے کہ؛ یہ حملہ خود مودی نے اپنے ایک طے شدہ ایجنڈے کی نقاب کشائی کرتے ہوئے اسے روبہ عمل لانے کے لیے کروایا تھا۔پاکستان نے اس واقعے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے اس کی بین الاقوامی سطح پر تحقیق پر زور دیا تھا ۔دنیا بھر کی طرف سے بھارت سے پاکستان پر لگائے جانے والے الزامات کا ثبوت طلب کیا جاتا رہا۔خود بھارت کے اندر سے بھی ایسی متعدد آوازیں سنائی دیں ،جو پہلگام واقعے کو نریندر مودی کے سر ڈال رہے تھے۔اس واقعے کو بنیاد بنا کر مودی نے جو بالی ووڈ ڈرامہ تشکیل دیا ،اسے ایک پرامن پاکستانی کے طور پر دیکھتے ہوئے میری پختہ رائے یہ تھی کہ؛جنگ بھارت کی ضرورت کی ہے، اس لیے اسے فی الحال نامراد رکھنا ضروری ہے ۔لیکن ایسا نہ ہو سکا۔نریندر مودی اپنے غلط اندازوں کے ڈھیر پر کھڑا ہو کر اپنی ہندو انتہاء پسند سیاست کا دوام تلاش کر رہا تھا، وہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ اس جنگ کا میدان اس کی سیاسی زندگی کے لیے شمشان گھاٹ بن جائے گا ۔ اس حادثے کی بنیاد پر دو ایٹمی ممالک کے مابین چار روز جنگ کے بعد وقتی جنگ بندی جاری ہے ۔لیکن ابھی تک بھارت پہلگام واقعے کا کوئی ایک مجرم بھی گرفتار نہیں کر سکا، کوئی ایک انکوائری ،کوئی ایک ثبوت کوئی ایک ایسی شہادت؛ جو یہ ثابت کر سکے کہ پہلگام واقعے میں خود سیکیورٹی ادارے ہی ملوث نہیں تھے،کچھ بھی پیش نہیں کیا گیا۔ چند دنوں کے اندر اندر بے لگام مودی نے بھارت کو اسرائیل اور پاکستان کو فلسطین ، لبنان ،شام ،یمن وغیرہ کی طرح کا سمجھ کر پاکستان میں مساجد اور سول آبادیوں کو “دہشتگردی کے کیمپ” قرار دیتے ہوئے میزائل حملوں کا نشانہ بنا ڈالا ۔اس حرکت نے فوری طور پر پاکستانیوں کے سامنے یہ جواب طلب سوالات کھڑے کر دیئے کہ؛ آخر کیوں پاکستان میں مساجد اور شہری دونوں محفوظ نہیں ہیں۔ اور یہ کہ 31 شہریوں کو جان سے مار دینا کن عالمی قوانین کے مطابق قابل قبول ہے ؟؟ یہ اس خطے کی تاریخ کا سنگین ترین وقوعہ تھا۔جس میں بھارت نے ایک مفروضہ تشکیل دے کر پاکستان کے وسطی شہروں پر میزائیل حملے کرنے کی جرات کی ،اور بڑے فخر سے اعلان کیا کہ بھارت نے پاکستان میں دہشتگردی کے ٹریننگ کیمپس تباہ کر دیئے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی بڑے اہتمام سے یہ بات دھرائی گئی تھی کہ ؛ بھارت نے پاکستان میں کسی ملٹری انسٹالیشن پر حملہ نہیں کیا۔یہ بدترین حملے چھ اور سات مئی کی درمیانی رات کو ہوئے۔یہ حملے بھارتی حدود کے اندر اڑنے والے طیاروں سے اور دیگر میزائل لانچنگ پیڈز سے کئے گئے تھے۔لیکن یہی وہ وقت تھا کہ جب پاکستان نے اپنی فضائی حدود کے اندر رہتے ہوئے بھارتی فضا میں موجود طیاروں کے سسٹم منجمد کئے، پانچ سے چھ طیارے بھارتی اور مقبوضہ کشمیر کی حدود میں ملبہ بنا کر بکھیر دیئے، بھارت کا کلی انحصار دروغ گو الیکٹرانک میڈیا کی چیختی چنگھاڑتی جھوٹی خبروں پر تھا۔لیکن سٹیلائیٹ کے ذریعے اس فضائی معرکے کا مشاہدہ کرنے والے اپنی کبھی نہ ختم ہونے والی حیرت کے ساتھ بھارت کے بیش قیمت رافیل طیاروں کا عبرتناک انجام ملاحظہ کر رہے تھے۔بھارتی فضاؤں پر پاکستان کا اس حد تک تصرف تھا کہ رافیل طیاروں کے پائیلٹس کی گفتگو اور چیخ و پکار تک ریکارڈ کی جا رہی تھی۔صبح ہونے تک خطے میں طاقت کا توازن اور دنیا میں دفاعی برتری کا محور تبدیل ہو چکا تھا۔لیکن بات یہاں پر رکی نہیں،ہر چند کہ پاکستان کے ن لیگ سے وابستہ وزیر اعظم اور وفاقی وزراء نے یہ اعلان کر کے معاملے پر مٹی ڈالنے کی حتی الامکان کوشش کی کہ؛” ہم نے دنیا سے کہا ہے کہ اگر وہ کوئی مزید کارروائی نہ کریں تو ہم بھی ذمہ دار ریاست ۔۔۔۔” اور یہ بھی کہ ہم تو بھارت کے پانچ کی بجائے دس پندرہ جہاز بھی گرا سکتے تھے ،لیکن ہم نے احتیاط کی۔امر واقعہ تو یہ ہے کہ بھارت نے محض ایک غیر مصدقہ مفروضے کی بنیاد پر ایک ایٹمی صلاحیت والے ملک کے وسط پر اور آزاد کشمیر میں متعدد میزائل حملے کرنے کی مجرمانہ حرکت کی تھی ، اگرچہ پاکستان نے اپنی فضا میں رہتے ہوئے بھارت کے کچھ طیارے گرانے کا دعوی کیا اور اعلان کیا کہ حساب برابر ہو گیا ہے۔مزید کچھ نہ کریں۔ یہ بالکل غلط پالیسی تھی۔ اس طرح کے تحمل نے بھارت کو ایک نہایت درجہ غلط پیغام دیا اور اس نے یہ سمجھ لیا کہ وہ خطے کا اسرائیل بن چکا ہے اور اس کے ہمسائے میں فلسطین جیسا ملک آباد ہے۔اس نے ایک خطرناک پیش قدمی کی ، اگلے روز بھارت نے پورے پاکستان پر ایک وسیع ڈرون اٹیک لانچ کیا اور کامیابی کے ساتھ تمام حساس مقامات تک رسائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فضائی سیکیورٹی کا سارا ڈیٹا حاصل کر لیا۔جبکہ پاکستان میں ان ڈرونز کو شکار کر کے خوشی کا اظہار کیا جاتا رہا۔حیرت ہے کہ پاکستان بھارت کے اس دوسرے مجرمانہ تجاوز پر کیوں چپ رہا ؟ڈرون گرانے کو کریڈٹ بنا کر پیش کرنا بھی خود فریبی سے ملتی جلتی نادانی تھی۔بعدازاں انہی ڈرونز سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر اگلے روز انڈیا نے ہماری نہایت درجہ حساس اور ناقابل رسائی ائر بیسز پر میزائل حملے لانچ کر دیئے۔نور خان ائر بیس وفاقی دارالحکومت کا حصہ ہے، اس پر گرنے والے ناہنجار میزائل کی آواز میں نے اپنے بیڈ روم میں سنی، اور پھر چند ہی لمحوں میں ائر بیس سے ملحقہ رہائشی علاقوں کے لوگوں نے اپنی چھتوں پر سے ویڈیوز بنا بنا کر فیس بک پر پوسٹیں لگانی شروع کردیں۔بھارت کے یہ حملہ ایک ناقابل یقین حرکت اور مجرمانہ عمل تھا،یہ ایک ریاست پر تین دنوں میں تیسرا حملہ تھا۔یہ دس مئی کی رات تھی، بالآخر پاکستان کی طرف سے ضبط و تحمل کے بے سود مظاہرے مکمل کرنے کے بعد رات کی سیاہی کو صبح کے نور سے فروزاں کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔آپریشن بنیان المرصوص نے بھارت کے بے بنیاد تکبر اور کاذب غرور کو خاک میں ملا کر رکھ دیا۔اس جوابی حملے کے فوری بعد پاکستان نے نیشنل کمانڈ اتھارٹی کا اجلاس طلب کر لیا تھا کہ؛ جس کی پھر نوبت ہی نہیں آئی۔اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں ملکوں کے ایماء پر ایک سوشل میڈیا میسج کے ذریعے جنگ بندی کا اعلان کردیا۔یہ وہی ڈونلڈ ٹرمپ تھا جس نے دونوں ملکوں کے مابین بڑھتی ہوئی حدت اور کشیدگی سے مکمل طور پر لاتعلقی کا اعلان کر رکھا تھا ۔ جنگ بند ہوئے چند روز گزر چکے ہیں۔بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی ہزیمت اور خفت مٹانے کے لیے دیوار کے ساتھ کھڑے ہو کر ایک مضحکہ خیز تقریر بھی کی۔لیکن یہ پیش گوئی کرنا مشکل ہے کہ انتہاء پسندی اور ریاستی دہشت گردی کا یہ سلسلہ رک گیا ہے یا ابھی چلے گا

۔اسرائیل اور امریکہ بھارت کی دفاعی اشک شوئی پر کمر بستہ ہیں۔ ہر روز دفاعی سازو سامان سے بھرے ہوئے امریکی جہاز بھارت میں اتر رہے ہیں۔ٹرمپ کی گفتگو الگ اور عمل الگ ہے ۔اور ہر امریکی حکمران یہی کچھ کرتا ہے۔پاکستان کو اپنا میزائل ڈیفنس سسٹم تیار اور تگڑا کرنا ہو گا ،تاکہ آئیندہ کوئی میزائل اٹیک نور خان ائر بیس تک نہ پہنچ سکے۔ہمیں تدبر سے کام لیتے ہوئے اپنے دفاع کی سنجیدہ تیاری کرنی ہو گی۔جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ یہ بات پاکستان بھر کے پیشہ ور اور مراعات یافتہ محبان امریکہ کو سوچنی اور سمجھنی چاہیئے کہ جنگ کا خطرہ ابھی مدھم نہیں ہوا۔یہ فکر و تدبر اور تیز رفتار تیاری کا وقت ہے۔ میری ایماندارانہ رائے ہے کہ ہمیں ابھی کسی قسم کا جشن منانے کی بجائے اس جنگ کا تجزیہ اور ممکنہ جنگ کی تیاری کرنی چاہیئے۔ ======================
زرداری کے ” ہوائی فائر” کے بعدبابرچودھریسیاست کے میدان میں جب بھی کسی نےگرد اڑانے کی کوشش کی ،زرداری صاحب کوئی ایسا “پتا” پھینکتے ہیں کہ مخالفین کی آنکھیں ہی نہیں، عقلیں بھی کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں۔دو دن پہلے تک ہواؤں میں یہ سرگوشیاں تھیں کہ ایوانِ صدر کی دیواریں ڈگمگا رہی ہیں اور زرداری صاحب کے لیے “فائلیں” تیار ہو چکی ہیں۔ ٹی وی پر بیٹھے تجزیہ کار اپنی پینسلیں تیز کر کے ان کی رخصتی کی تاریخیں لکھ رہے تھے۔مگر صاحب! یہ وہ کھلاڑی ہے جو شطرنج کی بساط پر تب بولتا ہے جب سامنے والا جیت کا جشن منانے کی تیاری کر رہا ہو۔پیپلزپارٹی کی طرف سےخاموشی رہی پھراچانک ایک خبر گردش کرنے لگی کہ تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے درمیان رابطے ہو رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا “ہوائی فائر”تھا جس نے پورے اقتدار کے محل میں ہلچل مچا دی۔ یہ واضح پیغام تھا کہ “بندے دے پتر بنو”جن کے لہجے میں سختی تھی، ان کے ماتھے پر پسینہ آ گیا اور جو رخصتی کی خبریں دے رہے تھے، وہ اب مفاہمت کے فائدے گنوانے لگے۔اس پورے ڈرامے کا ڈراپ سین اس تصویر پر ہوا جس میں قہقہے تھے، چائے کی پیالیاں تھیں اور ایک اطمینان تھا۔ یہ تصویر کسی کیمرہ مین نے نہیں، بلکہ دراصل “سیاسی ضرورت” نے کھینچی تھی۔ تصویر سےپیغام دینے کی کوشش ہےکہ:” کج نی ہویا، کج نی ہویا”سیفیات
پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما نے قومی اسمبلی میں سندھ بھر میں حیسکو، کے الیکٹرک اور واپڈا کی طویل لوڈشیڈنگ کے خلاف آواز بلند کی تو وزیر دفاع نے بحث شروع کر دی۔ جب میر منور علی خان ٹالپر نے واپڈا اور وفاقی پالیسیوں پر دلائل دیے تو خواجہ آصف بدتمیزی پر اتر آئے۔اگر آپ کو لگتا ہے کہ چھوٹے صوبوں کے لوگ چور ہیں اور بجلی کے بل ادا نہیں کرتے، تو پھر ان کا بوجھ آپ کیوں اٹھا رہے ہیں؟بہت آسان حل ہے، یا تو ان “چوروں” کو خود سے الگ کر دیں یا بجلی کا پورا نظام صوبوں کے حوالے کر کے اپنی جان چھڑا لیں۔ستر سال سے ہمارے وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں، لیکن چور ہمیشہ چھوٹے صوبوں کو کہا جاتا ہے۔حالانکہ سب سے زیادہ بجلی چوری سینٹرل پنجاب کی بڑی صنعتوں میں ہوتی رہی ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ قطر سے مہنگے ترین ایل این جی معاہدے بھی آپ کی جماعت نے کیے، جنہوں نے قومی خزانے کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچایا۔آپ کے ناکام منصوبوں اور کرپشن نے چند لوگوں کو تو مالا مال کیا، مگر آج پوری قوم مہنگی بجلی کی سزا بھگت رہی ہے۔بجلی چوری کی ذمہ داری بھی آخرکار واپڈا اور اس کے اداروں پر عائد ہوتی ہے، عوام پر نہیں۔ستر سال تک چھوٹے صوبوں کے ساتھ ایسا سلوک کیا گیا جیسے وہ اس ملک کے برابر شہری ہی نہ ہوں۔2010 کی اٹھارویں ترمیم نے پہلی بار صوبوں کو ان کے کچھ آئینی حقوق واپس دیے، لیکن تب سے مسلسل اس ترمیم کے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے۔اگر چھوٹے صوبوں کے عوام آپ پر بوجھ ہیں تو پھر جب سندھ اپنی بجلی خود پیدا کر کے اپنی عوام کو دینا چاہتا تھا، تو وفاقی ادارے عدالتوں میں کیوں گئے؟ سندھ سے اس کا حق کیوں چھینا گیا؟اٹھارویں ترمیم کی روح کے مطابق عمل کریں۔واپڈا کا اختیار صوبوں کو منتقل کریں تاکہ ہر صوبہ اپنی بجلی خود بنائے اور خود اپنی عوام کو فراہم کرے۔صرف سینٹرل پنجاب کے لوگ ہی پاکستانی نہیں، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے لوگ بھی برابر کے پاکستانی ہیں۔کاپیڈ
الطاف حسن قریشی بھی چلے گئے۔ گزشتہ روز 16 مئی کو انکی رحلت ہوئی اور آج انہیں لاہور میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ یوں کہئے الطاف حسن قریشی نہیں ان کے ساتھ ایک عہد چلا گیا ۔وہ ایک جید صحافی اور بہترین شخصیت تھے۔ صحافت کی دنیا میں اب ان ایسی شخصیات خال خال ہیں۔ عزت، شہرت ، وقار سب انہیں حاصل تھا۔ انکی زندگی میں ان سے رابطہ رہا۔ کبھی اسلام آباد تشریف لاتے تو ماہنامہ ہلال کے دفتر بھی آتے۔ دنیا ان ایسی نابغہ روزگار شخصیات سے خالی ہوتی جا رہی ہے۔ اللہ ان کا اگلا سفر آسان فرمائے۔ آمین۔ (ڈاکٹر یوسف عالمگیرین)









