تازہ تر ین

حکومت اپنے دم پہ کھڑی ہے تو بھول ہے آپ کی اگلوں نے جب چاہنا آپ کے پاوُں کے نیچے سے حکومت کو نکال۔اختر مینگل کو دبئی جانے والی پرواز سے آف لوڈ کر دیا۔ صفحہ پھٹ گیا 3 بڑے احکامات 72 گھنٹے اھم۔۔ اتوار کے روز گورنر کو حلف اٹھانے کا حکم جاری کر دیا جمھوریت بھترین انتقام۔ سپیکرکے پی نے مخصوص نشستیں پر کورم پورا نہ ھونے پر اجلاس ملتوی کردیا۔۔طوائف گھری ھوی ھے تماش بینوں میں سپیکرکے پی نے مخصوص نشستیں پر کورم پورا نہ ھونے پر اجلاس ملتوی کردیا کے پی چیف جسٹس نے اتوار کے روز گورنر کو حلف اٹھانے کا حکم جاری کر دیا جمھوریت بھترین انتقام۔*‏بیرون ملک مقیم ایک سابق سفیر کی فیملی اسلام اۤباد میں اپنا پلاٹ بیچ رہی ہے۔ مولانا کا دھوبی گھاٹ روالپندی کے 2 گروپ۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

*‏بیرون ملک مقیم ایک سابق سفیر کی فیملی اسلام اۤباد میں اپنا پلاٹ بیچ رہی ہے۔ طریقہ کارکے مطابق انہیں اسلام اۤباد اۤنا پڑتا مگر انکی درخواست پر پلاٹ ٹرانسفر کیلئے CDA نے اپنی ٹیم بیرون ملک انکے پاس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ CDA ٹیم کے سفری، بورڈنگ، لاجنگ اخراجات embassy اٹھائے گی:

مولانا کا دھوبی گھاٹ

راولپنڈی کے دو گروپوں پر بات کرنی ہے ۔ایک ہے ٹرپل تھری گروپ ،
اور دوسر بلاسفیمی بزنس گروپ۔

ٹرپل تھری گروپ فرخ کھوکھر کا ہے۔ اس گروہ کی تفصیل آپ کو ٹک ٹاک اور ہوٹیوب پر مل جائے گی۔

یہ کالے دھن کو سفید کرنے کا ایک دھندہ ہے جو بنیادی طور پر غیر محفوظ پارٹیاں آرگنائز کرتا ہے۔ اس کے کارندے اب بھی دبئی میں بیٹھے ہیں۔ ان میں ایک بھی کارندہ ایسا نہیں ہے جس پر قتل، تشدد، منی لانڈرنگ یا قبضے کی ایف آئی آر نہ ہو۔

اس دھندے میں ظفر سپاری بھی شامل تھا، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے حافظ قرآن ہے۔ قتل کے کیسز، زمینوں کے قبضے، دھمکیاں تڑیاں، ڈرگز، دو نمبر گاڑیاں، اسلحے کی نمائش، وحشی جانوروں کی خرید و فروخت، پر تشدد پارٹیاں، ڈالروں میں ویلیں اڑانا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حوالہ ان کا ہو تو میری معلومات میں اضافہ کیجیے گا۔

یہ لوگ کچھ عرصے سے عدالت اور پولیس دونوں کے مطلوب تھے۔ حالیہ عرصے میں سی سی ڈی نے ان کے گرد گھیرا تنگ کرنا شروع کیا۔ ظفر سپاری کی وڈیو آپ نے دیکھ لی ہوگی جس میں وہ سی سی ڈی کی تحویل میں نظر آرہا ہے۔ خلاف قانون نمائٓشی سرگرمیوں پر سی سی ڈی سے معافی مانگ رہا ہے۔

فرخ کھوکھر ہوشیار تھا۔ اس نے پہلے اپنے ڈیرے کی دیوار پر لکھوایا، کسی قادیانی کا ڈیرے میں داخل ہونا منع ہے۔ ایک سوسائٹی جس میں تنازعہ چل رہا تھا، وہاں بھی لکھوا دیا کہ یہاں کسی قایانی کو زمین کی لین دین کی اجازت نہیں ہوگی۔

پاکستان میں یہ ایک آزمودہ نسخہ ہے۔ قبضے کی زمین پر کسی بھی چیز سے پہلے مسجد کی بنیاد رکھ دو اور چار قل پہ گزارہ کرنے والے کسی بے روزگار مولوی نما کو وہاں بٹھا دو۔ یوں اب زمین کا مسئلہ کفر اور اسلام کا مسئلہ بن جائے گا۔

اب اگر کسی نے سوسائٹی پر ہاتھ ڈالا تو آپ کو زحمت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ زیر تعمیر مسجد کے مولوی صاحب دنیا جہاں سے بنام خدا ایک جتھہ جمع کر لے گا اور آپ کے حصے کی جنگ اسلام کے نام پر لڑ لے گا۔

اس کا معاوضہ زیادہ نہیں ہے۔ آپ نے بس چندے کے نام پر اس کے وظیفے میں تین پیسوں کا اضافہ کرنا ہے۔

خیر۔!

گھیرا مزید تنگ ہوا تو اس نے اپنے سارے جرائم ایک گٹھڑی میں ڈالے، گٹھڑی کندھے پر ڈالی اور سیدھا جمعیت علمائے اسلام کے خیمے میں گھس گیا۔

ہوشیاری یہاں تک نہیں تھی۔ اس نے جمعیت میں شمولیت کے لیے جس چیز کو وجہ بتایا، وہ چیز مورچوں میں سب سے محفوظ مورچہ ہے۔ کہتا ہے، مولانا فضل الرحمن نے ختم نبوت کے حوالے سے جو سٹینڈ لیا، وہ مجھے بہت پسند آیا۔

اب عدالت اور سی سی ڈی یا کوئی بھی دوسرا محکمہ فرخ کھوکھر پہ ہاتھ ڈالے گا تو اس کا سیدھا سادہ مطلب یہ ہوگا کہ وہ اسلام کا دشمن ہے، ختم نبوت کا دشمن ہے اور قادیانی لابی کا ایجنٹ ہے۔

یہی معاملہ بلاسفیمی بزنس گروپ کا ہے۔ بلاسفیمی بزنس گروپ در اصل ایسے وکلا کا جتھہ ہے جو اول مدرسوں میں پڑھے، مگر پڑھ نہ سکے۔ چنانچہ یہ طاہر اشرفی کی طرح علامہ ہوگئے۔

پھر انہوں نے ایل ایل بی پر ہاتھ ڈالا مگر وقت ضائع کیا۔ کیرئیر شروع ہوا تو ایف آئی آر ڈلوانے اور ایف آئی آر خارج کروانے سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتے تھے۔ انہوں نے سب سے آسان کام چن لیا۔ توہین مذہب کے قوانین کے نیچے اپنی چھابڑی لگا لی۔

یہ اسی کام میں جت گئے۔ یہ ان کے لیے معاش کا بنیادی اور واحد ذریعہ بن گیا۔ انہوں نے ہتھوڑا اٹھا لیا تھا، اب ہر ابھری ہوئی چیز پر یہ کیل کا گمان کرنے لگے تھے۔ یہ گھر سے نکلتے ہی اس نیت کے ساتھ تھے کہ آج ہم نے شکار کرنا ہے۔ ڈگری کے مطابق انہوں نے وکالت کرنی تھی، مگر انہوں نے مدعیت شروع کردی۔ وکالت کے پیشے میں اسے ذہنی افلاس سمجھا جاتا ہے۔

چونکہ یہ کند ذہن تھے، انہوں نے بد احتیاطیاں کیں۔ ٹریپنگ، بلیک میلنگ اور اغوا کے لیے اپنے ذاتی نمبر، ذاتی گھر اور ذاتی گاڑیاں استعمال کیں۔ اپنے فیس بک پیجز اور اپنے ہی وٹس ایپ گروپ استعمال کیے۔

کسی پیج کی ملکیت کا دعوی کرتے تو یہ بھول جاتے کہ پچھلی ایف آئی آر میں اس پیج کی ملکیت کا دعوی ہمارے دوسرے ممبر نے کیا ہوا ہے۔ یہ بھی بھول جاتے تھے کہ یہ پیج تو کاغذات کے اندر سیز پڑا ہوا ہے۔

انہوں نے ایف آئی آرز بھی کاپی پیسٹ مار کر ایک ہی رنگ میں لکھیں۔ انہوں نے مدعی بھی اتنے ہی رکھے جتنے کہ یہ تھے۔ میں، میرا دوست، میرا ڈرائیور، میرا خانساماں میرا منشی میرا یہ میرا وہ۔ خواتین بھی وہی استعمال کیں جو گھر کی تھیں یا دفتر کی تھیں۔ اب ان کی زندگیاں ان کے ہاتھوں خطرے میں ہے۔

یہ دھندہ یہ کب تک کرتے؟

عبد اللہ شاہ قتل ہوا اور قتل کی تحقیقات کے نتیجے میں اس گروپ کے چہرے سے نقاب ہٹ گیا۔ ان کے دھندے کا طریقہ کار، ان کے کردار، ان کے نمبر، ان کی گاڑیاں، ان کی سرگرمیاں اور ان کے سرکاری معاون، سب سامنے آگئے۔

ناحق پکڑے جانے والے بچوں کے والدین عدالت چلے گئے کہ ہمیں تحقیقات کے لیے کمیشن چاہیے۔ کمیشن کے لیے ہونے والے عدالتی بحث مباحثے میں ان کے چہرے سے رہا سہا نقاب بھی الٹ گیا۔

آخر کار عدالت نے ایک غیر جانبدار تحقیقاتی کمیشن بنانے کا آرڈر جار کر دیا۔

جس کے ہاتھ صاف ہوں اور مر مضبوط ہو وہ کمیشن سے کیوں بھاگے گا؟ اور ایسے میں کیوں بھاگے گا جب اسے قانون کا سہارا ہو، ریاستی آشیرباد حاصل ہو، میڈیا اس کے لیے خاموش ہو، لاوڈ اسپیکر اس کے لیے چیختے چلاتے ہوں۔؟

کھوکھر کی طرح ان کا گھیرا تنگ ہوا تو یہ کمیشن سے بھاگ گئے اور سیدھا جا کر مولانا فضل الرحمن کے سایہ ذولجلال میں پناہ لے کر بیٹھ گئے۔ مولانا نے چار بازو کھول کے ان کو جگہ دی۔

مولانا نے کمیشن کے فیصلے پر عدالت کو کھلی دھمکی دی۔ ایک مفرور کے لیے جب وہ یہ دھمکی دے رہے تھے تب ان کے پہلو میں دوسرا مفرور کھڑا ہوا تھا۔ اسلام کی اس سے بہتر تصویر آپ نے اس سے پہلے کبھی دیکھی تھی؟

مولانا کے سائے میں پناہ حاصل کرنے کے لیے فرخ کھوکھر کی طرح راو عبد الرحیم نے بھی سب سے حساس نکتے کو چنا۔

جھوٹ بولتے ہوئے کہا

‘عدالت نے قوانین میں تبدیلی کے لیے کمیشن تشکیل دیا ہے’

یہ جنگ واضح طور پر متاثرہ خاندانوں اور بزنس گروپ کے بیچ تھی۔ اس بات پر سب کا اتفاق تھا کہ گستاخی ہوئی ہے۔ یہ معلوم کرنا تھا کہ یہ گستاخی در اصل کی کس نے ہے۔

وقت نے سب کو سوچنے کے لیے کچھ دیر کا موقع دیا۔ مگر وقت کی دی ہوئی مہلت ضائع کر دی گئی۔

روایتی چالاکی کا مظہارہ کرتے ہوئے اس جنگ کو کفر اور اسلام کی جنگ بنا دیا گیا۔ اب حکومت کمیشن کی طرف جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ حکومت اسلام سے ٹکر لینے جا رہی ہے۔

بہتر ہے، مگر اس اسلام کی مجسم شکیلیں کیا ہیں؟ مولانا فضل الرحمن کے سائے میں کھڑے ہوئے فرخ کھوکر اور راو عبد الرحیم۔ اس تصویر میں طاہر اشرفی کو بھی مع اہل و عیال کھڑا کر دیں تو دین کی تعبیر مکمل ہو جائے گی۔

اب یہ کہنا کہ مولانا صاحب کو اس کہانی کا پتا نہیں ہے، جھوٹ ہے۔ مولانا کے علم میں یہ بات آچکی تھی کہ کہ بلاسفیمی بزنس گروپ نے مذہبی قوانین کا استعمال کرتے ہوئے کیا کچھ کیا ہے۔

مگر اتمام حجت کے لیے ان نادار بچوں کے والدین بات سمجھانے کے لیے ایک بار پھر ان لوگوں کے دروازے پر دستک دیں گے۔

اس امید کے ساتھ نہیں کہ یہ دروازہ کھولیں گے۔ اس خواہش کے ساتھ کہ مورخ کو تاریخ لکھنے لکھانے میں آسانی ہوگی۔ کارکن کو بات سجھنے سمجھانے میں آسانی ہوگی۔

فرنود عالم

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved