
اسلام آباد: 29 جولائی 2025*_وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس_**کئی دہائیوں میں پہلی بار بجلی تقیسم کار کمپنیوں کے خسارے میں کمی آنا انتہائی خوش آئند ہے: وزیراعظم**بجلی تقیسم کار کمپنیوں کے خسارے میں کمی سے ان کمپنیوں کی نجکاری کا عمل آسان ہو جائے گا : وزیراعظم**وزیراعظم کی وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن سردار اویس احمد لغاری ، وفاقی سیکریٹری پاور ڈویژن ڈاکٹر محمد فخر عالم اور ان کی ٹیم کی ستائش**وزیراعظم کی بہترین کارکردگی دکھانے والی اور خسارے میں کمی لانے بجلی تقیسم کار کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو افسران کو ستائشی خطوط بھیجنے کی ہدایت* *بجلی تقیسم کار کمپنیوں کا خسارہ 193 ارب روپے کم ہوا ہے : اجلاس کو بریفنگ**



بجلی تقیسم کار کمپنیوں کے خسارے میں 242 ارب روپے کی بہتری آئی ہے : بریفنگ* *لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی اور ملتان الیکٹرک پاور کمپنی نے خسارے میں کمی کے حوالے سے سب سے اچھی کارکردگی دکھائی : بریفنگ**گردشی قرضوں کا فلو 780 ارب روپے رہا ہے
55 سال پہلے میں 7ویں جماعت کے طالبعلم کے طور پر کینٹ پبلک اسکول کراچی (اب ایف جی پبلک اسکول کراچی کینٹ) میں داخل ہوا تھا۔ کل اللہ کے فضل سے اسی اسکول واپس آیا – مگر اس بار طالبعلم کے طور پر نہیں بلکہ پاکستان کے وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی کے طور پر۔جب مجھے سکول انتظامیہ کی جانب سے وہ داخلہ فارم ملا جو میرے مرحوم والد نے 1970 میں میرے لیے پُر کیا تھا، تو دل جذبات سے لبریز ہو گیا۔
مجھے اپنے اساتذہ یاد آئے – میڈم ویل، جنہوں نے ہمیں روزانہ کلاس میں خبریں پڑھوا کر موجودہ حالات سے آگاہ رہنے کا شوق دیا، اور مسٹر جمیل، جن کی سائنس سے محبت نے میرے اندر سائینس اور انجینئرنگ کا شوق پیدا کیا۔جب میں اسکول کے انہی وسیع کھیل کے میدانوں میں کھڑا تھا، تو مجھے وہی کشادگی اور امکانات کا احساس ہوا جو بچپن میں محسوس کیا تھا۔ اس لمحے نے مجھے یاد دلایا کہ تعلیم صرف کلاس رومز تک محدود نہیں ہوتی – یہ ان اساتذہ کا نام ہے جو خواب جگاتے ہیں اور ایسے ماحول کا جو حوصلے اور بلند مقاصد کو جِلا بخشتا ہے۔آج کے تمام طلبہ سے میرا پیغام ہے: اپنے اسکول کو یاد رکھیں، اپنے اساتذہ کی قدر کریں، اور اپنے خوابوں کی طاقت پر یقین رکھیں – آپ نہیں جانتے کہ یہ خواب آپ کو کہاں تک لے جا سکتے ہیں۔ �

:بریفنگ*وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس آج وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔اجلاس کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کئی دہائیوں میں پہلی بار بجلی تقیسم کار کمپنیوں کے خسارے میں کمی آنا انتہائی خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی تقیسم کار کمپنیوں کے خسارے میں کمی سے ان کمپنیوں کی نجکاری کا عمل آسان ہو جائے گا ۔

وزیراعظم نے وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن سردار اویس احمد لغاری ، وفاقی سیکریٹری پاور ڈویژن ڈاکٹر محمد فخر عالم اور ان کی ٹیم کی ستائش کرتے ہوئے پاور سیکٹر اصلاحات کے حوالے سے ان کی شاندار کارکردگی کو سراہا۔وزیراعظم نے بہترین کارکردگی دکھانے والی اور خسارے میں کمی لانے بجلی تقیسم کار کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو افسران کو ستائشی خطوط بھیجنے کی ہدایت کی۔*اجلاس کو پاور ڈویژن کی جانب سے بجلی تقیسم کار کمپنیوں اور گردشی قرضوں پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ بجلی تقیسم کار کمپنیوں کا خسارہ 193
ارب روپے کم ہوا ہے

۔لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی اور ملتان الیکٹرک پاور کمپنی نے خسارے میں کمی کے حوالے سے سب سے اچھی کارکردگی دکھائی ۔

بجلی تقیسم کار کمپنیوں کے خسارے میں 242 ارب روپے کی بہتری آئی ہے۔اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ گردشی قرضوں کا فلو 780 ارب روپے رہا ہے۔ *کابینہ کمیٹی برائے توانائی نے پاور ڈویژن کی سفارش پر نیشنل الیکٹریسٹی پلان -اسٹریٹجک ڈائریکٹو 87 میں ترامیم کی منظوری دے دی۔ ان ترامیم کے تحت بجلی کی ترسیل کے اخراجات (wheeling charges) 12.55 روپے فی کلو واٹ ، اور بڈنگ پرائیس اس میں شامل ہو گی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈیپینڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر کی آپریشنلائزیشن کا کام مکمل ہو چکا ہے۔

اسی طرح نیشنل ٹرانسمشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی اور بجلی تقیسم کار کمپنیوں میں مارکیٹ آپریشنز کے محکموں تشکیل دیے جا چکے ہیں۔

1969 میں پاکستانی سنیما پر دو یادگار فلمیں پیش کی👉👉👉 فلم دیکھیں:https://movie2025-4k.blogspot.com/2025/07/riaz-shahid.html گئیں، جن میں ایک ریاض شاہد کی ’’زرقا‘‘ اور دوسری اے جے کاردار کی ’’قسم اُس وقت کی‘‘۔ دونوں فلموں کو بے حد پسند کیا گیا۔ فلم ’’قسم اُس وقت کی ‘‘ اپنے موضوع اور پروڈکشن کے حوالے سے ایک بہت ہی اعلیٰ معیار کی مقصدی مشن فلم تھی، جو اُس دور میں کثیر سرمائے سے تیار کی گئی تھی۔ فلم کا موضوع جذبۂ حُب الوطنی پر مبنی ہونے کی وجہ سے اُس خفیف لہر کی حیثیت رکھتا ہے جو کسی بڑی موج کی اُٹھان کی محتاج نہیں۔ ایئر فورس پائلٹ کے گرد گھومنے والی یہ کہانی یُوں شروع ہوتی ہے کہ اسکواڈرن لیڈر جاوید (طارق عزیز) کے طیارے کی کرش لیڈنگ سے دکھائی جاتی ہے۔ وہ دشمن کے پانچ طیارے تباہ کرکے جب واپس آرہا ہوتا ہے، تو اس کا طیارہ کرش ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ زخمی ہو جاتا ہے۔ اسے اسپتال پہنچایا جاتا ہے، جہاں اس کی جان بچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جاوید کی امی (سورن لتا)، بہن (روزینہ)، محبوبہ (شبنم) اور ان کے دوست محسن امام جو خود بھی پائلٹ ہوتے ہیں، جاوید جو زندگی اور موت کی کش مکش میں تھا، سبھی اس کی طرف پتھرائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

باقی کہانی جنگ کے خون اشام دنوں کی کہانی ہے۔ سایر قوم موت و حیات کی کشمکش سے دوچار ہے۔ اس کے معرکے میں ’’صاحب و بندہ محتاج و غنی‘‘ سب ایک تھے۔ قسم اس وقت کیاُن درخشاں دنوں کی داستان ہمت اور شجاعت کی وہ سرخ و شہری داستان ہے جو زندگی کے ہر ورق پر لکھی گئی، کبھی میدان جنگ میں، کبھی پاکستانی فضائوں پر اور کبھی ان شہیدوں کے خون سے جو فرض اپنی جانیں نچھاور کرکے باب شہادت کی جاں بخش دہلیز سے گزرے ہوں۔




یہ کہانی فضائیہ کے فرض شناس مجاہدوں کے لیے ایک خراج تحسین ہے۔ یہ پہلی پاکستانی فلم تھی، جس کی فلم بندی اور تیاری میں پاکستان ایئرفورس نے فلمی یونٹ کے ساتھ پورا تعاون کیا۔نیشنل اسٹوڈیو لمیٹڈ کی اس شاہ کار فلم کے ہدایتکار اے جے کاردار تھے اور انہوں نے ہی فلم کا منظر نامہ تحریر کیا تھا، جب کہ فلم کی کہانی ونگ کمانڈر شاہد حسین اور پروفیسر احمد علی نے لکھی۔ فلم کے مکالمہ نویس میں زیڈ اے بخاری، ونگ کمانڈر شاہد حسین، دائود خان مجلس کے نام شامل ہیں۔ اس فلم کی فوٹو گرافی مارون مارشل جیسے ماہر غیرملکی فوٹو گرافر نے انجام دی۔ جنہوں نے اس فلم کی فوٹو گرافی میں ہالی وڈ فلمز کے انداز کو پہلی بار پاکستانی سینما کے لیے فلم بند کیا۔ ان کی فوٹو گرافی اس دور کی فرسودہ فلمی ماحول میں تازگی کا ایک سانس محسوس ہوتی ہے۔ مارون مارشل کے علاوہ فلم کے بعض مناظر ائیریل فوٹو گرافر اے آر کی بخاری اسکواڈرن لیڈر کی مرہون منت ہے اے جے کاردار نے تمام شعبہ جات میں اپنی بھرپور محنت اور توجہ سے ڈائریکشن دیں،




اس کا شمار ان ہدایت کاروں میں ہوتا ہے، جو ہر منظر کو
نہایت غورخوض کے بعد فلم بند کرتے ہیں۔ اس فلم کے ہ منظر اور فریم پر ان کے تیکنیکی ذہن کی مہر لگی ہوئی ہے۔ یہ پاکستان کی وہ اولین فلم ہے ، جس میں (Micro cosnic Study) پیش کی گئی ہے، اس فلم کی یہ خوبی اسے دیگر فلموں میں برتری دلاتی ہے۔اس فلم کا میوزک سہیل رعنا، خان عطاء الرحمن، رفیق غزنوی اور استاد نتھو خان نے ترتیب دیا اور نغمہ نگاری کے لیے فیض احمد فیض، جوش ملیح آبادی، خان عطاء الرحمن اور فیاض ہاشمی کی خدمات لیں گئیں۔ جذبہ حب الوطنی کی تسکین کے لیے اس فلم کے ٹائٹل سونگ ہی کافی ہے۔ اس نغمے کے مختلف حصے موقع کی مناسبت سے ساری فلم میں دوہرا کے جاتے ہیں، جس کے بول یوں ہیں۔’’ قسم اس وقت کی جب زندگی کی کروٹ بدلتی ہے، ہمارے ہاتھ سے دنیا نئے سانحے میں ڈھلتی ہے‘‘ جوش صاب کے لکھے ہوئے اس ترانے کو گلوکار مجیب عالم نے اپنی آواز میں ریکارڈ کروایا تھا۔ اس فلم کے ذریعے تکنیک اور موضوع میں نئے تجربات کیے گئے۔ فلم کی کاسٹ میں طارق عزیز، شبنم، روزینہ، روزی، حسن امام، فریدہ خانم، منیا، پرنس تاج، صاعقہ، اجمل ہدیٰ، سیٹھی، شاہجہ اناور سورن لتا شامل تھیں۔ یہ فلم 12دسمبر 1969ء کو عید الفطر کے روز کراچی کے نشاط سنیما میں ریلیز کی گئی۔فلم کے تقسیم کار ایور ریڈی پکچرز پاکستان تھے۔”قسم اس وقت کی” کی ایک یادگار تصویر اس فلم کے ایک منظر کی شوٹنگ سے پہلے طارق عزیز اپنے کپڑوں پر سرخ رنگ ‘خون’ کا چھڑکاؤ کرواتے ہوۓ۔کامل رند بلوچ /










