تازہ تر ین

بجلی کی بیلوں اور ، آٹا، چینی، میں 50 ہزار ارب روپے کا کرپشن زمدار کون؟پاکستان میں سیلاب کاریوں نے تباہی مچا دی حکمران رفو چکر۔۔جسٹس محسن اختر کیانی ان ایکشن بڑے صاحب کو عدالت طلب کر لیا۔۔افغان دہشت گردوں نے پاکستان کے تیرہ پختون ایف سی کے جوان شہید کر دئے۔۔فوج کی خوفناک جوابی کاروائی ،بہت بڑی تعداد میں افغانڈو جہنم میں بھیج دئے ۔۔صدر زرداری چین جبکہ سیلاب سندھ پھنچ گیا۔امریکی ریاست کیلیفورنیا ھے- کچّے کے ڈاکو۔زیورات کی دوکان پر ڈاکے کی واردات امریکہ میں خوف کے ساے۔۔مارگلہ ایونیو ،سرینہ ، ایف ایٹ اور ٹی چوک پروجیکٹ پر کڑا محاسبہ کیا جانا چاہیے۔۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

شہباز رانا پر مقدمہ ۔اظہر سیدرپورٹر بھی ختم اور صحافت بھی گئی تیل لینے ۔یہ دور جھوٹ بولنے والے یو ٹیوبرز کا ہے۔قحط الرجال کے اس دور میں نجی چینلز پر بیٹھ کر اپنی اپنی پارٹیوں سے پیسے پکڑ اکر لوگوں کو گمراہ کرنے کا وقت ہے۔جھوٹ کے اس بازار میں چند ہی باقی ہیں جو صرف صحافت کرتے ہیں۔ان میں ایک معاشی معاملات کی رپورٹنگ کرنے والے شہباز رانا بھی ہیں۔یہ نوجوان پندرہ اٹھارہ برس پہلے ہمارے سامنے بطور رپورٹر ایک انگریزی اخبار میں آیا ۔مختصر عرصہ میں اس نے اپنی پہچان بنا لی۔ہمیں شہباز رانا پر فرد جرم عائد ہونے سے زیادہ افسوس نائب وزیراعظم اسحاق ڈار پر ہے۔وہ اس نوجوان کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔اس بات سے بھی واقف ہیں یہ صرف صحافی ہے ۔مالکوں سے مال پانی کمانے والے ہنر مندوں ایسا نہیں۔یہ سیاسی جماعتوں کا ایجنڈہ بڑھانے والوں میں سے بھی نہیں ۔

اسکی کوئی سیاسی وابستگی ہو گی ۔ہر شہری کی ہوتی ہے لیکن شہباز رانا کی رپورٹنگ پر کسی پسند ناپسند کی کوئی جھلک نظر نہیں آتی ۔ویسے بھی کامرس رپورٹر کے پاس صرف اعداد و شمار ہوتے ہیں اور کچھ نہیں۔جن پر جھوٹ پھیلانے کے مقدمات ہونا چاہیں وہ تو دن دگنی ترقی کر رہے ہیں ۔جو صرف صحافت کر رہے ہیں ۔صحافتی اخلاقیات کا پالن کر رہے ہیں ان پر مقدمے قائم کر دئے گئے ہیں۔اسحاق ڈار متعدد مرتبہ وزیر خزانہ رہ چکے ہیں ۔وہ دارالحکومت میں معاشی بیٹ کرنے والے تمام رپورٹر ندیم ملک ،ابصار عالم،خلیق کیانی ،شہباز رانا سب کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔نائب وزیراعظم شہباز رانا کے معاملہ پر وزیراعظم سے بات کریں اور اس معاملہ کو نپٹائیں۔

ایک بہت ہی بڑے منہ کی چھوٹی باتیں ================شاہد اقبال کامران ===============پاکستان میں ضیاء الحق کے تاریک ترین مارشل لاء میں منتخب وزیراعظم کو نظر بند اور پھر ایک تراشیدہ مقدمہ قتل میں ملوث کرنے کے جرم قبیح کی نفسیات پر غالب آنے کے لیے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف بد ترین کردار کشی کی مہم چلائی گئی۔کردار کشی کی یہ مہم پاکستان کی تاریخ کی سب سے بری اور سب سے بڑی مہم تھی۔ویسے تو پاکستان میں جب بھی سیاستدانوں کے خلاف کردار کشی کی مہم لانچ کی جاتی ہے تو بقول احمد فراز ؛ تمام صوفی و سالک، سبھی شیوخ و امامامید لطف پہ ایوانِ کج کلاہ میں ہیںبس اک مصاحب دربار کے اشارے پرگداگران سخن کے ہجوم سامنے ہیںاور پھر گداگرن سخن کے یہ ہجوم اپنے ممدوح کو خوش کرنے کے لیے اس حد تک چلے جاتے ہیں ،جسے بہرحال سرحد قرار نہیں دیا گیا ہوتا۔

پاکستان میں مارشل لاء کے بانی جنرل ایوب خان کے حضور بھی تمام صوفی و سالک اور گداگران سخن ہاتھ باندھے حالت رکوع میں رہتے تھے۔اردو ادب اور اردو صحافت کے متعدد بڑے نام اسی دور میں بڑے ہوئے تھے۔ڈکٹیٹر ضیاء الحق کو بھی اسیران حرص و ہوس ،مدیران بے ضمیر اور سخن وران بے توقیر کے ہجوم میسر تھے۔یہ گداگران سخن بھی رمز شناس لوگ ہوتے ہیں۔صاحب کے دل میں چھپی ہلکی سی آرزو کو طلب کا اژدہا بنانا ان پر ختم ہے ۔نفرت کی چنگاری کو بھڑکتے شعلوں میں بدلنا ان کا ہنر ہے، فضا میں خوف کا ہیولہ بنا کر اسے ایک عفریت کی صورت سامنے کھڑا کر دکھانا ان کا فن ہے۔ چند روز پیشتر ایک نمایاں اردو اخبار کے ایک عمر رسیدہ، نرم نرم چشیدہ اور گرگ باران دیدہ قسم کے کالم نگار نے شہید وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو بہ عنوان دیگر موضوع بنایا ہے ۔ گویا ” اب تو بھٹو کی جاں بخشی کردیں! ” کے زیر عنوان لکھے کالم میں شہید وزیراعظم کے خلاف طویل ہرزہ سرائی کرنے والی ٹیم کا گرم جوش رکن اور جواب میں انعام واکرام سے فیض یاب ہونے والے گروہ کا سب سے نمایاں اور نمائندہ کردار اب عمر کے سنجیدہ اور رنجیدہ حصے میں کچھ معافی تلافی کا منظر تشکیل دینے کی کوشش کر رہاہے۔ اسے تو زود پشیمانی کی ذیل میں قیاس بھی نہیں کیا جا سکتا ،کہ موصوف نے اپنے اس کالم میں اپنی عظمت بیان کرنے کے لیے اس زمانے کی ایک فورس ایف ایس ایف کے سربراہ مسعود محمود سے اپنے نام ایک دھمکی کی ترسیل بذریعہ وقار انبالوی بیان کی ہے ۔

حضرت نے دھمکی کے جواب میں مزید تند و تیز کالم لکھنے کا دعوی بھی کیا ہے۔اب اس بات کا جواب تو مسعود محمود ہی دے سکتے ہیں کہ انہوں نے نوائے وقت کی روزن دیوار سے دین و دنیا کو دیکھنے والے ایک کشادہ دہن کالم نگار کو کس بات پر بزرگ وقار انبالوی کے ذریعے دھمکی دی تھی۔قیاس چاہتا ہے کہ یہ بات صرف کمپنی کی مشہوری کے لیے بیان کی گئی ہے ۔ امر واقعہ یہ ہے کہ دھمکی دینے والا شہید بھٹو کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن کر ان کے عدالتی قتل کا حصہ بنا، اور دھمکی وصول کرنے والا گزشتہ چالیس سال سے بھٹو مخالفت کا پھل کھاتا چلا آ رہا ہے ۔موصوف نواز شریف کی دوستی کے نام پر کالج میں برق رفتار ترقی پا کر سفیر پاکستان ہوئے، ادبی افق پر جگمگانے کے لیے شاعر بھی بنے، پی ٹی وی کے چئیرمین بھی رہے، جسے سپریم کورٹ نے خلاف قانون قرار دیتے ہوئے اس عہدے پر وصول کی گئی تنخواہیں مع مراعات واپس کرنے کافیصلہ بھی کیا۔اب اس پس منظر کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے بھٹو کی لغزشیں معاف کرنے کی دعا کرنے والے کی نیت کو کون کس ترازو پر تول سکتا ہے؟ معزز سینئر ترین کالم نگار نے نوائے وقت کے افق پر ظہور کیا تھا ، اور موقع مناسب دیکھتے ہی انہیں مجید نظامی مرحوم کے تصرف سے نکال کر حوالہ جنگ کر دیا گیا ، جنگ میں پیسہ بھی زیادہ ملنے لگا اور حلقہ قارئین میں بھی وسعت آئی۔مروج لطایف و ظرایف کو اپنے کالم کا حصہ بنا کر مزاح پیدا کرنا ان کا خاص ہنر ہے اور یہی ان کی مقبولیت کا سبب بھی ہے ۔لیکن اپنی مقبولیت کو اپنےمعاشی مفادات کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ان کا خاص فن ہے۔ضیاءالحق دور کے یہ واحد فنکار نہیں ہیں جنہوں نے اس کی پراپیگنڈہ مشین کا پرزہ بن کر فواید سمیٹے۔ملک میں راضی بہ رضا رہنے پر آمادہ کرنے والا تصوف ہو یا بے معنی و بے سمت محبت کے پھیلاؤ کے گیت ہوں ، طویل مکالمے بولنے والے بابوں کے ٹی وی ڈرامے ہوں یا پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کے قائد ذوالفقار علی بھٹو اور ان کے اہل خانہ پر طنز کی نیزہ بازی کرنے والے کالم نگار ہوں، سب کچھ اس تاریک دور کے مقبول و محبوب مطلوب سلسلے تھے۔ان ضیائی سلسلوں سے متعلق تمام لوگوں نے جنرل ضیاء الحق کے معنوی فرزند نواز شریف کے تینوں ادوار میں دل ، دماغ اور جسم کھول کر خوب عیش کئیے۔

نہ صرف یہ بلکہ یہی جانباز شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی کردار کشی کرنے ، ان کے بارے میں لطائف گھڑنے اور پھیلانے ، ان کی تصاویر کو اجنبی تصاویر کے ساتھ آمیز کر کے تقسیم کرنے والے جتھوں کا ہراول دستے بھی تھے۔پاکستانی تاریخ میں سب سے زیادہ عرصہ سرکاری اداروں میں چھائے رہنے والے یہی لوگ ہیں ان کے اختیار و اقتدار کا دور آج بھی تمام نہیں ہوا ۔آج بھی یہ خود ، ان کے اہل خانہ اور ان کے مرغان دست آموز سرکاری اداروں میں اہم عہدوں پر آنکھیں کھول اور منہ زور سے بند کر کے سسٹم کے اندھا، بہرا اور گونگا ہونے کو انجوائے کر رہے ہیں ۔چونکہ پاکستان پر حکومت کرنے والی حکومتیں چکما باز بیوروکریسی کے سامنے بے بس اور بے اختیار ہوتی ہیں، اس لیے وہ نہیں سمجھ سکتیں کہ ان کے دور حکومت میں، ان کی جگہ پر حکومت کر کون رہا ہے۔معزز سینئر کالم نگار کا کہنا ہے کہ ضیاء الحق کا دور شروع ہوا تو مجھے برے بھلے میں کچھ تمیز کرنا آ گئی تھی۔یہ بات بالکل درست معلوم ہوتی ہے ۔کیونکہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت کے خاتمے اور ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کے بعد ہی وہ عہد شروع ہوتا ہے جس کے عیش آج تک جاری وساری ہیں۔یہ معزز سینئر کالم نگار کی برے بھلے کی تمیز ہی تھی جس کے بل پر انہوں نے اپنی خواہشات کے سارے کس بل اچھی طرح سے نکال لیے۔ہاں مگر اب نظیر اکبر آبادی کی معروف نظم بنجارہ نامہ کے ابیات فضا میں گونجتے سنائی دینے لگے ہیں ،تو ایسے میں اگر اپنے ماضی کے کسی عمل یا موقف پر معذرت کرنی ہے تو یہ ایک بہادرانہ قدم ہے جو بہادری کے ساتھ اور زبان و ادب کے استاد ڈاکٹر سعادت سعید کے پیچھے چھپے بغیر بھی کیا جا سکتا ہے۔شہید ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف ہرزہ سرائی کا سلسلہ شہید بی بی بینظیر بھٹو اور ان کے وفا شعار میاں آصف علی زرداری تک دراز ہوا، اب یہی مخلوق بلاول بھٹو کو اپنے خبث باطن کا نشانہ بناتے شرماتی نہیں ۔یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی سیاست اور قربانی ہی ہے جو بھٹو کے زندہ ہونے کو طنز کا عنوان بنانے والوں کو اندر اندر سے مار رہی ہے۔ لوگ نہیں سمجھتے کہ تاریخ میں زندہ رہنے کے اصل معنی کیا ہیں۔اور تاریخ کی گرد میں گم ہو جانا کسے کہتے ہیں ۔ بھٹو کو مارنے والے تاریخ کی گرد میں ملیامیٹ ہو چکے، جبکہ بھٹو اپنی دلاوری ، جرات اور فتوت کے ساتھ آج بھی زندہ ہے۔اس کا تمسخر اڑانے والے آج خود مذاق کا عنوان بنے بیٹھے ہیں۔ ،زندہ صرف اصول، قربانی اور سچائی رہتی ہے ۔ذوالفقار علی بھٹو پاکستانی سیاست کی زندہ رہنے والی سچائی ہے، اور سچائی کو زوال نہیں ہوتا ۔اس سچائی کو رات کی تاریکی میں امریکہ کے حکم پر اور حدود کعبہ کے اندر بیٹھ کر کئیے وعدوں کے خلاف تختہ دار پر جھلانے والے مر کھپ چکے، ان کا ذکر کرنا یا نام لینا بھی لوگ اپنی توہین خیال کرتے ہیں۔ جب کہ مسکراتا ذوالفقار علی بھٹو آج بھی زندہ ہے۔ یاد رکھنا چاہئیے ،جس بھٹو نے اپنی جان بخشی کی درخواست کرنا اپنی اور اپنے نظرے کی توہین سمجھا، اس بھٹو کی ” جان بخشی ” کی اپیل کرنے والوں کو بھٹو کے زندہ ہونے کے خوف پر قابو پانا سیکھنا پڑے گا۔

۔۔۔ سنگ بنیاد، خطابٹی چوک فلائی اوورمنصوبہ اسلام آباد، راولپنڈی اور گردونواح کے شہریوں کیلئے سنگ میل ثابت ہو گا، وزیراعظم شہباز شریف کا منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاباسلام آباد۔12ستمبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ٹی چوک فلائی اوور کا منصوبہ اسلام آباد، راولپنڈی اور گردونواح کے شہریوں کیلئے سنگ میل ثابت ہو گا، ریل کار کے مجوزہ منصوبے سے جڑواں شہروں کے مکینوں کو مزید آسانیاں میسر آئیں گی، ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو جی ٹی روڈ،اسلام آباد ایکسپریس ہائی وے کے جنکشن (ٹی چوک )روات پر فلائی اوور کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطا ب کرتے ہوئے کیا۔تقریب میں وفاقی وزرا ، ارکان اسمبلی اور وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ اور سی ڈی اے سمیت متعلقہ محکموں کے افسران بھی موجود تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے ٹی چوک فلائی اوور منصوبے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ اسلام آباد، راولپنڈی اور گردونواح کے شہریوں کیلئے سنگ میل ثابت ہو گا، ایک کلومیٹر کے فلائی اوور سے ایکسپریس وے اور دوسرے علاقوں کو جانے میں سہولت ہو گی۔ انہوں نے ٹی چوک منصوبہ کیلئے وزیر داخلہ اور سی ڈی اے حکام کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان 2027ء میں ایس سی او سمٹ کی میزبانی کرے گا، ایس سی او سمٹ کیلئے تیاریاں ابھی سے کرنا ہوں گی۔ انہوں نے اسلام آباد کو مزید خوبصورت بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے بتایا کہ تاجکستان نے تحفے میں مختلف اقسام کے پودے دیئے ہیں جن سے شہر کی خوبصورتی میں اضافہ ہو گا، شاہراہ دستور کو مزید خوبصورت بنانے کیلئے کام جاری ہے، چند ہفتوں میں شاہراہ دستور کے اطراف خوبصورت پھول دیکھنے کو ملیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر ریلوے حنیف عباسی پنڈی، اسلام آباد میں سفری سہولت کے نئے منصوبے پر کام کر رہے ہیں، ریل کار کے مجوزہ منصوبے سے جڑواں شہروں کے مکینوں کو مزید آسانیاں میسر ہوں گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ میٹرو بس سروس کے علاوہ ماحولیاتی تحفظ کیلئے ای وی ٹرانسپورٹ بھی متعارف کرائی گئی ہے۔ انہوں نے سی ڈی اے اور ضلعی انتظامیہ کے حکام کو بھرپور محنت کے ساتھ جڑواں شہروں کو ملانے اور شہر کی خوبصورتی میں اضافہ اور شہریوں کو سہولیات کی فراہمی کیلئے اقدامات کی ہدایت کی۔ قبل ازیں وزیراعظم نےتختی کی نقاب کشائی کرکے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایکسپریس وے چند ماہ پہلے مکمل ہو چکی تھی، ٹی چوک فلائی اوور منصوبے کا 150 دنوں میں افتتاح ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جو اہداف دیئے گئے انہیں اعلیٰ معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے مکمل کیا جائے گا۔ وزیراعظم کو منصوبے کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ٹی چوک فلائی اوور منصوبے پر ایک ارب 49کروڑ 50 لاکھ روپے لاگت آئے گی اوریہ 150 دن کی قلیل مدت میں مکمل ہو گا۔ اسلام آباد ایکسپریس وے وفاقی دارالحکومت کی اہم شاہراہ ہے جوراولپنڈی ، پنجاب ، آزاد کشمیر او ر جی ٹی روڈ کوآپس میں ملاتی ہے ۔ سی ڈی اے نے پہلے ہی زیروپوائنٹ سے ٹی چو ک تک اسلام آباد ایکسپریس وے کو سگنل فری بنا دیا ہے۔جی ٹی روڈ ٹی چوک روات اسلام آباد ایکسپریس وے جنکشن، وفاقی دارالحکومت کا اہم داخلی راستہ ہے، اس وقت اس جنکشن پرٹریفک کا بہت زیادہ دبائو ہوتا ہے اور یہ خستہ حالی کا شکار ہے، ہلکی ٹریفک کے ساتھ ساتھ بھاری ٹریفک کا بھی اس پرشدید دبائو ہے۔ اس صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے سی ڈی اے نے منصوبے پر کام کا آغاز کیا ہے اور سی ڈی اے اور این ایچ اے کے درمیان رائٹ آف وے کے معاملے کو حل کیا گیا اور 5 جون 2025کواین ایچ اے نے سی ڈی اے کو این او سی جاری کیا۔اس جنکشن سے روزانہ تقریباً ایک لاکھ گاڑیوں کا گزر ہوتا ہے، فلائی اوور کی تعمیرسے یومیہ تقریباً 41ہزار572گاڑیوں کو آمدورفت میں آسانی ہوگی۔ لاہور اور پنجاب کے دیگر علاقوں سے اسلام آباد براستہ جی ٹی روڈ آنے والے مسافروں کی سہولت کےلئے فلائی اوور کا ڈیزائن میسرز نیسپاک نے تیار کیا ہے۔ فلائی اوور کی لمبائی ایک کلومیٹر سے زائد اور اس کی چوڑائی 11.30میٹر ہوگی او ر اس کے ساتھ ساتھ سٹریٹ لائٹس اور ہارٹیکلچر کا بھی انتظام کیا جائے گا۔

*پاکستان ایم ایم اے کا تاریخی اعزاز*پاکستان مکسڈ مارشل آرٹس فیڈریشن (PMMAF) فخر کے ساتھ اعلان کرتی ہے کہ مسٹر ابو حریرہ اور مسٹر دلاور خان سننان کو ایشین مکسڈ مارشل آرٹس ایسوسی ایشن (AMMA) کی جانب سے باضابطہ طور پر جج سی لائسنس سے نوازا گیا ہے۔یہ تاریخی کامیابی اُن کی محنت، پیشہ ورانہ صلاحیت اور کھیل کے ساتھ غیر متزلزل لگن کو اجاگر کرتی ہے۔ ان کی یہ کامیابی نہ صرف ان کے انفرادی کیریئر کو نئی بلندیوں تک لے گئی ہے بلکہ پوری قوم کے لیے فخر کا باعث بھی ہے، جو عالمی ایم ایم اے کمیونٹی میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔اس موقع پر صدر پاکستان مکسڈ مارشل آرٹس فیڈریشن، ذولفقار علی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:پاکستان مکسڈ مارشل آرٹس فیڈریشن صرف اعلیٰ معیار کے ایتھلیٹس ہی پیدا نہیں کر رہی بلکہ عالمی معیار کے ریفریز اور آفیشلز بھی سامنے لا رہا ہے، جن کی مہارت اور کوالٹی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ ہمارے آفیشلز کو یہ لائسنس ملنا پاکستان کے عزم اور معیارِ اعلیٰ کا مظہر ہے اور یہ عالمی میدان میں ہماری مضبوط اور باوقار موجودگی کو یقینی بناتا ہے۔ اپنی جانب سے اور بورڈ کے تمام ممبران کی جانب سے میں ابو حریرہ اور دلاور سنان کو اس عظیم کامیابی پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔”یہ کامیابی پاکستان ایم ایم اے کے لیے ایک نیا معیار قائم کرتی ہے جو نہ صرف مسابقتی ایتھلیٹس کی تربیت میں ترقی کی علامت ہے بلکہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ ریفریز اور آفیشلز پیدا کرنے میں بھی پاکستان کی پیش رفت کو اجاگر کرتی ہے۔

*علی پور: باپ نے بیٹے کو سیلابی ریلے سے بچاتے ہوئے جان دے دی*مظفر گڑھ کی تحصیل علی پور میں سیلابی ریلے سے بیٹے کو بچاتے ہوئے ایک شخص ڈوب کر جاں بحق ہوگیا۔مظفر گڑھ کی تحصیل علی پور میں ہیڈ پنجند کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب آیا، جس کے نتیجے میں مزید کئی بستیاں زیر آب آگئیں، سیلاب میں ریلے سے بیٹے کو بچاتے ہوئے باپ خود ڈوب کر جاں بحق ہوگیا

*سرگودھا۔۔۔مائنس ون فارمولا نہیں چل سکتا، بانی پی ٹی آئی ہی پارٹی کو چلا رہے ہیں، بیرسٹر گوہر*پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ مائنس ون فارمولا نہیں چل سکتا، بانی پی ٹی آئی ہی پارٹی کو چلا رہے ہیں، میں اُن کا نمائندہ ہوں۔سرگودھا میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہر معاملہ بانی پی ٹی آئی کی مشاورت سے کیا ہے اور کرتے رہیں گے، بانی پی ٹی آئی پاکستان میں جمہوریت کیلئے کوشاں ہیں۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اگر سختیاں ہوں گی تو اس سے ملک کو مزید نقصان ہوگا، پنجاب بڑا صوبہ ہے لیکن یہاں کے لوگ مشکل کا شکار ہیں، سیلاب میں پنجاب حکومت فوٹو سیشن کی حد تک محدود ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سیاست سے بالا تر ہو کر ہمیں سیلاب متاثرین کی مدد کرنی چاہیے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب

سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈیفنس

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ محفوظ ہیں۔
Copyright © 2026 Baadban Tv. All Rights Reserved