
ایک بہترین فیصلہ ، اَب اُن کے مطالبات کو سںنجیدگی سے سنا جائے اور مذاکرات کیے جائیں جو فوری حقوق دیے جا سکتے ہیں دیے جائیں اور باقی جائز مطالبات کا فریم ورک دیا جائے ۔۔
حکومت اگر
اپنا فرض ذمہ داری سے نبھائے
تو احتجاج کی نوبت ہی نہ آئے
لوگ اگر کبھی اکٹھے بھی ہوں
تو
فوری مسئلے کو سُنا اور فوری حل کیا جائے ۔۔
اگر حکومتیں ایسا کریں
پھر وقت کے ساتھ مطالبات تو ہوں گے لیکن کبھی فسادات نہیں ہونگے
ماؤں کے بچے اپنوں کے ہاتھوں جان سے نہیں جائیں گے ۔۔

سہیل آفریدی وہ بادام ہے جو فوج نے کچہ ہی توڑ لیا ہے۔ سہیل آفریدی کو بتایا گیا ہے کہ وفاق سے مکمل تعاون کی صورت میں تحریک انصاف کو “ سپیس “ ملے گی۔ محسن نقوی سے ہونے والی خفیہ ملاقاتوں میں یہی طے پایا ہے۔ سہیل آفریدی کو سبز باغ یہ دکھایا گیا ہے کہ عمران خان “ سپیس “ جیسی نعمت ملنے پر خوشی سے پاگل ہوجائیں گے اور سہیل آفریدی کو اس عظیم کارنامے پر اپنا جانشین نامزد کردیں گے۔ فوج بھی مکمل تعاون کے بدلے عمران خان کو سہیل آفریدی کی سفارش کردے گی۔ اس سلسلے میں محمود اچکزئی , بیرسٹر گوہر وغیرہ بھی ضمانتیں دینے اور سہیل آفریدی کو یقین دہانیاں کروانے میں شامل ہیں۔ صدیق جان بھائی اور ان کا اسلام آبادی صحافتی ٹولہ و آئی ایس پی آر اپنے اثاثوں کی مدد سے اور اندر کی خبر والے نیٹ ورک کے ذریعے عمران خان کی رہائی ، سابق آرمی چیف سے ملاقات ، عمران خان قومی حکومت پر رضا مند اور وغیرہ وغیرہ والی خبریں تواتر سے چلا رہا ہے

، تاکہ سہیل آفریدی کو اور یوتھیوں کو یہ تاثر ملتا رہے کہ واقعی کچھ نا کچھ ہورہا ہے۔ تیسرا فیکٹر یہ ہے کہ سہیل آفریدی کو “ ناراض اراکین “ والی جھلکیاں بھی دکھائی جارہی ہیں ، نومئی اور دیگر کیسز پہلے سے موجود ہیں اور دس بیس سال کی قید ، وزارت اعلی کا چھن جانا وہ خوف ہے جو ساتھ ساتھ دکھایا جارہا ہے۔ وزارت اعلی جاتی دیکھ کر علی امین گنڈاپور علیمہ خانم کو ایم آئی کی ایجنٹ کہنے پر اتر آیا تھا سہیل آفریدی بھی اسی ہی کیفیت کا شکار ہوسکتا ہے۔ فوج کسی نا کسی بہانے سے وقت لیتی جاتی ہے اور اس امید میں ہے کہ کوئی معجزہ ہوگا اور ملکی معاشی و سیاسی حالات بدل جائیں گے۔ اگر چار دن اچھے لگ جائیں جیسے بھارت سے جھڑپوں اور ٹرمپ کی پوسٹس کے دوران ہوا تو اوقات سے باہر ہوجاتے ہیں ،

کوئی مشکل آپڑے ، تیل مہنگا ہوجائے ، نئے ٹیکس لگانے ہوں اور احتجاج شروع ہوجائیں جیسا کہ آجکل ہورہا ہے تو ٹھنڈی ہوائیں چلانا شروع کردیتے ہیں۔ فوج کی موجودہ پالیسیز کے ہوتے ہوئے ملکی حالات بہتر ہونے والے نہیں۔ عمران خان کی رہائی موجودہ نظام اور اسکے بینفشریز کی موت ہے۔ کچھ وقت بعد جب سہیل آفریدی پر سوشل میڈیا اور عوام کا دباؤ زیادہ آئے گا اور فوج حسب سابق ، حسب توقع “ سپیس “ نہیں دے گی تو پھر سہیل آفریدی کو اندازہ ہوگا کہ انکے ساتھ ہاتھ ہوا ہے۔ سہیل آفریدی کا ڈنگ مکمل نکل چکا ہے۔ عوامی پذیرائی ختم ہوچکی ہے ۔ فوج سہیل آفریدی کو یوتھیوں کے آگے پھینک دے گی ، ویسے ہی جیسے گنڈاپور کو استعمال کرکے پھینک دیا تھا۔ یوتھیے ا س کچے بادام کو چکھے بغیر پھینک دیں گے۔ کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنے۔کاپیڈ

۔پاکستان میں ٹیکس دینے والوں کو بجلی 70 سے 100 روپے فی یونٹ ملتی ہے۔جبکہ کشمیری بھائیوں کو حکومت پاکستان 3 روپے یونٹ بجلی فراہم کررہی ہے۔گندم پیدا کرنے والے 5000 روپے فی من آٹا خرید رہے ہیں جبکہ کشمیری بھائیوں کو یہی اٹا 2000 روپے فی من دیا جارہا ہے ۔۔کشمیر کی پوری ریاست کی آمدن 70 ارب روپے ہے جبکہ اخراجات 320 ارب روہے سالانہ اڑھائی سو ارب روپے پاکستان سپورٹ کررہا ہے۔۔اس کے علاوہ جو سہولیات ہمیں پاکستان میں دستیاب نہیں لیکن عوامی نوعیت کے ان جائز 38 میں سے 35 مطالبات بھی کشمیری بھائیوں کے مان لئے گئے تھے ۔لیکن اس کے باوجود چند عناصر بیرونی ایجنڈے پر کاربند ہیں اور سادہ لوح کشمیریوں بھائیوں کو حقوق کے نام پر پاکستان کے خلاف بھڑکانے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔سادہ الفاظ میں ریاست کو بلیک میل کرنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔۔جو ممکن نہیں۔۔

۔میرے خیال میں ریاست نے پہلے ہی۔بھائی چارے اور محبت کے رشتے کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں بہت چھوٹ دے دی ہے۔۔۔۔۔جس کا یہ فسادی ٹولہ ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہا ہے۔۔۔۔ریاست کو اب چاہیے کہ ناصرف اپنی پوری طاقت استعمال کرے بلکہ۔۔اس ہنگامہ آرائی میں بہنے والے خون کا حساب بھی ان فسادیوں اور ان کے سہولتکاروں سے لیا جائے۔اور۔۔شوکت میر۔۔خواجہ مہران۔سمیت اس فسادی کمیٹی کے دیگرجعلی عہدیداروں دہشت گردوں اور ملک کے اندر اور باہر بیٹھے ان کے سہولتکاروں کے قومی شناختی کارڈ۔پاسپورٹ خارج کرکے ان کے خلاف قتل اور دنگے فساد کے مقدمات درج کئے جائیں۔۔۔اب ان غداروں کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہونے چاہئیں۔پاکستان ہمیشہ زندہ باد پرامن اور عقلمند ۔کشمیری عوام ۔پائندہ باد










