*ڈپٹی کمشنر حسین احمد رضا چوہدری کا بھلوال میں جاری پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام منصوبے کا دورہ، تعمیراتی کام تیز کرنے کی ہدایت*سرگودھا( آن لائن) ڈپٹی کمشنر حسین احمد رضا چوہدری نے تحصیل بھلوال میں جاری پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام کے ترقیاتی منصوبے کا معائینہ کیا۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر بھلوال اور اے ڈی پی ڈی پی بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر نے منصوبے پر جاری تعمیراتی کام کا تفصیلی جائزہ لیا اور متعلقہ افسران و ٹھیکیدار کو ہدایت کی کہ منصوبے کی تکمیل کی رفتار مزید تیز کی جائے تاکہ عوام کو جلد از جلد اس منصوبے کے ثمرات میسر آ سکیں۔انہوں نے ہدایت کی کہ تعمیر شدہ ڈرینوں کو فوری طور پر آپس میں لنک کیا جائے تاکہ بارش کی صورت میں نکاسی آب کا نظام مؤثر انداز میں کام کر سکے اور شہریوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ تمام ترقیاتی کام مقررہ معیار کے مطابق اور مقررہ مدت میں مکمل کیے جائیں، جبکہ تعمیراتی سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی یقینی بنائی جائے۔
کشمیر کے لہو سے سرخ پہاڑ ۔شہرزادآزاد کشمیر، خصوصاً پونچھ اور راولاکوٹ، اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑے ہیں جہاں ہر گزرتا دن امید سے زیادہ اندیشے کو جنم دے رہا ہے۔ ایک طرف ایکشن کمیٹی اپنے مؤقف پر پوری استقامت کے ساتھ ڈٹی ہوئی ہے، تو دوسری طرف ریاست اور اس کے ادارے اپنی حکمتِ عملی پر قائم ہیں۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ بات چیت، مکالمے اور مفاہمت کے تمام راستے فی الحال بند دکھائی دیتے ہیں۔ راولاکوٹ میں بھڑکنے والی چنگاری اب دوسرے اضلاع تک پہنچ چکی ہے، اور اگر یہی کیفیت برقرار رہی تو اس کی لپیٹ پورے آزاد کشمیر، پھر اسلام آباد اور بالآخر پاکستان کے دیگر علاقوں تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ریاست کا دامن ہمیشہ وسیع ہونا چاہیے۔ اس کے پاس وسائل بھی ہوتے ہیں اور طاقت بھی، لیکن تاریخ یہ بتاتی ہے کہ طاقت کا سب سے بڑا حسن اس کا تحمل اور بروقت تدبر ہے۔ دوسری جانب ایکشن کمیٹی کی قیادت بھی ایسے مرحلے پر کھڑی ہے جہاں اس کے کئی رہنما ناقابلِ تلافی ذاتی قربانیاں دے چکے ہیں۔ سردار عمر نذیر کشمیری اپنے بھائی کی قربانی دے چکے ہیں۔ اس کے بعد یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ وہ کس ذہنی کیفیت میں ہوں گے۔ میں ان کے طریقۂ کار سے پہلے بھی اختلاف رکھتا تھا اور آج بھی رکھتا ہوں، اور اس اختلاف کا اظہار ہمیشہ کھل کر کرتا آیا ہوں۔ لیکن اختلافِ رائے کبھی بھی انسانیت کے دکھ کو محسوس کرنے سے نہیں روک سکتا۔خون، خواہ کسی بھی انسان کا بہے، انسان کے دل پر ایک زخم چھوڑ جاتا ہے۔ مگر جب یہی خون اپنی دھرتی پر بہے، اپنے ہی لوگوں کا ہو، اپنے ہی نوجوانوں، بزرگوں اور اہلکاروں کا ہو، تو درد کی شدت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ کشمیر تو ویسے بھی جنت نظیر کہلاتا ہے۔ کون چاہے گا کہ اس کی وادیاں پھولوں کے بجائے لاشوں سے پہچانی جائیں، اس کے چشمے پانی کے بجائے آنسوؤں کی علامت بن جائیں، اور اس کے پہاڑ گولیوں کی گونج سے لرز اٹھیں؟ ایک ماں کے لیے اس سے بڑا المیہ کیا ہوگا کہ اس کا بیٹا شام کو گھر واپس نہ آئے؟ ایک بچے کے لیے اس سے بڑی محرومی کیا ہوگی کہ وہ اپنے باپ کی راہ تکتا رہ جائے؟ اور ایک بیوی کے لیے اس سے زیادہ اذیت ناک لمحہ کون سا ہوگا کہ اس کے خواب کفن میں لپٹ کر اس کے دروازے پر لوٹ آئیں؟اطلاعات کے مطابق گزشتہ دو ماہ کے دوران درجنوں عام شہری اور متعدد سکیورٹی اہلکار اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں، یہ زندہ انسان تھے؛ ان کے خواب تھے، خاندان تھے، ذمہ داریاں تھیں، محبتیں تھیں۔ ہر جنازہ صرف ایک فرد کا نہیں اٹھتا، اس کے ساتھ کئی زندگیاں بکھر جاتی ہیں۔ اگر فریقین نے بروقت کوئی درمیانی راستہ نہ نکالا تو خدشہ ہے کہ یہ المیہ مزید گہرا ہوگا اور اس کی قیمت آنے والی نسلوں کو بھی ادا کرنا پڑے گی۔افسوس کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر جھوٹی خبروں، پرانی ویڈیوز اور بے بنیاد دعوؤں نے حالات کو مزید خطرناک بنا دیا ہے۔ جذبات بھڑکانے والی ایسی مہمات حقیقت کو دھندلا دیتی ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اصل شہداء اور حقیقی متاثرین کی قربانیاں بھی مشکوک بنا دی جاتی ہیں۔ اختلاف ہو سکتا ہے، بیانیے مختلف ہو سکتے ہیں، مگر جھوٹ کسی بھی مقصد کی خدمت نہیں کرتا۔ میری ایکشن کمیٹی کی قیادت سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ اپنے حامیوں کو فیک نیوز اور اشتعال انگیز مواد سے روکنے کے لیے مؤثر کردار ادا کرے، کیونکہ آگ لگانا آسان اور اسے بجھانا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ایک اور نہایت خطرناک رجحان بھی تیزی سے جنم لے رہا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے معاشرہ دو انتہاؤں میں تقسیم ہو گیا ہو۔ اگر کوئی ایکشن کمیٹی کی مکمل حمایت کرتا ہے تو وہ حق پر ہے، اور اگر کوئی معمولی سا سوال بھی اٹھا دے تو اسے فوراً غدار، سہولت کار یا دشمن کا ساتھی قرار دے دیا جاتا ہے۔ یہ رویہ کسی مہذب معاشرے کی علامت نہیں۔ اختلافِ رائے انسان کا بنیادی حق ہے۔ نظریاتی اختلاف کو ذاتی دشمنی میں بدل دینا، رشتوں، دوستیوں اور خاندانی تعلقات کو قربان کر دینا کسی مسئلے کا حل نہیں۔ نہ کسی تحریک کے حق ہونے کی خدائی سند نازل ہوئی ہے اور نہ کسی ریاستی مؤقف کو آسمانی تائید حاصل ہے۔ اس لیے ایک دوسرے کو غداری اور وفاداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنے کے بجائے برداشت، دلیل اور مکالمے کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔آج سب سے بڑی ضرورت یہ نہیں کہ کون جیتتا ہے اور کون ہارتا ہے۔ سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ مزید کوئی ماں اپنے بیٹے کی لاش نہ اٹھائے، کوئی بچہ یتیم نہ ہو، کوئی بہن اپنے بھائی کے جنازے پر بین نہ کرے، اور کوئی سکیورٹی اہلکار اپنے فرض کی ادائیگی میں بے نام قبر کا مکین نہ بنے۔ فتح اگر انسانوں کی لاشوں پر کھڑی ہو تو وہ درحقیقت شکست ہوتی ہے۔میں ریاست، حکومت، متعلقہ اداروں اور ایکشن کمیٹی، سب سے یکساں دردِ دل کے ساتھ اپیل کرتا ہوں کہ ضد، انا اور جذبات سے ایک قدم پیچھے ہٹ کر انسانیت کے لیے ایک قدم آگے بڑھیں۔ مکالمے کے دروازے دوبارہ کھولیں، اعتماد سازی کریں اور ایسا راستہ تلاش کریں جس میں کسی کی عزت بھی محفوظ رہے اور کسی کی جان بھی ضائع نہ ہو۔ کیونکہ کشمیر کی سب سے بڑی طاقت اس کے پہاڑ، اس کے دریا یا اس کی سیاست نہیں، بلکہ اس کے لوگ ہیں۔ اگر یہی لوگ زندہ نہ رہے تو کوئی فتح، کوئی تحریک اور کوئی ریاست حقیقی معنوں میں کامیاب نہیں کہلا سکتی۔کوئی روکے کہیں دست اجل کو ہمارے لوگ مرتے جارہے ہیں😭
امیروں کو لوٹنے والا ۔۔ 26 ارب لوٹ لئے ۔۔ کوئی بتا بھی نہیں سکتا ۔یہ علی ورک ہیں ۔ انہوں نے انوکھا آئیڈیا سوچا ۔ پنجاب کے بڑے افسران تک رسائی حاصل کی ۔ انہیں پرتگال کی شہریت اور وہاں پر پراپرٹی خرید کر اپنی اوپر والی دولت محفوظ بنانے کا جھانسہ دیا ۔ بڑے بڑے افسران ۔۔ بلکہ بہت ہی بڑے افسران اس کے اردگرد منڈلانے لگے ۔ کامونکی میں اس کی شادی ہوئی تو پنجاب کی بڑی سے بڑی بیوروکریسی وہاں کئی دن تک تقریبات میں بھنگڑے ڈالتی رہی ۔ اب لڑکے نے کمال دکھا دیا گیا ۔ سب کو میسج کر دیا ہے کہ پرتگال والوں نے دھوکہ کر دیا ہے ۔ سب ڈوب گیا ہے ۔ اب بڑے بڑے افسران کسی کو بتا بھی نہیں سکتے کہ کس کی کتنی دولت تھی ۔ کیونکہ پھر یہ بھی بتانا پڑے گا کہ اتنی دولت آئی کہاں سے ہے ؟؟ یہ پہلی کہانی نہیں ایسے کئی ہونہار ہوتے ہیں جو ایسے آئیڈیا سوچتے ہیں ۔ افسران کو لوٹتے ہیں










