All posts by admin

غیرت کے نام پہ بیٹی ہی قتل کیوں۔۔۔۔؟مارا ہو کسی باپ نے بیٹا۔۔۔مثال دو تفصیلات بادبان ٹی وی پر

شیتل بلوچ: ایک اور بیٹی غیرت کے ایوانوں میں قتل کر دی گئیتحریر: ڈاکٹراختربیگ مرزا”میں نے نکاح کیا ہے، زنا نہیں۔ کوئی گناہ نہیں کیا۔ میں اپنے پیار پر قربان ہونے جا رہی ہوں۔ آپ کو صرف گولی مارنے کی اجازت ہے!”یہ جملے کسی افسانے کا اختتام نہیں — یہ بلوچستان کی ایک بہادر بیٹی شیتل بلوچ کے وہ الفاظ تھے جو اُس نے اپنی زندگی کے آخری لمحے میں کہے۔ وہ لمحہ جس میں ایک عورت نے مردوں کے اس سماج کو آئینہ دکھا دیا، مگر وہ آئینہ اتنا سچ تھا کہ ان غیرت کے تاج پہنے درندوں نے اُس کو چکنا چور کر دیا۔■ یہ صرف قتل نہیں، یہ نظام کا جنازہ ہےبلوچستان کی ایک بیٹی، اپنی مرضی سے نکاح کرنے کی “خطا” میں قتل کر دی گئی۔ شیتل اور زرک — وہ دو انسان جو نکاح جیسے مقدس بندھن میں بندھے، مگر سماج کی بوسیدہ رسموں، جھوٹی غیرت، اور مردانہ اجارہ داری کو یہ محبت برداشت نہ ہوئی۔

ڈیڑھ سال بعد، انہیں قبیلے کے جرگے میں بلایا گیا — کھانے پر نہیں، بلکہ “غیرت” پر مرنے کے لیے۔ بیس مرد، پانچ بندوقیں، اور ویران میدان۔ شیتل نے قرآن سینے سے لگا رکھا تھا۔ اُس نے ایک مرد کے ہاتھ میں قرآن دیا اور اجازت دی کہ صرف گولی ماری جائے — وہ بھی تب، جب سب کچھ طے ہو چکا تھا۔■ نہ چیخ، نہ رحم، نہ التجاشیتل نہ روئی، نہ چیخی، نہ گِڑگِڑائی۔ وہ خاموشی سے اُن درندوں کے سامنے کھڑی ہوئی جنہیں قبیلے، روایت، اور غیرت کا محافظ کہا جاتا ہے۔ اُس کے قدم نہیں کانپے۔ اُس کی آنکھوں میں نہ خوف تھا، نہ رحم کی بھیک۔ اُس کی خاموشی میں وہ شور تھا جو آج بھی گونج رہا ہے:”بِأَيِّ ذَنبٍ قُتِلَتْ؟””کس گناہ پر قتل کر دی گئی؟”■ یہ غیرت نہیں، جہالت ہےیہ کیسی غیرت ہے جس میں باپ، بھائی، چچا، ماموں سب مل کر اپنی بیٹی، بہن کو قتل کر دیتے ہیں؟ وہ بیٹی جو نکاح کے تقدس پر ایمان لاتی ہے، جس نے معاشرے کے “قانون” سے زیادہ خدا کے حکم کو تسلیم کیا۔ کیا یہ غیرت ہے،

یا پھر صرف ایک نسل پرستی، مردانگی اور طاقت کے بے لگام گھوڑے کا ننگا ناچ؟یہ وہی قبائلی رسمیں ہیں جنہیں شوکت صدیقی نے جانگلوس میں بیان کیا — وہی رسمیں، وہی جرگے، وہی ظلم، جو 1960 میں بھی تھے، اور آج 2025 میں بھی زندہ ہیں۔■ شیتل کا جرم: محبتشیتل کا جرم صرف اتنا تھا کہ اُس نے اپنی پسند سے شادی کی۔ وہ محبت جو قرآن اور سنت کے مطابق نکاح میں ڈھلی، مگر قبیلے کے جرگہ نما فرعونوں کو گوارا نہ ہوئی۔اسے میدان میں قتل کر دیا گیا — 9 گولیاں — جسم پر نہیں، انسانیت کے منہ پر ماریں گئیں۔■ کب تک؟ہر روز کوئی شیتل ماری جاتی ہے۔ کبھی کوہستان میں، کبھی جامشورو، کبھی دادو، کبھی لورالائی، کبھی کراچی کی جھونپڑیوں میں، اور کبھی بلوچستان کے ویرانوں میں۔ کچھ اخبارات کی سرخیاں بنتی ہیں، کچھ بے نام قبروں میں دفن ہو جاتی ہیں۔مگر سوال اب بھی زندہ ہے:کب تک؟کب تک ہم غیرت کے نام پر قتل کو روایتی تسلیم کرتے رہیں گے؟ کب تک قرآن کو قتل سے پہلے ایک “نرمی” کا پرچم بنایا جائے گا؟ کب تک عورت کو مرد کی جاگیر سمجھا جائے گا؟ کب تک نکاح جیسے عمل کو جرم کہا جائے گا؟■ شیتل ہار گئی… یا جیت گئی؟شیتل کے جسم کو قتل کیا گیا، مگر اُس کا وقار، اُس کی خودداری، اُس کا فیصلہ اور اُس کا عشق — وہ سب آج بھی زندہ ہیں۔شیتل اُن سب عورتوں کی نمائندہ بن گئی ہے جو زندگی کو اپنے طریقے سے جینا چاہتی ہیں۔ جو محبت کو حرام نہیں، عبادت سمجھتی ہیں۔وہ ماری گئی —

مگر ایک سوال چھوڑ گئی:”مجھے کس جرم میں مارا گیا؟”■ اختتام: ایک سوال آپ سےیہ مضمون یہاں ختم نہیں ہوتا — یہ وہ آئینہ ہے جو آپ کے اور میرے درمیان رکھا گیا ہے۔ اگر ہم نے اب بھی شیتل کی کہانی سے کچھ نہ سیکھا، تو کل ایک اور شیتل، ایک اور زرک، ایک اور مقتل، ایک اور قرآن، اور ایک اور قتل ہوگا۔یہ وقت ہے خاموشی توڑنے کا، سوال اٹھانے کا، اور ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کا۔ورنہ تاریخ ہم سب کو اُن درندوں کے ساتھ کھڑا کرے گی جنہوں نے شیتل کو مارا نہیں — دفن کیا، اپنی جھوٹی غیرت کے نیچے۔شیتل بلوچ — تمہارے لہو کا حساب قیامت تک جاری رہے گا۔📍اللّٰہ ہم سب کو ایسی غیرت سے محفوظ رکھے، جو کسی کی زندگی چھین کر اپنی مردانگی کا جشن مناتی ہے۔ آمین

چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے مخصوص نشستوں پر حلف برداری کیلئے گورنر کے پی کو نامزد کردیااشتیاق نور چمکنی)پشاور ہائی کورٹ میں اپوزیشن کی درخواست پر مخصوص نشستوں پر حلف برداری کے لیے گورنر کے پی کو نامزد کر دیا۔اپوزیشن

چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے مخصوص نشستوں پر حلف برداری کیلئے گورنر کے پی کو نامزد کردیااشتیاق نور چمکنی)پشاور ہائی کورٹ میں اپوزیشن کی درخواست پر مخصوص نشستوں پر حلف برداری کے لیے گورنر کے پی کو نامزد کر دیا۔اپوزیشن جماعتوں نے مخصوص نشستوں پر اراکین کی حلف برداری کسی فرد کو نامزد کرنے کی درخواست دائر کی تھی۔رجسٹرار پشاور ہائیکورٹ کے پاس جمع کرائی گئی درخواست کے پی اسمبلی کی اپوزیشن جماعتوں پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔ایڈیشنل سیکرٹری جنرل پیپلز پارٹی پختونخوا نے اس حوالے سے بتایا کہ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مخصوص نشستوں پر کے پی اسمبلی میں منتخب ارکان سے حلف نہیں لیا گیا۔درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ مخصوص نشستوں پر اراکین کی حلف برداری کے لیے کسی کو نامزد کریں۔اب چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے اپوزیشن کی درخواست پر مخصوص نشستوں پر اراکین کی حلف برداری کے لیے گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی کو نامزد کر دیا ہے۔یاد رہے کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کا آج ہونے والا اجلاس تقریباً ڈھائی گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا تاہم اسپیکر بابر سلیم سواتی کی زیر صدارت اجلاس شروع ہوتے ہی پی ٹی آئی رکن شیر علی آفریدی نے کورم کی نشاندہی کر دی جس پر اسپیکر نے اجلاس 24 جولائی تک ملتوی کر دیا۔کے پی اسمبلی کا اجلاس ملتوی ہونے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر کے پی ڈاکٹر عباد اللہ کا کہنا تھا صوبے کو نابالغ سیاسی لوگوں کے حوالے کر دیا گیا ہے، آج مخصوص نشستوں پر اراکین کا حلف نہ لیکر غیر آئینی اور غیر قانونی کام کیا گیا، ہم آج ہی پشاور ہائیکورٹ میں اس حوالے سے درخواست دائر کریں گے اور چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ سے درخواست کریں گے کہ آج ہی کسی فرد کو مخصوص نشستوں پر حلف لینے کے لیے نامزد کریں۔

فنتہ الہندوستان کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں بڑی کامیابی*بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے خلاف سیکورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن

** *فنتہ الہندوستان کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں بڑی کامیابی*بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے خلاف سیکورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن، *ذرائع* 19 اور 20 جولائی 2025 کی درمیانی شب سیکیورٹی فورسز کی جانب سے بلوچستان میں دہشتگردوں کی نقل و حرکت پرآپریشن کیا گیا، *ذرائع* آپریشن بلوچستان کے علاقے پہرود میں کیا گیا ، *ذرائع* کامیاب آپریشن میں اب تک فتنتہ الہندوستان کے 4 دہشتگرد جہنم واصل، *ذرائع*دہشتگردوں سے فتنہ الہندوستان کا جھنڈا اور ہتھیار بھی برآمد، *ذرائع* علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے، *ذرائع*فتنہ الہندوستان نے حالیہ عرصے میں نہتے اور معصوم پاکستانیوں پر دہشت گردانہ حملے کیے، *ذرائع*فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کو نشان عبرت بنایا جائے گا، *ذرائع*

“جہاں ماحول محفوظ ہو، وہاں قومیں ترقی کرتی ہیں — سابقہ وفاقی وزیر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان صاحبہ کی آواز متبادل توانائی کے حق میں بلند!”ڈاکٹر صاحبہ کا کہنا کہ اگر ہم نے آج اقدامات نہ کیے تو آنے والی نسلوں کو صرف توانائی کا بحران ہی نہیں، بلکہ سانس لینے کے لیے صاف فضا بھی میسر نہ ہو گی۔ گرین انرجی اب وقت کی ضرورت ہے، خواہش نہیں۔

پاکستان جنگ جیتنے کے بعد کھیلوں کی جنگیں بھی جیتنے لگا سکوائش سنوکر والی بال کا چیمپین نیزہ تھرو کا عالمی اور ایشین چمپین جونیئر ھاکی اور ایشین ہاکی کا رنرز آپ تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

۔وزیراعظم محمد شہباز شریف کا ھنگو میں سیکیورٹی آپریشن میں 9 خارجیوں کو ہلاک کرنے پر پولیس فورسز کو خراج تحسین وزیراعظم کی آپریشن میں زخمی ہونے والے ڈی پی او محمد خالد کی جلد صحت یابی کی دعامحمد خالد جیسے نڈر افسران کی قیادت میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز مل کر ملک سے دہشتگردی کا مکمل سدباب کریں گی، وزیراعظم حکومت اور سیکیورٹی فورسز ملک سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے پر عزم ہیں، وزیراعظم

پرائم منسٹر آفس میڈیا ونگ اسلام آباد: 19 جولائی 2025۔وزیراعظم محمد شہباز شریف کا ایشیئن انڈر 16 والی بال چیمپیئن شپ جیتنے پر پاکستانی ٹیم کو مبارکباد اور اظہار مسرتپاکستان اس پورے ٹورنامنٹ میں ناقابل شکست رہا، وزیراعظم پوری قوم کو اپنے نوجوانوں پر فخر ہے، وزیراعظم ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مستقبل میں پاکستانی ٹیم کو مزید کامیابیاں دے، وزیراعظم

بغاوت بغاوت اور بغاوت حکومت مھنگای کا عالمی ریکارڈ بنانے میں کامیاب گیس کے بلوں میں 600 گنا اضافہ بجلی کے بلوں میں 400 فیصد اضافہ گیس کا اصل بل 750 روپے ٹیکس 1825 ریاست کا ایک میٹر پر 1825 روپے کا ڈاکہ 6 کروڑ گیس کے بلوں پر 10 ھزار ارب روپے کا سالانہ ڈاکہ جب کہ 12 کروڑ بجلی کے میٹرز پر 18 سہیل رانا لائیو میں ھزار ارب روپے کا ڈاکہ

مجھے ٹریننگ کے لئے تین ماہ چاہیے۔ میں ابھی فٹ نہيں ہوں۔ علی امین گنڈاپور۔جینی کی ڈبل سنچری پٹرول ایک بار پھر ٹرپل سنچری کے قریب بجلی سنچری کے طرف بڑھتے ھوے اور مھنگای پاکستانی تاریخ کی کم ترین سطح پر۔حکومت مھنگای کا عالمی ریکارڈ بنانے میں کامیاب۔گیس کے بلوں میں 600 گنا اضافہ بجلی کے بلوں میں 400 فیصد اضافہ۔گیس کا اصل بل 750 روپے ٹیکس 1825 ریاست کا ایک میٹر پر 1825 روپے کا ڈاکہ۔6 کروڑ گیس کے بلوں پر 10 ھزار ارب روپے کا سالانہ ڈاکہ جب کہ 12 کروڑ بجلی کے میٹرز پر 18ھزار ارب روپے کا ڈاکہ۔پٹرول فی لیٹر پر 122 روپے کا ڈاکہ حکومت پاکستان عوام سے 2 وقت کی روٹی چھیننے میں کامیاب۔40 ھزار نوجوان ڈاکٹر انجئیر ملک کو چھوڑ گئے مھنگای کے خلاف لانگ مارچ کر کے حکومت میں آنے والی پی ڈی ایم حکومت کا کمال۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر