All posts by admin
سعودی ولی عہد کا ایرانی صدر کو فون، اسرائیلی جارحیت کی مذمت۔ اسرائیلی فوج کا عوام کو انتباہ: ’ہمارا فضائی دفاعی نظام ناقابلِ تسخیر نہیں ہے‘ ایران کی طرف سے داغے گئے میزائل حملوں کے بعد حیفا کے ساحلی علاقے میں وسیع پیمانے پر تباہی دکھائی دے رہی ہے۔ جن ممالک نے اسرائیل کی مدد کی ھمارے میزائل حملے روکے ھے ان سے بھی ھماری کھلی جنگ ھے۔پنجگور،گوادر کیچ کراسنگ ایران کے ساتھ منسلک تینوں راستے بند۔مشہد الرضا کے ائر پورٹ پر حملہ اسرائیل کا ناقابل معافی جرم ہے۔ایران کا جنگ بندی سے انکار دنیا ہمارے سرپراٸز کا انتظار کرے …ایران کو اسرائیل کے بیرونی حملے کے ساتھ اس کے ایجنٹوں کے اندرونی حملہ کا بھی سامنا ہے۔اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے سربراہ نے استعفیٰ دے دیا۔بھارتی وزیر اعظم مودی اور اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو۔بھارتی وزیر اعظم مودی اور اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو نے امریکی فرمائش پر ایک جیسی غلطی کی۔ اپنی طاقت کا بھرم کھو کر جنگ بندی کیلئے فریادیں! شریف حکومت نے عوام پر ایٹمی ہتھیاروں سے حملہ کرتے ہوئے پٹرول 5 روپے اور ڈیزل 8 روپے مھنگا کر دیا۔ایران کا اسرائیل پر بڑا حملہ ایرانی میزائلوں نے رافیل ملٹری کمپنی کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا، اسرائیلی میڈیا۔ تفصیلات کے لیے بادبان نیوز کو فالو کرے








فیلڈ مارشل ارمی جیف سید عاصم منیر کی ملک میں واپسی 5 عرب ممالک اسرائیل کو سپورٹ کررھے ھے ترکی بھی شامل پاکستان سفارتی سطح پر ایران کو سپورٹ کر رھا ھے لکین فوجی مدد نھی میں نے شام اور اسرائیل کے بارڈر پر کیا دیکھا سب کچھ جانتے کے لئے سھیل رانا لاءیو رات بجے
ممتاز صنعت کار قیصر احمد شیخ کی رھاش گاہ پر عید ملن پارٹی کراچی کے ممتاز صنعت کاروں اور ماھر تعلیم انڈس یونیورسٹی کے چانسلر اور کراچی اسلام آباد کے صحافیوں کی شرکت مولانا فضل الرھمان کی خصوصی شرکت تفصیلات کے لیے بادبان نیوز
تہران جل رہا ہـے اسرائیلی وزیردفاع کا دعویٰ اسرائیل کی سیکیورٹی ایجنسی شن بیٹ کے سربراہ رونن بار نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا۔ تاریخ رقم ھو گئی ساوتھ افریقہ نے سب کچھ تبدیل کر دیا۔بجلی اور لوڈشیڈنگ میں مقابلہ جاری ہے۔اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے سربراہ نے استعفیٰ دے دیا۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز کو فالو کرے



جنرل عامر حاتمی نئے ایرانی آرمی چیف مقرر ایران نے اسرائیل کے دو فائٹر جہاز گرا دیے ایران کااسرائیل کوبھرپورقوت سےجواب۔ 3 جھاز اور ایک ایف 35 مار گرایا روس نے ایران کی حمایت کر دی ھیجڑا او آئی سی ابھی تک خاموش تماشائی کا روپ دھارے ھوے. ھیجڑا او آئی سی ابھی تک خاموش تماشائی کا روپ دھارے ھوے تفصیلات کے لیے بادبان نیوز کو فالو کرے

یہ بیان سند رہے:ایران کی کمزوری یا تبا!ہی پاکستان کیلئے بھی خطرنا!ک ہے ہمارے ہمسائے سٹیبل رہیں گےتو پاکستان زیادہ مضبوط رہے گا اور رہے گا ان شاءاللہ اصرائیل ایران لڑائیاس میں پاکستان کو شییععہ سنننی یا مفادات یا دیگر اختلافات سے اس وقت مکمل ہٹنا ہے۔اخلاقی حمایت ایران کیساتھ رکھو اختلافات مکمل دبا دو۔

ایرانی مولوی کی تباہی کاریاں ۔اظہر سید
ایرانی ملا گزشتہ تیس سال سے ڈیڑھ لاکھ اخلاقی پولیس کے زریعے ایران بھر میں ایرانی خواتین کو حجاب کروا رہا ہے ۔ایرانی خواتین کو عالمی کھیلوں میں حصہ لینے سے روک رہا ہے ۔انہیں قتل کررہا ہے ۔
چند ماہ قبل تہران یونیورسٹی میں ایک طالبہ نے اپنے کپڑے اتار کر ایرانی ملا کو چیلنج کیا “مجھے بھی مار دو ” ۔اس طالبہ کو قیمہ کرنے والی مشین سے گزار کر اس کے ٹکرے یونیورسٹی گراؤنڈ میں پھینکے گئے اور طالبات کو پیغام دیا گیا ،،”مولوی کے خلاف احتجاج نہیں”

اخلاقی پولیس کے ایک اہلکار نے تین سال قبل ایک سترہ سالہ لڑکی کو حجاب نہ کرنے پر بھرے بازار میں تشدد کا نشانہ بنایا ،پولیس اسٹیشن میں لڑکی کو قتل کر دیا گیا ۔
ایرانی عوام مولوی کے خلاف نکل آئے ۔ایرانی تاریخ کے سب سے بڑے مظاہرے ہوئے ،سینکڑوں خواتین قتل کی گئیں ۔مولوی نے پاسداران کے زریعے بے رحم آپریشن کیا ۔احتجاج کچل دیا ۔

ایرانی مولوی نے اپنی سیاست کے زریعے حزب اللہ کی ساری قیادت قتل کروا دی ۔حماس کی تمام لیڈر شپ قتل کروا دی ۔ساتھ ہزار فلسطینی شہید کروا دئے ۔شامی حکومت تبدیل کروا دی ۔اپنی ٹاپ ملٹری لیڈر شپ قتل کروا لی ۔اپنے ایٹمی سائنسدانوں کو قتل کروا لیا ۔ ماضی کی سپر پاور اور شاہ ایران کے دور میں خطہ کے تھانیدار کی حیثیت والے ایران کے تمام فوجی اثاثے تباہ کروا لئے ۔
اب ایرانی سپریم ملا کسی سوراخ میں چھپ کر بیٹھ گیا ہے اور امن مذاکرات کے پیغامات بھیج رہا ہے ۔پاکستان نے اسرائیلی حملہ سے دس گھنٹہ پہلے ایرانی قیادت کو سٹلائٹ ہیکنگ کی معلومات سے بتا دیا تھا حملہ ہونے والا ہے لیکن مولوی کے پاس بصیرت اور شعور کچھ بھی نہیں تھا ۔ساری فوجی قیادت قتل کروا لی کوئی حفاظتی اقدامات نہیں کئے ۔

ایرانی ملا نے اپنی حماقتوں اور منافقت سے عالم اسلام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا دیا ہے ۔اب سپریم لیڈر کو بل سے نکال کر مار بھی دیا جائے ۔حکومت تبدیل بھی ہو جائے جو ناقابل تلافی نقصان ہو چکا ہے تلافی ممکن نہیں ۔
مولوی کبھی بھارت کی گود میں بیٹھ جاتا تھا ۔کبھی بلوچ عسکریت پسندوں کو چپکے چپکے تھپکی دیتا تھا ۔کبھی بلوچ عسکریت پسندوں کے تحفظ کیلئے پاکستان پر میزائل دے مارتا تھا ۔ایرانی مولوی کبھی بھارت کے ساتھ دفاعی معاہدہ کرتا تھا ۔کبھی گوادر کے مقابلہ میں چاہ بہار بندرگاہ کا منصوبہ بنا کر بھارت کی سہولت کاری کرتا تھا ۔

ملا اب ڈرا بیٹھا ہے ۔چینی اور روسی قیادت کے ساتھ پاکستان کو بھی “بچاؤ بچاؤ” کے پیغامات بھیج رہا ہے۔ ایرانی عوام کو مولوی سے نجات دلانے کا عمل مکمل ہونا چاہئے یا ملا کو اسرائیل سے امن مذاکرات کے زریعے بچانا چاہئے ؟
اسرائیل کو ریاست نھی مانتے سردار ایاز صادق ایران کااسرائیل کوبھرپورقوت سےجواب۔ 3 جھاز اور ایک ایف 35 مار گرایا روس نے ایران کی حمایت کر دی۔ ھیجڑا او آئی سی ابھی تک خاموش تماشائی کا روپ دھارے ھو۔سعودی عرب عرب امارات اور اردن کا مبھم رویہ مسلمانوں کی تاریخ غداروں نے مسلمانوں کو شکست دی دشمن نے نھیپاکستان ایران کے ساتھ کھڑا ہے۔ ظلم کے خلاف خاموشی نہیں مستقل مندوب عاصم۔ سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے جمعے کو لندن میں برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی سے ملاقات۔ گریٹر اسرائیل پلان تیسرے مراحل میں داخل پاکستان کے لیے مشکلات مے اضافہ ۔ تفصیلات کے لیے بادبان نیوز
پاکستان ایران کے ساتھ کھڑا ہےاسرائیلی جارحیت ناقابل قبول ہے ایران کو اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہےاقوام متحدہ میں پاکستان کا دوٹوک اور باوقار مؤقف،ظلم کے خلاف خاموشی نہیں مستقل مندوب عاصم
ایران پر حملے میں شہید کی گئی ایرانی شخصیات کی فہرست جاری کردی
ایران پر حملے میں شہید کی گئی ایرانی شخصیات کی فہرست جاری کردی!! 1- جنرل محمد حسین باقری ( آرمی چیف) 2- جنرل حسین سلامی ( IRGC چیف) 3- میجر جنرل غلام علی راشد ( کماندار ایران آرمی) 4- امیر موسوی ( کماندار ایران آرمی) 5- امیر شہرام ( کماندار ایران نیوی) 6- علی رضا ( کماندار ایران ائیر ڈیفنس) 7- نصیر زادہ ( ائیر فورس کمانڈر) 8 – کیومرث حیدری ( کماندار ایران آرمی) 9- غلام رضا سلمانی ( بسیج فورسز کمانڈر) 10- علی حاجی زادہ ( ائیر فورس کمانڈر) 11- بریگیڈ جنرل اسماعیل قآنی ( IRGC کمانڈر) 12- محمد فعبفر ( کماندار ایران آرمی) 13- رضا تنگرسی ( کمانڈر ایران نیوی
ایران پر اسرائیلی حملہ کی حیران کر دینے والی اطلاعات آرہی ہیں ۔ایک درجن کے قریب ایٹمی سائنسدانوں کو تہران میں گھروں میں اسرائیلی کمانڈوز نے قتل کیا جو نہ جانے کب سے ایران میں موجود تھے ۔کوئی ایک بھی نہیں پکڑا گیا سب کامیاب کاروائی کے بعد غائب ہو گئے ۔ جنگ ہونی ہے اور ضرور ہونی ہے، ایک بڑی جنگ چین کو روکنے اور دیوالیہ امریکہ کو بچانے کیلئے ضروری ہے۔ یہ جنگ نئے ورلڈ ارڈر کا باعث بنے گی، جس میں سپر پاور کی ملکیت مغرب سے مشرق منتقل ہو جائے گی۔
*دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر؟*13 جون 2025 کی رات اسرائیل کی جانب سے ایران پر غیر معمولی فضائی حملے نے عالمی منظرنامے کو ایک نئے اور خطرناک موڑ پر پہنچا دیا ہے۔ جب ایک طرف روس اور یوکرین کے درمیان جنگ چوتھے سال میں داخل ہو چکی ہے اور نیٹو افواج مشرقی یورپ میں غیرمعمولی نقل و حرکت کر رہی ہیں، تو اب مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کا براہِ راست ٹکراؤ ایک ایسی آگ بن چکا ہے جس کی لپیٹ میں پورا خطہ اور بالآخر دنیا آ سکتی ہے۔دو محاذ، ایک خطرہپہلا محاذ — مشرقی یورپ:روس-یوکرین جنگ اب روس اور نیٹو کے براہِ راست تصادم کے قریب ہے۔ حالیہ ہفتوں میں پولینڈ، رومانیہ اور بالٹک ریاستوں میں امریکی اور نیٹو افواج کی موجودگی بڑھ چکی ہے۔ روس نے بیلا روس کے راستے جوابی تیاریوں کا آغاز کیا ہے اور کریمیا کے ساحلوں پر ایٹمی-capable میزائل نصب کر دیے گئے ہیں۔دوسرا محاذ — مشرقِ وسطیٰ:اب ایران پر اسرائیل کے حملے نے دوسرا محاذ کھول دیا ہے۔ ایران کے جوابی اقدام میں حزب اللہ، حوثی باغی، اور عراقی ملیشیائیں متحرک ہو چکی ہیں۔ اگر یہ تصادم خلیج عرب، شام، لبنان اور یمن میں پھیل گیا تو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور بحرین بھی اس کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔عالمی طاقتیں صف بند ہو رہی ہیںروس نے اسرائیلی حملے کی مذمت کرتے ہوئے ایران کے دفاع کی حمایت کا اشارہ دیا ہے۔ چین نے بھی خطے میں امریکی کردار پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ دوسری طرف امریکہ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اسرائیل کا دفاع کرے گا “خواہ حالات جو بھی ہوں۔”یعنی دنیا کی بڑی طاقتیں — امریکہ، روس، چین، برطانیہ اور فرانس — براہِ راست یا بالواسطہ طور پر دونوں محاذوں پر موجود ہیں۔ یہ وہی ترتیب ہے جو 1939 میں دوسری عالمی جنگ سے قبل دیکھی گئی تھی۔اقوام متحدہ کا کردار ایک بار پھر علامتی رہ گیا ہے۔ سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بھی کسی مشترکہ قرارداد پر متفق نہ ہو سکا۔ جب عالمی ادارے بےبس ہو جائیں، طاقت کے مراکز تقسیم ہو جائیں، اور جنگ کے شعلے بیک وقت دو برّاعظموں میں بھڑک اٹھیں — تو تاریخ یہی بتاتی ہے کہ عالمی جنگ قریب ہوتی ہے۔پاکستان، ترکی، سعودی عرب، انڈونیشیا اور دیگر مسلم ممالک کو فوری طور پر ایک مشترکہ موقف اپنانا ہوگا۔ اگر یہ جنگ فرقہ واریت اور پراکسی تنازع میں بدل گئی، تو امتِ مسلمہ شدید نقصان اٹھائے گی۔ پاکستان کو خصوصاً اس وقت حکمت، تدبر اور سفارتی متانت کا مظاہرہ کرنا ہوگا — کیونکہ ہمارا خطہ بھی کسی بڑی جنگ کی چنگاری بن سکتا ہے۔آج دنیا جس نازک موڑ پر کھڑی ہے، وہ محض ایک علاقائی کشمکش نہیں بلکہ عالمی امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ روس-یوکرین جنگ اور ایران-اسرائیل تصادم کا ملاپ ایک ایسی صورتِ حال پیدا کر چکا ہے جو تیسری عالمی جنگ کی بنیاد بن سکتی ہے۔ اگر فوری طور پر عالمی سفارتکاری اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے، تو کل کے مؤرخ لکھیں گے:“تیسری عالمی جنگ کا آغاز ایک غیر رسمی حملے سے ہوا — اور دنیا نے اسے روکا نہیں۔”









