All posts by admin

یہ ہیں جناب ڈاکٹر ذاکر علی عباسی ڈینٹسٹ ۔کوئی ڈگری نہیں ۔کوئی تجربہ نہیں کسی بھی قسم کے میڈیکل یا ڈینٹسٹ فیلڈ کا۔مگر اپنے محسن ڈینٹسٹ سرجن جس کے ساتھ زندگی کا قابل ذکر حصہ گزارا۔۔۔اسے بے شرمی سے دھوکا دیا۔

یہ ہیں جناب ڈاکٹر ذاکر علی عباسی ڈینٹسٹ ۔کوئی ڈگری نہیں ۔کوئی تجربہ نہیں کسی بھی قسم کے میڈیکل یا ڈینٹسٹ فیلڈ کا۔مگر اپنے محسن ڈینٹسٹ سرجن جس کے ساتھ زندگی کا قابل ذکر حصہ گزارا۔۔۔اسے بے شرمی سے دھوکا دیا اور مالی فراڈ کر کے اپنا کلینک راولپنڈی اسلام آباد کے مضافاتی علاقے میں ڈاکٹر ذاکر ڈینٹسٹ کے نام سے کھول لیا اور معصوم لوگوں کی صحت سے کھیلنے لگا۔ایک چالاک مکار اور موقع پرست فراڈیا کمپوڈر ۔زاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن یعنی اب کوے عقابوں کے گھونسلوں کو استعمال کریں گے ۔

جوا باز سلیکٹرز کی چاندنی ٹیم سلیکٹرز کی جائیداد ضبط کرنے کا فیصلہ۔۔ ۔وزارت مذہبی امور میں کرپشن ڈائریکٹر جنرل سومرو نے 90 ھزار حاجی ایک 2 نمبر کمپنی کو فروخت کر دئیے۔مھنگای مھنگای ھاے مھنگای فروٹ دودھ دھی گوشت مرغی دالوں میں 100 فیصد ڈی ایچ اے اسلام آباد میں گرین فریش میں بڑا گوشت 1750 میں فروخت ھونے انتظامیہ لمبی تان کر سو گئے۔۔ای ایم ایف کا وفد پاکستان میں۔۔ یہ ہے یوتھیوں کے تازہ ترین ابے محمود خان پنجاب کے سیاست دانوں کے لیےپیسوں کی خاطر بڑھکیں مارتا ہے اور بلوچستان میں جا کر بلوچوں کے حقوق کا چورن بیچتا ہے۔ پنجاب کے سیاست دانوں کا یہ نوکر آئین اور قانون کی بات کرتا ہے لیکن ڈیورنڈ لائن کو تسلیم نہیں کرتا صرف پیسوں کی خاطر۔محمود خان اچکزئی کی زندگی کا مقصد صرف پیسہ. تفصیلات بادبان ٹی وی پر

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا وفد کل پاکستان پہنچے گا تاکہ اقتصادی جائزہ لے سکے۔ ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف کیساتھ اقتصادی جائزہ مذاکرات 15 مارچ تک جاری رہیں گے۔ مذاکرات کے پہلے مرحلے میں تکنیکی سطح پر بات چیت ہوگی جبکہ دوسرے مرحلے میں پالیسی سطح کے مذاکرات ہوں گے۔آئی ایم ایف کا 9 رکنی وفد نیتھن پورٹر کی قیادت میں تقریباً دو ہفتے پاکستان میں قیام کرے گا۔ یہ وفد آئندہ مالی سال 2025-26 کے بجٹ کے لیے تجاویز بھی فراہم کرے گا، اور آئی ایم ایف کی رضامندی کی صورت میں ہی تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کیا جا سکے گا۔—–ملک کے مختلف شہروں میں پہلی ہی سحری میں گیس غائب ہونے سے کمپنیوں کی جانب سے گیس کی بلاتعطل فراہمی کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ گیس کمپنیوں کے اعلانات کے باوجود مختلف شہروں میں رمضان المبارک کی پہلی سحری میں گیس نہ آنے کی وجہ سے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا،

کراچی اور راولپنڈی کے کئی علاقوں میں گیس نہ ہونے کے باعث خواتین کو گھروں میں سحری کی تیاری میں مشکل پیش آئی اور ہوٹلوں پر عوام کا رش لگ گیا۔بتایا گیا ہے کہ کراچی کے علاقوں رفاہ عام سوسائٹی ملیر، ناظم آباد، گلبہار اور رنچھوڑ لائن میں سحری کے دوران گیس نہ آئی، راولپنڈی کے علاقوں سکستھ روڈ، سیٹلائٹ ٹاون، راو ٔڈھوک کشمیریاں، ڈھوک پراچہ، سروس روڈ کےعلاقوں میں بھی سحری میں لوگ گیس کا انتظار کرتے پائے گئے، ڈھوک کالا خان، خرم کالونی، صادق آباد میں بھی گیس نہ آنے کی شکایات موصول ہوئیں، اسی طرح دیگر کئی علاقوں میں بھی اسی قسم کی صورتحال رہی۔یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ سوئی ناردرن اور سوئی سدرن گیس کمپنی نے ماہ رمضان المبارک کے دوران شہریوں کے لیے سحری اور افطار کے اوقات میں بلاتعطل گیس کی فراہمی کا اعلان کیا تھا، اس حوالے سے، ترجمان ایس این جی پی ایل کا کہنا تھا کہ رمضان المبارک میں گیس صارفین کو بلاتعطل گیس کی فراہمی یقینی بنائے جائے گی، سوئی ناردرن نے سحر اور افطار کے اوقات میں بلا تعطل گیس فراہمی کا عزم کیا ہے، گیس کی بلا تعطل اور مستحکم فراہمی یقینی بنانے کے لیے سوئی ناردرن نے پیشگی اقدامات بھی کیے ہیں، سوئی ناردرن کی جانب سے گیس فراہمی یا کم پریشر کی شکایات کے لیے صارفین کو سوئی ناردرن ہیلپ لائن 1199 پر رابطے کی ہدایت کی گئی۔— گزشتہ سال نومبر میں دونوں ممالک کے درمیان ایک بار پھر تجارت کا آغاز ہوا، جب کراچی سے چٹاگانگ کے لیے سامان کی پہلی کھیپ بھیجی گئی۔بنگلہ دیشی پرائیویٹ کمپنیاں کئی سالوں سے پاکستانی چاول درآمد کرتی آرہی ہیں، لیکن پاکستانی سامان پہلے دوسرے ملکوں، جیسے سری لنکا، ملائیشیا یا سنگاپور میں منتقل کیا جاتا تھا، پھر وہاں سے بنگلہ دیش بھیجا جاتا تھا۔بنگلہ دیش کی وزارت خوراک کے ایک سینئر اہلکار ضیاء الدین احمد نے کہا، ”ہم پہلی بار پاکستان سے 50,000 ٹن چاول درآمد کر رہے ہیں اور یہ دونوں ممالک کے درمیان پہلا حکومتی معاہدہ ہے۔بنگلہ دیش کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فوڈ نے جنوری میں پاکستان کی اسٹیٹ ٹریڈنگ کارپوریشن (TCP) کے ساتھ چاول کی درآمد کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔احمد نے کہا کہ پاکستان سے تجارت ایک خوش آئند شروعات ہے، ان کے مطابق گزشتہ سالوں میں ریاستی حکام نے چاول بھارت، تھائی لینڈ اور ویت نام سے درآمد کیا تھا۔پاکستانی چاول کی درآمدات بنگلہ دیش کے لیے اہم ہیں، کیونکہ بنگلہ دیش موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے دنیا کے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے اور یہاں بڑے علاقے ڈیلٹوں پر مشتمل ہیں، جہاں گنگا اور برہم پترا دریا سمندر میں بہتے ہیں۔—–آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کے پیچھے ایک منظم غیر قانونی اسپیکٹرم ہے، اس اسپیکٹرم کی پشت پناہی کچھ مخصوص عناصر کرتے ہیں۔بہاولپور میں طلبہ سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ جب بھی ریاست اس اسپیکٹرم پر ہاتھ ڈالتی ہے تو ان کے جھوٹے بیانیے سنائی دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب تک عظیم مائیں اپنے بچے پاکستان پر نچھاور کرتی رہیں گی کوئی ہمیں نقصان نہیں پہنچا سکتا، جب تک قوم خصوصاً نوجوان افواج کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے کوئی ہمیں نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ پاکستان اللّٰہ پاک کا عطاء کردہ ایک انمول تحفہ ہے، پاکستان کو اللّٰہ نے بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے، ہمیں کبھی اپنے عقیدے، اسلاف اور معاشرتی اقدار کو نہیں بھولنا چاہیے۔ان کا کہنا ہے کہ ملکی ترقی کے لیے ہم میں سے ہر کسی نے اپنے حصے کی شمع جلانی ہے، بلاوجہ تنقید کے بجائے توجہ اپنی کارکردگی اور فرائض پر مبذول رکھنی ہے۔—–استحکام پاکستان پارٹی کے رہنما محمود مولوی نے آئی پی پی سندھ کی صدارت سے استعفیٰ دے دیا۔اس حوالے سے محمود مولوی کا کہنا ہے کہ صدر آئی پی پی سندھ کے عہدے سے ذاتی وجوہات کے سبب استعفیٰ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ استحکام پاکستان پارٹی اور قیادت کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتا ہوں۔——وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) لاہور زون نے کارروائی کر کے انسانی اسمگلنگ میں ملوث انسانی اسمگلر سمیت 4 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ترجمان ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان میں ریڈ بک کا ایک انتہائی مطلوب ملزم بھی شامل ہے، گرفتار ملزمان سادہ لوح شہریوں سے ویزا فراڈ میں ملوث پائے گئے ہیں۔ترجمان نے بتایا کہ گرفتار ملزم راحیل پرویز ریڈ بک کا مطلوب انسانی اسمگلر ہے، ملزم 2019ء سے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل لاہور کو مطلوب تھا، ملزم نے شہریوں کو کینیڈا بھجوانے کے لیے 90 لاکھ روپے بٹورے۔ایف آئی اے کے ترجمان نے کہا کہ دیگر ملزمان غیر قانونی ٹریول ایجنسی چلا رہے تھے، ملزمان بغیر لائسنس شہریوں سے پاسپورٹ وصول کر رہے تھے۔ترجمان کا کہنا ہے کہ ملزمان بھاری رقوم وصول کر کے ویزا فراڈ کرتے تھے، ملزمان سے 12 پاکستانی پاسپورٹ، تعلیمی دستاویزات اور موبائل سمز برآمد ہوئی ہیں۔ڈائریکٹر ایف آئی اے سرفراز ورک کا کہنا ہے کہ انسانی اسمگلنگ پر زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل جاری ہے۔——-اسلام آباد میں ایم 1 پشاور۔ اسلام آباد موٹروے پر سنگجانی انٹرچینج کے قریب نامعلوم شرپسند موٹروے پولیس کی گاڑی پر فائرنگ کر کے فرار ہوگئے۔ترجمان موٹر وے پولیس کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں سب انسپکٹر اعجاز اور ہیڈ کانسٹیبل ابراہیم معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔ فائرنگ کے نتیجے میں گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی تاہم گاڑی میں سوار دونوں اہلکار محفوظ رہے۔فائرنگ کے بعد ضلعی پولیس کی نفری موقع پر پہنچ گئی، ملزمان کی تلاش اور تفتیش جاری ہے۔——–عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ شاہد خاقان عباسی نے دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کا دورہ کیا۔اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ مولانا حامد الحق اور ان کے والد مولانا سمیع الحق سے گہرے تعلقات تھے بدقسمتی ہے جو ملکی حالات ہیں اس میں کوئی بھی محفوظ نہیں۔شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ اگر ملک میں اتحاد کا مظاہرہ نہیں کریں گے تو دشمن ہم پر بھاری ہو گا۔واضح رہے کہ دو روز قبل نوشہرہ کے دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کی جامع مسجد میں خودکش دھماکا ہوا تھا جس کے نتیجے میں مولانا حامد الحق سمیت 8 نمازی شہید اور 18 زخمی ہوئے تھے۔گزشتہ روز جے یو آئی (س) کے سربراہ مولانا حامد الحق کو ان کے مرحوم والد مولانا سمیع الحق کے پہلو میں سپردِ خاک کیا گیا تھا۔جے یو آئی (س) کے سربراہ مولانا حامد الحق کی نمازِ جنازہ میں سابق امیرِ جماعتِ اسلامی سراج الحق، سابق گورنر کے پی غلام علی اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔—–وزیرِ اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللّٰہ کا کہنا ہے کہ مہنگائی کی رفتار کو مزید نیچے لائیں گے۔فیصل آباد میں مینارٹی کارڈز کی تقسیم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مہنگائی کی رفتار 38 سے 40 فیصد تھی، اسے ہم 3 سے 4 فیصد تک لے آئے ہیں۔رانا ثناء اللّٰہ کا کہنا ہے کہ مہنگائی کی رفتار کو حکومت کنٹرول میں رکھتی ہے۔مسلم لیگ ن کے رہنما نے کہا کہ مینارٹی کارڈ سمیت دیگر پروگرامز کا مقصد آسانی فراہم کرنا ہے، موجودہ مہنگائی میں اس رقم سے سہارا ملے گا۔ان کا مزید کہنا ہے کہ ہمت کارڈ کے بارے میں اس سے پہلے کسی نے بھی نہیں سوچا، یہ اقدامات بلاتفریق ہیں کہ کس نے ہمیں ووٹ دیا کس نے نہیں دیا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کی جب جب خدمت کا موقع ملا بھرپور خدمت کی۔—— وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے بھر میں مہنگائی کے سدباب کے لیے مؤثر اور جامع کریک ڈاؤن کا حکم دے دیا۔مریم نوازکی زیر صدارت تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کا ویڈیو لنک اجلاس ہوا جس میں مریم نواز نے صوبے بھر میں مہنگائی کے سدباب کے لیے مؤثر اور جامع کریک ڈاؤن کا حکم دیا اور ساتھ ہی تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو گراں فروشی کے خلاف مؤثر مہم چلانے کی ہدایت بھی کی۔اس کے علاوہ وزیراعلیٰ پنجاب نے سرکاری ریٹ لسٹ نمایاں آویزاں کرنےکا حکم دیتے ہوئے اشیائےخورد ونوش کی طلب و رسد کے امور کی مانیٹرنگ اور ذخیرہ اندوزی روکنے کیلئے کارروائی کی ہدایت کی۔مزیدبرآں مریم نواز نے نرخ کے بارے میں ڈیلی جامع رپورٹ پیش کرنے اور اشیائے خورد و نوش کے نرخ او رمعیار کو ہر صورت یقینی بنانے کا بھی حکم دیا۔اس موقع پر مریم نواز نے کہا کہ پوری دنیا میں رمضان کے دوران اشیاء کے نرخ کم کیے جاتے ہیں، ہمیں بھی رضا کارانہ طورپر نرخ کم کرنے چاہئیں، سہولت بازاروں میں مارکیٹ سے کم نرخ پر معیاری اشیاء کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ ڈیش بورڈ پر روزانہ بار بار اشیاء خورد ونوش کے نرخ خود چیک کررہی ہوں، گراں فروشی اور ذخیرہ اندوزی کے معاملے میں بلا امتیاز کارروائی کی جائے، گراں فروشی کے خلاف مہم میں کسی سطح پر کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔——ٹیکس ریونیو میں اربوں روپے پھنسے ہوئے ہیں جیساکہ 108000 سے زائد کیسز عدالتوں میں زیر التوا ہیں جن میں کل 4457 ارب روپے پاکستان بھر کی اعلیٰ عدالتوں میں پھنسے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے ملک کی آمدنی کی وصولی اور معاشی استحکام شدید متاثر ہو رہا ہے۔یہ انکشاف 7 نومبر 2024 کو سپریم کورٹ کے اجلاس کے بعد سامنے آیا، جو چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کی صدارت میں منعقد ہوا جس کے بعد سفارشات کےلیے ایک کمیٹی قائم کردی گئی۔اجلاس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور وزارت خزانہ کے حکام نے ٹیکس آمدنی سے متعلق مقدمات کے بڑھتے ہوئے بیک لاگ کی تفصیلات پیش کیں۔سرکاری ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں صرف ٹیکس سے متعلق 6000 مقدمات زیر التواء ہیں، جن میں اربوں روپے کی ممکنہ وصولیاں شامل ہیں۔ اسی طرح، مختلف ٹریبونلز اور عدالتوں میں تقریباً 2 ہزار مقدمات زیر التواء ہیں جہاں اسٹے آرڈرز کے باعث ان کے حل میں کئی سالوں سے تاخیر ہو رہی ہے۔ ان مقدمات کو بروقت حل نہ کرنے سے نہ صرف قانونی رکاوٹیں پیدا ہوئی ہیں بلکہ ٹیکس وصولی کی کوششیں بھی متاثر ہوئی ہیں، جس کے نتیجے میں قومی خزانے کو بھاری مالی نقصان پہنچ رہا ہے۔اس تشویشناک صورتحال کے جواب میں سپریم کورٹ نے اس معاملے کا جائزہ لینے، رکاوٹوں کی نشاندہی کرنے اور ٹیکس سے متعلق تنازعات کے فوری حل کے لیے حل تجویز کرنے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی۔ کمیٹی کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ یہ جائزہ لے کہ ٹیکس آمدنی سے متعلق مقدمات کیوں بڑھ رہے ہیں اور ان کے جلد از جلد حل کے لیے ادارہ جاتی طریقہ کار تجویز کرے۔کمیٹی میں رجسٹرارسپریم کورٹ سلیم خان، عاصم ذوالفقار، شیر شاہ خان ، ڈی جی لا ایف بی آر اشتیاق احمد خان اور ٹیکس ماہر امتیاز احمد خان شامل ہیں۔ جو کہ کمیٹی کے کوآرڈینیٹر ہیں۔ کمیٹی کو ٹاسک دیا گیا تھا کہ وہ جائزہ لیں کہ آخر کیوں کر ریونیو سے متعلق مقدمات بڑھتے چلے جارہے ہٰن اور ادارتی میکنزم کے حوالے سے سفارشات پیش کرین تاکہ ان کا حل تیز تر ہو سکے۔ ان ہی کوششوں کے حصے کے طور پر اس کمیٹی نے تمام اہم اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی ہے جن میں ایف بی آر، سپریم کورٹ بار، پنجاب ٹیکس بار ایسوسی ایشن ، فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور دیگر کاروبار اور صنعت کے نمائندے شامل تھے۔اجلاس میں موجود عہدیداروں نے باور کرایا کہ ان مقدمات کے زیر سماعت ہونے کے کام کی وجہ دراصل اعلیٰ عدلیہ میں مختص ریونیو بینچز کا نہ ہونا ہے۔——متحدہ عرب امارات نے تعلیم کے شعبے میں 16,456 افراد کو گولڈن ویزے جاری کردیے۔تفصیلات کے مطابق حکومت امارات نے تعلیم کے شعبے میں نمایاں کارکردگی دکھانے والوں کو گولڈن ویزے جاری کیے ہیں۔ گولڈن ویزا 10 سال کا رہائشی پرمٹ ہے جو نمایاں کارکردگی دیکھانے والوں کو دیا جاتا ہے۔اماراتی گولڈن ویزا حاصل کرنے والوں میں 10,710 ہائی اسکول کے بہترین طلبہ بھی شامل ہیں جنھوں نے اپنے امتحانات میں 95 فیصد سے زائد نمبرز حاصل کئے۔حکومت نے 5,246 نمایاں یونیورسٹی گریجویٹس کو گولڈن ویزے جاری کیے ہیں جبکہ 337 تعلیمی ماہرین کو بھی گولڈن ویزا دیا گیا ہے۔حکام کے مطابق عالمی سطح پر تسلیم شدہ یونیورسٹیوں کے 147 گریجویٹس اور 16 نمایاں سائنسدانوں کو بھی گولڈن ویزے دیے گئے ہیں۔ابوظبی میں امیگریشن حکام کا کہنا ہے کہ گولڈن ویزا پروگرام کا مقصد عالمی ٹیلنٹ کو متحدہ عرب امارات میں مستقل رہائش فراہم کرنا ہے تاکہ گولڈن ویزا رکھنے والے افراد تعلیم کے شعبے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکیں۔ ——چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) محسن نقوی کو جلد ہی ایک اہم ذمہ داری ملنے جارہی ہے۔ محسن نقوی چیمپئنز ٹرافی کے فائنل کے بعد ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے صدر کا عہدہ سنبھالیں گے۔خیال رہےکہ اس وقت سری لنکا کرکٹ کے صدر شمی سلوا ایشین کرکٹ کونسل کے عبوری صدر ہیں۔

ٹورنامنٹ سے باہر ہونے کے بعد پاکستان میں چیمپئنز ٹرافی کے انتظامات کرنا ایسا ہی ہے جیسے اپنی گرل فرینڈ کی شادی میں کرسیاں لگانا۔ نوجوان ھمارا مستقبل ارمی چیف کور کمانڈر ثاقب ملک ملٹری آپریشن کے سربراہ کاشف عبداللہ اور ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ بھی ھمراہ بڑی خبر کچھ دیر بعد۔۔۔۔جوا باز سلیکٹرز کی چاندنی ٹیم سلیکٹرز کی جائیداد ضبط کرنے کا فیصلہ۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

ٹرمپ اور یوکرائن کے صدر میں سخت جملوں کا تبادلہ ھمے جنگ میں دھکیلنے والہ امریکہ اب ھماری لاشوں پر سودے بازی کر رہا ہے ویت نام کی شکست سے افغانستان کی شکست کھانے والہ امریکہ پاکستان کے ھاتھوں روس کو شکست دلوا کر پاکستان کو دھوکہ دے کر بھارت کو جھولی میں بھٹانے والے امریکی نے یوکرائن کے صدر کو کیا دھمکی دی ویڈیو میں دیکھے صرف بادبان یو ٹیوب پر

چلو او صدر یوکرائن کے ساتھ امریکہ میں کیا ھوا اور ھمارے ساتھ کیا ھو گا جب ذوالفقار علی بھٹو نے نھی مانا پھانسی ضیانے نہ مانا تو سی ون تھرٹی کریش بینظیر نہ مانی تو شھید مشرف نہ مانا تو کیانی اب بھی کچھ ھونے والہ ھے تفصیلات بادبان نیوز پر

چلو آو میں بتاتا ہوں وہاں کیا ہوا امریکہ میں وائٹ ہاؤس، اوول آفس۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک بڑی کرسی پر بیٹھے ہیں، ان کے ساتھ نائب صدر جے ڈی وینس بھی موجود ہیں۔ ساتھ صدر وولودیمیر زیلنسکی براجمان ہیں جو قدرے سنجیدہ اور محتاط نظر آ رہے ہیں۔ٹرمپ: (سیدھا زیلنسکی کی طرف دیکھ کر)”مسٹر زیلنسکی، سیدھی بات ہے، آپ کی جنگ ہماری مدد کے بغیر دو ہفتے بھی نہیں چل سکتی تھی۔ اور پھر بھی، آپ ہمیں شکریہ کہنے میں ہچکچا رہے ہیں؟”زیلنسکی: (سنجیدگی سے)”مسٹر پریزیڈنٹ، یوکرین نے ہمیشہ امریکی عوام کا شکریہ ادا کیا ہے، لیکن صرف امداد کافی نہیں ہے، ہمیں مضبوط سیکیورٹی گارنٹیز کی ضرورت ہے۔”جے ڈی وینس: (ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ)”سیکیورٹی گارنٹیز؟ آپ کو اپنی باتوں میں بھی حقیقت پسندی لانی چاہیے۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ امریکا نے اب تک کتنا خرچ کیا ہے؟”ٹرمپ: “یہ سب جاننے کی ضرورت نہیں، میں بس یہ جاننا چاہتا ہوں کہ آپ ہمیں کب شکریہ کہیں گے!

ہم نے اربوں ڈالر دیے، ہتھیار دیے، حمایت دی، اور آپ ہمیں احسان مند ہونے کا ایک لمحہ بھی نہیں دیتے!”زیلنسکی: (پریشان ہو کر)”مسٹر پریزیڈنٹ، ہماری بقا کا انحصار آپ کی پالیسیوں پر ہے، لیکن کیا آپ بھول گئے کہ روس نے ماضی میں بھی معاہدوں کی خلاف ورزی کی ہے؟ ہمیں مضبوط ضمانتیں چاہییں، ورنہ یہ جنگ کبھی ختم نہیں ہوگی۔”ٹرمپ: (مسکراتے ہوئے)”معاہدوں کی خلاف ورزی؟ تو پھر آپ کیا چاہتے ہیں؟ امریکا آ کر خود آپ کی جنگ لڑے؟”زیلنسکی: (سنجیدگی سے)”میں چاہتا ہوں کہ امریکا اور مغربی دنیا روس کے ساتھ ایسی ڈیل نہ کرے جو یوکرین کے مفادات کے خلاف ہو۔ اوباما اور بائیڈن کی انتظامیہ نے پہلے ہی ایسی غلطیاں کیں جن کا ہم آج خمیازہ بھگت رہے ہیں۔”

جے ڈی وینس: (طنزیہ لہجے میں)”اوہ، تو اب یہ سب ہمارے اوپر ڈال رہے ہیں؟ آپ کے پاس کوئی اور بہانہ نہیں؟”ٹرمپ: (غصے سے)”زیلنسکی، تم ورلڈ وار تھری کا جوا کھیل رہے ہو! اگر تم نے سمجھداری سے کوئی معاہدہ نہ کیا، تو شاید ہم پیچھے ہٹ جائیں!

“زیلنسکی: (مایوسی سے)”ہم روس کے سامنے جھک نہیں سکتے، مسٹر پریزیڈنٹ۔”ٹرمپ: (آنکھ دبا کر)”جھکنے کی ضرورت نہیں، بس تعریف کر دو! کہو: ’تھینک یو، پریزیڈنٹ ٹرمپ، یو آر دا گریٹسٹ!‘ پھر دیکھیں گے کیا ہو سکتا ہے!”زیلنسکی: (ہچکچاتے ہوئے)”میں اس وقت سنجیدہ بات کر رہا ہوں۔”ٹرمپ: (ہنستے ہوئے)”میں بھی! اگر تمہیں ہماری سپورٹ چاہیے تو پہلے ہمارے کام کی قدر کرو!”زیلنسکی: (سر جھٹک کر)”میں غلط جگہ آ گیا ہوں کیا؟”اب آپ بتائیں امریکہ نے یوکرین کے ساتھ ٹھیک کیا؟ اور اب یوکرین کا فیوچر( حشر) کیا ہوگا؟

چلو او صدر یوکرائن کے ساتھ امریکہ میں کیا ھوا اور ھمارے ساتھ کیا ھو گا جب ذوالفقار علی بھٹو نے نھی مانا پھانسی ضیانے نہ مانا تو سی ون تھرٹی کریش بینظیر نہ مانی تو شھید مشرف نہ مانا تو کیانی اب بھی کچھ ھونے والہ ھے تفصیلات بادبان نیوز پر

چلو آو میں بتاتا ہوں وہاں کیا ہوا امریکہ میں وائٹ ہاؤس، اوول آفس۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک بڑی کرسی پر بیٹھے ہیں، ان کے ساتھ نائب صدر جے ڈی وینس بھی موجود ہیں۔ ساتھ صدر وولودیمیر زیلنسکی براجمان ہیں جو قدرے سنجیدہ اور محتاط نظر آ رہے ہیں۔ٹرمپ: (سیدھا زیلنسکی کی طرف دیکھ کر)”مسٹر زیلنسکی، سیدھی بات ہے، آپ کی جنگ ہماری مدد کے بغیر دو ہفتے بھی نہیں چل سکتی تھی۔ اور پھر بھی، آپ ہمیں شکریہ کہنے میں ہچکچا رہے ہیں؟”زیلنسکی: (سنجیدگی سے)”مسٹر پریزیڈنٹ، یوکرین نے ہمیشہ امریکی عوام کا شکریہ ادا کیا ہے، لیکن صرف امداد کافی نہیں ہے، ہمیں مضبوط سیکیورٹی گارنٹیز کی ضرورت ہے۔”جے ڈی وینس: (ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ)”سیکیورٹی گارنٹیز؟ آپ کو اپنی باتوں میں بھی حقیقت پسندی لانی چاہیے۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ امریکا نے اب تک کتنا خرچ کیا ہے؟”ٹرمپ: “یہ سب جاننے کی ضرورت نہیں، میں بس یہ جاننا چاہتا ہوں کہ آپ ہمیں کب شکریہ کہیں گے! ہم نے اربوں ڈالر دیے، ہتھیار دیے، حمایت دی، اور آپ ہمیں احسان مند ہونے کا ایک لمحہ بھی نہیں دیتے!”زیلنسکی: (پریشان ہو کر)”مسٹر پریزیڈنٹ، ہماری بقا کا انحصار آپ کی پالیسیوں پر ہے، لیکن کیا آپ بھول گئے کہ روس نے ماضی میں بھی معاہدوں کی خلاف ورزی کی ہے؟ ہمیں مضبوط ضمانتیں چاہییں، ورنہ یہ جنگ کبھی ختم نہیں ہوگی۔”ٹرمپ: (مسکراتے ہوئے)”معاہدوں کی خلاف ورزی؟ تو پھر آپ کیا چاہتے ہیں؟ امریکا آ کر خود آپ کی جنگ لڑے؟”زیلنسکی: (سنجیدگی سے)”میں چاہتا ہوں کہ امریکا اور مغربی دنیا روس کے ساتھ ایسی ڈیل نہ کرے جو یوکرین کے مفادات کے خلاف ہو۔ اوباما اور بائیڈن کی انتظامیہ نے پہلے ہی ایسی غلطیاں کیں جن کا ہم آج خمیازہ بھگت رہے ہیں۔”جے ڈی وینس: (طنزیہ لہجے میں)”اوہ، تو اب یہ سب ہمارے اوپر ڈال رہے ہیں؟ آپ کے پاس کوئی اور بہانہ نہیں؟”ٹرمپ: (غصے سے)”زیلنسکی، تم ورلڈ وار تھری کا جوا کھیل رہے ہو! اگر تم نے سمجھداری سے کوئی معاہدہ نہ کیا، تو شاید ہم پیچھے ہٹ جائیں!”زیلنسکی: (مایوسی سے)”ہم روس کے سامنے جھک نہیں سکتے، مسٹر پریزیڈنٹ۔”ٹرمپ: (آنکھ دبا کر)”جھکنے کی ضرورت نہیں، بس تعریف کر دو! کہو: ’تھینک یو، پریزیڈنٹ ٹرمپ، یو آر دا گریٹسٹ!‘ پھر دیکھیں گے کیا ہو سکتا ہے!”زیلنسکی: (ہچکچاتے ہوئے)”میں اس وقت سنجیدہ بات کر رہا ہوں۔”ٹرمپ: (ہنستے ہوئے)”میں بھی! اگر تمہیں ہماری سپورٹ چاہیے تو پہلے ہمارے کام کی قدر کرو!”زیلنسکی: (سر جھٹک کر)”میں غلط جگہ آ گیا ہوں کیا؟”اب آپ بتائیں امریکہ نے یوکرین کے ساتھ ٹھیک کیا؟ اور اب یوکرین کا فیوچر( حشر) کیا ہوگا؟

ائینی بنچ میں 5 ججز کا اضافہ۔ افغانستان میں چھوڑے گئے ھتھیار پاکستان کے خلاف استعمال ھو رھے ھے۔۔افغانستان کی پاکستانی سرحد پر چیک پوسٹ قائم کرنے کی کوشش۔۔پیپلز پارٹی اور نواز لیگ میں چوھے اور بلی کا کھیل ختم۔۔رمضان المبارک سے مھنگای میں 200 سے 500 فیصد مزید مھنگی۔۔اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق گزشتہ 2 دھائیوں سے زائد اقتدار میں رہنے کے باوجود تمام عیبوں سے پاک میرٹ مییرٹ اور بس میرٹ۔۔اکوڑہ خٹک پر حملہ افغان حکومت کی تبدیلی۔۔ ۔حقانی نیٹ ورک اور افغان سپریم لیڈر ہیبت اللہ کی اندرونی لڑائی بہت جلد خانہ جنگی کی شکل۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

“غربت: ایک تلخ حقیقت اور پوری انسانیت کا المیہ”لوگ آپ کے حالات سے ہاتھ ملاتے ہیں، آپ سے نہیں۔ یہ زندگی کی ایک تلخ حقیقت ہے۔زندگی میں ہر دکھ اور تکلیف برداشت کی جاسکتی ہے،

مگر غربت ایسا بوجھ ہے جو انسان کی خودداری، عزتِ نفس، اور خوابوں کو بے دردی سے روند دیتا ہے۔ جب وسائل نہ ہوں تو دنیا کا رویہ بدل جاتا ہے۔

آپ کی بات کا وزن کم ہو جاتا ہے، اور لوگ آپ کو ایسے دیکھتے ہیں جیسے آپ میں کوئی بڑی کمی ہو۔

بے روزگاری جوانی میں ذلت و رسوائی کا دوسرا نام بن جاتی ہے، اور کبھی تو یہ لگتا ہے کہ فقر و افلاس موت سے بھی بدتر ہے۔غربت صرف جیب کو خالی نہیں کرتی بلکہ دل و دماغ پر گہرے زخم چھوڑ جاتی ہے۔ یہ ایک ایسا “عیب” بن جاتی ہے

جو انسان کی تمام خوبیاں چھپا دیتی ہے۔ لوگ وسائل کے بغیر آپ کی محنت اور خلوص کو دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے، اور یہ دنیا کی بے رحمی کو ظاہر کرتا ہے۔کیا واقعی انسان کی قدر صرف اس کی دولت سے کی جاتی ہے؟ کیا عزت اور خودداری صرف پیسے کی محتاج ہے؟ یا یہ ہم ہیں جنہوں نے اپنی اقدار کو دولت کے پیمانے پر تولنا شروع کردیا ہے؟ یہ ایسے سوالات ہیں جو دل کو جھنجھوڑ دیتے ہیں اور ہمیں مجبور کرتے ہیں کہ اس دنیا کی حقیقت پر غور کریں۔

*الرٹ بلوچستان:**کوئٹہ، جان محمد روڈ پر دھماکہ* کوئٹہ کے علاقے جان محمد روڈ پر گیلانی روڈ کراس کے مقام پر فورسز کی گاڑی کے قریب دھماکہدھماکہ ایف سی کی گاڑی پے ہوا ہےبم موٹر سائیکل میں نصب تھا۔ پولیس ذرائعصوبہ بلوچستان کے شہر کوئٹہ کے جان محمد روڈ پر سیکیورٹی فورسز کی گاڑی کو نشانہ بنانے والے دھماکے میں 1 سیکیورٹی اہلکاروں سمیت کم از کم 9 افراد زخمی ہوگئے۔پولیس*Injured in blast*Imran FC subedarM. Ashfaq s/o zareef khanM. HashamWaqasMohibullahSala udinSher AliAlim DeenAamir

سیاست تباہ، معیشت تباہ، ادارے تباہ،۔۔، معیشت تباہ، ادارے تباہ، تجارت کاروبار، انٹرنیٹ،آئین، عدالت اور اب کرکٹ بھی تباہ کردی. لیکن ان کی ترقی ہورہی۔۔انگلینڈ اور پاکستان کرکٹ ٹیم کوالیفائی روڈ کھیل کر ولڈکپ میں حصہ لینگی۔۔ٹریفک پولیس مامے کی شادی پر میلوں لمبی لائن۔۔وزراء کے قلم دان اج تقسیم ھونگے۔۔عوام کی نوکریاں ختم، 24نئے وزیر کابینہ میں شامل،۔۔سیاست تباہ، معیشت تباہ، ادارے تباہ،۔۔، معیشت تباہ، ادارے تباہ، تجارت کاروبار، انٹرنیٹ،آئین، عدالت اور اب کرکٹ بھی تباہ کردی. لیکن ان کی ترقی ہورہی۔۔سیاست تباہ، معیشت تباہ، ادارے تباہ، تجارت کاروبار، انٹرنیٹ، آئین، عدالت اور اب کرکٹ بھی تباہ کردی.۔۔موسمیاتی مینڈکوں کی آمد۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

ایک اور لیفٹیننٹ جنرل برطرف راز بیچنے کا الزام تفصیلات بادبان ٹی وی پر

# لیفٹیننٹ جنرل ایم وی سچندرا کمار (کمانڈر آف ناردرن کمان) کے خلاف ان کے ڈپٹی چیف کے دور میں انتہائی حساس/ ٹاپ سیکرٹ ڈیٹا کو مبینہ طور پر لیک کرنے پر اعلیٰ سطحی انکوائری شروع کر دی گئی ہے۔

اسلام آباد مے قتل کی لرزہ خیر واردات تفصیلات بادبان ٹی وی پر

اسلام آباد میں واقع فیصل مسجد میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے جس کی وجہ بھی سامنے آ گئی۔اسلام آباد پولیس کے مطابق راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے شہری فیضان علی نے فیصل مسجد میں خود کو گولی مار کر خودکشی کر لی ہے۔پولیس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ شہری کی لاش اسپتال منتقل کر کے قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔—–سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے سماعت کی۔ دورانِ سماعت سول سوسائٹی کے وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ کمانڈنگ افسرز نے ملزمان کی حوالگی کے لیے درخواستیں دیں، درخواستوں کا آغاز ہی ان الفاظ سے ہوا کہ ابتدائی تفتیش میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ کا جرم بنتا ہے، درخواست کے یہ الفاظ اعتراف ہیں کہ تفتیش مکمل نہیں ہوئی تھی، ملزمان کی حوالگی کے لیے انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کی وجوہات مضحکہ خیز ہیں، انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے ایڈمنسٹریٹیو جج نے ملزمان کی حوالگی کے احکامات دیے، عدالت نے ملزمان کو تفتیش مکمل ہونے سے پہلے ہی قصور وار لکھ دیا۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ راولپنڈی اور لاہور کی عدالتوں کے حکم ناموں کے الفاظ بالکل ایک جیسے ہیں۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ لگتا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں کے ججز کی انگریزی کے کافی مسائل ہیں۔ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ ملزمان کی حوالگی کا حکم عدالت دے سکتی ہے، ایڈمنسٹریٹیو جج نہیں، آرمی ایکٹ سیکشن 59 (1) کے تحت فوجی افسران کی قتل و دیگر جرائم میں سول عدالت سے کسٹڈی لی جا سکتی ہے۔جسٹس جمال مندوخیل نے وکیل سے کہا کہ میرے حساب سے تو 59 (4) کا اطلاق بھی ان پر ہی ہوتا ہے جو آرمی ایکٹ کے تابع ہوں، آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت حوالگی تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہو گی۔وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ جن مقدمات میں حوالگی کی درخواستیں دی گئیں ان میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی دفعات نہیں تھیں۔جسٹس محمد علی مظہر نے وکیل سے کہا کہ ایک ایف آئی آر میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی دفعات بھی عائد تھیں۔وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ وہ ایف آئی آر مجھے ریکارڈ میں نظر نہیں آئی۔جسٹس حسن اظہر رضوی نے وکیل فیصل صدیقی سے کہا کہ حوالگی والی ایف آئی آر پڑھیں، اس میں الزام فوجی تنصیب کے باہر توڑ پھوڑ کا ہے۔وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ عدالتیں اسی لیے ہوتی ہیں کہ قانون کا غلط استعمال روکا جا سکے، احمد فراز کو شاعری کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا، عدالت نے ریلیف دیا تھا، ان پر الزام تھا کہ شاعری کے ذریعے آرمی افسر کو اکسایا گیا، احمد فراز اور فیض احمد فیض کے ڈاکٹر میرے والد تھے، مجھ پر بھی اکسانے کا الزام لگا، لیکن میں گرفتار نہیں ہوا۔جسٹس جمال مندوخیل نے ہلکے پھلکے انداز میں وکیل کو کہا کہ آپ کو اب گرفتار کرا دیتے ہیں۔وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ آپ ججز کے ہوتے ہوئے مجھے کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔جسٹس مسرت ہلالی نے وکیل سے کہا کہ احمد فراز کی کونسی نظم پر کیس بنا تھا، مجھے تو ساری یاد ہیں، بطور وکیل کیس ہارنے کے بعد میں بار میں بہت شور کرتی تھی، کہتی تھی ججز نے ٹرک ڈرائیورز کی طرح اشارہ کہیں کا دیا اور گئے کہیں اور، میری بات کو گہرائی میں سمجھنے کی کوشش کریں۔جسٹس حسن اظہر رضوی نے جسٹس مسرت ہلالی سے کہا کہ کیا آپ بھی ٹرک چلاتی ہیں؟جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ ٹرک تو میں چلا سکتی ہوں، میرے والد ایک فریڈم فائٹر تھے، ان کی ساری عمر جیلوں میں ہی گزری، میرے والد کی شاعری ان کی وفات کے بعد ایک پشتون جرگے میں کسی نے پڑھی تھی، وہاں میرے والد کی شاعری پڑھنے والا گرفتار ہو گیا تھا، شاعری پڑھنے والے نے بتایا کہ کس کا کلام ہے اور اس کی بیٹی آج کون ہے، میرے والد کی شاعری پڑھنے والے کو بہت مشکل سے رہائی ملی۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ وقت کے حساب سے شاعری اچھی بری لگتی رہتی ہے۔جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ اب تو چرسی تکہ والے کو بھی اصلی چرسی تکہ لکھنا پڑتا ہے۔وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ مجھے آپ تمام ججز سے اچھے کی اُمید ہے۔جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ پیوستہ رہ شجر سے امیدِ بہار رکھنے والے ہیں۔جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ ہلکے پھلکے انداز میں کچھ کہنا چاہتا ہوں، شاعر احمد فراز نے تو عدالت میں یہ کہہ دیا تھا کہ یہ نظم میری ہے ہی نہیں، جسٹس افضل ظُلہ نے کہا آپ کوئی ایسی نظم لکھ دیں کہ فوجی کے جذبات کی ترجمانی ہو جائے، احمد فراز نے اپنے دفاع میں کہا تھا کہ وسائل ہی نہیں کہ اپنی نظم کی تشہیر کر سکوں، آج کل تو سوشل میڈیا کا زمانہ ہے، اس دور میں اگر احمد فراز ہوتے تو وہ یہ دفاع نہیں لے سکتے تھے۔وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ اب جسٹس ہلالی نے بتا دیا ہے وہ فریڈم فائٹر کی بیٹی ہیں۔جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ میں خود بھی ایک فائٹر ہوں۔وکیل فیصل صدیقی نے جسٹس مسرت ہلالی سے کہا کہ اس میں تو کوئی شک نہیں ہے، وکلاء تحریک میں آپ کا کردار یاد ہے۔جسٹس نعیم اختر افغان نے وکیل سے کہا کہ آپ کیس کے میرٹس پر دلائل دے رہے ہیں، اگر آرمی ایکٹ کی دفعات کالعدم ہوئیں تو آپ کے دلائل غیر متعلقہ ہو جائیں گے۔جسٹس امین الدین نے وکیل سے کہا کہ آپ بہت سی چیزوں کو مکس کر گئے ہیں۔وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ میں عدالت کے سامنے ایک مینیو رکھ رہا ہوں، مینیو میں مختلف آپشن ہیں، عدالت کوئی بھی لے سکتی ہے، مجھے تو ریلیف چاہیے وہ کسی بھی طرح ملے۔جسٹس جمال مندوخیل نے وکیل سے کہا کہ مینیو وہ والا رکھیں جو عملاً ممکن بھی ہو۔ جسٹس مسرت ہلالی نے وکیل سے کہا کہ آج بارش ہو رہی ہے، مینیو اس کے حساب سے ہی رکھیں۔سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے ملٹری کورٹ میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت پیر تک ملتوی کر دی۔