All posts by admin

دبئی کے ولی عہد اج پاکستان کا دورہ کریں گے۔احسن بھون جوڈیشل کمیشن کے ممبر بن گئے۔۔سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے 60 پاکستانیوں کو بے دخل کر دیا۔۔یوکرین کے تین اعلیٰ عہدیداروں نے کی ہے کہ واشنگٹن اور کیف نے ایک وسیع اقتصادی معاہدہ کرنے پر اتفاق کیا ہے جس میں یوکرین کے نایاب معدنی ذخائر تک امریکہ کی رسائی شامل ہوگی۔۔۔وائیٹ ھاوس کی نئی ایس او پی۔۔افغانستان اپنی زمین دھشت گردی کے لئے استعمال نہ ہونے دے۔۔خفیہ اداروں نے متحدہ اپوزیشن اور پی ٹی آئی کے کانفرنس روک لیا، ہوٹل والوں کو کیا دھمکی دے۔۔پاکستان میں مھنگای دھشت گردی اور خودکشیوں میں اضافہ۔۔ایک سال مے 200 خودکشیاں 290 دھشت گردی کے واقعات اور 300 فیصد مھنگای میں اضافہ۔۔13 ھزار نوجوان پروفیشنل ملک کو چھوڑ کر چلے گئے۔۔پاکستان میں مھنگای کا طوفان زندگی سسکیاں لینے لگی عوام کو ریلیف دینے کی بجائے ازیت۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

سرین ائیر لائن ایک ھفتہ مے 22 فلائیٹ کینسل۔ڈائریکٹر جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی سرین ائیر لائن کا فرنٹ مین۔کراچی سے 502 جمعہ کو کینسل 504 اتوار کو کینسل۔ منگل کو دونوں فلایٹ کینسل بدھ کو ای ار 500 ای ر 504 کینسل۔ ائیر مارشل صیفدر اور ائیر مارشل گل اس ائیر لائن کے مالک۔۔۔۔وی لاگ دیکھنے کے لیے اوپر لنک پر کلک کریں

پنجاب میں 100 سال سے زائد پرانے فوجداری قوانین تبدیل۔کھربوں روپے کی اوور بلنگ کرنے والوں کو وارننگ دے کر چھوڑ دیا گیا۔پارٹی عھدے چھوڑ دے عمران خان۔سویلین کے فوجی عدالتوں پر فیصلہ جمعہ کو۔۔مسرت ہلالی اور بھنڈار ی میں دلچسپ جملوں کا تبادلہ کور کمانڈر کھا اور ھم۔۔سات رکنی بینچ اپ کچھ کھتے ھے اور آپ کے موکل کچھ اور۔ افغان کو 30 جون تک کی آخری وارننگ جاری کردی گئی۔4 بڑے پلٹو 10 بروکرز کو ایک ھزار پلاٹ دینے پر گرفتار؟؟ایران سے تجارتی تعلقات میں توسیع۔۔۔۔عوام کو بجلی کی اوور بلنگ کرنے والوں کو چھوڑ دیا گیا 21 ارب اوور 121 ارب روپے کی کرپشن۔۔بھارت ٹوٹنے کے قریب کان میں پھنسے 73 بھارتیوں کو نکالہ نہ جا سکا۔۔تفصیلات کے لیے بادبان نیوز

لاہور ہائیکورٹ میں سائل کی جانب سے پٹرول چھڑک کر خود کو آگ لگانے کے معاملے پر ایس پی سکیورٹی تبدیل ، ڈی ایس پی کو معطل کردیا گیا۔ تفصیلات بادبان ٹی وی پر

لاہور ہائیکورٹ میں سائل کی جانب سے پٹرول چھڑک کر خود کو آگ لگانے کے معاملے پر ایس پی سکیورٹی تبدیل ، ڈی ایس پی کو معطل کردیا گیا۔واقعہ کے بعد چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے ناقص سکیورٹی پر سخت نوٹس لیا تھا، جس پر آئی جی پنجاب نے ایس پی سکیورٹی خرم شہزاد کو ہٹانے اور خالد ملک کو معطل کرنے کے احکامات جاری کیے۔دوسری جانب ایس پی عادل عامر کو ایس پی سکیورٹی ہائیکورٹ تعینات کر دیا جبکہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نےایڈیشنل رجسٹرار سکیورٹی کو بھی وضاحت جمع کروانے کا حکم دے دیا۔

پنجاب میں 100 سال سے زائد پرانے فوجداری قوانین کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق قوانین تبدیل کرنے کے لیے قانونی اصلاحات کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ڈی آئی جی کامران عادل کمیٹی کے سربراہ اور ایڈیشنل سیکرٹری (جوڈیشل) محکمہ داخلہ عمران حسین رانجھا سیکرٹری ہوں گے

پنجاب میں 100 سال سے زائد پرانے فوجداری قوانین کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق قوانین تبدیل کرنے کے لیے قانونی اصلاحات کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ڈی آئی جی کامران عادل کمیٹی کے سربراہ اور ایڈیشنل سیکرٹری (جوڈیشل) محکمہ داخلہ عمران حسین رانجھا سیکرٹری ہوں گے، ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ قانون محمد یونس، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب حسن خالد اور نمائندہ پراسیکیوٹر جنرل پنجاب کمیٹی ممبران میں شامل ہیں۔یہ قانونی اصلاحات کمیٹی 3 ماہ میں رپورٹ محکمۂ داخلہ کو پیش کرے گی۔ترجمان کے مطابق کمیٹی فوجداری قوانین کو جدید اور مؤثر بنانے کے لیے سفارشات پیش کرے گی، کمیٹی ضابطہ فوجداری 1898، تعزیرات پاکستان 1860 میں ترامیم کا مسودہ تیار کرے گی۔کمیٹی قانون شہادت آرڈر 1984 میں ترامیم اور قومی سلامتی کے قانون کا مسودہ تیار کرے گی جبکہ جرائم کی روک تھام، قانون کے مؤثر نفاذ امن عامہ کی بحالی سے متعلق قانونی اصلاحات لائی جائیں گی۔کمیٹی پنجاب میں خصوصاً خواتین اور بچوں کے تحفظ، انسداد دہشت گردی، سائبر کرائم، سائبر سکیورٹی، بین الصوبائی رابطہ سے متعلق قوانین میں ترامیم تجویز کرے گی۔یہ کمیٹی جدید سائنسی تکنیک، قوانین اور معاشرتی تقاضوں سے ہم آہنگ ترامیم بھی تجویز کرے گی۔

سویلینز کے ملٹری ٹرائل کیس کی سماعت کے دوران جسٹس مسرت ہلالی نے بانی پی ٹی آئی کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا مو¿کل کہتا ہے جن کے پاس اختیارات ہیں ان سے بات کروں گا،جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دئیے کہ آپ ایک بات کررہے ہیں اور آپ کے موکل دوسری بات کرتے ہیں، عمران خان کے وکیل عزیر بھنڈاری نے موقف اختیار کیا کہ کمرہ عدالت سے جو باہر ہے اس پر بات نہیں کروں گا

سویلینز کے ملٹری ٹرائل کیس کی سماعت کے دوران جسٹس مسرت ہلالی نے بانی پی ٹی آئی کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا مو¿کل کہتا ہے جن کے پاس اختیارات ہیں ان سے بات کروں گا،جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دئیے کہ آپ ایک بات کررہے ہیں اور آپ کے موکل دوسری بات کرتے ہیں، عمران خان کے وکیل عزیر بھنڈاری نے موقف اختیار کیا کہ کمرہ عدالت سے جو باہر ہے اس پر بات نہیں کروں گا۔سپریم کورٹ میں سویلینز کے ملٹری ٹرائل کیخلاف انٹراکورٹ اپیل پر سماعت جاری ہے۔جسٹس امین الدین خان کی سربراہی سات رکنی آئینی بنچ کیس کی سماعت کررہا ہے۔ سماعت کے دوران جسٹس مسرت ہلالی نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے متعلق اہم مکالمہ کیا۔وکیل عزیر بھنڈاری نے موقف اپنایا کہ ہمیں اس مائنڈ سیٹ سے نکلنا ہے کہ فوج ہی سب کچھ کرسکتی ہے۔کور کمانڈر ہاوس پر حملہ ہوا ڈیفنڈ کیوں نہیں کیا گیا۔جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہآپ ایک بات کررہے ہیں، آپ کے موکل دوسری بات کرتے ہیں۔ آپ کا موکل کہتا ہے جن کے پاس اختیارات ہیں، ان سے بات کروں گا۔ عمران خان کے وکیل عزیر بھنڈاری نے موقف اختیار کیا کہ کمرہ عدالت سے جو باہر ہے اس پر بات نہیں کروں گا جس پر جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیئے کہ یہ سیاست کی بات نہیں، حقیقت کی بات ہے۔سماعت کے آغاز پر جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ آئین کے وقت ایوب خان کا دور تھا، کیا ایوب خان کے دور میں لوگوں کو بنیادی حقوق میسر تھے؟۔ وکیل عزیر بھنڈاری نے جواب دیا کہ اس وقت بھی بنیادی حقوق اصلاًدستیاب نہیں تھے۔ سویلینز کی حد تک کرمنل دفعات پہ ٹرائل عام عدالت ہی کر سکتی ہے۔ آرڈیننس میں بہت ساری دفعات تھیں جو آرمڈ فورسز کے حوالے سے تھیں۔جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دئیے کہ فوجی تنصیبات پر حملہ ہوا، ان کی سیکیورٹی کسی آرمی پرسنل کے کنٹرول میں ہوگی، جہاں ملٹری کی شمولیت ہو، وہاں ملٹری کورٹ شامل ہوں گی۔جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ یہاں تعلق سے کیا مراد ہے؟ وکیل بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ آرمی ایکٹ خود کو سبجیکٹ کر سکتا ہے یا نہیں، کس قانون کے تحت کیا جا سکتا ہے وہ متعلقہ ہے یا نہیں۔جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ محرم علی کیس اور راولپنڈی بار کیس میں دہشتگردی کی دفعات تھیں۔عذیر بھنڈاری نے استدلال کیا کہ 103 افراد ایسے ہیں جن کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں ہو رہا ہے۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دئیے کہ میڈیا پر ہم نے فوٹیجز دیکھی ہیں۔وکیل بانی پی ٹی آئی عزیر بھنڈاری نے دلائل جاری رکھتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ اس کیس میں عدالت نے طے کرنا ہے قانون کو کس حد تک وسعت دی جاسکتی ہے۔21ویں آئینی ترمیم کے باوجود عدالت نے قرار دیا مخصوص حالات کے سبب ترمیم لائی گئی۔ آرمی ایکٹ کا سویلین پر اطلاق کرنے کیلئے آئینی تحفظ دینا پڑے گا۔عزیر بھنڈاری نے دلیل دی کہ فوجی کے حلف میں لکھا ہوتا ہے افسر کا حکم زندگی سے زیادہ ضروری ہے۔جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں فوج دوران جنگ ہی جواب دے سکتی ہے، گھر پر حملے کا نہیں۔جسٹس امین الدین خان نے استفسار کیا کہ کیا کسی ممبر اسمبلی نے آرمی ایکٹ کے خلاف اسمبلی میں آواز اٹھائی ؟ کیا کوئی رکن اسمبلی آج تک آرمی ایکٹ کے خلاف پرائیویٹ بل لایا ؟ وکیل عزیر بھنڈاری نے استدلال کیا کہ اب معاملہ عدالت کے سامنے ہے۔

سیکیورٹی اداروں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کا کارڈ استعمال کرنے والے 7 افراد کو گرفتار کر لیاہے جو کہ کسی اور کو جاری کیئے گئے کارڈز استعمال کر رہے تھے ۔ذرائع کے مطابق گرفتار افراد سے برآمد ہونے والے پی سی بی کارڈز انسایٹ سولوشن وینڈرز کو جاری کیئے گئے تھے

سیکیورٹی اداروں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کا کارڈ استعمال کرنے والے 7 افراد کو گرفتار کر لیاہے جو کہ کسی اور کو جاری کیئے گئے کارڈز استعمال کر رہے تھے ۔ذرائع کے مطابق گرفتار افراد سے برآمد ہونے والے پی سی بی کارڈز انسایٹ سولوشن وینڈرز کو جاری کیئے گئے تھے ، جن افراد کو گرفتار ان میں سوہان کے جنید عباسی ، شاہزیب عباسی، پنڈورہ کے نفیس عباسی ، فوجی کالونی کے بلاول خان ، غفار خان بارہ کہو کے محمد علی ، پنڈورہ کے رئیس عباسی شامل ہیں ۔پی سی بی کے سیکیورٹی افسر مذاہب الرحمن نے ان افراد کو اجازت دی ، محمد عرفان اسسٹنٹ مینجر ایڈمن بھی شامل ہیں، انسایٹ سولوشن کے ان افراد کو ڈیلی ویجز پر بھرتی کیا گیا تھا ۔

طالبان نے برطانوی جوڑے کو گرفتار کر لیا، تعلیم پر ایک اور وار 2021 میں افغانستان پر قابض ہونے کے بعد طالبان نے ہر ممکن قدم اٹھایا کر خواتین کو گھروں تک محدود کر دیا ہے طالبان نے خواتین کی تعلیم پر پابندی لگا کر 14 لاکھ سے زائد لڑکیوں کو اسکول جانے سے محروم کر دی

*طالبان نے برطانوی جوڑے کو گرفتار کر لیا، تعلیم پر ایک اور وار*2021 میں افغانستان پر قابض ہونے کے بعد طالبان نے ہر ممکن قدم اٹھایا کر خواتین کو گھروں تک محدود کر دیا ہے طالبان نے خواتین کی تعلیم پر پابندی لگا کر 14 لاکھ سے زائد لڑکیوں کو اسکول جانے سے محروم کر دیاحال ہی میں افغانستان میں تعلیمی پروگرام چلانے والے برطانوی جوڑے کو طالبان نے حراست میں لے لیا افغانستان میں تعلیمی پروگرام چلانے والے 70 سالہ برطانوی جوڑے کا حراست میں لیے جانے کے بعد ان کے بچوں سے رابطہ منقطع ہو گیابرطانوی جوڑے کی ری بلڈ نامی تنظیم کاروباری اداروں، تعلیمی اور غیر سرکاری تنظیموں کو تعلیم و تربیت فراہمی کرتی ہےپیٹر رینالڈز اور ان کی اہلیہ باربی کو طالبان نے 18 سال افغانستان میں رہ کر خواتین کے لیے تعلیمی پروگرام چلانے پر گرفتار کیاان کا ایک کورس ماؤں کو بچوں کی پرورش کی تربیت دیتا تھا جو طالبان کی پابندیوں کے باوجود حکام سے منظور شدہ تھاپیٹر اور باربی کو یکم فروری کو بامیان صوبے کے نایک میں اپنے گھر پہنچتے ہی گرفتار کر لیا گیا، بی بی سیگرفتاری کے بعد جوڑے کا بچوں سے پیغامات کے ذریعے رابطہ رہا مگر تین دن بعد پیغامات آنا بند ہو گئے برطانوی جوڑے کے بچوں نے طالبان کو خط میں والدین کی رہائی کی اپیل کیان کی بیٹی سارہ انٹویسل نے میڈیا کو بتایا کہ؛”یہ طالبان کا انتہائی غلط اقدام ہے” میری ماں 75 سال کی ہیں اور والد تقریباً 80 کے، انہیں منی اسٹروک کے بعد سے دل کی دوا کی ضرورت رہتی ہے، بیٹیوہ صرف اس ملک کی مدد کرنا چاہتے تھے جس سے وہ محبت کرتے ہیں، بیٹییہ سوچنا کہ انہیں ماؤں اور بچوں کو تعلیم دینے پر حراست میں لیا گیا ہے بالکل ناقابل قبول ہے، بیٹیوالدین نے افغان خواتین کو ضرورت کے وقت چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا، والدین قوانین میں تبدیلی کے باوجود ان کی مکمل پاسداری کرتے رہے، بیٹیہم نے برطانوی دفتر خارجہ سے رابطہ کیا مگر برطانیہ طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کرتا اور کابل میں اس کا کوئی سفارت خانہ نہیں جس کے باعث حکام مدد فراہم کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں، بیٹیہمارے والدین کو رہا کیا جائے تاکہ وہ افغانستان میں تعلیم، تربیت اور خدمت کا کام جاری رکھ سکیں، بیٹیری بلڈ تنظیم کے مطابق؛ برطانوی جوڑے کو وسطی بامیان صوبے میں ان کے گھر سے ایک اور غیر ملکی اور ایک افغان شہری سمیت حراست میں لیا گیاگرفتار جوڑا دو سال سے زائد عرصے سے وہاں مقیم تھا اور ان کے پاس افغان شناختی کارڈ بھی تھے، ری بلڈ تنظیمطالبان حکام پہلے بھی ان کے گھر کی تلاشی لے چکے تھے اور انہیں کابل لے جانے کے بعد دوبارہ بامیان واپس بھیج دیا تھا، ری بلڈ تنظیم کابل سے ایک وفد بامیان کے صوبائی حکام کے ساتھ آیا اور انہیں دوبارہ کابل لے گیا اب تقریباً 17 دن ہو چکے ہیں اور ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں، ری بلڈ تنظیم