All posts by admin

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی سروکئی، جنوبی وزیرِستان میں خارجیوں کے خلاف کامیاب آپریشن اور چار خارجیوں کو جہنم واصل کرنے پر سیکیورٹی فورسز کے افسران و جوانوں کی پزیرائی

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی سروکئی، جنوبی وزیرِستان میں خارجیوں کے خلاف کامیاب آپریشن اور چار خارجیوں کو جہنم واصل کرنے پر سیکیورٹی فورسز کے افسران و جوانوں کی پزیرائی.دھشتگردی کے ناسور کے ملک سے مکمل خاتمے تک اس کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے. وزیرِاعظمدھشتگردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے. وزیرِاعظم

رواں مالی سال انکم ٹیکس گوشواروں کی تعداد 51 لاکھ 52 ہزار سے تجاوز کر گئی۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو ( ایف بی آر ) کی نان فائلرز پر پابندیوں کی دھمکی کام کرگئی

رواں مالی سال انکم ٹیکس گوشواروں کی تعداد 51 لاکھ 52 ہزار سے تجاوز کر گئی۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو ( ایف بی آر ) کی نان فائلرز پر پابندیوں کی دھمکی کام کرگئی، بجلی گیس کے کنکشن اور موبائل سم بچانے جبکہ بیرون ملک سفر سمیت دیگر پابندیوں سے بچنے کے لیے شہریوں نے سمجھداری اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور 22 لاکھ 62 ہزار سے زائد افراد فائلر بن گئے جبکہ انکم ٹیکس گوشواروں کی تعداد 78 فیصد اضافے کے ساتھ 51 لاکھ 52 ہزار تک پہنچ گئی۔ایف بی آر کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال 31 اکتوبر تک 28 لاکھ 90 ہزار 944 گوشوارے داخل کیے گئے تھے۔رواں سال، گوشواروں کے ساتھ جمع شدہ ٹیکس میں بھی 74 فیصد یعنی 55 ارب روپے کا اضافہ ہوا جس سے کل جمع شدہ ٹیکس 130 ارب 60 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔گزشتہ سال اسی مدت میں 75 ارب 14 کروڑ روپے کا ٹیکس جمع ہوا تھا۔ایف بی آر کے مطابق سال 2024 میں 20 لاکھ 7 ہزار 508 افراد نے قابل ٹیکس آمدنی صفر ظاہر کی ہے جو مجموعی گوشواروں کا 39 فیصد بنتا ہے۔جولائی 2023 سے اب تک 13 لاکھ 8 ہزار 182 افراد نئے فائلرز بنے ہیں جبکہ جولائی 2024 سے 6 لاکھ 31 ہزار 713 افراد نے نئی رجسٹریشن کرائی ہے۔

امریکا نے یوکرین جنگ میں روس کی مدد کرنے کی پاداش میں بھارت کے 19 کاروباری اداروں پر پابندیاں عائد کردی ہیں

امریکا نے یوکرین جنگ میں روس کی مدد کرنے کی پاداش میں بھارت کے 19 کاروباری اداروں پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے تحت عائد کی جانے والی پابندیوں کا اطلاق مجموعی طور پر 400 اداروں اور افراد پر ہوگا۔پابندی کی زد میں آنے والے اداروں میں سے 19 کا تعلق بھارت سے ہے۔ ان اداروں پر الزام ہے کہ یوکرین جنگ میں روس کی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے یہ اہم سمجھی جانے والی ٹیکنالوجیز فراہم کر رہے ہیں۔امریکی محکمہ خزانہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بھارت، چین، سوئٹزر لینڈ، تھائی لینڈ اور ترکی کے کاروباری اداروں نے روس کی وار مشین کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجیز پر مشتمل اشیا اور ٹیکنالوجیز فراہم کی ہیں۔امریکی محکمہ خزانہ نے روسی وزارتِ دفاع کے اعلیٰ حکام اور روس کی مستقبل کی انرجی پروڈکشن اور برآمدات سے متعلق اداروں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔امریکا کے نائب وزیرِخزانہ ویلی ایڈییمو نے کہا کہ امریکا اور اس کے اتحادی دنیا بھر میں اُن ممالک اور اداروں پر نظر رکھے ہوئے ہیں جو روس کو جنگ میں قدم جمانے کے لیے درکار ٹیکنالوجیز، ہتھیار اور مشینری فراہم کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔امریکا نے خبردار کیا ہے کہ جو ادارے پابندیوں کی خلاف ورزی کریں گے اُن کے خلاف سخت کارروائیاں کی جائیں گی۔امریکی محکمہ تجارت بھی اس بات کو یقینی بنانے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے کہ روس کو وار مشین مضبوط بنائے رکھنے کے لیے درکار اشیا نمایاں مقدار یا تعداد میں نہ مل پائیں۔چین، قازقستان، ترکی اور متحدہ عرب امارات دُہرے استعمال والی ٹیکنالوجیز اور اشیا کی سپلائی کے حوالے سے اہم ممالک گردانے جارہے ہیں۔مغربی میڈیا نے اپنی رپورٹس میں بتایا ہے کہ ان ملکوں کی مدد سے روس اپنی جنگی استعداد کو برقرار رکھنے میں بہت حد تک کامیاب ہے۔ امریکا اور یورپ یوکرین جنگ کو ختم کرنے اور اُسے یورپ کے کسی ملک تک پھیلنے سے روکنے کے لیے دو سال سے کوشاں رہے ہیں۔ یورپ اس معاملے میں نیم دلانہ کوششیں کرتا رہا ہے جبکہ امریکا نے زیادہ جوش و خروش دکھایا ہے۔

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے جوڈیشل کمیشن کے لیے حکومت اور اپوزیشن کے ارکان کے نام سپریم جوڈیشل کمیشن کو بھجوادیے۔ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق اسپیکر سردار ایاز صادق نے پارلیمانی جماعتوں کی جوڈیشل کمیشن میں نامزدگی کردی

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے جوڈیشل کمیشن کے لیے حکومت اور اپوزیشن کے ارکان کے نام سپریم جوڈیشل کمیشن کو بھجوادیے۔ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق اسپیکر سردار ایاز صادق نے پارلیمانی جماعتوں کی جوڈیشل کمیشن میں نامزدگی کردی اور اس حوالے سے سپریم جوڈیشل کمیشن کو خط لکھ دیا۔جوڈیشل کمیشن کیلئے قومی اسمبلی سے اپوزیشن لیڈر اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمر ایوب، مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی شیخ آفتاب کو نامزد کیا گیا ہے جب کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے خاتون نشست پر روشن خورشید بروچہ کو نامزد کیا ہے۔علاوہ ازیں، سینیٹ سے جوڈیشل کمیشن کیلئے پاکستان پیپلزپارتی کے سینیٹر فاروق نائیک اور پی ٹی آئی سینیٹر و اپوزیشن لیڈر شبلی فراز نامزد کیے گئے ہیں۔ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق تمام نامزدگیاں سیکریٹری جوڈیشل کمیشن کو بھجوا دی گئی ہیں جو سپریم کورٹ کو موصول ہوگئی ہیں۔ترجمان قومی اسمبلی نے بتایا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی اور تمام پارلیمانی جماعتوں سے مشاورت کے بعد نام بھجوائے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد جوڈیشل کمیشن میں 5 اراکین پارلیمنٹ کو شامل کیا گیا ہے، پارلیمنٹ سے بھجوائے گئے ناموں میں حکومت اور اپوزیشن کی برابر کی نمائندگی ہے۔خیال رہے کہ گزشتہ ہفتےکو چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اور اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے 26ویں آئینی ترمیم کے تحت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی تشکیل کے لیے حکومت اور اپوزیشن سے نام طلب کیے تھے۔سپریم کورٹ کے ججز کی تعیناتی کے لیے 13 رکنی جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے گا جس کے سربراہ چیف جسٹس ہوں گے۔26ویں آئینی ترمیم کے مطابق 13 رکنی جوڈیشل کمیشن کے سربراہ چیف جسٹس پاکستان ہوں گے، جب کہ عدالت عظمیٰ کے 3 سینیئر ترین ججز بھی کمیشن کا حصہ ہوں گے اور آئینی بینچ کا سینیر ترین جج بھی جوڈیشل کمیشن کا رکن ہوگا۔کمیشن کے ارکان میں وزیر قانون، اٹارنی جنرل اور کم از کم 15 سالہ تجربے کا حامل پاکستان بار کونسل کا ایک نمائندہ بھی شامل ہوگا۔قومی اسمبلی اور سینیٹ سے 2 حکومتی اور 2 اپوزیشن ارکان بھی رکن ہوں گے، جب کہ سینیٹ میں ٹیکنوکریٹ الیکشن لڑنے کے لیے اہل خاتون یا غیر مسلم کو بھی 2 سال کے لیے جوڈیشل کمیشن کاحصہ بنایا جائے گا، اس رکن کا تقرر چیئرمین سینیٹ کریں گے۔واضح رہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا انتخاب کیا گیا ہے، اس سے قبل الجہاد ٹرسٹ کیس کے فیصلے کی روشنی میں سپریم کورٹ کا سب سے سینیئر جج ہی ملک کا چیف جسٹس ہوتا تھا۔26ویں آئینی ترمیم کی منظوری سے قبل جسٹس منصور علی شاہ کو سنیارٹی اصول کے تحت اگلا چیف جسٹس پاکستان بننا تھے تاہم 22 اکتوبر کو چیف جسٹس آف پاکستان کے تقرر کے لیے قائم خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی اکثریت نے جسٹس یحییٰ آفریدی کو اگلا چیف جسٹس آف پاکستان نامزد کردیا تھا۔آئینی ترمیم میں سب سے زیادہ ترامیم آرٹیکل 175-اے میں کی گئی ہیں، جو سپریم کورٹ، ہائی کورٹس اور فیڈرل شریعت کورٹ میں ججوں کی تقرری کے عمل سے متعلق ہے۔جوڈیشل کمیشن آف پاکستان دراصل سپریم کورٹ ہائی کورٹ، یا فیڈرل شریعت کورٹ کے ججوں کی ہر اسامی کے لیے اپنی نام زدگیوں کو 8 رکنی پارلیمانی کمیٹی کو بھیجتا تھا جو یہ نام وزیر اعظم کو اور پھر وہ صدر کو ارسال کرتے تھے تاہم ترمیم کے بعد کمیشن اب اپنی نامزدگیوں کو براہ راست وزیر اعظم کو بھیجے گا جو انہیں تقرری کے لیے صدر کو بھیجیں گے۔ترمیم کے بعد خصوصی پارلیمانی کمیٹی میں قومی اسمبلی سے 8 اور سینیٹ کے 4 ارکان شامل ہوں گے، سیاسی جماعتوں کو ارکان اسمبلی کی بنیاد پر کمیٹی میں متناسب نمائندگی حاصل ہو گی، جنہیں ان کے متعلقہ پارلیمانی لیڈر نامزد کریں گے۔

لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے وکیل حامد خان کے ذریعے 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے۔لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے درخواست میں استدعا کی گئی ہے

لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے وکیل حامد خان کے ذریعے 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے۔لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کو آئین کے برخلاف اور متصادم قرار دیا جائے اور ترمیم کے تناظر میں کیے گئے اقدامات کو بھی غیر قانونی قرار دیا جائے۔آئین پاکستان کو 26ویں ترمیم سے پہلے کی صورت میں بحال کیا جائے اور درخواست کے زیر سماعت ہونے تک 26ویں آئینی ترمیم کے تحت اقدامات سے روکا جائے۔درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ عدلیہ کی آزادی آئین کی نمایاں خصوصیات میں شامل ہے، اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تقرری کا اختیار ایگزیکٹو یا مقننہ کو دینے سے عدلیہ کی آزادی کا اصول شدید مجروح ہوگا۔درخواست میں کہا گیا کہ جوڈیشل کمیشن میں غیر عدالتی ممبران کی اکثریت سے اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تقرری کا عمل سیاست کی نذر ہو جائے گا۔درخواست گزار نے کہا کہ ترمیم کے تحت چیف جسٹس آف پاکستان کا تقرر پارلیمان کی خصوصی کمیٹی کی جانب سے کیا جائے گا، اس سے قبل چیف جسٹس کے سنیارٹی کا اصول اس لیے رکھا گیا تھا تاکہ ججز انصاف کی فراہمی میں سینئر جج کو بائی پاس کرنے کیلئے کوئی دلچسپی نہ دکھائی۔درخواست میں کہا گیا کہ پارلیمانی خصوصی کمیٹی کی جانب سے چیف جسٹس کی نامزدگی سے انہی ججز کو آگے لایا جائے گا جو کمیٹی کے ممبران کے نظریات سے مطابقت رکھتے ہوں۔درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ یہ اختیارات کی تقسیم اور عدلیہ کی ازادی کے اصولوں کے برخلاف ہے، 26ویں آئینی ترمیم کو آئین میں شامل کرنے سے پہلے اس کی آئینی اصولوں سے مطابقت کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔درخواست گزار نے مزید کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم آئین میں دیئے گئے بنیادی حقوق اور عدلیہ کی آزادی کے اصول کے برخلاف ہونے پر کالعدم قرار دیئے جانے کی مستحق ہے۔درخواست میں وفاقی سیکرٹری قانون، سیکٹری جوڈیشل کمیشن آف پاکستان، صدر پاکستان، اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینٹ کو فریق بنایا گیا ہے۔واضح رہے کہ واضح رہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا انتخاب کیا گیا ہے، اس سے قبل الجہاد ٹرسٹ کیس کے فیصلے کی روشنی میں سپریم کورٹ کا سب سے سینیئر جج ہی ملک کا چیف جسٹس ہوتا تھا۔26ویں آئینی ترمیم کی منظوری سے قبل جسٹس منصور علی شاہ کو سنیارٹی اصول کے تحت اگلا چیف جسٹس پاکستان بننا تھے تاہم 22 اکتوبر کو چیف جسٹس آف پاکستان کے تقرر کے لیے قائم خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی اکثریت نے جسٹس یحییٰ آفریدی کو اگلا چیف جسٹس آف پاکستان نامزد کردیا تھا۔آئینی ترمیم میں سب سے زیادہ ترامیم آرٹیکل 175-اے میں کی گئی ہیں، جو سپریم کورٹ، ہائی کورٹس اور فیڈرل شریعت کورٹ میں ججوں کی تقرری کے عمل سے متعلق ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے پنجاب میں جیلوں کا معائنہ کرنے اور سفارشات مرتب کرنے کیلئے ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے پنجاب میں جیلوں کا معائنہ کرنے اور سفارشات مرتب کرنے کیلئے ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی جس میں 9 مئی 2023 کے پرتشدد واقعات کے تناظر میں جیل میں قید کاٹنے والی معروف فیشن ڈیزائنر خدیجہ شاہ بھی شامل ہیں۔یف جسٹس پاکستان جسٹس یحیی آفریدی کی زیر صدارت جیل اصلاحات سے متعلق لاہور میں اہم مشاورتی اجلاس ہوا، اجلاس میں لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے بھی شرکت کی۔اجلاس میں حال ہی میں جیل میں قید کاٹنے والی خدیجہ شاہ، دیگر معزز جج صاحبان، جیل سپریٹینڈنٹ، سیاسی و سماجی شخصیات نے بھی شرکت کی، اجلاس میں نیشنل جیل ریفارم پالیسی تیار کرنے کے لیے افتتاحی بحث کی گئی۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ منصفانہ قانونی فریم ورک کو یقینی بنانے کے لیے جیل کا موثر نظام ضروری ہے، لا اینڈ جسٹس کمیشن کے اعداد و شمار سے ملک بھر میں گہری تشویشناک صورتحال کا پتا چلتا ہے، 66 ہزار کی گنجائش رکھنے والے جیلوں میں ایک لاکھ سے زائد قیدیوں کو رکھا ہوا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ اس حوالے سے پنجاب کو خاص طور پر شدید چیلنجز کا سامنا ہے، پنجاب میں 36 ہزار افراد کی گنجائش والی جیلوں میں 67 ہزار سے زائد قیدیوں کو رکھا گیا ہے، 36 ہزار سے زائد قیدی وہ ہیں جن کے مقدمات زیر سماعت ہیں، یہ قیدی ایک سال سے زائد عرصے سے اپنے مقدمات کی سماعت کے منتظر ہیں۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے پنجاب میں ان فوری مسائل کو حل کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور صوبے بھر کی جیلوں کا معائنہ کرنے اور سفارشات دینے کے لیے ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی۔کمیٹی میں جسٹس ریٹائرڈ شبر رضا رضوی، صائمہ امین خواجہ ایڈووکیٹ، سینیٹر احد خان چیمہ اور خدیجہ شاہ بھی شامل ہیں۔یاد رہے کہ سابق وزیر خزانہ سلمان شاہ کی بیٹی، معروف فیشن ڈیزائنر خدیجہ شاہ نے 9 مئی ہنگامہ آرائی کے الزامات میں 23 مئی کو خود کو لاہور پولیس کے حوالے کردیا تھا، وہ کئی ماہ تک جیل میں قید رہیں اور سماعت کے لیے عدالت میں بھی پیش ہوتی رہیں آخر کار دسمبر 2023 میں کوئٹہ کی انسداد دہشت گردی نے انہیں ضمانت پر رہا کردیا تھا۔واضح رہے کہ 9 مئی کے مظاہروں کے نتیجے میں ملک بھر میں پی ٹی آئی کے ہزاروں کارکنوں اور حامیوں کی گرفتاریاں ہوئی تھیں، جبکہ کئی رہنماؤں نے پارٹی سے علیحدگی اختیار کر لی تھی، مشہور فیشن ڈیزائنر کو دہشت گردی اور دیگر الزامات کے تحت سرور روڈ پولیس میں درج ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا تھا۔

خفیہ اداروں کے اہلکاروں کے خلاف ھای کورٹ کے 6 ججز کی چیف جسٹس سپریم کورٹ سے اھم ملاقات

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی سے خط لکھنے والے اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6ججز نے ملاقات کی ہے۔ذرائع کے مطابق چیف جسٹس پاکستان نے حلف برداری کے بعد ہائیکورٹس کے ایڈمنسٹریٹو ججز سے بھی ملاقات کی تھی۔ذرائع نے بتایاکہ چیف جسٹس سے مداخلت کاخط لکھنے والے اسلام آباد ہائیکورٹ 6 ججز نے حلف اٹھانےکےاگلےدن ملاقات کی۔یاد رہے کہ 26 مارچ کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججز نے سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھا تھا جس میں عدلیہ میں خفیہ اداروں کی مداخلت کا الزام عائد کیا تھا، ججز نے اس معاملے پر سپریم جوڈیشل کونسل سے رہنمائی مانگی تھی۔وفاقی حکومت کی جانب سے معاملے کی تحقیقات کے لیے جسٹس ریٹائرڈ تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں انکوائری کمیشن قائم کیا گیا تھا تاہم جسٹس ریٹائرڈ تصدق حسین جیلانی نے کمیشن کی سربراہی سے معذرت کر لی تھی۔