All posts by admin

چیف جسٹس کے فل کورٹ مین 7 ججز شریک نہ ھوے جسٹس منصور شاہ نے کیا کھا

سپریم کورٹ کے سینئرجج جسٹس منصور علی شاہ نے رجسٹرارسپریم کورٹ خط لکھ کر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس میں شرکت نہ کرنے کی وجوہات بتادیں، جسٹس منصور علی شاہ نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی ریٹائرمنٹ کے حوالے سے فل کورٹ ریفرنس میں شرکت سے انکارکیا، جسٹس منصور علی شاہ نے رجسٹرار کو مراسلے کے ذریعے آگاہ کردیا۔جسٹس منصور علی شاہ نے مراسلے میں کہا ہے کہ دنیا بھر میں ریٹائرڈ ہونے والے چیف جسٹس کو ان کی خدمات پر ان کے اعزاز میں ریفرنس دیا جاتا ہے۔ ماضی میں جب سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے اختیارات کو غلط استعمال کیا تو ان کے ریفرنس میں بھی شرکت سے انکار کیا۔ آج بھی میں انہی وجوہات کی بنا پر ریفرنس میں شرکت سے انکار کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کے ریفرنس میں شرکت نہ کرنے کی وجوہات مزید پریشان کن ہیں، چیف جسٹس کا کردارعوام کے حقوق کا تحفظ ہوتا ہے اورسب کو انصاف فراہم کرنا ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عدلیہ میں بیرونی مداخلت روکنے کے بجائے اس کے دروازے کھولے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مداخلت روکنے کیلئے جذبہ دکھایا اور نہ ہی اخلاقی جرات کا مظاہرہ کیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عدلیہ کو کمزور کرنے اور اپنے قوانین بنانے کو مناسب گراو¿نڈ دیا۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ نے چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کو خط لکھ کر ایک بار پھر خصوصی بینچ میں بیٹھنے سے انکار کیا تھا۔جسٹس منصور علی شاہ نے چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کو نیا خط 23 اکتوبر کو لکھاتھا۔ خط چیف جسٹس کو بطور سربراہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی لکھا گیا تھا۔ خط میں جسٹس منصور علی شاہ نے مخصوص بینچ میں بیٹھنے سے معذرت کرتے ہوئے کہا پہلے بھی لکھا تھا ترمیمی آرڈیننس پر فل کورٹ بیٹھنے تک خصوصی بینچز کا حصہ نہیں بنوں گا۔جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے خط میں لکھا تھا کہ ہم اقتدار میں رہتے ہوئے اکثر بھول جاتے ہیں کہ اس ملک کے لوگ ہمارے اعمال کو دیکھ رہے ہیں۔ تاریخ کبھی معاف نہیں کرتی۔جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے خط میں سرتھامس مورے کا قول بھی نقل کیا تھا۔

نئے چیف جسٹس آفریدی کا بیان ہے کہ پرانے چیف جسٹس فائز عیسیٰ کے غیض و غضب سے ڈریں

نئے چیف جسٹس آفریدی کا بیان ہے کہ پرانے چیف جسٹس فائز عیسیٰ کے غیض و غضب سے ڈریں…دوسری طرف ‏جسٹس منصور علی شاہ نے قاضی فائز عیسیٰ کے ریٹائرمنٹ ریفرنس میں عدم شرکت پر کہا کہ????”قاضی فائز عیسیٰ اپنے ادارے کے خلاف سازشیں دیکھ کر شتر مرغ کی طرح سر ریت میں دبائے رہا، ایسے شخص کی اعزاز میں فل کورٹ میں شرکت کرنا یہ پیغام دے گا کہ اپنے ادارے سےغداری کرنے والے ، گھٹیا اور چھوٹے کام کرنے والے شخص کو انصاف کا تابعدار قرار دے دیا جائے۔ میں اپنے ضمیر کی آواز پر ایسے شخص کے اعزاز میں فل کورٹ میں شرکت نہیں کر سکتا”۔

26 ویں آئینی ترمیم پر وزارت قانون نے وضاحت جاری کر دی

وزارت قانون و انصاف نے چھبیسویں آئینی ترمیم میں جوڈیشل کمیشن کی تشکیل نو پر وضاحت جاری کردی۔وزارت قانون و انصاف سے جاری اعلامیے کے مطابق آئینی بینچوں کی تشکیل کے لئے ججز جوڈیشل کمیشن نے ہی نامزد کرنے ہیں تاہم کسی رکن کی غیر حاضری یا اسامی خالی ہونے کی بناء پر کمیشن کا فیصلہ غیرقانونی قرار نہیں دیا جائے گا۔وزارت قانون کے مطابق جوڈیشل کمیشن آئینی بنچوں کی تشکیل کیلئے ججز کو نامزد کرے گا، نامزد ججز میں سے سینیئر ترین جج اس آئینی بینچ کا سربراہ ہوگا، آئینی بنچز کا سربراہ جوڈیشل کمیشن کا ممبر بھی ہوگا۔ اگر آئینی بینچ کا سربراہ پہلے ہی سے کمیشن کا رکن ہو تو اگلا سینئر جج ممبر ہوگا۔اعلامیے کے مطابق ہائیکورٹ کے آئینی بینچز کی تشکیل بھی کمیشن ہی کرے گا، ہائیکورٹس میں آئینی بینچز کی تشکیل صوبائی اسمبلی کی قرارداد سے مشروط ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کیلئے قرارداد پارلمینٹ اکثریت سے منظور کرے گی۔ آئینی بینچز کی تشکیل سے پہلے ہائیکورٹس کا دائرہ اختیار تبدیل نہیں ہوگا

وفاقی حکومت نے بیورو کریسی کے غیر ملکی دوروں پر پابندی عائد کر دی

وفاقی حکومت نے بیوروکریٹس کے غیر ملکی تعلیمی دوروں پر پابندی عائد کر دی۔ رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کی منظوری کے بعد اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے نوٹی فکیشن جاری کر دیا جس میں بیوروکریٹس کے غیر ملکی تعلیمی دوروں پر پابندی عائد کی گئی۔جاری نوٹی فکیشن کے مطابق نیشنل مینجمنٹ کورسز کے تحت فارن اسٹڈی ٹور فوری طور پر معطل کیے جائیں۔نوٹی فکیشن کے تحت 121ویں مینجمنٹ کورس کے شرکا فارن اسٹڈی ٹور نہیں کر سکیں گے، اس میں مستقبل کے لیے مینجمنٹ کورسز کے لیے فارن اسٹڈی ٹورز پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔