All posts by admin

شنگھائی تعاون تنظیم ( ایس سی او ) سربراہان حکومت کی صدارت روس کے سپرد کردی گئی۔شنگھائی تعاون تنظیم کی سربراہی روس کو سونپ دی گئی

شنگھائی تعاون تنظیم ( ایس سی او ) سربراہان حکومت کی صدارت روس کے سپرد کردی گئی۔شنگھائی تعاون تنظیم کی سربراہی روس کو سونپ دی گئی ہے جو ایس سی او کی سربراہی 2025ء تک سنبھالے گا۔وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے ایس سی او کی سربراہی ملنے پر روس کو مبارکباد پیش کی گئی ہے۔دوسری جانب سربراہی اجلاس کے دوران رکن ممالک کے سربراہان کی آپس میں غیر رسمی گفتگو ہوئی جس کے دوران علاقائی مسائل اور اہم چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔چین کے وزیراعظم لی چیانگ اور وزیراعظم شہباز شریف نے آپس میں غیررسمی گفتگو کی، دنوں رہنماؤں کے درمیان گفتگو انتہائی خوشگوار ماحول میں جاری رہی۔بیرون ملک سے آئے مہمانوں نے کانفرنس کے لیے پاکستان کے انتظامات کو بھی سراہا۔

صدر مملکت آصف علی زرداری نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے علیحدہ علیحدہ اجلاس طلب کر لیے صدر مملکت نے قومی اسمبلی کا اجلاس 17 اکتوبر بروز جمعرات سہ پہر چار بجے طلب کر لیا

صدر مملکت آصف علی زرداری نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے علیحدہ علیحدہ اجلاس طلب کر لیے صدر مملکت نے قومی اسمبلی کا اجلاس 17 اکتوبر بروز جمعرات سہ پہر چار بجے طلب کر لیا صدر مملکت نے سینیٹ اجلاس 17 اکتوبر بروز جمعرات سہ پہر تین بجے طلب کر لیا صدر مملکت نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس آئین کے آرٹیکل 54 (ایک) کے تحت طلب کیے***

ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی سربراہی میں ہونے والے کابینہ اجلاس میں صنعتی شعبے میں تعاون کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ ہونے والے معاہدےکی منظوری دی ہے۔سعودی کابینہ نے وزیر صنعت معدنی ذخائر یا ان کے نائب کو پاکستانی وزارت صنعت کے ساتھ ہونے والے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے کی ذمہ داری تفویض کی ہے۔

ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی سربراہی میں ہونے والے کابینہ اجلاس میں صنعتی شعبے میں تعاون کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ ہونے والے معاہدےکی منظوری دی ہے۔سعودی کابینہ نے وزیر صنعت معدنی ذخائر یا ان کے نائب کو پاکستانی وزارت صنعت کے ساتھ ہونے والے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے کی ذمہ داری تفویض کی ہے۔سعودی کابینہ نے جازان میں ٹیکنیکل کالج کے قیام کی بھی منظوری دی ہے۔ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کابینہ کو ایرانی وزیر خارجہ اور فرانسیسی وزیر خارجہ کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے متعلق آگاہ کیا ہے۔کابینہ کو غزہ اور لبنان کی تازہ ترین صورتحال اور غزہ کے بحران کے حل کے لیے کی جانے والی کوششوں کے علاوہ لبنان کی امداد کے لیے قائم کئے جانے والے فضائی پل کے حوالے سے آگاہی دی ہے۔کابینہ نے اقوام متحدہ کی تحت ہونے والی کانفرنس میں دہشت گردی کے انسداد اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے جاری ہونے والے اعلامیہ کو سراہا ہے۔

حکومت نے 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کیلئے خصوصی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس کل شام چار بجے طلب کر لیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق خصوصی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں کل شام 4 بجے آئینی ترمیم کو حتمی شکل دی جائے گی

حکومت نے 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کیلئے خصوصی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس کل شام چار بجے طلب کر لیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق خصوصی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں کل شام 4 بجے آئینی ترمیم کو حتمی شکل دی جائے گی ۔یاد رہے کہ اس سے قبل یہ خبرموصول ہو تھی کہ قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کیلئے نئی سمری بھجوا دی گئی ہے اور ممکنہ طو پر قومی اسمبلی کا اجلاس 17 اکتوبر کی شام 4 بجے بلانے کی تجویز ہے ، وزارت پارلیمانی امور کی جانب سے سمری وزیراعظم کو بھجوائی گئی۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت ہے لیکن ایک سیاسی بندوبست کے تحت صوبے کی گورنر شپ پیپلز پارٹی کے حصے میں آئی۔اٹک سے تعلق رکھنے والے پیپلز پارٹی کے رہنما سردار سلیم حیدر خان پنجاب کے گورنر بنائے گئے

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت ہے لیکن ایک سیاسی بندوبست کے تحت صوبے کی گورنر شپ پیپلز پارٹی کے حصے میں آئی۔اٹک سے تعلق رکھنے والے پیپلز پارٹی کے رہنما سردار سلیم حیدر خان پنجاب کے گورنر بنائے گئے۔ بظاہر تو یہ بندوبست دونوں سیاسی جماعتوں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی شراکت اقتدار کو متوازن رکھنے کے لیے بنایا گیا لیکن پچھلے کچھ وقت سے گورنر پنجاب ن لیگ کی حکومت سے خوش دکھائی نہیں دیتے۔ان کی طرف سے پہلا محاذ اس وقت کھولا گیا جب پنجاب حکومت نے صوبے کی یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز لگانے کے لیے سمری بھیجی تو انہوں نے یہ کہہ کر دستخط کرنے سے انکار کر دیا کہ یہ فہرستیں میرٹ پر تیار نہیں کی گئی ہیں صرف یہی نہیں بلکہ انہوں نے نئی آئینی ترمیم کے معاملے پر وزیراعظم شہباز شریف پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ کسی جج کو ایکسٹینشن دینے سے عدلیہ متاثر ہو گی۔ن لیگ نے پہلے پہل اس تنقید کو وائس چانسلرز کی تعیناتی میں ’حصہ داری‘ سے تعبیر کیا۔ کہ گورنر اصل میں اپنی مرضی سے تقرریاں کرنا چاہتے ہیں۔ حال ہی میں گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے مریم نواز کی حکومت کو اس بات پر تنقید کا حصہ بنایا ہے کہ حکومت سرکاری سکولوں کو پرائیویٹ کیوں کر رہی ہے، یہ تعلیم کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ایک ہی ہفتے میں بلاول بھٹو نواز شریف سے دو ملاقاتیں بھی کر چکے ہیں۔ تو ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پیپلزپارٹی کے گورنر ن لیگ کی پنجاب کی حکومت سے نالاں کیوں ہیں؟اس سوال کی کھوج کے لیے جب اردو نیوز نے گورنر ہاؤس کے ہی ایک اعلیٰ افسر سے رابطہ کیا تو انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’بنیادی مسئلہ گورنر صاحب کے اپنے اضلاع میں افسران کی تقرری کا ہے۔ ایک تو افسران ان کی مرضی کے نہیں لگے اور کچھ افسران کو وہ تبدیل کروانا چاہتے ہیں تاہم انہیں حکومت سے انکار کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن ان بیانات کا کوئی سیاسی پس منظر ہو تو اس کا کچھ کہا نہیں جا سکتا۔اس صورت حال پر پیپلزپارٹی سے رابطہ کیا گیا تو پنجاب اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر علی قاسم گیلانی نے بتایا کہ ’اگر آپ کہیں کہ پیپلزپارٹی پنجاب میں حکومتی معاملات سے خوش ہے تو میں کہوں گا کہ نہیں ہے۔ جن چیزوں کا ہم سے تحریری وعدہ کیا گیا تھا وہ پوری نہیں ہوئی ہیں۔ ہماری ایک کمیٹی بھی بنی ہوئی ہے جس میں دونوں جماعتوں کے رہنما ہیں، میں بھی اس میں ہوں لیکن وہاں بھی بہت سست روی سے معاملات چل رہے ہیں۔ لیکن گورنر صاحب کے حالیہ بیانات اس کمیٹی کی سست روی کی وجہ سے نہیں ہیں۔ وہ جب بھی کرتے ہیں جائز تنقید ہی کرتے ہیں اور یہ ان کا حق ہے کیا گورنر صاحب اپنے ضلعے میں افسران کی تقرریوں کے باعث حکومت سے ناراض ہیں؟ تو ان کا کہنا تھا کہ ’بالکل، یہ وجہ درست اور یہ جائز بات ہے۔ ایک گورنر اگر اپنے ضلعے میں ایک ایس ایچ او تبدیل نہ کروا سکے توغصہ تو آئے گا۔ آپ ہمیں دیکھ لیں ملتان میں ہماری تین سیٹیں ہیں، پی ٹی آئی کی دو اور ن لیگ کی ایک ہے لیکن وہاں بھی افسر ہماری مرضی کے نہیں لگے ہوئے۔ لیکن کوئی بات نہیں، ہمیں اس سے فرق نہیں پڑتا۔ گورنر ایک سیاست دان بھی ہیں اور انہوں نے مستقبل میں بھی اپنے ضلعے کی سیاست کرنی ہے۔ ان کے جائز مطالبات مانے جانے چاہییں۔وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ ’ہمیں تو حیرانی ہے کہ گورنر صاحب کو ہمیں بتانا پڑتا ہے کہ ان کا کام کیا ہے۔ حکومت کیسے چلنی ہے، یہ کام آئین نے ان کے ذمے نہیں لگایا۔ انہیں کبھی ہمارے سکولوں سے مسئلہ ہو جاتا ہے، کبھی یونیورسٹیوں سے۔ سندھ میں جہاں ان کی جماعت کی 16 برس سے حکومت ہے، وہاں سکولوں میں گدھے باندھے جاتے ہیں۔ شرح تعلیم کئی جگہوں پر صفر ہے۔ تو ہمیں وہ نہ بتائیں کہ ہم نے صوبہ کیسے چلانا ہے۔‘انہوں نے تبادلوں سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ایسے بلیک میل کر کے کام نہیں لیے جاتے۔ مریم نواز کی حکومت میں صرف میرٹ چلتا ہے۔ یہ عثمان بزدار کی یا فرح گوگی کی حکومت نہیں کہ تبادلوں پر پیسہ بنایا جائے۔ اگر کسی کو میرٹ سے مسئلہ ہے تو ہم اس کا کچھ نہیں کر سکتے۔‘

تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائما گولڈ سمتھ نے عمران خان، ان کی بہنوں عظمیٰ خان، علیمہ خان اور بھانجے حسان نیازی کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا

‘ تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائما گولڈ سمتھ نے عمران خان، ان کی بہنوں عظمیٰ خان، علیمہ خان اور بھانجے حسان نیازی کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔جمائما گولڈ سمتھ نے منگل کو اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ایک طویل پوسٹ میں لکھا کہ ’میرے بچوں قاسم اور سلیمان کے والد عمران خان کے ساتھ جیل میں روا رکھے گئے سلوک پر ہمیں تشویش ہے۔‘انہوں نے کہا کہ ’حکام نے عمران خان سے ملاقاتوں اور بچوں کے ساتھ ان کی ہفتہ وار فون کال پر پابندی عائد کر دی ہے جبکہ ان کے مقدمات کی سماعت بھی ملتوی کر دی گئی ہے۔جمائما گولڈ سمتھ نے دعویٰ کیا کہ ’جیل میں عمران خان کے سیل کی بجلی کاٹ دی گئی ہے اور وہ اب مکمل اندھیرے میں قید تنہائی کاٹ رہے ہیں۔ جیل کے باورچی کو بھی چھٹی پر بھیج دیا گیا ہے۔ وکلا کو عمران خان کو صحت سے متعلق بھی تحفظات ہیں۔‘جمائما گولڈ سمتھ نے عمران خان کی بہنوں عظمیٰ خان اور علیمہ خان کی گرفتاری کے ساتھ ساتھ ان بھانجے حسان نیازی کے اگست 2023 سے حراست میں ہونے کا ذکر بھی کیا۔انہوں نے کہا کہ ’یہ افراد پرامن احتجاج کر رہے تھے، ان کو قید میں رکھنے کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔‘جمائما سمتھ نے جبری حراست کے معاملات سے متعلق اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ کی جون میں جاری کی گئی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہیں انہیں فوری طور پر رہا کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ’ہم عمران خان، ان کی بہنوں اور بھانجے کی فوری رہائی اور اپنے بیٹوں سے رابطے کی فوری بحالی کا مطالبہ کرتے ہیں۔